Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فیصل آباد جو ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، حال ہی میں ایک اور شاندار ادبی تقریب کا میزبان بنا۔ سردار پبلی کیشن کے اشتراک سے فیصل آباد پریس کلب میں تیسری ادبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف ادب کے فروغ کا سبب بنی بلکہ پنجابی زبان کی ترویج کے حوالے سے ایک اہم قدم بھی ثابت ہوئی۔ کانفرنس دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ "ویر وے” کے موضوع پر مبنی تھا جس کی صدارت معروف ادبی شخصیت چوہدری الیاس گھمن نے کی، جبکہ دوسرا حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا جس کی صدارت ڈاکٹر جعفر حسن مبارک نے کی، جو ادب کے میدان میں اپنی گہری بصیرت کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    مشاعرے کا انعقاد اس کانفرنس کا ایک خاص پہلو تھا، جس میں ملک کے مختلف شہروں سے نامور شعرا نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ یہ پنجابی زبان کو مرکزیت دیتے ہوئے منعقد کیا گیا، جس میں ہر شاعر نے اپنے انداز میں پنجابی زبان و ثقافت کے رنگ بکھیرے۔ پروگرام کے دوران اسٹیج پر آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے بطور میزبان تقریب کو بہترین انداز میں پیش کیا۔

    مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر جعفر حسن مبارک کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ ڈاکٹر جعفر حسن مبارک، جو کہ ایک نامور شاعر اور محقق ہیں، نے پنجابی زبان کی تاریخ، اس کی اہمیت اور موجودہ دور میں اس کے فروغ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے، اور پنجابی ہماری ثقافتی وراثت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

    کانفرنس کے دوران جن مشہور شعرا نے شرکت کی، ان میں شہزاد بیگ، کامران رشید، آزاد نقیبی، بشری ناز، نرگس رحمت، آصف سردار آرائیں، الیاس گھمن، امجد جاوید، انور انیق، ارشد بیلی، جاوید پنجابی، ڈاکٹر اظہر، سعید حسین ساجد، حامد رفیق، زبیر الجواد، سرور قمر قادری، شہباز علی شہباز، شمائلہ تبسم، عمران ساون، عبدالحمید، فوزیہ جاوید، کامران رشید اور لبنیٰ آرائیں شامل ہیں۔ ان تمام شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ان کے اشعار میں پنجابی ثقافت، انسانی جذبات، اور موجودہ سماجی مسائل کی عمدہ عکاسی نظر آئی۔

    تقریب کے دوران مقررین نے پنجابی زبان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور اس کے تحفظ اور ترویج کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں پنجابی زبان کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے جدید وسائل، جیسے کہ سوشل میڈیا، ایپلیکیشنز، اور پنجابی ادب کے جدید تراجم، کو اپنانا ہوگا۔

    اس تقریب کی کامیابی میں آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی محنت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں شخصیات، جو میاں بیوی ہیں، نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔ ان کی ٹیم ورک اور پنجابی ادب سے محبت کی بدولت یہ کانفرنس ایک یادگار ایونٹ بن گئی۔

    اس کانفرنس کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ پنجابی زبان ہماری شناخت کا حصہ ہے، اور اس کی بقا و ترویج کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر شریک نے اپنے کلام اور گفتگو کے ذریعے یہ باور کرایا کہ پنجابی زبان صرف ایک بولی نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور تاریخ کا عکس ہے۔

    تیسری ادبی کانفرنس نے ادب کے فروغ اور پنجابی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک نئی سمت متعین کی ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف زبان کے فروغ کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی انتھک کوششیں قابل تعریف ہیں، اور امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات منعقد کرکے ادب و ثقافت کی خدمت کرتے رہیں گے۔

    سردار پبلی کیشن کی جانب سے تیسری پنجابی کانفرنس کا انعقاد ادب اور ثقافت کے فروغ کی ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی زبان و ادب کے محبت کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے بلکہ اس زبان کی ترقی اور اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس کانفرنس کی روح رواں لبنیٰ آرائیں، جو سردار پبلی کیشن کی ڈائریکٹر ہیں، کی محنت اور لگن قابلِ ستائش ہے۔ لبنیٰ آرائیں نے اپنے ویژن اور عزم کے ساتھ ادب کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں ان کی انتھک محنت اور تنظیمی صلاحیتوں نے ایک مثالی ماحول پیدا کیا، جہاں شاعر، ادیب، اور دانشور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

    کانفرنس کے دوران مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور پنجابی ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے خیالات پیش کیے، جنہوں نے زبان و ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو بھی اپنی تخلیقی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

    یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی ادب بلکہ زبان و ثقافت کے تحفظ اور ترویج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ لبنیٰ آرائیں کی کاوشوں نے ثابت کیا کہ اگر جذبہ اور عزم ہو تو کسی بھی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    آج کے دور میں بھی قصے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہیں۔ قصے ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم مشترکہ انسانیت کے اصولوں کو اپنائیں۔ عالمی سطح پر ثقافتی میل جول میں بھی قصوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جیسے کہ اسلام آباد کے لوک ورثہ میلے میں سرائیکی جھمر کی پیشکش نے مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ قصے محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی ورثے کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تیسری قسط
    دادی اماں،نانی اماں،دادا جان،نانا جان تمام معزز بزرگوار ہستیاں حقیقی معنوں میں قصوں کی ابتدائی انسانی شعور گاہ ہیں۔جہاں سکون واطمینان قلب میسر آتا ہے۔ماضی میں بزرگوں کے قصوں کے ذریعے بچوں کو نہ صرف اعلی اخلاقی قدریں اور اچھے برے کی تمیز سکھائیں جاتیں تھیں بلکہ انہیں زندگی کے عملی پہلوؤں میں کامیاب حیاتی گزارنے کے طور طریقے،شکار،زراعت اور قدرتی خطرات سے بچنے کے علوم بھی سکھائے جاتے تھے۔یہ قصے بچوں کے لیے مثالی کردار پیش کرتے تھے۔جنہیں وہ اپنا آئیڈیل بناتے تھے اور ان کی شخصیت کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔اس طرح قصوں نے بچوں کی سماجی، اخلاقی اور عملی زندگیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہیں خاندان یا سوسائٹی کا ایک اچھا فرد بننے کے لیے تیار کیا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    جس نسل نے اپنے آباواجداد کے قصوں کی حکمت کے خزانوں کو اپنایا تو انہوں نے نئی دنیا اور نئےجہاں تخلیق کیے۔آج بھی قصے اور افسانے انسانوں کے لیے ایک ایسا دروازہ ہیں جو انہیں حقیقت کی دنیا سے ہٹ کر ایک خواب کی نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔اس سے ان کی تخیلاتی قوتتیں پھلتی پھولتیں اور آگے بڑھتیں ہیں اور وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے لگتے ہیں۔قصے انسانوں کی تخیلاتی قوت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں اور انسان کو نئی نئی چیزیں دریافت کرنے اور سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ان قصوں کے ذریعے انسان خوابوں کی دنیا میں سیر کرتے ہیں اور اپنی خواہشات اور امیدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی حقیقی زندگی میں نئی راہیں تلاش کرتے اور نئے پراجیکٹس کو عملی جامہ پہنانتے ہیں۔یہ قصے ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔مثلاً،ریڈار، چاند گاڑی،سیٹلائیٹ،ٹیلی ویژن،ریڈیو،موبائل فون،ڈائزینر مشین،میزائل،ہوائی جہاز،انٹرنیٹ،سوشل میڈیا ڈیوائسز،روبوٹ اور خلائی سفر سب سے پہلے قصوں میں ہوائی جادوئی قالین،طلسماتی شیشہ،طلسماتی تیر و تلوار،اڈن کٹولہ وغیرہ ہی تصور کیے گئے تھے۔آج یہ سب حقیقت بن چکے ہیں۔یوں قصے اور افسانے نئی دنیاؤں کی تخلیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    مستقبل میں قصے میں موجود قصولیوں کے خواب آنے والے وقت میں سائنسی ترقی و تحقیقی سفر کا نیا جہاں بنے گے۔جو انسانوں کو نئی سوچوں اور امکانات کی طرف لےکرجاہیں گے۔قصوں کی زبان ہمیں غاروں میں موجود ابتدائی انسانی ہاتھوں سے بنی اشکال سے لکھی ملیں ہیں۔خوبصورت پتھروں سے مورتیوں پر نقش نگاری قدیم انسانی قصے کے نمونےہیں۔جیسے بچہ پیدائش کے وقت بول نہیں سکتا مگر اشاروں سے اپنی التجا ماں کو پیش کرتا رہتا ہے۔اس کی ماں اس کی ضرورتیں پوری کرتی رہتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوکر اپنے مسائل و ضروریات لکھ کر بھی اور زبان سے بول کر بتاتا ہے۔زبان بھی اسی طرح پروان چڑھتی ہے۔میری کم سن تین سالہ بیٹی زینب الطاف ڈاھر بی بی اپنی ٹوٹی پھوٹی باتوں اور اشاروں اور آوازوں کے ذریعے کبھی کبھی پنسل سے دیواروں پر نرم ہاتھوں سے لکیروں کی مدد سے شکلیں بنا کر ہم میاں بیوی تک اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔

    آج بھی دنیا کا پہلا انسانی رسم الخط تصویری اشکالی رسم الخط کو مانا جاتا ہے۔قدیم انسان نے اپنے قصوں کے ذریعے سے اپنا کتھارسس مدعے کو شجر،پتھر اور غار کی دیواروں پر اشکال بناکر اپنےپیغام کو آج کے انسان تک سانجھا کیا۔یہ نقش و نگار نہ صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے عقائد اور تصورات کی بھی عکاسی کرتے ہیں ۔جس کو ہم آج ٹوٹم و ٹیبوز کا علم کہتے ہیں۔قصے میں قصولی جانوروں،چرند پرند،دریا،سمندر درختوں اور بادلوں کو بھی انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئےدکھاتےتھے۔ان کے قصوں میں جادو،دیوی و دیوتا،مافوق الفطرت عناصر اور روحانی قوتوں سے لبریز کرداروں کی ایک بھیڑ ہوتی تھی۔جو ان کے لیے قدرت کا مظہر سمجھنے کی فلم انڈسٹری تھی۔

    آج جب ہم پیچیدہ زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں تو قصہ کے طور طریقے بھی بدل چکے ہیں۔روہیلے چولستانی قصولیوں میں میدا رام ، سمارا رام، مجید مچلا، فیض مائی بھٹی، میرے ابا جی سئیں غلام مصطفٰی خان ڈاھر، مہر غلام رسول، ملک عبداللہ عرفان، طاہر غنی، ملک آصف سیال، جام غلام یاسین لاڑ جیسے عظیم الشان قصہ گو بھی وسائل کی شدید کمی کے باوجود ماڈرن طریقےسے سوشل میڈیا ذرائع سے اپنے قصوں کو عام کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

    ان قصولیوں نے قصے کا آغاز اس باکمال مہارت سے کیا ہے کہ پوری کائنات کا مالک خالق حقیقی صرف اللہ پاک ہے۔باقی سب فنا ہے۔اس کا بنیادی مقصد صرف طاغوتی طاقتوں کے تکبر و غرور کی نفی کرنا ہے۔امن و اقتصادی آسودگی، عجز و احترام کو فروغ دینا ہے۔اللہ رب العزت جلال کی شہنشاہیت کو برقرار رکھنا ہے۔"واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے،خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ، بادشاہواں دا بادشاہ وی خود اللہ پاک آپ بادشاہ ہے، اوہ ہک زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا۔اوندی نگری ہی”۔اصل حکمران وہ ہے جو بشریات، جمادات،حیوانات اور نباتات کی نشوونما،خیر و برکت کےلیے ہمیشہ مثبت اقدامات اٹھائے۔

    ہمارے قصولی ہمارے سرائیکی وسیب کی عالمگیر فوک وزڈم آرکیالوجی ویب سائٹس بن چکے ہیں۔سوجھل وسیبی قصولیوں کی معاشی خوشحالی کے اقدامات حکومت پاکستان سمیت اقوام متحدہ آثار قدیمہ کی اہم ذمہ داری ہے۔قومی سرائیکی لوک دانش کے اثاثے کو محفوظ کرنے کے لیے مقامی روہی چولستانی قلعہ ڈیراور، چولستان جیپ ریلی کے سنڑ مقام پر میوزیم قائم ہونا چاہیے ۔جہاں دنیا بھر کے سیاح سرائیکی خطے کی 6000چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب وتمدن وادی ہاکڑہ سرسوتی کے ساتھ سرائیکی عباسیہ شاہی ریاست بہاولپور کی خوشحالی سے بدحالی کے قصےکی حقیقت جان سکیں۔مقامی روہیلے چولستانی قصولیوں کو مراعات دیں جائیں۔ہمیں ان کی لوک دانش کو جدید ٹیکنالوجی سسٹم سے دنیا تک آن ائیر کرانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔جاری ہے.

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    قصے انسانوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ انبیاء کرامؑ کے قصے اور رسول اکرمﷺ کی زندگی کے واقعات انسانوں کی اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔ سرائیکی قصے صرف کہانیاں نہیں بلکہ انسانی زندگی کو ایک نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے شعور، ثقافت اور روایتوں کی منتقلی ممکن ہوئی۔ ابتدائی ادوار میں قصہ گوئی انسانوں کے لیے اولین درسگاہ تھی، جہاں شکار، زراعت اور قدرتی خطرات سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ قصوں کی روح نے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلقات میں استحکام پیدا کیا۔
    دوسری قسط
    حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت اماں حوا علیہ السلام کا جنت سے نکالے جانے کا قصہ،شیطان مردود کا انسان سے ازلی دشمنی کا قصہ آج بھی کتابوں کی زینت ہے۔قصہ دراصل انسانی شعور و عرفان کی خود رو تحفظ فراہم کردہ تخلیقی و تجزیاتی فکری صلاحیتوں کا مظہر ہے۔قصے کے گہرے رشتے نے انسان کی تاریخ کو رنگین بنا دیا ہے۔علم و دانش اور لسان و ثقافت کی افادیت و اہمیت کی شروعات قصوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ابتدائی مراحل سے انسان ایک دوسرے کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سکھاتا رہا۔مثلاً بھوک سےلڑنے کے لیے شکار کے طریقے،پودوں کی پہچان،معدنیات وحشرات کے فوائد،موسموں کی تبدیلی،خطرناک جانوروں سے بچاؤ کے سلیقے قصوں کی بدولت بنیادیں بنیں۔یہ سب کچھ قصوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

