Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • صوبائی وزیر  سے مسلح افراد موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار

    صوبائی وزیر سے مسلح افراد موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار

    کوئٹہ: بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار سے مسلح افراد نے ڈکیتی کر کے موبائل فون اور نقدی چھین لی اور موقع سے فرار ہو گئے۔

    واقعے کے حوالے سے سنجے کمار نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد تقریباً 15 کے قریب تھی، جنہوں نے اچانک انہیں گھیر کر واردات کی، ملزمان اسلحے سے لیس تھے اور مختصر وقت میں ڈکیتی کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    پولیس نے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا،پولیس نے علاقے میں ناکہ بندی بھی کر دی ہے تاکہ ملزمان کی گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔

    ملک بھر سے 40 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ، پنجاب میں لوگ بے خوف ہو کر گھروں میں رہتے اور سفر کرتے ہیں، طلال چودھری

    امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

  • اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی ،ترجمان بی اے پی

    اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی ،ترجمان بی اے پی

    کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے مرکزی ترجمان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی-

    میر ضیاء اللہ لانگو نے محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے چار ماہ کے اندر بعض علاقوں کی پاکستان سے علیحدگی کا دعویٰ کیا تھا،کوئٹہ سے جاری بیان میں بی اے پی ترجمان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی اور ماضی میں بلوچستان کے عوام کے دلوں میں پنجابیوں کے خلاف زہر بھرنے کی کوشش کی جاتی رہی،محمود خان اچکزئی نے کبھی قومی یکجہتی، بھائی چارے اور ملک کے استحکام کی بات نہیں کی بلکہ ان کی سیاست تو ڑ پھوڑ، علیحدگی اور نفرت پر مبنی رہی ہے ایسی سوچ صرف خوابوں میں اچھی لگتی ہےعملی سیاست میں اس کی کوئی جگہ نہیں-

    لاہور سے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ساہیوال سے بازیاب،ملزمہ گرفتار

    میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بلوچستان کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اب وہ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے پی ٹی آئی کا کندھا استعمال کر رہے ہیں ’’دہ چترال دہ بولان‘‘ جیسے نعرے عوام پہلے ہی دیکھ اور سمجھ چکے ہیں، خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں، مگر دن دہاڑے ایسے خواب دیکھنا سیاسی ناپختگی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے محمود خان اچکزئی کا پاکستانی ہونا بھی مشکوک ہو گیا ہے۔

    لاہور کے فضائی معیار میں نمایاں بہتری،رپورٹ جاری

  • بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

    اس حوالے سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی،پبلک مقامات پر ہر قسم کے اجتماعات اور جلسوں پر بھی پابند ی ہوگی،کسی ایک جگہ 5 یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی ،موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد ہوگی ،خواتین اور بچوں کو استشنیٰ حاصل ہوگا، بلوچستان میں دفعہ 144 کا اطلاق 31 جنوری 2026تک ہوگا۔

    اداکار آغا شیراز کو دل کا دورہ، اسپتال میں زیر علاج

    لکی مروت میں پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 خارجی جہنم واصل

    راولپنڈی :دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع

  • 2025 میں پولیس نےبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،آئی جی پولیس بلوچستان

    2025 میں پولیس نےبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،آئی جی پولیس بلوچستان

    کوئٹہ:بلوچستان میں سال 2025 کے دہشتگردی کے واقعات میں شہریوں اور فورسز کے اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 827 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 745 دہشتگرد بھی مارے گئے۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2025 کے دوران دہشتگردی کے 940 واقعات پیش آ ئے، جن میں 827 افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق افراد میں 287 سکیورٹی اہلکار اور 440 شہری شامل ہیں،اسی طرح دہشتگردوں کے حملوں میں 1349 افراد زخمی بھی ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں 6 خودکش حملے، متعدد فائرنگ اور بم دھماکے، آئی ای ڈی، دستی بم، راکٹ اور بارودی سرنگوں کے درجنوں حملے رپورٹ ہوئےدہشتگردی کے واقعے میں سوارب کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی شہید ہوگئے، رواں سال سب سے زیادہ واقعات تربت 109، قلات 88، آواران 75، کوئٹہ میں 65، مستونگ 57 اور پنجگور میں 43 حملے رپورٹ ہوئے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے افغانستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں بم دھماکوں کے 265، دستی بم حملوں کے 213 واقعات، سرکاری عمارتوں کو آگ لگانے کے 93 واقعات، ریلوے ٹریک پر 27حملے ہوئے اور متعدد بار جعفر ایکسپریس کو بھی نشانہ بنایا گیا، پولیو ٹیموں پر 3، موبائل ٹاورز پر 27 حملے کیے گئے2025 میں گیس پائپ لائن پر 8 حملے، آبادکاروں پر 27 واقعات ہوئے، رواں سال زیارت سے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر زیارت تاحال بازیاب نہیں ہو سکے، سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کے 78 ہزار آپریشنز میں 745 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

    آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نےپریس کانفرنس میں بتایا کہ 2025 میں پولیس نےبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے تاہم پولیس کے محکمہ کو مزید وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، پولیس کی کیپسٹی بلڈنگ پر توجہ دی جارہی ہے، پولیس نے بہت سے مواقع پر بہترین رسپانس دیا ہے اور پولیس تھانوں پر ہونے والے حملوں کو نفری نے دلیر ی سے نا کام بنایا۔

    وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    آئی جی پولیس محمد طاہر نے کہا کہ پولیس میں میرٹ پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، ایس اوپیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور محکمہ پو لیس میں احتساب برانچ بنائی گئی ہے،اے ٹی ایف کے الاؤنس میں اضافہ کیا گیا ہے اور نفری میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے، پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کیا جا رہا ہے اور سیف سٹی کا منصوبہ آخری مرحلے میں ہےبلٹ پروف گاڑیاں پولیس کو فراہم کر دی گئی ہیں اور مزید بھی فراہم کی جائیں گی، عوام کی خدمت پر توجہ دے رہے ہیں اور کوئٹہ کی سیکیورٹی کے لیے پراپر پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

    پاکستان کی یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت

  • مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا آغاز ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چمن میں 15 ملی میٹر، جیوانی میں 13 ملی میٹر، کوئٹہ کے علاقے سمونگلی میں 7 ملی میٹر، کوئٹہ کے شہری علاقوں میں 6 ملی میٹر، اورماڑہ میں 3 ملی میٹر، پشین میں 2.5 ملی میٹر، پنجگور میں 2 ملی میٹر، دالبندین میں 1.3 ملی میٹر، قلات میں 1.0 ملی میٹر جبکہ گوادر میں 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    ادھر ضلع قلعہ عبداللہ، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، چمن، پشین اور مسلم باغ کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے،کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں یکم جنوری تک بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہنے کا امکان ہے۔

    جونیئر اسکواش چیمپئن شپ : پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹائٹل جیت لیا

    کسانوں اور مقامی آبادی نے حالیہ بارش کو امید کی کرن قرار دیا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بارش اور برفباری کے امکانات موجود ہیں جو اگر مسلسل رہے تو بلوچستان میں جاری خشک سالی کے اثرا ت کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

    قائداعظم کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے، شیخ خلیل الرحمن چاولہ

  • گوادر میں  نایاب موسمی مظہر سمندری بگولے کا مشاہدہ

    گوادر میں نایاب موسمی مظہر سمندری بگولے کا مشاہدہ

    گوادر اور اس کے گرد و نواح میں مغربی سسٹم کے اثرات کے دوران ایک نایاب موسمی مظہر سمندری بگولے کا مشاہدہ کیا گیا-

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی کم دباؤ کے اس سسٹم کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش ہونے کا بھی امکان ہے لینڈ اسپاؤٹس اور واٹر اسپاؤٹس دراصل ہوا کے ایک جیسے گھومتے ہوئے ستون ہوتے ہیں، تاہم ان کی تشکیل کی جگہ مختلف ہوتی ہےواٹر اسپاؤٹس پانی کی سطح پر بنتے ہیں جبکہ لینڈ اسپاؤٹس زمین پر تشکیل پاتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ کمزور بگولوں کی ایک قسم سمجھے جاتے ہیں جو زمین سے اوپر کی جانب بنتے ہیں، عام بگولوں کے برعکس جو بادلوں سے نیچے آتے ہیں لینڈ اسپاؤٹس ظاہری طور پر دھول کے بگولوں سے مشابہ ہوتے ہیں لیکن یہ بادلوں سے جڑے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق گوادر میں نظر آنے والا لینڈ اسپاؤٹ جنوب مغربی بلوچستان کے اطراف مغربی کم دباؤ کے پہنچنے کے باعث بنااس سے قبل بھی کئی مواقع پر گوادر سمیت پاکستانی ساحلی علاقوں میں واٹر اسپاؤٹس دیکھے جاچکے ہیں۔

