پہلگام میں پیش آنے والے متنازعہ واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا، تاہم اس دوران نہ تو واقعے کی شفاف تحقیقات سامنے آ سکیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی گئی۔ اس صورتحال نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق پہلگام واقعہ کئی حوالوں سے مشکوک تھا، "فالس فلیگ آپریشن”تھا، واقعے کے فوراً بعد بغیر ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک منظم بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو ماضی میں بھی مختلف مواقع پر دیکھا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پلوامہ، اڑی اور چھتیس گڑھ جیسے واقعات کے بعد بھارت کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزام تراشی کی گئی، تاہم بعد ازاں کئی سوالات اور تضادات سامنے آئے جنہوں نے ان دعوؤں کی ساکھ کو متاثر کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔
پہلگام واقعے کے حوالے سے ایک سال گزرنے کے باوجود تحقیقات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہ آنا اور ذمہ داران کا تعین نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملے کو دانستہ طور پر سرد خانے کی نذر کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اگر سیکیورٹی میں واقعی کوتاہی ہوئی تھی تو اس کے ذمہ داروں کا تعین اور احتساب ضروری تھا، جو اب تک نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت بغیر ثبوت کے الزام تراشی سے گریز کرے اور اگر کوئی شواہد ہیں تو انہیں عالمی سطح پر پیش کیا جائے۔خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کے بجائے حقائق اور شفاف تحقیقات کو بنیاد بنایا جائے۔
