Baaghi TV

Blog

  • یاسین ملک کی جان کو شدید خطرہ، عالمی برادری فوری نوٹس لے،مشعال ملک

    یاسین ملک کی جان کو شدید خطرہ، عالمی برادری فوری نوٹس لے،مشعال ملک

    اسلام آباد: حریت رہنمایاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ یاسین ملک کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں اور عالمی برادری فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے۔

    اپنے ایک بیان میں مشعال ملک کا کہنا تھا کہ پرامن جدوجہد کرنے والوں کو سزائیں دینا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں فوری طور پر مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔مشعال ملک نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں اور کشمیری عوام کی آواز سنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل صرف اور صرف سیاسی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری قیادت کی رہائی خطے میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اور عالمی برادری کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

    مشعال ملک نے زور دیا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبانے کے بجائے انہیں ان کا حق خودارادیت دیا جائے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔

  • ریما خان کا بھارتی ایوارڈ شو میں بولڈ لباس پہننے سے انکار ،وجہ بھی بتا دی

    ریما خان کا بھارتی ایوارڈ شو میں بولڈ لباس پہننے سے انکار ،وجہ بھی بتا دی

    لاہور: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ریما خان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایک بھارتی ایوارڈ شو میں شرکت کے دوران بولڈ لباس پہننے سے صاف انکار کر دیا تھا، کیونکہ وہ خود کو اس موقع پر پاکستان کی نمائندہ سمجھ رہی تھیں۔

    ریما خان نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر، ذاتی اصولوں اور شوبز انڈسٹری کے بدلتے رجحانات پر کھل کر گفتگو کی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ اپنے لباس، اندازِ گفتگو اور مجموعی شخصیت کے حوالے سے بہت محتاط رہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ایوارڈ شو میں شرکت کے موقع پر اُن پر دباؤ تھا کہ وہ جدید اور بولڈ لباس کا انتخاب کریں، تاہم انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ ریما خان کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ خود کو ایک پاکستانی فنکار کے طور پر پیش کر رہی تھیں اور اپنے ملک کی ثقافت اور اقدار کا خیال رکھنا ان کی اولین ترجیح تھی۔

    اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ شوبز سے وابستہ افراد کو اپنے کردار، زبان اور رویے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ عوام خاص طور پر نوجوان نسل انہیں فالو کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنکار صرف اداکار نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک مثال بھی ہوتے ہیں۔میڈیا کے موجودہ رجحانات پر تبصرہ کرتے ہوئے ریما خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کل منفی خبروں اور تنازعات کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ مثبت اور تعمیری پہلو اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں امید، مثبت سوچ اور اخلاقی اقدار کو فروغ دے۔

    اپنی گفتگو کے دوران ریما خان نے روحانیت اور زندگی کے فلسفے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر شخص جنت کا خواہاں ہوتا ہے، لیکن بہت کم لوگ اپنی زندگی کو اس مقصد کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ ان کے مطابق حقیقی کامیابی اس بات میں ہے کہ انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اپنے اعمال کے ذریعے مثبت اثر چھوڑے۔اداکارہ نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ عاجزی اور شکر گزاری ہی کامیاب زندگی کا اصل راز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی بہت مختصر ہے اور ہر انسان کے پاس دنیا میں مثبت اور بامعنی کردار ادا کرنے کے لیے محدود وقت ہوتا ہے، اس لیے اسے ضائع کرنے کے بجائے بہتر استعمال کرنا چاہیے۔

