Baaghi TV

Blog

  • کراچی بار انتخابات میں مبینہ دھاندلی،سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی قرارداد منظور،اظہار تشویش

    کراچی بار انتخابات میں مبینہ دھاندلی،سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی قرارداد منظور،اظہار تشویش

    سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر اظہارِ تشویش کیا ہے اور دھاندلی کے خلاف متفقہ قراردار منظور کر لی ہے

    سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے خصوصی جنرل باڈی اجلاس میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے اورکئی اہم مطالبات سامنے رکھ دیے گئے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کا خصوصی جنرل باڈی اجلاس صدر محمد حسیب جمالی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کراچی بار کے الیکشن کے امیدوار اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 8 مئی 2026 کو منظور کی گئی قرارداد میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں، دھاندلی اور کرپشن کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وکلا برادری کے جمہوری حق اور شفاف انتخابی عمل کو متاثر کیا گیا، جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ مطالبہ کیا ہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی موجودہ ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور سابق منتخب کمیٹی کو بحال کیا جائے تاکہ ادارے کا نظم و نسق شفاف انداز میں چلایا جا سکے۔ انتخابی دھاندلی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کیے جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے متفقہ طور پر منظور شدہ قرارداد میں آئندہ تمام سالانہ انتخابات کے لیے بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ انتخابی عمل کو شفاف اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ 15 روز کے اندر نئے انتخابات کرانے پر زور دیا گیا ہے۔

    سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے باضابطہ عدالتی انکوائری قائم کرنے، متعلقہ دفاتر کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے اور وکلا کے خلاف جاری کیے گئے شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ وکلا برادری آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی و جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔


  • افغانستان اب بھی دہشتگردی کا سب سے بڑا مرکز قرار

    افغانستان اب بھی دہشتگردی کا سب سے بڑا مرکز قرار

    ایبی گیٹ حملےکے ماسٹر مائنڈ کو پاکستان نےگرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا،

    افغانستان میں طالبان رجیم کے دوران القاعدہ، داعش خراسان اور دیگر عالمی دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر عالمی برادری کے تحفظات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی انسدادِ دہشتگردی رپورٹ 2026 کے مطابق افغانستان اب بھی دہشتگردی کے خطرات کا بڑا مرکز ہے۔ رپورٹ میں ایبی گیٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، جبکہ امریکا نے داعش اور القاعدہ کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور شراکت دار ممالک سے تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق افغان سرزمین آج بھی دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جس کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور اس کا نقصان افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    برطانوی اخبار کی دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ واشنگٹن میں بھارت کی شدید لابنگ کے باوجود اس بارپاکستان کو واضح سفارتی سبقت حاصل ہوئی۔دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ایبی گیٹ حملے کے ملزم شریف اللہ کی امریکا حوالگی ٹرمپ انتظامیہ سے پاکستان کے قریبی تعلقات کا بڑا ٹرننگ پوائنٹ بنی۔اخبار کے مطابق امریکی کانگریس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف عملی تعاون پر پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے حوالے سے برطانوی اخبار کا کہنا ہےکہ واشنگٹن میں بھارت کی شدید لابنگ کے باوجود اس بار پاکستان کو واضح سفارتی سبقت حاصل ہوئی، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کواوول آفس میں براہ راست رسائی ملی۔

    قبل ازیں امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی انخلا پر تاریخی جائزہ شروع ہو گیا۔ ایبی گیٹ حملے سے لے کر افراتفری میں کیے گئے انخلا تک، سب کچھ زیرِ جائزہ آئے گا۔ بائیڈن کے فیصلے نے امریکی وقار اور ڈیٹرنس کو کمزور کیا، جبکہ دنیا نے امریکا کو طیاروں سے لٹکتے لوگوں کے مناظر میں رخصت ہوتے دیکھا۔ یہ مکمل احتساب کا تقاضا کرتا ہے،

  • احد چیمہ کی زیرصدارت اجلاس ، بجٹ میں برآمدات کے فروغ کیلئے مجوزہ سکیم کا جائزہ

    احد چیمہ کی زیرصدارت اجلاس ، بجٹ میں برآمدات کے فروغ کیلئے مجوزہ سکیم کا جائزہ

    اسلام آباد، : وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے برآمدات کے فروغ کی اسکیموں اور پالیسی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد مؤثر اور ٹارگٹڈ مراعات کے ذریعے پاکستان کی برآمدات کو مضبوط بنانا اور ترجیحی شعبوں کی معاونت کرنا تھا۔

    اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، اور سیکرٹری تجارت جواد پال نے شرکت کی۔ بین الاقوامی ماہرین ڈاکٹر اعجاز نبی اور اسٹیفن ڈیرکن نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور برآمدی مسابقت اور اقتصادی پالیسی اصلاحات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔شرکاء نے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کو آئندہ بجٹ کے لیے زیرِ غور برآمدی پالیسی کی تجاویز پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ترجیحی برآمدی شعبوں اور برآمدات میں اضافے، مسابقت میں بہتری، برآمدات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی شرکت بڑھانے، اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے موزوں پالیسی اقدامات کی تشکیل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران مالیاتی تعاون، تجارتی سہولیات اور مخصوص شعبوں کے لیے مراعات سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے مشاہدہ کیا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے صرف ٹیکسوں میں کمی نہیں بلکہ پیداواری عوامل میں بہتری، انفراسٹرکچر، سہولت کاری کے اقدامات اور کاروبار میں آسانی بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔

    وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے ایک پائیدار اور کارکردگی پر مبنی برآمدی ترغیباتی فریم ورک اپنانے کی اہمیت پر زور دیا، جو زیادہ برآمدی حجم، ویلیو ایڈیشن ، برآمدی مصنوعات میں تنوع، اور عالمی سپلائی چینز میں ایس ایم ایز کے مضبوط انضمام کو فروغ دے سکے۔ اجلاس میں برآمدی مراعات کے حوالے سے مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں کارکردگی پر مبنی ریبیٹس، برآمدات میں بتدریج اضافے سے منسلک مراعات، اور برآمدی اہداف کے حصول پر انعامی طریقہ کار کا تعارف شامل ہے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شفافیت، کارکردگی اور طویل مدتی اقتصادی فوائد کو یقینی بنانے کے لیے ترغیباتی اسکیموں کو پیمائش کے قابل نتائج سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مجوزہ اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ حکومت عملی، شفاف اور دور اندیش پالیسی اقدامات کے ذریعے برآمد کنندگان کی مدد اور برآمدی بنیاد پر مبنی اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے

  • بلاول بھٹو جیالا فورس کا  پیپلز پارٹی سے  کوئی تعلق نہیں،مرکزی سیکرٹریٹ

    بلاول بھٹو جیالا فورس کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں،مرکزی سیکرٹریٹ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے ایک اہم اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “بلاول بھٹو جیالا فورس پاکستان پیپلز پارٹی” کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ تنظیم کسی بھی سطح پر منظور شدہ یا الحاق یافتہ ہے۔

    اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نام سے منسوب اس نام نہاد گروپ کی تمام سرگرمیاں، تقرریاں اور نوٹیفکیشنز جعلی اور غیر قانونی ہیں۔پارٹی ترجمان کے مطابق رانا شبیر حسین ٹکہ اور ملک محمد یونس اعوان کی جانب سے جاری کیے گئے تمام عہدے، نامزدگیاں اور نوٹیفکیشنز کو مکمل طور پر غیر مجاز اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نام اور پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی جعلسازی، جھوٹی نمائندگی یا غیر قانونی تنظیمی سرگرمی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔مزید کہا گیا ہے کہ پارٹی نام کے غلط استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ایسی تمام سرگرمیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی نے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔مرکزی سیکریٹریٹ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ بھی اگر کسی نے پارٹی کے نام پر کوئی غیر مجاز سرگرمی کی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ افراد پر عائد ہوگی۔

    یہ اعلامیہ انچارج سینٹرل سیکرٹریٹ سید سبط الحیدر بخاری کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پارٹی کے نام اور تنظیمی ڈھانچے کے غلط استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • “آٹھ صفر” کا معرکہ حق دشمن کبھی فراموش نہیں کر پائے گا ،وزیراعلیٰ پنجاب

    “آٹھ صفر” کا معرکہ حق دشمن کبھی فراموش نہیں کر پائے گا ،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے “معرکہ حق” کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستانی عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اظہارِ تشکر کیا ہے۔

    اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے معرکہ حق کے ہیروز کو سلام عقیدت پیش کیا اور کہا کہ یہ تاریخی کامیابی قوم کے اتحاد، بہادری اور بے مثال قربانیوں کی روشن مثال ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر،ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور ایڈمرل نوید اشرف کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بے باک اور مدبر قیادت نے معرکہ حق میں تاریخی فتح کی بنیاد رکھی، “آٹھ صفر” کا معرکہ حق دشمن کبھی فراموش نہیں کر پائے گا جبکہ پاکستان کی فتح اور بھارت کی شکست کی گواہی دنیا نے دی اور دیتی رہے گی، معرکہ حق نے دشمن پر پاکستان کی ہیبت کا ایسا نشان ثبت کیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،معرکہ حق نے ثابت کردیا کہ پاکستانی قوم امن پسند ہے، لیکن جب وقت آتا ہے تو پوری قوم بنیان مرصوص بن کر دشمن کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔، دنیا نے معرکہ حق میں دیکھا کہ پوری قوم متحد اور یکسو ہو کر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔

  • جعلی حکمرانوں نے مہنگائی کا 78 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ۔اسلم غوری

    جعلی حکمرانوں نے مہنگائی کا 78 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ۔اسلم غوری

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان اسلم غوری نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے “ریکوری ایجنٹ” کا کردار ادا کر رہے ہیں اور عوام کو مہنگائی کے طوفان میں دھکیل دیا گیا ہے۔

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے اپنے بیان میں کہا کہ “جعلی حکمرانوں” نے مہنگائی کا 78 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے اور عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضے حکمرانوں کی “عیاشیوں” اور عوام کے لیے ایک بوجھ بن چکے ہیں،ملک میں جاری معاشی بحران اور مہنگائی میں اضافہ کسی بیرونی دباؤ سے زیادہ حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کشیدگی کی آڑ میں بھی عوام پر مزید مالی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ حکمران “سودا گر” بن چکے ہیں جو عوام کے خون پسینے کی کمائی کو قرضوں کی شکل میں استعمال کر رہے ہیں۔

    ترجمان جے یو آئی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور مہنگائی کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرے گی۔اگر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو ملک میں عوامی ردعمل سامنے آ سکتا ہے، اور قوم کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے گا کیونکہ حکمران اپنی “خرمستیوں” میں مصروف ہیں۔

  • وزیراعظم 23 مئی کو چین کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم 23 مئی کو چین کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 23 مئی کو ایک اہم سرکاری دورے پر چین روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بالخصوص امریکا ایران کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے تناظر میں پاکستان اور چین کی قیادت کے درمیان قریبی رابطہ انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم اس دورے کے دوران شی جن پنگ اور لی چیانگ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے، جو دونوں ممالک کے دیرینہ اور آزمودہ تعلقات کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے میں پاکستان اور چین کے درمیان متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط بھی متوقع ہیں، جن کا تعلق مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سے ہوگا۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وزراء اور اہم سرکاری شخصیات کا وفد بھی ہوگا، جو مختلف اسٹریٹجک اور اقتصادی مذاکرات میں حصہ لے گا۔سفارتی ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

  • 9 مئی کے واقعات ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی پر حملہ تھے، شیری رحمان

    9 مئی کے واقعات ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی پر حملہ تھے، شیری رحمان

    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے نو مئی کے واقعات کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب قرار دے دیا

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی پر حملہ تھے، قوم ایسے عناصر کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،بھٹو کی شہادت پر کارکنوں نے خود کو جلایا، حملہ نہیں کیا، شہید بی بی کی شہادت پر چاروں صوبوں میں کارکنوں کا احتجاج تھا، شہید بی بی کی شہادت پر جلاؤ گھیراؤ ہوا، لیکن ملٹری تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملہ نہیں ہوا،پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا گیا،9 مئی کو فوجی تنصیبات، شہداء کی یادگاروں اور قومی اداروں پر حملے دراصل پاکستان پر حملہ تھے،9 مئی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو قانون اور آئین کے مطابق درست سزائیں دے کر مثال قائم کی گئی،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی انتقام میں قومی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،جو عناصر نوجوانوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکساتے ہیں وہ قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ قوم اپنی افواج، شہداء اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر سازش کو ناکام بنائے گی،معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان نے اپنی قربانیوں اور پیشہ ورانہ مہارت سے دشمن کو واضح پیغام دیا، پاکستان عالمی سطح پر مضبوط اور باوقار ملک بن کر ابھرا ہے، اس میں افواجِ پاکستان کا کلیدی کردار ہے،افواجِ پاکستان ہمارے قومی وقار، سلامتی اور استحکام کی علامت ہیں،

  • اسرائیلی جیل میں ایک سال “جہنم جیسا تجربہ”رہا،فلسطینی صحافی

    اسرائیلی جیل میں ایک سال “جہنم جیسا تجربہ”رہا،فلسطینی صحافی

    فلسطینی صحافی علی السامودی نے ایک سال اسرائیلی جیل میں قید رہنے کے بعد اپنے دل دہلا دینے والے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عرصہ ان کے لیے “حقیقی جہنم” سے کم نہیں تھا۔

