چینی سائنس دانوں نے ایک منفرد اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے ڈرونز کو فضا میں ہی چارج کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مائیکروویوز پر مبنی ایک خاص پاور ٹرانسمیشن پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے جو مستقبل میں بغیر پائلٹ طیاروں کی مسلسل پرواز کو ممکن بنا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چین کی شی ڈیان یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا نظام ڈیزائن کیا ہے جسے زمینی گاڑی پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ یہ گاڑی نہ صرف ڈرونز کو لانچ کرے گی بلکہ انہیں فضا میں رہتے ہوئے توانائی فراہم کر کے ان کی پرواز کا دورانیہ بھی بڑھا سکے گی۔
سائنس دانوں کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس نظام کی مدد سے ایک ڈرون کو تقریباً 15 میٹر کی بلندی پر تین گھنٹے سے زائد وقت تک فضا میں برقرار رکھا جا سکا۔ اس دوران گاڑی پر نصب مائیکروویو ایمیٹر نے توانائی کو ڈرون کے نچلے حصے میں موجود اینٹینا سسٹم تک منتقل کیا، اور یہ عمل اس وقت بھی جاری رہا جب دونوں حرکت میں تھے۔
تاہم ماہرین نے اس ٹیکنالوجی میں موجود چیلنجز کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق مائیکروویو ایمیٹر اور ڈرون کے درمیان درست سمت برقرار رکھنا ایک مشکل مرحلہ ہے، جس کے لیے جی پی ایس اور ڈرون کے فلائٹ کنٹرول سسٹمز کے درمیان انتہائی درست ہم آہنگی درکار ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ ابتدائی نتائج کے مطابق بھیجی جانے والی توانائی کا صرف 3 سے 5 فیصد حصہ ہی ڈرون تک پہنچ سکا، جبکہ باقی توانائی ضائع ہو گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام ابھی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
چین کا نیا تجربہ، فضا میں ڈرون چارج کرنے کی ٹیکنالوجی
