Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر کے یومِ آزادی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا،جبکہ،دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے-

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے خود کش حملے کے لیے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا تھابعد ازاں گرفتار بمبار کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کیا۔

    ڈاکٹر محمد عثمان قاضی نے بتایا کہ ان کا تعلق تربت سے ہے وہیں پلا بڑھا اور انہوں نے ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی، وہ کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت کر رہے تھ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے، اس شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہےگرفتار ملزم ڈاکٹر عثمان قاضی نے تفصیل بتائی کہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ’ایک تنظیم‘ سے تعلق رکھنے والے 3 افراد سے ہوئی تھی، جن میں سے دو بعد میں مارے گئے، باقی 2 افراد نے اسے اس شدت پسند گروہ میں شامل کرایا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔

    خیبر پختونخوا،متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے،ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر

    عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ تمام تعارف ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے کروائے گئے اور کوئٹہ آنے پر اس نے گروہ کی ہدایات پر 3 کارروائیوں میں سہولت فراہم کی، ڈاکٹر حبیطان اور فی خالق کی ہدایات کے مطابق گروہ کی مدد کی، ایک ایسے عسکریت پسند کو پناہ دی جو قلات میں جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا، میں نے اسے کسی اور شخص کے حوالے کر دیا تھا اور اگلے دن وہ یہاں ریلوے خودکش دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔

    terrorist

    دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث،عثمان قاضی

    اس نے ایک اور ایسا ہی واقعہ سنایا کہ جس شخص کو اس نے 7 سے 8 دن تک پناہ دی تھی، وہ 14 اگست کے کسی واقعے میں استعمال ہونے والا تھا، لیکچرار نے یہ بھی اقرار کیا کہ اس نے ایک پستول خریدا تھا جو سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا، یہ وہ کام ہیں جو میں نے کیے، یہ وہ سہولت کاری ہے جو میں نے کی، اگر دیکھا جائے تو ریاست نے مجھے اور میری اہلیہ کو عزت، وقار، نوکری سب کچھ دیا، لیکن اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی اور ریاست سے غداری کی، مجھے بہت زیادہ شرمندگی ہے کہ میں ان کارروائیوں میں شامل رہا اور اس پر افسوس ہے، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں، نوجوان، یہاں کے طلبہ ان تنظیموں سے بچ سکیں جو بدامنی پھیلا رہی ہیں۔

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی</a

    کوئٹہ میں دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 14 اگست کو خودکش حملہ آور ان معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے تھے، جو یومِ آزادی منا رہے تھےانہوں نے سیکیورٹی اداروں، محکمہ انسداد دہشت گردی بلوچستان اور پولیس کو صوبے کو بڑی تباہی سے بچانے پر سراہا، انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو گرفتار کیا گیا، یہ پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے، اندازہ کریں کہ کتنے بچوں کو اس نے ورغلایا ہوگا، یہ شخص دہشت گردوں کا علاج اپنے گھر پر کرواتا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، اس طرح پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہماری ایجنسیاں، حکومت اور ہر کوئی پریشان ہے، اس دہشت گردی کو کچھ اور نام دیا جاتا ہے، ایسے لوگ جن کے رشتہ دار کسی عسکریت پسند تنظیم کا حصہ بنتے ہیں تو ان کے اہل خانہ کسی کو اطلاع نہیں دیتے، حالانکہ ایسے لوگ تربیت لے کر واپس گھر بھی آتے ہوں گے۔

    یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے،ایران

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب ایسا نہیں چلے گا، ایسے لوگوں کے اہل خانہ کو حکومت کا اطلاع دینا ہوگی، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ پورا خاندان ملا ہوا ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، گرفتار ملزم نے کئی انکشافات کیے ہیں، مجید بریگیڈ کئی ٹیئرز میں کام کرتی ہے، یہ لوگوں کو ورغلا کر انہیں تربیت دیتے ہیں، انہیں خودکش حملہ آور بناتے ہیں، ایک ٹیئر میں پولیس، لیویز، فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے پر پیسے دیے جاتے تھے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی ٹارگٹ کرنے پر انہیں پیسے دیے جاتے ہیں،ہم اس کے ساتھیوں تک بھی پہنچیں گے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے قبل ایسا تاثر بنایا گیا تھا کہ فوج اور سرمچاروں کے درمیان جنگ یا لڑائی چل رہی ہے، ہم نے ایک پورا سیل بنایا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک گرفتار شخص کا ریکارڈ شدہ بیان بھی جاری کیا، جس نے کہا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے، اور گریڈ 18 کے لیکچرار کے طور پر کام کر رہا ہے اس شخص نے مزید کہا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔

    درخت آفات کے خلاف ڈھال اور آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں، صدرمملکت

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرفتار لیکچرار کا محدود اعترافی بیان اس لیے جاری کیا تاکہ جاری تحقیقات متاثر نہ ہوں،انہوں نے نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن بم دھماکے کا ذکر کیا، جس میں 32 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اور بتایا کہ گرفتار لیکچرار مبینہ طور پر اس حملے میں سہولت کاری میں ملوث تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس (لیکچرار) نے حملہ آور کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ریلوے اسٹیشن کے قریب اتارا، اور اس کے بعد اسے ایک اور ہینڈلر کے حوالے کیا جو ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، بلوچستان میں شورش کے مسئلے کو بعض لوگ ’محرومی‘ سے جوڑتے ہیں، اس پر وزیراعلیٰ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ لوگ کیسے محروم ہیں؟ ملزم کی ماں اب بھی پنشن لے رہی ہے جس کا مطلب ہے وہ بھی سرکاری ملازم تھی،اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے، وہ خود گریڈ 18 کا افسر ہے، پاکستانی اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر کے پی ایچ ڈی کی، بھائی ریکوڈک منصوبے میں ملازم ہے، اس کا مطلب ہے وہ کسی طرح محروم نہیں تھا۔

  • بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    کوئٹہ:حکومت بلوچستان نے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی ایک بڑی کھیپ روانہ کردی ہے-

    ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند اور ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے امدادی سامان کی روانگی کی تصدیق کی ہےبلوچستان حکومت کی جانب سے 1500 گلگت بلتستان اور 1000 خیبر پختونخوا کے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی سامان بھیجا گیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر یہ سامان فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک پہنچایا گیا تاکہ متاثرین کی ضروریات پوری کی جا سکیں،امدادی سامان میں نان فوڈ آئٹمز جیسے خیمے، کمبل، پانی کی بوتلیں، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔

    شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت مشکل کی اس گھڑی میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کرنا بلوچستان حکومت کی انسانی ہمدردی اور یکجہتی کا عملی اظہار ہے، امدادی سامان متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کا ہے۔

    جہانزیب خان نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے متاثرین کے لیے معیاری اور جانچ شدہ ریلیف سامان بھیجا ہے تاکہ اس کی افادیت اور معیار یقینی بنایا جا سکے،انہوں نے کہا کہ امدادی کھیپ میں شامل اشیاء متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کے مطابق منتخب کی گئی ہیں۔

    ادھربارشوں اور فلش فلڈ سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق مختلف حادثات میں 323 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اس کے علاوہ 156افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے مطابق جاں بحق افراد میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں،زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں،بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 336 گھر وں کو نقصان پہنچا،230گھروں کو جزوی اور 106 گھر مکمل منہدم ہوئے،ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر 209 افراد جاں بحق ہوئے۔

    حادثات سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے،آج سے 19اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، متاثرہ اضلاع کو 89 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کی فراہمی مکمل ہوچکی ہے ،متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو اب تک امدادی فنڈ کی مد میں 800 ملین روپے جاری ہوئے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کی انتظامیہ کو بھی 500 ملین روپے امدادی فنڈ جاری کئے گئے ہیں،متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے،موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کیلئےفری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • بلوچستان بھر میں  دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع

    بلوچستان بھر میں دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع

    بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر عائد کی گئی دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع کردی گئی۔

    بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی، موٹرسائیکل چلاتے ہوئے چہرہ چھپانے پر بھی پابندی ہوگی،صوبے بھر میں ہر قسم کے اجتماعات، 5 سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی، پابندی کا اطلاق 31 اگست تک ہوگا،حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے پیش نظر دفعہ 144 میں 15 روز کی توسیع کی ہے، جو 16 سے 31 اگست تک نافذالعمل رہے گی۔

    واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے یکم تا 15 اگست تک بھی صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا تھا13 اگست کو حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں رات کے وقت پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

  • بلوچستان: اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان

    بلوچستان: اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان

    بلوچستان حکومت نے زیارت کے علاقے زیزری سے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) محمد افضل اور ان کے بیٹے کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) زیارت ذکاءاللہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 10 اگست کو دہشت گردوں نے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو زیزری کے مقام سے اغوا کیا تھااس واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے، عوام، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اغوا کاروں سے متعلق مصدقہ معلومات فراہم کریں۔

    حکومت بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کو نقد 5 کروڑ روپے انعام دیا جائے گا، اور ان کا نام مکمل صیغہ راز میں رکھا جائے گا تاکہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے، افسوسناک واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، حکومتی ادارے مغوی اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

    کندھ کوٹ: یومِ آزادی پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی پروقار تقریب

    وزیراعظم کی گلگت میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت

    پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کو ساڑھے 3 کروڑ جرمانہ

  • ژوب میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن ، مزید 3 خوارج ہلاک

    ژوب میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن ، مزید 3 خوارج ہلاک

    بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں کلیئرنس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مزید 3 بھارتی اسپانسرڈ خارجیوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق ہلاک بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا گیا، اس سے قبل تین روز میں 47 خارجیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا 4روز کے دوران کارروائیوں میں ہلاک بھارتی اسپانسرڈ خارجیوں کی تعداد 50 ہو گئی، بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازا میں 7 سے 9 اگست تک سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 47 خوارج مارے گئے، سیکیورٹی فورسز نے 10 اور 11 اگست کی درمیانی شب بھی پاک افغان سرحدی علاقہ سمبازا میں آپریشن کیا جس میں فتنۃ الہندوستان کے 3 دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں،سکیورٹی فورسز پاکستان میں امن ،استحکام اور ترقی کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنادیں گی۔

    فائٹرز کی کمی: بھارتی فضائیہ نے فرانس سے مزید رافیل مانگ لئے

    ژوب میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن ، مزید 3 خوارج ہلاک

    سابق بھارتی نائب صدر استعفیٰ کے بعد لاپتہ،سیاسی حلقوں میں‌تشویش

  • پاکستان ریلویزکی جعفر ایکسپریس ٹرین پر  حملےکی تردید

    پاکستان ریلویزکی جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملےکی تردید

    پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہورنے جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملےکی تردید کی،ہے-

    پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہورنے اپنے بیان میں کہاہےکہ،کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر کوئی حملہ نہیں ہوا،ٹرین بحفاظت اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے،ٹرین روانگی سے پہلے حفاظتی نگرانی کے لیے پائلٹ انجن بھیجا جاتا ہے،آج بھی نگرانی کیلیے پائلٹ انجن بھیجا گیا جس پر تقریباً 10 بجے تین گولیاں چلائی گئیں،خطرہ محسوس ہوتے ہی ٹرین کو محفوظ مقام پر روک لیا گیا تھا،سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ٹرین منزل کی جانب روانہ کر دی گئی ہے، تمام مسافر محفوظ ہیں،پائلٹ انجن بھی بحفاظت واپس پہنچ گیا ہے-

    قبل،ازیں،کہاگیاتھاکہ،کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر ایک اور حملے کی کوشش کی گئی ہے، ریلوے انتظامیہ کے مطابق،پیر کی صبح کولپور کے قریب ریلوے ٹریک کی کلیئرنس کے لیے بھیجے گئے پائلٹ انجن پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ٹرین کو دوزان ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔ ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ریلوے انتظامیہ کا کہناتھاکہ جعفر ایکسپریس سے قبل ایک پائلٹ انجن کوئٹہ سے سبی تک ٹریک کی جانچ کے لیے چلایا جاتا ہے تاکہ کسی ممکنہ تخریب کاری سے بچا جا سکے پیر کی صبح لیویز ذرائع کے مطابق دوزان کے قریب واقع ٹنل نمبر 16 کے قریب اس پائلٹ انجن پر فائرنگ کی گئی انجن کو پانچ گولیاں لگیں تاہم انجن کا ڈرائیور اور دیگر عملہ محفوظ رہا فائرنگ کے بعد انجن کو بحفاظت دوزان سٹیشن پہنچا دیا گیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    لیجنڈز لیگ کے مالک کا پریزینٹر سےسرعا م فلرٹ،ویڈیو

