Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں

    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

    فیض احمد فیض.20 نومبر 1984: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فیض کی شاعرانہ قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا نام غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں کے ساتھ لیا جاتا ہے ان کی شاعری نے ان کی زندگی میں ہی سرحدوں، زبانوں، نظریوں اور عقیدوں کی حدیں توڑتے ہوے عالمگیر شہرت حاصل کر لی تھی جدید اردو شاعری کی بین الاقوامی شناخت انہی کی مرہون منت ہے ان کی آواز دل کو چھو لینے والے انقلابی نغموں، حسن و عشق کے دلنواز گیتوں،اور جبر و استحصال کے خلاف احتجاجی ترانوں کی شکل میں اپنے عہد کے انسان اور اس کے ضمیر کی مؤثر آواز بن کر ابھرتی ہے فیض 13/فروری 1912ء کو پنجاب کے ضلع نارووال کی اک چھوٹی سی بستی کالاقادر (اب فیض نگر) کے اک فارغ البال علمی گھرانے میں پیداہوئے ان کے والد محمد سلطان خاں بیرسٹر تھے فیض کی ابتدائی تعلیم مشرقی انداز میں شروع ہوئی اور انھوں نے قرآن کے دو پارے بھی حفظ کئے پھر عربی فارسی کے ساتھ انگریزی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی فیض نے عربی اور انگریزی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم فلسفہ اور انگریزی ان کے خاص مضامین تھے اس کالج میں ان کو احمد شاہ بخاری "پطرس” اور صوفی غلام مصطفی تبسم جیسے استاد اور مربی ملے تعلیم سے فارغ ہو کر 1935ء میں فیض نے امرتسر کے محمڈن اورینٹل کالج میں بطورلیکچرر ملازمت کر لی یہاں بھی انھیں اہم ادیبوں اور دانشوروں کی صحبت ملی جن میں محمد دین تاثیر، صاحبزادہ محمود الظفر اور ان کی اہلیہ رشید جہاں سجّاد ظہیراور احمد علی جیسے لوگ شامل تھے 1941ء میں فیض نے ایلس کیتھرین جارج سے شادی کر لی یہ تاثیر کی اہلیہ کی چھوٹی بہن تھیں جو 16 سال کی عمر سے برطانوی کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھیں۔شادی کی سادہ تقریب سرینگر میں تاثیر کے مکان پر منعقد ہوئی نکاح شیخ عبداللہ نے پڑھایا مجاز اور جوش ملیح آبادی نے تقریب میں شرکت کی,1977ء جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو فیضٓ کے لئے پاکستان میں رہنا ناممکن ہوگیا ان کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور کڑا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا ایک دن وہ ہاتھ میں سگرٹ تھام کر گھر سے یوں نکلے جیسے چہل قدمی کے لئے جا رہے ہوں اور سیدھے بیروت پہنچ گئے اس وقت فلسطینی تنظیم آزادی کا مرکز بیروت میں تھا اور یاسر عرفات سے ان کا یارانہ تھا بیروت میں وہ سوویت امداد یافتہ رسالہ "لوٹس” کے مدیر بنا دئے گئے 1982ء میں ، خرابیٔ صحت اور لبنان جنگ کی وجہ سے فیض پاکستان واپس آ گئے وہ دمہ اور لو بلڈ پریشر کے مریض تھے 1964ء میں انھیں ادب کے نوبیل انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن کسی فیصلہ سے پہلے 20/نومبر 1984ء کو ان کا انتقال ہوگیا فیض مجموعی طور پر اک عام ادیب و شاعر سے بہتر زندگی گزاری وہ ہمیشہ لوگوں کی محبت میں گھرے رہے وہ جہاں جاتے لوگ ان سے دیوانہ وار پیار کرتے اپنی ادبی خدمات کے لئے فیض کو بین الاقوامی سطح پر جتنا سراہا اورنوازا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی 1962ء میں سوویت یونین نے انہیں لینن امن انعام دیا جو اس وقت کی ذوقطبی دنیا میں نوبیل انعام کا بدل تصور کیا جاتا تھا۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے ان کو نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا 1976ء میں ان کو ادب کا لوٹس انعام دیا گیا 1990ء میں حکومت پاکستان نے ان کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ”نشان امتیاز” سے نوازا پھر 2011ء کو ” فیض کا سال” قرار دیا فیضٓ کی تصانیف میں نقش فریادی ،دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ،سر وادی ٔسینا، شام شہر یاراں اور میرے دل مرے مسافر کے علاوہ نثر میں میزان، صلیبیں مرے دریچے میں اور متاع لوح و قلم شامل ہیں انھوں نے دو پاکستانی فلموں جاگو سویرا اور دور ہے سکھ کا گاؤں کے لئے گیت بھی لکھے اور ہندوستانی پروڈیوسر ڈایرکٹر ایکٹر منوج کمار نے ان کی ایک غزل کو اپنی فلم "پینٹر بابو” میں 1989ء میں شامل کیا جس کو فیضٓ صاحب نے منوج کمار کو دوستی میں بطور تحفہ لکھ کردی تھیں ، فیضٓ احمد فیضٓ اور ایلس کی مشترکہ تخلیقات میں ان کی دو بیٹیاں سلیمہ اور منیزہ ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
    جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
    ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
    تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
    ترا حسن دست عیسیٰ تری یاد روئے مریم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی
    جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
    دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عہد ترک محبت ہے کس لیے آخر
    سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے .
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

