Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    بتاریخ 8 فروری 2025 بروزہفتہ ایکسپوسنٹر لاہور کتاب میلے میں محبت کرنے والوں کی طرف سے دعوت پر ڈاکٹر عمران مشتاق کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا موقع میسر آیا جہاں بچوں کے اکثر ادیبوں میں یہ نعرہ زبان زدعام نظر آیا ” نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” جس کا مفہوم و مطلب یہ بنتا ہے کہ کسی کام، خدمت یا مشن کو سراہے جانے یا اعزاز و اجرت ملنے کے بغیر خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے لیکن میری نظر میں یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے۔
    ہمارے یہاں ہر کسی کے کام کو سراہا بھی جاتا ہے، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں نوازا بھی جاتا ہے اور محبت و الفت کے نذرانے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اب گزشتہ روز کی تقریب کو ہی دیکھ لیا جائے تو راقم خود گواہی دے سکتا ہے کہ اس تقریب میں بہت سے اہلیان قلم کو ایوارڈز، شیلڈز و نقدی سے نوازا بھی گیا، ان کے کام کو سراہا بھی گیا حتی کہ جو خواتین و حضرات کسی مجبوری کے باعث تقریب میں شرکت کرنے سے قاصر تھے ان کا انعام و اعزاز، ایوارڈ و نقدی کی صورت میں کسی دوسرے ساتھی کو اس پابندی کے ساتھ تھمایا گیا کہ متلعقہ قلم کار تک امانت لازما پہنچ جائے۔

    اس کے باوجود اگر پھر بھی یہی کہا جائے کہ کوئی پذیرائی نہیں ہورہی، سراہا نہیں جارہا تو سراسر غلط ہے۔ جناب آپ کو تو ستائش و صلے کی ضرورت ہی نہیں تو پھر کیوں اعتراض کرتے ہیں کہ پذیرائی نہیں مل رہی۔بلکہ آپ کو تو ملنے والا ایوارڈ و نقدی بھی یہ کہہ کر واپس کردینی چاہیے کہ "نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” لیکن اگر آپ وصولی بھی ڈال لیتے ہیں اور ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں تو یہ آپ اپنے اس نعرے کے بھی الٹ سمعت میں جارہے ہیں اور جو لوگ محبت میں آپ کی پذیرائی کررہے ہیں، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں آپ کے کام کی قدر کررہے ہیں اور کھڑے ہو کر آپ کو ویلکم کرکے آپ کی عزت افزائی کررہے ہیں ان کے ساتھ بھی سراسر زیادتی ہے۔

    آج اس دور میں جو وقت نکال کر دور دراز کا سفر کرکے آپ کی محبت میں پہنچ جائےکوئی کم تو نہیں۔ بھئی جتنا آپ کو سراہا جا رہا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنا کام جاری و ساری رکھیں۔۔۔اور اگر آپ اپنے کام کے عوض تنخواہ چاہتے ہیں تو کوئی ملازمت اختیار کرلیں یا کوئی بزنس کرلیں۔۔۔۔۔اور دوسری بات کتابوں کے حوالے سے کہ آج کتاب کی قیمت پر بھی ذرا غور کریں۔۔۔۔آپ کتاب کو خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں یا کاروبار کےلیے؟ اکثر رائٹرز و پبلشرز نے تو کتاب کی قیمت اس قدر زیادہ رکھی ہوئی ہوتی ہے کہ کتاب قاری کی پہنچ سے ہی دور ہوچکی ہے۔ اگر آپ خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں تو کتاب پر معقول مارجن رکھیں۔۔۔۔اڑھائی سو کی قیمت میں تیار ہونے والی کتاب کی قیمت اڑھائی ہزار لکھ کر آپ خدمت نہیں کاروبار کررہے ہیں۔ تھوڑا نہیں پورا سوچیے !
    اور سب سے اہم بات کہ یہ میری ذاتی رائے ہے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں اختلاف کیا جاسکتا ہے مختلف لوگوں کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں۔کوئی لفظ ناگوار گزرے تو شمع کیجئے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو! آمین

  • ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ظرافت نگاری کی شان شوکت تھانوی .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ۔اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک ایسی ہی شخصیت شوکت تھانوی کی بھی تھی جو اپنے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔شوکت تھانوی نے اردو ادب کی ہر صنف میں اپنا مقام بنایا ۔شوکت تھانوی مزاح نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں ۔وہ اردو ادب میں بہترین ناول نگار تھے افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے ۔

    شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا ۔وہ 3فروری 1904ءکو بھارت کی ریاست اتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ان کا آبائی وطن تھانہ بھون تھا اس لیے اپنے نام کے ساتھ تھانوی لکھتے ۔اردو ادب میں شوکت تھانوی کی کئی جہتیں ہیں وہ ادیب ،صحافی،شاعر،ڈرامہ نگار ،افسانہ نویس ،کالم نویس ،فلمی مکالمہ نویس ،فلمی کہانی نویس ،ناول نگار صدا کار اور ریڈیو فیچر نگار تھے ۔یہاں تک کہ انہوں نے ایک فلم میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شوکت تھانوی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے ذوق و شوق ،محنت و لگن ہمت و کوشش اور اہل فیض و صحبت سے ادب میں اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا ہے ۔بڑے سے بڑے اور سنجیدہ سے سنجیدہ مسلے کو وہ اپنے مخصوص ظریفانہ انداز میں حل کر لیتے تھے ۔

    عام طور پر ایک مزاح نگار کے بارے میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بھی سنجیدہ نہیں ہوگا لیکن شوکت صاحب اپنی زندگی میں نہایت سنجیدہ انسان تھے ۔وہ اپنے ایک خاکے "عشرت رحمانی”میں لکھتے ہیں کہ جن حضرات نے ان کے افسانے ،ناول اور مزاحیہ مضامین پڑھے ہیں وہ سمجھتے ہوں گے کہ شوکت صاحب کی زندگی کا کوئی لمحہ سنجیدگی سے نہیں گزرا ہو گا ،مگر یہ ان کی خام خیالی ہے ۔شوکت تھانوی جیسے مزاح نگار تھے اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے ۔

    شوکت تھانوی نے ادب کی جن اصناف میں طبع آزمائی کی ان میں خاکہ نگاری بھی شامل ہے ۔اس میں انہوں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے اور نمونے کے طور پر دو مجموعے "شیش محل”اور "قاعدہ بے قاعدہ”پیش کئے ۔ان دو مجموعوں کو بیحد شہرت ملی ۔ان کا ہر ناول دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ شگفتگی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ان کی خصوصیات معاشرتی تصور ہے ۔

    ان کا مزاح تجربات اور مشاہدات کی عکاسی کرتا ہے ۔
    وہ زیادہ تر عملی زندگی کے واقعات سے مزاح پیدا کرتے تھے اور ان کے کرداروں کی تخلیق وہ اپنی آس پاس کی زندگی زندگی سے ہی کرتے تھے ۔
    شوکت تھانوی میں قوت مشاہدہ ،باریک بینی اور قوتِ اظہارکی خوبیاں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں ۔
    ان کی نظموں کے موضوعات گھریلو ،سماجی،سیاسی اور غیر سیاسی ہیں جس میں ہر برائی ،خامی اور ناہمواری کو ظریفانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ان کی ایک نظم فیملی پلاننگ ،مفلسی اور کثرت اولاد سے متعلق ہے ۔اس نظم میں ایک غریب آدمی کثرت اولاد کے مخالف ہے۔
    اور اپنے لخت جگر کو دنیا میں آنے سے پہلے کہتا ہے کہ وہ مفلسی کے اس حال میں پیدا نہ ہو ۔
    اے میرے بچے میرے لخت جگر پیدا نہ ہو
    یاد رکھ پچھتاۓ گا تو میرے گھر پیدا نہ ہو
    شوکت تھانوی اس صورتحال کو ظرافت کے پیرائے میں بڑی خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

    شوکت تھانوی ایک مزاح نگار ،شاعر،افسانہ نگار اور ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ صحافی بھی تھے ۔ان کی زیادہ تر تخلیقات اخبار اور رسائل کے ذریعے عوام کے سامنے آئیں ۔
    ان کی صحافتی زندگی کے متعلق احمد جمال پاشا لکھتے ہیں کہ شوکت تھانوی پیدائشی صحافی تھے ۔ان کی صحافتی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی میں 1920ءسے ہوا ۔اس وقت ان کی عمر صرف 16سال تھی جب شوکت تھانوی نے ذاتی طور پر اپنا قلمی رسالہ نکالا ۔منشی واجد علی لطف لکھنوی رسالہ "حسن ادب”لکھنؤ سے نکالتے تھے ۔1925ءمیں شوکت تھانوی نے اس رسالے کی بھی ادارت کی ۔اس کے علاوہ ان کے چچا زاد بھائی ارشد تھانوی 1928ءمیں ایک پرچہ "تحریک ہفتہ وار یار” بھوپال سے نکالا کرتے تھے اور جب وہ لکھنؤ منتقل ہوۓ تو اس پرچے کو لکھنؤ سے جاری کیا اور اس میں شوکت تھانوی کو بھی شامل کیا ۔اس اخبار کا فقاہیہ کالم جو
    "لالہ زار "کے عنوان سے لکھا جاتا تھا اس کو شوکت تھانوی کے سپرد کر دیا ۔وہ مختلف اخبارات میں
    "حرف و حکایت "اور "پہاڑ تلے”کے عنوان سے کالم نویسی بھی کیا کرتے تھے ۔

