آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی کالعدم تنظیم کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کے دوران مختلف اضلاع میں تنظیم سے وابستہ متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق تنظیم پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، بیرون ملک سے مالی معاونت حاصل کرنے اور غیر قانونی نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق حالیہ آپریشنز کے دوران راولاکوٹ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے تنظیم کے متعدد کارکنوں اور مبینہ سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کی جا رہی ہیں جن پر شہریوں کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے اور بیرون ملک سے فنڈز اکٹھا کرنے جیسے الزامات ہیں۔
شوکت نواز میر حالیہ مہینوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کے نمایاں رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے اور مختلف عوامی احتجاجی مظاہروں میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ یہ احتجاج بنیادی شہری حقوق، عوامی مسائل اور مختلف اصلاحات کے مطالبات کے حوالے سے کیے گئے تھے، جن میں بڑی تعداد میں شہریوں نے بھی شرکت کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد شوکت نواز میر کچھ عرصے سے منظر عام سے دور تھے۔ اس دوران انہوں نے مختلف بیانات میں دعویٰ کیا تھا کہ کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور متعدد افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتاریاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں اور زیر حراست افراد کے خلاف شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاحال شوکت نواز میر یا ان کے وکلا کی جانب سے گرفتاری کے بعد کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ اس معاملے پر مزید قانونی پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر میں کالعدم جے اے اے سی کے رہنما شوکت نواز میر گرفتار
