Baaghi TV

Blog

  • معرکہ ترقی نہ جیتا گیا تو معرکہ حق کا دفاع زیادہ دیرتک نہیں کرسکیں گے،احسن اقبال

    معرکہ ترقی نہ جیتا گیا تو معرکہ حق کا دفاع زیادہ دیرتک نہیں کرسکیں گے،احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن قبال نے کہا ہےکہ امریکا ایران جنگ میں کردار ادا کرنےکی بڑی وجہ بھی معرکہ حق میں کامیابی تھی،پاکستان ہر محاذ پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہا ہے ۔بھارت کا آپریشن سندور بری طرح ناکامی سے دوچار ہوا ۔معرکہ حق میں فوج ،حکومت اور عوام متحد ہو کر کامیابی سے ہمکنار ہو ئے ۔

    لاہور چیمبر میں تقریب سےخطاب میں احسن اقبال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب معرکہ ترقی نہ جیتا گیا تو معرکہ حق کا دفاع بھی زیادہ دیرتک نہیں کرسکیں گے،ہمیں عوامی مسائل حل کرنےکے لیےانتہائی سنجیدگی سےکام کرناہوگا اور ملکی استحکام کے لیے مضبوط معیشت کی ضرورت ہے،وطن پر قربان ہونے کے جذبے نے معرکہ حق جتوایا، پاکستان نے ایک قوم بن کر دشمن کا مقابلہ کیا، وطن کی ترقی وخوشحالی کے جذبے سے ہی معاشی معرکہ سرکیا جاسکتا ہے۔

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ ایک کیپٹن یا میجر کو جب کہا جاتا ہے کہ پوسٹنگ وزیرستان ہو گئی، تو وہ اگلے ہی دن وہاں جا کر ڈیوٹی شروع کرتا ہے، سول آدمی کا دوسرے شہر ٹرانسفر ہو تو وہ گھر سے 5 کلومیٹر دور بھی نہیں جانا چاہتا، مسلح افواج نے کئی گنا بڑےدشمن پرکاری ضرب لگائی، بھارت کے خلاف جیت نے پاکستان کو دنیا میں ایک نئی پہچان دی جب کہ امریکا ایران جنگ میں کرداراداکرنےکی بڑی وجہ بھی معرکہ حق میں کامیابی تھی۔

  • امریکا،ایران بات چیت کا اگلا دوراگلے ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان

    امریکا،ایران بات چیت کا اگلا دوراگلے ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں ایک معتبر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت بھی رپورٹ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بات چیت کا اگلا دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔

    اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات منعقد ہو سکتے ہیں، جہاں امریکی اور ایرانی حکام ایک عارضی مفاہمتی معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔ اس عمل میں ثالث ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دستاویز پر کام بھی جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق 14 نکات پر مشتمل ایک مفاہمتی یادداشت تیار کی جا رہی ہے جس میں خطے میں کشیدگی میں کمی، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں صورتحال کی بہتری اور بحری راستوں کی سیکیورٹی جیسے اہم امور شامل ہوں گے۔ مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور سمندری تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا بتایا گیا ہے۔

  • حکومت اپنی نااہلی ،ناکام معاشی پالیسیوں کی سزا غریب عوام کو دے رہی ،اسد قیصر

    حکومت اپنی نااہلی ،ناکام معاشی پالیسیوں کی سزا غریب عوام کو دے رہی ،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود شہباز شریف کی ناکام حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی قابلِ مذمت اور عوام دشمن اقدام ہے۔

    اپنے ایک بیان میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافہ کرکے اسے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ حکومت اپنی نااہلی اور ناکام معاشی پالیسیوں کی سزا غریب عوام کو دے رہی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایک طرف سی این جی بند ہے، دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ ایل پی جی سلنڈر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ عوام مہنگائی کے اس طوفان میں شدید پریشانی کا شکار ہیں اور یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں۔

