Baaghi TV

Blog

  • ہماری ترجیحات  صرف پروٹوکول  یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہماری ترجیحات صرف پروٹوکول یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    وقت نے ثابت کر دیا کہ ہماری ترجیحات عوامی نہیں کیونکہ پچھلے 78 سالوں سے ہم بطور پاکستان ایک لیبارٹری کا کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کبھی ہم الف انار سے آگے نہیں بڑھ سکے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے برسر اقتدار لوگوں کو اپنے پروٹوکول سے عرض ہے اور اگر ہم الف انار سے آگے نکل گئے تو الف سے اللہ پڑھ لیا تو لوگوں کے ذہنوں میں اللہ کی محبت جاگنے لگے گی جو کہ پروٹوکول والوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اس لیے الف انار ہی کافی ہے ۔

    پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈی سی، اے سی اور پرائس کنٹرول والے ادارے بے بس نظر آتے دکھائی دیتے ہیں شائد سسٹم میں خرابیاں ہیں جو ہم دور نہیں کرنا چاہتے پکڑ دھکڑ ایف آئی آر حوالات میں بند کرنا جو حل نہیں مسلئہ کی روح کو سمجھنا ضروری ہے جو ہم کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

    بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار سکڑ رہے ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ لیکن اگر ہمارے ریاستی اور انتظامی رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل معیشت، روزگار اور عوامی فلاح نہیں بلکہ پروٹوکول، نمائشی دورے اور عہدوں کی شان و شوکت بن چکے ہیں۔

    آج بھی کسی سرکاری شخصیت کی آمد کی اطلاع ملے تو سڑکیں بند، ٹریفک معطل اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ معمول کی بات ہے۔ مریض ایمبولینس میں انتظار کرتے رہتے ہیں، طلبہ امتحان کے لیے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وقار کا تقاضا عوام کو تکلیف دینا ہے؟ یا اصل وقار عوام کی سہولت اور خدمت میں ہے؟

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول ایک انتظامی ضرورت سے بڑھ کر اختیار اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ لمبے لمبے قافلے، درجنوں گاڑیاں، غیر ضروری سکیورٹی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ایک ایسا کلچر بن چکا ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔دوسری طرف ملک کی معیشت کمزور ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔لاکھوں کی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں جن میں ڈاکٹر انجینئر اور پڑھا لکھا طبقہ دیدارِ غیر کی پرواز کرچکا ہے اور باقی انتظار میں ۔چھوٹے کاروبار مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ صنعتوں کی رفتار سست ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی اولین ترجیح معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور عوامی ریلیف ہونی چاہیے، لیکن عملی طور پر زیادہ توجہ نمائشی سرگرمیوں اور رسمی تقریبات پر دی جا رہی ہیں۔

    یہ پروٹوکول کلچر صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے میں بھی سرائیت کر چکا ہے۔ عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خود کو عام شہری سے مختلف اور برتر سمجھنے لگے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم اور احساسِ محرومی کو بڑھا دیا ہے۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ قانون اور سہولیات سب کے لیے برابر نہیں تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اعلیٰ حکام سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے آتے جاتے ہیں، اور ریاستی وسائل کا ہر ممکن بچاؤ کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کارکردگی کو اہمیت دی جاتی ہے، نمود و نمائش کو نہیں۔جب کہ اسلام بھی اس منع کرتا ہے ۔

    پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے جب کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ غیر ضروری پروٹوکول اور نمائشی اخراجات کو کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا عہدہ اختیار نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری ہے۔مگر یہ اب تک ممکن نہیں ہوسکا بہرحال امید قوی ہے اتنا انتظار مزید کرنے سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے خاص طور پر ضلعی اور مقامی سطح پر بھی اس سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوامی مسائل—ٹوٹے ہوئے روڈ، سیوریج کے مسائل، پینے کے پانی کی کمی، سرکاری اداروں کی کارکردگی—ان پر توجہ دینے کے بجائے اگر سارا زور استقبال، پروٹوکول اور رسمی سرگرمیوں پر ہو تو عوام کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ دونوں مل کر ایک نئی سوچ کو اپنائیں۔ سادگی، خدمت اور کارکردگی کو عزت دی جائے ووٹ والی بات الگ ہے جبکہ نمود و نمائش اور غیر ضروری پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کی جائے۔مگر کون کرے گا جو پروٹوکول کے دلدادہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی طاقت لمبے قافلوں یا بند سڑکوں میں نہیں، بلکہ خوشحال عوام، مضبوط معیشت اور برابر کے نظام میں ہوتی ہے۔جب حکمرانی کا مرکز عوام بن جائیں گے تو ترقی خود راستہ بنا لے گی۔ پہلے قوم بننا ضروری ہے ، آخر کب تک امید کا دامن تھامے رکھو گے ؟

  • اوکاڑہ، مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کیلیے ضلعی انتظامیہ اور گراں فروش عناصر آمنے سامنے

    اوکاڑہ، مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کیلیے ضلعی انتظامیہ اور گراں فروش عناصر آمنے سامنے

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی اور گرانفروشی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور گراں فروش عناصر آمنے سامنے آ گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی ریلیف مشن کے تحت ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر ضلع بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کے مطابق رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلع بھر میں خصوصی چیکنگ مہم شروع کی گئی، جس کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 4679 انسپکشنز کی گئیں جن میں متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
    ضلعی انتظامیہ کے مطابق مقررہ نرخوں سے زائد قیمتوں پر اشیائے خورونوش فروخت کرنے، سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے پر 8 مقدمات درج کروائے گئے۔ اس کے علاوہ 22 گرانفروش دکانداروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 14 دکانیں سیل کر دی گئیں۔
    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو مجموعی طور پر 11 لاکھ 72 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور گراں فروش عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
    انہوں نے واضح ہدایت کی کہ تمام دکاندار اپنی دکانوں پر سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور اشیائے ضروریہ مقررہ قیمتوں پر فروخت کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح رمضان المبارک کے دوران عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
    دوسری جانب شہری حلقوں نے انتظامیہ کی کارروائیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بڑے ہول سیلرز اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار عناصر کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فیلڈ میں مانیٹرنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ گرانفروشی کی شکایات متعلقہ حکام کو فوری طور پر رپورٹ کریں تاکہ فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

  • 
دوحہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ملاقات

    
دوحہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر کی ملاقات

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے دو روزہ دورۂ دوحہ کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
    ‎سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے برادرانہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ امیر قطر نے اقتصادی شراکت داری کو اعلیٰ اسٹریٹجک سطح تک لے جانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی، جس میں ایران اور افغانستان کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل ناگزیر ہیں۔ اعلامیے کے مطابق اہم علاقائی امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران امیر قطر نے وزیراعظم کی دعوت قبول کرتے ہوئے رواں سال پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
    ‎یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ روز دو روزہ سرکاری دورے پر دوحہ پہنچے تھے، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

  • 
جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات، آنکھ کے علاج سے متعلق گفتگو

    
جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات، آنکھ کے علاج سے متعلق گفتگو

    ‎پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کرادی گئی، جو جیل مینوئل کے تحت معمول کے مطابق منگل کے روز منعقد ہوئی۔
    ‎جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی۔ اس سے قبل بشریٰ بی بی نے جیل آمد پر اپنی فیملی کے افراد سے بھی ملاقات کی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے عمران خان کی متاثرہ آنکھ کی صحت اور گزشتہ روز ہونے والے طبی پروسیجر سے متعلق تفصیلات دریافت کیں۔ عمران خان کا حال ہی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آنکھوں کا دوسرا طبی معائنہ بھی کیا گیا تھا جہاں انہیں انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔
    ‎اس سے پہلے اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کی ان کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کرائی گئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کرنے والوں میں ان کی بھابی اور بھتیجا شامل تھے، جبکہ گفتگو میں خاندانی معاملات اور عمران خان کے علاج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎جیل حکام کے مطابق تمام ملاقاتیں مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کرائی گئیں۔