    59 سالہ السامودی، جو اب واضح طور پر کمزور اور لاغر دکھائی دیتے ہیں، حال ہی میں اسرائیلی حراست سے رہا ہوئے ہیں۔ ان کے بال سفید اور جسمانی حالت شدید کمزور ہو چکی ہے۔ رہائی کے بعد جب وہ اپنے گھر کی سیڑھیاں احتیاط سے اتر رہے تھے تو ان کے جسم پر جیل کی سختیوں کے واضح اثرات نمایاں تھے۔اپنے انٹرویو میں علی السامودی نے کہا“یہ واقعی ایک جہنم تھا۔ آج کی جیل ہر معنی میں جہنم ہے۔ جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا وہ سزا اور انتقام تھا۔”ان کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو بغیر مقدمہ چلائے “انتظامی حراست” کے تحت رکھا جاتا ہے، جس میں فوجی حکام چھ ماہ تک قید بڑھا سکتے ہیں اور اسے بار بار توسیع دی جا سکتی ہے۔

    سامودی ان 105 فلسطینی صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے اکثریت کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید رکھا گیا۔صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم ے مطابق، اسرائیل 2025 میں صحافیوں کو قید کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے، صرف چین اور میانمار اس سے آگے ہیں۔ اس وقت بھی 33 فلسطینی صحافی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔

    سامودی نے بتایا کہ جیل میں خوراک انتہائی محدود اور غیر انسانی تھی۔ ان کے مطابق ناشتہ میں ایک چمچ لبنہ اور تھوڑی سی جام،دوپہر میں چند چمچ چاول اور کھیرے یا ٹماٹر کے چند ٹکڑے،رات میں دو چمچ حمص، تھوڑا سا طحینہ اور ایک انڈہ دیا جاتا تھا،ہفتے میں صرف چند دن تھوڑی سی مرغی یا گوشت ملتا تھا، قید کے دوران وہ تقریباً 60 کلو وزن کم کر چکے ہیں، جو ان کے جسمانی وزن کا نصف ہے۔

    سامودی کے مطابق قیدیوں کو ہر نقل و حرکت کے دوران مارا پیٹا جاتا تھا۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا “ایک بار وکیل سے ملاقات کے بعد ہمیں زمین پر پھینک دیا گیا اور مارا گیا۔ ایک افسر نے میرا سر زمین پر دبا دیا یہاں تک کہ میں سانس نہیں لے پا رہا تھا۔”ان کے مطابق کتابیں، قلم اور کاغذ تک جیل میں ممنوع تھے۔سامودی نے ایک اور افسوسناک واقعہ بیان کیا جس میں ان کے سیل کے ساتھی 22 سالہ لوئی ترکمان علاج نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئے۔“ہم نے بار بار کہا کہ اسے کلینک لے جائیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اگلی صبح وہ ہمارے سامنے مر گیا۔”

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ سامودی پر فلسطینی تنظیم “اسلامک جہاد” کی مالی معاونت کا شبہ ہے، تاہم سامودی نے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا “یہ سب جھوٹ ہے۔”انہوں نے کہا کہ ان سے اصل میں ان کی صحافتی سرگرمیوں اور رپورٹنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔سامودی کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری “فلسطینی صحافت کو خاموش کرنے کی کوشش” تھی۔رہائی کے باوجود سامودی نے کہا کہ انہیں دوبارہ گرفتاری کا خوف ہے، لیکن وہ صحافت نہیں چھوڑیں گے۔“مجھے معلوم ہے کہ دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے، لیکن صحافت میری زندگی ہے۔ یہ میرا مشن ہے۔”

  • کوئٹہ سے اندرون ملک ٹرین سروس معطل، جعفر ایکسپریس کی روانگی منسوخ

    کوئٹہ سے اندرون ملک ٹرین سروس معطل، جعفر ایکسپریس کی روانگی منسوخ

    کوئٹہ سے ملک کے دیگر شہروں کے لیے ریلوے آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جس کے باعث آج پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس اپنی روانگی نہیں کر سکے گی۔

    ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے اندرون ملک ٹرین سروس کی معطلی ناگزیر وجوہات کی بنا پر کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس صورتحال کے باعث کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد ہی سے واپس بھیج دیا جائے گا۔اسی طرح کوئٹہ سے کراچی چلنے والی بولان میل کی سروس پہلے ہی معطل ہے، جبکہ کوئٹہ سے چمن کے درمیان چلنے والی ٹرین سروس بھی بند ہے۔ٹرین سروس کی بندش کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال معمول پر آنے کے بعد ٹرین آپریشن بحال کر دیا جائے گا۔