Baaghi TV

Blog

  • موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ

    موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل کامیابی سے جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا آغاز کیا جائے گا۔

    انتظامیہ کے مطابق موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا آغاز 20 فروری صبح 10 بجے سے کیا جائے گا،موٹرسائیکل مالکان اپنے اصل کاغذات اور شناختی کارڈ کے ہمراہ شہر بھر میں قائم 13 مختلف مقامات سے ایم ٹیگ حاصل کر سکیں گے، فیصلے کا اطلاق تمام اقسام کی موٹرسائیکلوں پر ہوگا، جن میں عام بائکس، بائکیا سروس سے منسلک موٹرسائیکلیں، ہیوی بائکس، دیگر تمام اقسام کی موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں،بائکیا اور آن لائن ٹیکسی سروس کی رجسٹریشن کا عمل علیحدہ طور پر جاری ہے، ان اقدامات کا بنیادی مقصد شہر میں سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور شہریوں کے سفر کو محفوظ بنانا ہے۔

    شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ایم ٹیگ مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ وفاقی دارالحکومت میں محفوظ اور منظم ٹریفک نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے،اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی، حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا، حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نما ئندہ بھی ساتھ لے جایا جائے حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا،بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتا ل منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں، کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائےحکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی،حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتےغیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گافیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں، قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں، حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

  • امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ویانا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کیا، تقریب کا موضوع تھا ’پائیدار ترقی: عالمی امن اور خوشحالی کے راستے‘، تقریب میں ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں کے سربراہان، مختلف ممالک کے سفارتکاروں، تحقیقی اداروں کے نمائندوں اور ذرائع ابلاغ کے افراد نے شرکت کی۔

    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہےنائب وزیرِاعظم نے امن اور ترقی کے فروغ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، یونائیٹڈ نیشنز انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار آؤٹر سپیس افیئرز کے کردار کو سراہا،

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے،عالمی امن اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام ممالک اور اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان اس مقصد کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • امریکی رکن کانگریس کا مسلمانوں سے متعلق توہین آمیز بیان، دنیا بھر میں شدید ردعمل

    امریکی رکن کانگریس کا مسلمانوں سے متعلق توہین آمیز بیان، دنیا بھر میں شدید ردعمل

    فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن کانگریس رینڈی فائن نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں سے متعلق توہین آمیز تبصرہ کیا ہے-

    رپورٹس کے مطابق انہوں نے ایک آن لائن بحث کے دوران لکھا کہ ‘اگر ہمیں مجبور کیا گیا کہ کتوں اور مسلمانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں تو یہ مشکل فیصلہ نہیں ہوگا’ اس بیان کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

    کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے سخت الفاظ میں کہا کہ ‘فوراً استعفیٰ دیں، آپ نسل پرست ہیں، واشنگٹن میں قائم امریکی مسلمانوں کی بڑی شہری حقوق تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ایوانِ نمائندگان کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیان کی مذمت کرے اور رکن کانگریس سے استعفیٰ لیا جائے، تنظیم نے اسے مسلمانوں کو غیر انسانی قرار دینے کے مترادف اور اسلام مخالف بیانات کے تسلسل کا حصہ قرار دیا۔

    تنظیم کے مطابق مذکورہ رکن کانگریس ماضی میں بھی ‘فلسطینی شناخت’ کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں اور مسلمانوں سے متعلق متنازع مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں، تنظیم نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات نفرت اور امتیازی سلوک کو بڑھا سکتے ہیں۔

    رینڈی فائن نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ‘اسلاموفوبک’ کہلانے کا خوف نہیں وہ اس سے قبل فلوریڈا کی ریاستی مقننہ کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور کانگریس میں ان کے داخلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل رہی ہے۔

    ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر بھی ماضی میں ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکی ہیں تاحال ریپبلکن قیادت نے کسی تادیبی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔

  • بین الاقوامی کرکٹ کے سابق کپتانوں نےعمران  خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے

    بین الاقوامی کرکٹ کے سابق کپتانوں نےعمران خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے

    14 سابق کپتانوں نےعمران خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے ہیں،جن میں بارڈر، چیپلز، گواسکر، کپل ڈویلپمنٹ، اسٹیو وا، ناصر حسین، مائیک ایتھرٹن، کلائیو لائیڈ ،بیلنڈا کلارک آسٹریلوی خواتین کی سابق کپتان شامل ہیں-

    دنیا بھر کے سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق کپتان اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قید اور صحت سے متعلق خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بطور کپتان انہوں نے پاکستان کو 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں تاریخی فتح دلائی، جو مہارت، استقامت، قیادت اور کھیل کے اعلیٰ جذبے کی روشن مثال تھی اور جس نے سرحدوں سے بالاتر ہو کر نسلوں کو متاثر کیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ دستخط کرنے والے سابق کپتانوں میں سے کئی نے عمران خان کے خلاف میدان میں مقابلہ کیا، ان کے ساتھ کرکٹ کھیلی یا ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں، کرشماتی قیادت اور مسابقتی جذبے کو اپنا آئیڈیل بنایا۔ سابق کپتانوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سیاسی اختلافِ رائے سے قطع نظر عمران خان جمہوری طور پر منتخب ہو کر اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوئے۔

    بیان میں عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹس، خصوصاً دورانِ حراست ان کی بینائی میں مبینہ طور پر تشویشناک کمی، اور گزشتہ ڈھائی برس کے دوران قید کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ ہمیں منصفانہ کھیل، عزت اور احترام کی وہ اقدار سکھاتی ہے جو میدان کی حد بندی سے کہیں آگے تک جاتی ہیں، اور عمران خان جیسے عالمی اسپورٹس آئیکون اور سابق قومی رہنما کے ساتھ باوقار اور انسانی سلوک کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور انہیں اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے علاج کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق انسانی اور باعزت حراستی حالات مہیا کیے جائیں، جن میں قریبی اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقات کی سہولت بھی شامل ہو۔ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ انہیں قانونی کارروائیوں تک منصفانہ اور شفاف رسائی دی جائے اور کسی غیر ضروری تاخیر یا رکاوٹ کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

    سابق کپتانوں کا کہنا تھا کہ کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ میدان میں مقابلہ ختم ہونے کے بعد احترام باقی رہتا ہے اور عمران خان نے اپنے کیریئر میں اسی جذبے کی نمائندگی کی۔ یہ اپیل کھیل کے جذبے اور مشترکہ انسانیت کے تحت کی گئی ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قانونی کارروائی پر اثر انداز ہونا نہیں ہے۔

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ اس نے اپنے دور حکومت میں کس قدر بے رحمی کا ارتکاب کیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں حقائق جانے بغیر پاکستانیوں کے عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں،اگر کچھ ہے تو ان کو بتایا جائے جس نے قیوم رپورٹ کو احسان مانی نے کالعدم قرار دیا جس نے میچ فکسرز کو پی سی بی کے دائرے میں واپس آنے دیا-

    ایس پی گواکسر اور کپل دیو جنہوں نے ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کو شکست دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا،ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت خان کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟کیا انہوں نے جیل مینوئل پڑھا ہے؟ اور کیا وہ جانتے ہیں کہ خان کو سلاخوں کے پیچھے کیوں دھکیلا گیا ہے؟اور کیا وہ خان کی بے رحم حکومت سے واقف ہیں جہاں اس کی مدد کرنے والے ہر شخص کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا اور اس کا نشانہ بنایا گیا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو اپنے دائرے میں رہنا چاہیے اورپاکستان کے اندرونی معاملات میں آنے کی ضرورت نہیں۔

  • بی ایل اے کی کارروائیاں  چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ  بن رہی ہیں،امریکا

    بی ایل اے کی کارروائیاں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں،امریکا

    امریکا کے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر جو بکینو (Joe Buccino) نے کہا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں-

    امریکی کرنل جو بکینو نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حالیہ کارروائیوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہ گروہ اب روایتی علیحدگی پسند تنظیم کے بجائے جدید دہشتگردانہ طریقوں پر عمل پیرا ہے بی ایل اے کے ہدف عام شہری، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہیں، جبکہ مقامی عوام کے زیادہ تر مطالبات روزگار، بہتر گورننس اور سیکیورٹی سے متعلق ہیں، سروے اور تحقیقی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ قومی شناخت کے حامی ہیں اور علیحدگی کے خواہاں نہیں،31 جنوری کو بلوچستان میں کیے گئے ہم آہنگ حملوں میں درجنوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    امریکی کرنل نے اپنے تجزیے میں زور دیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں نہ صرف امن اور ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ علاقے میں اقتصادی منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بھی بن رہی ہیں۔

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

  • جام کمال کی زیر صدارت اجلاس، آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال

    جام کمال کی زیر صدارت اجلاس، آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال

    وفاقی حکومت نے کسانوں اور برآمد کنندگان کی عملی معاونت اور زرعی شعبے میں استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے-

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں وفاق اور پنجاب کے اعلیٰ حکام، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان اور سیکریٹری تجارت جواد پال نے شرکت کی۔

    وزیر تجارت نے ہدایت دی کہ کسانوں کو براہِ راست معاونت دی جائے اور مصنوعی قیمتوں میں مداخلت سے گریز کیا جائے اجلاس میں وسطی ایشیا سمیت نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے ہدفی اور محدود مدت فریٹ سہولت پر غور کیا گیا اور برآمد کنندگان کے بڑھتے لاجسٹکس اخراجات کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    بی ٹو بی روابط بڑھانے، برآمدی منڈیوں کے تنوع اور وفاق و پنجاب کے درمیان ڈیٹا پر مبنی مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ کسانوں اور برآمد کنندگان کی عملی معاونت اور زرعی شعبے میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

  • مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    امریکا نے ایران کے ساتھ منگل کو جنیوا میں متوقع اہم مذاکرات سے قبل مشرق وسطیٰ میں فضائی اور بحری وسائل کی بڑی تعیناتی شروع کر دی ہے۔

    سی این این کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کو دباؤ میں رکھنا اور اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوری ضرب لگانے کے متبادل تیار رکھنا ہے، مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں موجود امریکی فضائیہ کے وسائل، بشمول ریفولنگ ٹینکر اور فائٹر جیٹس، مشرق وسطیٰ کے قریب منتقل کیے جا رہے ہیں علاوہ ازیں، امریکا خطے میں فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کر رہا ہے اور بعض فوجی یونٹس کے قیام کے احکامات بڑھا دیے گئے ہیں حالیہ ہفتوں میں درجنوں امریکی کارگو پروازوں کے ذریعے سامان اردن، بحرین اور سعودی عرب پہنچایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں امریکا کی جانب سے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گےامریکی انتظامیہ کو یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایرانی حکومت کو ہٹا دیا گیا تو کون اقتدار سنبھالے گا ممکنہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈز کسی بھی قیادت کے خلا کو پر کر سکتے ہیں، لیکن صورتحال غیر یقینی ہے۔

    سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے خطے میں بحری اور فضائی طاقتیں تعینات کر دی ہیں، جس میں 2 طیارہ بردار بحری بیڑے، ایف-15 اور ایف-35 جیٹس شامل ہیں، تاکہ اگر حملے کی ضرورت پڑی تو وسیع پیمانے پر کارروائی ممکن ہو، ممکنہ اہداف میں اسلامی انقلابی گارڈز کے ہیڈکوارٹر اور دیگر فوجی تنصیبات شامل ہیں۔

    ایرانی فوج نے بھی جنیوا مذاکرات سے پہلے مشقیں بڑھا دی ہیں انقلابی گارڈز نے 3 ایرانی جزیروں کے دفاع کا اعلان کیا، جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ طویل سرحدی تنازع کا حصہ ہیں ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے امریکی حملے کی صورت میں سخت نتائج کی وارننگ دی ہےخطے کے عرب اتحادی اور اسرائیل بھی امریکی کارروائی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جبکہ ایران مذاکرات کے باوجود اپنی فوجی تیاری جاری رکھے ہو ئے ہے۔

  • نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پرانے سول صارفین کیلیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پرانے سولرصارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے –

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس میں اتھارٹی نے شراکت داروں سے تیس روز میں تجاویز بھی مانگی ہیں نیپرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ترامیم کا اطلاق 9 فروری 2026 سے ہوگا۔

    نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ شمسی نیٹ میٹرنگ صارفین متاثر نہیں ہوں گے منسوخ شدہ ضوابط کے تحت جاری کردہ لائسنس، اور معاہدے درست رہیں گے، اور کسی بھی تقسیم شدہ جنریٹر کو معاہدے کی میعاد ختم ہونے تک سابقہ ​​شرح اور طریقہ کار کے تحت بل دیا جائے گا ستقبل کی تجدید اور نئے کنکشن پانچ سالہ نیٹ بلنگ فریم ورک کے تحت آئیں گے، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے منافع کو نمایاں طور پر تبدیل کرے گا۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    نئے شمسی صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ ‘نیٹ بلنگ’ کا نظام آئے گانئے صارفین سے اضافی بجلی کی خریداری کی قیمت 11 روپے فی یونٹ یا نیشنل ایوریج ٹیرف کے مطابق کرنے کی تجویز ہے نئے سولر صارفین کے لیے معاہدے کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے نیپرا نے ان ترامیم پر شراکت داروں سے 30 دن میں تجاویز طلب کی ہیں یہ اقدامات ملک میں سولر پینلز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور گرڈ پر بوجھ کم کرنے کے لیے مجوزہ پالیسی کا حصہ ہیں، جس پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل نیپرا نے گزشتہ نیٹ میٹرنگ پالیسی ختم کر کے نیٹ بلنگ کے حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

    بھارت نے ایران کے مزید 3 جہاز قبضے میں لے لیے

  • سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی  پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کا کبل گرام ضلع شانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی زیر قیادت، مقامی پولیس شانگلہ اور ایلیٹ فورس نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا اور مؤثر جوائنٹ آپریشن کیا آپریشن کبل گرام کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الخوارج (FAK) کے تشکیل شدہ گروہ کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کیا گیا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم قومی منصوبوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے۔

    خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ انتہائی مطلوب دہشت گرد قدرتی غاروں میں پناہ لیے ہوئے تھے، جنہیں مقامی سطح پر سہولت کاری میسر تھی۔ یہ گروہ ماضی میں چینی باشندوں پر ہونے والے VBIED حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں اور شاہراہِ ریشم سے نزدیکی کے باعث یہ سٹرٹیجک روڈ کوریڈور اور چینی منصوبوں کے لیے مستقل خطرہ تھے۔

    اسی کے پیشِ نظر گزشتہ روز سی ٹی ڈی اور ڈسٹرکٹ پولیس نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت آپریشن کا آغاز کیا جب پولیس غاروں میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کی طرف بڑھی تو دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں تین (03) دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ ولد زمان ولی ساکن کبل گرام شانگلہ میں فتنۃ الخوارج کا سرغنہ تھا، جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔

    اسی طرح ایک نامعلوم دہشت گرد جس کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ تیسرے دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ان تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد بقیہ شرپسندوں نے ایک ڈھلوان کے نیچے پناہ لی جہاں اُنہیں براہِ راست نشانہ بنانا مشکل تھا سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت دکھاتے ہوئے جب گرفتاری کے لیے پیش قدمی کی، تو دہشت گردوں کے دیگر ساتھیوں نے آر پی جی RPG اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا تاکہ اپنے ساتھیوں کو فرار کا راستہ فراہم کر سکیں مگر سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی سے اس حملے کو پسپا کر دیا۔

    تاہم فرض کی راہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے پولیس کے تین جوانوں نے اس آپریشن میں جامِ شہادت نوش کیا جسمیں ایل ایچ سی مقبول احمد نمبر 438، ایل ایچ سی فدا حسین اور ایل ایچ سی سعید الرحمان شامل ہیں اور اس کے علاوہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوا جو زیرِ علاج ہے۔

    شہید پولیس جوان

    کبل گرام میں اس منظم نیٹ ورک کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ گروہ خطے کے سٹرٹیجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی فورسز کی نگرانی بدستور جاری ہے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے آپریشنز میں شہید اور زخمی جوانوں کی ہمت کی داد دیتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور ہمیشہ قوم کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