Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • اے این ایف کی چاغی میں کارروائی،2من آئس برآمد کرلی

    اے این ایف کی چاغی میں کارروائی،2من آئس برآمد کرلی

    چاغی : اینٹی نارکوٹکس فورس نے نوکنڈی روڈ چاغی میں کارروائی کے دوران 2من آئس برآمد کرلی۔

    باغی ٹی وی: ترجمان اے این ایف کے مطابق منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران 253 کلوگرام منشیات برآمد کرکے 7 ملزمان کو گرفتارکیا گیا، نوکنڈی روڈ چاغی میں خفیہ اطلاع پرایک کارروائی کے دوران 80 کلوگرام آئس قبضے میں لی گئی، پشاورمیں 4 مختلف کارروائیوں کے دوران منشیات کی بھاری مقدارتحویل میں لی گئی۔

    ترجمان اے این ایف کے مطابق علاوہ ازیں رنگ روڈ(پشاور)کےقریب 2 ملزمان سے 68 کلو گرام افیون اور 72 کلو گرام چرس برآمد کی گئی،حیات آباد ٹول پلازہ (پشاور)کے قریب 2 ملزمان سے9 کلوگرام چرس جبکہ لیبرکالونی(پشاور)کے قریب 2 ملزمان سے 9 کلوگرام چرس برآمد کی گئی، پشاورکے جی ٹی روڈ پر ایک اور کارروائی کے دوران ملزم سے 8 کلوگرام چرس قبضے میں لی گئی، زخہ خیل خیبرمیں کارروائی کے دوران 6کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

    کرائے کے قاتل،173شوٹر لاہور میں،پنجاب میں13 ماہ میں 573 قتل کی اندھی وارداتیں

    لاہور،زیر تعمیر عمارت گرنے سے تین سالہ بچی کی موت

    میہڑ:معمولی بات پر جھگڑا،فائرنگ باپ زخمی، بیٹاجاں بحق

  • لسبیلہ : 2 بسوں میں تصادم ، 5 مسافر جاں بحق

    لسبیلہ : 2 بسوں میں تصادم ، 5 مسافر جاں بحق

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں 2 مسافر بسوں میں تصادم کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    لسبیلہ میں کوسٹل ہائے وے کنڈے واری کے مقام پر 2 مسافر بسوں میں تصادم ہوا ہے، افسوسناک حادثے میں 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایدھی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

    پولیس کے مطابق مسافر کوچ جاوید کوچ کراچی سے گوادر جارہی تھی جبکہ الممتاز کوچ گوادر سے کراچی جارہی تھی۔

  • کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے

    کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: زلزلے سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے، تاہم ابتدائی رپورٹس میں زلزلے سے کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت3.1 ریکارڈ کی گئی، جس کی زیرزمین گہرائی 25 کلو میٹر تھی جب کہ مرکز کوئٹہ سے 125 کلومیٹر جنوب مشرقی کی جانب تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وادی نیلم اور سوات اور ان کے اطراف کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

    تحقیقات ہونی چاہیئں،آٹھ دن بعد اچانک سے کمشنر کا ضمیر جاگ گیا

    ملک میں حالیہ عام انتخابات جمہوریت کے فروغ کی طرف ایک قدم ہے، نگراں وزیراعظم

  • جے یو آئی کا بلوچستان میں حکومت نا بنانے کا اعلان

    جے یو آئی کا بلوچستان میں حکومت نا بنانے کا اعلان

    کوئٹہ: جمیعت علمائے اسلام (ف) بلوچستان کے صدر مولانا عبدالواسع نے بلوچستان میں حکومت نہ بنانے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : مولانا عبدالواسع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیصلہ ہوا ہے پورے پاکستان میں حکومت میں نہیں جائیں گے، ہم کسی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    واضح رہے کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان مبینہ انتخابی دھاندلی کےخلاف سراپا احتجاج ہیں،انہوں نے مرکز میں حکومت میں بیٹھے سے انکار کردیا ہے اور انتخابی دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، ممکنہ طور پر جے یو آئی کے اس احتجاج میں پی ٹی آئی بھی شامل ہوسکتی ہے۔

    ڈاکٹر عاصم کیخلاف کرپشن ریفرنس واپس چیئرمین نیب کو بھیج دیا گیا

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین نے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف جمیعت علماء اسلام (ف) اور پی ٹی آئی کے مشترکہ احتجاج کی مخالفت کردی ہے،اسد قیصر کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کے ساتھ احتجاج کے پروپوزل پر نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب شاہین نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    اسرائیل کو جنوبی لبنان میں بچوں کو شہید کرنے کی "قیمت” ادا کرنی …

