Baaghi TV

Blog

  • ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس صلاحیت کے حصول کی کوشش ضرور کر رہا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہے ایران کے پاس ایسے روایتی ہتھیار موجود ہیں جو امریکا پر حملے کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات زیادہ تر اس کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوں گے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ سفارت کاری کبھی مکمل طور پر ختم ہوتی یا میز سے ہٹتی ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے ایران کے جواہری معاہدے کے لیے مذاکرات سے قبل ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں۔

    30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ،ڈرون ایکٹیویٹی پر پابندی

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے ، جن پر ایرانی پیٹرولیم کی غیر قانونی فروخت اور اسلحہ سازی میں معاونت کرنے کا الزام ہے،ایران کے مبینہ شیڈو فلیٹ میں شامل جہازوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو ایرانی تیل و پیٹرولیم مصنوعات کو بیرونی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں،اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران مالیاتی نظام کا استعمال غیر قانونی تیل فروخت کرنے، اس کی آمدنی چھپانے، اپنے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کیلئے پرزہ جات حاصل کرنے اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کیلیے کرتا ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت اور دہشتگردی کی حمایت کو ختم کرنے کیلئےٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے گی۔

  • 30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ،ڈرون ایکٹیویٹی پر پابندی

    30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ،ڈرون ایکٹیویٹی پر پابندی

    قصور
    قصور سمیت پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، آؤٹ ڈور ڈرون ایکٹیویٹی پر 30 روزہ پابندی
    قصور: حکومت پنجاب نے امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون ایکٹیویٹی پر 30 روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے پیش نظر کیا گیا۔ پابندی کا اطلاق قصور سمیت پنجاب کے تمام اضلاع پر فوری طور پر ہوگا۔
    حکام کے مطابق بغیر اجازت ڈرون اڑانے، فضائی ویڈیوگرافی یا کسی بھی قسم کی آؤٹ ڈور ڈرون سرگرمی قانوناً ممنوع ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیرات پاکستان سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، حساس تنصیبات اور عوامی اجتماعات کے تحفظ کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پابندی پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی غیر قانونی ڈرون سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر مقامی پولیس کو دیں۔
    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر پابندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

  • راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سن 1982 کا راولپنڈی یاد آتا ہے تو ایک مختلف منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ اُس وقت نہ سوشل میڈیا تھا، نہ ہر ہاتھ میں موبائل فون۔ اطلاعات کے ذرائع محدود تھے — پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی)، ریڈیو پاکستان اور چند قومی اخبارات۔ مگر اس کے باوجود ریاستی رِٹ واضح دکھائی دیتی تھی۔ قانون کا خوف تھا، نظم و ضبط کا احساس تھا، اور عوام کو یہ یقین تھا کہ ادارے موجود ہیں اور متحرک ہیں۔

    آج 2026 کا راولپنڈی دیکھیے — بظاہر ترقی یافتہ، مصروف اور پھیلتا ہوا شہر — مگر اندرونی طور پر بے چینی، عدم تحفظ اور بداعتمادی کا شکار۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل ہیں؛ سوال یہ ہے کہ مسائل پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیوں نظر نہیں آتی؟

    راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے۔ یہ صرف ایک ضلع نہیں بلکہ ملک کے سیاسی و عسکری تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قانون کی کمزوری صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ قومی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

    قبضہ مافیا اور منشیات کا پھیلاؤ
    شہر میں قبضہ مافیا کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کمزور اور متوسط طبقہ اپنی جائیداد کے تحفظ کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ منشیات فروشی ایک ناسور کی طرح نوجوان نسل کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ گلی محلوں میں مشکوک سرگرمیاں عام ہیں، مگر کارروائیاں یا تو وقتی ہوتی ہیں یا غیر مؤثر۔

