Baaghi TV

Blog

  • سابق سینیٹر مشتاق احمد  کی اسرائیلی حراست سے رہائی ہو گئی،اسحاق ڈار

    سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اسرائیلی حراست سے رہائی ہو گئی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی پر انہیں دلی خوشی ہوئی ہے، جنہیں اسرائیلی قابض افواج نے دیگر انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے ہمراہ پر غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا۔

    اپنے ایک بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ الحمدللہ، مشتاق احمد خان کی رہائی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے یونانی حکام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کریٹ، یونان میں ان کی سہولت کاری کی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ترکیہ کی قیادت اور حکومت کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے مشتاق احمد خان کی استنبول منتقلی اور وہاں سے پاکستان واپسی کے انتظامات میں بھرپور تعاون کیا۔وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ اور ایتھنز میں پاکستانی سفارتخانے کی مؤثر کارروائی کو بھی سراہا، جن کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا۔اسحاق ڈار نے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور غزہ کے محصور عوام کے لیے بھیجی جانے والی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس عمل کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

    انہوں نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

  • باجوڑ،فتنۃ الخوارج کا کرکٹ گراؤنڈ پرکواڈ کاپٹر سے حملہ،تین افراد زخمی

    باجوڑ،فتنۃ الخوارج کا کرکٹ گراؤنڈ پرکواڈ کاپٹر سے حملہ،تین افراد زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں فتنۃ الخوارج کی جانب سے کرکٹ گراؤنڈ کو نشانہ بنایا گیاہے سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے علاقے ماموند میں نام نہاد فتنہ الخوارج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔

    مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ اس وقت کیا گیا جب گراؤنڈ میں کرکٹ میچ جاری تھا اور نوجوان کھیل میں مصروف تھے۔ اچانک ہونے والے اس حملے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ مہینوں کے دوران ماموند اور سلارزئی کے علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال تشویشناک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ اور اپریل کے دوران بھی ان علاقوں میں مارٹر گولے فائر کیے گئے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ماضی میں قیمتی جانی نقصان بھی ہو چکا ہے، جس میں تین خواتین اور چھ بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز شدت پسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فورسز نہ صرف حملہ آوروں بلکہ ان کے ٹھکانوں اور معاون انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔

  • کیڈٹ کالج پشین میں تقسیمِ انعامات کی تقریب، نمایاں کارکردگی پر کیڈٹس کو خراجِ تحسین

    کیڈٹ کالج پشین میں تقسیمِ انعامات کی تقریب، نمایاں کارکردگی پر کیڈٹس کو خراجِ تحسین

    کیڈٹ کالج پشین میں تقسیمِ انعامات کی ایک باوقار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیم، نظم و ضبط اور ہمہ جہت تربیت کے شاندار مظاہر دیکھنے کو ملے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاطف مجتبیٰ (آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ) تھے، جنہوں نے تقریب میں بطور خاص شرکت کی۔

    اس موقع پر کیڈٹس کے والدین، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، پشین کے ڈپٹی کمشنر، مقامی عمائدین اور سول و ملٹری افسران کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی، جس سے تقریب کی اہمیت اور وقار میں مزید اضافہ ہوا۔تقریب کا آغاز کیڈٹس کی جانب سے مہمانِ خصوصی کو شاندار گارڈ آف آنر پیش کرنے سے ہوا، جس نے حاضرین کے دل جیت لیے۔ اس کے بعد کیڈٹس نے مختلف عملی سرگرمیوں، جسمانی تربیت، پریڈ اور تعلیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے کیڈٹ کالج پشین کے اعلیٰ تعلیمی و تربیتی معیار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، قیادت اور حب الوطنی جیسے اوصاف سے آراستہ کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے اداروں کی سرپرستی جاری رکھی جائے گی تاکہ نوجوان نسل کو مثبت اور تعمیری راستہ فراہم کیا جا سکے۔

    تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں، جبکہ والدین اور دیگر شرکاء نے کیڈٹس کی محنت، خود اعتمادی اور اعلیٰ تربیتی معیار کو سراہتے ہوئے اساتذہ کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔آخر میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کیڈٹ کالج پشین جیسے تعلیمی ادارے بلوچستان کی نوجوان نسل کی کردار سازی، ذہنی و جسمانی نشوونما اور قومی جذبے کی آبیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جو مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔

  • 
یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف، ٹرمپ کا بڑا اعلان

    
یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف، ٹرمپ کا بڑا اعلان

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
    ‎صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین طے شدہ تجارتی معاہدے کی مکمل پابندی نہیں کر رہی، جس کے باعث امریکا کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے سے یورپی گاڑیوں پر محصولات میں نمایاں اضافہ نافذ کر دیا جائے گا۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق اگر یورپی کمپنیاں امریکا میں گاڑیاں اور ٹرک تیار کریں تو انہیں کسی قسم کے ٹیرف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکی معیشت اور صنعت کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ امریکا میں اس وقت کئی آٹوموبائل اور ٹرک کے کارخانے زیر تعمیر ہیں، جن میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ریکارڈ سرمایہ کاری ہے اور ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے امریکی کارکنوں کو فائدہ ہوگا۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر جوابی اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

