Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر
    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    ان کا اصل نام چراغ دین ہے۔ آپ برصغیر کے پنجابی حلقوں کے مقبول ترین شاعر تھے۔ ان کی شاعری عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کا حصہ ہے۔ وہ اپنی جرأت اظہار اور بے باک صلاحیتوں کی بدولت پنجابی ادبی تاریخ میں صفِ اول کے شاعر تھے۔ انہوں نے جہاں بہت سی ہنگامی صورتحال کی عکاسی کرنے والی نظمیں لکھی ہیں وہاں پائیدار اور لافانی نظمیں بھی تخلیق کی ہیں۔ ہیر رانجھے کی داستان کو اپنے مخصوص انداز میں لکھ کر پنجابی شاعری کے ذخیرے میں بیش قیمت اضافہ کیا۔

    آپ اندرون لاہور چوک مستی میں پیدا ہوئے، تیرہ سال کی عمر میں آپ کا محنتی غریب درزی گھرانہ چوک مستی سے باغبان پورہ منتقل ہو گیا۔ آپ کے والد میراں بخش لوہاری دروازے کے باہر ایک دوکان پر درزی کا کام کرتے تھے ۔ استاد دامن کا ایک بھائی اور ایک بہن تھی جو آپ سے عمر میں بڑے تھے ۔ استاد دامن کا رنگ گورا، گرج دار آواز، سر کے بال استرے سے صاف کروا کے رکھتے ، دوتہی کرتہ نیچے سلوکہ کندھے پہ چادر، سر پر پگڑی نما پٹکا تن زیب رکھتے تھے ۔

    بچپن سے ہی پڑھائی کے شوقین ساندھادیو سماج سکول لاہور سے میٹرک کر کے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا مگر چھ ماہ بعد ہی والد کی بیماری اور گھریلوحالات کے پیش نظرتعلیم جاری نہ رکھ سکے، قرآن پاک حفظ کیا ، والد کی خواہش و کوشش تھی کہ ان کا بیٹا ان کی زندگی میںہی سلائی کا سارا ہنر سیکھ کر روزی روٹی کمانے کے قابل ہو جائے ، والد کی تکمیل خواہش اور ضروریات زندگی کے وسائل بڑھانے کے لیے آپ نے استاد وہاب نامی ٹیلر کی شاگردی میں کوٹ پتلون ، اچکن ، شلوار، قیمض بنانے میں کمال مہارت حاصل کی، اُس وقت شلوار قمیض کی سلائی دس آنے ہوتی تھی مگر استاد دامن دس روپے لیتے تھے کیونکہ وہ نلکی کے دھاگے کی بجائے کپڑے کے اندر سے دھاگہ نکال کر سوٹ سلائی کرتے تھے جس کی وجہ سے سلائی نظر نہیں آتی تھی ۔ آزادی کی بڑی بڑی تحریکوں کے راہنما لیڈرآپ سے اپنے کپڑے سلواتے تھے۔

    آپ نے اپنے دور میں تجویز خطی کے بڑے شاعر باؤ ہمدم کی شاگردی میں اپنے خیالوں کو شاعری میں مزید نکھارا، مگر استاد دامن پیدائشی شاعر تھے انہوں نے دس برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دئیے ۔آپ کے والد میراں بخش خود صوفیانہ شاعری کے دیوانے تھے جنہیں ہیر وارث شاہ اور فضل شاہ کی سوہنی زبانی یاد تھی جبکہ استاد دامن بھی ہیر وارث شاہ کی بحر میں لکھتے۔ پہلا مشاعرہ پندرہ سالہ عمر میں باغبان پورہ لاہور میں پڑھا جس کی صدارت استاد دامن سے اپنے کپڑے سلوانے والے کانگرس رہنما میاں افتخار الدین نے کی ۔اس موقع پر سردار گیانی گرمکھ سنگھ مسافر نے صدر مشاعرہ سے کہا کہ استاد دامن نے بہت کمال شعر پڑھے ہیں ۔

    انہیں سو روپیہ انعام دیا جائے پہلے مشاعرہ میںہی نامور استاد شاعروں میں اپنا آپ منوانا اور انعام پانا استاد دامن کے فن شاعری کا قد بتاتا ہے ۔ آپ نے عطا اللہ شاہ بخاری ؒ جیسے لوگوں کی موجودگی میں سیاسی ،سماجی اور مذہبی جلسوں میں اپنے کلام پڑھے اور عوام کے دلوں کی آواز بن کر اُبھرتے چلے گئے ۔ پنجابی کے علاوہ کسی اور زبان میں شعر نہیں کہے جبکہ وہ فارسی، عربی، روسی، اردو، ہندی، انگلش اور سنسکرت زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔ استاد دامن نے شاعری کی فنی خوبیوں پر قدرت رکھنے کی بدولت اہل علم و فن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔ استاد دامن غریبوں، مظلوموں ،مزدروں، کسانوں جیسے پسے ہوئے طبقوںکے لیے آواز اُٹھانے اور استحصالی طبقوں کی مزحمت کرنے والے بااثر شاعرتھے ۔

    میرے ہنجواں دا پانی پی پی کے

    ہری بھری اے بنجر زمین ہو جائے

    ایدے منہ تے سرکھی چاہی دی اے

    میرے لہو توں پاوئیں رنگین ہو جائے

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہ گوئی تھی، وہ موقعوں کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے، آزادی کے کچھ عرصے بعد انہوں نے دہلی میں منعقد مشاعرے میں شرکت کر کے یہ نظم پڑھی۔

    ایناں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا

    ہوئے تسی وی او ہوئے ایسی وی آں

    کج امید اے زندگی مل جائے گی

    موئے تسی وی او موئے اسی وی آں

    جیوندی جان ای موت دے منہ اندر

    ڈھوئے تسی وی او ڈھوئے اسی وی آں

    جاگن والیا رج کے لٹیا اے

    سوئے تسی وی او سوئے اسی وی آں

    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے

    روئے تسی وی او روئے اسی وی آں

    انسانی جان پر آزادی کے نام سے ٹوٹنے والی قیامت کے شکار حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے، مشاعرے میںموجودبھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھی آبدیدہ ہو گئے ، انہوں نے استاد دامن کو آزادی کا شاعر کے خطاب سے نوازتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام پذیر ہو جائیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے ، میں لاہور میں ہی رہو ں گا، بیشک جیل میں ہی کیوں نہ رہوں، 1962میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو لاہور آئے۔

    ائرپورٹ پر اترے تو انہوں نے پاکستانی گورنر اختر حسین سے کہا کہ میں استاد دامن سے ملنا چاہتا ہوں مگر ادب کی دولت سے ناآشنا گورنر اختر حسین نے اپنے لوگوں سے پوچھا کہ کون ہے استاد دامن؟اس درویش سے ناواقف حکمرانوں کی موجودگی کے باوجود اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی غربت و افلاس میں گزارنے کے باوجود پاکستان کے ہی گیت گائے، اس پاک دھرتی کو نفرتوں بے ایمانیوں عیاریوں سے پاک کرنے کے لیے عوام میںاپنی شاعری کے زریعے انسانی حقوق کی صدائیں بلند کیں اور امن و محبت کے پھول نچھاور کرتے رہے اور ساتھ ساتھ اُن برائیوں کی بھی مزاحمت کرتے رہے جو عوامی مفاد کے نقصان میں تھیں، استاد دامن نے حکمرانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھرپور تنقید کے ساتھ عوامی شعور کو بیدا ر کیا، عوامی حقوق کے کھوکھلے نعروں اور ملکی زوال پہ لکھتے ہیں ۔

    کھائی جاؤ کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنے

    وچوں وچ کھائی جاؤ اُتوں رولا پائی جاؤ

    انا مارے انی نوں کسن وجے تھمی نوں

    جنی تواتھوں انی پیندی اُنی انی پائی جاؤ

    کھائی جاؤ بھئی کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنا

    لڑکی والوں پر رسم و رواج اور بارات کے کھانے کا بوجھ ڈالنے کی مخالفت رکھنے والے استاد دامن نے1949میں ایک قطرین نامی لڑکی سے سادگی و پوشیدگی میںشادی کی جس سے ایک بیٹا بھی تھا جو پیدائش کے بعد مر گیا اور بیوی کے پیٹ میں رسولی تھی جس کا علاج کروایا مگر وہ بچ نہ سکی۔ استاد دامن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کوئی بھی انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارنا چاہتا مگر حالات و واقعات اسے اکیلے پن پر مجبور کر دیتے ہیں، میری پہلی شادی قدرت کو منظور نہ تھی اور دوسری شادی میرے نزدیک سودے بازی ہے۔ 1977کے فسادات میں ان کی دُکان کو آگ لگا دی گئی جس کے سبب مشکل مالی بحران کا شکار ہو کر باغبان پورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب ٹیکسالی گیٹ میں واقع اُس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین ؒبھی مقیم رہے، پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن رہا ۔

