Baaghi TV

Blog

  • مغربی کنارے کی یہودی بستی میں پہلی بار امریکی پاسپورٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان

    مغربی کنارے کی یہودی بستی میں پہلی بار امریکی پاسپورٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان

    یروشلم:امریکا پہلی بار مغربی کنارے کی ایک یہودی بستی میں براہِ راست پاسپورٹ خدمات فراہم کرے گا۔

    امریکی سفارتخانے کے مطابق قونصلر افسران 27 فروری کو بیت الحم کے جنوب میں واقع بستی عفرات میں معمول کی پاسپورٹ سروس دیں گے، جسے مقبوضہ علاقے میں آباد امریکی شہریوں تک رسائی کی کوشش قرار دیا گیا ہے، آئندہ اسی نوعیت کی خدمات رام اللہ، بیت الحم کے قریب واقع بستی بیت العلت اور اسرائیلی شہر حائفہ میں بھی فراہم کی جائیں گی۔

    قرض پروگرام کی چوتھی قسط ، آئی ایم ایف وفد جائزہ مذاکرات کیلئےپاکستان پہنچ گیا

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت نے حالیہ دنوں مغربی کنارے میں آبادکاری سے متعلق اقدامات کی منظوری دی ہے، جس پر فلسطینی قیادت نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ’عملی انضمام‘ سے تعبیر کیا ہے،اندازوں کے مطابق مغربی کنارے میں دسیوں ہزار دوہری شہریت رکھنے والے امریکی اسرائیلی شہری مقیم ہیں۔

    ہائیکورٹ کوریڈور میں سہیل آفریدی کی ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیا

  • قرض پروگرام کی چوتھی قسط ،  آئی ایم ایف وفد جائزہ مذاکرات کیلئےپاکستان پہنچ گیا

    قرض پروگرام کی چوتھی قسط ، آئی ایم ایف وفد جائزہ مذاکرات کیلئےپاکستان پہنچ گیا

    کراچی: 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کی چوتھی قسط کی ادائیگی کے معاملے پر جائزہ مذاکرات کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔

    کراچی میں آئی ایم ایف کا وفد اسٹیٹ بینک کے دورے پر پہنچ گیا جہاں ان کی حکام سے ملاقات جاری ہےاسٹیٹ بینک کے ماہرین آئی ایم ایف کو معاشی کارکردگی پر بریفنگ دیں گے، آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ ہوگی، مذاکرات میں آئی ایم ایف وفد کو جولائی تا جنوری معاشی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ڈیٹا شیئرنگ سیشن میں آئی ایم ایف مشن کی اسٹیٹ بینک ماہرین کیساتھ زرمبادلہ ذخائرکی بہتری پر بات چیت ہوگی، ڈیٹا شیئرنگ سیشنز میں مانیٹری پالیسی، افراط زر، بینکنگ ریگولیشنز سمیت دیگر امور پر تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے آئی ایم ایف نے 30 جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمباد لہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے، اسٹیٹ بینک ماہرین آئی ایم ایف کو پالیسی ریٹ، اینٹی ٹیررفنانسنگ، اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے۔

    لاہورمیں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ جمع

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف آئندہ مالی سال اسٹیٹ بینک کے خالص زرمبادلہ ذخائر23 ارب 30کروڑ ڈالرز رہنے کی پیشگوئی کر رہا ہے، ٹیکنیکل سیشنز میں جولائی تا دسمبر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران متعدد اہداف کا جائزہ لیا جائے گا جولائی سے دسمبر کے دوران پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا جبکہ رواں مالی سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کے منفی0.6 فیصد رہنےکا تخمینہ ہےآئی ایم ایف کا وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان کا دورہ کرے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی قرض پروگرام کے تحت تیسرا اقتصادی جائزہ لیا جائے گا۔

    قومی ہاکی ٹیم ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کیلئے مصر پہنچ گئی

