Baaghi TV

Blog

  • 
وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2,295 ہو گئی، امدادی کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل

    
وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2,295 ہو گئی، امدادی کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل

    وینزویلا میں ایک ہفتہ قبل آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2 ہزار 295 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہیں۔ حکام کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی بے گھر ہیں اور ملبے تلے لاپتہ افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎24 جون کو شمالی اور وسطی وینزویلا میں صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے تھے، جنہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق اب تک 11 ہزار 267 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
    ‎حکام نے بتایا کہ مرکزی زلزلوں کے بعد اب تک 782 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ ان کی شدت اور تعداد میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بڑے آفٹر شاک کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎جارج روڈریگیز نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ زلزلے کے خطرات میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ ان کے مطابق امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مسلسل ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
    ‎منگل کے روز ملبے سے ایک کمسن بچی کو زندہ نکال لیا گیا، جس کے بعد زندہ بچائے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مزید زندہ افراد کے ملنے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں، اس کے باوجود ریسکیو اہلکار اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎حکومت اب ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طویل مدتی بحالی، متاثرہ خاندانوں کی رہائش، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور انسانی امداد کی فراہمی پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ متعدد علاقوں میں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جبکہ ہزاروں خاندان عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

  • 
لبنان اور شام کا باہمی عدم مداخلت کا معاہدہ

    
لبنان اور شام کا باہمی عدم مداخلت کا معاہدہ

    ‎لبنان اور شام نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے باہمی احترام، خودمختاری اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے۔
    ‎یہ معاہدہ بیروت میں اس وقت طے پایا جب لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کا سرکاری وفد کے ہمراہ استقبال کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
    ‎لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کریں گے۔ اس کے علاوہ دونوں فریق برابری کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کریں گے۔
    ‎حکام کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط بنانا، سیاسی اور سفارتی روابط کو وسعت دینا اور مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور شام دونوں کو خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے، جس کے تناظر میں اس معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری، سرحدی تعاون کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

  • پیمرا نے جیو نیوز کی بندش پہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی طلب کر لی

    پیمرا نے جیو نیوز کی بندش پہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی طلب کر لی

    ‎پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی کونسل آف کمپلینٹس نے جیو نیوز کی محرم الحرام کی خصوصی ٹرانسمیشن سے متعلق سامنے آنے والے تنازع پر اسلامی نظریاتی کونسل سے باضابطہ رہنمائی طلب کر لی ہے۔
    ‎پیمرا کے مطابق 26 جون کو نشر کیے گئے محرم کے خصوصی پروگرام "سفرِ عشق” میں ایسے مناظر دکھائے گئے جو مذہبی، ثقافتی اور سماجی حساسیت کے منافی قرار دیے گئے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ اس مواد سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہونے اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
    ‎پیمرا نے اس نشریات کو پیمرا آرڈیننس 2002، پیمرا رولز 2009 اور ضابطۂ اخلاق 2015 کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے 27 جون کو جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے کونسل آف کمپلینٹس کے سپرد کیا گیا اور چینل انتظامیہ کو اندرونی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
    ‎بعد ازاں جیو نیوز نے قومی اخبارات میں باقاعدہ معذرت شائع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ واقعہ انسانی غلطی کا نتیجہ تھا۔ چینل نے بتایا کہ متنازع مواد فوری طور پر ہٹا دیا گیا، اندرونی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
    ‎30 جون کو ہونے والے کونسل آف کمپلینٹس کے اجلاس میں جیو نیوز کی انتظامیہ نے دوبارہ مؤقف اپنایا کہ یہ غلطی غیر ارادی تھی اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے، تاہم کونسل کے مطابق اس دعوے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
    ‎کونسل آف کمپلینٹس کی چیئرپرسن ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر نے معاملے کی مذہبی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں استفسار کیا گیا ہے کہ آیا چینل کی معطلی، عوامی معذرت اور اب تک کیے گئے اقدامات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کافی ہیں یا مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔
    ‎اسلامی نظریاتی کونسل سے 8 جولائی 2026 تک اپنی سفارشات اور رہنمائی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جس کے بعد پیمرا آئندہ کارروائی سے متعلق فیصلہ کرے گا۔

  • 
کیوبا کسی کے لیے خطرہ نہیں، خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: صدر میگوئل ڈیاز کانیل