    آخری بار 20 جنوری 2019 کو ساحلی پٹی سے تقریباً 57 ناٹیکل میل دور گھوڑا باری کے سمندر میں ایک شاندار واٹر اسپاؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا جو طوفان جیسا منظر پیش کر رہا تھا اس سے پہلے 28 فروری 2016 کو ماہی گیروں نے ساکونی کلمت خور سے دور بلوچستان کے قریب موسم کے ایک اور نایاب واقعے کی اطلاع دی تھی۔

    پنجاب پولیس کے ریٹائر ہونے والے افسران کی فہرست جاری

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نام کے برخلاف لینڈ اسپاؤٹ یا واٹر اسپاؤٹ پانی سے بھرا ہوا ستون نہیں ہوتا بلکہ یہ بادل سے بھری ہوا کا ایک گھومتا ہوا کالم ہوتا ہے جو زمین یا سمندر کی سطح تک پہنچتا ہے واٹر اسپاؤٹ کے اندر نظر آنے والا پانی دراصل بادل میں نمی کے گاڑھا ہونے کے عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    واٹر اسپاؤٹس کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک طوفانی اور دوسری منصفانہ موسم کی۔ منصفانہ موسم کے واٹر اسپاؤٹس عام طور پر کم رفتار بادلوں سے بنتے ہیں، اسی لیے یہ اکثر تقریباً ایک ہی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔ دونوں اقسام کے لیے ہوا میں نمی کی بلند سطح اور نسبتاً گرم پانی کا درجہ حرارت ضروری ہوتا ہے۔

    ٹیکنیکل ایڈوائزر فشریز محمد معظم خان کے مطابق لینڈ اسپاؤٹس اور واٹر اسپاؤٹس عموماً کمولس قسم کے بادلوں کے ساتھ بنتے ہیں اور ان کا تعلق زیادہ تر گرج چمک سے نہیں ہوتا یہ مظاہر عموماً مختصر دورانیے کے ہوتے ہیں اور خود بخود ختم ہو جاتے ہیں، تاہم واٹر اسپاؤ ٹس کو طویل عرصے سے سنگین سمندری خطرات میں شمار کیا جاتا رہا ہے، پانی پر بننے والے مضبوط اسپاؤٹس چھوٹی کشتیوں کے لیے خطر نا ک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے ایسے مظاہر سے مناسب فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔

    سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب ، ناروا سلوک کے شکووں پر خواجہ آصف کا ردعمل

    ماہرین کے مطابق ایک عام واٹر اسپاؤٹ کا اوسط قطر تقریباً 50 میٹر ہوتا ہے، جبکہ اس میں ہوا کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اگرچہ بعض واٹر اسپاؤٹس ایک گھنٹے تک بھی موجود رہ سکتے ہیں، تاہم ان کی اوسط زندگی عموماً 5 سے 10 منٹ کے درمیان ہوتی ہے۔

  • کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    الیکشن کمیشن نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے-

    الیکشن کمیشن نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے 24 دسمبر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 28 دسمبر 2025کو شیڈول بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے گزشتہ روز سماعت کے بعد کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔

    کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    درخواست گزار عبدالقادر کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا تھا کہ کوئٹہ میں حلقہ بندیاں 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوئی ہیں حالانکہ 2023 کی مردم شماری نوٹیفائی ہوچکی ہے لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں نئی مردم شماری کے مطابق ہونی چاہئیں،جس پر وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کردیے ہیں۔

    برڈ فلو کے ایک اور کیس کی تصدیق ، لاکھوں مرغیاں تلف کرنیکا فیصلہ

  • نوکنڈی ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنیوالے بی ایل ایف کے نام نہاد انقلابیوں کا اصل چہرہ  بے نقاب

    نوکنڈی ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنیوالے بی ایل ایف کے نام نہاد انقلابیوں کا اصل چہرہ بے نقاب

    نوکنڈی ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے بی ایل ایف کے نام نہاد انقلابیوں کا اصل چہرہ سامنے آچکا ہے۔

    بی ایل اے نے خود کش حملہ آوروں کی تصاویر جاری کیں تو ان کے خاندان والوں کو پتہ چلا کہ ان کے بچے ہیں،پانچوں خود کش حملہ آوروں میں سے کسی ایک کے بھی خاندان، لواحقین، ماں، باپ، بہن بھائی اور رشتے داروں نے فخر نہیں کیا،بلکہ بلوچ قوم کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا اظہار کیا۔

    لواحقین کی گفتگو سن کر یہی پیغام ملتا ہے کہ بی ایل ایف کی پراکسی وار کا حصہ بننے والے یہ کوئی نظریاتی یا انقلابی نہیں بلکہ تعلیم سے باغی نوجوان ہیں،جنہیں نشے کی لت لگی ہوتی ہے،جنہیں معاشرے کا ہر فرد اپنا دشمن نظر آتا ہےاسی کا فائدہ اٹھاکر بی وائی سی جیسے پلیٹ فارم ان کی ذہن سازی کرتے ہیں اور پھر انہیں بی ایل اے/ بی ایل ایف میں بھرتی کرلیا جاتا ہے۔