    یہ تاثر عام ہے کہ کچھ عناصر کو "پشت پناہی” حاصل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر کارروائیوں کا تسلسل کیوں نہیں؟ مستقل مزاجی کیوں نہیں؟
    غیر قانونی مقیم افراد اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان
    غیر قانونی مقیم افراد کا مسئلہ بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو قانون کے مطابق اس کا اندراج اور کارروائی ہونی چاہیے۔ مگر جب قانون کا اطلاق منتخب انداز میں ہو، تو سوالات جنم لیتے ہیں۔
    چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ عوام کو یہ احساس نہیں کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، اس پر عمل ہوگا اور انہیں انصاف ملے گا۔

    کیا پولیس عوام کی خدمتگار ہے یا حاکم؟
    یہ تاثر کہ راولپنڈی میں ہر افسر اپنی "سلطنت” کا مالک ہے اور عوام رعایا — ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ادارے ان کے نہیں رہے، تو ریاستی اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔

    تھانہ کلچر کی شکایات نئی نہیں، مگر اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود عام شہری کو فوری ریلیف کیوں نہیں ملتا؟ ایک ایس ایچ او کا رویہ پورے نظام کی تصویر بن جاتا ہے۔ اگر دروازے پر انصاف نہ ملے تو پھر شہری کہاں جائے؟

    ذمہ داران سے سوال
    یہ سوال براہِ راست متعلقہ حکام سے ہے:
    پنجاب پولیس کی قیادت کیا راولپنڈی کی صورتِ حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے؟
    (وزیراعلیٰ پنجاب) اور حکومت پنجاب کی ترجیحات میں راولپنڈی کہاں کھڑا ہے؟
    کیا مؤثر احتسابی نظام موجود ہے جو اختیارات کے غلط استعمال کو روکے؟
    راولپنڈی کو الگ سلطنت بنانے کا تاثر ختم کرنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی صرف بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔

    حل کیا ہے؟
    پولیسنگ کا شفاف نظام — تھانوں کی کارکردگی عوام کے سامنے لائی جائے۔
    قبضہ مافیا اور منشیات کے خلاف مستقل آپریشن — نمائشی نہیں، نتیجہ خیز۔
    شکایات کے فوری ازالے کا نظام — شہریوں کو آن لائن اور آف لائن مؤثر پلیٹ فارم۔
    افسران کا احتساب — اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی لازم۔
    ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ اگر ماں اپنے بچوں میں فرق کرے یا ان کی فریاد نہ سنے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ راولپنڈی پاکستان کا اہم شہر ہے، اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔
    اب سوال یہ نہیں کہ مسائل کب تک چلیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز کب ہوگا؟
    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے — اور جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

  • شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا عہد کیا جائے،محمد ناظم الدین

    شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا عہد کیا جائے،محمد ناظم الدین

    رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے اس برکت والے مہینہ میں قرآن مجید کے ساتھ مضبوط کرنے عبادات بجا لانے کے ساتھ ساتھ شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا بھی عہد کیا جائے ۔ شہید مقدس کی حفاظت میں اہل ایمان کیلئے عظیم اجر وثواب کی بشارت ہے ، یہ دل میں تقوی کی علامت ہے ، نیکی اور ثواب میں اضافہ ہوتا ہے ، ا للہ کی خشنودی اور ملائکہ کی قربت حاصل ہوتی ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار خادم قرآن اور پنجاب قرآن بورڈ کے سابق ممبر محمد ناظم الدین نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ شہید مقدس اوراق خصوصاََ قرآن مجید کی آیات اور احادیث پر مشتمل صفحات کی حفاظت اور احترام ایمان کا حصہ اوراجر عظیم کا باعث ہے ۔ شعائر الہیٰ کی تعظیم قلبی تقویٰ کی علامت ہے ۔ شہید مقدس اوراق کو ادب سے اٹھانا ، انھیں محفوظ جگہ پر منتقل کرنا صرف مذہبی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور باعث خیر ، رحمت اور برکت بھی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے ناشران قرآن مجید کی طباعت اور اشاعت کیلئے غیر معیاری پیپر استعمال کرتے ہیں جس سے ہر ماہ بڑی تعداد میں قرآن مجید ، پارے اور قاعدے شہید ہوتے ہیں، جس سے ہر ماہ شہید مقدس اوراق کی ہزاروں ٹن بوریاں جمع ہوجاتی ہیں جنھیں محفوظ کرنا بذات خود ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے لہذا علما ء اساتذہ اور والدین سے گزارش ہے کہ وہ نئی نسل میں کلام الہیٰ اور شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا شعور پیدا کریں ۔ غیر معیاری اور ناقص پیپر پر طبع شدہ قرآن مجید اور سیپارے خریدنے کی بجائے معیاری پیپر پر شائع شدہ قرآن مجید اور سیپارے خریدیں تاکہ ان کے شہید ہونے کا احتمال کم سے کم ہو ۔ اسلئے کہ شہید مقدس اوراق کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم کتاب الہیٰ کی عزت اور حفاظت کریں گے تو اللہ ہمیں عزت دے گا ۔ حکومت سے گزارش ہے کہ شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا مضمون تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوسکے ۔

