وسطی ایشیاء کے مسلم اکثریتی ملک قازقستان نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی تعلقات کی بہتری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورۂ قازقستان کے موقع پر سامنے آیا، جہاں انہوں نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور بین الاقوامی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔صدر قاسم جومارت توقایف نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں استحکام، اقتصادی روابط اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ابراہیمی معاہدے دراصل ایسے سفارتی معاہدے ہیں جن کے تحت عرب اور مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لاتے ہیں۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد خطے میں امن کا قیام، تجارتی و اقتصادی روابط کا فروغ اور سکیورٹی تعاون کو بڑھانا ہے۔واضح رہے کہ وسطی ایشیاء کے ممالک، جن میں قازقستان بھی شامل ہے، 1990ء کی دہائی سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ تاہم ابراہیمی معاہدے میں باضابطہ شمولیت کو ایک نئی سفارتی سمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں علاقائی سیاست پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