    دامن دی بیٹھک نامی اس حجرے میںہند و پاک کے نامور ادیب ، گلوکار، اداکار اور سیاسی وسماجی احباب شاعر فیض احمد فیض، صوفی تبسم، حبیب جالب، امجد اسلام امجد، منو بھائی، ملکہ ترنم نور جہاں، ادکار محمد علی اور فلمسٹار علاؤ الدین جیسی عام و خاص قد آورشخصیات سیاسی ادبی فکری گفتگو کے لیے آیا کرتیں جن کے لیے استاد دامن مختلف ذائقہ دار خوراکیں اپنے ہاتھوں سے بنا کر پیش کیا کرتے، ٹیکسالی گیٹ کے اس حجرے میں استاد دامن 1950سے لیکر 1984تک رہائش پذیر رہے، یہیں سے ہی استاد دامن نے عوام کے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر حکومتی بیماریوں کی نشاندہی کی، استاد دامن کے سارے اشعار اپنی تاثیر کی وجہ سے ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔

    استاد دامن نے زندگی اور معاشرے کا مطالعہ کھلی آنکھوں سے کیا، ان کے تجربات کی سلطنت انتہائی وسیع تھی، وہ کمال خوش اصلوبی سے عمومی سطح کے تجربوں کو بیان کرتے، دانائی کے موتی بکھیرتے چلے جاتے، ایک سچا شاعر ادیب ہر دور میں اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہوا انجام کے خطرے سے بے خوف رہتا ہے ۔ استاد دامن کے بقول بڑے لکھاری کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی غلامی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے ۔ استاد دامن کے شعور میں جوں جوں پختگی آتی گئی اُن کا ذہن دنیا سماج کائنات کے مسائل پر سفر کرتا گیا، وہ پسے ہوئے غریبوں پہ گزرنے والے حالات یوں بیان کرتے ہیں کہ

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ساڈے ہتھاں دیاں ریکھاں

    پیراں نال میٹن والیو

    او دو دو ہتھی

    دولتاں نوں اج سمیٹن والیو

    او لٹے پٹے ہویاں دی

    صف نوں سمیٹن والیو

    کر لووکوٹھیاں وچ چاننے

    کھو کے غریباں دا نور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    استاد دامن نے جرمن کمپنی جان ولیم ٹیلر سے سلائی کٹائی کا ڈپلومہ حاصل کر کے باغبان پورہ لاہور میں دامن ٹیلرنگ ہاؤس نامی اپنی دوکان کھولی، یہ درزی خانہ استاد دامن کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی تھا مگر روحانی خوشی شاعری سے ہی حاصل ہوتی اور دیکھتے ہی دیکھتے استاد دامن کا درزی خانہ شاعری کا شوق رکھنے والوں کے لیے ایک درس گاہ کا روپ دھار گیا۔

    استاد دامن کی قلمی شخصیت پرفیض احمد فیض کہتے ہیں کہ میں پنجابی شاعری اس لیے نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ؒ ، وارث شاہؒ اور بلھے شاہؒ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں اس کے علاوہ فیض صاحب نے استاد دامن کو پنجابی شاعری کا حبیب جالب بھی کہا۔ قیام پاکستان کے وقت جب شرپسندوں نے استاد دامن کی دُکان لائبریری اور کتابوں کو آگ لگا دی تھی جس میں ان کی ذاتی تحریریں اور ہیر کا مسودہ بھی شامل تھا جل کر راکھ ہو گئے تو انہوں نے اپنی قلمی کاوشیں کاغذ کے ٹکڑوں پہ لکھنے کی بجائے عوام کو سونپنی شروع کر دیں

    اسٹیجاں تے ہوئیے سکندر ہوئی دا اے

    اسٹیجوں اتر کے قلندر ہوئی دا اے

    الجھے جے دامن حکومت کسے نال

    بس اینا ای ہوندا اندر ہوئی دا اے

    ایوبی بھٹو اور ضیا دور میں قید کاٹنے والے استاد دامن نے بھٹو دور میں بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدی نظمیں لکھیں جب ایک طرف بھارت سے سو سال جنگ کرنے کی بات کرنے والے بھٹو صاحب اندرا گاندھی سے ملنے شملہ گئے تو اس پر استاد دامن نے بھٹو صاحب کو مخاطب کر کے یہ نظم لکھی

    ایہہ کیہ کری جانا ایں ایہہ کہ کری جانا ایں

    کدی چین جانا ایں کدی روس جانا ایں

    کدی شملے جانا ایں کدی مری جانا ایں

    جتھے جانا ایں بن کے جلوس جانا ایں

    دھسا دھس جانا دھسا دھوس جانا ایں

    لائی کھیس جانا اے کھچی دری جانا ایں

    ایہہ کی کری جانا ایں ایہہ کی کری جانا ایں

    یہ نظم جب بہت مشہور ہو گئی تو استاد دامن کو جیل میں ڈال دیا گیا، فیض صاحب کو یقین ہی نہ آئے کہ کوئی شخص استاد دامن کو جیل میں ڈال سکتا ہے ، استاد دامن پر جھوٹا الزام لگا کر مقدمہ بنایا گیا کہ ان کے پاس سے ریوالور بم برآمد ہوئے ہیں، جب مجسٹریٹ نے ان کو یہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ میرے حجرے کا تو دروازہ چھوٹا تھا ورنہ وہاں سے تو ٹینک نکلنے چاہیئں تھے جس پر استاد دامن نے یہ نظم لکھی کہ

    چوکی تھانے حوالات کچہریاں نیں

    کتھے کتھے جا کے میرے کم نکلے

    نکلے کوئی میدان وچ نکل سکدا اے

    سینہ ٹھوک کے تے جم جم نکلے

    نکلے پر کوئی مینوں دبا سکدا اے

    پاویں کوئی لے کے دم خم نکلے

    تے دامن شاعر دے قبضے وچ ویکھیا جے

    دو ۔ ریوالور تے دستی بم نکلے

    استاد دامن کی مشہور زمانہ کتاب دامن دے موتی ان کی باکمال شاعری کا لطف اندوز مجموعہ ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو ان کے دور کے حالات و واقعات سے ملوانے کا سچا آئینہ ہے ۔ استاد دامن فیض اور جالب کے چاہنے والوں میں سے تھے۔

    80 کی دہائی میں جب ان کے منہ بولے بیٹے فلمسٹار علاؤدین کا انتقال ہوا تو استاد دامن کی جیسے اپنی روح پرواز کر گئی ہو۔ کبھی بستر کبھی اسپتال کبھی گھر، کمزور پڑتی صحت کے ان ایام میںکچھ ہی عرصے بعد فیض احمد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جا ملے، استاد دامن چاہنے والوں کے روکنے کے باوجود اپنے قلمی یار کے جنازے میں شریک ہوئے، جہاں لوگوں نے پہلی بار استاد دامن کو دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دیکھا، ایسے معلوم ہوتا تھاگویا تقسیم ہند سے لیکر آج تک ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے رخصت ہونے کے بعد ہی ان تک آئی ہے، فیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984کو ہوا اور اُسی شام استاد دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی، ایسے ٹوٹے کہ صرف تیرہ دن بعد ہی بروز سوموار3 دسمبر 1984کو فیض صاحب کے پیچھے ان کی رُوح بھی آسمانی سفر پہ روانہ ہو گئی۔ استاد دامن کی وصیت کے مطابق قبرستان مادھو لال حسینؒ مین گیٹ لاہور میں شاہ حسین ؒ کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا۔

    ماری سرسری نظر جہان اندر

    تے زندگی ورق اُتھلیا میں

    دامن ملیا نہ کوئی رفیق مینوں

    ماری کفن دی بُکل تے چلیا میں

  • قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    السلام علیکم ، یاسمین صاحبہ ، کیسی ہیں ؟
    الحمدللہ ، بالکل ٹھیک
    کچھ اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیے کن اداروں سے تعلیم حاصل کی ؟
    کانونٹ جیسز اینڈ میری اور اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فائن آرٹس سٹڈیز میں تعلیم مکمل کی
    پہلی پینٹنگ کب بنائی ؟
    پہلی پینٹنگ دس سال کی عمر میں بنائی جو والد صاحب نے دیکھی اور اینا مولکا کو دکھائی ( اینا مولکا احمد مشہور مصورہ اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ فائن آرٹس کی بانی)
    اور پھر مصوری میں میں اینا مولکا صاحبہ کی پرائیویٹ سٹوڈنٹ رہی
    کانونٹ میں تعلیم اور فائن آرٹس میں دلچسپی کے باوجود اردو شاعری کی طرف کیسے ا ئیں؟
    کانونٹ میں پڑھنے کی وجہ سے میری اردو زرا کمزور تھی وہ میں نے اپنی والدہ صفیہ بیگم صاحبہ سے سیکھی وہ لکھتی تھیں شاعری بھی کرتی تھیں میرے ننھیال کا ماحول بہت علمی و ادبی تھا میرے نانا ماموں سب علامہ اقبال کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے اور گھر میں مولانا ظفر علی خان کا بھی آ نا جانا تھا شاعری میں علامہ اقبال سے متاثر ہوئی .

    شاعری اور مصوری میں کیا قدر مشترک ہے ؟
    میرے خیال میں شاعر اپنے تخیل میں الفاظ سے رنگ بھر کر کے غزل و نظم کہتا ہے اور مصور اپنے تخیل کو رنگوں کی صورت کینوس پر اتارتا ہے دونوں اپنے اپنے تخیل میں رنگ بھرتے ہیں
    بہت خوبصورت بات ہے یاسمین صاحبہ ، یہ بتائیے جب آ پ نے قائد اعظم کی پینٹنگ بنای تو تخیل میں وہ کیسے تھے ؟
    بالکل ویسے تھے جیسے میں نے انہیں زندہ و سلامت دیکھا تھا انہیں ملی تھی اور ان کا دست شفقت آ ج بھی میں اپنے سر پر محسوس کرتی ہوں
    yasmeen
    یاسمین صاحبہ آ پ کا پاکستان کے اہم خانوادہ سے تعلق ہے آ پ کے والد محترم ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے اور آ خری وقت میں ان کے ساتھ تھے اس حوالے سے تفصیل سے بتائیے
    جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی تو ان دنوں میری عمر سات آ ٹھ سال تھی اتنا بچہ سمجھ دار ہوتا ہے اسے سب یاد ہوتا ہے میں نے اپنے گھر میں قائد اعظم اور پاکستان کا بہت نام سنا تھا میں سب بچوں کو جمع کرلیتی تھی اور جلوس نکالتی تھی ہلیپرز کے بچے بھی آ جاتے تھے اور میری قیادت میں سب بچے مل کر نعرے لگاتے تھے
    لے کے رہیں گے پاکستان
    دینا پڑے گا پاکستان
    پاکستان ہمارا ہے
    جان سے بڑھ کر پیارا ہے
    بہت جوش وخروش کا عالم تھا میرے تصور میں پاکستان ایسا تھا کہ جہاں پھول کھلے ہونگے اور بہت خوبصورت ہوگا جہاں مسلمان خوش رہیں گے اور قائد اعظم مجھے ہمالیہ سے بھی بلند لگتے تھے اور واقعی وہ بہت بڑے عظیم لیڈر تھے آ ج تک کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آ یا
    اور پھر ایک دن وہ بھی آ یا جب ابا نے سب بچوں بڑوں کو ڈراینگ روم میں بلایا سب وہاں جمع تھے اور خاموش تھے ابا نے ریڈیو آ ن کردیا کچھ دیر بعد ایک آ واز گونجی پہ آ ل انڈیا ریڈیو ہے کچھ دیر بعد اہم اعلان کیا جاے گا
    اور پھر بارہ بج کر سات منٹ پر مصطفی ہمدانی نے اعلان کیا ،، یہ ریڈیو پاکستان ہے ،،
    یہ آ واز اب تک میرے کانوں سے نکلتی نہیں ، سب کی آ نکھوں میں خوشی کے آ نسو تھے ، قائد اعظم جب بمبئی میں تھے تو ڈاکٹر پیٹل کے زیر علاج تھے وہ ایک مہلک بیماری ٹی بی میں مبتلا تھے ڈاکٹر پیٹل نے میرے والد صاحب ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے ھیینڈ اوور کردیا کیونکہ والد صاحب اس وقت برصغیر کے نامور ٹی بی سپشلسٹ تھے اور اس سلسلے میں ایوارڈ حاصل کر چکے تھے امریکہ سے انہوں نے اس بیماری پر ریسرچ کی تھی
    اب وہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے قائد اعظم نے میرے والد سے کہا تھا کہ ڈاکٹر شاہ میری بیماری کو سیکرٹ رکھنا ہے اور میرے والد صاحب نے اسے بہت راز میں رکھا قائد اعظم کی حالت ایسی تھی کہ اب وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ان کی زندگی کی جتنی مدت ڈاکٹرز نے بتا دی تھی والد صاحب کے علاج کے بعد اس مدت میں کچھ اضافہ ہوا اور وہ مزید اٹھارہ ماہ زندہ رہے
    لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر جناح کی بیماری کا علم ہو جاتا تو پاکستان نہ بنتا
    انگریز اور ہندو یہی چاہتے تھے میرے والد صاحب نے بہت رازداری سے علاج کیا اور کسی کو ان کی حالت کی ہوا نہیں لگنے دی یہ میرے والد صاحب کی پاکستان کے لیے خدمت تھی لیکن انہوں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا کسی بڑائی کا اظہار نہیں کیا،جب قائد اعظم کراچی آ گئے اور یہیں رہنا چاہتے تھے لیکن ان کی حالت کے پیش نظر والد صاحب اور دوسرے ڈاکٹرز نے آ ب وہوا کی تبدیلی کے لیے انہیں کوئیٹہ زیارت لے جانے کا فیصلہ کیا،کوئٹہ منتقل ہونے کے بعد ان کا علاج جاری تھا ڈاکٹرز کو بہتری کی امید تھی محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ساتھ تھیں ، اب والد صاحب قائد کے علاج کے سلسلے میں لاہور سے کوئٹہ آ تے جاتے رہتے تھے چونکہ قائد ایسے انسان تھے جو دوسروں کا سوچتے تھے کسی کی تکلیف انہیں گوارا نہیں تھی انہوں نے والد صاحب سے کہا ڈاکٹر شاہ آ پ کی فیملی لاہور میں ہے آ پکو کوئیٹہ آ نا پڑتا ہے آ پ فیملی کو بھی یہاں بلا لیں اس طرح والد صاحب نے ہمیں کوئیٹہ بلوا لیا ہم وہاں چلتان ہوٹل میں رہے ان دنوں میری والدہ کی فاطمہ جناح سے بہت دوستی ہو گئی ہم بچوں کو جہاں قائد اعظم تھے زیارت ریزیڈنسی میں نہیں لے جایا جاتا تھا ایک دن میں اور میرا بھائی ضد کر کے والد صاحب کے ساتھ چلے گئے اس دن قائد اعظم کو وہیل چیئر پر لایا گیا ان کے ایک طرف برٹش نرس اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح تھیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ وہ کتنے کمزور ہو گئے تھے جب میں پہلے ان سے ملی تھی تو وہ بہت شاندار نظر آ ئے تھے اور انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا،جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں کراچی واپس لایا گیا وہ اپنے جہاز میں جو پہلے ماؤنٹ بیٹن کا تھا ڈکوٹا اس میں کراچی آ ئے اور ایئر پورٹ سے ایمبولینس روانہ ہوئی جس میں میرے والد صاحب محترمہ فاطمہ جناح اور دوسرے ڈاکٹرز تھے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر ہماری گاڑی تھی جس میں ہماری فیملی تھی کچھ دور جانے کے بعد ایمبولینس رک گئی اس کا پچھلا دروازہ کھلا برٹش نرس باہر آ ئیں فاطمہ جناح بھی اتریں ہم پریشان ہوے پھر پتہ چلا کہ ٹکنیکل فالٹ ہے ابھی دوسری ایمبولینس آ جائے گی ، یہاں میں ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ قائد اعظم کا ایمبولینس میں انتقال نہیں ہوا اکثر لوگوں نے کہا اور یہ لکھا ہے لیکن یہ غلط ہے میں نے اپنی آ نکھوں سے ایمبولینس میں قائد اعظم کو دیکھا وہ بے چین تھے ہاتھ ہلا رہے تھے محترمہ سے بات کرنے کی کوشش کر رہے تھے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھلا تھا قائد اسٹریچر پر تھے اور پیچھے ہماری گاڑی تھی میں رونے لگی اور والدہ نے مجھے تسلی دی کہ قائد کو کچھ نہیں ہوگا ، پھر دوسری ایمبولینس آ گئی اور ہم وہاں سے روانہ ہوئے.کراچی پہنچنے کے تھوڑے دنوں بعد ایک رات محترمہ فاطمہ جناح کا والد صاحب کو فون آ یا کہ کہ قائد کی طبیعت بہت خراب ہے آ پ آ جائیں.میرے والد صاحب نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ جب میں وہاں پہنچا تو محترمہ فاطمہ جناح کی گود میں قائد کا سر تھا ان کا آ خری وقت تھا ان کی آ واز مدھم ہوگئی تھی لیکن موت سے پہلے شاید ایک سنھبالا آ یا اور ان کے آ خری الفاظ تھے اللہ اور پاکستان..

    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ
    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ

    یاسمین صاحبہ ، آ پ خؤش قسمت ہیں آ پ نے عظیم لیڈر کو نہ صرف دیکھا بلکہ آ پ کا بچپن ان کے ساتھ گزرا کچھ محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں بتائیے ؟
    فاطمہ جناح بہت گریس فل ، بہت اچھی شخصیت کی مالک تھیں ہمیشہ سفید یا گرے لباس میں ملبوس ہوتیں مجھے بہت اچھی لگتی تھیں لاہور میں ہمارا فارم ہاؤس تھا دلکشا گارڈن وہ جب بھی لاہور آ تیں وہیں ٹھہرتیں اور میں سب سے پہلے جاکر ان سے ہاتھ ملاتی میرا دل چاہتا تھا میں بھی ان جیسی بنوں ایک دن میرا دل چاھا میں ان کے سفید خوبصورت لباس کو ہاتھ لگا کر دیکھوں میں نے ان کی چادر کو چھوا تو انہیں مجھ پر پیار آ یا انہوں نے مجھے پیار کیا اور کہا تم بڑی ہو جاؤ گی تو اپنے ملک کے لیے کام کرنا ، اور مجھے امید ہے تم ضرور کرو گی

    ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور فاطمہ جناح
    یاسمین صاحبہ اب اپنے سوشل ورک کے بارے میں بتائیے اس سلسلے میں آ پ کی بہت خدمات ہیں ؟
    میں امریکہ میں پندرہ سال رہی ہوں وہاں سے صرف اپنے وطن کی خدمت کے لیے واپس آ ئی ہوں اس کا سہرا شمسی صاحب کو جاتا ہے وہ میرے استاد بھی ہیں ہم نے مل کر ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، ا کے نام سے ادارہ بنایا جس کے تحت غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور گھر گھر جاکر مستحق لوگوں کی مدد کی جاتی ہے ، غریب جھگیوں والوں کی مدد کی جاتی ہے ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، کے پریذیڈنٹ زاہد شمسی صاحب اور میں وائس پریزیڈنٹ ہوں
    یاسمین صاحبہ نئی نسل کے لیے کوئی پیغام ؟
    میں ساری دنیا میں گھومی ہوں لیکن میں نے اپنی یوتھ کو سب سے اچھا پایا یہ سب کرسکتے ہیں بس انہیں قائد اعظم کے سنہری اصولوں ، اتحاد ، ایمان ، تنظیم کو اپنانا ہوگا
    میرا خیال ہے اب میں ہی زندہ ہوں جس نے پاکستان بنتے دیکھا ان دنوں کا جوش و جذبہ محسوس کیا اور قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح جیسی عظیم شخصیات کو قریب سے دیکھا والد صاحب قائد اعظم کے صرف پرسنل ڈاکٹر ہی نہیں دوست بھی تھے اور انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن کے دنوں میں ان کی حمایت میں ورک بھی کیا تھا پھر میرے نانا اور ماموں علامہ اقبال کی زندگی میں ان سے مل چکے تھے اور گھر میں علامہ اقبال کی شاعری کا بہت ذکر ہوتا تھا سب انہیں بہت پسند کرتے تھے پھر پاکستان اور قائد اعظم کا بہت ذکر ہوتا تھا اس کے علاؤہ مولانا ظفر علی میرے والد کے پیشنٹ بھی تھے پڑوس میں رہتے تھے ان کے گھر بھی آ نا جانا تھا ان کی شاعری اس وقت میری سمجھ میں نہیں آ تی تھی ، بس ان عظیم شخصیات کے ساتھ گزرا میرا بچپن بہت حسین تھا اور میں انہی یادوں کے ساتھ زندہ ہوں اور نئی نسل سے توقع ہے کہ قیام پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے
    اپنے شوہر محترم اور بچوں کے بارے میں بتائیے ؟
    میرے شوہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید سجاد بخاری صاحب ستارہ امتیاز حاصل کر چکے ہیں بیٹا ڈاکٹر احمد جمال بخاری بیسٹ ڈاکٹر کے متعدد ایوارڈز حاصل کر چکا ہے دو بیٹیاں ہیں بڑی عائشہ بخاری اور چھوٹی شہرزادے بخآری
    یاسمین بخاری صاحبہ آ پ سے مل کر بہت اچھا لگا میں خوش قسمت ہوں کہ آ پ جیسی شخصیت سے ملی اور بات چیت کی
    مجھے بھی اچھا لگا
    یہ میرے لیے اعزاز ہے ، بہت شکریہ

  • ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کے زیر اہتمام امریکہ سے تشریف لائیں منفرد لہجے کی خوش الحان شاعرہ محترمہ قانع ادا کے اعزاز میں سجی ایک ست رنگی شعری نشست جس کی صدارت فرزند لاہور عالی جناب خواجہ جمشید امام نے کی،تقریب کی میزبانی چئیرمین سپریم کونسل ملی ادبی پنچائیت عزت مآب چوہدری رضوان کاہلوں کا مقدر بنی اور نظامت کے فرائض ریاض احمد احسان نے نبھائے- ادب،صحافت،تجارت اور سیاست کے میدان سے تعلق رکھنے والے پانچ درجن سے زائد معززین شہر اور سفیران ادب کی شرکت سے تقریب معتبر ہوئی-

    سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق لاہور عظیم البرکت محمد نواز کھرل کی خصوصی آمد اور گفتگو نے ماحول معطر کیا،ولائت احمد فاروقی نے نعت رسول ﷺ مقبول اس انداز سے پیش کی کہ ساری محفل سبحان اللہ سبحان اللہ کہتی رہی،استاد نذر عباس کی پرفارمنس نے قلب ونگاہ ہی نہیں روح کو بھی سرشار کیا،استاد محترم ممتاز راشد لاہوری نے خوب داد پائی،ڈاکٹر طارق حسین طارق نے فیاضی بانٹی،پروفیسر ضیغم عباس گوندل نے خوشبو بکھیری،فارحہ نوید نے سخن کے پھول نچھاور کیے،سعدیہ ہما شیخ نے مملو و مرصع نظم پیش کی،ڈیوڈ پرسی نے دلوں میں اترنے والا کلام پیش کیا،محترمہ عتیقہ اشرف نے عارفانہ کلام پیش کیا،”بلبل سخن” سجاد بھنڈر نے ولولہ انگیز خطاب فرمایا،طارق حسین لک ایڈووکیٹ نے کلاسیکی لہجے کی خوب ترجمانی کی،چوہدری رضوان کاہلوں نے موٹیویشنل خطاب کیا،گل بات ود چوہدری اسداللہ کاہلوں کے میزبان چوہدری اسد اللہ کاہلوں اور چوہدری ذیشان کاہلوں کی آمد پر ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا،یوسف نثر محترم ناصف اعوان،کیپٹن ر صماد گریوال،معروف سیاسی و سماجی رہنما اسد علی خان،معروف کاروباری شخصیت ہمایوں یوسف کھچی،پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن کے ممبر اشفاق حسین،قومی چیمپئن عبداللہ باکسر اور درجنوں خواتین و حضرات نے داد و تحسین کے وہ پھول نچھاور کیے کہ تخلیق کاروں کی آنکھوں کی مقدس جھالریں بار بار شبنمی ہوتی رہیں-

    شہزادہ علی ذوالقرنین نے مختصر اور جامع گفتگو کرتے ہوئے صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا کے فن اور شخصیت پر گفتگو کی- صاحب صدر خواجہ جمشید امام نے خطبہ صدارت میں صاحبہ جشن کی تخلیقات اور ملی ادبی پنچائیت کے کردار پر خوب روشنی ڈالی—– آخر میں صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا نے خوشگوار ماحول میں سازگار گفتگو کرتے ہوئے ملی ادبی پنچائیت کا شکریہ ادا کیا اور شاعری سنائی- محترمہ قانع ادا نے حاضرین کی فرمائش پر ترنم میں پنجابی کلام بھی سنایا جسے خوب پذیرائی ملی-

    ملی ادبی پنچائیت کسی فرد یا ادارے سے کسی قسم کی مالی مدد یا سہولت نہیں لیتی سو ملی ادبی پنچائیت اپنی مدد آپکے تحت معززین شہر سخن کے اعزاز میں اُن کی زندگی میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبات کا اہتمام کرتی رہے گی- ان شاءللہ

    ہم ملی ادبی پنچائیت کی تقریبات میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں،عظیم حافیوں،سیاستدانوں،شاعروں،ادیبوں،دانش وروں،خطیبوں اور صنعت و تجارت کی نمائندگی کرنے والے عظیم پاکستانیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں-
    ریاض احمد احسان
    بانی چیئرمین ملی ادبی پنچائیت

  • اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اکیس فروری کو آ واری ہوٹل کے خوبصورت ہال میں ایک منفرد اور یادگار اہل قلم کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست بہت ہی خاص تھی، جس کا اہتمام دو اہم شخصیات، منزہ سہام صاحبہ اور ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے کیا تھا۔ دونوں خواتین اپنی اپنی شعبوں میں انتہائی قابل اور فعال ہیں۔

    منزہ سہام صاحبہ، جو کہ معروف صحافی اور پچاس سال سے زائد عرصے سے شائع ہونے والے ماہنامہ "دوشیزہ ڈائجسٹ” کی چیف ایڈیٹر ہیں، اس محفل میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کی صحافت اور ادب میں خدمات کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔ منزہ صاحبہ نے ہمیشہ قلم کی طاقت کو فروغ دیا ہے اور ان کے والدین، سہام مرزا صاحب اور رخسانہ سہام مرزا کے میگزین نے کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہونے کے بجائے ہمیشہ ایک نئی روشنی کی کرن بن کر ادب کی خدمت کی ہے۔

    دوسری جانب، ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ جو آئرلینڈ سے پاکستان آئی ہوئی ہیں، نہ صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کی کتابوں میں "باد سموم”، "ایک تھی ستارہ”، اور "زرد پتوں کی بارش” شامل ہیں، جن میں سے "باد سموم” پر خاصی توجہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب کا دیباچہ بھی معروف مصنفہ سلمہ اعوان صاحبہ نے لکھا ہے۔

    اس نشست میں سلمہ اعوان صاحبہ کی شرکت نے محفل کو مزید پر رونق بنا دیا۔ سلمہ اعوان صاحبہ جو کہ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت یاب ہو کر آئی تھیں، ان کی موجودگی نے سب کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ ان کے علاوہ مسرت کلانچوی صاحبہ بھی اس محفل میں شریک ہوئیں اور اپنی نئی کتاب "تیرگی میں تارہ” کا تحفہ پیش کیا۔ یہ کتاب ایک نیا سنگ میل ہے اور ادب میں ان کی کامیاب کوششوں کا ثبوت ہے۔اس محفل میں بہت سی اہم شخصیات بھی شریک تھیں جن میں شاہین اشرف علی، فرح ہاشمی، کنول بہزاد، نسیم سکینہ صدف، حبیبہ عمیر، غزالہ فرخ، سعدیہ سیٹھی اور دیگر قلمکار شامل تھے۔ ان تمام اہل قلم نے اس نشست کو کامیاب بنانے میں اپنی اہمیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    اس نشست میں مختلف موضوعات پر گہری گفتگو ہوئی۔ منزہ سہام صاحبہ جو کہ کراچی سے آئی تھیں، نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی۔ ان کی باتوں میں کراچی کی مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی حالت کے بارے میں آگاہی تھی۔ ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے آئرلینڈ اور پاکستان کے مابین صحت کے شعبے میں فرق پر بھی روشنی ڈالی اور وہاں کی پریکٹسنگ ڈاکٹری کے تجربات کو شیئر کیا۔محفل کے اختتام پر ایک شاندار اور مزیدار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ اس ڈنر میں اہل قلم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ ڈنر کی تکمیل نے محفل کو ایک خوشگوار یادگار لمحے میں تبدیل کر دیا۔

    یہ نشست ایک بھرپور اور کامیاب محفل تھی جہاں اہل قلم نے ایک دوسرے سے ملاقات کی، مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور اپنے تخلیقی کاموں میں مزید ترقی کی دعا کی۔ منزہ سہام صاحبہ کی شخصیت واقعی متاثر کن ہے، جنہوں نے کم عمری میں ہی بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت اور ادب کی دنیا میں ایک نیا مقام بنایا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور ان کے تخلیقی کاموں میں کامیابی دے۔ آمین۔

     

  • کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شاعر ی وہ لطیف اور حساس اظہار ہے جو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، خیالات، خوابوں اور حقیقتوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس فن میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ سرگودھا کی تاریخی تحصیل بھیرہ کے نوجوان شاعر کامران حسانی بھی ایسے ہی خوش نصیب اور باصلاحیت شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام بنایا ہے۔
    کامران حسانی کا نام ادب کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام "احساس” ایک خوبصورت تجربہ تھا جسے قارئین نے بے حد سراہا، اور اب ان کی دوسری کتاب "گل تازہ” کی رونمائی ہونے جا رہی ہے۔ یہ تقریب 23 فروری 2025، بروز اتوار، شام پانچ بجے بلوچ میرج ہال بھیرہ میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں مشہور شاعر علی زریون مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ یہ ایک یادگار ادبی محفل ہوگی، جہاں سخن کے متوالے ایک اور خوبصورت شعری مجموعے کو خوش آمدید کہیں گے۔کامران حسانی – ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔کامران حسانی کی شاعری ایک نئے انداز کی نمائندگی کرتی ہے۔
    مری زندگی ہے چراغ سی مجھے روشنی پہ کمال ہے
    مری دشمنی ہے ہواؤں سے مرا زندہ رہنا محال ہے
    مجھے خوف کیا ہو بلاؤں کا ترے ہاتھ ہیں جو اٹھے ہوئے
    تری خیر ہو مری والدہ تری یہ دعا مری ڈھال ہے
    تجھے روکنے کا جواز تو مرے پاس تھا ہی نہیں مگر
    تجھے کہ دیا ہے جو الوداع مری حسرتوں کا زوال ہے
    وہ جذبات کے گہرے سمندر میں اتر کر الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر انہیں ایسے ترتیب دیتے ہیں کہ قاری ایک ہی نشست میں ان کے اشعار کو پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ بھی ہے اور جدید رجحانات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ نہ صرف محبت، حسن اور وفا جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں بلکہ سماجی مسائل، انسانی نفسیات اور جدید دور کی بے حسی کو بھی اپنے اشعار میں بیان کرتے ہیں۔
    دل نشیں دل ربا محبت ہے
    میرا تو مدعا محبت ہے
    اور دوں گا جہاں تلک پہنچے
    یار میری صدا محبت ہے
    ایک درویش نے کہا تھا مجھے
    دل محبت ، دعا محبت ہے
    تجھ کو آنا ہے گر مرے دل تک
    ایک ہی راستہ محبت ہے
    اس نے غصے سے پوچھا کیا ہے تمھیں ؟
    میں نے بھی کہہ دیا محبت ہے
    نام دونوں نے ریت پہ لکھے
    اور یہ بھی لکھا محبت ہے
    ایک مدت کے بعد جیون کا
    راز مجھ پر کھلا ، محبت ہے
    سارے الزام سہہ لیئے لیکن
    میں یہ کہتا رہا محبت ہے
    حل نکالے گا کوئی کیا اس کا
    مسئلہ آپ کا محبت ہے
    کاش تم یہ سمجھ سکو اے دوست
    آدمی کی بقا محبت ہے
    چاہتا ہوں جسے میں حسانی
    یار وہ سر تا پا محبت ہے
    کامران کی شاعری میں ایک خاص کشش ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کا اندازِ بیاں منفرد اور سادہ ہے، جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ روایتی غزل کے ساتھ ساتھ آزاد نظم اور جدید انداز میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد، امید، خواہش، بے قراری، وصل، ہجر، خواب اور حقیقت کی حسین آمیزش ملتی ہے، جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔”گل تازہ” – ایک خوبصورت پیشکش ہے۔”گل تازہ” کامران حسانی کے جذبات، احساسات اور تخلیقی سفر کا نچوڑ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ان کے شعری سفر کا ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی کسی تحفے سے کم نہیں ہوگی۔ اس کتاب میں موجود اشعار میں محبت کی خوشبو، ہجر کی تپش، زندگی کی حقیقتیں اور خوابوں کی نرمی یکجا ملے گی۔کتاب کا عنوان "گل تازہ” ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ شاعری کی دنیا میں ایک تازگی اور خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ کامران حسانی نے اپنے تخلیقی فن سے اس کتاب میں وہ رنگ بھرے ہیں جو کسی بھی ادب دوست کو اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ادبی منظرنامے پر کامران حسانی کی اہمیت موجود ہے۔پاکستان میں نوجوان شعراء کی کمی نہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کے زینے طے کرتے ہیں۔ کامران حسانی بھی انہی خوش نصیب شاعروں میں شامل ہیں جو اپنی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف جذباتی اور رومانی شاعری میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ ان کے اشعار میں فکری گہرائی بھی ہوتی ہے۔ وہ روایتی موضوعات کو ایک نئے انداز میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں، اور یہی چیز انہیں دوسرے شعرا سے منفرد بناتی ہے۔
    فقط اتنی کہانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    جہاں تک زندگانی ہے ، محبت جاودانی کے
    ہمیں موسم بدلنے ہیں ، فلک کے دوش پر مل کر
    دھنک ہم نے سجانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    ابھی کھویا نہیں کچھ بھی ابھی سے تم پریشاں ہو
    ابھی تو جاں گنوانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    فنا ہونے کو اس دنیا کے میلے میں سنو یارو
    بھلے ہر چیز فانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    محبت مر نہیں سکتی تمھیں اتنا بتانا ہے
    محبت جاودانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    اسی صحرا کے آخر پر تمھیں دریا ملے گا دوست
    ذرا ہمت بڑھانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    تمھارے بعد بھی ہم کو ملے ہیں لوگ ڈھیروں پر
    تمھارا کون ثانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    سنو نفرت خسارا ہے جو سب کچھ لوٹ لیتی ہے
    مگر جو کامرانی ہے ،محبت جاودانی ہے
    ان کے اشعار میں محبت کی خوشبو بھی ہے، فراق کا کرب بھی، زندگی کی حقیقتیں بھی اور خوابوں کی حسین دنیا بھی۔ یہی تنوع ان کی شاعری کو مزید دلکش بناتا ہے۔تقریبِ رونمائی – 23 فروری 2025 کا دن بھیرہ کے ادبی حلقوں کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ بلوچ میرج ہال بھیرہ میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستان کے نامور شاعر علی زریون بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ علی زریون کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شاعری نے نوجوان نسل کو ایک نئی سوچ دی ہے، اور ان کا موجود ہونا اس تقریب کو مزید یادگار بنا دے گا۔یہ تقریب نہ صرف "گل تازہ” کی رونمائی ہوگی بلکہ ایک مشاعرہ بھی ہوگا جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے شعراء شرکت کریں گے۔ اس محفل میں سخن کے رنگ بکھریں گے، خوبصورت اشعار کی گونج ہوگی، اور سامعین ایک منفرد ادبی تجربہ حاصل کریں گے۔کامران حسانی جیسے نوجوان شعراء اردو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ان کی شاعری میں جو خلوص، سچائی اور گہرائی ہے، وہ انہیں ایک بڑا شاعر بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ "گل تازہ” نہ صرف ان کے ادبی سفر کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ اردو شاعری کے دامن میں بھی ایک خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کتاب نہ صرف قارئین کے دلوں کو چھوئے گی بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گی۔ کامران حسانی کی یہ کامرانی قابلِ ستائش ہے، اور ہم ان کے روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ اسی جذبے، محنت اور لگن سے اردو شاعری کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں۔
    یوں تری بزم سے اٹھوں گا چلا جاؤں گا
    تلخیاں دل کی سمیٹوں گا چلا جاؤں گا
    میں بھی اس فکر کی منڈی کا بیوپاری ہوں
    جو بکامال،وہ بیچوں گا چلا چاؤں

  • اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    ایک بار پھر اللہ کریم کا ہزار ہا شکر گزار ہوں جس نے مجھ نا چیز پر قلم اور قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو سراہنے کی ذمہ داری ڈالی۔جسے میں اور اپووا کی پوری ٹیم جانفشانی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔اپووا نے اس بار ادبی کانفرنس کے لئے شہر ِ شاعر مشرق(سیالکوٹ) کا انتخاب کیا ۔اس کانفرنس کی میزبانی معروف شاعرہ ثوبیہ راجپوت نے اپنے ذمہ لی اور میزبانی کی ذمہ داری خوب نبھائی بھی …

    ہمیشہ کی طرح اپووا ٹیم کی یہ خواہش تھی کہ ایسے لوگوں کو بطور مہمان بلایا جائے جو اپنے تجربات کی روشنی میں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔۔اپووا کی بنیاد رکھتے ہوئے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اتنی جلدی اپنی گرہیں مضبوط کر لے گی۔چیئرمین سر زبیر احمد انصاری کی سر پرستی میں ہماری تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اپنی کام یابی کا لوہا منوا چکی ہے۔زبیر بھائی سماجی اور سیاسی شخصیت تو ہیں ہی مگر ادب سے بھی بے پناہ لگاو رکھتے ہیں۔۔ایک مخلص اور ادب دوست انسان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے اور اپووا ٹیم کو سپورٹ کیامیں ان کی محبتوں کا ہمیشہ مقروض رہوں گا۔کانفرنس سے تقریباً ایک ماہ پہلے زبیر صاحب ہی کی قیادت میں اپووا ٹیم نے سیالکوٹ کا دورہ کیا تھا جہاں سی ای او اللہ مالک ہوٹل گروپ محترم نواز انصاری صاحب نے پھر پور مہمان نوازی کی تھی اور تب ہی یہ طے ہوا تھا کہ سیالکوٹ میں ادبی کانفرنس اللہ مالک ایوینٹ کملیکس میں ہوگی۔

    بات ہو رہی تھی اپووا کی تواپووا کا مقصد یہ نہیں کہ صرف بڑے بڑے نامور لکھاریوں کو اعزازات سے نوازے۔ بلکہ اپووا کا مقصد دور دراز کے چھوٹے اور گمنام علاقوں سے ٹیلنٹ کھوج کر سامنے لانابھی ہے۔اور ان نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہی ہمارا حقیقی مقصد ہے۔بات ہو رہی تھی سیالکوٹ کانفرنس کی تو اپنے شہر سے دور جا کر کوئی بھی ایوینٹ کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہوتا ہے اور کافی چیلنجز درپیش ہوتے ہیں ۔ایسے میں ثوبیہ راجپوت نے اپنی ذمہ داریاں بااحسن نبھائیں اور ان ہی کی تواسط سے گھوئنکی لائن کلب کے صدر محترم عمر سلیم گھمن صاحب نے بھی بھر پور معاونت فراہم کرکے ادب دوست ہونے کا عملی ثبوت دیا ۔اس کے علاوہ بہت ہی پیاری آپی فرظینہ مقصودبٹ(USA) جو اپووا صدر ثمینہ طاہر بٹ کی چھوٹی بہن بھی ہیں انہوں نے اس بار بھی اپنی بھر پور محبتوں سے نوازاآپ دیار غیر میں بیٹھ کر بھی اپنے وطن کی مٹی اور اپنے وطن سے جڑے لوگوں سے بہت انسیت رکھتی ہیں جو آپ کے اعلی ظرف ہونے کا ثبوت ہے۔ ان کے علاوہ میں شکر گزار ہوں دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کا جنہوں کانفرنس کے موقع پر فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا اور دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کی وائس چیئر پرسن راحیلہ اشرف صاحبہ مصروفیات کے باوجود کانفرنس کے اختتام تک میڈیکل کیمپ میں موجود رہیں۔عین ضرورت کے وقت ہمیشہ کام آنے والے میرے دیرینہ دوست اور نائب صدر اسلم بھائی اور میں کانفرنس سے ایک روز قبل سیالکوٹ پہنچے۔ہمارا لنچ ثوبیہ راجپوت صاحبہ کے گھر تھا ثوبیہ کے گھر سے پرتکلف لنچ کرنے کے بعد ہم کاروان قلم کی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اور کانفرنس کی تیاریوں کو حتمی شکل دی ۔رات کا ڈنر سیالکوٹ کے معروف صحافی و لکھاری مہر اشتیاق نے اللہ ملک ہوٹل میں دیا اور ہماری رہائش بھی مہر اشتیاق کے دولت خانہ میں تھی اشتیاق بھائی نے بھی میزبانی کا خوب حق ادا کیا اگلے دن صبح انہوں نے ہمیں پائے کا بھر پور ناشتہ کروایا اور اس کے بعد ہم اللہ مالک ہوٹل پہنچے تو مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا… سب سےپہلے،فاکہہ قمر اس کے بعد قرۃ العین خالد اور ان کی بہن الماس العین خالد ان کے ساتھ ہی ڈاکٹر ندیم ملک اور امین رضا مغل ڈسکہ سے اپنی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اس کے بعد سرگودھا سے معروف ادبی شخصیت اور انتہائی محبت اور شفقت کرنے والے ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب تشریف لائے ان کے ہمراہ معروف براڈ کاسٹر ممتاز عارف صاحب بھی موجود تھے ممتاز عارف صاحب کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا ۔

    کھاریاں سے معروف قانون دان سعدیہ ہماشیخ بھی تشریف لائیں۔لاہور سے وائس چیئرمین حافظ محمد زاہد کی زیر نگرانی ،لیجینڈاداکار راشد محمودصاحب ،معروف شاعر شہزد نیئر صاحب،سنئیر صحافی ندیم نظرصاحب،معروف براڈ کاسٹر اور شاعرہ ریحانہ عثمانی ڈرامہ نگار ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول،معروف ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری،معروف لکھاری اظہر حسین بھٹی ،محترم نادر فہمی،نائب صدر و مصنف سفیان علی فاروقی،فاطمہ طاہر بٹ ،سوشل ایکٹیوسٹ ساجدہ اصغر صاحبہ اور کینڈا سے ان کی صاحبزادی ۔معروف صحافی سجاد علی بھنڈر،معروف لکھاری و صحافی نبیلہ اکبر،نوجوان لکھاریہ لاریب اقراء اور بالخصوص رشنا اختر جو اپووا ویب کی ایڈیٹر بھی ہیں وہ محمود کوٹ سے طویل سفر طے کر کے پہلے لاہور اور پھر لاہور سے کارواں کے ساتھ سیالکوٹ پہنچیں ۔معروف سیاسی و سماجی رہنما ریاض احمد احسان ،معروف شاعرہ عروج درانی،معروف شاعر ضیغم عباس گوندل بھی لاہور سے تشریف لے آئے سیالکوٹ سے بھی مہمانوں کی آمد کا سلسہ جاری رہا ۔جن میں گھوئینکی لائن کلب کے عہدیدرارن و ممبران کے علا وہ سمیرا ساجد،مقبول شاکر،ڈاکٹر نصیر احمد اسد،عاصمہ فراز،ڈاکٹر الیاس عاجز،اعجاز عزائی ،سید زاہد حسین بخاری،ملک ساجد اعوان ،ڈاکٹرمحمد خرم ،عبدالشکور,ڈاکٹر اکبر غازی،آصفہ مریم اور دیگر بڑے بڑے نام شامل تھے .

    مدیحہ کنول نے حسب روایت اپنی کمپرئینگ کی ذمہ داریاں بہت احسن طریقے سے نبھائیں۔ہمیشہ کی طرح تقریب کا اآغاز زاہد بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا اور حفصہ خالد نے نعت رسول صلی اللہ وسلم پڑھ کر سماء باندھ دیا ،گجر انولہ سے تشریف لائی معروف شاعرہ فرحانہ عنبر نے اپووا پر لکھی خوبصورت غزل سنا کر خوب داد سمیٹی ۔سبز صحافت تنظیم کی طرف سے چئیرمین زبیر انصاری،وائس چئیرمین حافظ محمد زاہد ،صدر ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول اور راقم کو نشان صحافت دیا گیا جس پر میں فیصل افضل بھائی کا طے دل سے مشکور ہوں۔تقریب میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کے علاوہ وہ تمام دوست احباب اور ٹیم ممبرز جنہوں نے پوری محنت سے اس کانفرنس کو کامیاب کروانے میں مدد کی ان سب کا بھی شکر گزار ہوں چونکہ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کے نام بہت زیادہ ہیں اس لئے سب کے نام نہیں لکھ پایا جن کے نام رہ گئے ان سے دلی طور پر معزرت خواہ ہوں۔اپووا سے جڑے ایک ایک فرد کی میرے دل میں جگہ اور عزت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔الحمد للہ مجھے مخلص لوگوں کا ساتھ ملا۔اس کام یابی میں اپووا ٹیم کا پورا ساتھ اور پورا ہاتھ ہے۔

    کانفرنس کے بعد سیالکوٹ سے واپسی پر قرۃ العین خالد کے دولت خانے پر مختصر قیام کے بعد کا رواں رات گئے لاہور پہنچ گیا ۔ذہنوں پر انمنٹ نقوش لئے یہ پر وقار تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔سیالکوٹ کے ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں منفرد نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی ۔اور ہماری حوصلہ آفزائی کے لئے یہ بات ہی کافی ہے۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم ادب کو فروغ دیں اور ادب پر محنت کی جائے تا کہ ادب اور بالخصوص اردو ادب کا لوہا ملکی اور غیر ملکی سطح پر منوایا جا سکے۔۔نئے لکھنے والوں کو سیکھنے کے مواقع دئیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ہم اردو زبان کو عالمی سطح پر ایک خاص مقام پے دیکھنا چاہتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایسی کانفرنسز کو بیرون ملک تک لے جایا جائے۔اور میرا ایک بڑا خواب ہے کہ لکھاریوں کے لئے ایک الگ ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جا سکے،جس میں لکھاریوں اور ان فیملیز کو علاج کی مفت سہولت میسر آسکے۔ جسے میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔مجھے امید ہے، بلکہ یقین ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا(ان شاء اللہ) میرے ہوتے نہ سہی میرے بعد سہی۔۔ آخر میں نئے لوگوں سے اتنا ضرور کہوں گا ہم اپنے حصے کی شمع روشن کر چکے ہیں۔اب مزید مشعلیں روشن کرنا آپ کا کام ہے۔میں تمام شرکا کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جو سیالکوٹ یا سیالکوٹ سے باہر دور دراز سے تشریف لائے۔ اپووا ٹیم نے کانفرنس کو کام یابی سے ہمکنار کروانے میں دن رات محنت کی اگر کہیں کوئی کمی کوتائی رہ گئی ہو تو درگزر کیجئے گا۔۔میری یہ دعا ہے کہ ہماری اس چھوٹی سی کاوش کو مدتوں یاد رکھا جائے اور اپووا ٹیم کے حوصلے ہمیشہ یوں ہی بلند،رہیں۔۔۔۔۔۔آمین

  • اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیر اہتمام سیالکوٹ میں منعقدہ ادبی کانفرنس اپنی تمام تر رعنائیوں اور کامیابیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف اہلِ ادب کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوئی بلکہ نئے لکھاریوں کے لیے بھی ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کر گئی
    کانفرنس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبولﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد اپووا کے معزز عہدیداران اور معروف ادبی شخصیات نے افتتاحی خطابات کیے، جن میں ادب کی ترقی اور ترویج پر زور دیا گیا۔ملک کے نامور شاعر، ادیب اور نقاد اس ادبی محفل کا حصہ بنے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو ادب کی موجودہ صورتِ حال، اس کے چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی۔اس کانفرنس میں نئے لکھنے والوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اورادبی ترقی کی نئی راہیں سامنے آئیں ۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو شیلڈز،میڈلز اور سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے ۔

    اختتامی تقریب میں اپووا کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے علمی و ادبی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ ادب کے فروغ کا یہ سفر جاری رہے۔کانفرنس کے شرکاء نے اس پروگرام کو ایک شاندار اور یادگار لمحہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ایسی تقریبات ادب دوست افراد کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں اور انہیں مزید فروغ دینا چاہیے۔یہ ادبی کانفرنس سیالکوٹ کی سرزمین پر ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گئی، جہاں الفاظ نے جذبات کو چھوا، خیالات نے نئے آفاق دریافت کیے، اور ادب کی شمع مزید روشن ہو گئی۔ اپووا کی یہ کاوش بلاشبہ قابلِ تحسین ہے، جو اردو ادب کی خدمت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔
    مدیحہ کنول
    جنرل سیکرٹری( اپووا)

  • تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب.خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات

    خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    صفحات : 224آرٹ پیپر 4کلر
    قیمت : 2500روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب ’’ خاتون اول سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ کے مولف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔پیش نظر کتاب میں مسلمانوں کی عظیم ماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا زندگی کے ان تمام پہلوئوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو مسلم بچیوں اور خواتین کیلئے ہی نہیں مردوں کیلئے بھی مشعل راہ ہیں ۔سیدہ خدیجہ ہماری وہ عظیم ماں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی طاہرہ کے لقب سے معروف تھیں ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عقل و فہم ، دینداری ، ایمانداری ، اخلاص ، ثابت قدمی ، وفا شعاری اور مجاہدانہ کردار کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ گویا قاری اسی دور میں موجود ہے اور ام المئومنین کی زندگی کا بچشم خودمشاہدہ کررہا ہے ۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے اہم ترین واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد اور اہل بیت کی زندگی پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے ۔ اس سارے عمل میں تحقیق کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ضعیف و بے اصل واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ امید ہے یہ کتاب امت مسلمہ کی خواتین کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگی ۔ دنیا بھر میں کوئی مسلمان ایسا نہیں جو خاتون اول ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکے نام اور تذکرہ سے آشنا نہ ہو ۔اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلامی کے اوراق گر دانتے ہوئے ایسی بے شمارخواتین کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے شمع اسلام کی سر بلندی اور دین حق کی دعوت کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور تاریخ کے چہرے کو ضیاء بخشی ہے تاہم ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان عظیم خواتین سے عظیم تر تھیں کیونکہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے اوپر پہلی وحی کا تذکرہ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کیا ا ور کہا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے تو اس عظیم خاتون نے اپنی عظمت ، شان اور حکمت کے عین مطابق نبی آخر الزمان ، رسول خداﷺ کو ان الفاظ میں حوصلہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کی قسم ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ آپ کو ناکام اور نامراد کردے ، آپ کی مدد نہ کرے کیونکہ آپ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، تھکے ، ہارے اور درماندہ انسانوں کو ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں ، بے ٹھکانہ مسافروں کو اپنا مہمان بناتے ہیں اور حق بجانب امور میں معین و مدد گار رہتے ہیں ۔ پھر صرف ان ہی جملوں پر اکتفا نہی کیا بلکہ اپنے سرتاج ، شریک حیات اور محسن انسانیت کومکمل یقین دلانے کیلئے انہیں چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا واقعہ سنا کر اللہ کے رسول ﷺ کو مزید تسلی اور حق پر قائم رہنے کیلئے ہمت بندھائی ۔ دعوت اسلام کو پھیلانے میں ہماری اس ماں کا نہایت معتبر کردار اس کتاب کے اوراق میں تاریخ اسلام سے الفت رکھنے والوں کو میسر آئے گا ۔ اس عظیم خاتون کی تمام خوبیاں ایک طرف۔ان کی صرف یہی شان اور عظمت کافی ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ نے جب اسلام کی دعوت پیش کی تو خواتین میں سے سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو قبول اسلام کا شرف حاصل ہوا ۔ خاتون اول محض ایک تاجرہی نہیں بلکہ نہایت مالدار، باوقار ، ذہین ، شریف ، معاملہ فہم اور دور اندیش خاتون تھیں ۔ انہو ں نے اپنا مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ، رسول ﷺ کی بیٹیوں کی نہایت عمدہ تربیت کا حق ادا کیا ، حضرت خدیجہ کا مرتبہ اورمقام سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ رسول ﷺ اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جنت کی سردار کہا ہے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت خدیجہ کے بطن ہی سے ہی دنیائے فانی میں تشریف لائیں ۔ رسول ﷺکو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اتنی محبت تھی کہ ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی۔ وہ بلا شبہ نہایت امیر کبیر شہزادی بلکہ ملکہ تھیں مگر شعب ابی طالب میں رسولﷺ کے ساتھ نہایت صبر و تحمل سے تین مشکل ترین سال گزارے ۔ زیر نظر کتاب ان مائوں ،بہنوں اور بیٹیو ں کے لیے لکھی گئی ہے جو امہات المئومنین رضی اللہ عنہا کے اسوہ حیات کو جاننا چاہتی ہیں ۔ اس کتاب کو خوبصورت ڈیزائن ، بہترین سرورق ،عمدہ بائینڈنگ،آرٹ پیپر پر چہار کلر طباعت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع کیاگیا ہے ۔ یہ کتاب اپنے مضامین اور طباعت کے اعتبار سے اتنی عمدہ ، خوبصورت اور جاذب نظر ہے کہ بیٹیوں کو شادی بیاہ کے موقع پر تحفے میں دی جانی چاہئے ۔اس سے یقینا ہماری بچیاں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نقش دم چلیں گی

  • بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر    :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    مولانا دین محمد وفائی 14اپریل 1894ءکو سندھ مردم خیز ضلع شکار پور کے گوٹھ بنی آباد میں پیدا ہوئے ۔
    ابتدائی تعلیم و تربیت ان کے والد حکیم گل محمد نے کی ۔جب مولانا نو برس کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔والد کے انتقال کے بعد مزید تعلیم کی ذمّہ داری قریبی مدرسے کے استاد محمد اسلم کو سونپی گئی ان کی زیر نگرانی مولانا نے صرف 12سال کی عمر میں فارسی زبان میں مہارت حاصل کرلی ۔عربی زبان سیکھنے کے لئے انہوں نے لاڑکانہ کے علاقے سونو جتوئی میں واقع مدرسے کا رخ کیا ۔18 سال کی عمر میں آپ نے رسمی تعلیم مکمل کر لی۔اور اپنے کیریئر کا آغاز سکول ٹیچر سے کیا ۔کچھ ہی عرصے میں ان کی شہرت ایک بہترین استاد کی حیثیت سے پورے سندھ میں پھیل گئی ۔یہی وجہ تھی کہ رانی پور کے پیر نے اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لئے آپ کو استاد مقرر کیا ۔اس کے بعد امام الدین راشدی نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ کی خدمات حاصل کیں ۔

    مولانا دین محمد وفائی کا شمار سندھ کے ان بہادر سپوتوں میں ہوتا ہے جن پر یہ دھرتی ہمیشہ ناز کرتی رہے گی ۔
    مولانا صاحب ایک عالم فاضل شخص تھے ۔انہوں نے اگرچہ مغربی فلسفے سے بھی استفادہ کیا لیکن ان کی فکر کی اساس دانش مشرقی اور علوم دینیہ پر رکھی گئی تھی ۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں اپنے قلم کو آزمایا ۔ان کی تحریر کردہ کتب کی تعداد پانچ درجن سے زائد ہے ۔مولانا نے دنیائے صحافت سے اپنے جوہر منواۓ اور "توحید”کے عنوان سے سندھی پرچہ جاری کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے تحریک خلافت کے دوران بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا ۔ پہلی عالم گیر جنگ کے دوران ترکی کے عثمانی خلیفہ نے جرمنی کا ساتھ دیا ۔اس دور میں خلافت عثمانیہ کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ حکومت سمجھا جاتا تھا ۔جب عثمانی خلیفہ نے سلطنت برطانیہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو بر صغیر کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف مہم تیز کر دی ۔1918ءمیں ترکی کو جنگ میں شکست حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں اتحادیوں نے عثمانی سلطنت کے حصے کر دئیے اور خلیفہ کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ۔اسی پس منظر میں بر صغیر کے مسلمانوں نے "تحریک خلافت”چلائی تھی ۔
    1919ءمیں مولانا صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ان حالات میں سیاست سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتے اور یہ ان کی مذہبی ذمّہ داری ہے کہ وہ خلافت کے تحفظ کی عملی جدو جہد میں شریک ہوں ۔اس طرح انہوں نے تحریک خلافت کے سر گرم کارکن کے طور پر طویل اور صبر آزما جدو جہد کا آغاز کیا ۔جس کے نتیجے میں ان کا شمار سندھ کے قابل احترام سیاسی رہنماؤں میں ہونے لگا ۔
    انگریزوں نے جیسے ہی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی خطرے کی بو سونگھی فوراً ہی چند زر خرید علماء سے "تحریک خلافت”کی مخالفت میں فتویٰ دلا دیا ۔مولانا نے اس فتویٰ کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ تحریک بھی چلائی ۔اس حوالے سے انہوں نے مولانا تاج محمد امروٹی کی رہنمائی میں ایک کتاب بھی تحریر کی جو مارچ 1920ءمیں لاڑکانہ میں منعقدہ”خلافت کانفرنس”کے دوران تقسیم کی گئیں ۔اس کتاب کو خراجِ تحسین پیش کرنے والوں میں ابوالکلام آزاد ،مولانا شوکت علی اور مولانا عبد الباری لکھنوی جیسے جید علمائے کرام شامل تھے ۔
    مذکورہ کانفرنس کے بعد مولانا صاحب کو جمعیت العلمائے سندھ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ۔
    مولانا کی شخصیت کا ایک پہلو سندھی صحافت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھی ہیں ۔1918ءمیں انہوں نے "الکاشف”کے نام سے ایک سندھی جریدے کی اشاعت شروع کی ۔1920ءمیں انہیں سندھی روز نامہ "الوحید”کی اشاعت اور مقبولیت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ان کے مضامین کو سندھی زبان وادب کے بہترین نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔مولانا صاحب کی صحافتی صلاحیتوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے کراچی سے سندھی زبان میں ایک ماہنامہ "توحید”کے نام سے جاری کیا اس پرچے کا سلوگن تھا
    توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
    آساں نہیں مٹانا ، نام ونشان ہمارا
    علمی ،ادبی،تاریخی،مذہبی،سماجی اور تعلیمی نوعیت کے مضامین اس پرچے کی زینت بنتے تھے ۔1943ءمیں مولانا صاحب نے ایک ہفت روزہ اخبار "آزاد”کے نام سے جاری کیا جو کراچی میں واقع ان کے پرنٹنگ پریس میں ہی چھپا کرتا تھا ۔بعد میں ان کے بیٹے علی نواز وفائی نے اس اخبار کی ذمّہ داریاں سنبھالیں ۔
    برٹش راج کے دنوں میں نصابی کتب کا آغاز ملکہ وکٹوریا کی تاجپوشی کے تذکرے سے اور اختتام اس وقت کے برطانوی حکمران شاہ جارج پنجم کی صحت اور درازی عمر کے لیے دعا پر ہوا کرتا تھا ۔مولانا نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی سنہری تاریخ سے واقف کرانے کے لیے بھرپور جد و جہد کی کیونکہ ان کا موقف تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے ناواقف ہو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کی یاد داشت کھو گئی ہو اور جب تک افراد ملت اپنے سنہرے ماضی سے بے خبر رہیں گے ان میں مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے درکار خود اعتمادی پیدا نہ ہو سکے گی ۔
    مولانا سے متاثر ہوکر پیر علی محمد راشدی، پیر حسام الدین راشدی اور دیگر دانشوروں نے سندھ کی تاریخ کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ۔
    مولانا نے تاریخی موضوعات پر جو کام کیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
    پیر حسام الدین راشدی نے انہیں "سندھی مورخین”کا امام قرار دیا ۔
    سندھ کے ممتاز ماہر تعلیم ،شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ انہیں "زندہ ڈکشنری”کہا کرتے تھے ۔
    جبکہ پیر علی محمد راشدی انہیں "چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا”کہا کرتے تھے ۔
    مولانا صاحب محض مذہبی علوم میں ملکہ نہ رکھتے تھے بلکہ انہیں تاریخ ،عمرانیات،جغرافیہ،لسانیات اور قدیم سندھی شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے کلام میں انہیں ممتاز مقام حاصل ہے ۔
    انہوں نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے حوالے سے دو کتب تحریر کیں ۔جن میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی تعلیم و تربیت اور فکری ارتقاء کو موضوع بنایا گیا ہے ۔جبکہ دوسری کتاب میں تاریخ بیان کی گئی ہے ۔انہوں نے 60سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے بعض کی اشاعت کی نوبت ہی نہیں آئی ۔
    ان کی مشہور و معروف تصانیف میں مشاہیر سندھ ،تجریدبخاری اور تجرید صحیح بخاری شامل ہیں ۔
    جسے احادیث کی مستند ترین کتاب کا پہلا سندھی ترجمہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
    مولانا صاحب کی دیگر کتب میں الہام باری ،محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ،صدیق اکبر رضہ،فاروق اعظم رضہ ،سیدنا عثمان غنی رضہ ،حیدر قرار رضہ ،خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضہ ،اذکار حسین رضہ ،قرآنی صداقت،غوث اعظم ،ہندودھرم اور قربانی اور توحید اسلام جیسی کتب شامل ہیں ۔10اپریل1950ءکو سندھ کے اس عظیم مجاہد نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انہیں سکھر کے آدم شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین )

  • امجد اسلام امجد، لفظوں کےجادوگر، خیالوں کےمصور کو دنیا چھوڑے 2 برس بیت گئے

    امجد اسلام امجد، لفظوں کےجادوگر، خیالوں کےمصور کو دنیا چھوڑے 2 برس بیت گئے

    لاہور(باغی ٹی وی) اردو ادب کے درخشندہ ستارے، معروف شاعر اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد کو دنیا سے رخصت ہوئے دو برس بیت گئے۔ ان کی شاعری، نثر اور ڈراموں نے ایک ایسا تخلیقی جہان آباد کیا، جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔

    4 اگست 1944 کو لاہور میں پیدا ہونے والے امجد اسلام امجد نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ تدریس سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ایم اے او کالج لاہور میں اردو کے استاد رہے۔ 1975 سے 1979 تک پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر رہے، بعد ازاں 1989 میں اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور چلڈرن لائبریری کمپلیکس میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی خدمات انجام دیں۔

    ان کی شاعری جذبات کی لطافت اور جدید حسیت کا حسین امتزاج تھی۔ ان کے تحریر کردہ ڈرامے "وارث”، "دہلیز”، "فشار”، "سمندر” اور "رات دن” کہانیوں سے زیادہ حقیقت کی تصویریں تھے، جن میں معاشرے کی دھڑکنیں محسوس کی جا سکتی ہیں۔

    پچاس سالہ ادبی کیریئر میں ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سمیت بے شمار ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی شخصیت پر دس سے زائد تنقیدی کتب بھی لکھی جا چکی ہیں۔

    10 فروری 2023 کو یہ درویش صفت شاعر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اس کی تحریریں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں، اور رہیں گی۔