  • اوکاڑہ،کمشنر ساہیوال کا نگہبان رمضان کارڈ سنٹر کا دورہ

    اوکاڑہ،کمشنر ساہیوال کا نگہبان رمضان کارڈ سنٹر کا دورہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل نے نگہبان رمضان کارڈ سنٹر کا دورہ کر کے کارڈز کی ایکٹیویشن اور مستحق افراد کو بروقت سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید اور اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ کمشنر نے نگہبان رمضان دسترخوان اور رمضان بازار کے انتظامات، اشیائے خورونوش کے معیار اور قیمتوں کا معائنہ کیا جبکہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں افطار دسترخوان پر صفائی اور معیاری کھانوں کی فراہمی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نگہبان رمضان کارڈ مستحق خاندانوں کی فلاح کے لیے اہم اقدام ہے اور کارڈز کی تقسیم جلد مکمل کی جائے جبکہ رمضان بازاروں میں سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جائے.

  • سیالکوٹ،ڈپٹی کمشنر کی زیرقیادت انسدادِ کوڑا کرکٹ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک

    سیالکوٹ،ڈپٹی کمشنر کی زیرقیادت انسدادِ کوڑا کرکٹ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک

    سیالکوٹ بیورو چیف مدثر رتو سے
    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیر قیادت انسدادِ کوڑا کرکٹ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک میں ضلعی انتظامیہ، صفائی عملے، متعلقہ محکموں کے افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن اور ستھرا پنجاب مہم کے تحت گلیوں، محلوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صفائی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار روپے سے لے کر سات لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صاف ستھرا ماحول صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے اور اپنے شہر و گاؤں کو صاف رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ ستھرا پنجاب کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ شہری صفائی ستھرائی سے متعلق اپنی شکایات ہیلپ لائن 1139 پر درج کروائیں، جن کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
    آگاہی واک میں ایم ڈی سیالکوٹ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سلمان احمد ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل رانا لطیف اور میڈیا مینیجر فہد جاوید کے علاوہ متعلقہ افسران اور ملازمین بھی موجود تھے۔ شرکاء نے صفائی، نظم و ضبط اور ذمہ دار شہری ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • خدا بخش لغاری میں مسلح ڈکیتی، خاتون سے ڈیڑھ لاکھ روپے اور موبائل فون لوٹ لیا گیا