    شوکت تھانوی ریڈیو سے بھی وابستہ رہے ۔انہوں نے ریڈیو پر نشری اصناف پر طبع آزمائی کی شگفتہ اور دلچسپ تحریروں کو نشر کیا ۔اس طرح شوکت تھانوی کے تخلیقی سرمائے میں غیر نشریاتی ادب کے ساتھ ساتھ نشریاتی ادب کا ذخیرہ بھی ملتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شوکت تھانوی براڈکاسٹنگ کا بھی ایک روشن ستارہ تھے ۔1938ءمیں انہوں نے صحافت سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔آل انڈیا ریڈیو سے ڈرامہ نگار کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے ۔ساتھ ہی ساتھ صدا کاری بھی کرنے لگے ۔پھر جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو آپ لاہور آگئے اور ریڈیو پاکستان لاہور سے منسلک ہو گئے فیچر نگاری کرنے لگے اور مختلف پروگرامز کے علاوہ اپنا معروف پروگرام "قاضی جی”بھی پیش کرتے تھے ۔ان کا یہ پروگرام ریڈیو کا مقبول ترین پروگرام تھا ۔جس کا اسکرپٹ خود شوکت تھانوی لکھتے تھے اور قاضی جی کا کردار بھی خود ہی ادا کرتے تھے ۔

    ریڈیو کی نشریاتی اصناف میں ریڈیو تقاریر ،ریڈیو ڈرامہ اور مضامین شامل ہیں ۔ان سبھی پر شوکت تھانوی نے لکھا ہے لیکن نشریاتی ادب میں شوکت تھانوی کو خاص شہرت و مقبولیت ریڈیو ڈرامہ کی وجہ سے ملی ۔کیونکہ ریڈیو ڈرامہ نشریات اور ادبی حیثیت سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ریڈیو پر شوکت تھانوی کا پہلا ڈرامہ "خدا حافظ”نشر ہوا جس میں ہیرو کا کردار بھی خود شوکت تھانوی نے ہی ادا کیا ۔اس کے بعد انہوں نے ریڈیو سٹیشن کی طرف سے ایک منفرد سیریز بھی پیش کی جس کا عنوان "منشی جی”تھا ۔

    ڈراموں میں شوکت تھانوی نے ایک مزاحیہ کردار کا سہارا لے کر معاشرتی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو ظرافت کے پیرائے میں نہ صرف پیش کیا بلکہ نہایت لطیف اور دلکش انداز میں روزمرہ کی زندگی پر طنز کیا۔
    شوکت تھانوی چھوٹی بڑی تخلیق میں جدت اور نیا پن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔شوکت تھانوی کے ہر مکالمے اور جملے برجستہ اور دلچسپ ہوتے ۔شوکت تھانوی کے ریڈیو ڈراموں کی ایک کتاب "سنی سنائی”بھی ہے ۔کم وقت میں زیادہ لکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کی تصانیف کی کثیر تعداد ہے ۔ان کی تصانیف میں سو دیشی ریل سب سے زیادہ مشہور ہے ۔اس کے علاوہ موج تبسم ،طبر تبسم ،سیلابی تبسم ،بحرتبسم ،طوفان تبسم ،بار خاطر ،جوڑ توڑ ،سنی سنائی ،خدا نخواستہ،بقراط،قاعدہ باقاعدہ ،الٹ پھیر ،لاہور یار ،قاضی جی،منشی جی،بھابھی،کچھ یادیں کچھ باتیں ،غالب کےڈرامے ،کٹیا ، بیگم ، داماد،خامخواہ ،نیلوفر،غزالہ،وفا کی دیوی ،مولانا ،شیطان کی ڈائری اور پگلی وغیرہ شامل ہیں ۔شوکت تھانوی کی کئی تصانیف نصاب میں بھی شامل ہیں جن میں شاہین بچے اور لاڈلا بیٹا سر فہرست ہے ۔ان کے خاکوں کا مجموعہ "شیش محل” کے نام سے شائع ہوا ۔
    اسی طرح ان کی خود نوشت سوانح عمری بھی تحریر کی جس کا نام ہے”ما بدولت ” ۔
    یادداشتوں پر مشتمل کتاب”کچھ یادیں”کے عنوان سے شائع ہوئیں ۔
    حکومت پاکستان نے شوکت تھانوی کی خدمات کے صلے میں تمغہ امتیاز سے نوازا ۔ادب کی دنیا میں شوکت تھانوی کا نام روشن ستارے کی طرح چمکتا رہے گا (انشاء اللہ)
    اردو ادب کے اس نامور ادیب اور مزاح نگار کا انتقال 4مئی 1963ءکوانسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔ان کی آخری آرام گاہ لاہور کے میاں میر قبرستان میں واقع ہے ۔

  • انقلابی شاعر    فیض احمد فیض کی داستان حیات

    انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی داستان حیات

    اردوشاعری کو بین الاقوامی سطح دینے والے انقلابی شاعر
    فیض احمد فیض
    کے حالات زندگی اور قلم و کتاب سے ملواتی تحریر

    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    قوت شفا سے لبریز نرم دل آویزدھیمہ لہجہ جن کی آواز جیسے کوئی بہت پیار سے دل کے رخسار پر ہاتھ رکھ دے جنہوں نے اپنے اور اگلے دور کی عوام کے جذباتوں کی ترجمانی کی معاشرے کے مسائل سمیت سیاسی تقاضوں کو شاعری کا مرکز بنایا ان کا شعر درد محبت سے بھی چُورہے کلاسیقی سطح پر ایک نیا جہاں روشن کیا ان کی ہر نظم غزل شعر لفظ میں خیال کی پھل جڑی ہے اپنے معنی کے تخلیقی تجربے سے اردو کی کائنات کو روشن کیا ماضی کی تمام بڑی شخصیات کا شعری خون کلام فیض کی رگوں میں دوڑتا ہے انسانی دوستی عدل و انصاف کا مسیحا محبتوں کا سفیر جذبات و احساسات کا ترجمان اردو کا فخر و ناز جرت اظہار کا معتبر نام فیض احمد فیض جن کا اصلی نام فیض محمد خان تھا۔

    آپ 13 فروری 1911کو سیالکوٹ کے نواحی قصبے کالا قادرمیں پیدا ہوئے والد کا نام بیرسٹرچوہدری سلطان محمد خان تھا جن کی دوستی علامہ اقبال ،سر سلمان ندوی، سر عبدالقادر، ڈاکٹر ضیا الدین جیسی قدآور شخصیات سے تھی، والد فیض والی افغانستان کے چیف سیکرٹری اوربرطانیہ میں افغان سفیر رہ چکے تھے والدہ سلطان فاطمہ گھریلو خاتون تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کی مثالی تربیت کی، فیض صاحب اور ان کے دونوں بھائیوں کو ایک چوینی جو خرچ کے لیے ملتی تھی ان کے بھائی وہ لٹو اور پتنگ جیسے کھیلوں میں خرچ کر دیتے مگر فیض صاحب دو پیسے میں محلے کی لائبریری سے کتابیں کرائے پر لا کر پڑھا کرتے تھے ،فیض صاحب نے چھوٹی سی عمر میں کلاسیقی نظم اور نثر کی بیشتر کتابیں پڑھ لی تھیں۔طلسم ہوش رُبا۔فسانہ آزاد۔عبدالحلیم شرر کے ناول سمیت موجود ادب کی تمام مشہور کتابوں کا مطالعہ ان کا جنون بن گیا اردو کے تمام استادوں کے شعری نظری مجموعے ان کے زہن کی زمین پر نصب ہو چکے تھے سادگی زبان میں امیر مینائی اور داغ سے بے حد متاثر ہوئے زمانہ سکول میں خواہش والد پر انگلش فنکشن کا مطالعہ بھی کیا جس میں چازڈیکن۔رائٹ ہیگز۔آرتھر کونل ڈویل جیسے رائٹر ز کو پڑھ ڈالا تھا۔

    مادری زبان پنجابی تھی قرآن پاک کی تعلیم گھر میں حاصل کی تین سپارے حفظ کیے زندگی کے پچھتاوے میں ایک یہ بھی ہے کہ مرض چشم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مکمل قرآن پاک حفظ نہ کر سکے عربی اور فارسی کی تعلیم علامہ محمد اقبال ؒ کے استاد شمس العلما مولوی میر حسن سے حاصل کی مشن سکول سیالکوٹ میں ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا جہاں سے پہلی پوزیشن میں میڑک کا امتحان پاس کیا۔علامہ اقبال ؒ کی معرفت سے گورنمنٹ کالج لاہورمیں داخلہ ملا یہاں انگریزی ادب اور نیشنل کالج لاہور سے عربی میں ایم اے کیافیض صاحب شاعر جرنلسٹ استادکے علاوہ ہر انسانی حال کی الگ الگ خوشبو تھے۔

    فیض صاحب کو بچپن میں مقابلہ کلام میں پہلا کلام لکھنے پرشمس العلما مولوی میر حسن صاحب سے ایک روپیہ بطورانعام ملا۔”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ ان کی پہلی نظم تھی جیسے اُن کی شاعری کا اہم ترین سنگ میل سمجھا جاتا ہے ایک ابھرتے ہوئے شاعر کا پیغام تھا کہ اُس کے شعرو خیالات عوام کی امانت ہیں فیض صاحب کا پہلا مجموعہ نقش فریادی کے نام سے چھپاجو 1940میں منظر عام پر آیا اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گیا ،فیض صاحب کہتے ہیں پیام ایک ہی ہے کہ پروش لوح و قلم کرتے رہیں گے صرف وہی لکھو جو دل پہ گزرتی ہے کیونکہ وہی دوسرے دل پر اثر کرتی ہے، فیشن و ثواب کے لیے مت لکھوکیونکہ آپ قلم کے جتنے بڑے بھی کاریگر ہوں آپ کا لکھا ہوا مصنوعی خیال کا پردہ چاک کر دیتا ہے اور معلوم پڑ ہی جاتا ہے کہ اپنے دل سے بات کہی ہے یا یہ کسی لالچ خوشامد نقالی میں کہی ہے، بس بنیادی بات یہی ہے دل پہ گزری لکھو،انسان کی اپنی ذات بہت حقیر چیز ہے، اس کی اپنی ذات کا وقار توقدرت کے کاروبار زندگی میں اک زرہ ہے وہ قدرت کے دریا کی اک بوند ہے اگر قطرے میں دریا دیکھائی نہ دے تو واسطہ نقلی ہے لکھاری کو تو قطرے کو دجلہ دیکھنا ہوتا ہے یہی حقیقی لکھاری کا حسن قلم ہوتا ہے۔

    فیض صاحب کو پہلا عشق اٹھارہ برس کی عمر میں ہوا سوال ہوا کہ اسے زندگی میں حاصل کیوں نہ کیا فیض صاحب شرم و حیا کا پہرہ دینے والے خون و تربیت کے مالک تھے جس سے عشق ہوا اُس کے سامنے زبان اظہار کی ہمت ہی نہ کر سکے، یک طرفہ پیار کی آگ مین جلتے رہے اور اُس لڑکی کی شادی کسی جاگیردار سے ہو گئی اس لڑکی کا تعلق افغان گھرانے سے تھا، یہ نو عمر لڑکی ان کے ہمسائے میں رہتی تھی، فیض صاحب اپنے کمرے کی کھڑی سے اسے آتے جاتے دیکھا کرتے تھے، فیض صاحب نے اُس لڑکی سے منسلک اپنی خاموش محبت کی دیوانگی میں شعروں کے ڈھیر لگا دئیے ،اُن کا عشق اپنے شباب پر تھا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ان کو سیالکوٹ سے لاہور جانا پڑا،پھر فیض صاحب چھٹیوں میں لاہور سے سیالکوٹ آئے تو کھڑکی کی دوسری جانب انہیں وہ چہرہ نظر نہ آیا ،انہوں نے کسی سے دریافت کیا تو علم ہوا کہ اُس کی شادی ہو گئی ہے ،فیض صاحب اس خبر سے ٹوٹے دل کے ساتھ واپس لاہور آ گئے .

    معزز قارئین میں آپ کو بتاتا چلوں کہ دل کا ٹوٹنااور ناکامی کا حادثہ یہ قدرت کے وہ مراحل ہوتے ہیں جو انسان کو مضبوط و منفرد بناتے ہیں تاکہ وہ بڑے مقام پر بڑی عوامی تعداد کا ترجمان بننے کے لیے تیار ہو سکے کہتے ہیں، خدا ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے یہ دلیل دل ٹوٹنے کو فائدے کا سودا بتاتی ہے کیونکہ جس دل میں خدا کا بسیرا ہو جائے وہی انسان مخلوق خدا کا محبوب بنتا ہے اور ناکامی ایک مقام سے گزر کر اُس سے بڑے مقام پر پہنچنے کا راستہ دیکھاتی ہے ایک بندی فیض صاحب کی نہ ہوئی مگر فیض صاحب زمانے کے ہو کر رہ گئے آئیے اب آگے بڑھتے ہیں اُس عورت کی جانب جس نے فیض صاحب کی زندگی کو مکمل و شاداب کر دیا۔

    1941میں الیس جوج سے فیض صاحب نے والدہ کی رضامندی سے شادی کر لی الیس جوج نے فیض دوستی میں دیس کے ساتھ بیس اور وطن کے ساتھ زبان بدل لی الیس جوج سے پہلی ملاقات ہندوستان میں ہوئی تب فیض صاحب امرتسر کے ایم او کالج میں انگریزی کے لیکچرار تھے پرنسپل ایس پی کالج تاثیر صاحب کے ہاں اکثر شاعر ادیب لکھاری اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ہفتہ اتوار کو جمع ہوا کرتے تھے جن میں فیض صاحب بھی تشریف لاتے وہاں الیس جوج سے ملاقات دوستی میں بدلی، دوستی شادی میں بدل گئی، فیض صاحب کا خاندان پنجابی چوہدری جٹ جو فیملی سے باہر شادی نہیں کرتے تھے مگرفیض صاحب پابند و تنگ سوچ سے پاک تھے، الیس جوج نے اسلام قبول کیا اور الیس سے مسلمان ہو کر کلثوم بن گئیں ،کلثوم اور فیض صاحب کا نکاح شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کشمیر کے سری نگر میں پڑھوایا،جس میں ایک تحریری معاہدہ بھی ہوا ،جس میں فیض صاحب نے دوسری شادی نہ کرنے اور طلاق کا حق الیس یعنی کلثوم کو سونپ دیا ،اُس وقت شادی کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں کیونکہ جنگ عظیم چھڑ چکی تھی، بحری راستے بند ہونے کی وجہ سے دلہن کو برطانیہ سے لانے کا خواب من چاہے ارادے کے مطابق پورا نہ ہو سکا، اس لیے بارات میں چندلوگ ہی تھے جن میں فیض صاحب کے چھوٹے بھائی اور ایک دوست تھے بعد میں اس موقع پر مشاعرہ ہوا تھا جس میں جوش ملیح آبادی بھی شریک تھے

    فیض صاحب کی زاتی پسند کے خلاف وقت و حالات نے پانچ برس تک برٹش آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ میں بطورکیپٹن رہنے پر مجبور کیا ،فیض صاحب بتاتے ہیں کہ فوج کی تربیت یہ تھی کہ یہ نمک جو تم کھاتے ہو یہ اس لیے ہے کہ تم اس کا تقاضہ پورا کرو یعنی نمک حرام نہ بنواور فرض پورا کرو اس کے برعکس فیض صاحب یہ اپنی بات منوائی کہ اس طریقے سے کام نہیں چلے گا اورسپاہوں سے یہ کہنا چاہیے کہ اپنے وطن کی خاطر حفاظت کے لیے تم لڑ رہے ہو ،تم نمک کے لیے نہیں لڑ رہے ہو اور فیض صاحب کی یہ بات نہ صرف مانی گئی بلکہ سپاہوں کو اس کے تابع بھی کیا گیا ،فیض صاحب اپنی قابلیت و عقل کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ میں میجر پھر کرنل بھی گئے ،پھر 1947میں پاکستان بنتے ہی انہوں نے فوج سے محکمے کو چھوڑ دیا اورفوج سے صحافت کی جانب اپنا رخ کر لیا اپنے دوست میاں افتخار الدین کے کہنے پر انگریزی اخبارپاکستان ٹائم کے ایڈیٹر بن گئے، ان کی دور اندیش نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ آزادی کے خواب کی تعبیر ابھی کوسوں دُور ہے تقسیم کے نام پر انسانیت کی تزلیل اور خون ریزی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہی آزادی کا مرثیہ لکھ دیا تھا وہ پاکستان ٹائم اور اردو روزنامہ امروز کے اداروں میں ارباب اختیار کی توجہ مقصد کی جانب دلاتے رہے یو ں ان کا قلم آزادی کی حقیقی ترجمانی میں فکر اقبال کا فرض بھی نبھاتا رہا ،فیض صاحب مزدوروں کے درد کو بھی اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوئے وہ حقوق مزدور کی آواز بن کر پانچ سال لیبر ایڈویزری کمیٹی کے سرپرست رہے ٹریڈ یونین قائم کی انہیں منظم کیا اور فیڈریشن کے صدر بھی منتخب ہوئے۔

    جنوری 1959کی ایک دوپہر لاہور کی سڑک پر ایک عجیب منظر تھا ایک تانگہ دوڑے چلا جا رہا ہے ،پیچھے دو سپاہیوں کے درمیان ایک شخص ہاتھ کڑی پہنے بیٹھا ہے جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چہرے پر بلا کا اعتماد ہے جیسے غریب مزدورریڑھی والے سب اپنے محبوب کوپہچانتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اورتانگے کے ساتھ ساتھ ایک بڑھتا ہوا ہجوم دوڑ رہا ہے ،تانگے کی یہ سواری عاشقوں کے جھرمٹ میں سینٹرل جیل لاہور سے ڈینٹل کلینک کی جانب چلی جا رہی ہے ،تانگے میں سوار یہ وہ شخصیت ہے جیسے علامہ اقبال ؒ کے بعد ملک کاسب سے مشہور ترین شاعرفیض احمد فیض کہا جاتا ہے، نہ کوئی جرم نہ کوئی گناہ 1958میں جنرل ایوب کا مارشل لا لگایا گیا تو انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ یہ عوامی آواز ہی نہیں بلکہ طاقت بھی تھے، اسی لیے اس عوامی پکار کو دبانے کے لیے جمہوری ہیرو فیض احمد فیض صاحب کو جیل میں قید کر لیا گیااور کہا گیا ایک بار لکھ کر دے دیں کہ مارشل لا حکومت کے خلاف کچھ نہیں بولیں گے مگر فیض صاحب نے صاف انکار کر دیا اور چار ماہ کی قید کاٹنے کے بعد رہائی ملی ،فیض صاحب پر بغاوت اور حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگایا جاتا،9مارچ 1951 فیض صاحب راولپنڈی سازش میں گرفتار ہوئے، ان کی دونو ں صاحبزادیاں دس سالہ سلیمہ اور چھ سالہ منیزہ کبھی والد کوہاتھ کڑیوں میں تو کبھی جیل کی سلاخیوں کے پیچھے دیکھتی ہوئی کئی برس والد سے جدائی کی تکلیف برداشت کرتی رہیں بالآخرچار سال سے زائد مدت کے بعد 1955میں انہیں رہائی ملی۔

    فیض صاحب خود کو اپنے بھائی طفیل کی موت کا ذمہ دار سمجھتے رہے، 1952میں طفیل فیض صاحب سے ملنے حیدرآبادجیل میں آنے والے تھے کہ فجر کی نماز کے وقت دل کا دورہ پڑا جس نے بھائی طفیل کی جان لے لی، فیض صاحب کو حادثے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیوی الیس کلثوم کوجیل سے خط لکھاکہ آج صبح میرے بھائی کی جگہ موت میری ملاقات کو آئی تھی یہ لوگ میری زندگی کے عزیز ترین متاع مجھے دیکھانے لے گئے ،وہ متاع جو اب خاک ہو چکی ہے اور پھر وہ اسے ساتھ لے گئے ،میں نے اپنے غم کے غرورمیں سر اونچا رکھا اور کسی کے سامنے نظر نہیں جھکائی یہ کتنا مشکل اور کتنا اذیت ناک کام تھا ،یہ میرا دل ہی جانتا ہے۔اگلے خط میں انہوں نے لکھا کہ میں اُن کے بیوی بچوں اور ماں کے خیال کو دل سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہوں میں نے اپنی ماں کی پہلی اولاد چھین لی ہے ،ہاں میں نے ہی سب کو اُن کی زندگی سے محروم کر دیا ہے حواس اس قدر پراگندہ ہیں کہ زیادہ لکھ نہیں سکتا ،یہ غم بہت اچانک اور بے سبب لگا ہے لیکن اسے سہنے کا حوصلہ مجھ میں ہے میرا سر نہیں جھکے گا۔اس صدمے کا اثر فیض صاحب پر کافی عرصہ طاری رہا انہوں نے کچھ دن بعد اپنے بھائی کا نوحہ ایک نظم کی صورت میں لکھ کر اپنی زوجہ کو روانہ کیا۔

    فیض صاحب کو ملکی و عالمی حالات کی خبریں جیل میں بھی ملا کرتی تھیں وہ ان پر غزلیں اور نظمیں لکھا کرتے تھے فیض صاحب کی شاعری ہنگامی یا وقتی نہیں بلکہ آفاقی اور دائمی ہوتی فیض صاحب کے شہرہ آفاق شعری مجموعے،دست صبا،اور،زندہ نامہ، قیام اسیری کی ہی لازوال تخلیقات ہیں، قید خانے سے بیوی اور بچیوں کے نام لکھے خطوط کا مجموعہ صلیبیں میرے دریچے میں کے نام سے لکھا قیدو بند کی جن جن آزمائشوں سے فیض صاحب گزرے ہیں ان میں آپ کی زوجہ الیس جوج کی غمخواری حوصلہ مندی کے بغیر ان جان لیوا مراحل سے یوں اعتماد اور یقین محکم سے گزرنا ناممکن تھا ،ساری زندگی اپنے محبوب شاعر شوہر کی ہمت بننے والی الیس جوج نے وفا کی مثال تو رقم کی ہی تھی مگر سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی کی صورت میں جو دوکلیاں فیض صاحب کے دامن میں ڈالیں جن کی مہک سے فیض صاحب کی زندگی معطر ہو گئی الیس جوج کی دل کشی اور حسن سیرت نے فیض صاحب کو ہمیشہ نہال رکھا دونوں ہونہار بیٹیوں نے والد کی میراث میں ملنے والے تحفے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے شاندار تابناک ورثے کی دل و جان سے ناصرف حفاظت کی بلکہ اس سے اپنے ملک و قوم کو مستفید بھی کیاپاکستان ٹیلی وژن کو منزہ فیض نے اپنے پانچ سالہ دور میں جس طرح چلایا اور دیکھایا وہ وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

    وہ عبداللہ ہارون تعلیمی ادارہ لیاری کراچی کے پرنسپل ہوئے توعلم کی روشنی سے اس علاقے کو روشن کر ڈالا کھڈا مارکیٹ میں جہاں غربت جہالت اور منشیات کا راج تھا وہاں ٹیکنیکل سکول اور آڈٹیوریم قائم کیا اپنی جمع پونجی اسی کام پر لگا دی فیشرمین کارپوریٹو سوسائٹی قائم کی تو ادارے کی آمدن سے سو بچے مفت تعلیم حاصل کرتے فیض صاحب پاکستان ٹائم،امروز، لیل ونہار جیسے اُس دور کے نامور اخبارات و میگزین کے مدیر اعلیٰ بھی رہے 1959سے1962تک فیض صاحب نیشنل کونسل آف آرٹ کے سیکرٹری اور بعد میں نائب صدر بھی رہے ،انہوں نے 1959میں جاگو ہوا سویرا کے نام سے ایک فلم کی کہانی بھی لکھی جو مشرقی پاکستان میں بننے والی پہلی اردو فلم تھی، جنرل ایوب حکومت نے اس فلم کو کیمونسٹ پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس فلم پر پابندی لگا دی تھی ،مگر ان کی شاعری و افکار کی روشنی مشرق و مغرب تک پھیل چکی تھی ،وطن پاکستان کی حاطر1965کی جنگ میں فوج سے وابستہ ہوئے اور سپاہوں کے لیے نظمیں اور گیت لکھ کر ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے ان کی کتاب دست تہ سنگ بھی انہی دنوں شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔

    وہ دامن وطن کے تار تار کی خیر مانگتے رہے اور طاقت کے نشے میں ڈوبے لوگوں نے ان کی آواز حق کو نظر انداز کر دیا اور اقتدار کی چھینا جھپٹی میں پاکستان ایک بازو سے محروم ہو گیا اور عوام دیکھی کی دیکھتی رہ گئی، فیض صاحب کی واقفیت ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان دونوں سے تھی اس کے باوجود وہ اس واقعے پر دونو ں کو ذمہ دار سمجھتے رہے ،مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر فیض صاحب کی روح زخمی ہو گئی اور وہ اس موضوع پر اپنے احساسات و جذبات سپرد قلم کرتے رہے، ان کی وہ درد ناک نظمیں آج بھی ان کے درد کو پڑھنے والے سینے میں محسوس ہوتی ہیں۔

    بھٹو دور میں مشیرثقافت بنے پاکستان کے ٹوٹے اور روٹھے حصے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو معافی تلافی صلح صفائی کی گراہوں سے دو حصوں کو جوڑنے کا وفد لے کر وہاں پہنچے، اُس وقت یہ افواہ تھی کہ بھٹو فیض صاحب کو بنگلہ دیش میں پاکستان کا سفیر مقرر کرنا چاہتے تھے ،مگر بنگلہ دیشی قیادت نے پاکستان سے تعلقات قائم کرنے میں کوئی گرمجوشی نہ دیکھائی، جس کا فیض صاحب کو تاحیات دکھ رہا آپ نے اس موقع پر کہا کہ ہم تو یہ سوچ کر گئے تھے کہ احباب سے ملیں گے، اپنی سنائیں گے ،اُن کی سنیں گئے ،گلہ گزاریاں ہوں، گئی دوستی و محبت کے رشتے استوار کریں گے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ،جیسے گئے ویسے ہی لوٹ آئے ،5جولائی 1977کو جنرل ضیا نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا اور فیض صاحب کی جلا وطنی کا نیا دور شروع ہو گیا

    معززقارئین آپ نے کبھی بھی ماضی کا کوئی بھی دور حکومت جاننا ہو تو آپ کو چاہیے کہ اُس دور کا ادب پڑھیں فقط ادب ہی ایک ایک سچی و مضبوط روشنی ہوتی ہے تو آپ کو اندھیروں میں حقائق تک آشنائی دیتی ہے ،سچے لکھاری محب انسانیت ہوتے ہیں، انہیں سچ کا قلم تھام کر عوام کے درد کو لکھنا ہوتا ہے، یہی وجہ تھی کہ شاعروں کی نئی و پرانی نسل ان سے اس قدر متاثر تھی کہ فیض صاحب ان کے اندر درجہ محبوبیت پر فائز تھے ،فیض صاحب کی بے پناہ مقبولیت کا ایک اور انداز ان کی لازوال بے مثال نظموں وغزلوں کی گلوکاری ہے، فیض صاحب بلاشبہ ایک عظیم لجینڈباکمال شاعر ،عظیم انسان جو اپنی زندگی سے منسلک ہر کردار کو اس خوبصورتی سے نبھاتے کہ وفا ان پر ناز کرتی ،پہلی محبت میں ناکامی کے باوجود فیض صاحب کا کہنا کہ محبت ہوتی ہی پہلی ہے، اس کے بعد ہیرا پھیری ہوتی ہے وہ ہر کسی سے احساس اپنائیت میں ملتے اور ملنے والے کو لگتا کہ جانے کب کا رشتہ ہے ،رائٹر لوگ کائنات کے ہر ذرے کو اہمیت وعزت دیتے ہیں ،حیات کے ہر تلخ و شیریں منظر کو قبول کر کے زندگی کو شکریہ کا موقع دیتے ہیں ،یہ ممکن نہیں کہ آپ اردو جانتے ہوں اور فیض احمد فیض کو نا جانتے ہوں ،مجھے پڑھنے کے دنوں میں ہی ان کا تعارف حاصل تھا میں ترقی پسندتحریک کا ممبر تھا جو پی ڈبلیو اے رائٹر ایسوسی ایشن تھی ،یہاں سیکھنے والوں کا ایک حصہ میں بھی تھا، اس وقت اردو ادب کے ستارے ستار جعفری، ساحر لدھیانوی، کرشن چندربیدی جیسے دیگر احباب تھے جو گھر والے تھے اورگھر والوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کس کا کیا مقام ہے یہ ادب کے ستارے جس کا نام عبادت کی طرح لیا کرتے تھے وہ فیض احمد فیض صاحب تھے جن کی شاعری پر مبنی کتاب یہاں سب پڑھتے تھے ،اس لیے ان کا مقام ذہن نشین ہو چکا تھا، وہ فقط استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایسے لیڈر و راہنما تھے جوتحریک کومحبوبہ کی طرح مخاطب کرتے تھے، وقت کی نبض رکتی ہے توملکہ ترنم نورجہاں اُن کی نظم گاتی ہیں اور وقت کی نبض چلنے لگتی ہے۔

    فیض صاحب کی شاعری بڑے بلند قد کی ہے جسے سمجھنے کے لیے علم و شعور کا وسیع ہونا لطف اندوز کرتا ہے جن کی سمجھ میں کچھ آئی اور کچھ نہ آئی اُن میں سے ایک میں بھی ہوں فیض صاحب استاد ہیں جن کے ہر پہلو تک ہماری رسائی نہیں پہنچ سکتی جبکہ ان کے کلام میں وسیع معانہ افرنی دل سوزی ترجمانی محبت شامل ہیں، میرا مطالعہ کم ہے اور مشاہدہ اس سے بھی کم ہے مگر پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے زبان کا حسن طرز بیاں کسی اور قلم میں نہیں دیکھا،انجمن ترقی پسند مصنفین چاہتے تھے کہ ادیب خیالی محل کی بجائے زمینی حقائق پر نظم اور نثر کی بنیاد رکھیں، فیض صاحب نے تن من دھن لگا کر ایک شعوری گروپ تشکیل دیا جن کے زیرسایہ گاؤں گاؤں جا کر مزدوروں کسانوں کو حالات وجغرافیہ کا علم دینے لگے ،شام تک کالج میں فروغ تعلیم کی ذمہ داری نبھاتے، اس کے بعد رات گئے تک خدمت خلق میں مصروف رہتے، فیض صاحب دیہاتی زندگی کے مسائل سے واقفیت رکھتے تھے، معاشرے کا سب سے نچلاطبقہ ان کی خدمت کا مرکز رہا ،غریبوں مزدوروں کے دکھ کو ذاتی غم بنا کر دور کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے، فیض صاحب ایشاءکے پہلے شاعر ہیں جنہیں روس نے” لیلن امن ایوارڈ”سے نوازاجو نوبل انعام کا ہم پلا مانا جاتا ہے ،73سالہ زندگی کے ہمیشہ رہنے والے نشان چھوڑنے والے فیض صاحب 20نومبر 1984میں انتقال کر گئے ،ان کو ماڈل ٹاؤن لاہورکے قبرستان میں دفن کیا گیا، ان کی رحلت کے ساتھ ہی روایات غم جاناں، غم دوراں اور رومان کا منفرو دل کش عہد تمام ہو گیا ،مگر فیض صاحب کی شخصیت و کلام ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ان کے انتقال کے بعد حکومت پاکستان کی فیض صاحب کی اردو ادب کی خدمات پر انہیں ہلال امتیاز سے نوازاجسے ان کی زوجہ کلثوم نے قبول کیاتھا۔

  • ڈاکٹر عطش درانی .انتخاب:  ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر عطش درانی .انتخاب: ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    22 جنوری 1952ء
    یوم پیدائش عطاء اللہ
    30 نومبر 2018ء
    یوم وفات اردو کو کمپیوٹر کی زبان بنانے والے ڈاکٹر عطش درانی،ہمارے کمپیوٹر پر فیس بُک/ٹویٹر پر لکھا گیا ہر اردو لفظ اسی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ﷲ پاک انہیں جوار رحمت میں جگہ دے جنہوں نے کمپیوٹر کی دنیا میں ہم گونگوں کو زبان بخشی اور قومی زبان ڈیجیٹل میڈیا پر پروان چڑھی۔جس نے ہمیں اردو سے محبت کرنیوالے کئی نئے ہیرے اور موتی دیئے۔
    ڈاکٹر عطش درانی پاکستان کے ایک ماہر لسانیات، محقق،تنقید نگار، مصنف، ماہر تعلیم اور ماہر علم جوہریات تھے۔
    ان کا پیدائشی نام عطا اللہ خان تھا۔انہوں نے 275 کتابیں لکھیں اور متعدد اطلاقیے بنائے۔نیز اردو اور انگریزی میں 500 مقالے لکھے۔عطش درانی کی ان علمی و تحقیقی خدمات پر انہیں تمغہ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
    احسان دانش سے شاعری میں اصلاح لیا کرتے تھے پھر انہی کی کہنے پر شاعری چھوڑ کر نثر پر توجہ دی۔ 1976ء میں سید قاسم محمود کی سربراہی میں مکتبہ شاہکار میں اسلامی انسائیکلو پیڈیا اور متعدد کتابوں پر کام کیا۔سیارہ ڈائجسٹ کی ادارت تین برس تک کی اور مجلس زبان دفتری کے حوالے سے لاہور میں گورنمنٹ سروس اور اردو نامہ کی ادارت کی۔حکومت پنجاب کے رسالے ”اردو نامہ“ کی ادارت سنبھالی اور ایک سرکاری جریدے کو علمی تحقیقی جریدے میں تبدیل کر دیا۔ حکومت پنجاب کی ملازمت سے پھر قومی مقتدرہ زبان میں چلے گئے اور وہاں طویل عرصہ گزار کر لسانیات کے حوالے سے خاطر خواہ کام کیا۔قومی مقتدرہ زبان کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ ’’پاکستانی زبانیں‘‘ کے سربراہ رہے، نیشنل بک کاؤنسل کی نوکری سال ڈیڑھ سال کے لیے کی۔

    اصطلاحات سازی
    خادم علی ہاشمی اور منور ابن صادق کے ساتھ مل کر علم التعلیم، سائنس اور فنیات کے اصطلاحات سازی پر اصطلاحات مرتب کیں جنہیں مقتدرہ قومی زبان نے اصطلاحات فنیات اور تعلیمی اصطلاحات کے عنوانات کے تحت شائع کیا۔
    گھوسٹ حرف تھیوری (Ghost Character Theory)
    اس تھیوری کے مطابق تمام عربی، فارسی اور پاکستانی زبانوں کے بنیادی 52 حروف میں بیس ہزار حروف تہجی تیار ہو سکتے ہیں۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ اب ایک ہی سافٹ وئیر اور کی بورڈ پر تمام زبانوں میں کام ہو سکتا ہے۔
    جسے ‘خالی کشتیوں’ کی تھیوری بھی کہتے ہیں۔گھوسٹ کریکٹرز وہ حروف ہیں جو بے نقط ہوں اور انہیں تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ استعمال کیا جا سکے۔ڈاکٹر عطش درّانی کے مطابق ان کریکٹرز کی تعداد 19 ہے:، ا، ب، ح ، د ، ر، س، ص، ط، ع ، ف، ق، ک، ل، م، ں، ہ، و ، ی۔
    یہ کریکٹرز عربی رسم الخط سے آئے جب ایران نے عربی رسم الخط اپنایا تو انہوں نے چند نئے حروف متعارف کروائے جن میں نقطے اور ایک لائن ہو۔
    یہی رسم الخط ہندوستان آیا تو ان پر چار نقطوں کا اضافہ ہو گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، عربی اور فارسی زبانوں میں تین بنیادی گھوسٹ کریکٹرز شامل ہو گئے۔و، ہ، گ ، ھ، ے، تھے۔وہ زبانیں جو عربی رسم الخط استعمال کرتی ہیں۔ان میں گھوسٹ کریکٹرز کی تعداد 22 ہے جو یہ ہیں:ا ب ح د ر س ص ط ع ف ک گ ل م ن ں و ہ ء ی ھ ے

    مکمل 52 بنیادی کریکٹرز کم از کم 660 بنیادی حروف بناتے ہیں۔
    660 گھوسٹ بنیادی حروف 19800 رسمی حروف بناتے ہیں۔
    کل ملا کر 20600 حروف بنتے ہیں۔
    ان کی پیش کردہ اس گھوسٹ تھیوری سے انٹرنیشنل Unicode پر مختلف الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
    اس کے علاوہ اس کی مدد سے ڈاکٹر عطش درّانی نے کمپیوٹر پر مختلف زبانوں کے الفاظ کے استعمال کو بہتر بنایا ہے۔تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتو، براہوی، بلتی، شنا، کشمیری، گوجری کو کمپیوٹر پر لکھا جا سکتا ہے

    خراج تحسین:
    معروف ڈراما نویس، شاعر اور کالم نویس امجد اسلام امجد نے ان الفاظ میں انہیں خراج تحسین پیش کیا:
    "اردو کے ایک جدید اور بین الاقوامی معیارات کے درجے اور صلاحیت کی زبان بنانے کے سلسلے میں ان کا کام بے حد وقیع ہی نہیں مستقبل گیر اور سمت نما بھی ہے۔
    وہ اپنے بھاری بھرکم جسمانی وجود کی طرح ایک غیر معمولی اور وسیع تر ذہن کے مالک تھے اور اردو رسم الخط کو کمپیوٹر کے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق بنانے کے سلسلے میں ان کی تحقیق اور علمی اجتہادات یقیناً ایک بہت قیمتی تحفہ ہیں اور ان کی خدمات کو صحیح معنوں میں خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ بھی غالباً یہی ہے کہ ان کی جلائی ہوئی شمعوں کو روشن رکھا جائے۔”
    تصانیف
    عطش کی آخری تصنیف کتاب الجواہر جو البیرونی کی تصنیف کتاب الجماہر فی معرفة الجواہر کے اُس حصے کا ترجمہ ہے جو جواہرات سے متعلق ہے، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے جولائی 2018ء میں شائع کی۔اسلامی فکر و ثقافت ، مکتبہ عالیہ لاہور نے 1980ء میں شائع کی۔مغربی ممالک میں ترجمے کے قومی اور عالمی مراکز، قومی مقتدرہ زبان نے 1986ء میں شائع کی۔”لسانی و ادبی تحقیق وتدوین کے اصول” ، 19 ابواب اور 419 صفحات پر مشتمل کتاب نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کی۔
    کتابیات قانون ، قومی مقتدرہ زبان، 1984ء
    پاکستانی اردو کے خد و خال ، قومی مقتدرہ زبان، 1997ء
    لغات و اصطلاحات میں مقتدرہ کی خدمات ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اردو اصطلاحات نگاری (کتابیاتی جائزہ) ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اردو اصطلاحات نگاری (تحقیقی و تنقیدی جائزہ) ، قومی مقتدرہ زبان، 1993ء
    اصناف ادب کی مختصر تاریخ ، 1982ء
    اماں سین ، 2002ء شامل ہیں
    30 نومبر 2018 ء کو عطاء اللہ المعروف ڈاکٹر عطش درانی انتقال کر گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون)
    اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر عطش درانی کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)

  • معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

    معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ساتھ بیٹھک،تحریر:فیصل رمضان اعوان

    پاکستان کے معروف تجزیہ نگار، ٹی وی اینکر اور صحافی مبشر لقمان صاحب سے میری ملاقات ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ یہ ملاقات مجھے باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، جب میرے دیرینہ دوست اور باغی ٹی وی کے ایڈیٹر، ممتاز اعوان نے مجھے یاد کیا۔ ان کی محبت اور سرپرستی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس موقع پر لکھاریوں اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر اعزازی اسناد دینے کا فیصلہ کیا۔

    چونکہ میری مصروفیت کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہ کرسکا، اس لئے ممتاز اعوان نے گزشتہ روز مجھے ایک نجی ٹی وی چینل پر مدعو کیا۔ یہ کسی بھی ٹی وی چینل میں میری پہلی آمد تھی، اور میں اس موقع پر بے حد پرجوش تھا۔ چینل کے مختلف شعبوں سے گزرتے ہوئے ہم تین لوگ مبشر لقمان کے کمرے تک پہنچے۔ پہلی بار براہ راست مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی، اس سے قبل صرف ان کو ٹی وی اسکرین پر ہی دیکھتا تھا۔

    مبشر لقمان ٹی وی اسکرین پر ہمیشہ نوجوان نظر آتے ہیں، لیکن جب ان سے ملے تو معلوم ہوا کہ عمر میں ہم سے کافی بڑے ہیں۔ ممتاز اعوان صاحب نے ہمارا تعارف کروایا اور بتایا کہ ملک فیصل رمضان اعوان باغی ٹی وی میں بھی لکھتے ہیں۔ اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔

    مبشر لقمان صاحب نے ہمیں سب سے پہلا سوال کیا: "ملک صاحب، آپ صرف یہی کام کرتے ہیں یعنی لکھتے ہیں، یا کچھ اور بھی کرتے ہیں؟” ہم نے جواب دیا، "جناب والا، میں ایک نجی کمپنی میں جنرل منیجر ہوں، لیکن علم و ادب کی پیاس کو بجھانے کے لئے رات کے پچھلے پہر لکھنے پڑھنے کو وقت دیتا ہوں۔ گاہے بگاہے ادبی پروگراموں میں بھی شرکت کرتا ہوں۔ شاعری کا بھی جنون کی حد تک شوق ہے، لیکن عشق کی ادھوری داستانوں نے شاید یہ ذوق اب تتر بتر کر دیا ہے۔”مبشر لقمان صاحب نے حیرانی سے ہمارا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا کہ شاید انہیں پہلی دفعہ ایک ایسے محنتی لکھاری کا سامنا ہوا ہے جو دن میں آفس کا کام کرتا ہے اور رات کو اپنے ذوق کی تسکین کے لیے لکھائی کرتا ہے۔ یہ گفتگو کافی دیر تک جاری رہی اور پھر چائے کا دور ختم ہوا۔ اس کے بعد وہ اپنے پروگرام "کھرا سچ” کی ریکارڈنگ کے لئے سٹوڈیو کی جانب چل پڑے، اور ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے تاکہ سٹوڈیو کی تیز روشنیوں کا مشاہدہ کر سکیں۔

    چالیس منٹ کی "کھرا سچ” پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد، ہم واپس ان کے آفس واپس آگئے، جہاں انہوں نے ہمیں اعزازی سند عطا کی۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا، خاص طور پر ایسے لکھاریوں کے لئے جو لکیر کے فقیر بن کر اپنا کام کرتے ہیں۔مبشر لقمان صاحب سے ہماری کچھ اختلافات بھی ہیں، مگر ایک لکھاری کی حیثیت سے ہم کبھی بھی ان کے نظریات کو ذاتی طور پر نہیں لائیں گے، کیونکہ ہر کسی کا اپنا نظریہ اور نقطہ نظر ہوتا ہے۔ بہرحال، مبشر لقمان صاحب ایک علم دوست، سچے انسان اور محنتی شخصیت ہیں۔ ان سے ملاقات نے ہمیں نہ صرف خوشی دی بلکہ مزید لکھنے کا حوصلہ بھی بخشا۔

    آخر میں، یہ ملاقات ہمارے لئے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی اور ہمیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ علم کی دنیا میں ہمیں ہمیشہ نئی راہیں ملتی رہتی ہیں، بشرطیکہ ہم اپنی جستجو کو قائم رکھیں۔

  • شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    لاہور میں سمن آباد کے علاقے موڑ سمن آباد میں ایک احاطے میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی شہزادی زیب النساء کی قبر موجود ہے
    شہزادی زیب النساء شاعرہ تھیں اور ان کا تخلص مخفی تھا
    اور یہ فارسی میں شعر کہتی تھیں ان کے بارے میں
    میں نے کہیں یہ قصہ پڑھا تھا کہ ایک بار اورنگ زیب عالمگیر تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد محو خواب تھے کہ ان کی ایک کنیز نے غلطی سے انہیں جگا دیا وہ بے چاری سمھجی کہ شاید فجر ہوگئی ہے
    کنیز کی اس فاش غلطی پر بادشاہ سلامت جلال میں آ گئے
    اور اس کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا
    جب شہزادی زیب النساء تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے والد بادشاہ سلامت کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے
    سر بریدن لازم است مرغ بے ہنگام را
    این پری پیکر چہ فرق صبح وشام را
    ( سر قلم کروانا ہے تو اس مرغ کا کروائیے جس نے بے وقت ازان دی ، اس پری پیکر کو صبح و شام کا فرق کیا معلوم)

    شنید ہے کہ پھر بادشاہ سلامت نے ،، پری پیکر ،، کو بخش دیا ، مغلوں کی حکومت شان وشوکت اقتدار ، اختیار وقت کی دھول میں گم ہوگیا اب بہت سے مغل شہزادے شہزادیوں کی قبروں کا نشان بھی نہیں ملتا جو قبریں ہیں وہ بھی ،، نے چراغ نے گلے ،، کے مصداق ویران ہیں ،

    شہزادی زیب النساء کی یہ قبر جس کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ ان کی ایک قبر دہلی میں بھی ہے پتہ نہیں کون سی اصلی ہے یہ لاہور والی یا دہلی والی بہرحال شہزادی زیب النساء کا ذکر تاریخ میں موجود ہے اور ان کا کلام بھی

  • آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر   : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری 3 اپریل 1879ءکو بنارس میں پیدا ہوئے ۔ان کا نام آغا محمد شاہ،اورتخلص حشر تھا ۔وہ ایک مشہور و معروف کشمیری خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ان کے والد کا نام آغا محمد غنی شاہ تھا۔ جو کشمیر میں شالوں کا کاروبار کرتے تھے ۔

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری نے ابتدائی تعلیم مدرسہ سے حاصل کی ۔اسی مدرسہ کے حافظ عبد الصمد سے عربی ،فارسی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی اور سولہ سپارے بھی حفظ کر لئے تھے ۔اس کے بعد جے نارائن سکول میں داخلہ لیا لیکن نصاب میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کرسکے اور ڈرامہ نگاری کے شوق میں بمبئی چلے گئے ۔اور کم عمر میں ہی شاعری شروع کردی۔1897ءمیں محض 18سال کی عمر میں ایک ڈرامہ "افتاب محبت”لکھا اور اصلاح کے لئے مہدی حسن لکھنوی کے پاس لے گئے تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔اس کو آغا حشر نے بطور چیلنج قبول کیا اور اس کے بعد اس طنز کا ایسا جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہو ہی نہیں سکتی ۔آغا محمد شاہ حشر کو جو شہرت ،مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی ۔

    آغا حشر نے 19سال کی عمر میں ڈرامہ نگاری میں نام پیدا کر لیا تھا ۔اس کے بعد آپ نے انگریزی زبان سیکھی اور شیکسپئر اور دیگر مغربی ڈرامہ نگاروں کو پڑھا اور بعض کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا ۔
    ڈرامہ سیریل "آفتاب محبت”کے بعد آغا حشر نے بے شمار ڈرامے لکھے جن میں خواب ہستی ،رستم وسہراب،مرید شک ،اسیر حرص ،ترکی حور ،آنکھ کا نشہ ،یہودی کی لڑکی ،خوبصورت بلا ،سفید خون اور میٹھی چھری جیسے لازوال کردار تخلیق کیے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کو ہندوستان کے شیکسپیئر کا خطاب بھی مل گیا ۔اور پورے ہندوستان میں آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کی مقبولیت کے چرچے زبان زدِ عام ہونے لگے۔ مکالمہ نگاری میں بھی آغا حشر کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔آغا حشر مکالمہ نگاری کے بانی ہیں ،ان کے مکالمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ۔دیکھنے اور سننے والے ان کا وہی تاثر لیتے ہیں جو آغا حشر دینا چاہتے ہیں ۔

    چراغ حسن حسرت آغا حشر کی مقبولیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
    ” ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا ،جو کچھ تھا تھیٹر ہی تھیٹر تھا ۔یوں تو اور بھی اچھے ڈرامہ آرٹسٹ موجود تھے ،لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے ۔اور آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی ؟بچارےسارے ڈرامہ آرٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے ۔”

    پروفیسر حفیظ احسن اپنی راۓ کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ:
    "ایک قادر الکلام اور شیریں بیان شاعر ہونے کی وجہ سے آغا حشر کے ڈراموں کی زبان میں بلا کی روانی ہے ۔”
    بقول پروفیسر طاہر شادانی کہ:
    "جذبات کی تصویر کشی میں آغا حشر ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔”

    آغا محمد شاہ نے جب اپنی ڈرامہ کمپنی کا آغاز کیا تو اس کا نام بھی انڈین شیکسپیئر تھریٹیکل کمپنی رکھا ۔آغا حشر نے اپنے عہد میں سماج کے ہر طبقے کے لوگوں اور ہر طرح کے موضوع پر اپنی بےباک راۓ کو اپنے قلم کے ذریعے ڈرامے کی شکل میں لوگوں تک پہنچایا ۔آغا حشر کاشمیری نے اردو ڈراموں میں ایک نئی جہت پیدا کی اور سٹیج ڈراموں کو بازاری پن اور عامیانہ ماحول سے نکال کر خالص ادبی صنف بنایا ۔آغا حشر کو شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔وہ شاعرانہ تخیل کو سیدھے الفاظ اور عام بول چال میں بیان کرتے ۔وہ اتنے جلدی اشعار کہتے تھے کہ سننے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ۔ان کے ڈراموں کی کامیابی میں ان کا شاعرانہ اسلوب بھی کار فرما ہے ۔آغا حشر کے ڈراموں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مصائب اور پریشانی میں احساس شکست پیدا کرنے کی بجائے ان مصائب سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ اور زندگی کی شمع روشن کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ۔
    آغا حشر کاشمیری ایک اچھے مصنف اور شاعر کے علاوہ ایک اچھے اداکار بھی تھے ۔
    بہرحال جب فن فنکار کی پہچان بن جاتا ہے تو یہی فن اسے صدیوں تک زندہ رکھنے کا ضامن بن جاتا ہے ۔
    آغا حشر کاشمیری اُفق کے اس ستارے کا نام ہے جس کی روشنی میں اردو ادب کی روایت ہمیشہ قائم و دائم رہے گی ۔ بلآخر فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 28اپریل 1935ءکو غروب ہو گیا۔
    (انا للہ وانا الیہ راجعون)
    آغا حشر کاشمیری لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔اللہ تعالیٰ آغا حشر کاشمیری کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)

  • جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    تاریخ پر نظر رکھنے والے اور لکھنے والے، دل چسپ شخصیات ہوتی ہیں۔ان کی زندگی کے بھی نشیب و فراز ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی کو پس پردہ رکھتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے اپنے قارئین کو دیدہ دلیری سے آشنا کرتے ہیں۔تاریخ سے دل چسپی رکھنے والے اور تحقیق کرنے والے طالب علموں کے لیے قیمتی خزانے فراہم کرتے ہیں۔کہتے ہیں تاریخ بڑی ظالم ہوتی ہے کسی کو معاف نہیں کرتی۔یہ مورخ ہی ہوتے ہیں جو ان کے گم شدہ اوراق پاتال سے بھی نکال لاتے ہیں۔

    صحافتی پیشہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہر لمحہ نئی سے نئی خبر اپنے قارئین تک پہچانا،اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حقائق سامنے لا کر اپنا حق ادا کرتے ہیں۔صحافی ہر گزرتے لمحے اور مستقبل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اور مشاہدے اور تجزیے سے معلومات فراہم کرتا ہے۔تاریخ ایسے صحافیوں کو یاد رکھتی ہے جو حق،سچ پر اپنی جان تک نچھاور کردیتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل بھی انھی شخصیات میں سے ایک ہیں ، ڈاکٹر فاروق عادل کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ان کا قلم حق سچ کا علم بردار ہے۔ملکی و غیر ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور خوب تجزیہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے پڑھنے والے ان کی کتب کے منتظر رہتے ہیں۔جب کتاب منظر عام پر آتی ہے تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہے اور تھوڑے ہی عرصے میں ایڈیشن ختم ہو جاتا ہے۔

    حکومت ِپاکستان ان کے کام سے متاثرہوکر تمغۂ امتیاز سے نواز چکی ہے۔آج ہم ان کی تازہ ترین کتاب ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ لب کشائی کرتے ہیں۔یہ شان دار کتاب حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے اور ہر طرف اس کے چرچے ہیں۔علامہ عبدالستار عاصم اور سلمان علی چودھری نے خاص اہتمام سے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے شائع کی ہے۔علامہ عبدالستار عاصم کتاب دوست ہیں اور کتب بینی کے فروغ کے لیے متحرک شخصیت ہیں۔ادبی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔خود بھی صاحب ِکتاب ہیں اور کتاب دوستوں سے خاص محبت رکھتے ہیں۔انھی کی کاوشوں سے ہم بہترین قلم کاروں اور کتب سے آشنا ہوتے ہیں۔اس حوالے سے ڈاکٹر فاروق عادل ”چند باتیں“میں اس طرح خراج ِتحسین پیش کرتے ہیں:”بردار محترم علامہ عبدالستار عاصم کے دست ہنر نے جادو گری دِکھائی۔انھوں نے چند ہی روز میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع کردیا۔ان کے گودام میں اب اس ایڈیشن کا بھی کوئی نسخہ باقی نہیں بچالہٰذا اب وہ تیسری اشاعت کی نیت باندھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت پیدا فرمائے۔آمین۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کے حوالے سے ”عرفان صدیقی“صاحب لکھتے ہیں ”ڈاکٹر فاروق عادل ایک پختہ کار اور شگفتہ نگار محقق کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“گئے دنوں کا سراغ لگانے کی نہایت عمدہ کاوش ہے۔

    پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود لکھتے ہیں:”پاکستان کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر فاروق کی پہلی کتاب ”ہم نے جو بھلا دیا“سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ صحافت کے ہنر کے ساتھ ایوان اقتدار کے مشاہدے نے تجربے کو دو آتشنہ کر دیا ہے۔فاروق کی اس کتاب نے پورے ملک کو متوجہ کیا۔ایک کتاب کے ایک ہی ماہ میں دو ایڈیشن شائع ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اب ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جس میں میرا یہ شاگرد عزیز تحقیق کے جنگل میں اُتر کر ایسے حقائق تلاش کر لایا ہے جو حیرت انگیز بھی ہیں اور عبرت خیز بھی۔یہ کتاب ایک ایسا آئینہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنا چہرہ بھی خوش نما بنا سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔حرف آخر یہ کہ یہ کتاب طالب علموں،صحافیوں،اساتذہ،سیاست دانوں اور حکمرانوں سب کے لیے ہے۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد ہم بھی ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں۔اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی گم شدہ پہلوؤں سے پردہ چاک ہوا ہے اور حیرت بھی۔اچھا ایسابھی ہوتا ہے۔ایسا بھی ہوا تھا،ایسا بھی ہوتارہا ہے۔جیسے سوچیں پاتال سے سر اٹھاتی ہیں۔اس کا ثبوت”ایپی فقیر“کتاب کا پہلا مضمون ہی بین ثبوت ہے۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کے پیچھے ہزاروں داستانیں ہیں۔کہیں ایک ماشکی کا بیٹا حکمران بن جاتا ہے تو کہیں ایک امام مسجد سے حکمران اور طاقت والے سر نگوں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے قیام کے بعد بھی ہزاروں کہانیاں جنم لے چکی ہیں جو عام انسان سے پسِ پردہ ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل جیسے بے باک،نڈر قلم کار ہی ایسے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں۔مجھے خوشی ہے ان کا قلم اسی راہ کا مسافر ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کا انتساب ”ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھانے والوں کے نام ہے جن میں ڈاکٹر فاروق عادل کے استاد گرامی پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود اور پروفیسر ارشاد حسین نقوی کے نام ہے۔ترتیب سے پہلے مسدسِ حالی سے تاریخ کے عکاس اشعار دیے گئے ہیں:
    کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
    کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
    لب ِجو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
    کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
    یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
    یونہی چلتی رہتی تھی تلواران میں
    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“33عنوانات سے تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔جیسے ”مولانا طارق جمیل کا عشق“۔”صالحین کی نرسری“،”بھٹو اور نواز شریف“،”بھونکنے پر پابندی“،”وہ ایٹمی چھکا“،”الف لیلوی نواب“اور”جب بھارتی شہری وزیراعظم پاکستان بنتے بنتے رہ گیا“۔ان جیسے عنوانات سے آپ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے اندر کیا کیا کہانیاں ہیں۔ان کہانیوں سے ڈاکٹر فاروق عادل صاحب نے دلیری سے پردہ اٹھایا ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“290صفحات کی ضخامت رکھتی ہے۔آخری صفحات پر سیاست دانوں،حکمرانوں اور تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل اپنی مشاہدات اور تجربات بیان کرتے ہوئے مختلف کتب کے حوالے بھی دیتے ہیں۔یہاں سے باخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے کے لیے مطالعہ بھی ضروری ہے جس طرح ڈاکٹر فاروق عادل کتب بینی کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی تحریک ملتی ہے۔اچھی معیاری اور بہترین کتب سے جانکاری ہوتی ہے۔کتب بینی کا ذوق پروان چڑھتا ہے۔ان کے ہر مضمون میں آپ کو تاریخی کتب کے حوالے ملیں گے۔یوں آپ ایک کتاب پڑھتے ہوئے کئی کتب سے متعارف ہو جاتے ہیں۔اپنے ذوق کی تحسین کے لیے ان کتب کا مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ اظہار ِ خیال کرتے ہوئے ”وجاہت مسعود“لکھتے ہیں:”ہر عہد میں چند افراد ہی ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ میں اپنی نسل کا نشان بلکہ جواز قرار پاتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل کے اس دیرینہ نیاز مند کی رائے ہے کہ ہم عصر صحافیوں میں ڈاکٹر صاحب کا شمار ایسے ہی کم یاب قافلے کی صف اول میں ہوتا ہے۔ایسے عبقری اپنے زمانے کی پامال راہوں سے ہٹ کر راستہ نکالا کرتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل نے بھی رائج الوقت صحافت سے انحراف کرتے ہوئے کچھ ایسی خوبیوں کے جلو میں اپنی پہچان بنائی ہے جنھیں اپنانے اور استقلال سے نبھانے کے لیے پہاڑ ایسی استقامت کی گہرائی،صحافتی اقدار کی پیروی،زبان وبیان کی نتھری ہوئی سلاست،رائے کا اعتدال،دوست دشمن میں امتیاز کیے بغیر بے لاگ تجزیہ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لب ولہجے کی ایسی متانت کہ مخالف رائے رکھنے والا بھی قائل ہو یا نہیں،کم از کم بد مزہ نہیں ہو سکتا۔“

    میں یہ کتاب”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ وجاہت مسعود صاحب نے بالکل حق اور سچ کہا ہے۔میری دعا ہے ڈاکٹر فاروق عادل صاف ستھری صحافت کرتے رہیں اور تاریخ کے گم شدہ اوراق سے پردہ اٹھا کر ہمیں فیض یاب کرتے رہیں آمین۔

  • پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اردو ادب کی ترویج و ترقی کا عظیم الشان اجتماع
    »» ایک ایسا ادبی جشن، جہاں لفظ بولیں گے اور تحریر گواہی دے گی!”
    »» ادب کے چراغ روشن کرنے کا عظیم الشان اجتماع!”
    »» نئےقلمکاروں کی خدمات کا اعتراف، اردو زبان کی ترقی کا سنگ میل!”

    پہچان پاکستان نیوز گروپ کا یہ میگا ادبی فیسٹیول "لفظوں کی دنیا میں ایک تاریخ ساز لمحہ ہوگا،جہاں اردو ادب کی کہکشاں کے درخشاں ستارے ایک جگہ! پر ہونگے،”ایک یادگار لمحہ ہوگا، جب ادب کے معمار ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کریں گے!”
    اردو ادب کی تاریخ میں مختلف ادوار میں ایسے ادبی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں، جنہوں نے ادب کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور، جو ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، ایک بار پھر ایک شاندار ادبی تقریب کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پہچان پاکستان نیوز گروپ کی جانب سے میگا ادبی فیسٹیول 24 فروری 2025 کو الحمرا ہال نمبر 3، لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر، کالم نگار، اور اردو ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ لکھاری شرکت کریں گے۔

    یہ فیسٹیول محض ایک تقریب نہیں بلکہ اردو ادب سے جڑے افراد کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا اور انہیں عزت و توقیر سے نوازا جائے گا۔ اس پروگرام میں نمایاں ادبی شخصیات کو میڈلز، سرٹیفکیٹس اور شیلڈز دی جائیں گی، تاکہ ان کے ادبی سفر کو سراہا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے ادب کے فروغ کی راہیں مزید ہموار کی جا سکیں۔
    اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے پروگرامز کی ضرورت محسوس کی گئی ہے جو ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول ایک ایسا ہی عظیم الشان ایونٹ ہے، جو نہ صرف اردو ادب کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ادب سے وابستہ شخصیات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بھی ذریعہ بنے گا۔یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گا کہ وہ سینئر ادیبوں اور شاعروں سے سیکھ سکیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مفید مشورے حاصل کریں۔ ادب کی قد آور شخصیات کی موجودگی اس تقریب کو مزید باوقار بنا دے گی اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔

    اس فیسٹیول میں پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نامور ادیب، شاعر، نقاد، کالم نگار، اور محققین شرکت کریں گے۔ یہ ایک سنہری موقع ہوگا جب اردو ادب کے قدآور ستون ایک جگہ اکٹھے ہوں گے اور اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔تقریب میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادبی شخصیات کو ایوارڈز دیے جائیں گے، تاکہ ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جائے اور ان کی محنت کو سراہا جا سکے۔ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز ہوگا بلکہ ادب کی ترویج کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہوگا۔
    نوجوان ادیبوں اور شاعروں کے لیے ایک پلیٹ فارمادب سے جڑے نوجوان تخلیق کاروں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ وہ اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات کریں، ان سے گفتگو کریں اور ان کے تجربات سے سیکھیں۔تقریب میں مختلف ادبی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں اردو ادب کے مسائل، اس کی ترقی کے امکانات، جدید ادب کے رجحانات، اور دیگر موضوعات پر مباحثے ہوں گے۔ اس پروگرام میں مختلف کیٹیگریز میں نمایاں شخصیات کو اعزازات دیے جائیں گے، جن میں درج ذیل شامل ہوں گےبہترین ادبی خدمات کے اعتراف میں نمایاں ادبی تحقیق پر بہترین شاعری، نثر، اور کالم نویسی پر سرٹیفکیٹ ،شیلڈز ،گولڈ میڈل دئیے جائیں گے۔اس تقریب میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی جائیں گی، تاکہ ادب کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔یہ فیسٹیول اردو ادب کو نئی جہتیں فراہم کرے گا اور ادیبوں و شاعروں کو ایک دوسرے سے جُڑنے اور سیکھنے کا موقع دے گا۔ اس کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:نوجوان نسل میں اردو ادب کا شوق بڑھے گا اس تقریب سے نئی نسل میں اردو ادب سے دلچسپی بڑھے گی اور وہ اس کی مختلف اصناف میں تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کی کوشش کریں گے۔ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس ملنے سے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ مزید جوش و جذبے سے ادب کی خدمت کریں گے۔اس فیسٹیول میں ہونے والے مذاکروں سے اردو ادب کے موجودہ مسائل اجاگر ہوں گے اور ان کے حل کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔پہچان پاکستان نیوز گروپ کا میگا ادبی فیسٹیول2025ایک ایسا ادبی اجتماع ہوگا جو اردو ادب سے جُڑے تمام افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ بنے گا۔ الحمرا ہال 3، لاہور میں ہونے والی یہ تقریب ادب کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔یہ فیسٹیول نہ صرف اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والے افراد کو عزت و تکریم دینے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ترغیب کا باعث بنے گا۔ اس طرح کے ادبی فیسٹیولز کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، تاکہ اردو زبان کی ترویج و ترقی کو مزید تقویت دی جا سکے۔

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول 2025 کے انعقاد پر پہچان پاکستان نیوز گروپ ,چیف ایڈیٹر زکیر احمد بھٹی اور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور کو دلی مبارکباد! یہ ادبی فیسٹیول اردو ادب کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا، جہاں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر اور کالم نگار ایک چھت تلے جمع ہوں گے۔ آپ کی کاوشوں سے ادب سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اردو ادب کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ ادب دوست اقدامات پر آپ کو خراجِ تحسین!یہ محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ادب کی ترویج کا ایک نیا سفر ہے! ،اردو ادب کی خدمت کا یہ تسلسل ہمیشہ جاری رہے گا!،یہ فیسٹیول ایک یادگار لمحہ ہوگا،اور اس کا اختتام نہیں، بلکہ نئے ادبی سفر کی شروعات ہوگی! کیونکہ پہچان پاکستان نیوز گروپ ـــ ادب کی پہچان اور تخلیق کی زبان ہے۔۔

  • آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    اناللہ وانا الیہ راجعون
    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے دعائے مغفرت کی درخواست ہے

    سلسلہ پذیرائی ۔
    ادبی دیوان بلوچستان( ادب )پاکستان
    تحریر _ ڈاکٹر عبدالرشید آزاد
    شخصیت – آغا نیاز مگسی
    بلوچستان کے ادب کا اک روشن ستارہ پانچ زبانوں میں اظہار کرنے والے آغا نیاز مگسی ،معروف شاعر / کالم نگار/ ادیب / اور نثر نگار
    آغا نیاز مگسی 2 اپریل 1967کو شہدادکوٹ کے قریب بانڑی وانڈو میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد حسن ہے اور ان ک تعلق بلوچ قوم کے مگسی قبیلے سے ہے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گوٹھ سخی نذر محمد کٹوہر پرائمری سکول میں حاصل کی پھر ایک سال بعد نقل مکانی کرنی پڑی پھر 1975 میں اپنے چچا کے مدرسے میں داخل ہوئے جہاں سے عربی اور سندھی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد 1981 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قبوسعید خان میں جماعت ششم میں داخلہ لیا جہاں دو سال تعلیم حاصل کی۔
    1986 میں میٹرک کیا اور گورنمنٹ انٹر کالج شہدادکوٹ میں داخل ہوئے ۔
    1985 میں سندھی زبان میں شاعری کا آغاز ایک سندھی گیت سے کیا پھر 1988 کو غربت کی وجہ سے سیکنڈ ائیر میں تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔
    1989 میں اپنے مرحوم بھائی کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں ڈسپینسر بھرتی ہوئے انہوں نے نصیر آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1991 میں ریلوئے گراؤنڈ ڈیرہ مراد جمالی مشاعرے کا انعقاد کیا جس سے باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا
    1994 میں آغا نیاز مگسی نے کالم نگاری کی ابتداء کی اور ان کے تعلقات سیاست میں نواب اکبر خان بگٹی ،میر ظفر اللہ جمالی، سردار یار محمد رند، سردار زادہ شیر محمد رند ،میر ظہور حسین کھوسہ،رازق بگٹی ،میرجان محمد جمالی ،میر فائق جان جمالی ،میر خان محمد جمالی ،میر صادق عمرانی ،بابو محمد امین عمرانی ،میر مراد ابڑو ،سید فضل آغا ،میر اظہار حسین کھوسہ ،میر سلیم خان کھوسہ ،مولانا عبداللہ جتک ، صاحب زادہ سکندرسلطان ،میر احمدانی خان بگٹی ، سردار چنگیز خان ساسولی ،میر طارق حسین مسوری بگٹی ،میر ماجد ابڑو ،میر نظام لہڑی ،دریحان بگٹی سے ہوئے ۔بعد میں آپ نے 2018 میں کالم نگاری بھی چھوڑ دی ۔

    اسی طرح ادبی دنیا میں بھی ان کے روابط معروف ادبی شخصیات جن میں احمد فراز ،امجد اسلام امجد ،تابش دہلوی،نور محمد پروانہ ،راغب مراد ابادی ،محسن بھوپالی،عطاالحق قاسمی ،عطا شاد ،سلیم کوثر ،ذکیہ غزل ،رانا ناہید ،گلنار آفرین ،ڈاکٹر طاہر تونسوی،منظر ایوبی،احمد خان مدہوش ،اوریا مقبول جان ،رفیق راز ،ناگی عبدالرزاق خاور ،سید شرافت عباس ناز ،صلاح الدین ناسک ،عرفان احمد بیگ ،عابد شاہ عابد ،عرفان الحق صائم ،بیرم غوری کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔
    ان کے چھ بچے ہیں جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں آپ اردو ،سندھی،بلوچی ،براہوئیی ،اور سرائیکی یعنی پانچ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کا ابھی تک کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا کیونکہ غربت کی وجہ سے اتنے وسائل نہیں ہیں اور اتنے بڑے کنبے کے واحد کفیل ہیں ۔

    آغانیاز مگسی باغی ٹی وی میں بھی لکھتے رہے ہیں، باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان سمیت ٹیم نے آغا نیاز مگسی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے