قوموں کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف واقعات نہیں رہتے بلکہ قومی شعور، اجتماعی حوصلے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی لمحات میں آپریشن بنیان المرصوص کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہ آپریشن صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ اس نے پوری قوم کو یہ احساس دلایا کہ جب وطن کی سلامتی، خودمختاری اور وقار کو خطرہ لاحق ہو تو پاکستان کی مسلح افواج فولاد کی دیوار بن کر سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آپریشن قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال قربانیوں کی روشن علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
“بنیان المرصوص” عربی زبان کا ایک بامعنی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار”۔ اس نام میں خود ایک پیغام پوشیدہ ہے کہ جب دشمن وطنِ عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے تو پوری قوم اور اس کے محافظ ایک ایسی متحد قوت بن جاتے ہیں جسے کمزور کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ نام ہمارے اجتماعی اتحاد، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔
پاکستان کی سرزمین کو قدرت نے جغرافیائی اہمیت، تہذیبی گہرائی اور غیر معمولی وسائل سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے مختلف اوقات میں دشمن قوتوں نے اس کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ کبھی سرحدوں پر جارحیت ہوئی، کبھی اندرونی انتشار کو ہوا دی گئی، اور کبھی دہشت گردی کے ذریعے قومی زندگی کو مفلوج کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ ان نازک حالات میں پاک فوج نے ہمیشہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حکمت، بصیرت، قربانی اور عوامی اعتماد سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔
آپریشن بنیان المرصوص بھی ایسے ہی ایک مرحلے میں سامنے آیا جب دشمن عناصر ملک کے امن کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ حالات نہایت حساس تھے۔ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ خوف، انتشار اور بے یقینی کے ذریعے پاکستان کے قومی حوصلے کو توڑا جا سکتا ہے۔ مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ پاکستانی قوم کے دل میں وطن کی محبت اور اس کے محافظوں کے لیے اعتماد غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔ چنانچہ پاک فوج نے منظم حکمتِ عملی، بروقت منصوبہ بندی اور جدید عسکری مہارت کے ساتھ ایسی کارروائی کی جس نے دشمن کے منصوبے خاک میں ملا دیے۔
اس آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی صرف عسکری برتری نہیں بلکہ اس کی باریک منصوبہ بندی تھی۔ پاک فوج نے دشمن کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور حکمتِ عملی کا گہرا تجزیہ کیا۔ انٹیلی جنس اداروں کی بروقت معلومات، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مضبوط نظام اور زمینی حقائق سے مکمل آگاہی نے کارروائی کو انتہائی مؤثر بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا جبکہ قومی مفادات کا بھرپور تحفظ ممکن ہوا۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی افواج جدید جنگی تقاضوں، پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ذمہ داری کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں۔
پاک فوج کی تاریخ کامیابیوں، قربانیوں اور عزیمت سے بھری ہوئی ہے۔ 1965 کی جنگ میں جب دشمن نے یہ سمجھا کہ پاکستان کو دبایا جا سکتا ہے تو پاکستانی سپاہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ 1971 کے کٹھن حالات، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ، قبائلی علاقوں میں امن کے قیام اور داخلی سلامتی کے لیے کیے گئے بے شمار آپریشنز اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ پاکستان کی فوج نے ہر دور میں قوم کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کارروائیاں اسی تسلسل کی روشن مثالیں ہیں جنہوں نے ملک میں امن کی نئی بنیاد رکھی۔
آپریشن بنیان المرصوص کی ایک اہم جہت یہ بھی ہے کہ اس نے قوم کے دلوں میں نئی امید پیدا کی۔ جب کوئی سپاہی سرحد پر جاگتا ہے تو دراصل پورا ملک سکون کی نیند سوتا ہے۔ جب کوئی جوان اپنے خاندان، آرام اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر وطن کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے تو اس کے پیچھے ایک پورے معاشرے کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔ یہی احساس پاکستانی عوام کو اپنی فوج کے ساتھ مضبوط رشتہ عطا کرتا ہے۔ یہ رشتہ صرف ادارے اور عوام کا نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مشترکہ ذمہ داری کا رشتہ ہے۔
اس آپریشن نے نوجوان نسل کو بھی ایک واضح پیغام دیا کہ وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک امانت اور ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ قوموں کی اصل طاقت صرف اسلحہ نہیں بلکہ ان کے نوجوانوں کا کردار، ان کی فکر اور ان کا عزم ہوتا ہے۔ جب نوجوان اپنے وطن سے محبت کریں، قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں، اور اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیں تو دشمن کی ہر سازش کمزور پڑ جاتی ہ
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاک فوج کی کامیابیوں کے پیچھے شہداء کا وہ مقدس لہو شامل ہے جس نے اس سرزمین کو تحفظ دیا۔ کتنے ہی جوان ایسے ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کتنی ہی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو قومی پرچم میں لپٹا ہوا دیکھا، کتنی ہی بہنوں اور بچوں نے جدائی کے دکھ سہے۔ مگر ان قربانیوں نے قوم کے سر کو فخر سے بلند کیا۔ شہداء ہمارے قومی وقار کا روشن باب ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی۔
آج جب ہم آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قومی سلامتی صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ امانت ہے۔ استاد اپنے قلم سے، مزدور اپنی محنت سے، صحافی اپنی ذمہ داری سے، اور نوجوان اپنے کردار سے وطن کے استحکام میں حصہ ڈالتے ہیں۔ جب پوری قوم متحد ہو جائے تو پاکستان ناقابلِ تسخیر قوت بن جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپریشن بنیان المرصوص ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ پاک فوج ہمارے قومی وقار، آزادی اور سلامتی کی مضبوط علامت ہے۔ اس کے جوانوں کی جاگتی آنکھوں نے ہمارے خوابوں کو تحفظ دیا ہے۔ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، اپنے شہداء پر ناز ہے اور اپنے وطن سے محبت ہمارا ایمان ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کو مضبوط، باوقار اور روشن مستقبل کی طرف لے جائے گا۔