    اس کے علاوہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے آر ایس ایف پروگرام کے تحت دوسرا اقتصادی جائزہ کے مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں تقریباً 20کروڑ ڈالر آر ایس ایف پروگرام کے تحت موصول ہوں گے پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کرلیے ہیں، نئے مالی سال کے بجٹ سے پہلے پاکستان کواسٹاف لیول معاہدے کی توقع ہے اور 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

  • لاہورمیں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ جمع

    لاہورمیں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ جمع

    لاہور میں بسنت کے دوران 17 اموات ہوئیں، رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی گئی

    ہوم ڈیپارٹمنٹ نے بسنت سے وانے والی اموات کی رپورٹ عدالت پیش کردی ،رپورٹ کے مطابق بسنت کے دوران کرنٹ لگنے سے 3 افراد ہلاک ہوئے، درخت سے گر کر دو افراد ہلاک ہوئے۔بارہ افراد چھتوں سے گر کر جان کی بازی ہار گئے۔ لاہور ہائیکورٹ نےبسنت کے دوران ڈور پھرنے سے زخمی ہونے والے افراد کی تفصیلات بھی طلب کرلیں،وکیل درخواست گزار اظہر صدیق نے کہا کہ بسنت کے دوران ڈور پھرنے سے زخمیوں کا ڈیٹا نہیں دیا گیا۔

    جسٹس اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی ،درخواست میں بسنت کے دوران ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے

  • جنس تبدیلی کے بعد فحاشی کا اڈہ چلانے والی دو بہنیں گرفتار

    جنس تبدیلی کے بعد فحاشی کا اڈہ چلانے والی دو بہنیں گرفتار

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے مبینہ طور پر جنس اور مذہب کی تبدیلی، عصمت دری، جبری تبدیلیٔ مذہب اور سیکس ریکیٹ چلانے کے الزامات میں دو بہنوں اور ان کے ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کیس میں نامزد مزید تین ملزمان تاحال مفرور بتائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں بہنیں پہلے عباس نگر کی ایک کچی آبادی میں مقیم تھیں، تاہم حال ہی میں مبینہ طور پر جنس تبدیل کروانے کے بعد مردانہ شناخت اختیار کر کے ایک عالیشان مکان میں منتقل ہو گئی تھیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان کی جائیدادیں اور پرتعیش طرزِ زندگی ممکنہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید مالی چھان بین جاری ہے۔کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب دو خواتین، جن کی عمریں 21 اور 32 سال بتائی جاتی ہیں، نے بھوپال کے علاقے باغ سیونیا تھانے میں الگ الگ مگر ملتے جلتے بیانات کے ساتھ مقدمات درج کروائے۔ متاثرہ خواتین کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے بتایا جاتا ہے۔