    خدا بخش لغاری میں مسلح ڈکیتی، خاتون سے ڈیڑھ لاکھ روپے اور موبائل فون لوٹ لیا گیا

    میرپورماتھیلو باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری
    جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری میں مسلح افراد نے ڈکیتی کی سنگین واردات انجام دی۔ تفصیلات کے مطابق مائی سمینان اپنے شوہر سگھیا خان کی تنخواہ کی رقم ڈیڑھ لاکھ روپے لے کر شام کے وقت گھر پہنچی تو گھر کے سامنے گھات لگائے بیٹھے پانچ مسلح ملزمان نے اسے گھیر لیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ملزمان نے اسلحے کے زور پر خاتون کو خوفزدہ کیا اور اس سے ڈیڑھ لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔ ڈکیتی کے بعد ملزمان شام تقریباً چھ بجے موقع سے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ملزمان میں سے دو کی شناخت محمد نواز لغاری اور اس کے بیٹے دل شیر لغاری کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ تین ملزمان تاحال نامعلوم ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد مائی سمینان کی جانب سے جروار تھانے میں این سی رپورٹ درج کرا دی گئی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

    واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ نے گھوٹکی کے ایس ایس پی، میرپور ماتھیلو کے ڈی ایس پی اور جروار تھانے کے ایس ایچ او سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نامزد اور نامعلوم تمام ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے، جبکہ لوٹی گئی رقم اور موبائل فون کی فوری برآمدگی کو یقینی بنایا جائے۔اہلِ علاقہ نے بھی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس گشت مؤثر بنانے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ٹک ٹاک دوستی، لالچ اور ہوسِ زر ، آٹھ بچوں کی ماں قتل

    ٹک ٹاک دوستی، لالچ اور ہوسِ زر ، آٹھ بچوں کی ماں قتل

    گوجرخان (قمرشہزاد) سوشل میڈیا کی چکاچوند کے پیچھے چھپا بھیانک چہرہ آخرکار بے نقاب ہو گیا۔ گزشتہ دنوں ہاوسنگ سکیم ٹو گوجرخان سے ملنے والی نعش آٹھ بچوں کی ماں، 43 سالہ نعمانہ افضل کے اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا اور پولیس تھانہ گوجرخان نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    یہ لرزہ خیز واردات ٹک ٹاک پر ہونے والی دوستی، جھوٹے وعدوں اور ہوسِ زر کا ہولناک انجام ثابت ہوئی۔ پولیس کے مطابق لکی مروت کی رہائشی مقتولہ کی دوستی ملائشیا میں مقیم گوجرخان کے 32 سالہ شادی شدہ شخص عدنان اختر سے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی۔ مسلسل رابطوں نے دوستی کو محبت کا رنگ دیا، مگر اس کہانی کی بنیاد خلوص نہیں بلکہ مفاد، دھوکہ اور استحصال تھا۔ ملزم نہ صرف خاتون سے رقوم بٹورتا رہا بلکہ ملائشیا سے غیر قانونی سرگرمیوں پر ڈیپورٹ ہونے کے بعد بھی اسے مالی طور پر استعمال کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق عدنان مختلف اوقات میں لکی مروت جا کر مقتولہ سے ملاقاتیں کرتا رہا۔ جب قربتیں بڑھیں تو نعمانہ نے اس پر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر شادی کرنے کا دباؤ ڈالنا شروع کیا۔

    یہی مطالبہ اس کے لیے موت کا پروانہ بن گیا۔ قتل سے ایک روز قبل ملزم عدنان، نعمانہ کو لکی مروت سے گاڑی میں گوجرخان لے آیا اور مختلف مقامات پر گھماتا رہا۔ بعدازاں اس نے اپنے دوست کامران کے ساتھ مل کر سفاک منصوبہ بنایا اور گاڑی کے اندر ہی خاتون کو دم گھونٹ کر قتل کر دیا۔ ملزمان نے نعش کو ہاؤسنگ سکیم ٹو، اقراء کالج کے قریب سڑک کنارے پھینکا اور فرار ہوگئے۔ اندھے قتل کی اس واردات کا اے ایس پی سید دانیال حسن نے پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔ نادرا ریکارڈ سے شناخت کے بعد مقتولہ کے اہلخانہ کو طلب کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ وہ دو روز سے لاپتہ تھی۔ ایس ایچ او گوجرخان طیب ظہیر بیگ اور ایچ آئی یو ٹیم نے مقتولہ کے موبائل رابطوں کی چھان بین کی تو عدنان اختر تک رسائی ہوئی۔ شاملِ تفتیش کرنے پر ملزم کے بیانات نے پوری سازش کو بے نقاب کردیا۔ عدنان نے اپنے ساتھی کامران کے ساتھ مل کر قتل کا اعتراف کرلیا ہے، جبکہ شریک ملزم تاحال مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی تباہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر اندھی محبت اور دھوکے کے بڑھتے رجحان پر بھی ایک خطرناک سوالیہ نشان ہے۔ آٹھ بچوں کی ماں کو جھوٹے وعدوں، مالی استحصال اور بے رحمانہ سازش کا نشانہ بنایا گیا اور آخرکار اس کی سانسیں بھی چھین لی گئیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور مفرور ملزم کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