    پنجاب میں4 سال بعد آٹھویں کے بورڈ امتحانات کا اعلان

    ان دہشتگردوں کے لواحقین نے واضح طور پر بی وائے سی کو بھی قصور وار قرار دیا ہے بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے یہی سبق ہے کہ تعلیم اورشعور کاہتھیار اٹھائیں،ورنہ یہ مسلح تنظیمیں آپ کو اسی موڑ پر لےآئیں گی جہاں آج یہ لواحقین ہیں،نہ یہ اپنے بچوں کے جنازے ادا کرسکتے ہیں،نہ انہیں دیکھ سکتے ہیں،نہ ان کا نام لے سکتے ہیں،یہ مسلسل کرب کی زندگی ہے

    https://x.com/IntelPk_/status/2003803949934227913?s=20

    بلوچ قوم ان لواحقین کے درد کو سمجھیں،وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ اپنے بچوں کو کسی صورت تعلیم،شعور سے دور مت ہونے دیں، سیکیو رٹی فورسز کی اہمیت اجاگر کریں،انہیں بتائیں کہ سیکیورٹی فورسز اگر سیسہ پلائی دیوار نہ ہوں تو یہ دہشتگرد تنظیمیں پورے بلوچستان کے نوجو انوں کا مستقبل کھا جائیں۔

    90 سالہ شخص کی 25 سالہ لڑکی سے شادی، ویڈیو

  • بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مزید بہتر بنانے اور سیکیورٹی فیصلوں کو ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سیل قائم کر دیا۔

    حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہے جو بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر (بی آئی ایس اے) سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے جرائم، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سیل کا بنیادی مقصد جرائم کے رجحانات کی نشان دہی، خطرناک علاقوں میں ممکنہ خطرات کی قبل از اطلاع اور سیکیورٹی رجحانات کا تجزیہ کرنا ہے، اس سے حکومت کو کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے قبل حفاظتی اقدامات کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی،سیل حساس سکیورٹی ڈیٹا کی مکمل رازداری یقینی بناتے ہوئے ثبوت پر مبنی اور ڈیٹا ڈریون فیصلہ سازی میں معاو نت فراہم کرے گا۔

    سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، ضیا الحسن لنجار

    محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اے آئی سیل باقاعدہ تجزیاتی رپورٹس تیار کر کے پالیسی سازی اور آپریشنل پلاننگ میں مدد دے گا، اس کے علاوہ، ریسرچ اور تیکنیکی ترقی کے لیے کوئٹہ میں قائم یونیورسٹیوں اور اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

    بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، یہ سیل نہ صرف موجودہ سیکیورٹی انفرا اسٹرکچر کو مضبوط بنائے گا بلکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کی پیشگوئی کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گاماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ڈیٹا پر مبنی فیصلے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے-

    ایف آئی اےنے ائیرپورٹس کو آئی سی 4نظام سےمنسلک کردیا

    حکومت بلوچستان نے اس اقدام کو ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس کی طرف ایک سنگ میل قرار دیا ہے اور اے آئی سیل کا قیام ان کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک نئی پیش رفت ہے۔

  • چاغی :آئل ٹینکر اور گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم، 10 افراد جاں بحق 6 زخمی

    چاغی :آئل ٹینکر اور گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم، 10 افراد جاں بحق 6 زخمی

    بلوچستان کے ضلع چاغی میں تیل بردار آئل ٹینکر اور مسافر بردار گاڑی کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق جب کہ 6 زخمی ہو گئے،3 زخمیوں کی حالت تشویشناک-

    پولیس ذرائع کے مطابق حادثہ تحصیل نوکنڈی کے قریب ریکوڈک سائٹ روڈ پر پیش آیا، جہاں پی ایس او کے آئل ٹینکر اور گاڑی آپس میں ٹکرا گئے حادثے میں گاڑی کے ڈرائیور سمیت 10 افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت خدائے نظر کے نام سے ہوئی ہے، جو تفتان کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

    جاں بحق ہونے والے دیگر افراد کے بارے میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق افغانستان سے ہو سکتا ہے، جو غیر قانونی طور پر پاکستان کے راستے ایران جانا چاہتے تھےحادثے کے بعد زخمیوں اور جاں بحق افراد کی لاشوں کو نوکنڈی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جب کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