    قصوں کا سننا اور سنانا یہ صرف معلومات کا تبادلہ خیال نہیں تھا بلکہ قصوں کی ثقافتی روح نے آپس میں تعلقات و اتحاد کو فروغ دیا۔قصولیوں کی ابتدائی قصہ گوئی کی محفل نے انسانوں کی چھپی صلاحیتوں و خوبیوں کو نیا ترقی پذیر رخ عطاء کیا۔جب انسان روزی روٹی اور ذرائع معاش کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا تب روحانی خیال کی مشعل سے تاریک راہوں میں روشنی پھیلانے کا قصہ ہی سبب بنا۔ایک بشر سے دوسرے بشر تک روایات، عقائد، رسوم و رواج،تاریخ کو منتقل کرنےکا ذریعہ بھی بنتا رہا۔کائنات کی تخلیق کو سمجھنے کا پہلا چارٹ انسانی سوچ تھی جو قصہ کی شکل میں ابتدائی انسانوں کے پاس منتقل ہوئی۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    آج کی دنیا کی طرح فطرت کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے کے لیے سائنسی طریقے و علوم کے ادارے نہیں تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کے واقعات اور فطرت کی قوتوں کو سمجھنے کے لیے قصولی کے قصوں اور افسانوں کا سہارا لیا۔قصہ کی بیٹھک ہی پہلی انسانی سائنس کی لیبارٹری بنی۔ قصوں میں پرندوں پر سواری کرنا ،جادوئی قالین پر سوار ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی دراصل آج کے انسان کے لیے ہوائی جہاز، ائیر بس،ہوائی کاریں،پیرا شوٹ کی تکمیل ہے۔ بادلوں کی گرج، سورج اور چاند کی روشنی اور دیگر قدرتی مظاہر میں دیوی و دیوتاؤں کی نشانیاں بتانے والا قصولی دراصل آج کا سائنس دان ہے۔قصہ میرے نزدیک روحانیت تصوف اور سائینسیت طبعیات کی دو مضبوط ترین آنکھیں،صاف شفاف صحت مند دو کان،دو نالی والی مضبوط ناک، تجربات،ممکنات،تحقیقات،محسوسات و مشاہدات کو پرکھنے والا دل و دماغ ہے۔

    زلزلے کےجھٹکے کو قصولی نےزمین کو ہلانے والے دیہہ کا غصہ سمجھ لیا تھا، قصولی کے مطابق زمین کو ایک بڑے بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ حرکت کرتا ہے تو زلزلہ آجاتا ہے۔یہ قصے دراصل انسانی بقاء کے تحفظ کے محافظ تھے۔جن کی بدولت قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی و پالیسی نے جنم لیا۔قصے نے نہ صرف ان کی زندگی کو بامعنی بنا دیا تھا بلکہ انہیں اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں بھی مدد بھی فراہم کرتا رہا۔قصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے کمپاس ،روبوٹ،ریڈار ثابت ہوا۔انسانی رشتوں کی خوبصورتی کو قصوں کی رفعت نے آپس میں اتحاد ویکجہتی،امن،محبت و احترام کا نیا جہاں دیا۔ ٹوٹے دلوں میں نیا خلوص بھر دیا۔ قصے صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ حکمت کے وہ عملی پل یا بریج ہیں جو انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔آگ کے گرد بیٹھے لوگوں کی آوازیں،ہنسی خوشی و غمی کے آنسو جب قصوں میں ڈوب جاتے تھے تو ایک ہی دھڑکن بن جاتے ہیں ۔

    قصوں کی بدولت آج سات براعظموں میں ایشیا،افریقہ،شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ،انٹارکٹکا،آسٹریلیا ،یورپ پر مشتمل تقریبا ساڑھے سات ارب کی انسانی آبادی،ساڑھے چھ ہزار مختلف زبانیں بولنے والوں،متنوع ثقافتوں اور خطے کے لوگوں کا ایک دوسرے کے درد اور معاشی ترقی کو سمجھنے اور قبول کرنے میں کامیاب مدد ملی ہے۔قصے کی طلسماتی فکری نتیجہ خیز طاقت نےسب کو ایک گلوبل ویلج میں خوشی خوشی جوڑ دیا ہے۔آج بھی اسلام آباد لوک ورثہ قومی ادارے میں غیر ملکی انسانوں کا امن بھرا سرائیکی جھمر،مقامی حسن، رقص و موسیقی ،سرسنگیت سے مزین سرائیکیت نےسندھی ،چین،افریقی،بلوچی،پنجابی،پشتو، اردو،بلتی،کشمیری،انگلش،جاپانی،امریکن اورجرمنی کو ایک ہی قصے کے کردار بنا دیئے ہیں۔

    ایک قصہ جس میں مختلف انسانی جذبات و احساسات کو سنتے تھے تو ان کے اندر ایک ہی طرح کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔وہ ایک دوسرے کی بات سمجھتے تھے۔وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شامل ہوتے تھے۔ قصوں نے انسانوں کو مشترکہ تجربات فراہم کیے ہیں اور انہیں محسوس کرایا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ثقافتی گلدستے کو مضبوط کیا۔قصوں نےمعاشرتی تبدیلی لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔قصوں نےاحترام آدمیت کے فلسفے کو بلندیوں پر پہنچایا۔لوگوں کوحق سچ ،عدل و انصاف،برابری،معاشی خوشحالی و معاشرتی اقدار کی اعلی قیادت اور آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے اب ایک مکمل بااعتماد عملی دستاویزات کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جن کی مدد سے سرائیکی وسیب میں ہر طرف معاشی و اخلاقی ،خوشحالی و تعمیر نو نظر آئے گی۔قصے نےصرف تفریح نہیں بلکہ ہمیں مشترکہ ثقافتی ورثہ بھی عطاء کیا ہے۔ہمیں ایک مشترکہ انسانیت کا احساس دلایا ہے۔قصے نے ہمیں سکھایا کہ ہم سب انسان جن کا خون سرخ رنگ کا ہے۔آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے آدمی ہیں۔سب ایک دوسرے کا احترام کریں۔کوئی کسی کے ساتھ ظلم و بربریت نہ کرے۔ہر انسان کو علمی قابلیت،صلاحیت و خوبی کی بنا پر ترقی ملے۔قصہ کا پیغام آفاقیت صرف یہ ہے کہ انسان انسان کو ہمیشہ نفع پہنچائے۔شرافت،صداقت،ایمانت اور دیانت کو عام کرے۔اتحاد،محبت و یقین محکم ویکجہتی،تنظیم کی پاسداری کرے۔

    ہم سب ایک ہی قصے کے تنوع ترقی یافتہ کردار ہیں۔آج بھی اور پھر کل جب ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہےہوں گے تو پھر ہمارے قصے ہمیں خیر،وصیت صبروتحمل،بھلائی،امید،بہادری،نیکی،جرات،سخت محنت اور تصوف کے آفاقی فلسفہ جلال سے ہماری رہنمائی کرکے ہمیں پھر سےکامیاب بنائیں گے۔سرائیکی قصہ سرائیکی وسوں کا ہمیشہ مضبوط حوصلہ اور امن کا ہتھیار رہا ہے۔انسانی زندگی کی پہلی بنیادی درسگاہ مادرعلمی اسکول خود ماں کی گود ہوتی ہے جہاں ہمیں پہلا سبق قصے کی شکل میں سکھایا جاتا ہے۔

