مسقط/تہران: ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک غیر ملکی کنٹینر بردار جہاز مقررہ بحری راستے سے انحراف کے باعث گراؤنڈ ہو کر پھنس گیا۔ واقعے کے بعد ایرانی حکام نے بین الاقوامی جہاز رانی کرنے والے تمام بحری جہازوں کو منظور شدہ نیوی گیشن روٹ پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق متعلقہ کنٹینر جہاز نے ایران کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ بحری راہداری استعمال کرنے کے بجائے متبادل راستے سے گزرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ کم گہرے حصے میں جا کر پھنس گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جہاز کو بحفاظت نکالنے کے لیے متعلقہ ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی اور کارگو جہاز جزیرہ لارک کے جنوب میں قائم منظور شدہ بحری گزرگاہ استعمال کریں تاکہ نیوی گیشن کے دوران کسی بھی قسم کے حادثے یا رکاوٹ سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں اور کپتانوں کو خبردار کیا ہے کہ مقررہ راستوں سے ہٹ کر سفر کرنا نہ صرف جہازوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ میں دیگر جہازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ نیوی گیشن کے لیے طے شدہ بحری قوانین اور راستوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیے اس راستے پر پیش آنے والا کوئی بھی واقعہ عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
Blog
-

آبنائے ہرمز میں غیر ملکی کنٹینر جہاز گراؤنڈ، ایران نے مقررہ بحری راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کردی
-

اسرائیل کی ایران کو نئی دھمکی، ضرورت پڑی تو تیسرا حملہ بھی کریں گے
یروشلم: اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اسرائیل ایران پر تیسری مرتبہ بھی فوجی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل ماضی میں بھی ایران کے خلاف دو مرتبہ پیشگی کارروائیاں کر چکا ہے اور اگر مستقبل میں خطرات کا سامنا ہوا تو تیسری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت کسی بھی ایسے اقدام سے دریغ نہیں کرے گی جسے وہ اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، اسی لیے اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں قائم ان علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی جنہیں اسرائیل سکیورٹی زون قرار دیتا ہے۔ ان کے بقول ان علاقوں میں فوج کی تعیناتی غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ اسرائیلی شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان کو ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان تعلقات انتہائی تناؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات، فوجی کارروائیوں اور جوابی اقدامات نے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
تاحال ایران کی جانب سے اسرائیلی وزیر دفاع کے اس تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کے باعث عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ -

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات، 6 جولائی عام تعطیل
ایران کی حکومت نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں ملک بھر میں خصوصی انتظامات کرتے ہوئے 6 جولائی کو عام تعطیل اور 8 جولائی کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت، سوگواروں کی سہولت اور آخری رسومات کے منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں 6 جولائی کی تعطیل کا مقصد مختلف شہروں سے آنے والے لاکھوں سوگواروں کی واپسی کو آسان بنانا اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کو بھی مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ تقریبات پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
کمیٹی کے سیکریٹری علی اکبر پور جمشیدیان کے مطابق 3 جولائی کو دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام، سفارتی شخصیات اور دانشور تہران پہنچیں گے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ 4 جولائی سے عوام کے لیے سوگ کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جبکہ امام خمینی کے مصلے کے دروازے عوامی آخری دیدار کے لیے کھول دیے جائیں گے۔
5 جولائی کو تہران میں مرکزی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ بھی شامل ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس موقع پر لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے اور غیر ملکی وفود بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے۔
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 8 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی عراق لے جایا جائے گا، جہاں نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں تعزیتی تقریبات اور نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے بعد 9 جولائی کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی جولائی کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کریں گے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں دنیا بھر سے سرکاری وفود، مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی، جبکہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ -

چشمہ بیراج میں پکنک کے دوران دو بہنیں دریائے سندھ میں ڈوب کر لاپتہ
پاکستان کے ضلع میانوالی میں چشمہ بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں دو نوجوان بہنیں ڈوب کر لاپتہ ہوگئیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیموں کا آپریشن تاحال جاری ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں بہنیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چشمہ بیراج کے قریب پکنک منانے آئی ہوئی تھیں۔ تفریح کے دوران وہ کسی موقع پر دریائے سندھ کے پانی میں اتر گئیں، جہاں اچانک گہرے پانی میں چلی جانے کے باعث ڈوب گئیں۔ اہل خانہ نے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم تیز بہاؤ اور گہرے پانی کی وجہ سے دونوں کو فوری طور پر باہر نہ نکالا جا سکا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاپتہ لڑکیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ غوطہ خور کشتیوں اور ضروری آلات کی مدد سے دریا کے مختلف حصوں میں مسلسل تلاش کر رہے ہیں تاکہ دونوں لڑکیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والی لڑکیوں کی شناخت 16 سالہ حوا اور 18 سالہ شمائلہ کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں اپنے خاندان کے ساتھ تفریح کی غرض سے چشمہ بیراج آئی تھیں، لیکن خوشیوں بھرا یہ سفر چند لمحوں میں غم میں تبدیل ہو گیا۔
واقعے کے بعد اہل خانہ شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور جائے وقوعہ پر موجود ہیں، جہاں وہ اپنی بیٹیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ مقامی افراد بھی امدادی کارروائیوں میں ریسکیو اہلکاروں سے تعاون کر رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دریا میں پانی کے بہاؤ اور گہرائی کے باعث سرچ آپریشن انتہائی احتیاط سے جاری رکھا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دریاؤں، جھیلوں اور بیراجوں کے قریب تفریح کے دوران خصوصی احتیاط کریں، غیر محفوظ مقامات پر پانی میں داخل ہونے سے گریز کریں اور بچوں و نوجوانوں پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ -

زبان کا صوتی نظام،تحریر : پارس کیانی
ہر زبان کا اپنا صوتی نظام ہوتا ہے، جس میں کچھ مخصوص آوازیں زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور کچھ آوازیں یا تو کم ہوتی ہیں یا موجود ہی نہیں ہوتیں۔ پنجابی زبان میں:
"خ” [voiceless uvular fricative] ہے) کا استعمال اردو یا عربی کے مقابلے میں کم ہے۔
لہٰذا بہت سے پنجابی بولنے والے اس آواز کو ادا کرنے کی عادت نہیں رکھتے یا مشکل محسوس کرتے ہیں۔
جب پنجابی بولنے والے اردو بولتے ہیں، تو ان کی مادری زبان (پنجابی) کا لہجہ اور آوازوں کا اثر ان کی اردو پر بھی آتا ہے۔ اسے لسانیات میں زبان کی بین اللسانی مداخلت (interference) کہا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ "خ” کی جگہ "ہ” یا کبھی "ح” بول دیا جاتا ہے۔جیسے کہ:
خوبصورت → ہوبصورت
خطرہ → ہطرہ
یہ لہجے کا فرق تو ہے، مگر اس کی جڑیں لسانیاتی نظام میں ہیں۔
یہ فرق عام طور پر ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے:
جنھوں نے اردو کو ثانوی زبان کے طور پر سیکھا ہو۔
یا جنھیں "خ” کی صحیح صوتی ادائیگی کی تربیت نہ ملی ہو۔
تعلیم یافتہ پنجابی بولنے والے اگر اردو کو فصاحت کے ساتھ بولنا چاہیں تو وہ اس فرق پر قابو پا لیتے ہیں۔
پنجاب کے دیہی علاقوں میں "خ” کی ادائیگی اکثر "ہ” کے طور پر ہوتی ہے۔
شہری علاقوں میں، خاص طور پر لاہور جیسے شہروں میں، بہت سے لوگ اردو تلفظ کے قریب تر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ فرق محض بولنے کا انداز (لہجہ) ہی نہیں، بلکہ زبان کی ساختی اور صوتی خصوصیات کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اگر کوئی چاہے تو "خ” کی درست ادائیگی سیکھ سکتا ہے، اور اس میں کوئی لسانی رکاوٹ مستقل نہیں ہے۔ -

