جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات کے خلاف کل ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔
جے یو آئی کی جانب سے جاری مرکزی اعلامیے کے مطابق جمعہ کے روز تمام صوبائی دارالحکومتوں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ جماعت نے احتجاجی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور کارکنوں کو بھرپور شرکت کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ترجمان جے یو آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی خصوصی اپیل پر عوامی احتجاج کا فیصلہ کیا گیا، جس کا مقصد حکومت کی معاشی اور سیکیورٹی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں بدامنی، دہشت گردی اور مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ترجمان کے مطابق غریب اور متوسط طبقہ شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے جبکہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے قابو اضافے نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
جے یو آئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔ جماعت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے شہریوں میں خوف پیدا کر دیا ہے جبکہ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
Blog
-

مولانا فضل الرحمان کا مہنگائی اور بدامنی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان
-

ایرانی حکومت افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، صدر پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے منصوبوں کی مکمل حمایت کرے گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کی ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تیاریوں اور خطے کی موجودہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر پزشکیان نے گفتگو کے دوران ایرانی افواج کی کارکردگی اور بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ، ملکی دفاع اور دفاعی طاقت میں اضافے کے لیے مسلح افواج کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حکومت ہر سطح پر اپنی افواج کی پشت پر کھڑی رہے گی۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی دفاع کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
دوسری جانب میجر جنرل امیر حاتمی نے صدر کو یقین دہانی کرائی کہ ایرانی افواج مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی خطرے یا ممکنہ جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی حکام کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایران، امریکا و اسرائیل کے درمیان صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران دفاعی محاذ پر کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہتا ہے۔ -

ڈیرہ مراد جمالی میں دستی بم حملہ
بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں ڈی سی چوک کے قریب مین بازار میں دستی بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے۔
ایس ایس پی اسد اللہ کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے پولیس موبائل کو نشانہ بناتے ہوئے دستی بم پھینکا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ دھماکے کے باعث بازار میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق زخمیوں میں 4 پولیس اہلکار اور 9 شہری شامل ہیں۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 12 مئی کو خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں بھی موٹر سائیکل بم دھماکا ہوا تھا جس میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ -

کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، عالمی تشویش بڑھ گئی.
افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس وبا میں اب تک 139 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں جبکہ سینکڑوں مزید مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اس وبا کو “بین الاقوامی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال” قرار دے دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بار پھیلنے والا وائرس “بونڈی بوجیو” نامی ایبولا strain ہے، جس کیلئے فی الحال نہ کوئی مخصوص ویکسین موجود ہے اور نہ ہی مؤثر علاج دستیاب ہے۔
امریکی حکام نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں سے اپنے شہریوں کے انخلا اور نگرانی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک امریکی ڈاکٹر بھی وائرس سے متاثر ہوا ہے جبکہ متعدد افراد کو احتیاطی نگرانی کیلئے یورپ منتقل کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس متاثرہ شخص کے خون، جسمانی رطوبتوں یا آلودہ اشیا کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے۔
کانگو کے بعض علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی، جنگی صورتحال اور غربت کے باعث بیماری پر قابو پانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کی اصل تعداد ابھی واضح نہیں کیونکہ بہت سے متاثرہ افراد تک طبی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ -

گلوبل صمود فلوٹیلا کے تمام گرفتار کارکن اسرائیلی قید سے رہا
غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تمام گرفتار ارکان کو اسرائیلی قید سے رہا کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی حکام نے بھی کر دی ہے۔
امریکا میں قائم فلسطینیوں کی تنظیم “عدالہ” کے مطابق اسرائیل کی جانب سے گرفتار امدادی کارکنوں کو مختلف ممالک میں ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ترکیے کے وزیر خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ متعدد امدادی کارکنوں کو ترکیے منتقل کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی بحری قافلے پر کارروائی کرتے ہوئے تمام کشتیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور 430 سے زائد رضاکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ گرفتار افراد میں پاکستان کے معروف سماجی کارکن سعد ایدھی بھی شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق دورانِ حراست امدادی کارکنوں کو شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی اہلکاروں کی جانب سے ٹیزر گنز اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جبکہ بعض خواتین کارکنوں کے حجاب زبردستی اتارنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر اتمر بن گویر نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں گرفتار کارکنوں کو گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان سمیت کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے امدادی کارکنوں کی گرفتاری اور مبینہ بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اب تمام رضاکاروں کی رہائی کے بعد مختلف ممالک کی حکومتیں ان -

