پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں بلوچستان کے عوام کیلئے “پیپلز ایئر ایمبولینس” سروس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جس کا مقصد دور دراز علاقوں میں فوری طبی امداد اور مریضوں کی ہنگامی فضائی منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔
افتتاحی تقریب کے دوران حکام نے بتایا کہ بلوچستان جیسے وسیع اور دشوار گزار صوبے میں یہ ایئر ایمبولینس سروس قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں فوری طبی سہولیات تک رسائی مشکل ہے۔
پیپلز ایئر ایمبولینس میں جدید طبی آلات، آکسیجن سسٹم، مانیٹرنگ مشینیں اور ایمرجنسی میڈیکل سہولیات نصب کی گئی ہیں تاکہ دورانِ سفر مریضوں کو مکمل طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔
حکام کے مطابق اس خصوصی ایئر ایمبولینس میں نوزائیدہ بچوں کی ہنگامی منتقلی کیلئے جدید انکیوبیٹر بھی نصب کیا گیا ہے، جس سے قبل از وقت پیدا ہونے والے یا شدید بیمار بچوں کو محفوظ انداز میں بڑے اسپتالوں تک منتقل کیا جا سکے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ایئر ایمبولینس سروس حادثات، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس کو مؤثر بنائے گی اور دور افتادہ علاقوں کے مریضوں کیلئے امید کی نئی کرن ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں بہتری، جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور عوام کو بروقت علاج مہیا کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور صوبے کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی وہی سہولیات ملنی چاہئیں جو بڑے شہروں میں دستیاب ہیں۔
Category: بلوچستان
-

بلاول بھٹو نے بلوچستان کیلئے پیپلز ایئر ایمبولینس سروس کا افتتاح کر دیا
-

گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر لاپتہ
کوئٹہ میں گوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے۔
دونوں اعلیٰ تعلیمی افسران گزشتہ روز گوادر سے کوئٹہ آرہے تھے کہ راستے میں ان سے رابطہ منقطع ہوگیا، جبکہ یونیورسٹی ذرائع نے مستونگ کے علاقے میں اغوا کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہےگوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد سرکاری گاڑی میں کوئٹہ جارہے تھے۔
پولیس کے مطابق واقعے میں ایک لیکچرار اور گاڑی کا ڈرائیور بھی لاپتہ ہوئے ہیں یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افسران ممکنہ طور پر مستونگ کے علاقے میں گاڑی سمیت اغوا ہوئے، جبکہ ان سے آخری رابطہ بھی مستونگ کے قریب ہوا تھا۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افسران کی فیملیز سے رابطے میں ہیں اور ان کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں دونوں افسران کے مستونگ کے اطراف پہنچنے کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھاانتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری کوشش کررہے ہیں کہ لاپتہ افراد کا جلد سراغ لگایا جاسکے۔
-

ایران نے مسلح بلوچ گروپ کے رکن کو پھانسی دے دی
ایران نے بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ کے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق ایران نے ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح بلوچ گروہ ’انصار الفرقان‘ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ رکن کو پھانسی دے دی ہے اس کارروائی کو ایران کے شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلا ف ہونے والی مسلح بغاوت کو کچلنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صوبہ سیستان بلوچستان طویل عرصے سے ایرانی سیکیورٹی فورسز اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان تصادم کا مرکز رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے قیدی کی شناخت عبدالخلیل شاہ بخش کے نام سے ہوئی ہے جس پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف مسلح بغاوت اور ایک دہشت گرد گروہ کی رکنیت سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ عبدالخلیل شاہ بخش پر الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی، جس کی بعد میں ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اکثر ایران میں ہونے والی ان سزاؤں پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے عدالتی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
-

وزیراعلیٰ بلوچستان سے ایشین بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ژیاؤچن ایما فین نے ملاقات کی-
ملاقات میں بلوچستان میں آبی وسائل، زراعت، معدنیات و کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی، ایشیائی ترقیاتی بینک نے کچھی کینال سمیت بلوچستان کے آبی و زرعی ترقیاتی منصوبوں میں وسیع المدتی سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، اس موقع پر تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اسکلز ڈویلپمنٹ اور روزگار کے قابل عمل منصوبوں میں اشتراکی حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ترقیاتی عمل میں عالمی اور قومی ڈویلپمنٹ پارٹنرز کو خوش آمدید کہتے ہیں حکومت بلوچستان میں قابل عمل اور منافع بخش شعبوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے، محدود ترقیاتی وسائل کے باوجود عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی حکمت عملی پر عمل درآمد اور پسماندگی کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے تاہم صوبائی حکومت عوامی مفاد پر مبنی دیرپا ترقیاتی ترجیحات کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے 10 سالہ جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور صوبے کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور پرکشش خطہ بنایا جا رہا ہے،حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت اور سیکیورٹی فراہم کرے گی اور میگا منصوبوں کی تکمیل و تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے،ترقیاتی منصوبوں اور نئے مواقع کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، بلوچستان میں 3200 بند اسکول دوبارہ کھولے جا چکے ہیں جبکہ 2100 کمیونٹی بیسڈ نئے اسکول بھی قائم کیے گئے ہیں، اب حکومت کی توجہ معیاری تعلیم اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز ہے،گڈ گورننس اور میرٹ کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں تاکہ صوبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
-