    مدعی خواتین کے مطابق انہیں گھریلو ملازمت، ماہانہ 10 ہزار بھارتی روپے تنخواہ، رہائش اور بہتر طرزِ زندگی کا جھانسہ دے کر رابطہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق بعد ازاں انہیں مختلف پارٹیوں، کلبز اور لاؤنجز میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر نشہ آور اشیاء پلائی گئیں اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ایک متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ دسمبر 2025ء میں اسی گروہ کے ایک کارندے نے اسے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ اسے دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔دوسری متاثرہ خاتون، جو گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی، نے الزام لگایا کہ چندن یادیو نامی شخص نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ درج مقدمے میں جبری تبدیلیٔ مذہب کا الزام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کی الگ سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتاری کے دوران ملزمان کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ ابتدائی ڈیجیٹل فرانزک جائزے میں مشتبہ واٹس ایپ گروپس اور متعدد لڑکیوں کی تصاویر برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی مکمل جانچ کے بعد مزید انکشافات متوقع ہیں۔بھوپال پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک منظم بین الریاستی نیٹ ورک ہو سکتا ہے جس کے روابط گجرات اور ممبئی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پولیس مختلف ریاستوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہے اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور متاثرہ خواتین کو قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ مزید گرفتاریوں اور انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک سوگوار قوم بھی ہے — اور ایک ایسی قوم بھی جو سخت سوالات پوچھ رہی ہے۔
    خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے ریگزاروں تک، سبز ہلالی پرچم بار بار ان تازہ قبروں پر سرنگوں ہو رہا ہے جن میں وہ سپاہی آسودۂ خاک ہیں جو ایک ایسے غیر مرئی دشمن سے لڑتے رہے — ایسا دشمن جو پراکسیز، محفوظ پناہ گاہوں اور ہائبرڈ جنگ کے ذریعے وار کرتا ہے۔
    گلیوں میں غصہ حقیقی ہے۔
    شہداء کے گھروں میں غم حقیقی ہے۔
    اور پورے ملک میں گونجنے والا مطالبہ اب واضح ہوتا جا رہا ہے:
    پاکستان آخر کب تک صرف وار سہتا رہے گا؟
    وہ نقشہ جو عوام دیکھ رہے ہیں
    بلوچستان میں مربوط حملے، سکیورٹی تنصیبات کے خلاف کواڈ کاپٹرز کا استعمال، وفاقی دارالحکومت میں دھماکہ، فوجیوں کا اغوا، حتیٰ کہ ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا — یہ الگ الگ واقعات نہیں۔
    عوام کے ذہن میں یہ سب ایک ہی تصویر بناتے ہیں:
    پاکستان کو ایک مسلسل پراکسی جنگ کے ذریعے لہولہان کیا جا رہا ہے۔
    اور جب تابوت مسلسل آتے رہیں تو اسٹریٹیجک تحمل عام شہری کی نظر میں اسٹریٹیجک غیر فعالیت محسوس ہونے لگتا ہے۔

    جوابِ آں غزل” کا ابھرتا ہوا بیانیہ
    سوشل میڈیا، ڈرائنگ رومز، جامعات اور سابق فوجیوں کے حلقوں میں ایک جملہ قومی گفتگو پر حاوی ہے:
    بازداریت کا اثر محسوس ہونا چاہیے، صرف بیان نہیں ہونا چاہیے
    عوام اب صرف دفاعی کامیابی پر مطمئن نہیں۔
    یہ مطالبہ بڑھ رہا ہے کہ:
    جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کرتے ہیں، انہیں اس کی قیمت چکانی چاہیے۔
    پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی محفوظ پناہ گاہیں مزید مفت نہیں رہنی چاہئیں۔
    ہائبرڈ جنگ کا جواب اسی میدان میں دیا جانا چاہیے جس میں یہ لڑی جا رہی ہے۔
    یہ کسی مہم جوئی کی پکار نہیں — بلکہ ایک زخمی قوم کا ردعمل ہے جو اپنے سپاہیوں کو جرات سے لڑتے دیکھتی ہے جبکہ اسٹریٹیجک ماحول تبدیل نہیں ہوتا۔
    بازداریت ایک نفسیاتی مساوات ہے
    جدید تنازعات میں بازداریت صرف صلاحیت سے حاصل نہیں ہوتی۔
    یہ تب حاصل ہوتی ہے جب دشمن کو یقین ہو جائے کہ:
    پاکستان کو نقصان پہنچانے کی قیمت کسی بھی ممکنہ فائدے سے زیادہ ہوگی۔
    اس وقت عوامی تاثر یہ ہے کہ قیمت صرف پاکستان ادا کر رہا ہے۔
    یہ تاثر — چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو — تزویراتی طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ داخلی اعتماد کو کمزور اور مخالف بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔

    کشمیر: بنیادی سیاسی و اخلاقی محاذ
    علاقائی سلامتی کی کوئی بحث کشمیر کے بغیر مکمل نہیں — تقسیم کا نامکمل ایجنڈا اور دنیا کا سب سے زیادہ فوجی محاصرہ زدہ خطہ۔
    کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کوئی وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ تاریخی اور قانونی مؤقف ہے۔

