اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتکاری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا انداز ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بدمعاش رویہ اختیار کیا گیا ہو۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے نرم اور متوازن زبان استعمال کی جاتی ہے، جبکہ دھمکی آمیز بیانات سے معاملات مزید خراب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو تباہ کرنے جیسے بیانات سفارتکاری کے اصولوں کے خلاف ہیں اور اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ دنیا کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس سفارتی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے موجودہ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے ہر ملک متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل ان حالات میں کس سمت جا رہا ہے اور حکومت کو واضح حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں احتجاجی سیاست سے گریز کیا جا رہا ہے کیونکہ فیصلے جذبات کے بجائے حکمت کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ملک پر کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ سب سے آگے ہوں گے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے عالمی سطح پر جمہوریت کی کمزور ہوتی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں نظام حکومت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک بہتر نظام کی تلاش صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
ٹرمپ کی سفارتکاری بدمعاشی لگتی ہے، فضل الرحمان