    دوسری جانب بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد تنظیم ”بلوچ لبریشن آرمی“ ( فتنۃ الہندوستان) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    واضح رہے کہ جعفر ایکسپریس پہلے بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکی ہے 11 مارچ 2025 کو بھی کوئٹہ سے پشاور جانے والی نو بوگیوں پر مشتمل اس مسافر ٹرین پر حملہ کیا گیا تھا، اس وقت 400 سے زائد مسافر ٹرین میں موجود تھے واقعے میں مجموعی طور پر 26 مسافر شہید ہوئے تھے جن میں 18 کا تعلق آرمی اور ایف سی سے، 3 ریلوے اور دیگر اداروں سے جبکہ 5 عام شہری شامل تھے 354 یرغمالیوں کو زندہ بازیاب کرایا گیا تھا جن میں 37 زخمی تھے۔

    اس کے بعد جون 2025 میں جعفر ایکسپریس ایک بار پھر سندھ کے ضلع جیکب آباد میں بم دھماکے کا نشانہ بنی، جس سے چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، تاہم تمام مسافر محفوظ رہے تھے۔

    درفشاں سلیم نے بلال عباس سے نکاح کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

  • گڈانی کا سمندری پانی گلابی ہوگیا

    گڈانی کا سمندری پانی گلابی ہوگیا

    حب : گڈانی جیٹی کا سمندری پانی گلابی رنگت اختیار کرگیا، مقامی افراد، ماہی گیر اور سیاح تشویش میں مبتلا ہوگئے-

    گڈانی جیٹی کے پانی کی غیر معمولی صورتحال دیکھ کر مقامی افراد، ماہی گیر اور سیاح تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں تاہم اس حوالے سے محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کا بیان سامنے آیا ہے،محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق گڈانی جیٹی کا پانی آلودہ ہونے کے باعث گلابی رنگ کا ہوگیا ہے، جیٹی کے پانی کا رنگ تبدیل ہونےکے باعث بدبو بھی پھیل رہی ہے۔

    اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات عمران کاکڑ کا کہنا ہے کہ جیٹی میں کافی عرصے سے پانی جمع تھا اور بائیو لوجیکل تبدیلی سے پانی کی رنگت تبدیل ہوئی،سمندری پانی گلابی ہونے کی وجہ خوردبینی حیاتیات کی تبدیلی ہے جس کے پیش نظرلوگوں کوپانی سےدور رہنےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    حمزہ خان ویلنشیا اوپن اسکواش کے فائنل میں پہنچ گئے

    سیلاب میں ہونے والے جانی مالی نقصان پر ہمارے دل غم زدہ ہیں ۔ قدرت اللہ

    کوئٹہ: بجلی کی لوڈشیڈنگ،ڈاکٹرز کو آپریشنز میں مشکلات کا سامنا

  • بلوچستان میں پسند کی شادی کرنیوالاایک اور جوڑا قتل

    بلوچستان میں پسند کی شادی کرنیوالاایک اور جوڑا قتل

    بلوچستان مستونگ کے علاقے لکپاس میں ایک حاملہ خاتون اور اُس کے شوہر کو ان کے اپنے ہی عزیزوں نے بے دردی سے قتل کر دیا۔

    قتل ہونے والی خاتون بینظیر کوئٹہ سے تعلق رکھتی تھیں جبکہ ان کے شوہر شعیب کا تعلق پنجگور کے علاقے چتکان سے تھا دونوں نے سات برس قبل اپنی مرضی سے کورٹ میرج کی تھی شادی خاندان کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی، مگر پھر کچھ عرصہ پہلے خاندان والوں نے بظاہر صلح کا ہاتھ بڑھایا۔

    شعیب اور بینظیر کے چھ اور تین سالہ دو معصوم بچے ہیں، اور بینظیر اس وقت حاملہ بھی تھیں،صلح کے جھانسے میں آکر شعیب اپنی بیوی اور بھائی کے ساتھ کوئٹہ روانہ ہوا،رات کے اندھیرے میں، جب یہ جوڑا مستونگ کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھا، بینظیر کے بھائیوں نے ٹیلی فون پر ان کی لوکیشن حاصل کی، ملزمان ہوٹل پہنچے اور وہاں، گولیوں سےقتل،کردیا-

    پولیس ذرائع کے مطابق، ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہو چکے ہیں جبکہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے،ایس ایچ او لیویز پیر جان کا کہنا ہے کہ ’دونوں کے دو بچے بھی ہیں جنہیں وہ اپنے ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ انہیں وہ پنجگور میں شعیب کے بھائی کے گھر پر چھوڑ آئے تھے‘۔

    گذشتہ آٹھ دنوں کے دوران بلوچستان میں رپورٹ ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کوئٹہ شہر میں قمبرانی روڈ کے علاقے میں ایک شخص عبدالطیف نے اپنی بیٹی اور بھانجے کو غیرت کے نام پر ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس سے قبل ضلع کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں ایک خاتون اور مرد کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

  • بلوچستان:مقتولہ  بانو کے والد بھی گرفتار، جیل منتقل

    بلوچستان:مقتولہ بانو کے والد بھی گرفتار، جیل منتقل

    ڈیگاری کے علاقے میں غیرت کے نام پر مرد اور خاتون کے بہیمانہ قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، مقتولہ کے والد گل جان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں گرفتار قبائلی شخصیت سردار شیر باز ساتکزئی اور بشیر احمد اس وقت 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں، دونوں ملزمان سے تفتیش جاری ہے،اس واقعے میں مقتولہ بی بی بانو کے والد گل جان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جس کے بعد اب انہیں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مقتولہ کی والدہ کو بھی سوشل میڈیا پر قتل کو جائز قرار دینے اور قبائلی سردار کو رہا کرنے کا بیان شیئر کرنے پر پولیس نے گرفتار کیا تھا، پولیس کی جانب سے مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہےانسانی حقوق کے کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین نے اس افسوس ناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہےپولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ ہنہ اوڑک میں ایس ایچ او نوید اختر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا-

    اسحاق ڈار سےترک وزیر خارجہ کارابطہ، غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل کیسں میں نئےانکشافات

    راولپنڈی : غیرت کے نام پر قتل خاتون کی پولیس سکیورٹی میں قبر کشائی

  • بلوچستان میں دہرا قتل:مقتولہ بانو بی بی کی والدہ جیل منتقل

    بلوچستان میں دہرا قتل:مقتولہ بانو بی بی کی والدہ جیل منتقل

    بلوچستان میں دہرے قتل کے واقعے میں سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان شیئر کرنے پر مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ڈی این اے سیمپلنگ کا یہ عمل سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کی درخواست پر کیا گیابعدازاں، بانو بی بی کی والدہ کو دو روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے گل جان بی بی کو جیل بھیج دیا۔

    ڈیگاری میں قتل کی گئی بانو بی بی کی والدہ کو 2 دن کا پولیس ریمانڈ ختم ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک میں پیش کیا گیا،عدالت نے بانو بی بی کی والدہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    کچھ روز قبل مقتولہ بانو بی بی کی والدہ نے ویڈیو پیغام میں بانو بی بی کے قتل کو ’جائز‘ قرار دیتے ہوئے گرفتار مرکزی ملزم سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر کو بےگناہ قرار دیا تھا،سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان شیئر کرنے پر پولیس نے مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو حراست میں لے لیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت ون میں پیش کیا گیا تھا،پولیس نے عدالت سے بانو بی بی کی والدہ کے 2 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر انسداد دہشتگردی کی عدالت نے بانو بی بی کی والدہ کو 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے تصدیق کی ہے کہ گل جان بی بی سے بال، خون اور حلق سے لعاب کے نمونے لیے گئے، جنہیں بعد ازاں سیل کر کے سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔ ان نمونوں کو اب ڈی این اے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 4 جون 2025 کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں دہرے قتل کا واقع پیش آیا تھا جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ کچھ مسلح افراد ایک مرد اور خاتون کو بے رحمانہ انداز سے گولیاں مار کر قتل کر دیتے ہیں۔وائرل ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بظاہر ان پر پسند کی شادی کرنے کا الزام تھا۔

    تاہم، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے میں قتل ہونے والے افراد کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی ہیں۔