    آج عوام چاہتے ہیں کہ یہ حمایت
    مزید نمایاں ہو
    مزید تسلسل کے ساتھ ہو
    عالمی سطح پر مزید فعال ہو
    بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے بغیر — مگر اس انداز میں کہ مسئلہ دوبارہ متحرک ہو اور اس جمود کو توڑا جا سکے جسے دشمن منجمد رکھنا چاہتا ہے۔
    ردعمل سے پہل کی جانب
    عوام کا ابھرتا ہوا مطالبہ صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ پہل ہے۔
    ہائبرڈ جنگ کے ماحول میں جامع جواب میں شامل ہیں:
    انٹیلی جنس کی بنیاد پر درست اور بروقت صلاحیت
    خطرات کو جنم لینے سے پہلے ختم کرنے کی صلاحیت۔
    علاقائی انسدادِ دہشت گردی سفارت کاری
    پاکستان کے خلاف سرگرم نیٹ ورکس کو عالمی توجہ کا مرکز بنانا۔
    اطلاعاتی جنگ میں برتری
    بین الاقوامی اور داخلی سطح پر بیانیے کی جنگ جیتنا۔
    داخلی استحکام
    بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کا سب سے مضبوط جواب سیاسی و معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہے۔
    نمایاں بازدارانہ اشارے
    کشیدگی نہیں — بلکہ یہ واضح پیغام کہ پاکستان کی سرخ لکیریں حقیقی اور قابلِ نفاذ ہیں۔
    بے عملی کی قیمت
    ہر شہید کی نمازِ جنازہ صرف غم کا لمحہ نہیں — یہ ایک اسٹریٹیجک پیغام بھی ہے جسے دوست اور دشمن دونوں دیکھتے ہیں۔
    اگر قوم قیمت عائد کرنے سے قاصر دکھائی دے تو پراکسی جنگ کا ماڈل مخالف قوتوں کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔
    اگر قوم عزم دکھائے تو مساوات بدل جاتی ہے۔
    قومی مزاج بدل چکا ہے
    پالیسی سازوں کے لیے سب سے اہم حقیقت یہ ہے:
    پاکستانی عوام اب صبر کے مرحلے میں نہیں — مطالبے کے مرحلے میں ہیں۔
    مطالبہ برائے:
    سلامتی
    جواب میں برابری
    نمایاں بازداریت
    اسٹریٹیجک وضاحت
    ریاست فیصلے جذبات پر نہیں کرتی — مگر قومی مزاج سے کٹ کر بھی نہیں رہ سکتی۔

    خلاصہ
    بازداریت کی نئی ترتیب کا وقت
    پاکستان تنازع نہیں چاہتا۔
    مگر پاکستان ایسی صورتِ حال بھی قبول نہیں کر سکتا جس میں:
    ہمارے سپاہی روز شہید ہوں،
    ہمارے شہر نشانہ بنتے رہیں،
    اور ہمارے مخالف محفوظ رہیں۔
    آگے کا راستہ غیر ذمہ دارانہ کشیدگی نہیں۔
    آگے کا راستہ بازداریت کی نئی ترتیب ہے — ذہین، متوازن، کثیر جہتی اور غیر مبہم۔
    کیونکہ ہائبرڈ جنگ میں بقا سب سے زیادہ صبر کرنے والی ریاست کو نہیں ملتی —
    بلکہ اس ریاست کو ملتی ہے جو اپنے دشمن کو یقین دلا دے:
    پاکستان کو لہولہان کرنے کی قیمت ناقابلِ برداشت ہوگی۔

  • ہائیکورٹ کوریڈور میں سہیل آفریدی کی  ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیا

    ہائیکورٹ کوریڈور میں سہیل آفریدی کی ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیا

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے بات کرنے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے تاہم انہیں چیف جسٹس کے سیکرٹری سے ملاقات کے لیے سیکرٹری کے آفس میں آنے کا پیغام دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے مقدمات کی سماعت جلد از جلد ہونے اور بعض متفرق درخواستوں و ضمانت کی درخواستوں کو جلد از جلد مقرر کرنے کے حوالے سے بات کر سکیں۔

