Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے حال ہی میں پشاور چکوال اور تلہ گنگ کا ایک انتہائی کامیاب اور یادگار دورہ مکمل کیا، جس نے ادبی، صحافتی اور معاشرتی میدان میں نئے افق روشن کیے۔ یہ دورہ قلمکاروں کے باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں کی باصلاحیت مرد و خواتین لکھاریوں کو قومی دھارے میں لانے کے اپووا کے غیر متزلزل عزم کی عملی مثال بنا۔

    اپووا کے وفد نے پشاور پہنچنے پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جو اس دورے کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ تھا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور معاشرتی ترقی میں قلمکاروں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات نے اپووا کے مقاصد اور کوششوں کو حکومتی سطح پر نہ صرف پذیرائی دلائی بلکہ مستقبل کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے۔

    گورنر ہاؤس سے ملاقات کے بعد، اپووا کے وفد نے ” چائنہ ونڈو” کا دورہ کیا، جو چین کی ثقافت اور اقدار کو پاکستانی عوام سے متعارف کرانے کا ایک منفرد اور دلکش پلیٹ فارم ہے۔ یہیں اپووا کے پہلے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا، جو خطے میں قلمکاروں کے لیے ایک نئے مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اپووا کی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا، ناز پروین نے اس موقع پر وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا جس میں مقامی کھانوں کی لذت اور روایتی پشاوری قہوے کی مہمان نوازی نے وفد کے دل موہ لیے۔
    apwwa


    پشاور میں اگلا پڑاؤ حیات آباد تھا، جہاں باہمی رشتوں کے احترام کی ایک مثال قائم کی گئی۔ اپووا کے پی کے وومن ونگ کی صدر فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر ان کے شوہر کے انتقال پر تعزیتی ملاقات کی گئی اور حیات آباد میں ہی اپووا کے ریجنل آفس کا بھی افتتاح عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عمر شہزاد اور اپووا کی ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کی جانب سے وفد کے لیے ایک مزیدار ہائی ٹی کا انتظام کیا گیا۔ اور کیک کاٹا گیا ۔اس موقع پر نئے عہدوں کا بھی اعلان کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔


    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی، رانی عندلیب کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کے تاثرات اس دورے کا سب سے متاثر کن اور عزم سے بھرپور حصہ تھے: "میں اپووا کی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی خاتون کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنے وفد میں شامل کر کے گورنر ہاؤس تک لائے جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں خواتین کے فیلڈ میں کام کرنا کو برا سمجھا جاتا ہے، مجھ پر اس سے پہلے تو دو تین حملے ہو چکے ہیں لیکن میں اپنے شوق اور لگن کی وجہ سے کام کر رہی ہوں۔ انتہائی مشکور ہوں کہ اپووا نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس وفد میں شامل کیا”۔ رانی عندلیب کی کہانی عزم، ہمت اور قلم کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپووا کس طرح پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


    پشاور کے بعد، اپووا کا وفد "شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین” تلہ گنگ پہنچا، جو اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، اور متحرک رکن ممتاز اعوان کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہاں بھی اپووا کے ضلعی آفس کا پروقار افتتاح کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے صحافی اور لکھاری شریک ہوئے۔ یہ بھرپور شرکت اپووا کی علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر شیخ فیضان کو اپووا کوارڈینیٹر تلہ گنگ اور چکوال مقرر کیا گیا۔ اس تقریب میں ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا، جو علاقے کے ادبی حلقوں کے لیے ایک خوشگوار آغاز ثابت ہوا۔ یہ دورہ صرف دفاتر کے افتتاح یا ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ قلمکاروں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپووا کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر تھا۔ اس تاریخ ساز دورے نے پاکستان میں ادبی اور صحافتی تحریک کو نئی جہتیں دی ہیں اور نئی نسل کو قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی ہے۔

  •  اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

     اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

    جب سخن و قلم کے چراغ روشن ہوں، اور علم و عرفان کی مہک فضا میں گھل جائے، تو ایسے لمحات تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم ہو جایا کرتے ہیں۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ادبی قافلہ، جو ہمیشہ فکر و فن کے گلدستے لیے ملک بھر کے ادبی چمن کو معطر کرتا رہا ہے، حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی کی خصوصی دعوت پر پشاور روانہ ہوا۔

    یہ مژدہ جانفزا بانی و صدراپووا ایم ایم علی کی پُرخلوص کال پر راقم کو ملا، اور بلا تامل اس فکری سفر میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ، لاہور سے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی زیرقیادت اس قافلے نے ادب و اخلاص کے ساز پر رواں دواں ہو کر بلکسر کی پرنور فضاؤں میں شب بسر کی،سحر ہوتے ہی منزلِ مقصود کی جانب روانگی ہوئی، اور گورنر ہاؤس پشاور کے درو دیوار نے اپووا کے کارواں کو والہانہ خوش آمدید کہا۔ منتظمین کی شائستگی اور تکریم نے اس علمی ملاقات کو مزید باوقار بنا دیا۔گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ساعتِ سعید نصیب ہوئی۔ ملک یعقوب اعوان نے نہایت بلیغ انداز میں اپووا کا تعارف پیش کیا، جس کے بعد تمام معزز اراکین نے فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا، ایک سے بڑھ کر ایک ادبی ستارہ، جس کی چمک سے گورنر ہاؤس جگمگا اٹھا۔

    اس روح پرور نشست میں بانی صدر ایم ایم علی اور نائب صدرحافظ محمد زاہد نے اپووا کی فکری خدمات، ادبی سرگرمیوں اور تنظیمی اہداف کو نہایت شائستہ اور مدلل لب و لہجے میں پیش کیا۔ گفتگو میں جو شفافیت اور خلوص تھا، اس نے گورنر کو متاثر کئے بغیر نہ چھوڑا،گورنر فیصل کریم کنڈی نے نہایت پرخلوص کلمات میں اپووا کے اس سنجیدہ ادبی مشن کو قومی یکجہتی، فکری بالیدگی اور ثقافتی تجدید کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑتا ہے، اور اپووا اس جوڑنے کے عمل میں پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تمام شرکائے وفد کو تعریفی اسناد اور یادگاری سوینئرز سے نوازا۔ چائے کی ضیافت کے دوران گفتگو کا دائرہ مزید وسعت اختیار کر گیا۔ آخر میں اپووا کی جانب سے سالانہ ادبی تقریب میں شرکت کی دعوت پیش کی گئی، جسے گورنر خیبر پختونخوا نے نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ادب کے اس مقدس سفر میں اپووا کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

    یہ سفر، ملاقات محض ایک رسمی گفتگو نہ تھی بلکہ قومی ادب کی قدر دانی اور فکری ہم آہنگی کی ایک نادر مثال تھی، جہاں قلم کی حرمت کو منصب کی عظمت سے جوڑا گیا۔وفد میں ملک یعقوب اعوان، ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ممتاز اعوان، معاویہ ظفر، محمد بلال، ڈاکٹر عمر شہزاد، ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ناز پروین، بشریٰ فرخ، تابندہ فرخ، ثمینہ قادر، نیلوفر سمیع، رانی عندلیب شامل تھے،”دلاور” بھی ہمارے ہمراہ تھا ،دلاور کے گاڑی سے اترتے ہی گورنر ہاؤس انتظامیہ کی دوڑیں بھی دیکھنے والی تھیں………..

    یقیناً یہ ملاقات ادب کی توقیر، ادیب کی عزت اور فکر کی پذیرائی کا مظہر تھی، اپووا کا یہ اقدام آنے والے دنوں میں مزید فکری سنگ میل عبور کرنے کی نوید دے رہا ہے،اپووا…کی جانب سے مزید سرپرائزتیار ہیں.

    اپووا محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ ادب کا مقدس قافلہ ہے ، ایسا قافلہ جو قلم کے چراغ اٹھائے، روشنی بانٹنے کے سفر پر گامزن ہے، اس قافلے کی ہر کڑی، ہر فرد اور ہر قدم علم، شعور، زبان، تہذیب اور فنِ تحریر کے احترام سے لبریز ہے، اپووانے معاشرے کے ان گوشوں میں روشنی پہنچائی ہے، جہاں جہالت کا اندھیرا اور فکری جمود برسوں سے براجمان تھا، اپووا کی ادبی کاوشیں معاشرتی نکھار، فکری ارتقاء اور قومی یگانگت کی ایک زندہ علامت بن چکی ہیں،اپووا نہ صرف شعرا و ادبا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے بلکہ نئے لکھنے والوں کی آبیاری کر کے انہیں فکر و فن کے باغ میں تناور درخت بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی تقریبات میں ادب کے قدردان، لفظوں کے مسافر، اور فہمیدہ دل و دماغ یکجا ہوتے ہیں، جہاں صرف باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ روحانی ارتعاش، فکری پرورش اور جمالیاتی آگہی بانٹی جاتی ہے،ایم ایم علی جیسے بصیرت افروز قائد، ملک یعقوب اعوان جیسے باوقار رہنما، حافظ محمد زاہد جیسے فکری معمار، اور درجنوں اہلِ قلم کی پرخلوص کوششوں نے اپووا کو پاکستان کی ادبی پیشانی کا جھومر بنا دیا ہے۔

    آج جب دنیا تشدد،نفرت، مادّہ پرستی اور زبان کی سطحیت کا شکار ہو رہی ہے، اپووا ایسے وقت میں دلوں کو جوڑنے، زبان کو نکھارنے اور قلم کو حرمت دینے کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہے،ہم اپووا کے بانیان، کارکنان، اور تمام ادبی سپاہیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ عقیدت، تحسین اور محبت پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ یہ قافلہ یوں ہی فکر کی مشعلیں لے کر اقبال کے خواب، فیض کی امید کو آگے بڑھاتا رہے۔

  • تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب : امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    مصنف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 343فور کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 2700روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔

    یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔

  • تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار،کانفرنس .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حسب سابق اہل قلم کانفرنس اس سال بھی شاندار رہی ملک بھر سے بچوں کے ادب سے تعلق رکھنے والے ادبیوں نے بھر پور شرکت کی ,اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے تعاون سے ہونے والی اس کانفرنس کا موضوع تھا ،، تعمیر پاکستان میں اہل قلم کا کردار ،، اور بحوالہ 21 اپریل یوم اقبال ، 23 اپریل عالمی یوم کتاب ،یہ نویں کانفرنس تھی جو 3 مئی کو فاؤنٹین ہاوس میں منعقد کی گئی اور اس کا اہتمام اور سہرا ہر سال کی طرح شعیب مرزا صاحب کے سر ہےجو ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر اور چیرمین اکادمی ادبیات اطفال ہیں ان کی ذاتی دلچسپی اور کوشش سے یہ کانفرنس ہر سال کامیاب ٹھہرتی ہے اور اس میں لکھاریوں کے علاوہ اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں گیسٹ سپیکرز شرکت کرتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا ا س کے بعد شعیب مرزا صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا فاؤنٹین ہاوس میں کانفرنس منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا مہمان مقررین نے بچوں کے ادب کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی اصغر ندیم سید صاحب نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھتے ہوے جو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے مافوق الفطرت کرداروں کی کہانیوں سے بھی بچے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں اس لیے سائنس کے ساتھ ساتھ لوک کہانیوں کی طرز پر بھی کہانیاں ہونی چاھیں ، فاؤنٹین ہاوس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی نے بھی خطاب کیا انہوں نے اپنے والد کے نام سے سید مرتضٰی کیش ایوارڈ کا اجراء کیا ہے جو اس بار بھی دو لکھاریوں کو دیا گیا اخوت یونیورسٹی کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے اظہار خیال کیا اور اگلی کانفرنس اخوت یونیورسٹی میں کروانے کی پیش کش کی ان کو تسنیم جعفری صاحبہ نے ادیب نگر کی طرف سے لایف، ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جبکہ ادیبوں کو ان کی کتب اور ادب اطفال کی خدمات پر تسنیم جعفری ایوارڈ ، مسلم ایوارڈ ، اور مسرت کلانچوی ایوارڈ دینے گئے ، کیش ایوارڈ ز حاصل کرنے والوں میں ڈاکٹر فوزیہ سعید ، تسنیم جعفری، شعیب مرزا ، نذیر انبالوی ،فہیم عالم شامل تھے,اور تسنیم جعفری کیش ایوارڈ اس بار پندرہ ادیبوں کو دیا گیا سب اس حوصلہ افزائی پر خوش تھے کانفرنس میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں فارسی کی سکالر عظمی زریں نازیہ ، نیڈل آرٹسٹ ساجدہ حنیف، اسسٹنٹ کمشنر ثناور اقبال، شمیم عارف ، امان اللہ نیر شوکت ڈاکٹر طارق ریاض، اعجاز گیلانی اور ملک بھر سے آئے ادیبوں نے شرکت کی

    فاؤنٹین ہاوس کی عمارت ہمیشہ اداس کر دیتی ہے یہاں داخل مریضوں کے شب وروز اپنوں کے بغیر نہ جانے کیسے گزرتے ہیں لیکن فاؤنٹین ہاوس کا عملہ ویل ٹرینڈ اور مہربان نظر آتا ہے عمارت میں صفائی ستھرائی اور ڈسپلن کا معیار بھی عمدہ ہے آخر میں فاؤنٹین ہاوس کے عملے کو بھی باری باری بلا کر ان کی خدمات کے بارے میں بتایا گیااور ان کا تعارف کروایا گیا اور شیلڈز دی گئیں ، اہل قلم کو فاؤنٹین ہاوس کا وزٹ بھی کروایا گیا مریضوں کو ان کے ہنر کے مطابق آرٹ ورک بھی کروایا جاتا ہے اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کو وہاں کام بھی مل جاتا ہے ، فاؤنٹین ہاوس کی انتظامیہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران مرتضٰی اور ڈاکٹر عائشہ عمران لائق تحسین ہیں کہ وہ اتنے بڑے ادارے کو بخیر وخوبی چلا رہے ہیں اور مریضوں کی سہولیات کے لیے دن رات کوشاں ہیں اللہ تعالٰی انہیں کامیاب کرے اور آسانیاں عطا فرمائے آمین

    کانفرنس کے شرکاء کو سرٹیفکیٹ ، شیلڈز اور ڈاکٹر امجد صاحب کی کتاب کا تحفہ دیا گیا ، سیشن میں وقفہ کے دوران پرتکلف چاے اور پھر لنچ سے تواضع کی گئی ، نارمل انسانوں کی دنیا الگ ہے ان کے مسائل الگ ہیں اور فاؤنٹین ہاوس میں داخل مریضوں کی دنیا بالکل الگ اور مسائل بھی بالکل الگ ہیں جہاں تک ہو سکے ان کی فلاح وبہبود کے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے _

  • یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    یہ بازار ہے جناب! یہاں صرف اشیاء ہی نہیں، ضمیر بھی بکتے ہیں۔ بولیاں لگتی ہیں، سودے طے پاتے ہیں، اور سچائی کا نرخ مقرر کیا جاتا ہے۔ دیانت داری کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، اصولوں کو مصلحت کے ترازوں میں تولا جاتا ہے، اور وفاداری کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کبھی سچائی کو وقار حاصل تھا، انصاف کو برتری حاصل تھی، اور اصولوں پر سودے بازی کرنے والے معتوب گردانے جاتے تھے۔ مگر آج! آج ہر چیز کی قیمت ہے—حتیٰ کہ انسانیت کی بھی۔

    یہ ایک ایسا بازار ہے جہاں کردار پر قیمت چسپاں کی جاتی ہے، جہاں حقیقت کو جھوٹ کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے، اور جہاں ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو اپنے ضمیر کو بیچنے سے انکار کر دے۔ وقت کے جبر کے سامنے سر جھکا دینا کامیابی کہلاتی ہے، اور اصولوں پر ڈٹ جانا حماقت۔ عدل کی کرسی پر وہی بیٹھتا ہے جو انصاف کو اپنے مفادات کے تابع کر لے، اور عزت کے تمغے اسے ملتے ہیں جو خودداری کے لباس کو اتار پھینکیں۔

    یہ ضمیر فروش کون ہیں؟

    یہ ہم سب ہیں، ہاں! ہم سب! کوئی خاموش رہ کر، کوئی ظلم سہہ کر، کوئی مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر، اور کوئی دنیاوی فائدے کی خاطر سچائی سے نظریں چرا کر۔ فرق بس اتنا ہے کہ کسی کا ضمیر سونے چاندی میں تولا جاتا ہے اور کسی کا محض چند کھوکھلے وعدوں میں۔

    یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم نے سچائی کو خاموش کر دیا ہے؟ وہ جو حق پر ڈٹنے والے تھے، وہ بھی مصلحت کے قیدی بن چکے ہیں۔ وہ جو روشنی کے مینار تھے، آج وہی اندھیروں میں راستہ گم کر چکے ہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی صورت میں اس گناہ میں شریک ہیں—یا تو اپنی بے عملی سے، یا پھر اپنی خاموشی سے۔

    کیا یہ سکوت ہمیشہ رہے گا؟

    یہ وقت جاگنے کا ہے! وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی روحوں کو جھنجھوڑیں، اور اپنے ضمیروں کو آواز دیں۔ ہمیں وہ چراغ جلانے ہوں گے جو اندھیروں کو چیر کر روشنی کا پیام دیں، وہ مینار بننا ہوگا جو راہ گم کردہ مسافروں کے لیے دلیل بنے، اور وہ صدا بننا ہوگا جو باطل کے ایوانوں میں لرزش پیدا کر دے۔

    حضرت علیؓ کا فرمان ہے: "سب سے بڑا فقیر وہ ہے جس کا ضمیر مر چکا ہو۔”

    اگر ہم نے آج بھی اپنے ضمیر کو جگانے کی کوشش نہ کی، اگر ہم نے حق پر ڈٹنے کی جرأت نہ کی، تو یہ معاشرہ ایک ایسی لاش میں بدل جائے گا جس کی روح مر چکی ہوگی۔ آئیے! اس نیلام گھر میں اپنے ضمیر کو بکاؤ نہ ہونے دیں! اپنے اصولوں کو اس قدر مضبوط کر لیں کہ کوئی بھی طاقت ہمارے کردار کی قیمت لگانے کی جرأت نہ کر سکے۔ یہی اصل فلاح ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جو ہمارے زوال پذیر معاشرے کو پھر سے بامِ عروج تک لے جا سکتی ہے۔

  • حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    کبھی الفاظ روشنی کے مینار ہوا کرتے تھے—حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچنے والے، بیداری کی صدا، انقلاب کی نوید۔ مگر آج، یہ الفاظ اپنی روح کھو چکے ہیں۔ وہ جو کبھی ضمیر کو جھنجھوڑتے تھے، آج سنسنی خیزی اور تجارت کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ سچائی اور دانش کی جگہ مقبولیت اور وائرل ہونے کی صلاحیت نے لے لی ہے۔

    آج تقریریں گونجتی ہیں، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے ہیں، اور سیاسی بیانات شہ سرخیوں میں جگہ پاتے ہیں، مگر ان میں سے اکثر حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ جو الفاظ جتنے چکاچوند ہوں، وہی زیادہ مقبول ہوتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی کھوکھلے کیوں نہ ہوں۔

    کیا ہم سب ذمہ دار نہیں؟

    یہ سوال کسی فردِ واحد کے لیے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

    جب ہم بغیر تصدیق کے خبریں آگے بڑھاتے ہیں، تو کیا ہم الفاظ کے ساتھ ناانصافی نہیں کر رہے؟

    جب ہم دلیل کی بجائے نعرے بازی اور تعصب کو فروغ دیتے ہیں، تو کیا الفاظ کا قتل نہیں کرتے؟

    جب ہم سننے اور سمجھنے کے بجائے صرف بولنے پر زور دیتے ہیں، تو کیا مکالمے کو دفن نہیں کر رہے؟

    ایک تحقیق کے مطابق، 70 فیصد لوگ بغیر تحقیق کے خبریں شیئر کر دیتے ہیں۔ مباحثے دلیل کی بجائے جذباتی ردِعمل پر مبنی ہوتے ہیں، اور اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہی رویہ الفاظ کو بے اثر اور بے قدر کر دیتا ہے۔

    تاریخی پس منظر

    الفاظ کے اثرات ہمیشہ سے واضح رہے ہیں۔

    امام غزالی نے اپنی تصانیف میں الفاظ کے ذریعے فکری انقلاب برپا کیا۔

    مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی تقریروں کے ذریعے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلائی۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی مدلل گفتگو اور الفاظ نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے یکجا کر دیا۔

    مگر آج، الفاظ کی وہ حرمت باقی نہیں رہی۔ جو چیز پہلے اصلاح کا ذریعہ تھی، اب صرف تفریح اور پروپیگنڈے کا آلہ بن چکی ہے۔

    نتائج اور خطرات

    اگر الفاظ اپنی طاقت اور اثر کھو دیں تو یہ صرف زبان و بیان کا نقصان نہیں، بلکہ یہ معاشرتی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔

    ✅ جب الفاظ بے اثر ہو جائیں تو سچائی دب جاتی ہے اور جھوٹ غالب آ جاتا ہے۔
    ✅ جب الفاظ محض نعرے بن جائیں تو معاشرے میں فکری مفلسی پھیلتی ہے۔
    ✅ جب اختلاف کو دشمنی بنا دیا جائے تو علمی ترقی رک جاتی ہے۔

    مثال:

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات یا جعلی خبروں کے ذریعے پوری قوم کو گمراہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ 2016 کے امریکی انتخابات میں دیکھا گیا، جہاں جھوٹی خبروں نے رائے عامہ پر گہرا اثر ڈالا۔

    بھارت میں "WhatsApp لنچنگ” جیسے واقعات میں جعلی خبروں کی بنیاد پر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    یہی رویہ ہمارے معاشرے میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ آج کا نوجوان کتابوں سے دور ہو چکا ہے۔ وہ تحقیق سے زیادہ سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنی رائے بنانے سے پہلے گہرائی میں جانے کی زحمت نہیں کرتا۔ یہی رویہ سیاست، صحافت اور عام زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔

    حل کیا ہے؟

    اگر ہمیں الفاظ کو ان کی اصل طاقت واپس دلانی ہے، تو ہمیں چند بنیادی تبدیلیاں کرنی ہوں گی:

    ✔ سچائی کو معیار بنانا ہوگا، نہ کہ مقبولیت کو۔
    ✔ مطالعے اور تحقیق کی عادت ڈالنی ہوگی، تاکہ ہر لفظ حقیقت پر مبنی ہو۔
    ✔ بغیر تصدیق کے معلومات پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا، تاکہ الفاظ جھوٹ کا شکار نہ ہوں۔
    ✔ جذباتی نعروں کے بجائے دلیل اور منطق کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ معاشرے میں شعور پیدا ہو۔
    ✔ مکالمے کی ثقافت کو زندہ کرنا ہوگا، تاکہ اختلاف دشمنی کے بجائے سیکھنے کا ذریعہ بنے۔

    مثال:

    فن لینڈ میں میڈیا لٹریسی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا تاکہ نوجوان جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کو سمجھ سکیں۔

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے ہمیشہ ذمہ دار الفاظ کا استعمال کیا اور بحران کے دوران سچائی کو ترجیح دی۔

    حدیثِ مبارکہ:

    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پہنچا دے۔” (مسلم)

    یہ حدیث آج کے دور میں خاص طور پر قابلِ غور ہے، جہاں غیر مصدقہ اطلاعات کا سیلاب سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم کر چکا ہے۔

    اختتامیہ

    اگر الفاظ بے توقیر ہو جائیں تو سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب معاشرے میں غور و فکر ختم ہو جائے، تو پھر صرف اندھی تقلید اور جذباتی اشتعال باقی رہ جاتا ہے۔

    "الفاظ کی عزت وہی معاشرے کر سکتے ہیں، جہاں سچائی اور علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔”

    اگر ہم الفاظ کی حرمت کو بحال نہیں کریں گے، تو ایک ایسا وقت آئے گا جب سچائی، حکمت اور دلیل صرف کتابوں میں رہ جائیں گے، مگر عملی زندگی سے غائب ہو جائیں گے۔

    سوچنا ہوگا، سمجھنا ہوگا، اور پھر بولنا ہوگا—تاکہ الفاظ پھر سے زندہ ہو سکیں اور ان کی تاثیر لوٹ آئے۔

  • اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا وفد کا دورہ قصور،دفتر کا افتتاح،اک اعزاز،تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام ایک خوبصورت اور بامقصد تقریب کا انعقاد لاہور میں ہوا، جس میں شرکت کا موقع ملا، اس تقریب کے دوران اپووا کے بانی و صدر محترم ایم ایم علی سے ملاقات ہوئی، جو نہایت شفیق اور ادب دوست شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ملاقات کے دوران انہیں قصور کے دورے کی دعوت دی گئی، جسے انہوں نے نہایت خوش دلی سے قبول کیا۔ وعدے کے مطابق وہ وفد کے ہمراہ قصور پہنچے۔

    قصور پہنچنے پر اپووا کے معزز وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مقامی ہوٹل میں ایک پرتکلف ظہرانہ ترتیب دیا گیا تھا،وفد میں اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی کے ہمراہ حافظ محمد زاہد (سینئر نائب صدر)، سفیان علی فاروقی (نائب صدر)، اسلم سیال (نائب صدر میل ونگ) شامل تھے۔ وفد کے ہمراہ ایڈیٹر "باغی ٹی وی” ممتاز اعوان بھی اپنی فیملی سمیت موجود تھے۔استقبالیہ انتظامات میں مقامی صحافیوں عباس علی بھٹی، عابد علی بھٹی، چوہدری اکبر علی، اور مہر شوکت علی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان تمام احباب کی جانب سے مہمانوں کے لیے محبت، خلوص اور ادب دوستی کا عملی مظاہرہ قابل ستائش تھا۔ظہرانے کے بعد اپووا کے وفد کو گنڈا سنگھ بارڈر لے جایا گیا جہاں پریڈ دیکھنے کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ مقررہ وقت پر تمام شرکاء بارڈر پہنچے۔ بارڈر پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جیسے ہی پریڈ کا آغاز ہوا، پاکستانی عوام کی جانب سے فلک شگاف نعرے گونجنے لگے:
    "اللہ اکبر”, "پاکستان زندہ باد”, اور "پاک فوج کو سلام”۔

    پاکستانی سائیڈ پر عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر چہرے پر وطن سے محبت جھلک رہی تھی۔ جبکہ دوسری جانب یعنی بھارتی سائیڈ پر ماحول خاموش، سناٹے اور پژمردگی کا شکار نظر آیا۔ چند ہی بھارتی شہری وہاں موجود تھے، اور ان کے چہروں پر خوف، بے بسی اور مایوسی کے سائے نمایاں تھے۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پاکستان میں آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہو، اور بھارت کی جانب سے کیے گئے "آپریشن سندور” کا حال یہ ہوا کہ سارے بھارتی ہی "بیوہ” ہو گئے

    گنڈا سنگھ بارڈر سے واپسی پر قصور میں اپووا کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح کیا گیا. یہ دفتر مستقبل میں ادیبوں، شاعروں، کہانی نویسوں اور لکھاریوں کے لیے ایک علمی و فکری پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اپووا کی جانب سے ادبی خدمات کی توسیع اور فروغ کے لیے یہ قدم نہایت اہم اور قابل تحسین ہے۔ قصور میں اپووا دفتر کا قیام یقینی طور پر اہل قلم کے لئے ایک سنگ میل ہے، جو ادب، ثقافت اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔

    آخر میں ہم اپووا کی پوری ٹیم، بالخصوص بانی صدر ایم ایم علی اور ان کے رفقاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قصور جیسے تاریخی اور ادبی شہر کو اپنی موجودگی سے نوازا اور خدمت کا موقع دیا، امید ہے کہ اپووا کا یہ جذبہ خدمت مستقبل میں بھی علم و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنے گا،اللہ کرے کہ اپووا کا یہ کارواں یوں ہی محبت، ادب اور علم کی شمعیں روشن کرتا رہے۔

    پاکستان زندہ باد

  • کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    کہانیاں صرف وہ نہیں ہوتیں جو قلم سے لکھی جاتی ہیں، اور نہ ہی وہ جو اشاعت کی زینت بنتی ہیں۔ کچھ کہانیاں خامشی کے دبیز پردوں میں لپٹی، وقت کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہیں۔ یہ وہ داستانیں ہیں جو کبھی کسی کتاب کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سانس لیتی ہیں۔ وہ جھروکوں سے جھانکتی ہیں، گلیوں کے گرد گھومتی ہیں، اور گواہی دیتی ہیں کہ انسان صرف جیتا نہیں، جھیلتا بھی ہے۔

    کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سننے کے لیے کان نہیں، دل درکار ہوتا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز مزدوری کے لیے نکلتی ہے، اور شام کو بچوں کے لیے ہنسی اوڑھ کر لوٹتی ہے — اُس کی زندگی ایک مکمل کہانی ہے، جو شاید کبھی لکھی نہ جائے۔ وہ بزرگ جو پنشن کے لیے قطار میں کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں، وہ بچہ جو سڑک پر کتابیں بیچتے ہوئے تعلیم کے خواب دیکھتا ہے، وہ نوجوان جو ہر در سے مایوسی لے کر بھی ہار نہیں مانتا — یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ان کے لیے کوئی مصنف نہیں۔

    ادب کا اصل منصب یہی ہے کہ وہ اُن احساسات کو بھی جگہ دے جنہیں دنیا نظر انداز کر دیتی ہے، مگر بعض اوقات ادب بھی خاموش رہتا ہے، کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو بیان سے انکار کرتے ہیں، اور کچھ سچ ایسے جو سننے کے لیے حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب "کہانی جو لکھی نہ گئی” وجود پاتی ہے — اور قاری کے دل میں کوئی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔

    ہم نے اکثر داستانوں کو انجام کی تلاش میں پڑھا، مگر یہ وہ کہانیاں ہیں جو انجام سے پہلے ہی بھلا دی گئیں۔ ان میں نہ کوئی ہیرو ہوتا ہے، نہ قافیہ، نہ منظرنامہ — فقط حقیقت ہوتی ہے، خالص اور بے رحم۔ وہ سچائی جو صرف نظر انداز کیے گئے لوگوں کے چہروں پر لکھی جاتی ہے، یا اُن آنکھوں میں جو سوال بن کر جمی رہتی ہیں۔

    یہ کالم اُنہی خاموش کہانیوں کی ایک پکار ہے — اُن لفظوں کی جو دل میں دب کر رہ گئے، اُن خوابوں کی جو بکھرنے سے پہلے پلکوں پر اترے ہی نہ تھے۔ یہ اُن لمحوں کی ترجمانی ہے جنہیں کبھی کسی نے لکھنے کے قابل نہ سمجھا، مگر وہ آج بھی ہمارے اردگرد سانس لیتے ہیں۔ وہ گلی کا نکڑ، وہ بند دروازہ، وہ خاموشی میں لپٹی کراہ — سب کچھ زبان بننے کو بےتاب ہے۔

    جب ایک دن یہ سب کہانیاں اپنے لکھنے والے پا لیں گی، تب ادب کا دامن بھی مکمل ہوگا۔ تب شاید کوئی مصنف کہے گا:
    "میں نے وہ کہانی لکھ دی جو لکھی نہ گئی تھی۔”

    ہر درد کے نام،
    ہر بے نام آواز کے احترام میں۔

    ای میل: jabbaraqsa2@gmail.com

  • مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین محترم ریاض احمد احسان ان چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے لاہور کی ادبی فضا کو نئی جہتیں دیں، اور فکر و فن کے متلاشیوں کے لیے ایک متحرک، فعال اور باوقار پلیٹ فارم فراہم کیا،ریاض احمد احسان صرف ایک شاعر یا ادیب نہیں، بلکہ ایک تحریکی روح ہیں، اُن کی شخصیت میں ایک ایسا جادو ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، بکھرے ذہنوں کو سمیٹتا ہے اور ادب کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سماج، ملت اور قوم کے حقیقی مسائل سے جوڑ کر پیش کرتا ہے،وہ ملی جذبے سے سرشار، فکری بیداری کے سفیر اور ادبی وحدت کے پیامبر ہیں۔ اُن کا اندازِ گفتگو، اندازِ میزبانی، اور ہر تقریب میں ان کی متحرک شرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ادب کو ایک مشن سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں سجنے والی محافل میں نہ کوئی سیاسی تعصب ہوتا ہے، نہ ذاتی مفادات کی بو، بلکہ صرف اور صرف فکر، فن اور وطن کی خوشبو ہوتی ہے،

    محترم ریاض احمد احسان کی زیرِ قیادت قائم ہونے والی تنظیم ملی ادبی پنچائیت ایک ایسا ادبی قافلہ ہے جو صرف مشاعرے نہیں کراتا، بلکہ فکری مکالمے، قومی شعور، اور اجتماعی دانش کے فروغ کا ذریعہ بن چکا ہے، اس پلیٹ فارم کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر مکتبِ فکر، ہر نسل اور ہر طبقے کے اہلِ قلم کو خوش آمدید کہا جاتا ہے،ملی ادبی پنچائیت نے ادب کو محض شاعری کے رنگین لفظوں سے نکال کر اسے وطن، امن، حب الوطنی اور فکری آزادی کے دائرے میں رکھا ہے، یہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں شاعر صرف قافیہ نہیں دیکھتا بلکہ قوم کے کرب کو محسوس کرتا ہے، اور دانشور صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے،یہ ادارہ نہ صرف ثقافتی ورثے کی حفاظت کر رہا ہے، بلکہ نئی نسل کو ادبی شعور سے ہمکنار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر تقریب میں نظریاتی گہرائی، فکری وسعت اور قومی ذمہ داری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، جو اسے دیگر تنظیمات سے ممتاز بناتا ہے،ریاض احمد احسان ایک ایسے فکری اور روحانی اثاثے کا نام ہیں جس پر اہلِ لاہور ہی نہیں، پوری ادبی دنیا کو فخر ہونا چاہیے۔ وہ جہاں جاتے ہیں، ادب کے چراغ جلاتے ہیں، امن کے پیغام بانٹتے ہیں، اور اہلِ قلم کو وہ زبان دیتے ہیں جو صرف کتابی نہیں، عملی بھی ہو۔

    28 مئی 1998 کا دن پاکستانی قوم کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہے، جب ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو باور کروا دیا کہ یہ ملک دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔ اس تاریخی دن کی یاد میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) ہر سال تقریبات منعقد کرتی ہے، اور امسال بھی لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں یومِ تکبیر کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس یادگار تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے بھرپور شرکت کی۔ ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین اور لاہور کی علمی ادبی فضا کے روحِ رواں، محترم ریاض احمد احسان بھی اس تقریب کی رونق بنے۔ اُن کی موجودگی نے تقریب کو نہ صرف وقار بخشا بلکہ حالاتِ حاضرہ پر اُن سے ہونے والی گفتگو نے تقریب کو فکری گہرائی بھی عطا کی۔

    ریاض احمد احسان نے 29 مئی کو کاسموم پولیٹن کلب، لارنس گارڈن لاہور میں منعقد ہونے والی "امن و جنگ” مشاعرہ و مکالمہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، جو ملی ادبی پنچائیت کی جانب سے منعقد کی جا رہی تھی۔ اگرچہ طے شدہ وقت پر پہنچنا ممکن نہ ہو سکا، تاہم تقریب میں دیر سے پہنچنے کے باوجود شرکت کی،تقریب میں ادیبوں، شاعروں اور قومی فکر رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشاعرہ کے ساتھ ساتھ فکری مکالمے نے محفل کو مزید معنویت عطا کی۔ جہاں ہر فرد امن کی خواہش رکھتا تھا، وہیں اگر جنگ یا جارحیت مسلط کی جائے تو اس کے خلاف جواب نہ دینا بھی کمزوری گردانا گیا۔ خواجہ جمشید امام کے بقول، "اس پر خاموشی نامردانگی ہے”۔

    اس تقریب کی صدارت ملی ادبی پنچائیت سپریم کونسل کے چیئرمین، جناب رضوان کاہلوں نے کی۔ اس موقع پر معروف شاعر، ادیب اور دانشور میجر (ر) شہزاد نیئر کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ اُنہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں افواجِ پاکستان کی حکمت عملی، کارگل جنگ کے چشم دید تجربات اور آپریشن بنیان مرصوص سے متعلق دلچسپ اور معلوماتی گفتگو کی۔میجر (ر) شہزاد نیئر نے نہ صرف روایتی جنگ بلکہ جدید دور کی سائبر وار کی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اُن کا خطاب جذبۂ حب الوطنی سے لبریز تھا، جس نے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔ اس ادبی اور فکری محفل میں گائیکی کے رنگ بھی شامل کیے گئے۔ معروف گائیک سکندر خاقان، مرزا جاوید اقبال بیگ، شہباز حیدر اور میڈیم ہما عمران نے ملی نغموں سے سامعین کے جذبوں کو بلند کیا۔ اپووا کے بانی چیئرمین ایم ایم علی نے اپنی خوبصورت شاعری سے محفل کو نورانی کر دیا۔

    محترم ریاض احمد احسان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے تقریب کو عمدہ طریقے سے ترتیب دیا، اور اپنی موجودگی سے اسے جِلا بخشی۔ اُن کی متحرک شخصیت نے اہلِ لاہور کی علمی و ادبی پہچان کو مزید نمایاں کر دیا،تقریب کے اختتام پر پرتکلف عشائیہ اور چائے کا اہتمام تھا، جہاں اہلِ ذوق افراد نے باہم گفتگو کرتے ہوئے محفل کی خوبصورتی کو سراہا۔یومِ تکبیر کے موقع پر ہونے والی یہ تقریبات نہ صرف وطن سے محبت کے جذبے کو تازہ کرتی ہیں بلکہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ادبی ہم آہنگی اور فکری تبادلے کو فروغ دیتی ہیں۔ ریاض احمد احسان، رضوان کاہلوں، میجر شہزاد نیئر اور دیگر تمام احباب اس ادبی و قومی خدمت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

  • ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب ایک ایسا نور ہے جو دلوں کو منور کرتا ہے، سوچوں کو جلا بخشتا ہے اور معاشروں کو سنوارتا ہے۔ یہی ادب جب قلم سے قرطاس پر اُترتا ہے، تو تہذیبوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اور جب لکھنے والے اپنی عزت، تحفظ، اور شناخت کے لیے اکٹھے ہوں تو وہ صرف تنظیم نہیں بناتے، وہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) بھی ایسی ہی ایک روشن امید ہے ، جو اہلِ قلم کی خدمت، تحفظ، فلاح اور ترقی کے لیے معرضِ وجود میں آئی۔ اس کے بانی اور روحِ رواں، ایم ایم علی، اس قافلے کے وہ سالار ہیں جنہوں نے نہ صرف لکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دیا بلکہ ادب کو ادارہ جاتی حیثیت عطا کی۔

    ایم ایم علی ، بانی صدر، اپووا
    ایم ایم علی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک کہنہ مشق قلم کار، حساس دل رکھنے والے تخلیق کار اور باہمت تنظیم ساز ہیں۔ ان کی قیادت میں اپووا نے صرف تنظیمی بنیادیں نہیں رکھیں، بلکہ ایک نظریاتی پیغام دیا ہے”ادب زندہ ہے، جب تک اہلِ ادب باوقار ہیں!”

    وہ جن کی سوچ میں صداقت کا رنگ ہو
    جن کی قیادت میں قلم کو امنگ ہو
    وہی ہیں بانی اس کارواں کے، جن کا نام
    ایم ایم علی، جن پہ فخر کرے ہر سخن ور کا کلام

    ان کا وژن ہے کہ لکھاری، شاعر، ادیب، ناقد، افسانہ نگار، سب کو ایک ایسا ادارہ فراہم کیا جائے جہاں وہ نہ صرف اپنی تخلیقات کو فروغ دیں بلکہ اپنے حقوق کی پاسداری بھی یقینی بنائیں۔ اپووا کی بنیاد اسی وژن کی علامت ہے۔

    ملک یعقوب اعوان ، سینئر وائس چیئرمین،
    اپووا کی قیادت میں ایک اور معتبر نام ملک یعقوب اعوان کا ہے، جو تنظیم کے سینئر وائس چیئرمین ہیں۔ ان کی شخصیت سنجیدگی، تدبر، اور ادبی وفا کا پیکر ہے۔ وہ لکھاریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور ادیبوں کی بہبود کو ایک مشن سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔

    یعقوب اعوان ہیں فکر و ادب کا امین
    جو لفظوں میں رکھے ہیں خلوص کے نگین
    ہو جس کے ساتھ، وفا کا پرچم بلند
    وہی تو ہے اپووا کا معتبر کندن

    ان کی خدمات تنظیم کے استحکام اور وسعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا ہر بیان، ہر قدم ادب کے احترام اور تخلیق کار کی عزت کے لیے اُٹھتا ہے۔

    سلمیٰ کشم،سینئر نائب صدرخواتین
    اردو ادب میں جب ہم نسائی شعور، جمالیاتی احساس، اور فکری بلندی کی بات کرتے ہیں تو چند نام فوراً ذہن میں ابھرتے ہیں، اور ان میں ایک ممتاز، تابناک نام سلمیٰ کشم کا ہے۔ وہ صرف ایک شاعرہ یا ادیبہ نہیں، وہ ایک مکمل فکری دنیا کا نام ہیں؛ ایک ایسا نکھرا ہوا قلم جو لفظوں کو فقط لکھتا نہیں، روح میں اتارتا ہے۔ان کا تعلق قصور کی سرزمین سے ہے ، وہی قصور جو بلھے شاہ کی دھرتی ہے، جہاں ہر سانس میں ادب کی خوشبو ہے، اور ہر گلی میں صوفیانہ جمال بکھرا ہوا ہے۔ اسی دھرتی کی بیٹی سلمیٰ کشم ادب کی اس روایت کی وارث ہیں۔

    قصور کی مٹی نے بخشا ہے ان کو رنگِ خیال
    ہر لفظ میں رس، ہر سوچ میں اجالا ہے کمال
    سلمیٰ ہیں وہ نام، جن کے حرفوں سے
    غزلیں مہکیں، نظمیں چمکیں، جذبے بولیں

    سلمیٰ کشم کے قلم کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں صرف جذبات نہیں، بلکہ گہرا مشاہدہ، زندگی کی جزئیات، کا نچوڑ بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے اشعار میں سماج کی اُن پرتوں کو اجاگر کرتی ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں درد بھی ہے، امید بھی، سوال بھی اور جواب بھی۔ وہ اردو ادب میں خواتین کے نمائندہ چہروں میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں۔سلمیٰ کشم نہ صرف ایک تخلیق کار ہیں بلکہ ایک فعال ادبی رہنما بھی ہیں۔ اپووا میں ان کا نائب صدر بننا اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ نہ صرف تخلیقی میدان میں ممتاز ہیں بلکہ تنظیمی، فلاحی اور فکری قیادت کی بھی اہل ہیں۔ وہ ان خواتین کی آواز ہیں جو لکھنا چاہتی ہیں، لیکن مواقع کی منتظر ہیں۔

    جن کے لہجے میں شائستگی، قلم میں سچائی
    جن کے خیال سے جاگے کئی دلوں کی بینائی
    وہ سلمیٰ کشم، جو رہنمائی کا چراغ ہیں
    اپووا کی زینت، نسائی ادب کی شفاف مثال ہیں

    قصور کی دھرتی نے جو گوہر ہمیں عطا کیے ہیں، سلمیٰ کشم اُن میں نمایاں ہیں۔ ان کی تخلیقات مقامی فضا میں جَڑی ضرور ہیں لیکن ان کے اثرات عالمی افق تک جاتے ہیں۔ سلمیٰ کشم ایک خیال کا نام ہے، ایسا خیال جو معاشرے کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جو صنفِ نازک کو باوقار انداز میں پیش کرتا ہے، جو ادب کو فقط کتابوں میں قید نہیں کرتا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں اُتارتا ہے۔ان کی موجودگی اپووا جیسے ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے، اور ان کی تخلیقات اردو ادب کے خزانے میں ایک قیمتی اضافہ ہیں۔اپووا میں ان کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ تنظیم خواتین اہلِ قلم کو بھی وہی عزت، وقار، اور نمائندگی دے رہی ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔

    کشیدہ ہر لفظ، ہر مصرع اُن کا جمال
    قلم سے نکلے تو ہو جائے حسنِ کمال
    وہ سلمیٰ کشم، جو احساس کی ترجمان
    ہیں اپووا میں روشنی کی پہچان

    آج کے دور میں، جب ادب کو محض مشغلے یا غیر اہم سرگرمی سمجھا جا رہا ہے، اپووا ایک ایسی تنظیم بن کر سامنے آئی ہے جو اہلِ قلم کی عزتِ نفس، ان کی فکری آزادی، اور تخلیقی حیثیت کو معاشرے میں اجاگر کر رہی ہے۔یہ صرف ایک ایسوسی ایشن نہیں بلکہ ایک ادبی انقلاب کی تمہید ہے ایسا انقلاب جو..
    ہر لکھاری کو ایک ادارہ جاتی پہچان دے
    شاعروں کی آواز کو پلیٹ فارم دے
    ادیبوں کی بہبود کے لیے عملی اقدامات کرے
    قومی و بین الاقوامی سطح پر اردو ادب کی نمائندگی کرے
    نئی نسل کے لکھاریوں کی تربیت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرے

    اپووا کی قیادت، یعنی ایم ایم علی، ملک یعقوب اعوان، اور سلمیٰ کشم، نہ صرف تنظیمی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں بلکہ ایک مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ مناصب کوئی عہدے نہیں، بلکہ ایک امانت ہیں جو قوم کے اہلِ قلم نے ان کے سپرد کی ہے۔

    قلم کے وارثوں کا یہ قافلہ چلے
    سچائی، روشنی، وفا کے گیت گائے
    اپووا ہو منزل، اتحاد ہو زادِ راہ
    ادب کی دنیا میں یہ چراغ جلائے

    دعا ہے کہ اپووا کا یہ کارواں بڑھتا رہے، پھلتا پھولتا رہے، اور اردو ادب کو وہ مقام دلوائے جس کا وہ ہمیشہ سے مستحق رہا ہے۔