Baaghi TV

Blog

  • اسلام آباد: شہریوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے پر   7 پیٹرول پمپس سیل

    اسلام آباد: شہریوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے پر 7 پیٹرول پمپس سیل

    اسلام آباد میں شہریوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے پر ضلعی انتظامیہ نے 7 پیٹرول پمپس سیل کر دیے۔

    ڈی سی اسلام آباد نے ایکس پوسٹ میں بتایا کہ شہر بھر میں مجموعی طور پر 145 پیٹرول پمپس موجود ہیں، گزشتہ رات رش کے باعث 8 پمپس پر پیٹرول کی قلت جبکہ 5 پمپس پر ڈیزل ختم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت شہر بھر کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول کا مجموعی طور پر 25 لاکھ 90 ہزار 736 لیٹر جبکہ ڈیزل کا 15 لاکھ 83 ہزار 362 لیٹر سٹاک موجود ہے، جو ختم ہونے پر دوبارہ بھر دیا جائے گا،شہریوں کو پیٹرول دینے سے انکار کرنے والے 7 پمپس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کر دیا گیا ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

    پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ پیٹرول یا ڈیزل ڈلوانے میں تحمل کا مظاہرہ کریں، کاروائیاں شہریوں کی جانب سے ہیلپ لائن پر شکایات اور سوشل میڈیا پر نشاندہی کے بعد کی گئیں-

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

  • مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کا Saudi Arabia کا دورہ عالمی اور علاقائی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر بھی قائم ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو مسلم دنیا کی مضبوط اور منظم افواج میں شمار کیا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے خطے کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔

    حالیہ کشیدہ حالات میں آرمی چیف کا سعودی عرب کا دورہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ جنگی ماحول، فضائی راستوں کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس سطح کا دورہ ایک مضبوط سفارتی اور عسکری پیغام سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار ہے جبکہ دوسری طرف Iran پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سفارتی تعلقات بھی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ مسلم دنیا میں ایک ممکنہ سفارتی پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کئی علاقائی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کا فعال اور متوازن کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر پاکستان دانشمندانہ سفارت کاری، متوازن پالیسی اور علاقائی رابطوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مؤثر قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام دلا سکتا ہے۔

  • پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیاہے-

    پاکستان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں زیادہ تر معلومات افغان طالبان حکام کے فراہم کردہ مؤقف پر مبنی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث بعض نتائج کی درستگی اور توازن پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں، رپورٹ میں آزاد اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کو خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دیا جا رہا ہے ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں بے شمار معصوم شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک کی ثالثی کے ذریعے بھی متعدد سفارتی کوششیں کیں، تاہم اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی افغان طالبان حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتی ہے یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے،پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے تمام انسدادِ دہشت گردی آپریشنز انتہائی درستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں اور ان کی بنیاد مستند اور قابلِ تصدیق انٹیلی جنس معلومات ہوتی ہے-

    حکام نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنے آپریشنز کے دوران شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور ممکنہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیاں ایسے دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کی جاتی ہیں جو آبادی سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ حساس علاقوں جیسے کابل کے گرین زون سے بھی دور۔

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    پاکستان نے تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کو پناہ اور تحفظ فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث یہ گروہ نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ وہ سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی امن اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہی ہیں۔

    آج میرانشاہ میں ہونے والے ایک ہولناک دہشت گرد حملے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی، جس میں معصوم شہریوں اور بچوں کو شدید نقصان پہنچا پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن ایسے واقعات کو بھی اسی سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ رپورٹ کرے گا تاکہ زمینی حقائق کی متوازن اور درست عکاسی ممکن ہو سکے۔

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

    پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور ذمہ دارانہ اقدامات کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    گل دراز خان ایڈووکیٹ نے سلیمان خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں وفاقی حکومت، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری اوگرا اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ امریکا، اسرائیل، ایران جنگ کی وجہ سے کیا گیا۔