  • معرکہ حق،مقبوضہ جموں کشمیر میں پوسٹرز چسپاں ، پاک فوج کو خراجِ تحسین

    معرکہ حق،مقبوضہ جموں کشمیر میں پوسٹرز چسپاں ، پاک فوج کو خراجِ تحسین

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹرز چسپاں کئے گئے ہیں جن میں آپریشن بنیان المرصوص کو ایک سال مکمل ہونے پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کے قومی پرچم کی تصاویر والے پوسٹرز مختلف علاقوں میں لگائے گئے جن میں یہ پیغام درج تھا کہ ”بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ ختم کرے“۔پوسٹروں میں کشمیریوں کی پاکستان سے والہانہ محبت اور اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ کشمیر پاکستان کا ناقابلِ تنسیخِ حصّہ ہے۔پوسٹروں میں لکھا تھا کہ ہم فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ان کی جرات ، قیادت اور تنازعہ کشمیر پر ان کے واضح اور مضبوط موقف پر سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کو یاد دلاتے ہیں کہ ہمیں بھارتی قبضے اور جبر سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ہم پاکستان کے ساتھ بے پناہ محبت کرتے ہیں اور کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔پوسٹروں میں کشمیر کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر شاہ ہمدان اور شہداء کی سرزمین ہے، اور دوقومی نظریہ برصغیر پاک و ہند کی ایک تاریخی حقیقت ہے۔

    اس سے قبل کشمیریوں کی طرف سے گزشتہ سال مئی کی یاد میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کی گئیں جب پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے بھارت کو فوری اور منہ توڑ جواب دیا تھا۔ اپنے پیغامات میں کشمیریوں نے اس بات پر زور دیا کہ معرکہ حق کے بعد تنازعہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملی۔

  • گوجرخان،ایڈمنسٹریٹر خضر ظہور اور لیگی رہنماؤں کی قیادت میں معرکہ حق ریلی

    گوجرخان،ایڈمنسٹریٹر خضر ظہور اور لیگی رہنماؤں کی قیادت میں معرکہ حق ریلی

    دفاعِ وطن کے ضامنوں پر آنچ نہیں آنے دیں گے، پوری قوم اپنے جانثاروں کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور گورائیہ
    پاک فوج اور عوام کا رشتہ اٹوٹ ہے، معرکہ حق کے غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، وطن کے دشمنوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ثاقب علی بیگ

    گوجرخان (قمر شہزاد) معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے اور افواجِ پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہونے کا عہد کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی گوجرخان سے ایک عظیم الشان یکجہتی ریلی ایڈمنسٹریٹر گوجر خان خضر ظہور گورائیہ کی قیادت میں حیات سر روڈ چوک تک نکالی گئی۔ ریلی میں سی او بلدیہ، بلدیہ انسپکٹرز، بلدیہ اہلکاروں، پیرا فورس، پولیس تھانہ گوجرخان، تاجروں، صحافی برادری اور شہریوں سکول کے بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ گوجرخان کے عوام اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ایڈمنسٹریٹر خضر ظہور گورائیہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا افواجِ پاکستان ہماری بقا کی ضامن اور ہماری غیرت کی علامت ہیں۔ معرکہ حق کا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب بھی وطنِ عزیز پر کوئی آنچ آئی، پاک فوج کے جوانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر اس مٹی کی لاج رکھی۔ آج کی یہ ریلی ان مفاد پرست ٹولوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہم اپنی فوج کے وقار پر پہرہ دیتے رہیں گے کیونکہ یہ وردی صرف لباس نہیں، ہماری آزادی کی ڈھال ہے۔

    معروف مسلم لیگ ن کے راہنما ثاقب علی بیگ ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا تاریخ گواہ ہے کہ جب سرحدیں پکارتی ہیں تو پاک فوج کے غازی لبیک کہتے ہیں۔ معرکہ حق محض ایک واقعہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان وہ لکیر ہے جس نے دوست اور دشمن کی پہچان کرا دی۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنا ہم جانتے ہیں۔ پاک فوج سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اور ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ریاست کے ستونوں سے ٹکرانے والے خود پاش پاش ہو جائیں گے۔ ہماری رگوں میں دوڑتا خون بھی اس مٹی اور اس کے محافظوں پر قربان ہے۔

    ریلی کے اختتام پر شرکاء نے پاک فوج کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور حیات سر چوک پر پاکستان کے دفاع کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا حلف اٹھایا۔

  • پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان انسدادِ منشیات تعاون کا معاہدہ طے

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان انسدادِ منشیات تعاون کا معاہدہ طے

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیاء کی روک تھام کے لیے اہم معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔ دونوں ممالک نے منشیات کی غیر قانونی نقل و حرکت اور اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات اور بھرپور تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈھاکا میں بنگلادیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، داخلی سلامتی اور سکیورٹی تعاون کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران سیکرٹری سطح پر جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ انسدادِ منشیات، داخلی سکیورٹی اور دیگر باہمی امور پر رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنگلادیشی حکام کو سیف سٹی منصوبے میں مکمل تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جدید سکیورٹی اور نگرانی کے نظام کے حوالے سے اپنے تجربات بنگلادیش کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دونوں ممالک نے سول آرمڈ فورسز کی ٹریننگ اور داخلی سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر محسن نقوی نے اپنے بنگلادیشی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی کوئٹہ میں شہداء کے اہلخانہ سے ملاقاتیں

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی کوئٹہ میں شہداء کے اہلخانہ سے ملاقاتیں

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)محمد عاطف مجتبیٰ نے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سیکیورٹی صورتحال اور حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے سپنی روڈ، ویسٹرن بائی پاس، جبل نور، ہزارہ ٹاؤن، اختر آباد، شاہوانی ایونیو، کچی بیگ، سریاب روڈ، جناح روڈ، شاہراہ اقبال، میزان چوک، مشن روڈ اور سرکلر روڈ کا معائنہ کیا۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے مختلف مقامات پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں سے ملاقاتیں بھی کیں اور شہر میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔دورے کے دوران میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے شہید افسر انور کاکڑ کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ کو وطن کے لیے عظیم قربانی پیش کرنے پر خراج عقیدت پیش کیا اور میجر انور کاکڑ شہید کے بیٹے سے خصوصی شفقت اور محبت کا اظہار کیا۔اس موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عظیم شہداء قوم کا فخر اور ماتھے کا جھومر ہیں، جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت ملک میں امن قائم ہے اور وطن محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

