Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    نام کتاب : ننھے مقرر
    مصنف : حافظ صداقت اکرام
    صفحات : 217
    قیمت : 1100روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل
    برائے رابطہ : 04237324034
    بچوں کیلئے تربیتی ، تعمیری اور اصلاحی کتب پیش کرنا دارالسلام انٹرنیشنل کا طرہ امتیاز ہے ۔ بلکہ دارالسلام بچوں کیلئے کتب شائع کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ ننھے مقرر ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے یہ کتاب فن تقریر کے موضوع پر سکول اور مدارس کے مڈل لیول کے بچوں کے لیے ایک شاہکار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف حافظ صداقت اکرام ہیں جو خود بھی زمانہ طالب علمی میں اعلیٰ پائے مقرر رہ چکے ہیں اور کئی ایک انعامات بھی حاصل کرچکے ہیں ۔فن تقریر کے موضوع پر ان کی ایک اور کتاب ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘ قارئین سے داد ِ تحسین پاچکی ہے جبکہ ایک کتاب ’’ متاع ِ سخن ‘‘ زیر تصنیف ہے ۔ یوں تو اس وقت فن تقریر کے موضوع پر بازار میں بیشمار کتب دستیاب ہیں تاہم یہ کتاب کئی ایک اعتبار سے دیگر تمام کتب سے منفرد اور ممتاز ہے ۔مثلاََ ہر تقریر قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے ۔ تمام عربی عبارتوں کے حوالہ جات دیے گئے ہیں ۔ موضوع کی مناسب سے ہر تقریر میں خوبصورت اور برمحل اشعار شامل کیے گئے ہیں ۔ بچوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کا چنائو کیا گیا ہے ۔جملے طویل نہیں بلکہ مختصر ہیں تاکہ یاد کرنے اور ادا کرنے میں آسانی ہو ۔

    یہ کتاب ایک سو تقریروں کا مہکتا ہوا گلدستہ ہے جن میں سے چند ایک موضوعات درج ذیل ہیں :اللہ ہمارا رب ہے ، محمد ﷺ ہمارے رہبر ہیں ، قرآن ہمارا دستور ہے ، اسلام ہمارا دین ہے ، نماز کی اہمیت ، روزہ عظیم عبادت ہے ، حج کی فضیلت ، ہم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہوکر ، حسن اخلاق کی فضیلت ، زبان کی حفاظت ، ہمیشہ سچ بولو ، خاموشی میں نجات ہے ، غرور وتکبر کی مذمت ، حیا انسانیت کا زیور ہے ، کتاب سے دوستی ، تندرستی ہزار نعمت ہے ، نیا سال نیا عزم ، یوم مزدور ، یوم یکجہتی کشمیر ، یوم دفاع پاکستان ، قائد اعظم ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز شخصیت ، علامہ اقبال ۔۔۔ایک فرد ِ عظیم ، محنت کی عظمت ، نظم وضبط کی اہمیت ، استاد کی عظمت ، بڑوں کی تکریم وتوقیر ، ہمسائے کے حقوق ، دھوکے بازی قابل مذمت فعل ، بخل معاشرتی برائی ، باہمی تعاون کی اہمیت ، حسد ایک مہلک مرض ، کفایت شعاری ، اتفاق میں برکت ہے ، مہمان نوازی اسلامی شعار ، حقیقی کامیابی ، اخوت کی اہمیت ۔اسی طرح دیگر موضوعات بھی بہت ہی مفید ہیں ۔بہترین موضوعات کی وجہ سے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب محض تقریر پر رہنمائی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے پڑھنے والا جہاں ایک اچھا مقرر بنے گا وہاں وہ ایک باعمل مسلمان اور اچھا شہری بھی بنے گا ۔

    اس کے لیے ایک ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کو جلا بخشے اور اچھا مقرر بننے میں ان کی معاون ہو۔ جس میں عقائد، اخلاقیات، معاملات اور حسن معاشرت جیسے عنوانات دلائل کے ساتھ عمدگی سے بیان کیے گئے ہوں۔ ننھے مقرر طلبہ کی اسی اہم ضرورت کی تکمیل ہے۔ یہ کتاب جہاں طلبہ کے ذوق تقریر کی آبیاری کرے گی، وہیں فن تقریر کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی

    مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں،سبیل اکرام

    بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری و آخری قسط
    جدید دور میں سرائیکی لوک گیتوں کے اثرات اور تحفظ کی تجاویز
    سرائیکی لوک گیت نہ صرف سرائیکی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ جدید فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ان گیتوں نے ریڈیو پاکستان ملتان،بہاولپور،ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودھا کے ذریعے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔سرائیکی لوک گیتوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کے لیے تحقیقی مراکز کا قیام ضروری ہے۔ان گیتوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل ان کے ورثے کو سمجھ سکے۔
    لوک فنکاروں کی سرپرستی اور ان کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔سرائیکی لوک گیت دھرتی کے پھولوں کی مانند ہیں جو اپنی خوشبو اور خوبصورتی سے نسل در نسل لوگوں کے دلوں کو معطر کرتے رہیں گے۔ان گیتوں کے ذریعے سرائیکی ثقافت کا پیغام محبت، امن اور یکجہتی پوری دنیا میں پھیلتا رہے گا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی لوک گیتوں کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود سرائیکی شاعری کی تاریخ ہے۔سرائیکی وسیب میں اہم لوک گیتوں کےنمونے سرائیکی قومی شعور،مزاج اور دھرتی کے رسوم و رواج روایات کی عکاسی پیش کرتےہیں۔ریڈیو پاکستان بہاولپور، ریڈیو پاکستان ملتان، ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان، ریڈیو پاکستان سرگودھا نے سرائیکی خوبصورت لوک گیتوں کو بلندیوں تک پہنچایا۔سرائیکی عام لوک فنکاروں کو صدراتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بنایا۔ریڈیو پاکستان پر چلنے والے سرائیکی لوک گیت بچوں،نوجوان،عورتوں اور بوڑھوں میں یکسر مقبول تھے۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    آج بھی نئی نسل کو بوڑھے بزرگ سرائیکی لوک گیت سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔اب نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی حفاظت خود کرے گی۔سرائیکی وسیب نگری مظہر جلال ہے۔یہاں کے لوک گیت خواجہ غلام فرید کی مادری زبان سرائیکی کے271 کافیوں نے ہر طرف خوشبو بکھیر دی ہے۔آج بھی روہیلا اپنے اونٹ،بھیڑ بکریوں،گائے کے ریوڑ کے ساتھ تصوفانہ کرشماتی مادری زبان سرائیکی میں لوک گیت گا کر اپنا سفر طے کرتاہے۔جس طرح بچہ صرف ماں کی گود میں ماں کی لوری سن کر اپنے آپ کو محفوظ اور روحانی اطمینان وسکون قلب محسوس کرتاہے۔اسی طرح مادری زبان میں لوک گیت ہی انسانوں کی جنت کے میٹھے سریلے ملی نغمے ہیں۔تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ انسانوں کی اخلاقی اقدار کی تربیت اور رشدوہدایت کے لیے مادری زبان ہی کو ذریعہ اظہار اپنایا ہے۔
    اساں لوک سرائیکی
    ساڈی جھوک سرائیکی
    اساں امن محبت دے داعی
    اساں نگر پریم دے واسی

    میری بیٹی رابیل الطاف ڈاھر، عبداللہ سچل ڈاھر سے چھوٹی مگر زینب رابیل الطاف سے بڑی ہے۔مائی کلاچی کے جدید روشنی کے شہر سابق دارالحکومت پاکستان،سندھ صوبےکا مرکزی تجارتی بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر کراچی،غریب کی ماں،محبت وامن کا خوبصورت سمندری خطہ سیکٹر سرجانی ٹاون میں رہائشی نانا نانی،ماما مامی،اب چھوٹے ماموں کی شادی پر خود بخود سہرے خوشی کے گیت اپنے شہر احمدپورشرقیہ گھر میں گا رہی ہے۔”پیارا گھوٹ ماموں جیوے،سہرا پاوے خوش تھی وے”اپنی والدہ کو گنگاہٹ میں سنا کر داد تحسین پاتی ہے۔میرے لئے ایک حسین دلربا منظر ہوتاہے۔عجیب خوشی کا سماں ہوتا ہے۔جذبوں کی نہ تھمنے والی دلکش روح پیدا ہوتی ہے۔یہ سحر انگیزی سرائیکی لوک گیت میں ہے۔چند سرائیکی مشہور لوک گیتوں کے نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
    بچوں کے گیت
    جھل پکھا تے آوے ٹھڈی وا
    میڈے ویرکوں مہندی دا رنگ چالا

    خوشی پرنے(شادی) کے گیت
    "پُھلاں والی ارائین سہرا پھلاں دا پوا
    جیوی پیو تے بھرا،ساڈا دل نہ رنجا”

    شادی کے موقع پر گاناں بدھائی کا گیت
    "تیڈے گانے کوں لاواں گھیو خاناں
    تیڈی جنج سوہیسی پیو خاناں
    تیڈی خیر اللہ ہوسی ہن گانا بدھ خاناں”

    مہندی کے گیت
    "مہندی کوں لاواں مینڑ
    تیڈیاں ویلاں گھلیسم بھینڑ”

    شادی سہرے کے گیت
    "حوراں پریاں سہرے گانون
    وارو واری ویلاں پانون

    وے میں سہرا تیڈا گانواں وے
    شہزادہ بنا وے، سوھنا بنا وے”

    "میں تاں تھال مہندی دا چائی کھڑی آں
    میں تاں پھلاں واری سیج سجائی کھڑی آں”

    دوران رقص سرائیکی جھمر کے گیت
    "کوٹھے تے پڑ کوٹھڑا وے
    تے کوٹھےسکدا اے گھا بھلا
    لکھ لکھ چٹھیاں وے
    میں تھک ہٹیاں
    تو کہیں بہانے آ بھلا”۔

    "دل تانگھ تانگھے،
    اللہ جوڑ سانگھے
    سجناں دا ملنا
    مشکل مہانگے”

    سرائیکی ریاست بہاولپور کا سرائیکی لوک گیت سرائیکی ساڑھے سات کروڑ سرائیکی صوبے سے محروم سرائیکی قوم کا قومی لوک گیت اب سرائیکی ترانے کا روپ دھار چکا ہے۔میلوں اور یونیورسٹی کلچرل فیسٹیول میں نوجوان نسل کا روحانی منزل مقصود بن چکا ہے۔آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف اس کی گونج ہے۔دیرہ جات میں سرائیکی لوک گیت نوجوان نسل کا خوبصورت ثقافتی روحانی نغمہ بن چکا ہے۔سرائیکی علاقوں میں جھنگ اور میانوالی کو سرائیکی وسیب کی شعر ونغمہ کی سرزمین کہا جاتا ہے
    کھڑی ڈیندی آں سنہڑا اناں لوکاں کوں
    اللہ آن وساوے ساڈیاں جھوکاں کوں

