دنیا بھر میں نایاب مگر خطرناک وائرس ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں اب تک مجموعی طور پر 8 کیسز کی تصدیق یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حالیہ کیس سوئٹزرلینڈ میں سامنے آیا، جہاں ایک شخص کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان 8 کیسز میں سے 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 5 افراد میں بیماری کی علامات پائی گئی ہیں۔ہلاکتوں میں شامل افراد میں ایک 69 سالہ شخص شامل ہے جس کا تعلق نیدرلینڈز سے تھا۔ وہ 11 اپریل کو سفر کے دوران جہاز پر انتقال کر گئے۔ ان کی میت اور اہلیہ کو 24 اپریل کو اتارا گیا۔ان کی اہلیہ، جو خود بھی 69 سال کی تھیں، واپسی کے سفر کے دوران بیمار ہوئیں اور بعد ازاں ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ طبی ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ وہ ہنٹا وائرس سے متاثر تھیں۔تیسرا شخص جرمنی کا شہری تھا، جو 2 مئی کو جہاز پر ہی دم توڑ گیا۔
باقی 5 افراد میں مختلف نوعیت کی علامات سامنے آئی ہیں،ایک برطانوی شہری 27 اپریل کو شدید بیمار ہوا، جسے فوری طور پر اسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں وہ انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہے اور حالت تشویشناک مگر مستحکم بتائی جا رہی ہے۔جہاز کے عملے کے دو افراد، جن کا تعلق برطانیہ اور نیدرلینڈز سے ہے، شدید سانس کی علامات میں مبتلا ہیں اور تاحال جہاز پر موجود ہیں۔
ایک اور فرد میں بھی علامات پائی گئی ہیں، جس کی نشاندہی عالمی ادارہ صحت نے کی ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔تازہ کیس میں ایک سوئس شہری، جو جنوبی امریکا سے واپس آیا تھا، علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کیا، جس کے بعد اس میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
طبی ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں یا دیگر کترنے والے جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور بعض کیسز میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً جب یہ سانس کے نظام کو متاثر کرے۔عالمی ادارے صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور مزید کیسز سامنے آنے کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
