Baaghi TV

Blog

  • کوٹگلہ میں فیوچر لیڈرانٹرنیشنل سکول کا شاندار افتتاح

    کوٹگلہ میں فیوچر لیڈرانٹرنیشنل سکول کا شاندار افتتاح

    رکن پنجاب اسمبلی ملک فیر شیر اعوان نے کوٹگلہ میں فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ تعلیم کو بزنس کے طور پر نہ دیکھا جائے ، تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے، کوٹگلہ کے عوام باشعور اور فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کا افتتاح اس کی واضح مثال ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوٹگلہ میں فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب میں مہمانانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی ملک فلک شیر اعوان اور پیر محمود الحسن آستانہ عالیہ کوٹگلہ شریف تھے۔ تقریب میں ملک شوکت ایڈووکیٹ، ملک قاسم اعوان (موگلہ)، منور اعوان، ملک عمیر، سینئر صحافی ملک ارشد کوٹگلہ، باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان ، رفیق پٹواری ، مولانا خضر حیات ، ملک غلام حیدر سمیت معززینِ علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ملک فلک شیر اعوان تقریب مین پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ایم پی اے ملک فلک شیر اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا“ہم نے جب پنجاب کالج کی بنیاد رکھی تو کہا جاتا تھا کہ پہلے دو سال صرف نام پر داخلے ہوں گے، اصل امتحان اس کے بعد آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری محنت ضائع نہیں ہونے دی۔ ادارہ بنا لینا آسان ہے، مگر اسے کامیابی سے چلانا اصل کام ہے۔ والدین کو کیا ڈلیور کرنا ہے، یہی اصل سوال ہے۔ کوٹگلہ کے لوگ باشعور ہیں، تعلیم کو صرف بزنس کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ بچوں کی صلاحیت کے مطابق تعلیم دی جائے۔”انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، سکولوں کی عمارتیں، پینے کا پانی اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔“میں نے کبھی ایم پی اے ہونے کا غرور نہیں کیا، نیک نیتی ہو تو اللہ خود مدد کرتا ہے، یہ میں نے آزما کر دیکھا ہے۔

    ملک شوکت ایڈووکیٹ نے ملک ذوالقرنین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ذوالقرنین نے پہلے بھی بہترین کام کیا ہے، اسی لیے ہمیں امید ہے کہ یہاں بھی معیاری تعلیم فراہم کریں گے۔ استاد کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، استاد علم نہیں بلکہ علم کی پیاس دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی علاقے کی بسمہ علی نے پنڈی بورڈ سے پہلی پوزیشن حاصل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تلہ گنگ آج تعلیم کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔“تعلیم ہمارا بزنس ضرور ہو سکتا ہے، مگر نیت یہ ہے کہ اس کے ثمرات سب تک پہنچیں۔ ایئر مارشل نور خان مرحوم نے تعلیم کی جو بنیاد رکھی، اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ استاد نسل کو قوم بناتا ہے۔”مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پنجاب کالج جیسے اداروں کے ساتھ چلنا ہے تو معیار، نتائج اور تربیت ہر سال ثابت کرنا ہوگی، تاکہ بچوں میں مثبت تبدیلی آئے اور تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی دی جا ئے۔تقریب کے اختتام پر ملک ذوالقرنین نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اہلیان علاقہ کے لیے کیا کہ 25 فروری تک فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی فیس معاف ہو گی ۔

  • جنوبی وزیرستان اپر،دہشتگردوں کا ججز رہائش گاہ پر ڈرون حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

    جنوبی وزیرستان اپر،دہشتگردوں کا ججز رہائش گاہ پر ڈرون حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

    ضلع جنوبی وزیرستان اپر میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کمپاؤنڈ کے اندر قائم ججز کی رہائش گاہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم عمارت اور وہاں کھڑی سرکاری گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق حملہ رات گئے کیا گیا، جس کے دوران ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ واقعے کے بعد ڈی سی کمپاؤنڈ اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں ججز رہائش گاہ کی بیرونی دیواروں اور کھڑکیوں کو نقصان پہنچا جبکہ کمپاؤنڈ میں کھڑی چند گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ خوش قسمتی سے حملے کے وقت رہائش گاہ میں موجود افراد محفوظ رہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ حملے میں ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور حالیہ مہینوں میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے سیکیورٹی اداروں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

  • کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب

    کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب

    کنیرڈ کالج فار ویمن نے شمولیت، ہمدردی اور مشترکہ روحانی اقدار کے عزم کو ایک خصوصی بین المذاہب ہم آہنگی تقریب کے انعقاد کے ذریعے مزید مستحکم کیا۔

    اس تقریب میں لینٹ اور رمضان کے مقدس روزہ دار موسم کی مناسبت سے مسلم اور مسیحی معاون عملے میں نقد تحائف تقسیم کیے گئے۔ یہ تقریب بدھ، 18 فروری 2026 کو صبح 11:30 بجے کنیرڈ کے ہلاڈیا ہال میں منعقد ہوئی، جس میں ڈینز، انتظامی سربراہان اور تمام معاون عملے نے شرکت کی تاکہ اتحاد، روحانی غور و فکر اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔یہ تقریب پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم کی قیادت میں منعقد کی گئی، جن کا وژن باہمی احترام اور تنوع کے احترام پر مبنی اخلاقی قیادت کو فروغ دینا ہے۔ تقریب ایسے موقع پر منعقد ہوئی جب ایش وینزڈے (مسیحی روزوں کے آغاز کا دن) رمضان المبارک کے آغاز سے ایک دن پہلے آیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور بائبل مقدس کی تلاوت سے ہوا، جن میں روزے کو خدا تعالیٰ کی عبادت کے ایک اہم عمل کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم نے مختلف مذاہب کو جوڑنے والی مشترکہ اقدار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مذاہب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور چونکہ ہماری ملازمتیں بھی اسی کی عطا کردہ نعمت ہیں، اس لیے ہمیں اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ایمانداری سے انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روزے کے ذریعے حاصل ہونے والی خود ضبطی، نظم و ضبط اور پاکیزگی کی صفات صرف روزوں کے موسم تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ پورا سال ہماری زندگیوں میں نمایاں رہنی چاہئیں۔

    تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت کالج کے تمام معاون عملے میں نقد تحائف کی تقسیم تھی، جس کے ذریعے ان کی محنت، لگن اور ادارے کے لیے گراں قدر خدمات کو سراہا گیا۔ یہ اقدام لینٹ اور رمضان دونوں کے جذبۂ شکرگزاری، خدمت اور باہمی خیال رکھنے کی عکاسی کرتا ہے۔ فیکلٹی ممبران اور انتظامی قیادت نے اس تقریب کو بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور کالج میں احترام کی ثقافت کو مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

    یہ بین المذاہب ہم آہنگی تقریب کنیرڈ کالج کے اس وسیع تر مشن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ایک ایسی جامع کمیونٹی کی تشکیل ہے جو صرف برداشت یا قبولیت تک محدود نہ ہو بلکہ تنوع کا جشن منائے اور ایسی خواتین قائدین تیار کرے جو معاشرتی ضروریات سے باخبر رہتے ہوئے ان اقدار کو آگے بڑھائیں۔ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے ذریعے کالج مسلسل تنوع، باہمی احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے اپنے کیمپس اور معاشرے میں مضبوط تعلقات قائم کر رہا ہے۔

  • عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا،ٹرمپ

    عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا،ٹرمپ

    امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا۔

    جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ جاری کیا،امریکی عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا ، یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

    امریکی عدالت کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو چاہوں کرسکتا ہوں، ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی، امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے ،مجھے عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، دیگرممالک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی ، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا، عدالت غیر ملکی مفادات کے زیراثر آگئی ہے ، ٹیرف سے متعلق دیگر متبادل طریقے استعمال کیے جائیں گے، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے ،عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائےگا، ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔

    صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکا کو ٹیرف سے حاصل رقم واپس کرنا ہوگی؟ جس پر جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹیرف سے حاصل رقم واپسی پر ابھی قانونی جنگ لڑنا ہوگی ،بھارت کےساتھ تجارتی معاہدے پرکچھ تبدیل نہیں ہوا، تمام معاہدے برقرارہیں،صرف طریقہ کارمختلف ہوگا، ہتر ہوگا ایران مناسب ڈیل کیلئے مذاکرات کرے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی امریکی عدالت کو خبردار کرچکے ہیں کہ ٹیرف غیر قانونی قرار دیے تو اثرات سنگین ہوں گے،امریکا کے لیے ٹیرف ری فنڈ کی رقم ادا کرنا ناممکن ہو گا،ماہرین کے مطابق امریکی حکومت ٹیرف واپس لینے کے بجائے قانون تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔

  • پنجاب میں  بچے پیدا کرنیوالی عمر کی 41 فیصد خواتین خون کی کمی  کا شکار ہیں ، نیوٹریشن انٹرنیشنل

    پنجاب میں بچے پیدا کرنیوالی عمر کی 41 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں ، نیوٹریشن انٹرنیشنل

    پاکستان میں کام کرنے والے کینیڈا کے نجی ادارے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی میں سینمار کا اہتمام کیا گیا ، جس میں نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 نتائج شئیر کئے گئے ، جن کے مطابق صوبہ پنجاب میں 41 فیصد خواتین، جو بچے پیدا کرنے کی عمر میں ہیں، خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ 25 فیصد میں وٹامن اے کی کمی ہے اور 80 فی صد سے زائد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔

    نیوٹریشن انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں 2018 سے نیوٹریشن سروے نہیں ہوا ، اور یہ اعداد و شمار کئی گنا بڑھ سکتے ہیں ۔ شرکا نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت آٹا، کھانے کا تیل، چاول اور نمک میں مائیکرو نیوٹرینٹس شامل کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔سیمینار سے صوبائی پروگرام مینجر نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان داؤد مفتی نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے پاکستان میں جاری پروگرامز کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ لارج سکیل فورٹیفیکش پروگرام کے اغراض و مقاصد پر بات کی۔ ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم، چیئرمین شعبہ فوڈ سائنسز پروفیسرڈاکٹرشناور وسیم علی، ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر عقیل انعام, ممبر فوڈ، پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ڈاکٹر محمد ناصر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ، پنجاب فوڈ اتھارٹی منیر حسین چوپڑا وزارتِ قانون اور محکمہ خوراک کے اراکین، فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی تھے ، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے باوجود پھل اور سبزیاں مارکیٹ میں مہنگے داموں ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی خوراک مثبت سوچ اور متحرک رہنے کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات کو پائیدار غذائی حکمتِ عملیوں کی تشکیل اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری،سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے لئے آگاہی پروگرام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم علی نے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد لوگ آئرن کی کمی کا شکار ہیں،جو لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئرن کی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات اور بڑے پیمانے پر آگاہی فراہم کرنے کے لئے ادارہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آٹے اور خوردنی تیل جیسی بنیادی غذاؤں کی غذائی افزودگی عوامی صحت بالخصوص خواتین اور بچوں کے نتائج کو بہتر بنانے میں نہایت اہم ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ زرعی سائنسدان تحقیق کے ذریعے غذائیت سے بھرپور اجناس کی پیداوار کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں. سیمینار کے اختتام پر اورک اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے اراکین کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے شاندار، معلوماتی سیمینار کے لیے خدمات پیش کیں۔

  • احسن اقبال کی اداکارہ شبنم سے ملاقات

    احسن اقبال کی اداکارہ شبنم سے ملاقات

    بنگلادیش میں موجود وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ماضی کی پاکستانی فلموں کی مقبول ہیروئن شبنم سے ڈھاکا میں خصوصی ملاقات کی۔

    اس موقع پراحسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کا مستقبل نئی نسل کی اُمیدوں، خوابوں اور اُمنگوں سے وابستہ ہے۔لیجنڈری اداکارہ شبنم نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیراحسن اقبال نے ملاقات کے لیے رابطہ کیا، میری طبیعت ناساز تھی،لیکن مجھے اچھا لگا کہ پاکستان سے اہم شخصیت مجھ سے ملنا چاہتی ہے، تو میں پاکستانی ایمبیسی چلی گئی، احسن اقبال سے بہت دلچسپ اور سنجیدہ بات ہوئی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں نے آپ کی بہت فلمیں سینما گھروں میں دیکھی ہیں، بچپن سے آپ کا مداح ہُوں اور بچپن سے آپ کی فلمیں شوق سے دیکھتا ہوں۔

    وفاقی وزیر نے شبنم کی اداکاری کی تعریف کی جس پر شبنم مسکرائیں اور احسن اقبال کا شکریہ ادا کیا،اداکارہ شبنم نے کراچی اور ڈھاکا کے فضائی راستے کھولنے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

  • ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے ،علی امین گنڈا پور

    ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے ،علی امین گنڈا پور

    سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے۔

    اپنے ویڈیو بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ عمران خان کی آنکھ اورصحت کے حوالے سے ہمارے تحفظات بدستور برقرارہیں، جس نے عوام کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کیں، آج اپنی صحت کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے،ہماری حکومت آئی تو ہم نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ دیا اورہرطرح کی بیماری کو اس میں کور کرتے گئے، جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو انہوں نے پورے ملک کے عوام کو صحت کارڈ کی سہولت دی لیکن افسوس ہے آج بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج تک سے ملنےنہیں دیا جا رہا، میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے، اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو میرے خیال میں اس میں انسانیت نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ ہم سب کو اپنے مقصد پر فوکس کرنا چاہیے اور بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے، ہم اکثر مقصد سے ہٹ کر دیگرمسئلوں میں الجھ جاتے ہیں اور اصل مقصد حاصل نہیں کر پاتے،مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نوکری خطرے میں ہے،خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نوکری خطرے میں ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو بیرون ملک یا بنی گالہ منتقل کرنے کی کسی سطح پر کبھی گفتگو نہیں ہوئی۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ممکن ہے سہولتوں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کو اپروچ کیا گیا ہو، مارکیٹ میں یہ پراڈکٹ رکھنے کے لیے ڈیل کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، اب اس پراڈکٹ کے پلے کچھ نہیں رہ گیا، ڈیل کی باتیں کرکے یہ اپنی دکان کھلی رکھنا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نوکری خطرے میں ہے، انہوں نے نوکری بچانے کے لیے رہائی فورس کا اعلان کیا ہے، رہائی فورس غیرآئینی اور غیر قانونی ہے، وفاق کے سوا کوئی فورس بنانا کسی کا استحقاق نہیں۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی تعریف کی ہے، صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی اجتماع میں پاک فوج کی طاقت اور فیلڈ مارشل کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے، وزیراعظم کا دورہ امریکا پاکستان کے حوالے سے بہت اچھا رہا ہے، غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں کمٹمنٹس فلسطینیوں کو بسانے کے لیے ہوئی ہیں، ان شاء اللہ غزہ پھر آباد ہوگا وہاں فلسطینی آباد ہوں گے۔

  • ایل او سی پر بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی

    ایل او سی پر بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نوگام،منڈل سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد پاک بھارت افواج کے درمیان شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آج بھارتی فوج نے بلااشتعال مارٹر گولوں سے فائرنگ کا آغاز کیا، جس کا پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے منڈل سیکٹر میں متعدد بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ کمار ٹاپ پوسٹ کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی جواب کے بعد بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں اور دوسری جانب جانی نقصان کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم بھارتی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    عسکری ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے واضح کیا ہے کہ بھارتی فوج کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں شہری آبادی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    دفاعی مبصرین کے مطابق ایل او سی پر کشیدگی میں حالیہ اضافہ خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عموماً اس وقت سامنے آتے ہیں جب مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہو رہی ہو۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان اشتعال انگیزیوں کا مقصدمقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے توجہ ہٹانا ہے۔

  • 
لاہور میں جائیداد کے تنازع پر بہن اور بہنوئی کے قتل میں ملزم کو دو دوہری موت کی سزا

    
لاہور میں جائیداد کے تنازع پر بہن اور بہنوئی کے قتل میں ملزم کو دو دوہری موت کی سزا

    ‎لاہور کے ایک ایڈیشنل سیشن کورٹ نے آج جائیداد کے تنازع پر اپنی بہن اور بہنوئی کے قتل کے الزام میں ایک شخص کو دو بار موت کی سزا سنائی، ساتھ ہی ایک ملین روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج شعیب انور قریشی نے سنایا۔
    ‎پراسیکیوٹر شبیرا خان کے مطابق ملزم عمران (عرف بھولا) نے جائیداد کے جھگڑے کے بعد فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اس کی بہن اور بہنوئی ہلاک ہو گئے۔ اس دوران عمران کی والدہ بھی فائرنگ میں زخمی ہوئیں۔ مقدمے میں استغاثہ نے 17 گواہوں کے بیانات اور فرانزک شواہد عدالت میں پیش کیے تاکہ ملزم کو سزا دلائی جا سکے۔
    ‎نِشتر کالونی تھانہ میں یہ ڈبل مرڈر کیس 2023 میں درج ہوا تھا۔ عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ جرم کی سنگینی کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ سزا مناسب ہے۔ اب ملزم کو دونوں قتل کے لیے دو دوہری موت کی سزائیں دی گئی ہیں اور ایک ملین روپے کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