  • سابق چیف جسٹس عمرعطابندیال کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک،رقم مانگنے کا انکشاف

    سابق چیف جسٹس عمرعطابندیال کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک،رقم مانگنے کا انکشاف

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سائبر سیکیورٹی کا ایک اہم واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ہیکرز نے نہ صرف ان کا ذاتی واٹس ایپ اکاؤنٹ غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں لیا بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود رابطہ نمبرز کو استعمال کرتے ہوئے مختلف افراد سے رقم طلب کرنا بھی شروع کر دی۔اطلاعات کے مطابق ہیکر کی جانب سے سابق چیف جسٹس کے جاننے والوں اور قریبی حلقوں کو واٹس ایپ پیغامات بھیجے گئے جن میں فوری مالی مدد کی درخواست کی گئی۔ بعض افراد کو مشکوک بینک اکاؤنٹس یا ڈیجیٹل والٹس میں رقم منتقل کرنے کا کہا گیا۔ خوش قسمتی سے بیشتر افراد نے مشکوک پیغامات کی تصدیق کیے بغیر رقم منتقل نہیں کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد سابق چیف جسٹس نے قومی سائبر کرائم ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) سے رابطہ کیا اور باقاعدہ شکایت درج کروا دی ہے۔ ادارے نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واٹس ایپ اکاؤنٹ کی بحالی اور ہیکرز کی شناخت کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

  • باجوڑ،فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید،بنوں،مسجدمیں گھس کر دہشتگردوں نے 3 بھائیوں کو کیا اغوا

    باجوڑ،فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید،بنوں،مسجدمیں گھس کر دہشتگردوں نے 3 بھائیوں کو کیا اغوا

    باجوڑ کی تحصیل خار میں نامعلوم افراد فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہل کار شہید ہوگئے۔

    ایس ایچ او گل زادہ کے مطابق پولیس اہلکار رمضان المبارک کے دوران معمول کے گشت پر تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کی،فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے۔ ریسکیو کے مطابق زخمی پولیس اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کردیا گیا۔

    دوسری جانب شہدا کی نماز جنازہ پولیس لائنز باجوڑ میں ادا کردی گئی جس میں اعلیٰ پولیس اور سول حکام نے شرکت کی،فتنۂ الخوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے جنازے پر رقت آمیز مناظردیکھنے میں آئے،مقامی افراد نے فتنۂ الخوارج کو بددعائیں دی اور نعرہ بازی کی،شہریوں کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ ایسا ہی ہے کہرام افغانستان میں انکے ٹھکانوں میں برپا کرینگے،بیشک اسکے لئے کابل کی سرکاری عمارتوں کو ہی کیوں نا ہو زمین بوس کرنا پڑے،کب تک خوارج ان پختونوں کی شرافت سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے؟

    علاوہ ازیں بنوں کے علاقے سوکڑی حسن خیل میں تراویح کے دوران 10 سے 15 دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر 3 بھائیوں کو اغوا کر لیا۔مغویوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک کمشنر آفس کا کمپیوٹر آپریٹر شامل ہے