    درخواست کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ہے مگر وہاں قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ جن ممالک میں جنگ ہے وہاں بھی ابھی تک اضافہ نہیں کیا گیا، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جو سمجھ سے بالاتر ہے، وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں اضافہ کرکے مہنگائی سے پریشان عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت کا یہ اقدام عوامی مفاد کے خلاف ہے،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نے تحاشا اضافے کی نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے-

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • سلواڈور آلندے کا زوال: پاکستان جیسے ممالک کے لیے تاریخ کی ایک تنبیہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    سلواڈور آلندے کا زوال: پاکستان جیسے ممالک کے لیے تاریخ کی ایک تنبیہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تحریر: میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی امور کے تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا میں عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں۔

    11 ستمبر 1973 کو چلی میں جمہوریت جیٹ طیاروں کی گرج اور ٹینکوں کی دھمک تلے دم توڑ گئی۔اس صبح چلی کے صدارتی محل لا مونیدا پیلس کو اسی ملک کی فضائیہ نے بمباری کا نشانہ بنایا۔ اس محل کے اندر ایک ایسا شخص موجود تھا جس نے عوام سے حاصل کردہ اپنے مینڈیٹ کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
    صدر سلواڈور آلندے
    چند ہی گھنٹوں میں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والا یہ رہنما ہلاک ہو گیا اور لاطینی امریکہ کی ایک نہایت سفاک فوجی آمریت نے جنم لیا۔
    پچاس برس سے زیادہ گزرنے کے باوجود آلندے کا زوال اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بیرونی مداخلت، معاشی دباؤ اور خفیہ انٹیلی جنس کارروائیاں کسی ملک کے جمہوری تجربے کو تباہ کر سکتی
    ہیں۔

    پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اسباق آج بھی دردناک حد تک اہم ہیں۔
    طاقتور مفادات کو چیلنج کرنے والی حکومت

    جب سلواڈور آلندے 1970 میں صدر منتخب ہوئے تو یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ وہ مغربی نصف کرے میں جمہوری انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے والے پہلے مارکسی رہنما بنے۔ان کے پروگرام میں زرعی اصلاحات، سماجی فلاح اور اسٹریٹجک صنعتوں کو قومی تحویل میں لینا شامل تھا—خصوصاً چلی کے وسیع تانبے کے ذخائر۔
    لیکن ان پالیسیوں نے چلی کے اندر اور باہر موجود طاقتور مفادات کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اہم صنعتوں کو قومیانے سے غیر ملکی کمپنیوں کے مفادات متاثر ہوئے، جن میں امریکی ملٹی نیشنل کمپنی انٹرنیشنل ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف (ITT) بھی شامل تھی۔
    سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں واشنگٹن نے لاطینی امریکہ میں ایک سوشلسٹ حکومت کے ابھرنے کو شدید شک کی نگاہ سے دیکھا۔

    بعد میں منظرِ عام پر آنے والے خفیہ ریکارڈز سے تصدیق ہوئی کہ سی آئی اے کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ چلی کو سوویت بلاک کا ایک اور نظریاتی اتحادی بننے سے روکا جائے۔

    خفیہ کارروائیوں کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق تقریباً 80 لاکھ ڈالر اپوزیشن گروپوں، میڈیا مہمات، سیاسی اشتعال انگیزی اور معاشی بدحالی پیدا کرنے کے لیے خرچ کیے گئے تاکہ آلندے کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔

    حکمتِ عملی واضح تھی: ایسی شدید عدم استحکام پیدا کیا جائے کہ یا تو حکومت خود ہی گر جائے یا فوج مداخلت پر مجبور ہو جائے۔

    جس دن بم برسے

    1973 تک چلی شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہو چکا تھا۔ معاشی بحران، ہڑتالیں، احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی ملک کو تباہی کے دہانے تک لے آئی تھیں۔
    11 ستمبر کی صبح چلی کی مسلح افواج نے، جنرل آگستو پینوشے کی قیادت میں، ایک مربوط بغاوت شروع کر دی۔
    سینتیاگو کے آسمان پر جنگی طیارے گرج رہے تھے۔ ٹینکوں نے صدارتی محل کو گھیر لیا۔
    لا مونیدا کے اندر آلندے نے بار بار دی جانے والی استعفیٰ کی پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔
    اس کے بجائے انہوں نے قوم سے اپنا آخری ریڈیو خطاب کیا—ایک ایسا خطاب جس میں عزم، مزاحمت اور وقار جھلک رہا تھا۔
    انہوں نے اعلان کیا کہ تاریخ ان لوگوں کا فیصلہ کرے گی جنہوں نے جمہوریت سے غداری کی۔
    ان کے سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی ساتھیوں میں سے کئی نے محل کے اندر ان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے آخری لمحے تک مزاحمت کی۔
    جب بالآخر محل پر قبضہ کر لیا گیا تو آلندے ہلاک ہو چکے تھے۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دی۔

    ان کی میت کو خاموشی سے دفن کر دیا گیا، اور کئی برسوں تک ان کی موت کی تفصیلات بھی راز میں ڈوبی رہیں۔

    خوف میں ڈوبا ہوا ایک ملک
    اس فوجی بغاوت نے صرف حکومت تبدیل نہیں کی بلکہ چلی کو خوف کی ریاست میں تبدیل کر دیا۔

    جنرل آگستو پینوشے کی آمریت کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قتل کر دیا گیا یا وہ لاپتہ ہو گئے۔

    سیاسی قیدیوں کو اسٹیڈیمز، فوجی بیرکوں اور خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا۔ بہت سے متاثرین کو مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں سے سمندر یا دور دراز پہاڑوں میں پھینک دیا جاتا تھا تاکہ ان کی ہلاکت کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔

    اس دور کی سب سے دل دہلا دینے والی کہانیوں میں سے ایک چلی کے محبوب گلوکار اور کارکن وِکٹر خارا کی ہے۔

    بغاوت کے بعد انہیں گرفتار کر کے ایک حراستی مرکز لے جایا گیا جہاں فوجیوں نے ان پر شدید تشدد کیا۔ ان کے ہاتھ—جو ایک موسیقار کی شناخت تھے—جان بوجھ کر توڑ دیے گئے۔
    چند ہی دیر بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں ان کی لاش درجنوں گولیوں کے زخموں کے ساتھ ملی—یہ ہر اس شخص کے لیے خوفناک پیغام تھا جو نئی حکومت کی مخالفت کرنے کی ہمت کرتا۔
    تقریباً تین دہائیوں تک چلی جبر کے سائے میں زندہ رہا۔ ہزاروں خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ شخص جس نے چلی پر مطلق العنان حکمرانی کی، آخرکار عالمی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونے کے قریب پہنچ گیا۔

    اقتدار چھوڑنے کے برسوں بعد آگستو پینوشے کو 1998 میں لندن میں گرفتار کر لیا گیا، جب اسپین کی عدالتوں نے ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت وارنٹ جاری کیا۔
    اگرچہ وہ صحت کے مسائل کا جواز پیش کرتے ہوئے واپس چلی آ گئے اور 2006 میں بغیر کسی حتمی سزا کے وفات پا گئے، لیکن ان کی میراث ہمیشہ تشدد گاہوں، جبری گمشدگیوں اور سیاسی جبر سے جڑی رہے گی۔

    تاریخ نے ان کا فیصلہ عدالتوں سے کہیں زیادہ سختی سے کیا۔

    تاریخ کی تنبیہ

    سلواڈور آلندے کا زوال محض لاطینی امریکہ کی ایک تاریخی داستان نہیں ہے۔ یہ اس بات کی طاقتور یاد دہانی ہے کہ جب داخلی تقسیم بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات سے ٹکرا جائے تو کمزور ریاستیں کتنی غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔

    سرد جنگ کے دوران دنیا کی خفیہ ایجنسیاں—چاہے سی آئی اے ہوں یا کے جی بی—اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے کئی ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتی رہیں۔
    حکومتیں غیر مستحکم کی گئیں۔ معیشتوں کو دباؤ میں لایا گیا۔ سیاسی تحریکوں کو یا تو پیدا کیا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔

    پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبق واضح ہے۔
    قومی خودمختاری صرف فوجی طاقت سے محفوظ نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مضبوط ادارے، سیاسی بلوغت، قومی اتحاد اور ایسا معاشرہ درکار ہوتا ہے جو بیرونی چالوں اور سازشوں کو پہچاننے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
    جب اندرونی تقسیم گہری ہو جائے اور ادارے کمزور پڑ جائیں تو بیرونی قوتوں کو کسی ملک کی سمت متعین کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔

    آخری سبق
    لا مونیدا پر بمباری کے پچاس سال بعد بھی وہ منظر—جب سلواڈور آلندے اپنے محل کے اندر کھڑے تھے اور اوپر جنگی طیارے چکر لگا رہے تھے—جدید تاریخ میں سیاسی مزاحمت کی سب سے طاقتور علامتوں میں سے ایک ہے۔
    ان کی حکومت ایک ہی دن میں گر گئی۔
    مگر چلی کے معاشرے پر پڑنے والے زخم نسلوں تک باقی رہے۔
    آج کے ہنگامہ خیز سیاسی دور سے گزرنے والی قوموں کے لیے چلی کے اس المیے کا پیغام بالکل واضح ہے۔
    جو قوم اندر سے تقسیم ہو جائے، وہ صرف داخلی زوال ہی نہیں بلکہ پردے کے پیچھے سے واقعات کا رخ موڑنے والی طاقتوں کے لیے بھی آسان شکار بن جاتی ہے۔

  • برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کا داخلہ بند کردیا گیا ہے اور ایسے افراد کے ویزےبھی منسوخ ہوں گے12 ماہ کی معطل سزا پانے والے غیر ملکیوں کوبھی برطانیہ آنےکی اجازت نہیں،گرفتاریاں اور ملک بدری کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار اور سینکڑوں کو بے دخل کیا جا چکا ہے، جبکہ غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کے خلاف چھاپوں میں بھی شدید تیزی لائی گئی ہے۔

    اس حوالے سے وزیرداخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ برطانیہ آنا حق نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے، برطانوی عوام کےلیے خطرہ بننے والوں کو ملک بدرکیا جائےگا حکومت نے تقریباً 60 ہزارغیرقانونی تارکین وطن اور مجرموں کو ملک بدرکیا ہے، اب نئے امیگریشن قوانین 26 مارچ سے نافذ ہوں گے۔

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

    غیر قانونی طور پر ملازمتیں دینے والے مقامات (کار واش، نیل بارز) پر چھاپوں میں 77 فیصد اضافہ ہوا ہےیہ کارروائیاں خاص طور پر ان افراد کے خلاف ہیں جو غیر قانونی طور پر برطانیہ میں رہ رہے ہیں یا وہاں کے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    ذخیرہ اندوزی میں ملوث پیٹرول پمپ یا کمپنی کا فوری لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی کی جائے،وزیراعظم

  • کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

    حکومت نےکمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا، جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

    حکومت نے یکم مارچ 2026 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے ساتھ کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول (Jet Fuel) کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جس سے ایئر لائنز کے آپریٹنگ اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے-