برطانیہ اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑا تجارتی معاہدہ طے
برطانیہ نے خلیجی تعاون کونسل کے چھ ممالک کے ساتھ ایک اہم تجارتی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے بارے میں برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ملکی معیشت کو تقریباً 3.7 ارب پاؤنڈ کا فائدہ پہنچے گا۔
برطانوی حکام کے مطابق اس معاہدے میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد برطانوی برآمدات پر عائد تقریباً 580 ملین پاؤنڈ سالانہ ٹیرف ختم ہو جائیں گے، جس سے برطانوی مصنوعات کو خلیجی منڈیوں تک زیادہ آسان رسائی حاصل ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے سے برطانوی کمپنیوں کے لیے خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ موجودہ روزگار کو بھی تحفظ ملے گا۔
معاہدے کے تحت چیڈر پنیر، مکھن، چاکلیٹ اور دیگر برطانوی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹیاں ختم کی جائیں گی، جس سے دونوں خطوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے میں انسانی حقوق، کارکنوں کے تحفظ اور مزدوروں کے حالات سے متعلق واضح شقیں شامل نہیں کی گئیں، جس پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔
ادھر کنزرویٹو پارٹی نے اس معاہدے کو “بریگزٹ کے بعد ایک اہم کامیابی” قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے اس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور موجودہ لیبر حکومت کو چاہیے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
یہ معاہدہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کا تیسرا بڑا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ ہے۔ اس سے قبل برطانیہ بھارت اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی اہم تجارتی معاہدے کر چکا ہے۔ -

کنگنا رناوت کا خواتین کو شادی سے پہلے خودمختار بننے کا مشورہ
بھارتی اداکارہ اور سیاستدان کنگنا رناوت نے بھارت میں جہیز کے مطالبات اور شادی شدہ خواتین پر بڑھتے تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کو شادی سے پہلے مالی اور پیشہ ورانہ طور پر خودمختار بننے کا مشورہ دیا ہے۔
کنگنا رناوت نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ روزانہ ایسی افسوسناک خبریں سامنے آتی ہیں جن میں نوجوان اور تعلیم یافتہ خواتین شادی کے بعد ظلم، ہراسانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی لڑکیاں اپنے والدین سے مدد کی اپیل کرتی ہیں لیکن معاشرے میں اکثر شادی شدہ بیٹیوں کو واپس قبول نہیں کیا جاتا، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔
اداکارہ نے نوجوان خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا، فیشن، میک اپ اور ویڈنگ انڈسٹری کبھی یہ نہیں بتاتی کہ زندگی میں سب سے اہم چیز عورت کی اپنی شناخت اور کیرئیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو پہلے خودمختار بننا چاہیے اور اس کے بعد ہی شادی کے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔
کنگنا رناوت نے مزید کہا کہ خواتین کو اپنی زندگی کی ہیرو خود بننا ہوگا کیونکہ مشکل وقت میں کوئی دوسرا انہیں بچانے نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق عورت کی اصل پہچان اس کے کام، قابلیت اور شخصیت سے ہونی چاہیے نہ کہ صرف اس کی شادی سے۔
اداکارہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں جہیز کے تنازعات اور شادی شدہ خواتین پر تشدد کے واقعات مسلسل خبروں کا حصہ بن رہے ہیں۔ حال ہی میں نوئیڈا سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ اداکارہ تویشا شرما بھوپال میں اپنے شوہر کے گھر مردہ پائی گئی تھیں۔ پولیس نے تویشا شرما کے شوہر اور ساس کے خلاف جہیز کے لیے ہراسانی اور خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ -

گوجرخان میں ٹیکس فری مویشی منڈی روایتی مقام پر قائم کر دی گئی
وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق گلیانہ موڑ ذبح خانہ کے پاس مثالی انتظامات مکمل، بیوپاریوں اور خریداروں سے کوئی فیس یا ٹیکس نہیں لیا جائے گا
منڈی میں ویٹرنری، ریسکیو 1122 اور پیرامیڈیکل سٹاف کے کاؤنٹرز فعال، شکایات کے فوری ازالے کے لیے سپیشل سیل قائم، خضر ظہور گورائیہ کا دورہ
گوجرخان (نمائندہ خصوصی) وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر عوام اور بیوپاریوں کی سہولت کے لیے گوجرخان میں گلیانہ موڑ ذبح خانہ کے روایتی مقام پر شاندار ٹیکس فری قربانی کے جانوروں کی مویشی منڈی قائم کر دی گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے منڈی کا تفصیلی دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا اور موقع پر موجود عملے کو ہدایات جاری کیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور گورائیہ نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کے تحت مویشی منڈی میں کسی قسم کا کوئی ٹھیکیداری نظام نہیں ہے۔ بیوپاریوں، مویشی پال حضرات اور خریداروں سے جانور لانے، لے جانے، شہریوں کی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں کی پارکنگ یا کھانے پینے کے سٹالز کی مد میں ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔ منڈی مکمل طور پر ٹیکس اور فیس سے پاک ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منڈی میں صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات کے لیے ستھرا پنجاب گوجرخان جے وی کمپنی کا کاونٹر، لائیوسٹاک کا ویٹرنری کاؤنٹر، ریسکیو 1122 اور پیرامیڈیکل سٹاف چوبیس گھنٹے الرٹ رہیں گے۔ مویشی پال حضرات بیوپاریوں خریداروں اور قربانی کے جانوروں کے لیے پینے کے پانی اور سائے دار ٹینٹ اور کنوپیوں کا بہترین بندوبست کیا گیا ہے۔ کسی بھی ناجائز وصولی یا شکایت کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے موقع پر شکایت سیل قائم کر دیا گیا ہے تاکہ خریداروں اور بیوپاریوں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ -

پاکستانی کوششوں سے 20 ایرانی ملاح رہا، ایران کا اظہارِ تشکر
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے 20 ایرانی ملاحوں کی رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم انسانی اور دوستانہ اقدام قرار دیا ہے۔
ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ ملاح سنگاپور کی حدود میں اپنے جہاز کی ضبطی کے باعث مشکل صورتحال کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق پاکستان کی بروقت سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ان ملاحوں کی رہائی ممکن ہوئی۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان کی انسان دوست اور خیرسگالی پر مبنی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزارتِ خارجہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلسل رابطوں اور سفارتی اقدامات کے باعث یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
بیان کے مطابق ایرانی ملاحوں کو سنگاپور سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ چند گھنٹے قبل بحفاظت اپنے وطن ایران واپس پہنچ گئے۔
ایرانی سفیر نے اس اقدام کو پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کی بہترین مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا خطے میں اعتماد اور دوستی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اس پیش رفت کو پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت تعلقات کی اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایرانی شہریوں اور صارفین کی جانب سے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ -

وفاقی آئینی عدالت میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بحالی کیلئے درخواست دائر
وفاقی آئینی عدالت میں خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بحالی کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے-
درخواست شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ غیر آئینی اور دباؤ کے تحت لیا گیا، لہٰذا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وزیراعلیٰ کے استعفے کو ایک سزایافتہ نااہل فرد کی ڈکٹیشن پر قبول کیا گیا، جو آئینی اصولوں کے منافی ہےاس کے ساتھ ہی ان کی ڈی نوٹیفکیشن کو بھی غیر قانونی اور آئین سے متصادم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بحال کیا جائے، استعفیٰ دباؤ کے تحت دیا گیا تھا اور اس کی قانونی حیثیت موجود نہیں، لہٰذا اس بنیاد پر کیے گئے تمام سرکاری اقدامات بھی غیر مؤثر قرار دیے جائیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ غیر آئینی اقدامات کے نتیجے میں جاری ہونے والےتمام سرکاری فیصلے بھی منسوخ کئے جائیں-