    چھلے کے گیت
    "چھلا پاتی کھڑی آں ہک
    میڈی نئیں پئی لاہندی سک
    میکوں تیڈی پئی اے چھک
    منہ ڈکھاویں چا”۔

    تیڈے کھوہ تےآئیاں پانڑی پلا ڈے
    سخناں دا کوڑا ساڈے چھلڑےولا ڈے

    ڈھولے کے گیت
    "بزار وکاندی تر وے
    میڈا سوڑی گلی وچ گھر وے
    تے پیپل نشانی وے ڈھولا
    بزار وکاندی پنڈ وے
    تیڈے بت وچ میڈی جند وے
    ہکو کر سمجھیں وے ڈھولا”۔

    نہ مار جھمراں نظر لگ ویسی میڈا "نکا جیا ڈھولا دل کھس ویسی”

    "میں اتھاں تے ڈھول ملتان اے
    ساڈی ڈھولے دے وچ جان اے”

    ماہیے کےگیت
    "ککراں دے پھل ماہیا
    اساں پردیسی ہیں
    ساڈے پچھوں نہ رُل ماہیا”

    "او ماہیا ماہیا پھل گلاب دا”۔

    "بالو بتیاں وے ماہی ساکوں مارو سنگلاں نال
    پتل بنڑایوس سوھنا بنڑساں عملاں نال”

    سوھنڑیا او ماہیا قد سجناں دا چھوٹا اے،اوڈو چن دا او ٹوٹا اے

    رسنڑ/روٹھنے کے گیت
    میڈا چن مساتا،میڈا چن مساتا
    اینویں نی کریندا،لوکاں دے آکھے رُس نئیں ونجیندا”۔

    "وے بھورل آ وے بھورل آ
    ہک واری کھل تے آلائی ونجن”

    "کڈاں ول سو سوھنا سانول آ
    وطن ساڈے غریباں دے”

    "ساوی موراکین تے بوٹا کڈھ ڈے چولے تے
    رُٹھی نی منیساں بہوں ناراض ہاں ڈھولے تے۔”

    سرائیکی لوک گیت دراصل سرائیکی وسیب کا منظر نامہ ہیں۔خوف،خوشی و غمی کے موقع پر انسان نے گنگاہٹ سے دونوں ہاتھوں کی برابر ردھم،سر سنگیت کے فن کمال سے محبت کے گیت گا کر دنیا میں امن کےپیغام کو عام کیا تھا۔آج پھر سے سرائیکی سہرے کا محبت نامہ نئی نسل تک پہچانا ہوگا۔سرد موسم ،محبت و امن کا گہوارہ اور بہاروں کا نام ہے۔عاشقوں کے لیے چاہت کی درگاہ ہے۔دنیا میں نفرت،دشت گردی،حرص و ہوس،لالچ کو سادہ نفیس مٹھاس بھرے رسیلے خوبصورت سرائیکی لوک گیتوں میں سادگی،محبت،احترام آدمیت،خلوص جیسے موضوعات کی بدولت ہر برائی سے نمٹا جاسکتا ہے۔سریم کے پھل،سرسوں کا ساگ، مکھن مکئی اصل میں خوشحالی و ترقی اور امید نو کا نیا ماہ جنوری 2025مبارک سال کا خوبصورت لوک گیت ہے۔
    بازار وکیندیاں گندلاں
    ڈینہہ ڈس گیوں پورے پندراہاں
    مدتاں لایاں نی ہو ڈھولا!
    ختم شد.

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی لوک گیتوں کی اقسام اور ان کی مثالیں
    سرائیکی لوک گیتوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں ہر قسم انفرادیت اور جذبے کی حامل ہے:
    لولی (لوری): ماں کی ممتا کے رس سے بھرے گیت،جو نومولود بچوں کے لیے گائے جاتے ہیں، مثلاً:
    "لولی دیندی تھیندی ماء واری،اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری”
    "الا اللہ ،اللہ ہو مٹھا توں ،الا اللہ،اللہ ہو مٹھا توں”
    شادی کے گیت: شادی کی تقریبات میں خواتین کے گائے جانے والے گیت، جن میں خوشی اور محبت کا اظہار ہوتا ہے، جیسے
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں،ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں”
    دھرتی کے گیت: یہ گیت فصلوں کی کٹائی، درگاہوں کی زیارتوں، اور روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں، جیسے:
    "آچنوں رل یار پیلھوں پیکیاں نی وے”
    روحانی گیت: یہ گیت مذہبی اور روحانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، مثلاً:
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال،جھولے جھولے لال دم مست قلندر”
    دوسری قسط
    عام طور پر سرائیکی لوک گیت ” سہرے ” کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔جس میں سرائیکی لوک گیت ٹہر کو روحانی عقیدت کی عظمت وفیض سمجھا جاتا ہے۔دکھ تکلیف کو ٹالنے کے لیے سرائیکی لوک میلوں کے موقع پر صوفیاء کرام کی امن پسند درگاہیں پر لوگ اپنی امیدیں، خواہشات اور آسوں کی تکمیل کے لیے منقبت پیر مرشد لوک گیت کی شکل میں گاتے اور روحانی فیض پاتے ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    برصغیر پاک وہند میں اولیاء اللہ کرام سے بے پناہ محبت میں لوک گیت سہرے گاکر اپنی خوشیاں منت منوتیاں پوری کرتے ہیں۔سرائیکی دھرتی تصوف سے مالامال ہے۔اوچ شریف، ملتان شریف، کوٹ مٹھن شریف، سخی سرور شریف،تونسہ شریف،خانگاہ شریف، پاک پتن شریف،چشتیاں شریف، درگاہ شور کوٹ باہو سلطان، چنن پیر،شاہ جیونہ شریف روحانی آستانے سرائیکی لوگوں کے امن و امان کے روشن مراکز ہیں۔میرے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ اوچ شریف برصغیر پاک وہند سرائیکی وسیب تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی مشہور منقبت سرائیکی لوک سہرا گیت۔
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال، جھولے جھولے لال دم مست قلندر،سہون دی سرکار دم مست قلندر،پیر سید سرخ پوش بخاری جلال دم مست قلندر”۔۔۔۔۔

    سرائیکی لوک گیت درحقیقت سرائیکی صحراء و جنگل میں پیدا ہونے والے پھول ہوتےہیں جو اپنے رنگوں،خوبصورتی اور خوشبو سے ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں۔یہ دھرتی سے جنم لیتے ہیں اور دھرتی واسیوں کے ہاتھوں پھلتے پھولتے ہیں۔اور پھر ایسا سایہ بن جاتے ہیں کہ ان کے سائے میں بیٹھنے والے یعنی اس گیت کو سننےوالوں کی ساری تھکن اتار دیتے ہیں۔یہ دیہاتی لوگوں کے سیدھے سادے دلوں سے نکلے جذبوں کا خوبصورت ترین اظہار اور آنکھوں کے موتی ہیں جو گیت کے خوبصورت بول بن ہار کا روپ دھارجاتے ہیں۔

    ان گیتوں میں معصوم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے رنگ اور ان کی بھولی بھالی امنگوں اور خواہشوں کے سائے لمبے ہوتے نظر آتے ہیں۔جو پوری نہیں ہو سکتیں اور اداس نم دلوں کیلئے سرخ خون رنگ بن جاتی ہیں۔اکثر لوک گیتوں میں کئی مقامات پر زندگی کی سچائیاں ایسی سادگی اور محاورے دار موتیوں جیسی بولی میں جڑی ہوتی ہیں کہ وہ دلوں کو موہ لیتی ہیں۔

    یہ گیت نسل در نسل،پیڑھی در پیڑھی یادوں کے رومانس میں چلے آرہے ہیں۔یہ خوشیوں و محبت بھرے لوک گیت خوبصورتی سے گزرے وقت کی یاد تازہ کرکے آنے والی نسلوں کو پیار بھرا پیغام پہنچا نےکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ہر لمحہ یاد گار بنانےاورہمیشہ دل و دماغ کو تروتازہ رس بھرا رکھتے ہیں۔سرائیکی وسیب میں پیدائش پر اولاد کی خوشی کے سہرےگیت،شادی خانہ آبادی مبارک کے خوبصورت گیت،بیٹی دلہن کی ڈولی کے موقع کےسہرے،جھوک جنج کی واپسی کے گیت،پکھیوں کےگیت،مہندی،جاگے،جھمر،چرخے،چھلے،ڈھولے،ڈوہڑیہ گیت فصلوں کے گیت، درگاہ پیر فقیر کی زیارتوں کے گیت،ساون کی خوش کےسہرے،سگن،فصلوں،کھیلوں،لوری یا لولی،ماہیے،میل میلاپ،ہجر وصال،دھرتی وغیرہ کے گیت رائج ہیں۔ہماری تہذیب و تمدن،رہن سہن،ثقافت کی بھرپور انداز میں عکاسی کرتے ہیں۔

    شہری زندگی میں تو یہ آہستہ آہستہ یہ رسمیں،رواج ریتیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔لیکن دیہاتی سادہ مٹھاس بھری زندگی اور ماحول نے ابھی بھی کسی حد تک ان صدیوں پرانی رسوم و رواج اور ریت روایت نے لوک گیتوں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔ جاری ہے

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    سرائیکی لوک گیتوں کا تعارف اور تاریخی پس منظر
    سرائیکی دھرتی کی لوک روایت میں گہرائی اور خوبصورتی سے بھرپور لوک گیت، جنہیں سرائیکی زبان میں "سہرے” کہا جاتا ہے، دھرتی کی ثقافت، امن، محبت اور فطری جذبات کا اظہار ہیں۔یہ گیت انسان کے جذباتی،سماجی اور روحانی احساسات کے عکاس ہیں۔ سرائیکی لوک گیت درحقیقت ادب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کے مضبوط ستون ہیں، جو دھرتی کی رگوں میں گہرے طور پر پیوست ہیں۔یہ گیت خوشی،غم، محبت، رنج اور امیدوں کا خوبصورت قصہ سناتے ہیں۔ان کی جڑیں وادی ہاکڑہ،سرسوتی اور سندھ کی قدیم تہذیبوں میں ہیں،جہاں موہنجوداڑو، ہڑپہ اور گنویری والا جیسے تاریخی شہروں کی کھدائی سے موسیقی اور آرٹ کے شواہد ملےہیں۔سرائیکی وسیب کے گیتوں کی آوازیں روہی، چولستان، بیابان اور دریاؤں کی سرزمین سے اُبھرتی ہیں، جنہیں سادہ دل لوگ خوشیوں اور غموں کے مواقع پر گا کر اپنی جذباتی وابستگی کا ظاہر کرتے ہیں۔
    پہلی قسط :
    اشرف المخلوقات انسانی سماج میں ہر قوم،قبیلے،دھرتی اور علاقے کے اپنے خوبصورت لوک گیت جن کو سرائیکی زبان میں سہرے کہا جاتا ہے،ایک الگ پہچان اور امن و محبت کا دلفریب بے ساختہ جذبوں کا اظہار ہیں۔یہ درحقیقت ادب،تہذیب وتمدن اورثقافت کے مضبوط ترین تنا آور سرسبز پیلھوں اور پیپل کے درخت کی طرح دھرتی کی رگوں میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔غلام بادشاہ،امیرغریب،کالےگورے کے گھر بچے کی پیدائش،شادی اور موت پر احساسات و جذبات کی نیں کا وجود میں آنا انسانی فطری جبلت ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح جنگل،بیلا،روہی چولستان،بیابان،پہاڑ،دریا اور سمندر کے کنارے خود رو جڑی بوٹیاں کا پیدا ہونا ہے قدرتی عمل ہے۔خوشی و غمی کے موقع پر اظہار محسوسات سے آنکھوں کی مدد آنسوؤں کا باہر نکلنا بشری تقاضاہے۔ تمام انسانوں کے تخیلاتی معیارات،زبانیں،اشکال،بناوٹ،ہیئت سوچنے سمجھنے کے پیمانہ مختلف ہیں۔اسی طرح انسان سماجیات بھی الگ الگ ہیں۔ہر قوم و قبیلے کے رسم ورواج،ثقافت،رہن سہن،زبان،لوک ادب کے انداز بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

    سرائیکی وسیب چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی وسندھ کا خوبصورت راوا،دمان،روہی،تھل پر مشتمل موسیقی و نغمہ سے بےپناہ محبت کرنے والا علاقہ ہے۔آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے دوران پرانے گمشدہ شہروں کی کھدائی سے موہنجوداڑو،ہڑپہ اور گنویری والا سے دریافت ڈاینسنگ کوئین،خوبصورت عورتوں کے زیورات کا ملنا فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔آواز کی مٹھاس ہر ذی روح کی روحانی غذا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک پیارے نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور کو خوبصورتی سے گاکر حمد وثنا پیش کرنے کا حکم ربی تھا۔ان کا سر سنگیت سے گیت کی شکل میں گانے سے کائنات کی ہر چیز جھومتی تھی۔آج بھی بچے کی تخلیق پر خوشی کے اظہار کے لیے سرائیکی خطے میں دادیاں،نانیاں، ماسیاں، چاچیاں،بویاں،،سوتریں،مساستیں،مولیریں،پھپھڑیں،حق ہمسائے،تمام عزیز اقارب چھٹی کے موقع پر سہرے گیت گاکر اپنی خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ سانجھی کرتے ہیں۔لوک ادب جس کو عام طور پر عام لوگوں کا کہا جاتاہے۔

    اس کی ایک خوبصورت شاخ لوک گیت سہرے ہیں۔سرائیکی لوک گیت سہروں کے خزانوں سے مالامال ہے۔لوک گیت دراصل انسانی جذبات کا بےساختہ اظہار کا نام ہے۔لوک گیت انسانی امنگوں، جذبوں ،امیدوں،نا مکمل خواہشات کا اظہار،شعور و تخیل کا خوبصورت گلدستہ ہیں ۔لوک گیت چرند،پرند بلبل اور کوئل کی حسین آوازوں کا پیار بھرا نغمہ ہیں۔مرد عورت کے آپس میں ملاپ و رشتے کی خوشبو ہے۔آزاد اظہار کا مضبوط حوالہ ہے۔آج کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کو پھر سے عروج یافتہ بنانے کے لیے سرائیکی لوک گیتوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

    شاعری کا ایک مصرعہ صدیوں تک گایا جاتا ہے۔لوک سہرا یا گیت ہمیشہ ایک علاقے کی تاریخ،جغرافیہ، ثقافت،تہذیب وتمدن،سوچ وچار،پیغام امن و محبت تصوف کے اس خطے لوگوں کی داخلی و خارجی احساسات کا ترجمان ہوتاہے۔خالص علاقائی صنف نازک ہوتی ہے۔سرائیکی ماہر سماجیات، لسانیات و فریدیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیت کو اس طرح بیان کرتےہیں” یہ سرائیکی دھرتی کے لوگوں کے عقیدے،دکھ سکھ، محبتیں، محرومیوں اور نا مکمل خواہشات و امیدوں کا نام ہے”۔ لوک گیت کا نمونہ "اللہ جانڑے تے یار نہ جانڑے میڈا ڈھول جوانیاں مانڑے۔میں تاں پانڑی بھریندی ہاں جھک دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا”۔سرائیکی لوک گیت میں بچھڑ جانے،موت کی گھاٹی میں جانے والے محبوب کا غم اس طرح گا کر منایا جاتاہے۔
    "گیا رول راول وچ روہی راوے ، نہ یار ملدا نہ موت آوے”

    لوک گیت عموما وہ ہوتے ہیں،جس کے تخلیق کار اجتماعی ہوں۔مگر سرائیکی شعراء کرام نے بھی انفرادی طور سرائیکی لوک گیت سہرے بھی تخلیق کیے ہیں۔جن کو مشہور سرائیکی لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسوی خیلوی،حسینہ ممتاز،ثریا ملتانیکر،مستانہ پروانہ،پٹھانے خان، منصور ملنگی، اللہ ڈتہ لونے والا جیسے نامور سرائیکی فنکار اپنے سر سنگیت فن موسیقی میں لوہا منوا چکے ہیں۔لوک گیت خود سے دل کی حویلی سے دھڑکن بن کر نکلتے ہیں اور پورے سرائیکی وسیب میں خوشبو کی طرح پھیل جاتے ہیں۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر رفعت عباس کی مشہور غزل جس کو خوبصورت آواز میں ریڈیو پاکستان ملتان اسٹیشن سے ترنم سوز گائیکی میں نامور سرائیکی لوک گلوکار سئیں منصور ملنگی نے گا کر سرائیکی وسیب کی اجتماعیت کا عالمی دستاویزی ریکارڈ بنایا۔
    "کیویں ساکوں یاد نہ راہسی اوندے گھر دا رستہ ،ڈو تاں سارے جنگل آسن ترائے تاں سارے دریا”
    ” واہ جو پیار کیتوئی، رول ڈتوئی وچ روہی واہ وہ سجن تیڈے وعدے”۔
    سرائیکی مشہور لوک گیت کے خوبصورت بول سنگر حسینہ ممتاز کی آواز میں ہر عام وخاص کو یاد ہیں۔"رانڑی پٹھانڑی، ڈیراور دی نشانی، ویڑن پرنیا آندا اے رانڑی پٹھانڑی”۔سرائیکی وسیب کے لیے سرائیکی لوک گیت سہرے عظیم ثقافت کے امین ہیں۔

    سرائیکی دانشور ریاض انور کے مطابق ” سرائیکی لوک گیتوں نے سرائیکی خطے کے معصوم لوگوں کے دلوں میں جنم لیا۔گہرے جذبوں نےان کے اندر دکھ درد کی چنگاری کو خوب تاپ دی۔آنسو کے دئیے جل رہے ہیں۔ہلکی مسکراہٹ کی سات رنگوں کی روحانی دھڑکن جھول رہی ہے۔یہ سہرے دوشیزائیں نیم،ٹالہی،شرینہ کے خوشبو دار درختوں کے سائے میں بیٹھ کر چرخہ کاٹتے گاتیں ہیں اور نوجوان پیلوں اور کھجور اکٹھی کرتے وقت گاتے ہیں۔
    پیلو پکیاں وے پیکیاں نی وے
    آچنوں رل یار
    پیلو پیکیاں نی وے
    کئی بگڑیاں ،کئی سایاں پیلیاں
    کئی بھوریاں ،کئی پھکڑیاں نیلیاں

    عالمی مفکر ڈونلڈ کینی کا کہنا ہے” لوک گیت کا بیج انسانی دل سے پھوٹتا ہے،لفظوں کے بے انت پتوں کی صورت پھیل جاتا ہے۔انسان آپنی زندگی میں جو کچھ دیکھتا ہے،سنتا ہے، احساس کو اپنے تخیل کے ذریعے ظاہر کرتا ہے” ڈبلیو پی کر آپنی کتاب "فارم اینڈ سٹائل ان پوئٹری” میں لوک گیت کی "دو قسموں میں پہلی وہ قسم جس میں سوسائٹی وس وسیب کی اجتماعی یادداشت،محرومیوں کا خوبصورت احساس،شناخت کا مطالبہ،رسمیں،ریتیں اور رواج کا خوبصورت اظہار ہو،جبکہ دوسری قسم میں مخصوص فرد یا تخلیق کار کی نویکلی تخلیق کارفرما ہو۔”۔

    بشر کی طرح ہرجاندار مخلوق اپنی خوشی،غم،محبت اور نفرت کےجذبات و احساسات کا اظہار مختلف انداز یعنی آوازوں اور حرکتوں سے کرتی ہے۔انسانی ہسٹری کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب انسان بولنا نہیں جانتا تھا تو اپنے جذبوں کا اظہار لفظوں کی بجائے حرکت و سکنات سے کرتا تھا۔یہی سےلوک رقص جھمر کی تخلیق ہوئی۔وقت گزرنے کے ساتھ انسان نے اپنے محسوسات اور جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا۔آخرکار یہ لفظ گیت بن گئے۔ان گیتوں کی وجہ کسی شاعر کی شعوری کوشش نہ تھی اور نہ ہی ان پر کسی شاعر کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

    سرائیکی شاعر ڈاکٹر خالد اقبال سرائیکی لوک گیت سہرے بارے اپنے بیان میں کہا "جب تک سرائیکی قوم کی مائیں بچوں کو جنم دیتیں رہیں گیں۔سرائیکی لوک سہرے دنیا میں تخلیق ہوتے رہیں گے”۔ان گیتوں میں شاعری کی فنی باریکیوں کی بجائے جذبوں کا اظہار نمایاں ہوتا ہے۔ہمیں کبھی کبھار تو لوک گیتوں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون کون سے بول ان میں کب شامل ہوئے۔ہم صرف ان گیتوں کے ذریعے اپنے من میں اٹھتے ہوئے جذبات،امنگوں اور خواہشات کا اظہار کرتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

    سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگؤیجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیتوں کی چار اقسام لکھیں ہیں۔ پہلی صنف لولی ہے۔جس میں نئے جنم لینے والے بچہ کو ماں اپنی ممتا کے رس بھرے گیت سہرے سے استقبال کرتی ہے۔مثال کے طور پر ”
    "لولی ڈیندی تھیندی ماء واری
    اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری
    لولی ڈیندی ونجاں میں گھولی
    لولی ڈیندی۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوسری قسم میں پورے سرائیکی وسیب کےخوبصورت اجتماعی لوک گیت، اجتماعی یادداشت،رسمیں،رواج، روایات شامل ہیں۔شادی کے موقع پر "سوئی وری” کی رسم۔جب سرائیکی عورتیں جہیز کا سامان دیکھاتیں ہیں اور گیت گاتیں ہیں۔
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں
    چوڑا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈکھیساں یار سجن کوں۔”

    تیسری قسم میں جب کوئی گمنام شخص کسی تجربے سے متاثر ہوکر اپنے جذبوں کا اظہار نمایاں کرے۔پھر یہ احساسات انفرادیت سے اجتماعی کا روپ دھار لیں۔سرائیکی لوک اصناف میں گانمن،سمی، ڈھولا،بگڑو،سندھی وچ ہوجمالو ہیں۔عورت کے نام سے وابستہ صنف ہے۔عشق کا اظہار ہے۔ہیئت میں اس کو ماہیا بھی کہا جاتا ہے۔
    "کوٹھے تے راہ کائنی
    ملاں قاضی مسئلہ کیتا
    یاری لاون گناہ کائنی”

    "کالے بدل پہاڑاں دے
    ڈانگاں دے پھٹ مل ویندے
    بول نہ وسرن یاراں دے”

    چوتھی قسم سرائیکی لوک گیت سہرے کی جس میں مذہبی و روحانی جذبات و عقائد کی ترجمانی ہو۔ٹہر یعنی منقبت۔ مدح،مناجات، معجزہ،مولود، نعت شریف وغیرہ سرائیکی وسوں کے لوگوں کے لیے روحانی آسودگی کا حصول ہیں۔
    جاری ہے۔۔

  • برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    لاہور، پاکستان کے تخلیقی مصنف حسن صدیقی نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ حسن صدیقی کی کرسمس تھیم پر مبنی مختصر کہانی "A Christmas Homeless” کو انگلینڈ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

    کینٹربری کیتھیڈرل نہ صرف انگلینڈ کی ایک مشہور تاریخی اور ثقافتی علامت ہے بلکہ یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے لئے بھی مشہور ہے، جس کی تاریخ اور اہمیت عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔حسن صدیقی کی یہ کہانی، جو انسانیت، ہمدردی اور برادری کے جذبات پر مبنی ہے، کرسمس کے موقع پر کیتھیڈرل کے مختلف حصوں میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش کی گئی۔ اس کامیابی کا یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے، کیونکہ اس سے جنوبی ایشیائی مصنفین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کا پتا چلتا ہے۔

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral
    حسن صدیقی "Twenty Bright Paths” کے مصنف ہیں، جو امید اور استقامت پر مبنی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ان کی مختلف تحریریں کئی عالمی ادبی جرائد جیسے Spillwords Press اور Illumination میں شائع ہوچکی ہیں۔ حسن صدیقی کو ناسا کی طرف سے ایک تعریفی سرٹیفکیٹ بھی مل چکا ہے، اور انہوں نے ورلڈ اسکالرز کپ میں سونے کا تمغہ جیتا۔ علاوہ ازیں حسن صدیقی ایک میگزین "The Female Times” کے بانی ہیں، جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے والا ایک پلیٹ فارم ہے۔

    اس کامیاب نمائش پر حسن صدیقی نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میری کہانی کو کینٹربری کیتھیڈرل جیسے تاریخی مقام پر دکھایا گیا۔ یہ پاکستان کے تخلیقی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک اور مثال ہے۔”
    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

    کینٹربری کیتھیڈرل میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، جو کہ پاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پہچان کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کامیابی نہ صرف حسن صدیقی کے لیے ذاتی فخر کا لمحہ ہے بلکہ پورے پاکستان کے لیے بھی ایک باعثِ فخر موقع ہے کیونکہ یہ عالمی سطح پر پاکستانی ادب اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر دانی کی مثال ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جنوبی ایشیاء کی آوازوں کو عالمی ادبی محافل میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ایشیا کا لیڈر بنے گا ۔احسن اقبال

    وادی تیرا، خوارج کےجنسی تشدد کے باعث ساتھی دہشت گرد کی خودکشی

    حسن صدیقی کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم سب کو خواب دیکھنے کا حق ہے، محنت کرنی چاہیے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔ یہ لمحہ نہ صرف حسن صدیقی کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے ،حسن صدیقی کی کہانی "A Christmas Homeless” کی کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش پاکستان کے لیے ایک شاندار کامیابی ا ورپاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کا مظہر ہے یہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا پیغام بھی ہے کہ محنت، لگن اور خوابوں کی تکمیل کے ذریعے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    حسن صدیقی سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے.
    imhassansiddiqui12@gmail.com

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    دوسری وآخری قسط۔
    پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے شاید اس وجہ سے اپنے پی ایچ ڈی(PhD) مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” منتخب کیا۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں نے پورے سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں دمان و تھل کے قصولیوں کے قصوں پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔لوک قصہ دراصل انسانی عروج و زوال کی تاریخی دستاویز ہے۔حق سچ، شر و خیر میں فیصلہ کرنے کا عملی مظہر ہے۔نصیحت و وصیت کا عملی نمونہ ہے۔قصہ گوئی کا خوبصورت فن اس دن سے شروع ہے، جب سے قوت گوئی کا آغاز ہوا۔لوک قصہ میں امن و رواداری کا پیغام ہے۔لوک دانش و تربیت کا بہترین نصاب ہے۔آرٹ کا شاندار اظہار ہے۔سرائیکی لوک قصہ سرائیکی وسیب کے قصولیوں کی حکمت و ست کا نچوڑ ہے۔مقالے کے نتارا سمیت سات ابواب ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    پہلا باب "سرائیکی لوک قصے دی لوڑ تے ایندے سماجی اثرات "جس میں سرائیکی قصے کا آغاز، قصوں کی اقسام، قصے و کہانی کے بارے ماہرین کی رائے کے ساتھ قصے کے سماجی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔لوک قصے میں انسانی شعور، ماضی، حال اور مستقبل کی روشن ضمانت ہے۔مقالے کا دوسرا باب "روہی چولستان دی تاریخ” ہے۔جس میں قدیم چولستانی مورخین کی آراء میں صحراء چولستان کے سیاق وسباق کو پڑکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔تیسرے باب ” چولستانی لوک کہانیاں دے ہر قصے دا فکری ویورا ” ہے۔احمد غزالی/ نسیم اختر کے ہر قصے کا فکری تجزیہ کیا گیا ہے۔چوتھے باب ” قلعہ ڈیراور وچ وسدے لوکاں دے قصے ” شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،محقق محمد الطاف خان ڈاھر (تھیسز سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین خان سنڈھر)کے ایم فل تھیسز میں موجود ہر قصے کا بھی فکری تجزیہ شامل ہے۔

    پانچویں باب”لوک قصے تحصیل لیاقت پور دی حدود وچ موجود زبانی قصیں دی گول” کلید عمر محقق ایم فل تھیسز (نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز خان بلوچ چیئرمین شعبہ سرائیکی) شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ہر قصولی کے قصے کا تجزیاتی فکری مطالعہ شامل ہے۔پی ایچ ڈی مقالے کا اہم باب چھٹا ہے۔جس کا عنوان ” سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” ہے۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں کے اثرات کو دوسرے سرائیکی وسیب میدانی، تھل و دمان کے قصولیوں کے قصوں پر اثرات کو ان پہلوؤں سے تجزیاتی و تقابلی تحقیق سے ثابت کیا گیا۔قصے کےعنوانات کے حوالے سے، قصے کے آغاز سے،مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے حوالے سے، ہیرو،شاہی کرداروں، مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے،گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے، فانا اور فلورا، آکھانیں/ضرب المثل،دعائیں،ثقافت، محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سے شخصیات، شئیں،جگہوں کے حوالے سے،متن و فکری سانجھ کے حوالے سے سرائیکی چولستانی قصوں کے اثرات کا سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں کے قصولیوں کے قصوں پر لیا گیا ہے۔

    آج بھی جدید عہد میں چولستان جیپ ریلی،چولستان یونیورسٹی کے اثرات تھل جیپ ریلی و تھل یونیورسٹی پر واضح ہیں۔روہی چینل،روہی آٹوز، روہی ٹرانسپورٹ سروس اب سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں نظر آرہی ہے۔چولستانی فنکار ہر جگہ اپنے اثرات مرتب کررہےہیں۔ویندے وگدے، ویندے وگدے،واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے۔خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ،وہ تاں صرف زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا، اصل بادشاہ تاں صرف آپ اللہ اے۔۔متنی ٹوٹے جو ہمیں چولستانی لوک قصوں میں بار بار ملتے ہیں۔یہی ایک جیسا ٹیکسٹ ہمیں دوسرے سرائیکی قصوں پر بطور اثرات نظر آتے ہیں۔لوک قصے کی جدید ٹیکنالوجی ہمیں فلم،تھیٹر، ڈرامے،فنکشنز میلوں اور مشاعروں میں نظر آرہی ہے۔

    مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر نے آخر میں اپنے تھیسز کی ریکمنڈیشنز/کمنٹس/سفارشات جو مرتب کیں ہیں،آنے والے نئے ریسرچرز کے لیے بہترین معاون ثابت ہوگیں۔میرے نزدیک یہی مقالے کا محاکمہ/نتائج یعنی حاصل مقاصد بھی ہیں۔سفارشات Comments/Recommendations قصہ بنیادی طور پر انسانیت کی اصلاح و تربیت کے لیے ایک مضبوط اور سایہ دار درخت کی طرح نسلاں کے لیے پھل بھی ہے چھاؤں بھی ہے،جس طرح تپتے صحراء میں جال کا گھاٹا درخت پیلھوں پھل اور گھاٹی چھاؤں دونوں کا باعث نعمت خداوندی ہے،جس کی چھپر چھاؤں کے نیچے ضعیف نحیف بڈھڑے قصولی اپنا ما فی الضمیر قصے کی شکل میں بیان کرتے ہیں ۔ان کی اور ان کے پاس قصوں کے خزانے کی بقاء، حکمت ودانش کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

    چولستانی قصےگو اس سے پہلے جو اپنے قیمتی ادبی خزانے کے ساتھ دنیا سے پردہ کرجائیں،فوری جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ان کی اپنی آواز وچ قصوں کو ریکارڈ کرکے محفوظ کرلیا جائے ۔چولستانی قصولیوں کی طرح تھل،دمان سمیت پورے سرائیکی وسیب کے قصولیاں کو مراعات یافتہ بنایا جائے۔ان کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لئے فوری انفراسٹرکچر و مالی امداد کااعلان کیا جائے تاکہ یہ لوگ اقتصادی آسودگی کے ساتھ سرائیکی قصوں کو ہم تک پہنچا سکیں۔ہر چولستانی قصولی دراصل ہک آرٹسٹ ہے، اس لیے ان کے سماجی مقام و مرتبہ کے لیے قصولیوں کے درمیان مقابلے کرائے جائیں ۔ایوارڈز،میڈلز وظائف مقرر کیے جائیں۔چولستانی قصےگو اور ان کی نئی نسل کے لئے اعلی تعلیم وتربیت اور صحت کے ماڈل ادارے تعمیر کیے جائیں ۔پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں چولستانی قصولیاں کے بچوں کوٹہ مقرر کیا جائے۔مال مویشی و جڑی بوٹیاں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔

    روہی چولستان کا خطہ وادی ہاکڑہ چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن کا آمین ہے۔قلعہ ڈیراور،پتن منارہ،گنویری والا کے آس پاس قصولیوں کی فلاح وبہبود کے لیے کلچرل اینڈ آرکیالوجی سوسائٹی ریسرچ سنٹرز تعمیر ہونے چاہئیں،تاکہ مقامی لوک ادب،وذڈم، حکمت و دانش کو فروغ دیا جاسکے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، چینلز ، آگاہی سمینار میں آن ائیر قصولیوں کے قصے چلائے جائیں۔ہفتہ وار پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے ۔ تاکہ نئی نسل کو اپنےادبی ورثے کے ساتھ شناخت ہوسکے۔چولستان جیپ ریلی و تھل جیپ ریلی کے موقع پر چولستانی و تھلوچڑ قصہ گو کے فن کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکاری سطح پر انتظامات کئے جائیں۔ان افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے انفرادی وظائف مقرر ہونے چاہئیں تاکہ چولستانی قصہ گو اور مقامی دستکاری کی صنعت کی بہتری کیلئے مالی امداد ہوسکے۔

    قومی و صوبائی سطح کی نصاب سازی میں چولستانی قصولیوں کے قصوں کو شامل کیا جائے۔سرائیکی چولستانی قصولیوں سمیت تھل،دمان پورے وسیب کے قصولیوں کے حقوق کے تحفظ کی آگاہی کے لیے نیشنل و انٹرنیشنل سطح سہ ماہی و سالانہ سمینار،اجلاس،مشاعرے وغیرہ کا انعقاد ہونا چاہیے۔روہی چولستان کے ادیب،دانشور،شاعر قصولیوں کے قصوں کے اثرات کی بدولت چولستان یونیورسٹی و چولستان جیپ ریلی سے تھل جیپ ریلی،تھل یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا ہے،ہر یونیورسٹی میں چولستانیات شعبے کھولیں جائیں۔ روہی چینل، روہی آٹوز، روہی بس سروس پورے سرائیکی خطہ سمیت پورے پاکستان میں نظر آنا خوش آئند ہے۔فنون لطیفہ کے شعبوں میں روہی چولستان آرٹ بھی شامل کیا جائے۔

    چولستانی سرائیکی قصولیوں کے قصوں نے جو اثرات سرائیکی لوک قصہ گو کے قصوں پر مرتب کیے ہیں، وہ پہلو یہ ہیں۔عنوانات کے اعتبار سے،قصے کے آغاز کے حوالے سے، مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے اعتبار سے،ہیرو، شاہی کرداروں اور مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے، گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے ، فانا، فلورا کے حوالے سے،آکھانیں،دعائیں،ثقافت،محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سےشخصیات،جگہوں،شئیں کے اعتبار سے،متن اور فکری سانجھ کے حوالے سے اثرات پر آنے والے نئے ریسرچرز ایک ایک پہلو پر ایم فل، پی ایچ ڈی مقالے لکھیں گے۔

    چولستانی قصہ گو میدا رام،سمارا ، مجید مچلا، مہر غلام رسول،احمد غزالی کے قصوں کے اثرات طاہر غنی (تھل)، ملک عبداللہ عرفان (میدانی)، ملک آصف سیال (دمان) کے قصوں پر واضح ہیں۔سرائیکی مہان صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا اٹھارہ سال روہی چولستان میں گزارنا،انہاں کے آفاقی کلام میں روہی،چولستان کا قصہ موجود ہے۔کلام میں موجود چولستانی بودوباش کو عام کرنے کے لیے عالمی سطح پر ریسرچ انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔
    ختم شد

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    پہلی قسط
    سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں میٹھی زبان کا اعزاز سرائیکی زبان کو حاصل ہے۔ جس طرح آم کو پھلوں کا بادشاہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے، اسی طرح سرائیکی زبان میں محبت و احترام جیسی خوبصورت روحانی مٹھاس آم، کھجور، شہد، گڑ کی رس بھری ہوئی ہے۔ سات دریاؤں کی سرزمین سرسبز خطہ، روحانیت، معدنیات اور زراعت کی دولت سے مالا مال ہے۔

    ماں اور مادری زبان سے بےپناہ محبت اور عقیدت فطری تقاضا ہے۔ ریسرچ میتھڈالوجی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماں بولی میں تعلیم و تربیت، علم و ادب کے فروغ سے شرح خواندگی میں اضافہ ممکن ہے۔ ماں کی گود ہی انسانی شعور کی بیداری کی پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ تحقیق و تنقید کی بدولت ہمیشہ قومی تعلیمی ادارے اپنا نام روشن کرتے ہیں۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان کی تعمیر و طرز اور تعلیمی ماحول کو قاہرہ، مصر کی یونیورسٹی الازہر کے طرز پر ارتقائی اعتبار سے بنایا گیا تھا۔ تعلیم و تربیت ہی قوموں کی ترقی و خوشحالی کا راز ہے۔ مادری زبانوں میں علم کا حصول درحقیقت انسانی آرٹ اینڈ کلچر، تہذیب و تمدن، تاریخ، تصوف، رسوم و رواج کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان اپنی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

    قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، روہی چولستان کے ساتھ وادی سندھ میں سرائیکی زبان صدیوں سے اپنا ادبی، سماجی، ثقافتی، شعوری، تاریخی، تنقیدی و تحقیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مادری زبان ہی دراصل انسانی عروج کا تاج ہے۔ ہر آدمی اپنا ما فی الضمیر آسان اور مؤثر ترین انداز میں صرف ماں بولی میں بیان کرسکتا ہے۔

    قصہ ہر زبان کے شاعری و نثری ادب کا نوبل قیمتی اثاثہ ہے۔ مادری زبان میں ابلاغ ایک فطری اور آسان ترین عمل ہے۔ رب العزت خود قصہ گو ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سورہ "القصص” درحقیقت ادب کی صنف قصہ کو عروج بام بخشنے کا مقصود ہے۔ اس میں بے شمار و بے پناہ موضوعات کا خزانہ موجود ہے۔ قصہ لوگوں کے لیے وصیت، رشد و ہدایت کے ساتھ خوبصورت تفریح کا باعث بھی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے نے اپنے وسیب کو علم، دانش و تربیت کا بہترین نصاب مہیا کیا ہے۔ اگر دنیا سے کتابیں ختم ہوجائیں تو قصے زبانی طور پر زندہ رہیں گے۔ وہ نسل در نسل، سینہ بہ سینہ، پیڑھی در پیڑھی اپنی تخلیق ادب کو دنیا تک پہنچاتے رہیں گے اور پھر کتابیں اور لائبریریاں وجود میں آئیں گی۔ لکھی ہوئی تحریر ہمیشہ اپنا لوہا منواتی ہے۔

    شاید دنیا کے پہلے ادیب نے کونی فارم رسم الخط میں کوئی قصہ ہی لکھا ہوگا، جو دنیا کی 6500 سال پرانی میسوپوٹامیا، سومیری تہذیب و تمدن کی نشاندہی کرتا ہے۔ مصری اہرام اور سوڈانی اہرام دریائے نیل پر قدیم تاریخی آباد شہروں کی گواہی ہیں۔ اردن کے پرانے کھنڈرات اور محلات کا ثبوت ہزاروں سالوں کی انسانی منظم معاشرے کا قدیم حوالہ ہے۔

    آثار قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہورہا ہے کہ وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں 6000 سال پرانی وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، موجودہ روہی چولستان ہے۔ دریائے ہاکڑہ، جسے دریائے گھاگھرا، گھگھر، گھارا، یا دریائے سرسوتی بھی کہا جاتا ہے، کا ذکر دنیا کے قدیم ترین ویدک ادب میں موجود ہے۔

    تقریباً ساڑھے چھ سو سال پرانی قصہ گوئی کی تاریخ کے مطابق، جب دریائے ہاکڑہ نے اوچ شریف میں سیلاب کی صورت میں ورلڈ ہیریٹیج مقبرے بی بی جند وڈی، حلیم و نوریا کے آدھے حصے کو نقصان پہنچایا، تو حکم ربی اور کرامت ولی کامل حضرت شیر شاہ سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ سے دریائے ہاکڑہ واپس چلا گیا اور شہر مزید تباہی سے محفوظ رہا۔

    "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کے مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر ہیں، جبکہ نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو، سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) ہیں۔ شعبہ سرائیکی نے 25 ستمبر 2024ء بروز بدھ اوپن ڈیفنس میں کامیابی پر پی ایچ ڈی ڈگری کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

    بیرونی ممتحن پروفیسر ڈاکٹر مقبول حسن گیلانی، سابق پرنسپل گورنمنٹ صادق ایجرٹن گریجویٹ کالج بہاولپور اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن، ملتان کیمپس تھے۔ ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر نے ایم اے سرائیکی میں تھیسز بعنوان "احمدپور شرقیہ دی سرائیکی ادبی گوجھی” پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو کی زیر نگرانی 2007ء تا 2009ء مکمل کیا تھا۔

    محقق ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا انتساب اپنے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ کے نام کیا ہے۔ والدین سمیت دنیا کے تمام قصہ گوؤں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    قصہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب واقعہ، حادثہ، کہانی، کتھا، یا داستان ہے۔ سرائیکی وسیب کا خوبصورت جغرافیہ قدرتی حسن سے مزین ہے۔ دھرتی کے باکمال حصوں میں میدانی، پہاڑی، تھلوچڑ اور روہی چولستان واضح ہیں۔ سرائیکی علاقہ اپنے منفرد تہذیب و تمدن، ثقافتی و ادبی ورثے کا مالک ہے۔ یہاں کے قدرتی وسائل میں معدنیات، دستکاریاں اور مال مویشی ملکی معاشی استحکام اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اس سال سرائیکی زبان و ادب کو انٹرنیشنل لینگویجز میں شامل کیا گیا ہے۔ موجودہ عہد کے آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیق میں ملنے والے صحرائے چولستان کے مختلف مقامات سے شواہد کے مطابق، وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن (روہی چولستان، گنویری والا، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور وغیرہ) کو وادی سندھ تہذیب و تمدن (ہڑپہ و موہنجوداڑو) کی ماں مانا گیا ہے۔

    ہمیشہ ماں اپنی اولاد پر اپنی تہذیب و تمدن اور تربیتی اثرات مرتب کرتی ہے۔ سرائیکی زبان میں قصہ گوئی ایک قدیم فن ہے۔ شاعری اور نثری ادب میں سرائیکی قصہ اپنی پوری روشن دلیل کے ساتھ نمایاں ہے۔
    جاری ہے۔۔۔

  • کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟
    تحریر :ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    ہر سال اقوام متحدہ کی طرف سے 21 فروری کو مادری زبانوں کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے دنیا میں دن منایا جاتا ہے۔مادری زبان کیا ہے؟ اس کی سماج میں کیا حیثیت ہے؟ اس کا انسانیت کی بقاء و خوشحالی میں کوئی کلیدی کردار ہے؟چند سوالات کی تحقیقات کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کائنات کی تخلیق میں مرکزی اہمیت موضوع انسان ہے تو پھر لسان کی بدولت انسان عظیم سے عظیم تر، فن سے فنون لطیفہ تک ہر شے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ہر چیز کی سجاوٹ زبان کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔نامعلوم سے معلوم تک ، زمین سے آسمان تک کا ناقابل تسخیر سفر زبان کا مرہون منت ہے۔جس کو لینگویج بھی کہا جاتا ہے۔

    علم وادب کے سارے خزانوں کی چابی مادری زبان ہے،جس کو عرف عام میں ماں بولی سے بھی جانا جاتا ہے۔زبان سے ادب اور ادب سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔دنیا کے پہلے انسان نے ماں بولی میں اپنے اندرونی و بیرونی احساسات و جذبات کو پرکھا ہوگا۔دنیا کے تمام مذاہب کی روحانی اخلاقی اقدار کی کتابوں میں مادری زبانوں کے نمونے نمایاں ہیں۔قرآن مجید مختلف زبانوں اور قبائل کے گروہ سے انسانوں کی شناخت کرتاہے۔آدمی اپنی مشکل کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ مادری زبان کا سہارا لیتا ہے۔جو لوگ مادری زبانوں سے محبت نہیں کرتے دراصل وہ لوگ اپنے انسان نہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں۔احترام آدمیت ہی اصل میں محبت واتحاد انسانیت ہے۔درخت اگر جسم ہے تو پھل یعنی رس اس کی روشن روح ہے۔

    ہر عہد میں ہر نبی نے لوگوں کو ان کی ماں بولی میں فلسفہ حقانیت و واحدنیت کی تلقین کرتے رہے۔دنیاکی خوبصورتی و خوشحالی عورت سے مزین ہے۔عورت جس کا حسین ترین چہرہ ماں کی شکل میں ہے۔آج بھی بچہ اپنی ممتا کی گود میں سکون واطمینان اور مکمل اعتماد و آزادی محسوس کرتا ہے۔خود اللہ کریم نے انسان سے محبت کے پیمانے کو ماں سے ستر گناہ زیادہ محبت سے تشبیہ دی ہے۔اگر ماں سے بچے کی تہذیب وتمدن اور معاشرہ میں اخلاقیات کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو دراصل ماں سے محبت اور روحانی فیض مادری زبان کے بحر بیکراں سے ممکن ہے۔ماں باپ کا احترام اصل میں ماں بولی کے احترام کا عملی آغاز ہے۔ماں کا دودھ اور اس کی شہد جیسی مٹھاس بھری تربیت ہر ایک کو دنیا کا کامیاب تجربہ کار انسان بناتی ہے۔انسان کے بہترین فہم وشعور کی پہلی درسگاہ ماں کی لوری اور ماں بولی ہی ہے۔یہ وہ شیشہ ہے جس میں انسان کی علمی،ادبی،روحانی،سماجی،تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ہر ممکن چیز نظر آتی ہے۔بچہ دل و دماغ میں سب سے پہلے ماں کی خوبصورت فکری خوشبو بھری آواز سے اپنے آپ کو معطر کرتاہے۔

    دنیا کی کسی بھی لسان یا زبان سے نفرت کا مطلب انسان کے وجود اور احترام انسانیت کے فلسفے کو جلانے کے مترادف ہے۔انسان کے اپنے ضمیر کی ہر بات کو یقینی آسان ترین طریقے سے صرف مادری زبان میں ہی ابلاغ کرسکتا ہے۔مادری زبان آپس میں اتحاد،یکجہتی اور احساس محبت کو فروغ دیتی ہے۔حسد اور نفرت کوختم کرتی ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ خوشحالی اور تعمیر نو کا سبب بنتی ہے۔پاکستان ایک کثیر خوبصورت زبانوں اور ثقافتوں کا محبتوں بھرا اعجاز و گلدستہ ہے۔پاکستان کی تمام مقامی زبانیں قومیت و اتحاد کا مضبوط ترین چہرہ ہیں۔ہر زبان کا فروغ علم و دانش کے اثاثے میں اضافے کا باعث ہے۔ہر ماں مقدم و محترم ہے۔اسی طرح ہر ماں بولی بھی مکمل عزت و توقیر کی علامت ہے۔
    انسانیت کے ورثے کی کنجی مادری زبان ہے۔

    پاکستان میں اردو، سندھی،پنجابی،سرائیکی،پشتو،بلوچی ،براہوی،ماڑواری،ہندکو،پوٹھوہاری، بلتی ،پہاڑی وغیرہ میری مادری زبانیں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور روحانی فیضان کا حصول ہیں۔مادری زبان ہی آسان ترین عملی مثالی علم و تربیت کے ساتھ اصلی آگاہی کا زینہ ہے۔ہر زبان کا شاعر ، ادیب اور فنکار اپنی مادری زبان کا اعلی ترین مہذب نمونہ ہے۔جس طرح باغ میں ہر پھول کی اپنی ہیئت اور خوشبو مسلمہ ہے۔ اس طرح ہر ماں بولی کا اپنا مکمل وجود فوک وزڈم ہے۔

    ماہرین لسانیات و سماجیات کے ساتھ میڈیکل سائنس بھی اب مادری زبان کی شناخت،حقیقت اور عرفان وبرکات کو مان چکی ہے۔جس ملک و قوم نے اپنی مادری زبانوں کی عزت و عظمت کو سمجھا اور جانا اس نے دنیا میں راج کیا بھی ہے اور کر رہیں ہیں۔اگر تمام سائنسی علوم کو مادری زبانوں میں منتقل کر دیا جائے تو اعلی ترین ہنرمند افراد پیدا ہوں گے۔جو ناصرف اپنے ملک و قوم کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ترقی و خوشحالی کا قیمتی سرمایہ ثابت ہو ں گے۔

    تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ لوگوں کی بھلائی ، فلاح، روحانی و معاشرتی اقدار میں ماں بولی کا ہی کامیاب راستہ اپنایا۔سرائیکی زبان کے مہان صوفی بزرگ شعراء کرام میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی ،حضرت خواجہ غلام فرید ،جدید رفعت عباس،سندھی زبان کے مہان صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی،حضرت سچل سرمست ،بلوچی زبان حضرت مست توکلی، پشتو رحمان بابا ،خوشحال خان خٹک، پنجابی شاعر حضرت وارث شاہ رحمتہ اللہ علیہ سب نے مادری زبانوں میں اظہار رائے اور امن و محبت کا پیغام دیا ہے، انسانی خوشی اور غم کا بہترین مدعا ماں بولی ہوتی ہے۔ سرائیکی علاقے میں سرائیکی یونیورسٹی اور سرائیکی بنک کے قیام سے وسیب کے لوگوں میں خود اعتمادی اور کلچرل ادبی سرگرمیوں میں خوبصورت اضافہ ہوگا-ضلع چترال پاکستان سمیت دنیا بھر میں کثیر اللسانی خطہ ہونے کا خوبصورت اعزاز بھی رکھتاہے۔

    دنیا کے نوبیل یافتہ ماہر سماجیات ولسانیات نوم چومسکی زبانوں کی اہمیت کو سائنسی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دل اور دماغ کے درمیان مضبوط ترین پل راستہ زبان ہے۔انسانی جسم میں لسان کو مرکزی کردار سمجھا جاتا ہے۔مادری زبان کی افادیت یہ ہے کہ فطرت اس کی خود حفاظت کرتی ہے۔لیکن اگر اس میں بار بار رکاوٹ ڈالی جائے تو متروک ہونے کا شدید ترین خطرہ نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کسی بھی انسان کی مادری زبان سے نفرت دراصل اس انسان کو غلام اور حقیر تر بنانے کی گھٹیا ترین کوشش ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں براہوی 1 فیصد ،ہندکو 2 فیصد، بلوچی 3، پشتو 8 فیصد،اردو انگلش 8 فیصد، سرائیکی 10 فیصد ،سندھی 12 فیصد جب کہ پنجابی 48 فیصد بولی جاتی ہے۔ لیکن 2010ء میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔سرائیکی کو آم و شہد کی طرح دنیا کی میٹھی ترین بھی کہا جاتا ہے۔سرائیکی اب دنیا کی عالمی زبانوں کےگروہ میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔زبانوں اور ثقافتوں کا تنوع آپس میں امن، اتحاد ویکجہتی کی فضا قائم کر تا ہے۔

    مادری زبان کا تحفظ انسان کی حکمت و دانش کو محفوظ کرنے کا سبب ہے۔زبان بھی عروج و زوال کے مراحل سے گزرتی ہے۔کسی بھی زبان کو اگر سرکاری سرپرستی حاصل نہ ہو تو وہ زبان ختم ہو سکتی ہے کائنات کی تخلیق بھی زبان مخصوص آواز کن فیکون سے ہوئی۔پاکستان میں زبانوں و لہجوں میں باگری،آیر، بدیشی، کھوار، کبوترا،فارسی،گرگلا،لواری، کچھی، کلامی،ماڑواری،سانسی، دری، لواری کھیترانی ،گجراتی، بروشسکی، شینا، توروالی، پھالولہ، اوڈ، ارمری، اوشوجو، واگھری، واخی، یدغہ کاٹی، کشمیری بھایا ،جنداوڑا، کوہستانی، چلیسو بلتی وغیرہ کو شدید ترین خطرات کا سامنا ہے۔اگر ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے تو پھر کیا ایک لسان مادری زبان کا تحفظ پوری انسانیت کے تحفظ کے برابر نہیں ہے۔

    ہمیں بھی سوئٹزرلینڈ کی طرح ہر زبان کو قومی زبان کا درجہ دینا چاہیے۔انسانیت کے عظیم ترین علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں سب کو بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔21فروری کا دن دراصل مادری زبان کی برکات و خلوص بھرا محبت انسانیت کا دن ہے۔ہر خوبصورت پرندے کی آواز کی انفرادیت اصل ہر لسان کے الگ وجود کے تسلیم و رضا کا فطری آسان ترین نمونہ ہے۔انسانیت ادب کی تخلیقات مادری زبان سے ممکن ہے۔اس کے فروغ کے لیے ہم سب کو عملی طور کام کرنے کی ضرورت ہے۔میرا حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ ہے کہ مادری زبانوں کے فروغ کے لیے ہر تحصیل سطح پر انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔پرائمری سے میٹرک تک کی تعلیم کا ذریعہ مادری زبان ہونا چاہیے۔سرائیکی وسیب میں سرائیکی زبان کو فوری طور پرائمری سے میٹرک تک لازمی سبجیکٹ کے طور سکولوں میں پڑھائی جائے۔

    پاکستان میں سب سے زیادہ شعراء کرام سرائیکی زبان وادب کے ہیں۔سرائیکی مضمون کو سی ایس ایس اور پی ایم ایس امتحانات میں فوری شامل کیا جائے۔ سرائیکی سبجیکٹ کے عملی فروغ کے لیے سکولز ٹیچرز آسامیاں پیدا کی جائیں۔سرائیکی میٹرک و انٹرمیڈیٹ کلاسز کی کتابوں کی PTCB سے فوری چھپائی کرائی جائے۔اب الحمدللہ سرائیکی ایف اے فرسٹ ائیر کتاب حکومت پنجاب نے چھاپ کر بہترین تاریخی کام کیا ہے ۔تمام صوبوں میں باقی مضامین کی سرائیکی مضمون کو بھی فوری شامل نصاب کیا جائے ۔ سرائیکی لٹریری کلچرل، سرائیکی بنک و سرائیکی یونیورسٹی جیسے قومی اداروں کے فوری قیام سے سرائیکی خطے میں شعور ،شرح خواندگی ،روحانی، معاشی،سماجی اخلاقیات کے ساتھ ثقافتی ورثے میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ علمی، ادبی سرگرمیوں کو فروغ ملےگا۔

    مادری زبان انسان کو دلیر، آزاد، مضبوط ترین اور کامیاب تجربہ کار بناتی ہے۔مادری زبان کی بدولت آدمی میں خوداعتمادی اور ہنرمندی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔قومی اسمبلی و سینٹ میں اردو، انگلش کے ساتھ سرائیکی،پنجابی،سندھی،بلوچی،پشتو وغیرہ کوبھی سوئٹزرلینڈ کی طرح فوری طور پر تمام مادری زبانوں کوقومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔اس سے آپس میں امن،ثقافت،محبت واتحاد،یکجہتی اور استحکام پاکستان کے فلسفے کو فروغ ملے گا۔پاکستان تاریخی،روحانی، ادبی،تعلیمی،جغرافیائی ، معاشی،معاشرتی،سیاسی،علاقائی اور اخلاقی اقدار میں مضبوط ہوگا۔

    کیا حال سناواں دل دا،کوئی محرم راز نہ مل دا ( خواجہ فرید)

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی قصے، جو ماضی میں نسلوں کے شعور کو جلا بخشتے رہے، آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ سرائیکی زبان و ادب کے نامور محققین کے مطابق، یہ قصے سرائیکی وسیب میں ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں۔ قصوں نے انسانیت کو شرافت، صداقت، اور دیانت کے اصولوں پر قائم رہنے کا درس دیا ہے۔ سرائیکی لوک قصے ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ انسانی زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے۔
    چوتھی و آخری قسط
    اب ہم قصےکتابوں،انٹر نیٹ،،فلموں،ڈراموں،تھیٹر،سینما گھروں،ویڈیو گیمز اور ریڈیو کے ذریعے نہ صرف سنتے ہیں بلکہ دیکھتےاور محسوس بھی کرتے ہیں،گویا قصے کے ہم خود زندہ جاوید کردار ہیں۔خود قصے کی دنیا میں جی رہے ہوں۔ یہ سب کچھ "فکشن” افسانوی ادب کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس طرح قصہ گوئی کا فن آج بھی زندہ ہے۔اور نئی نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔قصوں کی کی داستان نے انسانیت کی مشترکہ آواز کے طور پر حضرت انسان کے ارتقاء میں ایک بنیادی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ قصے نےانسان کی زبان،ادب،شعور، فنون لطیفہ، اخلاقی اقدار،سلیقہ،ریتروایت،علمی،روحانی،شناخت،ثقافت اور سوسائٹی،قوم و ملک کی تشکیل نو میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہےگا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    قصولیوں کی پہلی ادبی بیٹھک ہی انسانوں کی پہلی یونیورسٹی کہلائی۔جہاں سے علوم کی فنی مہارتوں کے سیکھنے اور تعلیمی تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ماں کی گود میں بچہ سکون واطمینان قلب کا خوبصورت پہلاں مٹھاس بھری آواز میں قصے کے الفاظ ہی سنتا ہے۔قصے نے انسان کی سوچ کو پروان چڑھایا،تخلیقی صلاحیتوں کو تقویت بخشی اور تاریخ کو محفوظ کیا۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع سے بھریل لوک قصے ہی اپنی منفرد روایت اور پہچان رکھے ہوئےہیں۔انسانوں کےمشترکہ تجربات ومشاہدات ہم تک مختلف انداز میں قصے کی بدولت پہنچےہیں۔مثلاً، یونانی دیوتاؤں کی قصے،جہاں دیوی دیوتاؤں کو انسانوں کی طرح ہی جذبات اور کمزوریاں حاصل تھیں،ہندو متھالوجی و فلسفہ کے قصےجو روحانیت اور کائنات کے رازوں پر زیادہ زور دیتے ہیں،افریقی لوک قصے جن میں جانور اکثر انسانی کردار ادا کرتے ہیں اور اخلاقی سبق دیتے ہیں۔جاپانی تہذیب وتمدن سے جڑے لوک قصےجو فطرت اور انسان کے رشتے کو ایک مختلف تناظر میں پیش کرتے ہیں۔عبرانی و عربی زبان کے مہان کلاسیکل لوک قصے جیسا کہ "الف لیلہ ولیلہ(ایک ہزار ،ایک راتیں)” یہبادشاہوں،ملکہ،شہزادیوں،ملوک زادیوں،وزیروں،غلاموں اور سحر و جادو کے دلچسپ قصے جو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں۔

    تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    چائنیز وذڈم سے مالا مال قصے، جس میں ڈریگن اور اژدہاؤں کا ذکر ہے یہ طاقت،ترقی،خوشحالی اور قدرتی قوتوں کی علامت ہیں۔اہل فارس کی روحانی کرامتوں کے قصے،نیز خواجہ غلام فرید کی سرائیکی شاعری، کنفیوشس،شیخ سعدی،رفعت عباس کی تعلیمات پر مبنی حکایتیں جو ہمیں اخلاقیات اور حکمت سکھاتی ہیں۔یہ مختلف سلیقے،انداز اور نقطہ نظرہمیں کامیاب حیاتی گزارنے اور کائنات کے پر اسرار رازسمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قصے صرف تفریح نہیں بلکہ کسی قوم کی حقیقی معنوں میں میری سوچ کے مطابق تہذیب وتمدن، تاریخ، ثقافت کا آئینہ بھی ہوتےہیں۔جو ان کی سوچ،تربیت، عقائد،رسوم و رواج روایات اور ادب و فکری علوم کو بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں۔یہ مختلف انداز اور نقطہ نظر سے ہماری رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

    مقامی سرائیکی قصوں کی روایت نے انسان کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور دنیا کو سمجھنے کا ایک زبردست ذریعہ عطاء کیا ہے ۔قصے کیا ہمیشہ زندہ رہیں گے؟۔جی ہاں، جب تک دنیا ہے، امید ہے، محبت ہے اور اس کی رنگولی ہے قصے بھی زندہ رہیں گے ۔قصے عظیم مخلوق حیوان ناطق انسانوں ایک دوسرے سے رشتہ جوڑنے اور معاشرہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں ہیں اور کرتے رہیں گے۔مگر دوسرے رخ سے انہی قصوں کی وجہ سے آپس میں جنگیں،لڑائیاں،نفرتیں اور سوسائٹی میں توڑ پھوڑ اور خون خرابا کی نوبتیں سامنے آئیں ہیں۔مگر ہمیشہ قصے کے حقیقی نتائج و تعلیمات فلسفہ امن و تربیت،کامیابی،بھلائی،فلاح انسانیت اور رشدوہدایت ہی رہے ہیں۔

    قصوں میں شر کی شکست ہی احترام آدمیت کی بقاء ہے۔قصہ مثبت اثبات و اثرات کا خوبصورت تذکرہ ہے۔نیکی و نصیحت کا باکمال ہنر قصہ گری ہے۔سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کی اجتماعی یادداشت ہے۔اس نے ہر حملہ آور کا آدر کیا ہے۔دینی اور قومی قصے خاص طور پر اس حوالے سے مضبوط مثالیں ہیں۔سرائیکی زبان و ادب کے حکمت و دانش سے لبریز لوک قصے حقیقت،تخیلات، وہم، سچ اور جھوٹ، اچھا اور برا، محبت اور نفرت یعنی ماضی، حال اور مستقبل کے بارے سب کچھ علم و تربیت کے مخفی ظاہری راز اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ قصوں میں انسانوں کے سماجی و اخلاقی اقدار کی عملی مثالی تصاویر موجود ہیں۔قدرت قصہ،کہانیوں،داستانوں اور افسانوں کو ایک طرف تو ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ بناتی ہے اور دوسری طرف ایک پیچیدہ مسئلہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ انسان کے مستقبل میں ان قصوں کا کیا رول ہونا چاہئے یا ہوگا۔

    سوال یہ ہے؟کیا اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل سوشل میڈیا دور میں قصوں کی اہمیت و افادیت کم ہو جائے گی؟اورکیا موجودہ انسانی صدی قصوں کی آخری صدی کہلائےگی؟اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا ۔مگر آج بھی قصوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔آج بھی ہم قصے سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں اور سینما گھروں میں فلموں کی نمائش دراصل انسانی قصے کی شعوری پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہالی وڈ،لولی وڈ ،بالی وڈ موجود فلم انڈسٹریز قصوں کی عملی دنیا ہے۔قصے نے نیوز یعنی نارتھ،ایسٹ،ویسٹ، ساوتھ مشرق،مغرب،شمال جنوب کی فنی مہارتوں کو سیکھنے،دیکھنے،پڑھنے اور لکھنے کے عمل کو فروغ دیا۔ہمارے بہت سے تصورات و نظریات انہی قصوں اور افسانوں کی بنیاد پر بنے ہیں اور اسی لیے قصے کو دنیا میں سب سے طاقتور اور آسان فہم میڈیم سمجھا جاتا ہے۔

    سرائیکی لوک قصہ جس نے چھ ہزار سال قدیم ماں وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن اور بیٹی وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ ہم عصر و ہم پلہ میسوپوٹومپیا سمیرین اور مصری اہرامی تہذیب وتمدن کے اعلی شعور کے ساتھ دنیا کو زندگی گزارنے کا سلیقہ اور نصیحت و وصیت کا عملی کامیاب نصاب مہیا کیا ہے۔سرائیکی لوک قصوں کی وذڈم کی حفاظت کرنے والے روہی چولستان، دمان پہاڑ، تھل،راوا ،میدان،دریائی و سمندری،ہڑپہ،جلیل پور،ہڑنڈ،سوئی وہاڑ،پتن منارہ، مہرگڑھ ،موہنجوداڑو،رحمان ڈھیری،بلوٹ قلعہ، ملتان شریف، اوچ شریف سمیت سرائیکی قدیم گنویری والا شہر کےقصولیوں کی طرح دنیا کے ہر قصولی کےتحفظ و مراعات کے لیے اقوام متحدہ آثارقدیمہ ریسرچ اداروں اور حکومت پاکستان کی طرح ہرملک کی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اپنے لوک ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ورلڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹس کو گنویری والا شہر پر ہاکڑہ یونیورسٹی بنانا ہوگی۔

    امن و تصوف کے روحانی قصے کی افادیت و تحفظ کی عملی ضمانت کیلئےحضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری ع صوفی ازم اینڈ آرکیالوجی سائنس یونیورسٹی ورلڈ ہیرٹیج سٹی اوچ شریف میں فوری قائم کرنا ہوگی۔غزہ،دمشق،یوکرائن اور کشمیر سمیت دنیا کے ہر کونے سے جنگ ونفرت کے قصے کو ختم کرکے امن،رواداری،خوشحالی اور تصوف کے قصے کو عالم میں پھر سے عام کرنا ہوگا۔ورنہ نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم رہ جائے گی۔شاید اپنی بقاء کا تحفظ بھی نہ کرسکے۔
    ختم شد

  • پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ:26 دسمبر، پروین شاکر کی 30ویں برسی
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی ،اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

    پروین شاکر جس کے شعر رنگ و خوشبو بکھیرتے ہیں، ان کو بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں اردو کی ممتاز ترین شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں سید ثاقب حسین کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد خود بھی شاعر تھے اور ان کا تخلص شاکر تھا۔ اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے آئی اے اور انگلش لٹریچر کے ساتھ بی اے آنرز کیا۔ پروین شاکر نے گریجویٹ ڈگری پہلے انگریزی لٹریچر میں اور پھر لسانیات (Linguistics) میں حاصل کی، جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری اسی عنوان کے تحت حاصل کی، پھر انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پروین شاکر نے ایم اے کی ایک ڈگری ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے بھی حاصل کر رکھی تھی۔

    نوجوانی ہی سے شعر کہنے کا ہنر انہیں آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نو سال تک استاد کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ اس کے بعد شعبہ کسٹم، گورنمنٹ آف پاکستان میں اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کرتی رہیں۔ 1986 میں وہ سیکنڈ سیکریٹری، سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) اور ڈپٹی کلکٹر کسٹم بھی مقرر کی گئیں۔ راقم عرصہ دراز سے پاکستان کسٹمز اور ایف بی آر سے منسلک ہے۔ اکثر اوقات ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر اداروں کے ساتھ میٹنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی وجہ سے راقم کی مرحومہ پروین شاکر سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اُن کے مشاعروں میں شرکت اور اُن کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ وہ لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی خوشبوؤں کی شاعرہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بطورِ شاعرہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

    پروین شاکر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی کتاب "خوشبو” پر آدم جی ایوارڈ اور پھر پاکستان کا سب سے اعلیٰ اعزاز "پرائڈ آف پرفارمنس” سے بھی نوازا گیا۔ موسم آتے جاتے رہے، ماہ و سال گزرتے رہے، مگر ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی شاعری سے دل لگائے بیٹھے ہیں۔ پروین شاکر نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیے تھے، مگر وقت کی پنکھڑیاں چنتے چنتے، آئینہ در آئینہ خود کو ڈھونڈتی، شہرِ ذات کے تمام دروازوں کو پھلانگتی، شاعرہ کی منزل تک پہنچیں۔

    بات پروین شاکر کی نظم کی کی جائے یا غزل کی، کتابوں کا ایک بہترین گلدستہ تیار کیا جا سکتا ہے، مگر جہاں ہر ہر لفظ ان کی پذیرائی کے گن گانے میں محو ہو، وہاں میرے چند الفاظ قارئین کو کہاں مطمئن کر پائیں گے۔ انسان کے کردار اور اس کی مجموعی شخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے، لیکن ایک اور اہم شے جو کسی بھی انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھی انسان کو اس کی شخصیت مکمل ہونے کے بعد بھی کسی نئے ماحول میں کھینچ لاتی ہے اور اس کی زندگی کا دھارا ہی بدل دیتی ہے، اس کا نام ہے "کتاب”۔

    چونکہ کتاب کا ذکر چل پڑا ہے تو پروین شاکر کی چند خوبصورت کتابوں کا تذکرہ نہ کرنا اردو ادب اور شاعری سے سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا۔ اس لئے ان کی وہ کتابیں جو شائع شدہ ہیں اور لوگوں میں کافی مقبول بھی رہی ہیں ان میں "خوشبو” (1976)، "صد برگ” (1980)، "خود کلامی” (1990)، "انکار” (1990)، "ماہ تمام” (1994) اور "کف آئینہ” سرِ فہرست ہیں۔ جب یہ کتابیں شائع ہوئیں تو پروین شاکر ایک پختہ کار شاعرہ کے روپ میں نظر آئیں، لیکن ان کی شاعری خوشبو کی طرح دنیائے ادب کو معطر رکھے گی۔

    وہ خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
    مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا

    وہ خوش فکر شاعرہ تو تھیں، لیکن خوش شکل ہونا بھی ان کی شخصیت کو چار چاند لگا گیا۔ پروین شاکر اپنے ساتھ بے شمار یادیں لے گئیں۔ پی ٹی وی کے پروگراموں، مشاعروں اور ادبی جرائد، اخبارات میں کسی شاعرہ کو زیادہ اہمیت ملی تو وہ پروین شاکر تھیں۔ شاعری میں نئی نسل کا رول ماڈل تھیں، انہوں نے دلوں پر حکمرانی کی، ایک طرح سے وہ سخن کی شہزادی تھیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار اعزازات پائے۔ خوبرو شاعرہ نے ایک پاکستانی ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی۔ ان کا ایک بیٹا، سید مراد علی بھی ہے، لیکن ان کی شادی کا یہ سفر زیادہ طویل المدت نہیں تھا اور معاملہ طلاق پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ پروین شاکر کی شاعری میں لذتِ انتظار کی کیفیت بھی ملتی ہے۔

    وفات کے بعد ان کی دوست پروین قادر آغا نے "پروین شاکر ٹرسٹ” قائم کیا۔ پروین شاکر اپنی ہم عصر شاعرات کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی شاعری پسند کرتی تھیں اور ان کیلئے تحسین کے جذبات رکھتی تھیں۔ وہ امریکہ میں بھی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام امریکی بہت فراخ دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہر تہذیب کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن کو ایک خاص تناظر میں رکھ کر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

    پروین شاکر نے انسانی جذبوں کا سچ لکھا اور اس محبت کو عورت کی زبان سے ادا کرنا آسان کر دیا۔ پروین شاکر تنہائی، جدائی، ہجر و وصال، محبوب کے تصور میں گم، چاہنے اور چاہے جانے کی آرزو اور زندگی سے آنکھ ملانے والی شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر نے بحیثیت ایک عورت ایسے ہی محبوب کا پیکر اپنی شاعری میں تراشا جو ذہن و گمان سے ماورا نہیں۔ ایک زندہ وجود ہے اور حسیات کے امکان میں موجود رہتا ہے۔

    شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالم نگاری بھی کی اور راقم کا اس حوالے سے بھی ان سے رابطہ رہا۔ ان کی شاعری کا بنیادی وصف جراتِ اظہار تھا۔ ان کے شعروں میں اعتماد نمایاں تھا۔ ان کی چمکتی آنکھیں ایک نئی صبح کا خواب دیکھتی تھیں۔ ان کے احساسات و جذبات کی ترجمان ان کی شاعری حسن، محبت، غم و خوشی، سچائی اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے۔ جس طرح وہ خود خوبصورت و حسین تھیں، اسی طرح ان کی شاعری دلکش اور خوبصورت ہے۔ وہ خوبصورتی کی باتیں کرتی، رنگ و خوشبو کا پیغام دیتی نظر آتی ہیں، اپنے تمام تر صادق جذبوں سمیت ان کی مقبولیت پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے باہر جہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔ ان کی شاعری نوجوان نسل کا کریز بن گئی۔ نوجوان نسل کے رومانی جذبات کو گہرے فنکارانہ شعور اور کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ پیش کرنا پروین شاکر کے اسلوب کی پہچان قرار پایا۔ جذبے کی جس سچائی سے پروین شاکر نے اردو شاعری کے قارئین کے دل و دماغ کو ان گہرائیوں کو آخر حد تک متاثر کیا ہے وہ سچائی تو "خوشبو” میں ان کے ذاتی کرب کی ٹیس تھی۔

    میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
    وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

    پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد اپنے دفتر جانے کے لیے نکلی تھیں تو قریب ہی ایک موڑ پر بس کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہونے کے صورت میں ہم سے روٹھ کر عدم کو سدھار گئیں۔ اللہ رب العزت اُن کے درجات بلند فرمائے۔ جس سڑک پر حادثہ ہوا اُس کا نام پروین شاکر کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

    مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے