امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جس کے باعث دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔
سی این این کے مطابق فتنہ الخوارج (FAK) اور فتنہ الہندوستان (FAH) سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد امریکی ساختہ رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی آسان دستیابی نے دہشت گرد حملوں کی نوعیت اور شدت میں واضح اضافہ کیا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
امریکی سرکاری نگرانی کے ادارے سیگار کے سربراہ جان سوپکو کے مطابق امریکی انخلا کے وقت افغانستان میں تقریباً تین لاکھ امریکی ہتھیار چھوڑے گئے تھے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کے دوران یہی جدید امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اور اس مسئلے نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان افغان حکام اور بین الاقوامی برادری کو متعدد بار شواہد فراہم کر چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔
Category: بلوچستان
-

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردوں کے زیر استعمال : امریکی نشریاتی ادارہ
-

نوشکی میں عوامی خدمت روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون
اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون نے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے کوشش کی کہ وہ نوشکی کے عوام کی خدمت نہ کر سکیں، تاہم انہیں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان سے متعلق بیان میں اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون نے بتایا کہ 31 جنوری کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے ڈپٹی کمشنر نوشکی اور ان کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا مقصد یہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمات انجام نہ دے سکے، مگر ان کی یہ کوشش ناکام رہی۔
ماریہ شمعون نے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں پاک فوج مسلسل ہمارے شانہ بشانہ رہی اور ہمیں بحفاظت گھروں تک پہنچایا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر نوشکی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، کور کمانڈر کوئٹہ اور آئی جی ایف سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرا خاندان ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تعاون کے معترف ہیں۔
انہوں نے نوشکی سمیت بلوچستان کے عوام کو پیغام دیا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قسم کے حالات میں عوام کی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کبھی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔ -

بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کامیاب قرار
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کو کامیاب قرار دیا-
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے متعلق انتخابی عذرداری کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں باپ پارٹی کے امیدوار صالح بھوتانی کی درخواست منظور کر لی گئی عدالت نے صالح بھوتانی کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں پی بی 21 سے کامیاب امیدوار قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ صالح بھوتانی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا تھا پیپلز پارٹی کے امیدوار علی حسن زہری کی درخواست پر حلقہ پی بی 21 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد انتخابی نتائج متنازع بن گئے تھے فیصلہ 29 جنوری کو محفوظ کیا گیا تھا چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 29 جنوری کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنا دیا گیا ہے۔
-

گوادر میں دھماکوں کی خبریں بے بنیاد قرار، سیکیورٹی فورسز نے آئی ای ڈیز ناکارہ بنا دیں
گوادر میں دھماکوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں غلط اور گمراہ کن قرار دے دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گوادر میں کسی قسم کا دھماکہ یا حملہ پیش نہیں آیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ معمول کی نگرانی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے متعدد دیسی ساختہ بم برآمد کیے، جنہیں طے شدہ سیکیورٹی طریقۂ کار کے تحت محفوظ انداز میں ناکارہ بنا دیا گیا۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ایسی جھوٹی اطلاعات کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور انہیں آگے پھیلانے سے گریز کریں۔ -

ڈیرہ غازی خان میں پنجاب سے بلوچستان جانے والے تمام راستے بند
ڈیرہ غازی خان میں پنجاب سے بلوچستان جانے والے تمام زمینی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان کے مطابق بلوچستان جانے والی اہم شاہراہیں فورٹ منرو کے راستے اور تونسہ۔موسیٰ خیل روڈ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث مسافر فی الحال ڈی جی خان کے ذریعے بلوچستان سفر نہیں کر سکتے۔
ڈپٹی کمشنر کے احکامات کے بعد بلوچستان سے ملنے والے سرحدی علاقوں بواٹہ اور سخی سرور پر بھی ٹریفک کو روک دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے اندرونِ ملک اور چمن کے لیے ٹرین سروس آج دوسرے روز بھی معطل رہی۔ پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس اور چمن کے لیے مسافر ٹرین روانہ نہ ہو سکیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ -

بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ، ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں عائد
بلوچستان حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں اسلحے کی نمائش اور استعمال، ڈبل سواری، کالے شیشوں والی اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی، 5 یا زائد افراد کے اجتماعات، جلسے جلوس اور چہرہ ڈھانپنے پر بھی ایک ماہ کے لیے پابندی ہوگی پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 مختلف واقعات کے بعد کوئٹہ شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جبکہ موبائل فون انٹر نیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی،شہر کے پوش علاقوں کے راستے سیل کر دیے گئے، امن و امان بحال کرنے کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں،شہر بھر میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران درجنوں مشکوک افراد حراست میں لیے گئے۔
دوسری جانب، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس دوسرے روز بھی معطل ہے،زشتہ روز دہشت گرد حملوں کے بعد انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی تھی تاہم انٹرنیٹ سروس معطل ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے ہوئے تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 40 گھنٹوں کے اندر کارروائیاں کرتے ہوئے 145 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا، جن کی لاشیں حکام کے پاس موجود ہیں، ان حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے 17 جوان، جن میں پولیس اور ایف سی اہلکار شامل ہیں، شہید ہوئے، جبکہ 31 شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
-

محسن نقوی کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد، زخمی اہلکاروں کی عیادت
کوئٹہ:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دہشت گرد حملوں میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر نے زخمی اہلکاروں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے ان کی جرات اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے زخمی اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے شیروں کی طرح دہشت گردوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اور انہیں ناکام بنایا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش ناکام بنانے پر آپ کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں آپ ہمارے شیر ہیں اور قوم آپ کے ساتھ ہے۔
زخمی پولیس اہلکاروں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحتیاب ہو کر دوبارہ دہشت گردی کے خلاف میدان میں اتریں گےہمارے جذبے بلند اور عزم پختہ ہیں، ہم فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کو نیست و نابود کریں گے، فتنۃ الہندوستان کے ناسور کے خاتمے کے لیے ہماری اور ہمارے بچوں کی جانیں بھی حاضر ہیں۔
-

ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا،وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہعسکریت پسندوں کا خیال تھا کہ وہ پنجگور، شبان اور کوئٹہ کے شمالی مشرقی علاقوں میں حملے کریں گے، لیکن سیکیورٹی فرسز کی کوششوں کی وجہ سے وہاں حملے نہیں ہوئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گزشتہ دنوں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات کی تفصیلات پیش کیں بتایا کہ ان واقعات کے بارے میں ہمیں پہلے سے خبر تھی، اس لیے ایک دن پہلے ہی آپریشنز شروع کیے، عسکریت پسندوں کا خیال تھا کہ وہ پنجگور، شبان اور کوئٹہ کے شمالی مشرقی علاقوں میں حملے کریں گے، لیکن سیکیورٹی فرسز کی کوششوں کی وجہ سے وہاں حملے نہیں ہوئے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے جن کی لاشیں بھی ہمارے پاس ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتنے کم عرصے میں اتنی زیادہ ہلاکتیں ایک دن میں نہیں ہوئی تھیں، پورے سال میں 1500 سے زائد دہشتگرد مارے گئے تھے، نوشکی میں کلیئرنس آپریشن میں وقت لگا لیکن اب قابو میں آگیا ہے۔
پاکستان کا خوف :بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے 17 جوان ان حملوں میں شہید ہوئے جن میں پولیس اور ایف سی شامل ہیں، 31 سیویلینز شہید اور زخمی ہوئے، دہشتگرد جہاں گئے سیف سٹی کیمروں کو نشانہ بناتے رہےان واقعات میں سب سے دردناک واقعہ گوادر میں پیش آیا جہاں ایک خضدار سے تعلق رکھنے والے بلوچ گھرانے کو دہشتگردوں نے شہید کردیا، جن میں 5 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، یہ قومیت کی جنگ نہیں دہشت کی جنگ ہے جس میں بلوچوں کو ایندھن بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے لیڈر نے اسے آزادی کی جنگ قرار دی لیکن ایک یونین کونسل کو بھی آزاد نہیں کراسکتے، اگر اتنی سکت نہیں تو بلوچوں کو ایندھن کیوں بناتے ہو؟ اس جنگ کو محرومی اور غیرمنصفانہ ترقی سے جوڑا جارہا ہے جو غلط ہے یہ ہمیں غیرمستحکم کرسکتے ہیں مگر ایک انچ بھی زمین نہیں لے سکتے، وہ ہم سے سرنڈر کرانا چاہتے ہیں مگر ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا۔
عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ یہ کہنے والے کہ طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، آئیں اور کسی دوسرے طریقے سے مسئلہ حل کرا کر دکھائیں، یہاں طاقت کا استعمال کبھی نہیں ہوا ہے، قوم پرستی کے نام پر تشدد کو جواز نہیں بخشا جاسکتا، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے دور لے جایا جارہا ہے لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نوجوانوں اور عوام کو ساتھ لے کر چلیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان میں موجود اسلحہ استعمال ہوا، دہشتگرد افغانستان میں پناہ حاصل کرتے ہیں، کسی بھی جگہ ان کا قبضہ نہیں ہوا، کوئٹہ میں میں خود پھرتا رہا،صوبے میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ان کے لواحقین کے دیکھ بھال کی ذمہ داری ہماری ہے۔
پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار
-

بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام، 2 روز میں 3 خودکش بمباروں سمیت 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ 2 روز میں مجموعی طور پر 133 دہشتگرد مارے گئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے گردونواح میں متعدد دہشتگرد کارروائیاں کرکے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی غیر ملکی آقاؤں کی ہدایت پر کی جانے والی ان بزدلانہ دہشتگرد کارروائیوں کا مقصد مقامی آبادی کی زندگی کو مفلوج کرنا اور بلوچستان کی ترقی کو نقصان پہنچانا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کے دوران ضلع گوادر اور خاران میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دہشتگردوں نے بدنیتی سے 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کرگئے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ تھے اور انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی
آئی ایس پی آر کے مطابق بہادر افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں طویل، شدید اور جرات مندانہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیاکلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان انسانیت سوز و بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، معاونین اور حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر سرگرم دہشتگرد عناصر نے منصوبہ بندی کے تحت کروائے، جو پورے واقعے کے دوران دہشتگردوں سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
پیپلز پارٹی نے سیاست کے بجائے ریاست کے مفاد کو ترجیح دی، راجا پرویز اشرف
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں سیکیورٹی فورسز ’عزم استحکام‘ کے تحت غیرملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 41 دہشت گرد مارے گئے تھے گزشتہ 2 دنوں کے دوران کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔
ٹیلی گراف نے مودی دور کی بدترین سفارتی ناکامیوں کا پردہ چاک کر دیا
-

چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ،محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے کرنے والے تمام 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے پلان کر کے حملے کیے جن کو ناکام بنادیا گیا اور آپریشن مکمل ہوگیا جس میں موجود تمام دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا دو روز میں 108 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں آج کے حملوں میں پولیس، ایف سی اور آرمی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے داستان رقم کردی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے منصوبہ بندی سے حملے کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی بہادر آدمی ہیں جو اس صورت حال کا سامنا کررہے ہیں، چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کیا کہ آپریشن مکمل ہوگیا تاہم حتمی تفصیلات اب آنا باقی ہیں، گوادر میں لیبر کالونی میں بلوچ شہریوں کو قتل کیا گیا جسکی شدید مذ مت کرتے ہیں، فورسز نے بھرپور اور بہترین ردعمل دے کر فتنہ الہندوستان کا مورال مزید کم کردیا کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کا تعاقب کر کے ٹھکا نے لگایا جائے گا،لیکن ایسے 10 حملے بھی دہشتگردی کے خلاف ہمارا عزم کمزور نہیں کر سکتے ہماری فورسز نے دہشتگردوں کو بھرپور اور بروقت جواب دیا، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن قریباً مکمل ہو چکا ہے، اور اب صرف تفصیلات آنا باقی ہیں، مصروفیات ترک کرکے کوئٹہ پہنچنے پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں-
واضح رہے کہ فتنہ الہندوستان کے مسلح شرپسندوں نے 12 مقامات پر حملے کیے جس پر فورسز نے ردعمل دیتے ہوئے 67 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گوادر کی لیبر کالونی میں دہشت گردوں نے 11 بلوچ افراد کو قتل کیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