ایف بی آر اصل ٹیکس ہدف حاصل نہ کر سکا، 1306 ارب روپے کی کمی
اسلام آباد: وفاقی حکومت کے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کیا گیا اصل ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کو مقررہ ہدف کے مقابلے میں ایک ہزار 306 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے حکومتی محصولات پر دباؤ برقرار رہا۔
دستیاب مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے آغاز میں ایف بی آر کے لیے 14 ہزار 131 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام پر ادارہ یہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور مجموعی طور پر مقررہ ہدف سے 1306 ارب روپے کم ٹیکس جمع کیا گیا۔
اگرچہ ایف بی آر اصل ہدف پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کے بعد مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کا ہدف کم کر کے 12 ہزار 957 ارب روپے مقرر کر دیا تھا۔ ایف بی آر نے نظرثانی شدہ اس ہدف کو حاصل کر لیا، جسے حکومت کے لیے ایک اہم مالیاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل ہدف حاصل نہ ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے حوالے سے اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ دوسری جانب نظرثانی شدہ ہدف کی تکمیل سے حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی اہداف پر عمل درآمد میں مدد ملے گی اور آئندہ قسطوں کے حصول کے لیے مثبت اشارہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولی میں پائیدار اضافہ صرف نئے ٹیکس عائد کرنے سے نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری کی روک تھام، دستاویزی معیشت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں مالیاتی استحکام کے لیے ایف بی آر کو ٹیکس نظام میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر مزید توجہ دینا ہوگی تاکہ محصولات میں مستقل اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔ -

اولاد میں فرق رکھنے والے والدین،تحریر :نور فاطمہ
اللہ کی سب سے بڑی نعمت اولاد ہے۔ ہر بچہ والدین کے لیے ایک امانت ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سے گھروں میں "سب برابر ہیں” کہنے کے باوجود عمل میں فرق صاف نظر آتا ہے۔ کوئی بیٹا ہے تو لاڈلا، کوئی بیٹی ہے تو خاموش۔ کوئی بڑا ہے تو سمجھدار، کوئی چھوٹا ہے تو "ابھی بچہ ہے”۔ یہ فرق رشتوں کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔
فرق کیوں پڑتا ہے؟
بیٹا بیٹی کا فرق*: ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بہت سے والدین بیٹے کو "گھر کا وارث” اور بیٹی کو "بوجھ” سمجھتے ہیں۔ بیٹے کی تعلیم، موبائل، آزادی سب کچھ۔ بیٹی پر پہرے۔ نتیجہ یہ کہ بیٹی دل میں ایک خلا لے کر بڑی ہوتی ہے۔
ہونہار اور کمزور بچہ جو بچہ پڑھائی میں تیز ہو اس کی تعریفیں، تحفے، توجہ۔ جو تھوڑا کمزور ہو اسے "ناکام” کا ٹائٹل۔ والدین بھول جاتے ہیں کہ ہر بچے کا دماغ، صلاحیت اور رفتار الگ ہے۔
بڑا اور چھوٹا بڑے بچے سے توقع ہوتی ہے کہ وہ "سمجھوتہ” کرے۔ چھوٹے کو ہر چیز معاف۔ بڑا بچہ اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے کہ مجھ سے ہی سب قربانی کیوں؟
شکل و صورت اور مزاج جو بچہ زیادہ میٹھا بولے یا خوبصورت ہو اسے زیادہ توجہ۔ شرمیلا یا سنجیدہ بچہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔فرق کے نقصانات کیا ہیں؟
فرق رکھنے سے بچے کے اندر حسد، نفرت اور عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں، دوست نہیں رہتے۔ جس بچے کو کم اہمیت ملے وہ یا تو باغی ہو جاتا ہے یا خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔ بڑے ہو کر یہی بچے والدین سے بھی بدظن ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں "آپ نے کبھی ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا”۔گھر کا ماحول ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک گھر میں کئی "خیمے” بن جاتے ہیں۔ والدین بڑھاپے میں روتے ہیں کہ اولاد متحد نہیں، مگر بیج انہوں نے خود بوئے ہوتے ہیں۔
اسلام اور انصاف کا حکم
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو”۔ تحفہ ہو یا محبت، ڈانٹ ہو یا شاباش، پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ اللہ نے ہر بچے کو الگ فطرت دی ہے۔ ہمارا کام موازنہ کرنا نہیں، ہر ایک کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہے۔حل کیا ہے؟
ہر بچے کو الگ پہچان دیں کسی سے دوسرے کا موازنہ نہ کریں۔ "دیکھو تمہارا بھائی کتنا اچھا ہے” جیسے جملے زہر ہیں۔
وقت بانٹیں ہر بچے کے ساتھ روز 10 منٹ اکیلے بیٹھیں۔ اس کی بات سنیں۔ اسے "خاص” محسوس کروائیں۔
ضرورت کے مطابق دیں، محبت برابر رکھیں ہو سکتا ہے ایک کو ٹیوشن کی ضرورت ہو، دوسرے کو کھیل کے جوتے۔ خرچہ الگ، مگر عزت اور توجہ برابر۔
اپنی سوچ بدلیں بیٹا بیٹی، بڑا چھوٹا، گورا کالا سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ فرق صرف ہمارے دل میں ہوتا ہے۔نتیجہ
والدین کا انصاف ہی اولاد کی تربیت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر گھر میں عدل ہوگا تو باہر معاشرہ بھی سنور جائے گا۔ اولاد کو وراثت میں جائیداد نہیں، ایک دوسرے کا بھروسہ دے کر جائیں۔ کیونکہ جس گھر میں فرق ہوتا ہے وہاں برکت نہیں رہتی۔ -

مذاکرات صرف پیشکش تک محدود، احتجاج جاری رہے گا، بیرسٹر گوہر
پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے حامی رہے ہیں، تاہم اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات عملی مرحلے میں داخل نہیں ہوئے بلکہ صرف پیشکشوں اور بیانات کی حد تک محدود ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ جمہوری انداز میں اپنے مؤقف کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی اپنے سیاسی حقوق کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی نے ماضی میں بھی احتجاج کیے ہیں اور مستقبل میں بھی پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے مختلف سیاسی ملاقاتوں اور روابط کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے مصافحہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس عمل کو پی ٹی آئی کی کمزوری یا پسپائی نہ سمجھا جائے، کیونکہ سیاسی شائستگی اور جمہوری روایات کو کمزوری سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کے حوالے سے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، وہ ابھی صرف ابتدائی نوعیت کی ہیں اور ان پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ہوتے ہیں تو پارٹی اپنی پالیسی کے مطابق مناسب فیصلہ کرے گی، تاہم فی الحال صورتحال صرف اعلانات اور پیشکشوں تک محدود ہے۔
انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کشمیر کے معاملے پر مصلحت، تدبر اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہییں تاکہ پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی اور قانونی اقدام اٹھایا جائے گا اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ -

سانحہ کاہنہ افسوسناک ،حقیقی ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ سانحہ کاہنہ افسوسناک،پوری قوم غم میں مبتلا ہے، ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے بچوںکو کچی عمارت میں تعلیم پر مجبور کیا،14 بچوں کے والدین سے اظہار افسوس، زخمیوں کی صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں،مرکزی مسلم لیگ کاہنہ میں تعلیم و صحت کے منصوبوں پر کام کرے گی
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کاہنہ ٹیوشن سنٹر واقعہ میں جاں بحق بچوں کے والدین سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی موت کی وجہ سے پوری قوم غم میں مبتلا ہے،ہم والدین سے اہل علاقہ سے تعزیت کرتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ سانحہ کاہنہ کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین اور پھر انکے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،سانحہ کاہنہ کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ بچوںکو کچی عمارتوں میںتعلیم دی جائے،یہ وہی لوگ ہیں جو 11 ارب کا جہاز خریدتے ہیں اور اسمبلی فلور پر کہتے ہیں کہ ہم نے خریدے ہیں کیا کر لو گے، ذمہ دار وہ ہیں جو بجلی کے بلوں کے نیچے غریبوں کو دفن کر رہے ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ والدین کے ساتھ کھڑی ہے، کاہنہ نو میں مرکزی مسلم لیگ صحت وتعلیم کے منصوبوں پر کام کرے گی،
-

مسلم ریسکیو مشن کے زیر اہتمام اپر چناب کے کنارے پری فلڈ موک ایکسرسائز کا انعقاد
ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے، ریسکیو رضاکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ذیلی مسلم ریسکیو مشن کے زیر اہتمام اپر چناب کے کنارے پری فلڈ موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔ موک ایکسرسائز میں رضاکاروں نے ممکنہ سیلاب کے دوران ریسکیو، ریلیف اور انخلاء کی مختلف عملی مشقوں کا کامیاب مظاہرہ کیا۔
چیئرمین شعبہ خدمت خلق پاکستان چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ، نائب صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ گوجرانوالہ راشد علی سندھو، صدر مرکزی کسان لیگ ذوالفقار علی اولکھ اور رہنما پاکستان مرکزی مسلم لیگ چوہدری حمید الحسن گجر عملی مشقوں کا جائزہ لیا
مسلم ریسکیو مشن کے انچارج ابرار وحید نے مہمانوں کو ریسکیو کے مختلف شعبہ جات، ایمرجنسی رسپانس سسٹم، واٹر ریسکیو یونٹ، بوٹس، لائف جیکٹس، ریسکیو آلات اور دیگر حفاظتی سامان کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر رضاکاروں نے بوٹ ہینڈلنگ، سرچ اینڈ ریسکیو، واٹر ریسکیو، فلڈ ایویکیوشن، ابتدائی طبی امداد، متاثرین کی محفوظ منتقلی، ریلیف مینجمنٹ اور ایمرجنسی کوآرڈینیشن کی عملی مشقوں کا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شعبہ خدمت خلق پاکستان چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ غیر معمولی بارشوں، دریاؤں میں طغیانی، گلیشیئر پگھلنے اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث ہزاروں خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ ان حالات میں صرف امدادی سرگرمیاں کافی نہیں بلکہ پیشگی تیاری، جدید تربیت اور مؤثر منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کی جانب سے بھی مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال کے خدشات ظاہر کیے جا چکے ہیں، اسی لیے شعبہ خدمت خلق پاکستان نے ملک بھر کے دریا کنارے اور سیلاب کے خطرے سے دوچار اضلاع میں پری فلڈ موک ایکسرسائزز کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ رضاکار کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری، منظم اور مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ نے بتایا کہ گزشتہ سال سیلاب کے دوران شعبہ خدمت خلق پاکستان کے 16 ہزار سے زائد تربیت یافتہ رضاکاروں نے گلگت بلتستان سے دریائے پنجند تک متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں بھرپور کردار ادا کیا، لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ، خوراک، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا اور مشکل ترین حالات میں خدمتِ انسانیت کی روشن مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بروقت تیاری، تربیت یافتہ رضاکار، جدید ریسکیو وسائل، مضبوط رابطہ کاری اور عوامی آگاہی کے ذریعے جانی و مالی نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسی وژن کے تحت ملک بھر میں اپنی ریسکیو استعداد کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ ہر ہنگامی صورتحال میں عوام کو بروقت اور مؤثر امداد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے نوجوانوں اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ خدمتِ انسانیت کے اس مشن کا حصہ بنیں، ریسکیو تربیت حاصل کریں اور ہر مشکل وقت میں اپنی قوم کے لیے امید، حوصلے اور عملی خدمت کی علامت بنیں۔
تقریب کے اختتام پر ریسکیو ٹیموں کی پیشہ ورانہ تیاری، نظم و ضبط اور عملی مہارت کو سراہا گیا، جبکہ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مون سون سیزن کے دوران پنجاب سمیت ملک کے مختلف اضلاع میں پری فلڈ موک ایکسرسائزز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ قدرتی آفت کی صورت میں بروقت، منظم اور مؤثر ریسکیو آپریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