    حکومت کی جانب سے ائیر لائنز کے طیاروں کے لیے جیٹ فیول کی قیمت میں 154 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد جیٹ فیول کی قیمت 188.93 روپےسے بڑھ کر342.37 روپےکی ریکارڈ سطح پرپہنچ گئی ہے،جیٹ فیول کی قیمت میں 82 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے ائیرلائنزکےکرایوں میں5 ہزار روپے تک اضافےکاامکان ہے،یہ اضافہ ملک بھر میں 15 روز کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرول مہنگا :جامعہ کراچی میں صبح کی کلاسز آن لائن کرانے کا فیصلہ

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان سے خطے کی سیکورٹی صورت حال کے تناظر میں ایک انتہائی اہم ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران ایران کی طرف سے سعودی سرزمین پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں پر نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا گیا بلکہ اس بلا اشتعال کاروائی کے خلاف پاک-سعودی دفاعی معاہدے (SMDA) کے فریم ورک کے تحت سعودی سرزمین کے عملی دفاع کا اعادہ بھی کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے برادر اسلامی ملک ایران کو خطے کی سلامتی کیلئے ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو دوست ممالک کی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع کے ساتھ اس اہم ملاقات کے فوری بعد ایران کی طرف سے پڑوسی اسلامی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کا بیان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے انتہائی مثبت تصور کی جارہا ہے۔ بین الاقوامی اُمور کے ماہرین کے مطابق خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

    اس تمام تنازعے کے دوران پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی کے ذریعے تمام شِراکت داروں سے روابط جاری رکھے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایرانی صدر کے حالیہ بیان کے پس منظر میں پاکستان کی تسلسل سے جاری سفارتی کوششوں کا وسیع عمل دخل موجود ہے۔

  • ذخیرہ اندوزی میں ملوث پیٹرول پمپ یا کمپنی  کا فوری لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی کی جائے،وزیراعظم

    ذخیرہ اندوزی میں ملوث پیٹرول پمپ یا کمپنی کا فوری لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی کی جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ یا کمپنی جو مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی، اس کا فوری لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال کے جائزے کا اجلاس ہوا، اجلاس میں عالمی سطح پر حالیہ کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ 48 گھنٹوں کے اندر سادگی اور بچت پر مبنی ایسا قابل عمل لائحہ عمل پیش کیا جائے جو عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالے اور عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم نے گزشتہ ہفتے ہی عالمی معاشی دباؤ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کمی پیدا نہیں ہوئی تاہم گزشتہ روز عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر صارفین پر بوجھ کم سے کم منتقل کرنے کے لیے کمیٹی کی تجاویز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ یا کمپنی جو مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی، اس کا فوری لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور بلاتعطل فراہمی کے لیے منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار کریں اجلاس میں کمیٹی کو مزید فعال رہ کر عوام کے لیے سہل اور مؤثر سفارشات پیش کرنے کی ہدا یت بھی دی گئی۔

    پیٹرول مہنگا :جامعہ کراچی میں صبح کی کلاسز آن لائن کرانے کا فیصلہ

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں  اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 61 ڈالر کے اضافے سے 5 ہزار 171 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی بین الاقوامی مارکیٹ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں فی تولہ سونا 6 ہزار 100 روپے اضافے کے بعد 5 لاکھ 39 ہزار 862 روپے پر پہنچ گیا اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 5 ہزار 230 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 4 لاکھ 62 ہزار 844 روپے ہوگئی جبکہ چاندی کی فی تولہ قیمت میں بھی 17 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 8 ہزار 931 روپے ہوگئی۔

    واضح رہے کہ جمعہ کو سونے کی فی تولہ قیمت میں 3 ہزار 400 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور یہ 5 لاکھ 33 ہزار 762 روپے تھی۔

    پیٹرول مہنگا :جامعہ کراچی میں صبح کی کلاسز آن لائن کرانے کا فیصلہ

    اسحاق ڈار کا سیکریٹری جنرل دولت مشترکہ اور یو اے ای ہم منصب سے رابطہ

    ٹرمپ کے قتل کی سازش :امریکا میں پاکستانی شہری کو قصوروار قرار دیا گیا