    
کیوبا کسی کے لیے خطرہ نہیں، خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: صدر میگوئل ڈیاز کانیل

    ‎کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں اور نہ ہی اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرے گا۔
    ‎برطانوی صحافی یلدا حکیم کو دیے گئے انٹرویو میں صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا ایک پرامن ملک ہے اور اس کی پالیسی ہمیشہ باہمی احترام، امن اور خودمختاری کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔
    ‎کیوبا کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے والا نہیں اور قومی خودمختاری، آزادی اور وقار کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کو طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے۔
    ‎ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا کے خلاف سخت مؤقف اور ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق بیانات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

  • 
جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں، قید نے مجھے جیل کی اصلاحات کی ضرورت کا احساس دلایا، مریم نواز

    
جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں، قید نے مجھے جیل کی اصلاحات کی ضرورت کا احساس دلایا، مریم نواز

    اسلام آباد میں منعقدہ جیل ریفارمز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی قید کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جیل کا تجربہ ان کی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا، جہاں انہوں نے قید تنہائی، تنہائی کے احساس اور بنیادی سہولیات کی کمی کو خود محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی تجربے نے انہیں پنجاب کی جیلوں میں اصلاحات متعارف کرانے کی ترغیب دی تاکہ قیدیوں کو بہتر اور باوقار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
    ‎مریم نواز نے کہا کہ وہ اس فورم پر سیاسی گفتگو نہیں کرنا چاہتیں بلکہ صرف اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں جیل اصلاحات کی اہمیت اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں کئی کئی گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، جہاں ذہنی دباؤ اور تنہائی کے اثرات کو انہوں نے خود محسوس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قید تنہائی انسان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور اس کیفیت کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے خود برداشت کیا ہو۔
    ‎وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ دوران قید ان کے ساتھ صرف کتابیں اور جائے نماز تھیں، جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں گزارے گئے دنوں نے انہیں یہ احساس دلایا کہ ہر قیدی کی اپنی ایک کہانی اور اپنے دکھ ہوتے ہیں، اسی لیے جیلوں کے نظام کو زیادہ انسانی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
    ‎اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے بتایا کہ ایک موقع پر جیل میں ان کی شوگر اچانک کم ہو گئی، لیکن مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، جس کے باعث گڑ والی بوتل زمین پر گر کر ٹوٹ گئی۔ شدید کمزوری کے عالم میں انہوں نے زمین پر گرا ہوا گڑ اٹھا کر کھایا، جس میں شیشے کے ٹکڑے بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں تھا، جس سے انہیں ایک بے بس قیدی کی کیفیت کا حقیقی احساس ہوا۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اور ان کے والد ایک ہی وقت میں جیل میں تھے، جبکہ ان کی والدہ شدید علیل تھیں، لیکن انہیں والدہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق اس کربناک تجربے نے انہیں قیدیوں کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت کا احساس دلایا۔

  • 
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 7 افراد جاں بحق، 19 زخمی

    
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 7 افراد جاں بحق، 19 زخمی

    ‎خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ نے مختلف اضلاع میں شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہو گئے۔ شدید بارشوں سے گھروں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
    ‎صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 مرد، ایک خاتون اور 4 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 7 مرد، ایک خاتون اور 11 بچے شامل ہیں۔ مختلف حادثات بارش، آندھی، مکانوں کے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث پیش آئے۔
    ‎پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فلش فلڈ سے مجموعی طور پر 38 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 36 مکانات جزوی جبکہ 2 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق خیبر، دیر زیریں، دیر بالائی، مردان، شانگلہ، باجوڑ اور لوئر چترال ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 3 جولائی تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مزید موسلا دھار بارش، گرج چمک، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان موجود ہے۔ محکمہ کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اچانک سیلاب آنے کا خدشہ برقرار ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان، صوابی، خیبر، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت متعدد اضلاع میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    ‎پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران ندی نالوں، دریا کناروں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • 
عاصم اظہر نے ہانیہ عامر کے ساتھ پرانی انسٹاگرام پوسٹس بحال کردیں

    
عاصم اظہر نے ہانیہ عامر کے ساتھ پرانی انسٹاگرام پوسٹس بحال کردیں

    ‎پاکستان کے معروف گلوکار عاصم اظہر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 600 سے زائد پرانی تصاویر اور ویڈیوز دوبارہ بحال کر دی ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے ماضی سے جڑی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئی ہیں۔ بحال کی گئی پوسٹس میں اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ شیئر کی گئی متعدد تصاویر بھی شامل ہیں، جنہوں نے مداحوں اور شوبز حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کر لی۔
    ‎انسٹاگرام پر پوسٹس واپس لانے کے بعد عاصم اظہر نے ایک دلچسپ پیغام بھی شیئر کیا۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا، "آپ سب کو خوش آمدید، اب کچھ پرانے اور شرمندگی سے بھرے لمحات سے لطف اٹھائیں۔” اس مختصر پیغام نے مداحوں کا تجسس مزید بڑھا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی پرانی تصاویر اور ویڈیوز دوبارہ وائرل ہونا شروع ہو گئیں۔
    ‎اگرچہ عاصم اظہر نے اپنے فنی سفر، کنسرٹس، دوستوں، اہل خانہ اور کیریئر سے متعلق سینکڑوں پوسٹس بحال کیں، تاہم سوشل میڈیا صارفین کی زیادہ توجہ ان تصاویر پر مرکوز رہی جن میں وہ ہانیہ عامر کے ساتھ نظر آئے۔ مختلف شوبز اور انٹرٹینمنٹ پیجز نے بھی انہی تصاویر کو نمایاں انداز میں شیئر کیا، جس کے بعد دونوں فنکاروں کے ماضی کے تعلقات ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گئے۔
    ‎صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے عاصم اظہر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے وضاحت بھی پیش کی۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں افسوس ہے کہ بیشتر میڈیا پلیٹ فارمز نے صرف چند مخصوص تصاویر کو ہی نمایاں کیا، جبکہ انہوں نے مجموعی طور پر 600 سے زائد پوسٹس بحال کی ہیں، جن میں ان کے کیریئر، موسیقی، یادگار لمحات اور ذاتی سفر کی جھلکیاں شامل ہیں۔
    ‎عاصم اظہر نے مزید کہا کہ ان کے مداح کافی عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ اپنی پرانی پوسٹس دوبارہ منظر عام پر لائیں تاکہ وہ ان کے فنی سفر اور یادگار لمحات کو ایک بار پھر دیکھ سکیں۔ اسی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی آرکائیو کی گئی تصاویر اور ویڈیوز بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ‎ادھر سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے عاصم اظہر کے اس اقدام کو صرف یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ کچھ نے ہانیہ عامر کے ساتھ ان کی پرانی تصاویر کو دوبارہ موضوع بحث بنا دیا۔ تاہم عاصم اظہر کی وضاحت کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پوسٹس کی بحالی کا مقصد کسی خاص شخصیت کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ اپنے مداحوں کو اپنے پورے فنی سفر کی جھلک دوبارہ دکھانا تھا۔

  • 
ایل پی جی مافیا بے قابو، سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود، عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور

    
ایل پی جی مافیا بے قابو، سرکاری نرخ صرف کاغذوں تک محدود، عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور

    ‎ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری سطح پر کمی کے دعووں کے باوجود صارفین کو ریلیف نہ مل سکا۔ اوگرا کی جانب سے جولائی کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 68 روپے کمی کرتے ہوئے نئی سرکاری قیمت 241 روپے 43 پیسے مقرر کی گئی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ لاہور سمیت ملک کے بیشتر شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں ایل پی جی سرکاری نرخ پر دستیاب نہیں، بلکہ من مانی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔
    ‎صارفین کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں ایل پی جی 450 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جس سے گھریلو صارفین، رکشہ ڈرائیوروں اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سرکاری قیمت صرف اعلانات تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر کسی جگہ اس پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔
    ‎رکشہ ڈرائیوروں نے شکایت کی ہے کہ مہنگی ایل پی جی خریدنے کے بعد ان کی روزانہ کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کے اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ روزگار چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ کئی افراد قرض لے کر گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
    ‎شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایل پی جی مافیا کھلے عام سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، لیکن متعلقہ ادارے اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سرکاری نرخ پر ایل پی جی فراہم نہیں کر سکتی تو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
    ‎دوسری جانب ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں خود پلانٹس سے ایل پی جی 420 سے 450 روپے فی کلو کے حساب سے ملتی ہے، اس لیے وہ سرکاری نرخ پر فروخت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پلانٹس مہنگے داموں گیس فروخت کریں گے تو ریٹیل سطح پر سستی فروخت ممکن نہیں۔
    ‎دکانداروں نے مزید کہا کہ متعلقہ ادارے پلانٹس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بناتے ہیں، جنہیں جرمانے اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ سپلائی چین کے آغاز میں ہے، جہاں قیمتوں کا تعین سرکاری نرخوں کے برعکس کیا جا رہا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایل پی جی کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو اس کے اثرات صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار اور مجموعی مہنگائی میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عوام نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