  • 
ہم اب بھی ٹورنامنٹ میں ہیں، فوکس اگلا میچ جیتنے پر ہے، شاہین آفریدی


    
ہم اب بھی ٹورنامنٹ میں ہیں، فوکس اگلا میچ جیتنے پر ہے، شاہین آفریدی


    ‎قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ ٹیم ابھی بھی ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوئی اور پوری توجہ اگلا میچ جیتنے پر مرکوز ہے، جبکہ دیگر ٹیموں کے نتائج بھی صورتحال پر اثر انداز ہوں گے۔
    ‎پالیکیلے میں انگلینڈ کے خلاف میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیم کی نظریں اپنی کارکردگی پر ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم اپنے آئندہ میچز میں کیا نتائج حاصل کرتی ہے۔
    ‎شاہین آفریدی نے انگلینڈ کے بیٹر ہیری بروک کی بیٹنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کی بہترین اننگز کھیلی اور مکمل کرکٹنگ شاٹس کھیلتے ہوئے میچ کا رخ بدل دیا، اس کارکردگی کا کریڈٹ انہیں ہی جاتا ہے۔
    ‎میچ میں اپنی بولنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ ان کی توجہ ہمیشہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر رہتی ہے۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 30 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایک مرحلے پر ٹیم 180 رنز تک پہنچنے کی پوزیشن میں تھی، تاہم اہم شراکت داریوں کی کمی کے باعث بڑا اسکور بنانے میں کامیابی نہ مل سکی۔

  • 
ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی سیمی فائنل امیدیں نیوزی لینڈ کے نتائج سے مشروط


    
ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی سیمی فائنل امیدیں نیوزی لینڈ کے نتائج سے مشروط


    ‎ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی اب دیگر ٹیموں کے نتائج، خاص طور پر نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے جڑ گئی ہے۔
    ‎پاکستان کا ٹورنامنٹ میں پہلا میچ بارش کے باعث نیوزی لینڈ کے خلاف بغیر نتیجہ ختم ہوگیا تھا، جبکہ سپر ایٹ مرحلے میں انگلینڈ قومی کرکٹ ٹیم نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسے 2 وکٹوں سے شکست دے دی، جس کے بعد قومی ٹیم کی پوزیشن مشکل ہوگئی ہے۔
    ‎موجودہ صورتحال میں پاکستان کی سیمی فائنل امیدیں مختلف ممکنہ نتائج پر منحصر ہیں۔ اگر نیوزی لینڈ اپنی باقی دونوں میچز میں سری لنکا قومی کرکٹ ٹیم اور انگلینڈ کے خلاف شکست کھا جاتا ہے تو پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے صرف سری لنکا کے خلاف فتح درکار ہوگی۔
    ‎ایک اور ممکنہ صورتحال یہ ہے کہ اگر نیوزی لینڈ ایک میچ جیتتا اور ایک ہارتا ہے تو پھر پاکستان کو سری لنکا کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی تاکہ نیٹ رن ریٹ بہتر بنایا جا سکے۔
    ‎تاہم اگر نیوزی لینڈ یا سری لنکا میں سے کوئی ایک ٹیم اپنے باقی دونوں میچز جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کا راستہ مکمل طور پر بند ہوجائے گا۔

  • لاہور کے علاقے شادمان میں گھریلو تنازع پر شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل

    لاہور کے علاقے شادمان میں گھریلو تنازع پر شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل

    ‎لاہور کے علاقے شادمان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھریلو جھگڑے کے دوران شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کردیا۔
    ‎پولیس کے مطابق تقریباً 30 سالہ خاتون کی تشدد زدہ لاش گھر سے برآمد ہوئی، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم شوہر کو حراست میں لے لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع کا شاخسانہ بتایا جا رہا ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کر کے مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم سے پوچھ گچھ جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • انگلینڈ کی سنسنی خیز فتح، پاکستان کے سیمی فائنل امکانات خطرے میں

    انگلینڈ کی سنسنی خیز فتح، پاکستان کے سیمی فائنل امکانات خطرے میں

    ‎ٹی 20 ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے میں انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو 2 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرلی، جبکہ پاکستان کے اگلے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات انتہائی محدود ہوگئے ہیں۔
    ‎میچ میں انگلینڈ نے 165 رنز کا ہدف 5 گیندیں باقی رہتے حاصل کیا۔ ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کو ابتدا میں مشکلات کا سامنا رہا، تاہم ہیری بروک کی شاندار بیٹنگ نے میچ کا رخ بدل دیا۔
    ‎ہیری بروک نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے صرف 51 گیندوں پر 100 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جو فتح کی بنیاد ثابت ہوئی۔
    ‎پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ٹیم کو میچ میں واپس لانے کی کوشش کی۔ اسپنر عثمان طارق نے بھی 2 وکٹیں حاصل کیں، لیکن آخری اوورز میں انگلینڈ نے ہدف مکمل کرلیا۔
    ‎اس سے قبل پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 164 رنز بنائے۔ صاحبزادہ فرحان 63 رنز کے ساتھ نمایاں بیٹر رہے، تاہم دیگر بیٹرز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے جس کے باعث ٹیم بڑا اسکور کرنے سے محروم رہی۔
    ‎اس شکست کے بعد پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی اب دیگر ٹیموں کے نتائج سے مشروط ہوگئی ہے، جبکہ انگلینڈ مضبوط پوزیشن کے ساتھ اگلے مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔

  • روجھان کے کچے میں پولیس آپریشن جاری، مزید 2 مطلوب ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

    روجھان کے کچے میں پولیس آپریشن جاری، مزید 2 مطلوب ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

    ‎پنجاب پولیس کی جانب سے روجھان کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن مسلسل جاری ہے، جہاں مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق کچہ عمرانی، سکھانی اور اندھڑ گینگ کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ کارروائی کے دوران ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کیلئے ڈرون کے ذریعے گولہ باری بھی کی گئی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اغواء، قتل اور ڈکیتی سمیت سنگین جرائم میں مطلوب مزید دو ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق دونوں ملزمان کے سروں کی قیمت 60،60 لاکھ روپے مقرر تھی۔
    ‎ضلعی پولیس افسر راجن پور کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی مجموعی تعداد 357 تک پہنچ چکی ہے، جو آپریشن کی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق کارروائیوں کے دوران اب تک ڈاکوؤں کے 41 ٹھکانوں اور بنکرز کو مکمل طور پر تباہ کیا جا چکا ہے، جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔

  • بھکر چیک پوسٹ پر  حملہ،دو اہلکار شہید، چار افراد زخمی

    بھکر چیک پوسٹ پر حملہ،دو اہلکار شہید، چار افراد زخمی

    پنجاب کے ضلع بھکر میں داجل چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور چار زخمی ہوگئے۔

    ڈی پی او شہزاد رفیق اعوان کے مطابق پنجاب کو خیبرپختونخوا سے ملانے والے دریا کے پل پر واقع پنجاب پولیس کی داجل چیک پوسٹ پر افطار کے وقت حملہ ہوا، جب چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں دو اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔شہدا میں فہیم (324/C)،شہباز لنگڑی (ڈراؤن آپریٹر 65/C)زخمی ہونے والوں میں محمد ارشد (312/C)،محمد علی ولد ریاض حسین شاہ (پولیو ورکر)،محمد زبیر ولد محمد فاروق (چمنی محلہ، پولیو ورکر، ضلع بھکر)،محمد حسنین ولد محمد امین (قوم اعوان، سکنہ محمدانی، عمر 30 سال) ہیں،ذرائع کے مطابق زخمیوں میں دو پولیو ورکرز کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ ڈیوٹی پر مامور تھے جب دھماکہ ہوا۔

    واقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور تمام زخمیوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو الرٹ کر دیا ہے۔حملے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ صرف جائے وقوعہ بلکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال اور اس کے گردونواح میں بھی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے اور فضا سوگوار ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہدا کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔ وطنِ عزیز کے امن و استحکام کے لیے دی جانے والی یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