  • کرناٹک،امریکی خاتون کی عزت لوٹ لی گئی،مقدمہ درج

    کرناٹک،امریکی خاتون کی عزت لوٹ لی گئی،مقدمہ درج

    بھارت کی ریاست کرناٹک میں امریکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد ہوم اسٹے کے مالک اور ایک ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    خاتون کی شکایت کے مطابق، ملزم وروجیش کمار، جو جھارکھنڈ کا رہائشی ہے اور ہوم اسٹے میں کام کرتا تھا، نے مبینہ طور پر ان کے ساتھ زیادتی کی۔ یہ واقعہ کوڈاگو ضلع کے کُٹّا گاؤں میں پیش آیا۔پولیس کے مطابق، ہوم اسٹے کے مالک پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ اس نے مبینہ طور پر واقعے کو چھپانے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ اس نے تین دن تک وائی فائی سروس بند رکھی، جس کے باعث متاثرہ خاتون کسی سے رابطہ نہ کر سکیں۔بعد ازاں، وائی فائی بحال ہونے پر خاتون نے میسورو جانے کا بہانہ بنا کر وہاں سے روانگی اختیار کی اور امریکی سفارت خانے کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ امریکی حکام نے ای میل کے ذریعے میسورو پولیس سے رابطہ کیا، جس کے بعد باضابطہ طور پر مقدمہ درج کیا گیا۔

    کوڈاگو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے مطابق، کُٹّا پولیس اسٹیشن میں غیر ملکی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کا کیس درج کر لیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے 3 مئی تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • ممبئی،سیاسی ریلی ،ٹریفک جام، خاتون نے وزیرکو کھری کھری سنا دیں

    ممبئی،سیاسی ریلی ،ٹریفک جام، خاتون نے وزیرکو کھری کھری سنا دیں

    ممبئی: ممبئی کے علاقے ورلی میں ایک سیاسی ریلی کے باعث شدید ٹریفک جام کے دوران ایک خاتون نے ریاستی وزیر گیریش مہاجن کا سامنا کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا اور انہیں "یہاں سے چلے جائیں” تک کہہ دیا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مہایوتی اتحاد کے تحت ایک احتجاجی مارچ نکالا جا رہا تھا۔ یہ مارچ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے)، خصوصاً کانگریس اور دیگر جماعتوں کے خلاف منعقد کیا گیا تھا۔ ریلی کا مقصد خواتین کے ریزرویشن بل کی حالیہ ناکامی کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔یہ مارچ شام 5 بجے شروع ہونا تھا، جس میں بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور نعرے بازی کی۔ مارچ کا آغاز جامبھوری میدان سے ہوا اور ڈوم تک جانا تھا۔ تاہم، ریلی کے آغاز میں تاخیر کے باعث پورے علاقے میں شدید ٹریفک جام ہو گیا۔ایک مقامی خاتون، جو اپنے بچے کو اسکول سے لینے جا رہی تھیں، کئی گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسی رہیں۔ شدید غصے میں وہ اپنی گاڑی چھوڑ کر ریلی کے درمیان پہنچ گئیں اور وزیر گیریش مہاجن سے الجھ پڑیں۔

    خاتون نے عوام کو درپیش مشکلات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قریبی خالی میدان موجود ہے، پھر سڑکیں کیوں بند کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مظاہرین کو منتشر ہونے کا مطالبہ کیا اور بلند آواز میں کہا: "یہاں سے نکل جائیں!”اس دوران انہوں نے ممبئی پولیس پر بھی غصہ نکالا۔ جب پولیس اہلکار مداخلت کے لیے آگے بڑھے تو خاتون نے ان سے بھی تلخ کلامی کی اور سینئر افسران سے بات کرنے پر زور دیا۔

    بعد ازاں پولیس نے خاتون کو سڑک کے کنارے لے جا کر ان کا مؤقف سنا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

  • نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، عطا تارڑ

    نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کا کہن اہے کہ بھارت کو معرکہ حق میں منہ کی کھانی پڑی، نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، بھارت نے کوئی بھی مس ایڈونچر کیا تو منہ توڑ جواب دیں گے، پاکستان کا بھارت کو جواب فیصلہ کن ہوگا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا، دہشتگردی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، مکار بھارت کی سوچ کھوکھلی ہے، بھارت اندرونی معاملات کو بیرونی بناکر پیش کرتا ہے، پاکستان دہشتگردی کا شکار اور بھارت دہشتگردی کا پروموٹر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پہلگام واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا کہا تھا، بھارت جھوٹے آپریشن پر کوئی بیانیہ نہیں بناسکا، بھارت بین الاقوامی سطح پر بھی دہشتگردی میں ملوث ہے، بھارت کی ریاستی پالیسی دہشتگردی ہے، پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں، بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بھارت فلمیں بنالیتا ہے مگر کلبھوشن کی گرفتاری پر بری طرح ناکام ہوا، ایک فتنہ الہندوستان ہے، دوسرا کالعدم ٹی ٹی پی ہے، بھارتی دہشتگردی کے ثبوت عالمی سطح پر پیش کیے، دہشتگردوں کو عبرتناک شکست دیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ بھارت کو معرکہ حق میں منہ کی کھانی پڑی، نئے آپریشن سندور کی بات بھارت کی شکست کا اعتراف ہے، بھارت نے کوئی بھی مس ایڈونچر کیا تو منہ توڑ جواب دیں گے، پاکستان کا بھارت کو جواب فیصلہ کن ہوگا، ہم اپنے دفاع کیلئے ہرممکن قدم اٹھائیں گے، حکومت اور قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت آئسولیشن کا شکار ہے، پاکستان کو دنیا بھر میں عزت مل رہی ہے، دنیا میں بھارت غیر مقبول ہوکر رہ گیا، پاکستان امن مشن کو لے کر چل رہا ہے۔

  • ایران کے دشمنوں کی مدد کرنے پر تیل پیداوار کو الوداع کہنا پڑے گا،خلیجی ممالک کو دھمکی

    ایران کے دشمنوں کی مدد کرنے پر تیل پیداوار کو الوداع کہنا پڑے گا،خلیجی ممالک کو دھمکی

    ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے خطے کے جنوبی خلیجی ممالک کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہیں مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار کو “الوداع کہنا ہوگا”۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر کی جانب سے سامنے آیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے رپورٹ کیا کہ کمانڈر نے خبردار کیا کہ ماضی میں بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین ایران کے مخالفین کے لیے استعمال ہونے دی، اور اگر ایسا سلسلہ جاری رہا تو ان کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کی “ٹارگٹ لسٹ” اب صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے آئل فیلڈز اور ریفائنریز بھی شامل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر اور بحرین میں واقع مخصوص توانائی تنصیبات کا بھی حوالہ دیا، تاہم تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

    واضح رہے کہ خلیج کے کئی ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اور ان میں سے بعض اپنے ہاں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے اس نوعیت کی دھمکی خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی علاقائی سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل کی فراہمی کا ایک بڑا مرکز ہے۔

  • ایران کی آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر فائرنگ

    ایران کی آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر فائرنگ

    آبنائے ہرمز میں ایک کشیدہ واقعے کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔

    برطانوی بحری نگرانی ادارے کے مطابق یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔یو کے ایم ٹی او کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کے کپتان نے اطلاع دی کہ ایک ایرانی گن بوٹ، جس کا تعلق آئی آر جی سی سے تھا، نے جہاز کے قریب آ کر بغیر کسی پیشگی رابطے کے فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں جہاز کے برج (برج کنٹرول روم) کو شدید نقصان پہنچا۔ادارے کے مطابق واقعے کے باوجود جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ رہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اس کارروائی کو "قانونی نفاذ” قرار دیا ہے۔ ایرانی افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا ایران کے لیے جہازوں کی آزادانہ آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال جوں کی توں رہے گی اور ایران اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