  • پاکستان کا چین کے جدید HQ-19 میزائل دفاعی نظام کے حصول کی جانب اہم پیش رفت

    پاکستان کا چین کے جدید HQ-19 میزائل دفاعی نظام کے حصول کی جانب اہم پیش رفت

    پاکستان کی جانب سے چین کے جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم HQ-19 کی ممکنہ خریداری کو جنوبی ایشیا کی جدید عسکری تاریخ کے اہم ترین دفاعی معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے اس ممکنہ معاہدے کو خطے میں دفاعی اور ایٹمی توازن تبدیل کرنے والی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو بھارت کی میزائل حکمتِ عملی اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    ڈیفنس سکیورٹی ایشیا کے مطابق HQ-19 سسٹم بیلسٹک میزائلوں، ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیاروں کو فضا کی بلندی پر ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ نظام پاکستان کے دفاعی نیٹ ورک کا حصہ بنتا ہے تو یہ بھارتی میزائل حملوں اور دور مار اسٹرائیک صلاحیت کے خلاف ایک نئی دفاعی تہہ فراہم کرے گا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان صرف HQ-19 تک محدود نہیں بلکہ چین کے J-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور KJ-500 ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول طیاروں کے حصول کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔ ان تمام سسٹمز کو ملا کر پاکستان ایک مربوط “کِل چین” دفاعی ڈھانچہ تشکیل دے سکتا ہے، جس کے ذریعے ریڈار نگرانی، اسٹیلتھ حملے اور میزائل دفاعی صلاحیت کو ایک مرکزی نیٹ ورک کے تحت مربوط کیا جا سکے گا۔جون 2025 میں پاکستان کے حکومتی ذرائع سے منسلک اعلان کے بعد اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ چینی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کے وسیع دفاعی تعاون پروگرام کے تحت HQ-19 سسٹم کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیغام صرف بھارت ہی نہیں بلکہ امریکہ کے لیے بھی ایک واضح جیوپولیٹیکل اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات کی رفتار بھارت اور پاکستان کے درمیان “آپریشن سندور” سے منسلک چار روزہ کشیدگی کے بعد تیز ہوئی، جس دوران بھارت نے براہموس سپرسونک کروز میزائل، SCALP-EG پریسیژن ہتھیاروں اور دیگر لانگ رینج اسٹرائیک سسٹمز کے ذریعے حملے کیے تھے۔ ان کارروائیوں نے مبینہ طور پر پاکستان کے موجودہ فضائی دفاعی نظام، خصوصاً HQ-9B نیٹ ورک، کی بعض کمزوریوں کو نمایاں کیا۔علاقائی دفاعی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستانی اہلکار چین میں پہلے ہی تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان خریداری کے مالیاتی ڈھانچے، تعیناتی کے مقامات اور سسٹم کی مرحلہ وار شمولیت سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اگرچہ مغربی دفاعی اداروں نے ابھی تک 12 ارب ڈالر کے مکمل معاہدے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، تاہم پاکستانی اور چینی دفاعی ذرائع میں مسلسل سامنے آنے والی رپورٹس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ مذاکرات ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ممکنہ طور پر آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر HQ-19 پاکستان میں تعینات ہو جاتا ہے تو اس سے چین کا میزائل دفاعی اور نگرانی کا دائرہ اثر بحرِ ہند کے سیکیورٹی ماحول تک مزید گہرا ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی فضائی دفاعی نظام اور چین کے وسیع علاقائی نگرانی نیٹ ورک کے درمیان زیادہ مربوط تعاون ممکن ہو سکے گا۔

    بھارتی عسکری منصوبہ سازوں کے لیے پاکستان میں چینی ساختہ exo-atmospheric interception نظام کی موجودگی مستقبل میں تیز رفتار جوابی حملوں، گہرائی میں کیے جانے والے پریسیژن اسٹرائیکس اور روایتی جنگ میں برتری کی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ چین اور پاکستان کے درمیان ایک ایسے مربوط اسٹریٹجک ایرو اسپیس شیلڈ کے قیام کی بنیاد بن سکتی ہے، جو جنوبی ایشیا میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فضائی، میزائل اور لانگ رینج اسٹرائیک برتری کو براہِ راست چیلنج کرے گی

  • پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر پٹرول بم ہے، سراج الحق

    پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر پٹرول بم ہے، سراج الحق

    سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ایک بار پھر مہنگائی کے ستائے عوام پر “پٹرول بم” گرا دیا ہے۔

    اپنے بیان میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، ایسے میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر مزید ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور اب وہ مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔سراج الحق نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی تو کم از کم ان کے مسائل میں اضافہ تو نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہر چیز کی قیمت بڑھانے کا سبب بنے گا، جس کے اثرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچیں گے۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

  • گڈز،پبلک ٹرانسپورٹ نے کرائے بڑھا دیئے

    گڈز،پبلک ٹرانسپورٹ نے کرائے بڑھا دیئے

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں ازخود 5 فیصد اضافہ کردیا جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد تک اضافہ کردیا گیا۔

    حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا۔پبلک ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں ازخود 5 فیصد اضافہ کردیا جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی 10 فیصد تک بڑھادیئے گئے، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا اطلاق آج سے کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے تاحال کرایوں میں اضافے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔سیکریٹری آر ٹی اے لاہور رانا محسن کا کہنا ہے کہ کرایوں میں اضافے کیلئے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کرلیا، مشاورتی اجلاس میں سرکاری سطح پر فیصلہ ہوگا کہ کرائے کتنے فیصد بڑھیں گے۔