Baaghi TV


مصنوعی ذہانت سے عالمی مالیاتی نظام کو خطرہ، آئی ایم ایف میں تشویش

‎واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے حالیہ اجلاس میں جہاں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے معاشی خدشات زیر بحث آئے، وہیں ایک اور اہم موضوع نے عالمی مالیاتی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی، اور وہ ہے مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا اثر۔
‎بی بی سی کے معاشی امور کے تجزیہ کار کے مطابق اجلاس میں شریک کئی ممالک کے نمائندے ایک نئے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کے ممکنہ اثرات پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
‎اس تناظر میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جیورجیوا سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا یہ نئی ٹیکنالوجی بینکنگ نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اور کیا عام صارفین کے بینک اکاؤنٹس بھی اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں گے یا نہیں۔ اس سوال نے اجلاس میں موجود دیگر عالمی مالیاتی رہنماؤں کی تشویش کو مزید واضح کر دیا۔
‎رپورٹس کے مطابق امریکا کے اعلیٰ مالیاتی حکام بھی اس صورتحال پر خاص نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اور مرکزی بینک کے چیئرمین نے وال اسٹریٹ کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا، جس میں ممکنہ خطرات اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں ترقی اور سہولت کا ذریعہ بن رہی ہے، وہیں اس کے غلط استعمال سے مالیاتی نظام، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور ذاتی ڈیٹا کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

More posts