  • والی بال کی عالمی گورننگ باڈی کا فیصلہ ،انڈیا والی بال فیڈریشن کی منظوری منسوخ

    والی بال کی عالمی گورننگ باڈی کا فیصلہ ،انڈیا والی بال فیڈریشن کی منظوری منسوخ

    والی بال کی عالمی گورننگ باڈی نے انڈیا والی بال فیڈریشن کی منظوری منسوخ کر دی ہے،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق والی بال فیڈریشن آف انڈیا کے خلاف یہ سخت فیصلہ قانونی اور انتظامی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کے معاملات میں شفافیت کی کمی، داخلی تنازعات اور ناقص گورننس اس اقدام کی بنیادی وجوہات ہیں۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب دو سینئر قومی کھلاڑیوں نے نیشنل ٹریننگ کیمپ کو احتجاجاً چھوڑ دیا۔ کھلاڑیوں نے الزام عائد کیا کہ کیمپ میں فراہم کی جانے والی سہولیات غیر معیاری اور غیر سائنسی تھیں، جبکہ ٹیم سلیکشن کے عمل میں بھی مبینہ طور پر سیاست اور اقربا پروری کا عمل دخل تھا۔

    میڈیا کے مطابق عالمی ادارے نے موجودہ اسٹیئرنگ کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک میں والی بال کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ساتھ ہی اسٹیئرنگ کمیٹی کو عبوری طور پر اپنے فرائض جاری رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ہے تاکہ کھیل کا نظام مکمل طور پر معطل نہ ہو۔

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالات

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال، بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالات

    پہلگام میں پیش آنے والے متنازعہ واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا، تاہم اس دوران نہ تو واقعے کی شفاف تحقیقات سامنے آ سکیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی گئی۔ اس صورتحال نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق پہلگام واقعہ کئی حوالوں سے مشکوک تھا، "فالس فلیگ آپریشن”تھا، واقعے کے فوراً بعد بغیر ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک منظم بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو ماضی میں بھی مختلف مواقع پر دیکھا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پلوامہ، اڑی اور چھتیس گڑھ جیسے واقعات کے بعد بھارت کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزام تراشی کی گئی، تاہم بعد ازاں کئی سوالات اور تضادات سامنے آئے جنہوں نے ان دعوؤں کی ساکھ کو متاثر کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

    پہلگام واقعے کے حوالے سے ایک سال گزرنے کے باوجود تحقیقات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہ آنا اور ذمہ داران کا تعین نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملے کو دانستہ طور پر سرد خانے کی نذر کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اگر سیکیورٹی میں واقعی کوتاہی ہوئی تھی تو اس کے ذمہ داروں کا تعین اور احتساب ضروری تھا، جو اب تک نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت بغیر ثبوت کے الزام تراشی سے گریز کرے اور اگر کوئی شواہد ہیں تو انہیں عالمی سطح پر پیش کیا جائے۔خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کے بجائے حقائق اور شفاف تحقیقات کو بنیاد بنایا جائے۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابی سیز فائر میں توسیع اور امن کی نئی امید،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی قیادت کا مثبت کردار عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں رنگ لے آئیں

    ایران امریکہ معاملات آخری مرحلے میں، سیز فائر مستقل امن کی طرف اہم پیش رفت

    تجزیہ شہزاد قریشی
    سیز فائر میں توسیع محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب خطہ شدید کشیدگی کا شکار تھا، پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ خصوصاً عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی حکمتِ عملی، تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جو واقعی قابلِ ستائش ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی حمایت بھی ایک مثبت اور عملی قدم ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب تصادم کے بجائے استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور عالمی ممالک کی مشترکہ کوششیں بھی اس پیش رفت میں شامل رہی ہیں، جنہوں نے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور زمینی حقائق یہی اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی نہ کسی قابلِ قبول حل کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور معمولی نکات پر اتفاق رائے بھی جلد ہو سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ سیز فائر نہ صرف ایک عارضی سکون بلکہ ایک مستقل امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

    بلاشبہ، یہ ایک اجتماعی کامیابی ہے جس میں پاکستان، امریکہ اور دیگر تمام شامل ممالک کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ پیش رفت ایک جامع معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی، جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا۔