    وزیراعلیٰ کو چیف جسٹس کے سیکریٹری نے ملاقات کے لیے سیکریٹری آفس میں آنے کی ہدایت دی، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے، میں اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا۔ اس موقع پر عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی عدالت میں موجود تھیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات ممکن نہیں تھی، اسی لیے میں رمضان کے روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور انہیں سلام کیا، مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، بلکہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کرتی ہے، جو ہمارا حق ہےسوا گھنٹہ انتظار کے باوجود چیف جسٹس نے سلام کا جواب تک نہیں دیا، جبکہ شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست بھی سماعت کے لیے نہیں لگی۔

    اسی دوران سہیل آفریدی کی ہائی کورٹ کوریڈور میں ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیاپولیس نے وزیراعلیٰ کی روانگی کی ویڈیو بنانے پر ان کے ساتھ آنے والے شخص سے موبائل چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کروائی ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کے بعد متعلقہ شخص کو موبائل فون واپس کر دیا گیا۔

  • عمران خان کی صحت پر فیصلے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں ،علیمہ خان

    عمران خان کی صحت پر فیصلے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں ،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے بار بار کہا کہ وکلا کو کہیں عدالتوں میں جا کر بیٹھ جائیں میرے کیسز لگوائیں لیکن وکیل کچھ نہیں کر رہے ،

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو دو ٹوک کہتے ہیں کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر فیملی سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں ،ہم پی ٹی آئی کی طرف سے کچھ نہیں ہوتا دیکھ رہے، پارٹی بانی کی صحت سے متعلق آج کے بعد کوئی بات نا کرے ،عمران خان کی صحت پر فیصلے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں ، فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس ہے ، محسن نقوی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق پارٹی اور وہ ایک پیچ پر ہیں میں آج واضح کردوں عمران خان کی صحت کا معاملہ پارٹی کا میڈیٹ نہیں صرف فیملی کا مینڈیٹ ہے ،مارے ساتھ صرف حسین اخونزاہ رابطے میں تھے اور شفاء ہسپتال نام آیا تو حسین آخونزادہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کانفرنس کال میں محسن نقوی سے بات ہوئی ہے،عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی فیصلہ نہیں کر سکتی ،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ لایا ہی اسی لیے گیا ہے کہ وہ عمران خان کے کیسز نہ سنیں ،سہیل آفریدی بات کرنے کے لیے آئے تو جسٹس ڈوگر اٹھ کر بھاگ گئے ،

    دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ہاسپٹل لے جانے سے ثابت ہو چکا کہ ان کا علاج جیل میں ممکن نہیں،اگر اس ہفتے عمران خان اور بشری بی بی کے کیسز نہ سنے گئے تو اگلے ہفتے کیسز براہ راست سپریم کورٹ میں دائر کر دیں گے ،عدالتی عملے کی جانب ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کل جمعرات کے روز عمران خان کے کیسز مقرر ہوں گئے توشہ خان ٹو کیس کی درخواست پر یہ اعتراض لگایا یے کہ وکا لت نامے نہیں دیے جارہے ہم نے اڈیالہ جیل حکام سے دس مرتبہ رابطہ کیا ہے کہ وکلات نامے دستخط کر کے ہمیں دیں۔

  • نجی لیب سے جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ تیار کرنے والا یونٹ پکڑا گیا

    نجی لیب سے جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ تیار کرنے والا یونٹ پکڑا گیا

    راولپنڈی: مری روڈ پر نجی لیب سے جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ تیار کرنے والا یونٹ پکڑا گیا۔

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی نے نجی لیب پر کارروائی کرتے ہوئے دستاویزات، جعلی مہریں اور دیگر سامان ضبط کرلیا،محکمہ صحت کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی درخواست پر نجی لیب کے 3 ملازمین کو گرفتار کرکے لیب کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سامان بھی پولیس نے تحویل میں لے لیا۔