  • 
توشہ خانہ ٹو کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں نئے بینچ کی منتظر

    
توشہ خانہ ٹو کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں نئے بینچ کی منتظر

    ‎اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اپیلیں جسٹس خادم حسین سومرو کے بینچ سے منتقل کر دی گئی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے تاحال ان اپیلوں کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل نہیں دیا۔
    ‎دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرنے سے متعلق 12 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے، جس میں اپیلوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے قابل قبول قرار دینے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
    ‎عدالتی حکم نامے کے مطابق عدالت نے اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر کی معافی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کنندگان کے وکیل کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف اور قانونی جواز قابل قبول ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد تمام اعتراضات بھی ختم کر دیے اور ہدایت کی کہ اپیلوں کو باقاعدہ نمبر لگا کر آئندہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
    ‎تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا تھا کہ اپیلیں قانونی مدت کے اندر، یعنی 29 دسمبر 2025 کو دائر کر دی گئی تھیں، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 20 دسمبر 2025 کو توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دس، دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
    ‎عدالتی کارروائی کے تازہ مرحلے کے بعد اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کب نیا بینچ تشکیل دیتے ہیں اور اپیلوں کی باقاعدہ سماعت کب شروع ہوتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق نئے بینچ کی تشکیل کے بعد سزا کے خلاف اپیلوں پر تفصیلی دلائل دیے جائیں گے، جس کے بعد عدالت آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔
    ‎توشہ خانہ ٹو کیس ملکی سیاست اور عدالتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے اس مقدمے کی ہر عدالتی پیش رفت پر سیاسی جماعتوں، قانونی ماہرین اور عوام کی گہری نظر ہے۔

  • 
فیفا ورلڈ کپ 2026: امریکا، میکسیکو اور کینیڈا پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

    
فیفا ورلڈ کپ 2026: امریکا، میکسیکو اور کینیڈا پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

    ‎کراچی: فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شریک تینوں میزبان ممالک امریکا، میکسیکو اور کینیڈا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ پہلی بار تین ممالک کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا عالمی فٹبال ٹورنامنٹ دلچسپ مقابلوں کے بعد اب ناک آؤٹ مرحلے کے اگلے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
    ‎راؤنڈ آف 32 کے مقابلوں کے اختتام تک اب تک دس ٹیمیں پری کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جبکہ باقی چھ نشستوں کا فیصلہ آئندہ میچز میں ہوگا۔ تاہم سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ تینوں میزبان ٹیمیں بھی اگلے مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب رہیں، جس سے ان کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
    ‎کینیڈا نے میزبان ممالک میں سب سے پہلے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔ اس نے راؤنڈ آف 32 کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک صفر سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ کینیڈا کی ٹیم نے مضبوط دفاع اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح اپنے نام کی۔
    ‎دوسری جانب میکسیکو نے ایکواڈور کو دو صفر سے شکست دے کر چالیس برس بعد ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی۔ میکسیکو کی اس کامیابی کو ملکی فٹبال کی تاریخ میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے اور شائقین نے اس کامیابی کا بھرپور جشن منایا۔
    ‎امریکا نے بھی شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے بوسنیا کو دو صفر سے ہرایا اور اعتماد کے ساتھ اگلے مرحلے میں پہنچ گیا۔ امریکی ٹیم نے پورے میچ میں کھیل پر گرفت برقرار رکھی اور مخالف ٹیم کو زیادہ مواقع فراہم نہیں کیے۔
    ‎اب پری کوارٹر فائنل میں کینیڈا کا مقابلہ مراکش سے ہوگا، جبکہ امریکا اور میکسیکو آمنے سامنے ہوں گے۔ دونوں شمالی امریکی ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس اہم مقابلے کو ٹورنامنٹ کے دلچسپ ترین میچز میں شمار کیا جا رہا ہے۔