انتخابی مہم اور عام انتخابات میں ہزاروں ٹن پلاسٹک استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے،لاکھوں پینا فلیکس اور بینرز بننے سے فضائی آلودگی کا خدشہ ہے،غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے الیکشن کمیشن سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن میں عام انتخابات میں پلاسٹک کے پینا فلیکس پر پابندی کیلئے درخواست دائرکردی گئی ،الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عام انتخابات میں سیاسی امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم میں لاکھوں ٹن پلاسٹک کا استعمال کیا جائے گا،پلاسٹک کے پینافلیکس،بینرز انتخابی نشان پر پابندی لگائی جائے ،درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایسی پالیسی بنائے کہ انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پاپندی لگائی جائے،8 فروری کو انتخابات میں ووٹروں کیلئے کھانے پینے کے انتظامات میں ڈسپوزیبل میٹریل استعمال کیا جائے گا، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے جاری کردہ ماحول دوست نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کروائے،غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے گورنمنٹ پنجاب اور اسلام آباد یائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی۔
Category: پنجاب

پنجاب حکومت کو ایک ارب 19 کروڑ روپے درکار
عام انتخابات کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور نفری کے کھانے پینے، پیٹرول اور خریداری کے لیے ایک ارب 19 کروڑ روپے درکار ہونگے ، پنجاب پولیس ذرائع کے مطابق جلسوں، جلوسوں کی مانیٹرنگ اور الیکشن کے لیے آئی جی آفس لاہور میں کنٹرول روم بنا دیا گیا جبکہ پولنگ اسٹیشن کا ازسر نو سروے کرکے پولنگ اسٹیشنز کی اسکیم بھی الیکشن کمیشن کو بھجوادی گئی۔ پولیس حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مطلوبہ فنڈ سے الیکشن کی ڈیوٹی پر تعینات نفری کے کھانے پینے، پیٹرول اور سیکیورٹی اشیا کی خریداری کی جائے گی، فنڈز میں 53 کروڑ پیٹرول کی مد میں جبکہ 66 کروڑ روپے کھانے پینے اور سیکیورٹی آلات کے لیے طلب کیے ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ کنٹرول روم اے آئی جی آپریشنز کی سربراہی میں کام کرے گا جبکہ کنٹرول روم میں 15 ڈیٹا انٹری آپریٹرز اضافی تعینات کردیے گئے، کنٹرول روم سے جلسے، جلوسوں کے دوران تمام خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹس لی جائیں گی۔48 ہزار 817 پولنگ اسٹیشنز میں 5 ہزار 624 انتہائی حساس، 14ہزار 72 حساس اور 30 ہزار کے قریب نارمل ڈیکلئیر کیے گئے ہیں۔پنجاب پولیس نے کہا کہ تمام اضلاع میں کنٹرول روم میں بروقت رپورٹس کے لیے افسران کو فوکل پرسنزمقرر کیا گیا ہے، الیکشن ڈے پر ڈیوٹی کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار جوان ڈیوٹی سرانجام دیں گے
دانیال عزیز پی ٹی آئی کو خوش کرنے کے لئے ہم پہ الزامات نہ لگائے،احسن اقبال
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ دانیال عزیز پی ٹی آئی کو خوش کرنے کے لئے پی ایم ایل این پر الزم لگا رہا ہے کہ انہوں نے مہنگائی کر دی، میں این اے 75 میں کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دوں گا۔ شکر گڑھ میں خطاب کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ دانیال عزیز کے والد 1960 سے سیاست میں ہیں، ان کے کاموں کی کوئی مثال دے دیں۔ انور عزیز کا بیٹا دانیال عزیز، اب مجھےکہہ رہا ہے کہ میں نے مہنگائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق بانی پی ٹی آئی کر کے گیا ہے،
اُن کا کہنا تھا کہ پوچھتا ہوں دانیال عزیز این اے 75 میں اپنا کوئی ترقیاتی منصوبہ بتادیں، انہوں نے اپنے حلقے میں کوئی سڑک، یونیورسٹی یا اسپتال بنایا ہو تو دکھادیں۔
ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ دانیال عزیز کہہ رہا ہے 16 مہینوں میں مسلم لیگ ن نے منہگائی کی ہے، وہ پی ٹی آئی کو خوش کرنے کے لیے ذمے دار مسلم لیگ (ن) کو قرار دے رہے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ حلقے میں کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دوں گا، این اے 75 سے جس امیدوار کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دیا گیا ہے، وہ تھانے کی سیاست نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ حلقہ پی پی 55 جس امیدوار کو ٹکٹ دیا، یہ بھی عظیم باپ کا بیٹا ہے، 8 فروری کے الیکشن میں نواز شریف وزیر اعظم بنیں گے، وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بننےجا رہی ہے۔
جہانگیر ترین نے الیکشن کمپین چلانے کا آغاز کر دیا
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین نے لودھراں کے حلقہ این اے 155 سے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ سیاسی مخالفت کی وجہ سے رکنے والے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے، عوام نے مجھے ہمیشہ عزت دی ہم نے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ہےانتخابی مہم بھرپورطریقے سے چلانے کا عزم لئے لودھراں کے آئی پی پی رہنماؤں، کارکنوں سے ملاقاتیں شروع کر دیں، جہانگیر ترین کا کہنا ہے، معیشت کو طاقتور کرنا اور مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے، کسانوں کو ان کا حق دیں گے۔ جہانگیر ترین نے مزید کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنا کر یہاں کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے، ہم نے اجتماعی کام کرنے ہیں جس سے عوام خوشحال ہو، اگر ملک تگڑا ہو گا تو ہم بھی تگڑے ہوں گے،ملک کو ترقی کی راہ پر ہر صورت گامزن کریں گے۔

لیول پلیئنگ فیلڈ کیلئے آئے تھے، ہم سے فیلڈ ہی چھین لی گئی، لطیف کھوسہ
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن اتنی بدنیت ہے کہ عمران خان کو جیل میں جا کر توہینِ عدالت کا نوٹس دیتے ہیں، بلکہ کمیشن کی شکایت پر عمران خان کو سزا ہوتی ہے۔ اور ہمارا انتخابی نشان عین الیکشن سے پہلے چھین لیا جاتا ہے۔ کہا ہے کہ عجیب و غریب انتخابی نشان دے کر پی ٹی آئی کو مذاق اڑایا گیا۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ عوام کی عدالت میں جارہےہیں، عدالت سے انصاف کی اُمید نہیں جس اُمیدوار پر عمران خان کی مہر لگے گی وہی جیتے گا، لیول پلیئنگ فیلڈ کیلئے آئے تھے، ہم سے فیلڈ ہی چھین لی گئی۔ انھوں نے کہا ’ہمارے انتخابی اتحاد کو توڑا گیا۔ الیکشن کمیشن اس قدر مستعد ہے کہ 13 جنوری کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے کہ ایک پارٹی والا دوسرا پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ اس کا مقصد تھا کہ یہ پوری تحریک انصاف کو ایک نشان نہیں دینا چاہتے تھے۔ یہ چاہتے تھے بلا یا بلے والا نہ ملے، مخصوص نشستیں نہ ملیں اور تحریک انصاف کو تِتر بتر کیا جائے۔ یہ 25 کروڑ عوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا ہے۔ لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’ہمار انتخابی نشان رات ساڑھے گیارہ بچے ختم کیا گیا۔ ہمارے امیدواروں کو آزاد تصور کر کے مختلف نشان دیے گئے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہماری 230 مخصوص نشستیں بھی ختم کر دی گئیں۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھاالیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے انتخابات میں مداخلت کرے۔ 13 افراد کی شکایت پر یہ سب ہوا، جو تحریک انصاف کے ڈھائی کروڑ کارکنوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ بدقسمتی سے یہ سب عدالتی فیصلے میں سرائیت کر گیا کہ سینیئر ممبر (اکبر ایس بابر) کو الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا۔ ہم عوام کی عدالت میں جا رہے ہیں۔ ہمیں الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’لیول پلیئینگ فیلڈ کی کیا بات کر رہے ہیں، آپ نے تو فیلڈ ہی چھین لی ہے۔ الیکشن کمیشن صرف انتخابی نشان لے سکتی ہے ہماری پارٹی ابھی موجود ہے۔ ہمارا ووٹ بینک ابھی موجود ہے۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے بلے کے نشان کی واپسی کے بعد پی ٹی آئی کے نامزد امیدواروں کو بینگن، چمٹا، چینک، حقہ،ٹربین جیسے انتخابی نشانات دیے ہیں۔
انسداد دہشتگردی عدالت، سابق چیئرمین عمران خان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ 9 مئی کے 12 مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ عدالت نے 9 مئی مقدمات میں سابق چئیرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ملک اعجاز نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف سانحہ 9 مئی سے متعلق درج 12 مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز آصف نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالتی فیصلے کے بعد تمام تھانوں کی تفتیشی ٹیمیں ایک ساتھ ہی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے تفتیش کرسکیں گی۔عدالت نے حکم دیا کہ بانی چییرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے باہر نہیں لے جایا جاسکے گا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے 11 جنوری کو مکمل تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ مقدمے کی اگلی سماعت 11 جنوری کو صبح 10 بجے اڈیالہ جیل میں ہی ہوگی۔
توشہ خانہ کیس میں میرے خلاف ایک آفس بوائے کو وعدہ معاف گواہ بنایا گیا۔ عمران خان
راولپنڈی میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کو ختم کرنے کے فیصلے سے متعلق سوال کے جواب میں جواب دینے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں میرے خلاف ایک آفس بوائے کو وعدہ معاف گواہ بنایا گیا۔ بانی پی ٹی آئی نے سوال اٹھایا کہ کیا میں آفس بوائے کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کروں گا؟
صحافی نے سوال کیا کہ تاحیات نااہلی ختم ہونے سے ہوسکتا ہے مستقبل میں آپ کو بھی فائدہ ہو جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اس پر کچھ نہیں کہوں گا۔صحافی نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی ختم کردی ہے اس پر کیا کہیں گے؟ جس کے جواب میں عمران خان کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات نہیں کروں گا۔بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میرے مخالفین پر جو کیس بنائے گئے تھے وہ ہم نے نہیں بنائے، پہلے کے بنے ہوئے تھے۔ جب ان سے شیخ رشید کے خلاف امیدوار کھڑا کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ ہماری سیاسی ٹیم کرے گی کہ کون سا امیدوار کہاں کھڑا کرنا ہے۔
آئی پی پی اور ن لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گئی ، آئی پی پی کو قومی کی 7 اور صوبائی اسمبلی کی 11 سیٹیں دیے جانے کا امکان ہے۔ اس نے قومی کی 13 اور صوبائی اسمبلی کی 22 سیٹوں کا مطالبہ کیا تھا۔علیم خان کو این اے 117 اور عون چوہدری کو این 128 لاہور میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔جہانگیر ترین کو لودھراں کے بجائے این اے 149 ملتان سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔نعمان لنگڑیال کو ساہیوال اور انجینئر گل اصغر کو خوشاب، عامر کیانی کو اسلام آباد اور غلام سرور خان کو راولپنڈی سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔دوسری جانب آئی پی پی کی فردوس عاشق اعوان، ہمایوں اختر اور رانا نذیر ایڈجسٹ نہیں ہوں گے۔
فیصل آباد سے فرخ حبیب اور ساہی وال سے نوریز شکور کو بھی ایڈجسٹ نہیں کیا جائے گا۔
مرغی کے گوشت کی قیمت میں تین دن کے دوران 54 روپے کا اضافہ
ملک بھر میں مہنگائی کا راج ،جہاں کھانے پینے کے دوسرے اشیاء ضرورت کی چیزوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے وہاں راولپنڈی ، اسلام آباد اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں برائلر مرغی کے فی کلو گوشت کی قیمت 600 روپےسے اوپر ہو گئی ، جبکہ زندہ برائلر تھوک مارکیٹ میں 440 روپے اور پرچون میں 502 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ زندہ مرغی کے سرکاری نرخ 324 روپے کلو ہے۔ گھی، دالیں، چاول، لہسن، آلو اور مرغی سمیت 29 اشیا مہنگی ہو گئیں،اس کے علاوہ فارمی انڈوں کی فی درجن قیمت میں مزید 2 روپے کااضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد فی درجن انڈوں کی قیمت قیمت 386 روپے تک پہنچ گئی ہے۔واضح رہے کہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں تین دن کے دوران 54 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

لاہور پر قبضہ جمانے والوں کو انکے گھر میں ہی شکست دینگے،بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج وہ لوگ ہم سے سوال کرتے ہے کہ لاہور کیوں آئے ہو جو جنرل ضیاء کی وجہ سے پنجاب پر مسلط ہے انہی لوگوں کو گھر میں گھس کر ماریں گے۔ لاہور کسی کھلاڑی اور بزنس مین کا شہر نہیں، ذوالفقار علی بھٹو شہید کا شہر ہے، اور میں اپنے شہر سے الیکشن لڑرہا ہوں، آپ نے گھر گھرپارٹی کا پیغام پہنچانا ہے۔لاہور میں الیکشن آفس کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاہور میں ان کا مقابلہ کریں گے، انہیں گھر میں گھس کر ماریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میرے سفیر ہیں اور میری آواز ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح میں بھی لاہور سے الیکشن لڑ رہاہوں، اپنے شہر لاہور آیا ہوں ذوالفقار بھٹو اور بی بی شہید نے یہاں سے الیکشن لڑا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم کیوں آئے ہیں، ہم پوچھتے ہیں وہ کیوں آئے تھے، وہ ضیاالحق اور حمید گل کی وجہ سے یہاں پر مسلط ہوئے، تو کبھی فیض کی وجہ سے اس شہر پرمسلط ہوئے، لیکن ہم کہیں اور نہیں دیکھ رہے، ہمیں نہ پٹواریوں کی اور نہ کسی اور کی ضرورت ہے، صرف عوام کا ساتھ چاہتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم الیکشن لڑنے کے لیے کہیں اور نہیں دیکھ رہے، ہم عوام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا ہے کہ مفت علاج کی سہولت دیں گے جس سے لاہور والوں کو لندن جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بلاول نے کہا کہ ہم غربت، بیروزگاری، مہنگائی کا مقابلہ کریں گے، ہم عوام کی تنخواہیں اور آمدنی کو ڈبل کریں گے، 300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کریں گے اور مفت تعلیم دیں گے،سندھ کےشہروں کی طرح ملک بھرمیں مفت صحت کاعلاج دیں گے۔









