ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے خطے کے جنوبی خلیجی ممالک کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہیں مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار کو “الوداع کہنا ہوگا”۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر کی جانب سے سامنے آیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے رپورٹ کیا کہ کمانڈر نے خبردار کیا کہ ماضی میں بعض خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین ایران کے مخالفین کے لیے استعمال ہونے دی، اور اگر ایسا سلسلہ جاری رہا تو ان کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کی “ٹارگٹ لسٹ” اب صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے آئل فیلڈز اور ریفائنریز بھی شامل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر اور بحرین میں واقع مخصوص توانائی تنصیبات کا بھی حوالہ دیا، تاہم تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ خلیج کے کئی ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اور ان میں سے بعض اپنے ہاں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے اس نوعیت کی دھمکی خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی علاقائی سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل کی فراہمی کا ایک بڑا مرکز ہے۔