    محکمہ صحت نے بتایا کہ ملزمان کے پاس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، ملزمان 2600 سے زائد ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرچکے ہیں،جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ساڑھے 7 ہزار روپے کا دیا جاتا تھا۔

    اس سے قبل گزشتہ برس بھی لاہور میں عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والوں کو جعلی ویکسین سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔

    پنجاب اب ایک رنگ اور ایک معیار سے پہچانا جائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب

    ترجمان ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ برڈ ورڈ روڈ پر فیڈرل ہیلتھ سینٹر میں تعینات ڈاکٹر شہزاد نسیم، نرسنگ اسسٹنٹ اکرم اور جونیئر کلرک شیراز سمیت دیگر نے جعلی ویکسین سرٹیفکیٹ دینے کے لیے عمرے پر جانے والے ایک شہری سے 20ہزار روپے طلب کیے تھے فیڈرل ہیلتھ سینٹر کے ایک ڈاکٹر سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کی گئی تھی، ویکسین سینٹر پر گردن توڑ بخار کی ویکسین لگائے بغیر سرٹیفکیٹ جاری کیےجا رہے تھے۔

    جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات، خواتین کرکٹ ٹیم کا کوآرڈینیٹر معطل،تحقیقات شروع

  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سلام کیا لیکن جواب نہیں ملا،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سلام کیا لیکن جواب نہیں ملا،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اوپن کورٹ میں چیف جسٹس کو سلام کیا لیکن سوا گھنٹے انتظار کے بعد بھی ایک صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کو جواب نہیں دیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد سے ملاقات نہیں ہو رہی تھی اس لیے اوپن کورٹ میں گئے، چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی، روسٹرم پر گیا اور سلام کیا لیکن جواب نہیں ملا، ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے، سوا گھنٹے انتظار کے بعد بھی چیف جسٹس نے سلام کا جواب نہیں دیا، شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنے کی درخواست بھی جمع کرائی گئی لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے کوریڈور میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کی ویڈیو بنانے والے شخص سے پولیس نے موبائل فون چھین لیا،پولیس نے سہیل آفریدی کے ساتھ موجود شخص سے موبائل فون چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کرائی، ویڈیو ڈیلیٹ کرانے کے بعد متعلقہ شخص کو موبائل فون واپس کر دیا گیا،عدالتی احکامات کے تحت عدالت کے احاطے میں موبائل فوٹیج بنانے پر پابندی ہے۔

  • پنجاب اب ایک رنگ اور ایک معیار سے پہچانا جائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب اب ایک رنگ اور ایک معیار سے پہچانا جائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب بھر میں پہلی مرتبہ انفرااسٹرکچر اور ڈیزائن اسٹینڈرائزیشن کا فیصلہ کرلیا گیا، "ون پنجاب، ون اسٹینڈرڈ، ون ڈیزائن” کے تحت صوبے میں تعمیرات میں یکسانیت اور عالمی معیار کا نفاذ ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے منصوبے کی منظوری دے دی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا، جس میں انفرااسٹرکچر اسٹینڈرڈائزیشن پر بریفنگ دی گئی۔مریم نواز نے کہا ڈسپلن ہی ترقی کا اصل حُسن ہے، پنجاب اب ایک رنگ اور ایک معیار سے پہچانا جائے گا، لاہور سے راجن پور تک ہر گلی، ہر شاہراہ، دیدہ زیب اور ہر ادارہ نظم و ضبط کا شاہکار ہوگا۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ انفرااسٹرکچر اور روڈز کے یکساں ڈیزائن شہر کو جمالیاتی طور پر پرکشش بناتے ہیں، صوبہ بھر میں یکساں روڈ، گرین بیلٹ، سائن بورڈ، فٹ پاتھ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے اسٹینڈرائزڈ ڈیزائن مینول تیار کرنے کا حکم دے دیا۔