بھارت کے معروف میڈیا نیٹ ورک “ون انڈیا” کو مبینہ طور پر ہیک کیے جانے کے بعد اسکرین پر غیر متوقع سیاسی پیغامات نشر ہونے لگے، جس نے سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نیٹ ورک کے لاکھوں فالوورز ہیں اور ہیکنگ کے واقعے نے اسے عارضی طور پر ایک سیاسی بیان بازی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ہیکنگ کی ذمہ داری ایک گروہ نے قبول کی جو خود کو “ٹرُو مسلم افغانز” کہتا ہے۔ اس گروہ نے نشریات کے دوران افغانستان کا پرانا جھنڈا دکھایا اور طالبان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسترد کرتے ہوئے سخت پیغام جاری کیا۔ اس اقدام کو محض سائبر حملہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دور میں تنازعات صرف میدان جنگ یا سڑکوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ایک اہم محاذ بن چکے ہیں۔ اس واقعے میں ایک ٹی وی نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک مخصوص مؤقف کو اجاگر کیا گیا، جو اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی ہیکنگ کارروائیاں نہ صرف میڈیا اداروں کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ سائبر اسپیس اب جیو پولیٹیکل پیغامات پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک ہی واقعے میں نیٹ ورک کی ساکھ متاثر ہوئی، طالبان کے حوالے سے مؤقف پیش کیا گیا اور بھارت کو بھی اس بحث کا حصہ بنا دیا گیا۔
بھارتی ٹی وی نیٹ ورک ہیک، طالبان اور بھارت تعلقات پر پیغام نشر