    سرائیکی عالمی قصہ منظوم و منثور دونوں صنفوں میں سرائیکی شعراء کرام و نثر نگار قصولیوں کے پیغام آفاقیت کا خوبصورت فلسفہ ہے۔جودنیا کے لٹریچر کو متاثر کررہا ہے۔مادری زبان میں قصے کا ابلاغ صدیوں کی روحانی و عرفانی فضیلت کی تاثیر عطا کرتا ہے۔قصہ پہلا اسکول ہے جہاں سے علم وادب، حکمت و دانش کو سیکھنے،سمجھنےاورتعلیمی تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔

  • غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!
    شاہد نسیم چوہدری
    ادب اور شاعری انسانی معاشرت کی گہری عکاسی کرتے ہیں لیکن ادب کے اس روشن چہرے پر جب گروپ بندی، سطحیت اور تجارتی مفادات کے دھبے نظر آنے لگیں تو یہ ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے کیا ادب اپنی تخلیقی بنیادوں سے دور ہو رہا ہے؟

    صفدر ہمدانی کی حالیہ فیس بک پوسٹ جس میں انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا، نے مجھے گہرے افسوس اور حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ پوسٹ محض ایک اعلان نہیں بلکہ اس میں ہمارے معاشرتی اور ادبی ماحول کی تلخ حقیقتوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ صفدر ہمدانی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ پچھلے ساٹھ برس سے اردو ادب کے لیے خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری، نثر اور مرثیہ نگاری اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ تخلیق کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور کبھی کسی طمع یا ستائش کی تمنا نہیں کی۔ لیکن ان کا یہ قدم کہ وہ اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کر رہے ہیں ایک ایسا لمحہ ہے جو اردو ادب کے موجودہ منظرنامے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

    ادبی ماحول میں تخلیق کی جگہ تجارت کا غلبہ ہو گیا ہے، ادب کا اصل مقصد انسانی جذبات، سماجی مسائل اور تخلیقی اظہار کو آگے بڑھانا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا ادبی ماحول ان مقاصد سے بہت دور جا چکا ہے۔ صفدر ہمدانی نے اپنی پوسٹ میں جن حقائق کا ذکر کیا وہ محض ان کا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ہر سنجیدہ تخلیق کار کی مشترکہ شکایت ہے۔

    مشاعرے جو کبھی شعری ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ تھے آج محض تجارتی تقاریب بن چکے ہیں۔ ان میں شرکت کا انحصار شاعری کے معیار پر نہیں بلکہ ذاتی تعلقات اور مالی مفادات پر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں صفدر ہمدانی جیسے سنجیدہ تخلیق کاروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ صفدر ہمدانی نے اردو کے فروغ کے نام پر ہونے والی عالمی اردو کانفرنسوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کانفرنسوں پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے، لیکن ان کے نتائج نہایت مایوس کن ہیں۔ اردو زبان کو قومی سطح پر نافذ کرنے کا خواب آج بھی تشنہ ہے اور ان کانفرنسوں نے اس سلسلے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔

    بیرون ملک منعقد ہونے والے مشاعرے اور کانفرنسیں ایک الگ داستان ہیں۔ یہ تقاریب زیادہ تر مخصوص افراد کے لیے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جبکہ حقیقی تخلیق کار ان سے باہر ہی رہتے ہیں۔ صفدر ہمدانی کی مرثیہ نگاری پچاس برسوں پر محیط ہے لیکن اس صنف کے ساتھ ہونے والے سلوک نے انہیں بھی مایوس کیا ہے۔ مرثیہ جو کبھی معاشرتی مسائل اور انسانی جذبات کا آئینہ دار تھا، آج رسمی تقاریب تک محدود ہو چکا ہے۔ یہ ادب کی وہ صنف ہے جسے ہمارے تحفظ کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہونے والے رویے نے اس کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت: ادب کے زوال کی علامت لگ رہی ہے۔ صفدر ہمدانی کا اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کرنا ایک جانب ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب یہ ادب کے زوال کی طرف اشارہ بھی ہے۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب غیر مطبوعہ اشعار جو ان کے تخلیقی سفر کی گواہی دیتے ہیں ایسے قارئین اور شعری محققین کے منتظر ہیں جو ان کی قدر کریں۔ یہ اقدام شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ادبی ماحول تخلیقی افراد کے لیے اتنا سازگار نہیں رہا کہ وہ اپنی تخلیقات کو معیاری پلیٹ فارمز تک پہنچا سکیں۔

    ادب کے لیے آگے کا راستہ دیکھنا چاہیے۔ صفدر ہمدانی کے اعلان کو ایک موقع کے طور پر لینا چاہیے تاکہ ہم اپنے ادبی ماحول کا جائزہ لے سکیں اور اس میں بہتری کے لیے اقدامات کر سکیں۔ ہمیں ادب کو گروپ بندی اور سطحیت سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ تخلیق کاروں کو وہ مقام دینا ہوگا جو ان کا حق ہے اور مشاعروں و کانفرنسوں کو ادب کے اصل مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

    صفدر ہمدانی کی آواز ہم سب کی پکار ہونی چاہیے۔ صفدر ہمدانی کی پوسٹ ایک ایسی پکار ہے جسے سننے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ان کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ ہر اس تخلیق کار کا درد ہے جو ادب سے محبت کرتا ہے۔ ہمیں اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ادب کے اصل مقاصد کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ اردو ادب ایک قیمتی اثاثہ ہے اور صفدر ہمدانی جیسے افراد اس کے اصل محافظ ہیں۔ ہمیں ان کی آواز کو سننا اور اس کا احترام کرنا ہوگا تاکہ ادب اپنی اصل روح کے ساتھ اگلی نسلوں تک پہنچ سکے۔

    صفدر ہمدانی کی تحریر اُس پکار کی ترجمان ہے جو ادب اور تخلیق کے حقیقی معنوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا ہے تاکہ وہ لوگ اسے اپنائیں جو اس کی قدر کریں اور اسے آگے بڑھائیں۔ یہ قدم شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن تخلیق اور ادب کے تحفظ کے لیے اس سے بہتر راستہ شاید نہ ہو۔ میں ان تمام افراد کو دعوت دیتا ہوں جو ادب کے حقیقی علمبردار ہیں کہ آئیں اور اس مشن میں دل برداشتہ صفدر ہمدانی صاحب کا ساتھ دیں۔

    تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا
    گھر میں مجھے خود اپنا ہی مہمان کر دیا

    بس اک ذرا سی بھول ہوئی اختلاف کی
    بے دخل کر کے تخت سے دربان کر دیا

    اے بد نصیب میرا یقیں مجھ سے چھین کر
    تجھ کو یہ زعم ہے مرا نقصان کر دیا

    بزدل تھا میں جو کر نہ سکا خود یہ انتظام
    صد شکر تم نے موت کا سامان کر دیا

    ہائے لگا کے آگ چراغاں کے شوق میں
    حاکم نے سارے شہر کو ویران کر دیا

    قد سے مرا سوال بڑا تھا سو اس لیے
    محسن کو اپنے داخل زندان کر دیا

    خیرات دے کے گزرا ہے جو میرے پاس سے
    اس نے کبھی مجھے بھی تھا بھگوان کر دیا

    یوں تو میں محتسب رہا اپنا تمام عمر
    تم نے مگر بتا کے یہ حیران کر دیا

    صفدرؔ قنوطیت کا یہ اعزاز جو ملا
    اعزاز دینے والے نے احسان کر دیا

    نوٹ: یہ کالم ایک تخلیقی قدم کے جواز اور ادب کی موجودہ حالت پر تنقید کے طور پر لکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ قارئین کو ادب کی گمشدہ قدروں پر سوچنے کی تحریک دے گا۔

  • پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ

    پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ

    پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ
    پیرس سے عاکف غنی ملک کی رپورٹ
    دسمبر کا مہینہ یوں تو اداسی کے لیے مشہور ہے، خاص طور پر شعراء نے اس مہینے کو کچھ زیادہ ہی بدنام کر رکھا ہے۔ لیکن اگر اسی مہینے میں کسی ادبی نشست کا اہتمام ہو جائے تو یہ اداس مہینہ ادبی رونق میں بدل جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شاندار تقریب کا انعقاد پیرس کی معروف ناول نگار اور شاعرہ محترمہ شاز ملک نے اپنے دولت کدے پر کیا۔ اس یادگار شام کے انتظامات میں ان کے شوہر ملک سعید نے بھرپور تعاون کیا اور یوں دسمبر کی ایک سرد شام کو ادبی حوالے سے گرمجوش اور یادگار بنا دیا۔

    پیرس کے نواحی علاقے ولی اے لو بیل میں محترمہ شاز ملک کی رہائش گاہ پر منعقدہ اس تقریب کا مقصد راجہ زعفران کے پوٹھوہاری زبان میں شعری مجموعے "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور اس کے ساتھ ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد تھا۔ تقریب کی صدارت محترمہ شاز ملک نے کی، جبکہ مختلف شعرا اور ادیبوں نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    "ڈوھنگیاں چوٹاں” پر اظہار خیال کرنے والوں میں ایاز محمود ایاز، محترمہ شاز ملک، شمیم آپا، شبانہ چوہدری، اور طاہرہ سحر شامل تھے۔ مقررین نے راجہ زعفران کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے اس کی ادبی اہمیت کو اجاگر کیا اور پوٹھوہاری ادب میں اس کے اضافے کو سراہا۔

    کتاب کی پذیرائی کے بعد محفل مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں معروف شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے بھرپور داد سمیٹی۔ مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا میں مس سعدیہ، طاہرہ سحر، شمیم آپا، نبیلہ آرزو، محمود راہی، عاشق رندھاوی، آصف آسی، مقبول الٰہی شاکر، ایاز محمود ایاز، راجہ زعفران، اور عاکف غنی شامل تھے۔

    شاعری کے اس خوبصورت سلسلے کے بعد میزبانوں کی جانب سے پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ مہمانوں نے میزبانوں کی گرمجوشی اور اہتمام کو سراہا۔ اس تقریب نے بھیگتے، ٹھٹھرتے اور اداس دسمبر کو زبان و ادب کی چاشنی سے بھرپور کر کے ایک خوشگوار اور یادگار شام میں بدل دیا۔

    تقریب کی تصویری جھلکیاں




  • پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    انیسواں کراچی انٹرنیشنل بک فئیر اپنے اختتام کو پہنچا ۔۔ یوں سمجھیں گویا کوئی عید تھی جو اس شہر میں کتابوں سے محبت رکھنے والے منا رہے تھے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ جس دن کتاب میلے کا آغاز ہوا اسی دن ہم کراچی پہنچے۔ اور اگلے ہی دن بک فئیر میں ۔۔۔۔
    وہاں ایک عید کا سا سماں تھا ۔ بچوں کے کتاب گھر پر ہماری پہلی ملاقات فرحی نعیم سے ہوئی ،فہیم عالم صاحب اور کاوش صدیقی صاحب بھی وہیں موجود تھے ۔نئی نئی کتابیں دیکھ کر ہی دل کو بہت خوشی ہوئی ۔ یہاں ہماری ملاقات کاوش صدیقی صاحب کی جل پری سے بھی ہوئی ۔۔ اٹلانٹس کے اسٹال پر فاروق صاحب کے ساتھ ساتھ کرن صدیقی ، سمیر، ، عقیل عباس جعفری ، راشد اشرف ، محمود احمد مودی صاحبان جیسی شخصیات سے ملاقات ہوئی ۔ کچھ دیر بعد محبوب الٰہی مخمور صاحب اپنی صاحب زادی زوہا کے ساتھ تشریف لائے۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی اور پھر ہم آگے چلے۔۔

    اسی دن ہمارے چچا حاطب صدیقی کی کتاب پھولوں کی زباں کی تقریب تھی جو پہلے چار بجے ہونی تھی اور اب پانچ بجے پر چلی گئی تھی اس لیے وہ ہال میں ایڈیٹر جسارت یحییٰ بن زکریا کے ساتھ چہل قدمی فرما رہے تھے۔ یہیں فیصل شہزاد صاحب بھی نظر آئے ۔یہاں پیاری فرزین لہرا بھی تھیں، خالد دانش بھی، معاذ معاویہ صاحب نے اپنی کتاب میرال کی گڑیا کا تحفہ بھی دیا ، معروف مترجم اسد الحسینی سے بھی ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھی اپنی ایک عربی کتاب دی۔۔۔ ایک اسٹال پر ہمیں سر سلیم مغل اپنی نواسی کنزا کے ساتھ کتابیں خریدتے دکھائی دیے۔ ننھی کنزا بھی کتابوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔۔ان کے ساتھ بک کارنر پر پہنچے تو وہاں علی اکبر ناطق اور گگن شاہد صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ گگن صاحب نے ہمیں چائے پینے کی دعوت بھی دی لیکن کیا کریں کہ چائے ہمیں اچھی نہیں لگتی انہیں منع کرتے ہوئے بھی تھوڑا سا افسوس ہوا۔ بچوں کے کتاب گھر پر آئے تو دو پیاری پیاری بچیوں ایمن ، حبیبہ اور ان کی امی سے ملاقات ہوئی جو ہماری کہانیوں کی قاری نکلیں۔۔ انہوں نے ہم سے آٹو گراف لیا بچیوں کی خوشی دیکھ کر سچ پوچھیں تو ہمیں شاید ان سے زیادہ خوشی ہو رہی تھی ۔ اب چچا حاطب کی تقریب کا آغاز ہورہا تھا تو ہم اوپر تقریب میں چلے گئے جہاں حفصہ فیصل سے بھی ملاقات ہوئی ۔

    اگلی دن ہمیں ناجیہ شعیب صاحبہ ،فرزین لہرا، ان کی والدہ، آمنہ احسن، ایڈیٹر وی شائن نجیب حنفی صاحب ، ایڈیٹر ساتھی عبدالرحیم متقی ، سابق ایڈیٹر ساتھی اعظم طارق کوہستانی اور ساتھی کی دیگر ٹیم ممبران سے ملاقات ہوئی ۔ خوشی کی بات یہ بھی تھی کہ اس مرتبہ دسمبر کے ساتھی میں ہماری بھی ایک کہانی شامل ہے ۔
    اسما قادری سے بھی اچانک ملاقات ہوئی ۔۔ وہ کسی اور کو اپنا نام بتا رہی تھیں اور ہم نے وہیں انہیں پکڑ لیا۔۔۔

    ذوق شوق کے اسٹال پر مدیر صاحب نے ذوق شوق کا رسالہ اور ایک خوبصورت قلم کا تحفہ دیا۔۔
    اب کچھ کتابوں پر بات ہوجائے۔۔ اس مرتبہ بچوں کی اردو رنگین کتابوں میں کافی ورائٹی نظر آئی، دس بارہ صفحات پر مشتمل آرٹ پیپر پر رنگ برنگی تصویری کہانیوں کی قیمتیں پانچ چھ سو روپے تھیں جو بک فئیر میں آدھی قیمت پر دستیاب تھیں۔ ہال نمبر ایک اور ہال تین میں انگریزی ادب زیادہ تھا۔ بچوں کی انگریزی کتابیں بھی کافی معیاری قیمت پر تھیں۔ کہتے ہیں لوگ کتابیں نہیں پڑھتے لیکن یہاں تو بڑے، بچے بوڑھے سب ہی اپنی پسند کی کتابیں ڈھونڈ رہے تھے۔ کہیں اماں ابا بچوں سے پیسوں کے معاملے میں مک مکا کرتے بھی نظر آئے، میرا نہیں خیال کہ جو ان حالات میں (ایکسپو کے سامنے والی سڑک پر تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک) یہاں آئے، مہنگائی کے اس زمانے میں کتابیں خریدے اور پھر وہ پڑھے نا۔۔۔۔

    ہماری پیاری سہیلیاں صدیقی سسٹرز ہی دو دن میں ساٹھ کتابیں لے گئی ہیں۔ اور کتابیں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔ اگر آپ کو اچھی کتابوں کے نام چاہییں تو گل رعنا صدیقی کی "دیوار "پر جھانک لیں۔۔
    عید کا اختتام ہوا۔ اب ان شاءاللہ کچھ کتابوں پر تبصرہ کتابیں پڑھنے کے بعد کرتے ہیں۔
    آپ نے بھی اس سال بک فئیر میں شرکت کی ؟ کیا آپ کو بھی ہماری طرح اس بک فئیر کا انتظار رہتا ہے ، ہاں جو کتابیں بک فئیر سے لی ہیں یا پڑھنے کے لیے جمع کر رکھی ہیں ان کے نام بھی بتا سکتے ہیں تاکہ ہمارے باقی احباب بھی مستفید ہو سکیں۔

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

  • جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    آج اردو ادب کے معروف شاعر، فلسفی، اور سوانح نگار جون ایلیاء کے مداح ان کی 93 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    جون ایلیاء کا اصل نام سید جون اصغر تھا، اور وہ 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا، جہاں ادب و ثقافت کی عظیم روایات کا آغاز ہوا۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیاء، ایک بلند پایہ عالم تھے، جنہوں نے اردو، فارسی، عربی، اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی، سید محمد تقی اور رئیس امروہوی بھی اردو ادب کی دنیا کے جانے پہچانے نام تھے۔

    جون ایلیاء نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچپن میں کیا، اور صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاعری میں گہرائی اور لطافت کی نئی راہیں کھولتے گئے اور اپنی زندگی بھر کی تخلیقی سفر میں وہ اردو ادب کے منفرد شاعر بن گئے۔جون ایلیاء کی شاعری میں ایک خاص نوعیت کی بے باکی اور انفرادیت تھی، جس کی بدولت وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر بنے۔ ان کی تحریروں میں فلسفے، تاریخ، منطق، اور یورپی ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کا اندازِ تحریر اتنا نرالا اور جاندار تھا کہ وہ اردو کے روایتی اشعار سے ہٹ کر ایک نئی شعری فضا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، تنہائی، اور دنیا کی حقیقتوں کا گہرا عکس تھا۔

    شاعری کے مجموعے اور ادبی خدمات
    جون ایلیاء کے مشہور شعری مجموعوں میں "شاید”، "یعنی”، "لیکن”، "گمان” اور "گویا” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک طرف جہاں حقیقتوں اور تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے، وہیں دوسری طرف ان کے اشعار میں فلسفہ اور گہری سوچ بھی چھپی ہوئی ہوتی تھی۔جون ایلیاء نے نہ صرف شاعری میں بلکہ سوانح نگاری، فلسفے اور ادبی تنقید میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی گہری بصیرت اور وسیع علم نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معروف کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا۔

    اعزازات اور یادگار خدمات
    جون ایلیاء کی ادبی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2000ء میں انہیں "صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی” عطا کیا۔ ان کے کلام کی بازگشت آج بھی اردو ادب کے محافل میں سنائی دیتی ہے۔جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج ان کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور اردو ادب کے شائقین ان کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں، اور ان کی شاعری کو پڑھ کر اور سراہ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جون ایلیاء کا کلام آج بھی ادب کی دنیا میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور اردو شاعری کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات
    مصنفہ :قرۃالعین خالد
    مبصر :اکبر علی شاہد
    ادبی افق پر قرۃالعین خالد کا نام پوری آب و تاب سے چمکنے لگا ہے۔ آپ کا قلم صحیح معنوں میں جہاد کر رہا ہے۔ آپ کا قلم کسی طور بھی مجاہد کی تلوار سے کم نہیں۔
    ان کی پہلی تصنیف” اضطراب سے اطمینان تک “پر پہلے تبصرہ کر چکا ہوں، اس کتاب میں قرآن کی ان آیات کا ذکر ہے جن میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ مصنفہ نے بہترین انداز میں ان آیات کا ترجمہ و تفسیر بیان کی ہے ان آیات کا موجودہ دور سے تعلق بھی سمجھایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کتاب کا ہر مومن کی لائبریری میں ہونا ضروری ہے ۔

    ان کی دوسری کتاب” تسخیر کائنات“ کالمز کا مجموعہ ہے ۔ مطالعہ کے دوران میں نے محسوس کیا یہ ان کے جذبات و احساسات کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے جس خوبصورت انداز میں اپنے والدین کو خراج تحسین پیش کیا ہے وہ آنکھیں نم کر گیا ۔
    کتاب کا انتساب بھی انھوں نے اپنے والد محترم کے نام کیا ہے۔ لکھتی ہیں :
    بہت ہی پیارے انتہائی شفیق!
    سب سے محبت کرنے والے!
    انسان کے نام!
    خالد محمود
    میرے پیارے ابو جی! سلامت رہیں آمین

    اللہ پاک ہر بیٹی کی پہلی محبت اس کے والد کا سایہ اس کے سر پر سلامت رکھے آمین ثم آمین
    کتاب میں جناب قاسم علی شاہ، محمد ایوب صابر، نعمت اللہ ارشد گھمن، ہما مختار احمد اور ثنا آغا خان جیسے بہترین مصنفین کی رائے شامل ہے ۔ ان سب نے کتاب کو بہت سراہا ہے جو کہ کتاب کا حق ہے۔ یہ بلاشبہ ایک خوبصورت اور کردار ساز کتاب ہے۔ ہمارے معاشرے کے ہر پہلو پر تعمیری انداز میں بحث کی گئی ہے۔ رشتوں کی اہمیت و خوبصورتی پر خوب قلم چلایا گیا یے۔ مصنفہ نے کتاب میں نثر کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کے بھی کچھ نمونے شامل کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے ان کا شاعری کا ذوق بھی بہت خوب ہے۔ کتاب کے شروع میں رب کی ذات پاک پر چھوٹی سی نظم لکھی یے۔
    وہ والدین کے متعلق لکھتی ہیں :
    ؀ ان کے پیروں کے نیچے ہے جنت میری
    ان کی دعاؤں سے روشن ہیں بخت میرے

    رشتوں سے محبت کے ساتھ ساتھ انھوں نے بچوں کی تربیت پر خاصا زور دیا ہے، کتاب کی اہمیت جتائی ہے۔ سانحہ سیالکوٹ پڑھتے ہوئے یہ انکشاف ہوا کہ مصنفہ کتنا حساس دل رکھتی ہیں، ہر معاملے کو ہر رخ سے دیکھنے کی نگاہ رکھتی ہیں۔ ہر معاملے ہر واقعہ کو بیان کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے حوالے ان کی دین سے محبت کی نشانی ہیں۔ کرونا کے تناظر پر لکھا ان کا کالم بھی پڑھنے لائق ہے۔
    ان کی تحریر” فریب “ پڑھ کر ایسا لگا جیسے دل کو کسی نے مٹھی میں بھینچ دیا گیا ہو۔
    ” آج صائمہ کو دیا گیا فریب خود اس کی جھولی میں آ گرا، فریب اپنے مالک کو تلاش کر ہی لیتا ہے ۔ “

    اف! کتنے سچے ہیں یہ الفاظ، آئینہ دکھاتے الفاظ ۔۔۔۔
    مصنفہ کی تحریر بعنوان سٹریس (زہنی دباؤ) ہم سب کو ضرور پڑھنی چاہیے، بہت مفید تحریر ہے، جگہ کی تنگی کا احساس نہ ہوتا تو میں یہ تحریر اس تبصرے میں مکمل طور پر شامل کر دیتا۔
    کیسا حسین اتفاق ہے کہ میں یہ تبصرہ بھی سال کے آخری ماہ دسمبر میں لکھ رہا ہوں ۔ نئے سال پر ان کی نثری نظم دل کو بہت بھلی لگی۔
    ابھی سال کے آخر میں
    مجھے کچھ وعدے کرنے ہیں
    کچھ نئے سپنے بننے ہیں
    بھلا کر ماضی کی غلطیوں کو
    نئی راہوں پر چلنا ہے
    مایوسیوں کے در چھوڑ کر
    مجھے بس آگے بڑھنا ہے
    مجھے منزل کو پانا ہے
    مجھے راستہ بنانا ہے

  • مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں ادب اور فنونِ لطیفہ ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں کئی شخصیات نے اپنی ذہانت، بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں سے قوم کو شعور و آگہی فراہم کی ہے۔ ان میں انور مقصود جیسا نام بھی شامل ہے، جنہیں پاکستانی معاشرے میں طنز و مزاح کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ الفاظ کا استعمال، خاص طور پر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ، نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی شخصیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ قوم کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔شہداء کا مقام اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شہداء کسی بھی قوم کا فخر اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بناتے ہیں، ان کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستان نیوی کے اہلکار سمندروں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہمت اور بہادری کا متقاضی ہوتا ہے۔ انور مقصود جیسے سینئر اور باوقار ادیب کی جانب سے ان قربانیوں کا مذاق اڑانا نہ صرف شہداء کی توہین ہے بلکہ ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔ادب اور فنونِ لطیفہ کا مقصد ہمیشہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنا اور عوام کو مثبت پیغام دینا رہا ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات اور بیانات میں نہ صرف الفاظ کا احتیاط سے استعمال کریں بلکہ ایسی حساس موضوعات پر خاص طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ طنز و مزاح کا مطلب کسی کی تضحیک یا جذبات کو مجروح کرنا نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ مگر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ان میں کسی بھی قسم کی دانشمندی یا مزاح کا پہلو بھی موجود نہیں۔اسےضعیف العمری کہیں یا غیر ذمہ داری؟۔

    کچھ لوگ انور مقصود کے اس بیان کو ان کی ضعیف العمری اور بھول چوک کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، مگر یہ دلیل کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ضعیف العمری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اگرچہ ان کی عمر کا لحاظ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان کا احتیاط سے استعمال کریں۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اور ان کے بیانات براہ راست لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔قوم کے جذبات پر اس بات کا شدید اثر پڑا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلح افواج کو عوام کی بھرپور حمایت اور محبت حاصل ہے۔ یہاں فوجیوں کو نہ صرف محافظ بلکہ قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔ ایسے میں انور مقصود جیسے معروف فنکار کی جانب سے شہداء کا مذاق اڑانے والا بیان عوامی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف شہداء کے خاندانوں کے لیے باعثِ اذیت ہے بلکہ قوم کی مشترکہ یکجہتی اور قربانیوں کی قدردانی کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    اس بیان پرمعافی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ وقت انور مقصود کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ ایک معافی نہ صرف ان کے لیے عزت بحال کرنے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ یہ ان کی جانب سے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے لیے احترام کا اظہار بھی ہوگا۔ انور مقصود کو اپنی حیثیت اور مقام کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

    پاکستانی قوم ہمیشہ سے اپنے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے۔ یہ شخصیات قوم کے اخلاقی رہنما بھی ہوتی ہیں، اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف سماج کے مسائل پر روشنی ڈالیں بلکہ ایسی مثال قائم کریں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکے۔تحدیک نفاذ اردو کی سرپرست فاطمہ قمر صاحبہ نے انور مقصود کےاس بیان کا نوٹس لیتے ہو ئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انور مقصود ضعیف العمری میں گھٹیا بھانڈ بن چکا ہے۔شہادت کو ڈوب مرنا کہ کر,اس نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا ہے۔

    بحثیت محب وطن راقم فاطمہ قمر صاحبہ کے بیان کی پرزور تائید کرتا ہے۔انور مقصود کا پڑھے لکھے خاندان سے تعلق ہونا اور فاطمہ ٹریا بجیا کا بھائی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔ذبردست نقاد، کمال کا فنکار اور ادیب ہونا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔جو اپنے ملک، اپنی فوج کے بارے تضحیک آمیز کلمات بول کر ۔۔۔اسے نقادی،ادیبی اور فنکاری کے کپڑے پہنائے۔۔۔۔۔۔معذرت کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ ایسے ہر شخص کو ہم ۔۔۔۔اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔۔۔

    انور مقصود کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ تبصرہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے۔ شہداء کی قربانیاں کسی بھی قوم کے لیے قابل احترام ہوتی ہیں، اور ان پر طنز کرنا ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انور مقصود جیسے معروف ادیب سے ایسے غیر حساس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ان کے الفاظ نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ یہ معاشرتی اخلاقیات اور ادب کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ قوم کو یکجہتی اور احترام کے پیغام دیں۔ شہداء ہماری عزت اور فخر ہیں، ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔۔۔۔۔میں فاطمہ قمر صاحبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے۔۔۔انور مقصود کی باتوں کا نوٹس لیا۔۔اور باوجود اس کے کہ جناب موصوف کا تعلق بھی ہمارےقلم قبیلے سے ہے۔۔۔۔بتا دیا کہ پاکستان اور اسکی افواج پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ویلڈن آپا جی۔۔۔ویلڈن۔۔۔ انور مقصود جیسے فنکار کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اپنے بیانات کے ذریعے قوم میں اتحاد، محبت، اور قربانیوں کا احترام پیدا کریں۔انور مقصود کے حالیہ بیان نے قوم کے دلوں میں ایک مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ الفاظ کی اہمیت اور ان کے اثرات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلح افواج اور ان کے شہداء ہماری قومی یکجہتی کی بنیاد ہیں، اور ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھتے ہوئے آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ادب اور فن کی اصل روح یہی ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے اور ایسی مثال قائم کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہو۔

    نوٹ: آج۔کا یہ مذمتی کالم بنام انور مقصود بڑے دکھی دل کے ساتھ لکھا ہے،لیکن پاکستانی افواج کی عزت اور شہداءکے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔

    shahid naseem

  • کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    سعید آسی اردو ادب کاوہ معتبر نام ہے، جو اپنی متنوع تحریری صلاحیتوں کی بنا پر ادب، صحافت اور تحقیق میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ ان کا سفرنامہ "کس کی لگن میں پھرتے ہو” نہ صرف ایک کتاب ہے بلکہ ایک ایسا تخلیقی آئینہ ہے جو قارئین کو مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے خطوں کی تہذیب، ثقافت، اور تاریخ کے حسین رنگ دکھاتا ہے۔ یہ سفرنامہ ایک ادیب کی خالص جمالیاتی حس اور محقق کی باریک بینی کا حسین امتزاج ہے، جس نے قارئین کو ان ممالک کے دلکش مناظر اور منفرد پہلوؤں سے روشناس کرایا۔کتاب کا عنوان "کس کی لگن میں پھرتے ہو” ایک شعری کیفیت اور فلسفیانہ گہرائی کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف سفر کے ظاہری پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے باطنی معنی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ نام قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید یہ سفر صرف مقامات کے بیچ کا نہیں بلکہ ایک روحانی، فکری، اور تہذیبی جستجو بھی ہے۔سعید آسی صاحب کی نثر کا کمال یہ ہے کہ وہ سادہ مگر موثر الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کا یہ سفرنامہ بھی اس خوبی کا آئینہ دار ہے۔ ان کی تحریر کا بہاؤ اور مناظر کی جزئیات نگاری قارئین کو ان کے ساتھ ہر لمحہ محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ نہ صرف مناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں بلکہ مقامی افراد کے رہن سہن، ان کے خیالات اور اقدار کو بھی نہایت گہرائی سے پیش کرتے ہیں۔

    سعید آسی سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ 1990ء میں مالدیب گئے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ سفرنامے کا پہلا باب ’’کالا پانی‘‘ پر مشتمل ہے۔ جس میں سعید آسی نے کالا پانی کی سزا پر دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔
    سعید آسی مالدیپ کے نیلگوں پانیوں، شفاف ساحلوں اور قدرتی حسن کی شاندار تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کی سادگی، مہمان نوازی، اور مالدیپ کے منفرد ثقافتی ورثے کو بڑی محبت اور احترام سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدات نہ صرف سیاحتی مقامات تک محدود تھے بلکہ وہ ان جزائر کی تہذیب اور اس کی روحانی گہرائی میں بھی جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    برونائی کا سفر سعید آسی نے مارچ 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا۔ سعید آسی نے اپنی کتاب میں ایسے واقعات کو بھی تحریر کیا ہے جو عام مسافروں کو جہاز کے سفر میں پیش آتے ہیں۔برونائی کی شاندار مسجدیں، سلطنت کا انتظام، اور لوگوں کی روحانی وابستگی سعید آسی کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہی۔ وہ برونائی کے عوام کی خوشحالی کو نہ صرف ان کے معاشی نظام بلکہ ان کے روحانی اصولوں سے جوڑتے ہیں۔ وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح یہ چھوٹا سا ملک اپنی دولت کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    انڈونیشیا کا سفر اس کتاب کے سفرنامے کا آخری حد ہے۔ یہ سفر محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور نصرت بھٹو کے ساتھ طے ہوا۔ اس دورے میں صدرسہارتو سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس عظیم مسلمان لیڈر سے ملاقات کا تفصیلی اور سیر حاصل ذکر بھی سفرنامے بھی موجود ہے۔پاکستان میں کئی لوگوں نے سفرنامے لکھے ہیں لیکن ’’کس کی لگن میں پھرتے ہو‘‘ ایک منفرد اور دلچسپ سفرنامہ ہے۔ انڈونیشیا کی رنگا رنگی اور تہذیبی تنوع اس سفرنامے کا ایک اہم حصہ ہے۔ سعید آسی نے انڈونیشیا کے مختلف جزائر کی تاریخ، مذہبی ہم آہنگی، اور ان کی ثقافتی رنگینی کو اپنی نثر میں بڑی مہارت سے پیش کیا۔ وہ انڈونیشیا کے اسلامی ورثے کو خاص طور پر اجاگر کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔یہ کتاب ایک عام سیاحتی سفرنامے سے بڑھ کر ایک فکری اور تہذیبی جستجو کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ سعید آسی کا مشاہدہ محض خارجی دنیا تک محدود نہیں بلکہ وہ ان ممالک کے لوگوں کے جذبات، ان کی امنگوں، اور ان کی زندگی کی قدروں کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”کس کی لگن میں پھرتے ہو” صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ کتاب قارئین کو سفر کے ظاہری لطف کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں کی تہذیبی گہرائی اور روحانی تعلق کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سعید آسی اپنے قارئین کو بتاتے ہیں کہ سفر صرف جگہوں کا بدلنا نہیں بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو دریافت کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔
    saeed aasi
    سعید آسی کا یہ سفرنامہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ان کی یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک خزانہ ہے جو دنیا کو ایک سیاح، ایک محقق، اور ایک روحانی مسافر کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے حسین ممالک کی عکاسی کرتی ہے بلکہ قاری کو ایک ادیب کی دنیا کے حسین سفر پر بھی لے جاتی ہے۔ سعید آسی کی نثر، مشاہدہ، اور فلسفیانہ سوچ ان کے قارئین کے لیے ہمیشہ ایک رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔آسی صاحب کی روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ تقریبا پینتالیس برس کی رفاقت ہے۔ اُن کی کتاب ” کس کی لگن میں پھرتے ہو” بہت متاثر کن ہے۔اس کتاب کے منفرداسلوب نے انہیں اور زیادہ محبوب بنا دیا۔ وہ شعر و ادب سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں ، اُن کی اردو شاعری اور پنجابی شاعری کی دو کتابوں سمیت بارہ کتابیں منظر عام پر ہیں ۔ ایک بہت اہم دلچسپ اور منفرد بات یہ ہے کہ سعید آسی صاحب نے اپنی کسی کتاب کے لیے کسی کی رائے اوردیباچہ وغیرہ شامل نہیں کیا۔سعید آسی کے سفرنامے پر مشتمل یہ ایک ایسی کتاب ہے، جو ادب کی دنیا میں اپنی الگ ہی پہچان اور شناخت رکھتی ہے۔ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل جناب علامہ عبدالستار صاحب نے اسے بڑے پیار و محبت کے ساتھ شائع کیا ہے۔اب یہ کتاب دوبارہ دستیاب ہے،آرڈر کرنے کیلئے ـ0515101-300-0092ــ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
    shahid naseem