    شعیب شاہین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ احتجاج کی بات نہیں ہونی چاہئے تھی، بانی پی ٹی آئی سے مشترکہ احتجاج کی بات کرنی ہی نہیں چاہئے تھی، اگر عمران خان نے اجازت دی ہے تو میری ذاتی رائے میں یہ پروپوزل لے جانے والی بات ہی درست نہیں تھی، اس حوالے سے اسد قیصر سے میری کوئی بات نہیں ہوسکی، لیکن بیرسٹر گوہر سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے حوالے ہماری نہ ان کے ساتھ مشاورت ہے، نہ شرکت ہے ، نہ بات چیت ہے۔

    اگر میں عدم اعتماد سے انکار کرتا تو کہا جاتا میں نے عمران خان کو …

  • بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے  پہنچے

    بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے ہیں، 69 فیصد ایسے اراکین ہیں جو دوسری سے آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 41 فیصد نومنتخب ارکان 2018 کی بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے،عام انتخابات 2024 میں بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر انتخاب ہوا ہے جبکہ 14 مخصوص نشستیں بعد میں پارٹی پوزیشن کے حساب سے تقسیم کی جائیں گی۔

    اعداد و شمار کے مطابق 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 16 ارکان ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کا حصہ بنیں گے،نئے چہروں میں تین کا تعلق جے یو آئی، تین کا پیپلز پارٹی اور دو کا مسلم لیگ ن سے ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سید ظفرآغا، فضل قادر مندوخیل، ڈاکٹر محمد نواز کبزئی، پیپلزپارٹی کے سردار زادہ فیصل جمالی، صمدخان گورگیج اور عبیداللہ گورگیج، ن لیگ کے زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، جماعت اسلامی کے عبدالمجید بادینی، حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان، تین آزاد امیدوار بخت محمد کاکڑ، ولی محمد نورزئی اور لیاقت لہڑی بھی پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنے ہیں، ان میں فیصل جمالی، صمد خان گورگیج، زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند کا تعلق سیاسی خاندانوں سے ہیں اور ان کے بھائی، والد، سسر یا دوسرے قریبی رشتہ دار ایوانوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سینیٹر پرنس احمد عمر زئی اگرچہ ایوان بالا کا حصہ ہیں مگر وہ پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین میں سے 35 لوگ یعنی 69 فیصد پرانے چہرے ہیں ان میں 15 ارکان دوسری، سات ارکان تیسری، سات چوتھی، دو ارکان پانچویں بار، دو ارکان چھٹی بار اور دو ارکان آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔

    دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے والوں میں پیپلز پارٹی کے سرفراز احمد بگٹی، میر نصیب اللہ مری اور علی مدد جتک، اور مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے زابد علی ریکی، اصغر ترین، یونس عزیز زہری، خلیل الرحمان دمڑ، غلام دستگیر بادینی، بلوچستان عوامی پارٹی کے ضیاء اللہ لانگو، عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم بازئی، آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ، عبدالخالق اچکزئی اورمولوی نور اللہ دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سردار سرفراز ڈومکی، ظہور احمد بلیدی اور میر اصغر رند، ن لیگ کے محمد خان طور اتمانخیل، جمعیت علمائے اسلام کے ظفراللہ زہری اور نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ تیسری بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں، سات ارکان چوتھی بار بلوچستان اسمبلی پہنچے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ جمعیت علمائے اسلام کے نواب محمد اسلم رئیسانی، مسلم لیگ ن کے سردار عبدالرحمان کھیران، محمد سلیم کھوسہ اور سردار مسعود لونی، پیپلز پارٹی کے محمد صادق عمرانی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے اسد بلوچ اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینیئر زمرک خان اچکزئی شامل ہیں۔

    نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل پانچویں مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ طارق مگسی اور مسلم لیگ ن کے میر عاصم کرد گیلو چھٹی بار بلوچستان اسمبلی میں اپنے حلقوں کی نمائندگی کریں گے۔

    بلوچستان اسمبلی کے سب سے سینیئر ارکان میں سابق وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کے نواب ثناء اللہ زہری اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار محمد صالح بھوتانی شامل ہیں دونوں آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری 1988 سے اب تک صرف 1997 میں بلوچستان اسمبلی سے باہر رہے، تاہم اس عرصے میں وہ سینیٹ کے رکن رہے۔

    سردار صالح بھوتانی 1985 سے اب تک صرف 2002 اور2008 کی اسمبلیوں سے باہر رہے اور ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی محمد اسلم بھوتانی نے انتخاب لڑا اور دو مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن رہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 21 افراد یعنی 41 فیصد پچھلی ( 2018 کی) بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے۔

    ان میں جام کمال، نواب اسلم رئیسانی، زمرک خان اچکزئی، اسد بلوچ، ثناء اللہ زہری، عبدالرحمان کھیتران، طارق مگسی، ملک نعیم بازئی، زابد علی ریکی، صالح بھوتانی، سرفراز ڈومکی، محمد خان طور اتمانخیل، اصغر علی ترین، نصیب اللہ مری، سردار مسعود لونی، ضیاء اللہ لانگو، محمد خان لہڑی، یونس عزیز زہری، مولوی نور اللہ، محمد سلیم کھوسہ، ظہور احمد بلیدی شامل ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی میں نو منتخب ارکان میں نواب ثنا اللہ زہری اور ظفر اللہ زہری آپس میں بھائی ہیں، نومنتخب رکن عبیداللہ گورگیج کے والد ملک شاہ گورگیج 8 فروری 2024 کے انتخابات میں این اے 259 کیچ کم گوادر سے رکن قومی اسمبلی، جبکہ نوابزادہ طارق مگسی کے بھائی نوابزادہ خالد مگسی حالیہ انتخابات میں این اے 254 جھل مگسی کم کچھی کم نصیرآباد سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ آٹھ نومنتخب ارکان ایسے ہیں جن کے والد بھی ماضی میں بلوچستان اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں ان میں جام کمال خان، نواب اسلم رئیسانی، سردار اختر مینگل، سرفراز ڈومکی، عبدالرحمان کھیتران، سردار مسعود لونی، خلیل الرحمان دمڑ اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، سردار صالح بھوتانی، فیصل جمالی، محمد خان لہڑی، ضیاء اللہ لانگو کے بھائی، زرک مندوخیل کے سسر، سلیم کھوسہ اور پرنس عمر احمد زئی، ظہور احمد بلیدی، برک علی رند، میر اصغر رند کے کئی قریبی رشتہ دار ماضی میں بلوچستان اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    ان میں پیپلز پارٹی کے ملک شاہ گورگیج، نوابزادہ جمال رئیسانی، جمعیت علمائے اسلام کے مولوی سمیع الدین، نیشنل پارٹی کے پھلین بلوچ، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عادل خان بازئی، آزاد امیدوار میاں خان بگٹی شامل ہیں، سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بھتیجے 25 سالہ نوابزادہ جمال رئیسانی قومی اسمبلی کے سب سے کم عمر ارکان میں ایک ہیں۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پہلی بار بلوچستان سے قومی اسمبلی کا رکن بنے ہیں، تاہم وہ اس سے پہلے اپنے آبائی صوبے خیبر پشتونخوا سے پانچ مرتبہ ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری تیسری بار قومی اسمبلی پہنچے ہیں۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی چھ سال بعد قومی اسمبلی میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ 2002،1997،1993،1990 اور 2013 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ ن کے سردار یعقوب خان ناصر پانچویں بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ وہ اس سے پہلے 1990، 1997، 2002 اور 2008 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ خالد مگسی مسلسل تیسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور خان محمد جمالی، جمعیت علماء اسلام کے محمد عثمان بادینی دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل تیسری بار قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب بیک وقت جیتے ہیں۔ 1997 میں انہوں نے صوبائی اور2018 میں قومی اسمبلی کی نشست کو ترجیح دی۔

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی، نمونوں میں پائے جانے والے وائرس کا تعلق سرحد پار سے ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان وزارت صحت نے بتایا کہ بلوچستان کے ضلع سبی کے ایک نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہےدوسری طرف خیبرپختونخوا کے ضلع پشاور کے ایک نمونے میں بھی پولیو وائرس پایا گیا،26 فروری سے ملک گیر پولیو مہم کا انعقاد کیا جا رہا ہے، والدین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔

    پولیو

    ایک بیماری کا نام ہے جو شخص در شخص منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل اعصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیو ایک سنگین اور ممکنہ طور پر مہلک متعدی بیماری ہے۔ پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اور دوسرے شخص کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں فالج (جسم کے حصوں کو حرکت نہیں دے سکتے ) ہو سکتا ہے۔ پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے۔ سن 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک کراکر دیے جانے کے بعد 2014 میں ناجیریا میں بھی پولیو ختم ہو چکا ہے اور اب پولیو صرف پاکستان اور افغانستان میں رہ گیا ہے۔

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    علامات
    پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگوں میں عام طور پر یہ علامات نظر آئیں گی،گلے کی سوزش، بخار، تھکاوٹ ،قے یا متلی
    سردرد، پیٹ میں درد، یہ علامات عام طور پر 2 سے 5 دن کے بعد اپنے طور پر دور ہو جاتی ہیں۔ پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ لوگوں کے ایک چھوٹے تناسب کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے دوسرے وائرس زیادہ سنگین علامات کے ساتھ نظر آتا ہے۔

    وائرس ایک متاثرہ شخص کے گلے اور آنتوں میں رہتا ہے۔ یہ منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور ایک چھینک یا کھانسی کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر یہ وائرس ایک متاثرہ شخص کے پاخانہ (poop ) کے ساتھ رابطے کے ذریعے(پیٹ سے خارج ہونے والی گیس) پھیلتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر آپ کے اپنے ہاتھوں پر پاخانہ لگ جائے تو بھی آپ کو پولیو وائرس متاثر کر سکتا ہے۔ یہ وائرس آپ کے اپنے منہ کو چھونے سے بھی آپ کی جلد پر آجاتا ہے۔ جو آپ کے ساتھ ساتھ ہر چیز کو آلودہ کر دیتا ہے حتہ کہ آپ اگر بیت الخلاء سے ہاتھ دھوئے بغیر کسی کھلونے یا کسی اشیاء کو چھولیں اور وہ کھلونا یا اشیاء کسی طرح کوئی بچا اپنے منہ میں ڈال لے تو اس سے بھی اسے پولیو ہو سکتا ہے۔

    زیر تعمیر کالج کیمپس میں دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد

    ایک متاثرہ شخص سے فوری طور پر دوسرے شخص میں وائرس پھیل سکتا ہے اور اس کی باقاعدہ علامات 1 سے 2 ہفتوں کے اندرظاہر ہوجاتی ہے۔ وائرس کئی ہفتوں تک ایک متاثرہ شخص کے چہرے پر رہ سکتے ہیں چاہے آپ کتنی ہی بار منہ دھولیں۔ یہ خوراک اور پانی کے اندر مل کر ان کو بھی آلودہ کر سکتا ہے۔ پولیو سے متاثرہ شخص سے خود ایک بیماری ہوتے ہیں جو دوسروں کو وائرس منتقل کرنے اور انھیں بیمار کرسکتے ہیں۔

    ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے،مراد علی شاہ

  • پاکستان کوسٹ گارڈز نے پسنی میں  اونٹوں پر لدی چرس سے بھری 75 بوریاں پکڑ لیں

    پاکستان کوسٹ گارڈز نے پسنی میں اونٹوں پر لدی چرس سے بھری 75 بوریاں پکڑ لیں

    بلوچستان: پاکستان کوسٹ گارڈز نے پسنی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 12 اونٹوں پر لدی چرس سے بھری 75 بوریاں پکڑ لیں۔

    باغی ٹی وی: پسنی کےعلاقے MS-2 میں اونٹوں پر لوڈ چرس لانچ اور اسپیڈ بوٹ کے ذریعے بیرون ملک اسمگل کی جا رہی تھی، پاکستان کوسٹ گارڈز کی پٹرولنگ ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے 12 اونٹ، لانچ، اسپیڈ بوٹ اور 852 کلوگرام اعلیٰ کوالٹی کی چرس قبضے میں لے لی، پکڑی جانے والی منشیات کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 14.21 ملین ڈالر کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے ، واضح رہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈز ہر قسم کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔

    لوئر دیر میں دھماکا ، دو بچے جاں بحق اور تین افراد زخمی

    کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ہونے والا دھماکہ خود کش حملہ قرار

    نریندر مودی بدھ کو یو اے ای میں پہلے مندر کا افتتاح کریں گے

  • تاریخی کامیابی پر قوم، فوج، پولیس،  الیکشن کمیشن اور انتظامیہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جان اچکزئی

    تاریخی کامیابی پر قوم، فوج، پولیس، الیکشن کمیشن اور انتظامیہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جان اچکزئی

    پاکستان میں انتشار پھیلانا ملک کے دشمنوں کا ایجنڈا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے اور کرے، ہمیں ہر حال میں جمہوریت کی حفاظت کرنی ہے، اداروں کو محفوظ و مستعد رکھنا ہے۔ بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے پرامن انعقاد پر تمام ادارے قوم، فوج، پولیس، پیرا ملٹری فورسز، الیکشن کمیشن اور انتظامیہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران ملک بھر چند ایک معمولی سی انتظامی پیچیدگیاں ہو جاتی ہیں۔ کہیں کہیں انتخابی نتائج میں تھوڑی سی تاخیر بھی ہو جاتی ہے۔ ایسا ہر انتخابات میں ہوتا ہے۔
    اُنہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ بعض عناصر آگ بھڑکا کر دشمن کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور یہ لوگ ’را‘ کے ایجنٹ ہیں، کچھ سادہ لوح افراد بھی ان کے جھانسے میں آجائیں گے، اگر ان کے کسی فعل سے جمہوریت کو نقصان پہنچا تو وہ اس میں برابر کے ذمے دار ہوں گے۔جان اچکزئی نے کہا کہ ہمیں جمہوریت، جمہوری اداروں اور ملک کی حفاظت کرنی ہے، ہمیں دشمن کے ارادے خاک میں ملانے ہیں۔بعض عناصر چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی معمولی سی الجھن کو بہانہ بناکر آگے بھڑکائی جائے۔ ایسے لوگ بھارتی خفیہ ادارے کے ایجنٹ ہیں۔

  • الیکشن کمیشن نے تمام  صوبائی اسمبلیوں کے  نشستوں کے نتائج جاری کر دئے

    الیکشن کمیشن نے تمام صوبائی اسمبلیوں کے نشستوں کے نتائج جاری کر دئے

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام پاکستان 11، 11 اور پاکستان مسلم لیگ ن 10 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔بلوچستان اسمبلی میں آزاد امیدوار 6، بلوچستان عوامی پارٹی 4، نیشنل پارٹی 3 اور عوامی نیشنل پارٹی 2 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، بی این پی عوامی اور حق دو تحریک نے 1، 1 نشست حاصل کی۔بلوچستان اسمبلی کی 51 تمام نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی تمام 296 نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا۔8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کی 138 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن 137 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔پیپلز پارٹی 10 اور پاکستان مسلم لیگ پنجاب اسمبلی کی 8 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ضیاء اور تحریک لبیک پنجاب اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہیں۔ اسی طرح الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی 115 میں سے 112 نشستوں کے غیرحتمی نتائج جاری کردیے ہیں، پی ایس 22 اور پی ایس 91 پر انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں جبکہ پی ایس 90 کے نتائج کو روکا گیا ہے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا میں آزاد امیدواروں نے 90 نشستیں جیت لی ہیں، جمعیت علمائے اسلام (پاکستان) کے امیدوار 7 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) 5 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، پیپلزپارٹی 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی،جماعت اسلامی 3، تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز 2 اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکی۔سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں میں سے 129 نشستوں کے غیرحتمی نتائج جاری کردیے ہیں جبکہ حلقہ پی ایس 18 گھوٹکی کا نتیجہ روک لیا گیا ہے جس پر 15 فروری کو دوبارہ انتخابات ہوں گے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی (پی پی پی) 84 نشستوں کے ساتھ صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان 28 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، آزاد امیدواروں نے 13 نشستیں حاصل کیں، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور جماعت اسلامی 2، 2 نشستوں پر کامیاب قرار پائیں۔

  • بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ میں آپریشن کے دوران 7 فروری دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا

    بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ میں آپریشن کے دوران 7 فروری دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ڈسٹرکٹ قلعہ سیف اللہ میں انتہائی مطلوب دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا، اس دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس میں داعش سے تعلق رکھنے والا دہشت گرد عبدالشکور، المعروف نعمان المعروف ابو حمزہ خراسانی مارا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ آپریشن میں 7 فروری کو قلعہ سیف اللہ اور پشین دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا۔مارا جانے والا دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے دہشت گرد نے بلوچستان میں ہائی پروفائل خودکش بم حملے کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی۔ بروقت اور فوری کارروائی سے دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا۔