Baaghi TV

سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کے خلاف تمام شکایات مسترد کر دیں

justice yahya

سپریم جوڈیشل کونسل نے 14 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر تمام شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا،جبکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے خلاف موصول ہونے والی تمام شکایات اور ان پر ہونے والے فیصلوں کو عوامی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے گزشتہ اجلاس کے حوالے سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے اپنے خلاف دائر پانچ شکایات کی تفصیلات پبلک کر دی ہیں اعلامیے کے مطابق تمام شکایات مختلف ادوار میں مختلف افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جنہیں کونسل نے متفقہ طور پر خارج کر دیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مختلف شہریوں اور وکلا کی جانب سے دائر شکایات کا تفصیلی خلاصہ اور ان پر کیے گئے فیصلے جاری کر دیے گئے ہیں۔

کونسل نے میاں صبغت اللہ شاہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر شکایت بھی خارج کر دی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس نے 2016 میں پشاور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے ایڈیشنل سیشن ججز کی تعیناتی میں میرٹ کی خلاف ورزی کی، تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے 14 مئی کے اجلاس میں اس شکایت کو متفقہ طور پر خارج کر دیا۔

اسی طرح کراچی کے شہری امجد حسین درانی کی شکایت بھی متفقہ طور پر مسترد کر دی گئی شکایت کنندہ کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ میں ان کا مقدمہ بغیر شنوائی کے خارج کیا گیا، جو مبینہ طور پر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، شکایت میں 12 جنوری 2022 کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا-

سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور کے وکیل اجمل محمود کی شکایت بھی خارج کر دی، جس میں سپریم کورٹ اور برانچ رجسٹریز میں داخلے پر پابندی کی توسیع کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

کراچی کے رہائشی کامران خان کی شکایت بھی مسترد کر دی گئی، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ شکایت کنندہ کو شنوائی کا موقع دیے بغیر ان کی درخواست خارج کی گئی۔

علاوہ ازیں تحصیل بورے والا، ضلع وہاڑی کے رہائشی محمد آصف مسعود کی شکایت بھی مسترد کر دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ مارچ 2023 میں دیوانی مقدمے میں قانون اور حقائق کے برعکس فیصلہ دیا گیا، جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی بھی بنچ کا حصہ تھے۔

More posts