  • 
لوڈ مینجمنٹ ختم، بجلی صورتحال بہتر ہوگئی: اویس لغاری

    
لوڈ مینجمنٹ ختم، بجلی صورتحال بہتر ہوگئی: اویس لغاری

    ‎وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور توانائی کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث محدود وقت کے لیے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی، تاہم اب حالات معمول پر آ چکے ہیں۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہوئے عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لوڈ شیڈنگ کسی انتظامی ناکامی، نظام کی خرابی یا بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
    ‎اویس لغاری کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث گیس کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار پر اثر پڑا۔ تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کیا اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے مجموعی توانائی نظام کو استحکام ملا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر وسائل کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
    ‎وزیر توانائی نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مستقبل میں بھی توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

  • 
مشرق وسطیٰ بحران، روس امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرے گا

    
مشرق وسطیٰ بحران، روس امن کیلئے سفارتی کردار ادا کرے گا

    ‎روس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جنیوا میں روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
    ‎میخائل الیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ روس نہ صرف کشیدگی کم کرنے بلکہ تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ ان کے مطابق صدر پوتن نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ روس اس مقصد کے حصول کے لیے ایران، خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکا کی مذاکراتی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایک متوازن اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق روس کی یہ پیشکش خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ مختلف عالمی طاقتیں اس تنازع کے حل کے لیے مختلف سفارتی راستے تلاش کر رہی ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریقین سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں امن کی امید پیدا ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہوں گی۔

  • 
ایران جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی غذائی بحران کا خدشہ

    
ایران جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی غذائی بحران کا خدشہ

    ‎دنیا کی بڑی کھاد بنانے والی کمپنی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث کھاد اور اس کے اہم اجزا کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یارا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سوین ٹورے ہولسیتر نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی زرعی پیداوار پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ خلیجی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات کے باعث کھاد کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو کھاد کم دستیاب ہو رہی ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎سوین ٹورے ہولسیتر کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہر ہفتے عالمی سطح پر اتنی خوراک کی کمی ہو سکتی ہے جو تقریباً دس ارب افراد کے ایک وقت کے کھانے کے برابر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کھاد کے کم استعمال سے زرعی پیداوار میں کمی آئے گی اور ممالک کے درمیان خوراک کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر غریب ممالک پر پڑے گا، جہاں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موجود ہے۔ ایسے ممالک میں خوراک کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
    ‎یارا کمپنی کے سربراہ نے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس ممکنہ بحران کو سنجیدگی سے لیں اور ایسی پالیسیاں اپنائیں جو عالمی سطح پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

  • 
ایران کی نئی تجاویز امریکا کو ارسال، پاکستان کا اہم سفارتی کردار

    
ایران کی نئی تجاویز امریکا کو ارسال، پاکستان کا اہم سفارتی کردار

    ‎ایران نے جنگ بندی معاہدے سے متعلق نئی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں، جسے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تجاویز جمعرات کے روز مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس عمل میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، جہاں اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی اور رابطوں کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی۔ تاہم ان تجاویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود اس نوعیت کی پیش رفت مثبت اشارہ ہے، جو ممکنہ جنگ بندی کے لیے فریم ورک تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ثالثی کی یہ کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
    ‎سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا کردار اس معاملے میں قابل ذکر ہے، کیونکہ وہ ماضی میں بھی خطے کے اہم تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

  • 
ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، جارحیت پر فوری اور دردناک جواب

    
ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، جارحیت پر فوری اور دردناک جواب

    ‎ایرانی حکام نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نئی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر ماجد موسوی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ماجد موسوی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے نتائج دنیا دیکھ چکی ہے، اور اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو طیارہ بردار جہاز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ان کے بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے بھی خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق ممکنہ جنگ کا مرکز اصفہان کے قریب اور ایران کے مغربی علاقوں میں ہو سکتا ہے۔
    ‎محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ دشمن تہران میں تخریب کاری یا حملوں کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم ایران ایسی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر زمینی حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج دشمن کے بڑی تعداد میں فوجیوں کو قیدی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    ‎انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ اگر اس اہم بحری راستے کی ناکا بندی جاری رہی تو ایران بھرپور ردعمل دے گا، جس کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
تائیوان میں 5.6 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف

    
تائیوان میں 5.6 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف

    ‎تائیوان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.6 ریکارڈ کی گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق زلزلہ محسوس ہوتے ہی شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
    ‎جرمن ریسرچ سینٹر کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 96 کلومیٹر تھی، جس کے باعث اس کے جھٹکے سطح پر نسبتاً کم شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے زلزلوں میں عام طور پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مقامی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
    ‎ماہرین ارضیات کے مطابق تائیوان زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے جہاں زمین کی پلیٹوں کی حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں جدید تعمیرات اور ہنگامی اقدامات کے باعث نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