مدارس کی بندش سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی-
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا تالہ بندی کا نہ تو کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہے ، اس حوالے سے محض غلط فہمیاں پھیلائی گئیں،دینی مدارس ہمارے معاشرے کا ناگزیر حصہ ہیں اور حکومت انہیں دل کے قریب سمجھتی ہے مدارس کی ترقی اور بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ ’مدارس رجسٹریشن ایکٹ‘ اب بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونا ہے، جس کے حوالے سے جمعیت کی قیاد ت سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور مولانا عبدالواسع نے اس ضمن میں اپنے مطالبات سامنے رکھے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھیوں نے مولانا عبدالواسع سے 10 دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ اس اہم معاملے پر اپنی پارٹی قیادت کو مکمل اعتماد میں لیا جا سکے۔
انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ بلوچستان اسمبلی میں تمام فریقین کے اتفاقِ رائے سے قانون سازی کی جائے گی اور یہ مسئلہ انشاء اللہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا،سرفراز بگٹی نے جے یو آئی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جانب سے ملنے والی عزت اور شفقت کے مشکور ہیں۔
-

بلوچستان میں ایف سی کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ، نیا ہیڈکوارٹر قائم
حکومت نے بلوچستان میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں ایف سی بلوچستان (ویسٹ) کے نام سے نیا ہیڈکوارٹر قائم کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے 25 اپریل کو بلوچستان میں ایف سی کے نئے ہیڈکوارٹرز کے قیام کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اب اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا اور فورس کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ہیڈکوارٹر کے قیام سے ایف سی کی کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، جس سے صوبے کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی موجودگی اور استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے، اور یہ فیصلہ اسی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ -

چمن میں کانگو وائرس کا کیس، محکمہ صحت الرٹ
چمن کے علاقے کلی حسن ٹھیکیدار میں کانگو وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے فوری الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق 11 سالہ بچی فرشتہ میں خطرناک وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد اسے فوری طور پر فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں اسے خصوصی طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ مویشیوں کے ذریعے ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد علاقے میں احتیاطی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔
علاقے میں خبر پھیلتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر متحرک ہو اور مویشی منڈیوں سمیت متاثرہ علاقوں میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب سندھ میں بھی کانگو وائرس سے ایک افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا جہاں 17 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ نوجوان سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال میں زیر علاج تھا اور اس میں گزشتہ روز وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ نوجوان مویشیوں کی دیکھ بھال سے وابستہ تھا، جہاں سے وائرس منتقل ہونے کا امکان ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کانگو وائرس عموماً چیچڑی کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جو بعد ازاں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ عیدِ قربان کے قریب آتے ہی اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ -

بنوں: سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک
بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 2 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں خارجی رنگ کا لیڈر وحید اللہ عرف مکتیار اور ایک خودکش بمبار شامل ہے، جن سے خودکش جیکٹ، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہلاک ہونے والا خارجی رنگ لیڈر حید اللہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور معصوم شہریوں پر حملوں سمیت متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث اور انتہائی مطلوب تھا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ حید اللہ 21 فروری 2026 کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کا بھی مرکزی سہولت کار تھا، جس میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید ہوئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کامیاب کارروائی سے نہ صرف بڑے دہشتگرد نیٹ ورک کو نقصان پہنچا بلکہ بروقت ایک بڑی تباہی بھی ٹال دی گئی، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں مزید دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے خاتمے پر بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں قوم کو سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں پر فخر ہے اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
-

بلوچستان: دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، صوبے کی پہلی خاتون اہلکار سمیت 3 شہید
خضدار پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہیڈ کانسٹیبل اور صوبے کی پہلی خاتون کانسٹیبل شہید جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او اور ایک اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز سولر پلیٹوں کی چوری کے حوالے سے پولیس نے علاقے باجوئی میں چھاپہ مارا تو وہاں موجود دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل ملک ناز بی بی اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ موقع پر شہید ہوگئے ، ایڈیشنل ایس ایچ او محمد ابراہیم اور کانسٹیبل نجیب الرحمن زخمی ہوئے ، مزید کارروائی پولیس کررہی ہے۔
ادھر دشت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے دہشت گردوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار شہید جبکہ سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر سمیت چھ جوان شدید زخمی ہو گئے،دہشت گردوں نے فورسز کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ اور دستی بموں سے حملے کئے جس میں ہیڈ کانسٹیبل ایس پی سریاب کا ریڈر رحمت اللہ موقع پر ہی شہید جبکہ سی ٹی ڈی کا سب انسپکٹر جاوید گل، کانسٹیبل نیاز احمد ،سریاب پولیس کا اے ایس آئی وقار احمد ، ہیڈ کانسٹیبل نور اللہ، کانسٹیبل عبدالعلیم اور کانسٹیبل تاج محمد شدید زخمی ہو ہوئے۔
-

بلوچستان میں بارشوں کی تباہ کاریاں، 12 افراد جاں بحق
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں کے باعث تباہ کاریاں جاری ہیں، جہاں مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہو چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 19 مارچ سے شروع ہونے والی بارشوں نے کئی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
محکمہ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادارہ ہائی الرٹ ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث 65 مویشی ہلاک ہو گئے جبکہ 160 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق شمال مشرقی بلوچستان میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ایسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