    بک فئیر کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ہو یا کراچی آرٹس کونسل کا پروگرام ہمیں پکا یقین ہوتا ہے کوئی نہ کوئی جاننے والا تو ضرور ملے گا ہی۔۔ اور ان جگہوں پر ہی اپنے بیشتر ادبی احباب سے ملاقات ہوجاتی ہے ۔ لیکن شارجہ بک فئیر جاتے ہوئے ایسا کوئی خیال نہیں تھا کیونکہ یہاں ابھی ہمارے کوئی جاننے والے ہی نہیں ہیں۔ پھر بھی ہم نے احتیاطاً اپنی کتابوں کی منی کی چین رکھ لی تھیں کہ شاید کوئی مل ہی جائے۔
    جب ہم ایکسپو ،بک فئیر پہنچے تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں بتا رہی تھیں کہ یہاں کوئی پارکنگ نہیں ہے۔۔ دوبارہ پلٹ کر گئے اور کافی دور گاڑی کھڑی کر کے پھر وہاں سے پیدل چلتے ہوئے سیدھے ہال نمبر سات کے اسٹال زیڈ سات پر پہنچے۔ وہاں سرمد صاحب کے ساتھ ان کے چچا اور صبا اسلم صاحبہ بھی ان کی معاونت کے لیے موجود تھیں۔ سرمد صاحب سے تو ایک ملاقات پہلے بھی ہوچکی تھی انہوں نے فوراً ہی پہچان لیا۔ اپنے اسٹال پر موجود احباب اور اپنی کتابوں سے تعارف کروایا ۔۔ اتنے میں ایک صاحب اور آئے اور کتابیں خریدنے لگے۔ ہم حسب عادت کتابوں کو دیکھنے اور ان پر زور و شور سے تبصرے فرما رہے تھے ۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ان صاحب نے خود ہی ہم سے فرمایا اچھا تو آپ کی یہ کتابیں ہیں اور آپ راحت عائشہ ہیں۔
    جی۔۔۔ ہم نے جواب دیا۔
    میرا نام عمران مشتاق ہے۔ انہوں نے بتایا اور ہم سچ مچ اچھل پڑے۔
    ہائیں۔۔۔! یہ ہماری ڈاکٹر عمران مشتاق سے ہرگز پہلی ملاقات نہیں تھی۔۔ کراچی میں بھی ملاقات ہوچکی ہے لیکن کیا کریں کہ ہم سے اکثر چہرے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر ڈاکٹر صاحب انگلینڈ میں ہوا کرتے تھے ۔ اب وہ بھی دبئی شفٹ ہو گئے ہیں۔ سچ مچ بہت شرمندگی ہوئی ۔ لیکن ہمیں لگا وہ بھی کافی دبلے ہوگئے ہیں اس لیے نہ پہچاننے کی ساری ذمہ داری ہم ان کے مزید اسمارٹ ہونے پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی اپنی سی کوشش کی۔۔۔

    ڈاکٹر صاحب کا شمار بہترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ یوں تو وہ نفسیات کے ڈاکٹر ہیں۔ اور شاید اسی لیے وہ سوشل میڈیا سے دور رہتے ہیں۔ ان سے اچانک ملاقات پر دل باغ باغ ہوگیا ۔ ہمیں بے اختیار وہ شعر یاد آیا۔۔۔
    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔
    بہتر ہے ملاقات خضر و مسیحا سے۔۔۔
    (اگر چہ ہمیں اس کے دوسرے مصرعے پر کافی ابہام ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ )
    ہم نے انہیں اپنی منی سی کتاب کی کی چین تحفتاً پیش کی جو انہیں بہت اچھی لگی۔۔۔ پھر ہم نے اپنی کتابوں کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنوائی جس میں سرمد صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے بھی ہماری کتاب پکڑی ہوئی ہے ۔
    الحمدللہ زندگی کا ایک اور اچھا ، خوبصورت اور یادگار دن

  • اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد

    9 نومبر 2024 پاک ہیرٹج ہوٹل لاہور میں سر زبیر انصاری کی زیر سرپرستی آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے آٹھویں سالانہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینئیر نائب صدر حافظ زاہد اور نائب صدر سفیان صاحب اور ڈرامہ رائیٹر ثمینہ طاہر صاحبہ کی قیادت میں ایک شاندار پروگرام کا انتظام کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض مدیحہ کنول صاحبہ نے بخوبی انجام دئیے۔ ملک بھر سے نامور شخصیات نے ورکشاپ کا حصہ بن کر اپووا کی مثبت سرگرمیوں کو خوب سراہا۔ نامور شخصیات کی شمولیت نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اگلی نسل سے نا امید نہیں ہیں۔ نامور شخصیات میں فلم اسٹار غلام محی الدین صاحب، فلم اسٹار میگھا، سنئیر اداکارہ عذرا آفتاب کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی ابھرتی صحافی دیا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان شامل ہیں۔ ملک کے نامور شعراء کی شرکت کی وجہ سے نومولود شعراء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ وہیں ہر دم عزیر سر افتخار افی صاحب کی آمد نے محفل میں چار چاند لگا دئیے۔ اپووا ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے سینئرز کو عزت دینے کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے لکھاریوں کا بھی حوصلہ بڑھاتا ہے۔ اپووا نے اب تک کتنے کی افراد کی زندگی کو نئی راہ دکھائی ہے۔ دو سال پہلے مجھے کوئی نہیں جانتا تھا آج الحمدللہ! اللہ کے فضل وکرم سے اپووا کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے کی امنگ بھی ملی اور حوصلہ بھی ملا۔ حسن کارکردگی ایوارڈ، میگزین ٹیم ہونے کی وجہ سے میڈل اور پریس کارڈ کے لیے میں اپووا کی بے حد ممنون ہوں۔ اللہ پاک قلم کا حق ادا کرنے والا بنائے۔ اس قلم سے حق لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین! ایک بار پھر میں اپووا ٹیم کو اتنی شاندار مہمان نوازی اور شاندار ورکشاپ انعقاد کرنے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں بھی اپووا کا حصہ ہوں۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    جب کیمبل پور جل رہا تھا ،تبصرہ نگار ۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

    تقسیم ہند سے پہلے جن شہروں کو محبت کے ساتھ بسایا گیا ان میں لائل پور، جیکب آباد، ایبٹ آباد، منٹگمری اور کیمبل پور جیسے شہر خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیے جاتے ہیں
    1947 میں جب بٹوارہ ہوا تب پورا پنجاب جل اٹھا تھا یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیمبل پور کی تاریخ بھی خاک اور خون سے بھری ہوئی ہے لیکن اس تاریخ پر وقت کی دھول کچھ اس طرح بیٹھ چکی تھی کہ عام آدمی کی رسائی اس خونچکاں منظر تک نہیں پہنچ سکتی تھی حال ہی میں کیمبل پور اٹک سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق جناب طاہر اسیر نے اس تاریخ سے پردہ اٹھایا اور ہمارے سامنے ایک کتاب بہ عنوان جب کیمبل پور جل رہا تھا، سامنے لے آئے، یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے اتنی منفرد اور یکتا ہے کہ اس سے پہلے تقسیم ہند پر اس خطہ خاک پر کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی فاضل محقق نے اس دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے .

    پہلا حصہ کیمبل پور شہر کو بسائے جانے اور اس کی خوبصوتیوں سے متعلق ہے، محقق نے بڑے احسن طریقے سے قدیم کیمبل پور شہر کے روشن خدوخال نمایاں کیے ہیں 1911 میں ہونے والی مردم شماری سے لے کر 14 ۔اگست 1947 کے بٹوارے تک کیمبل پور کے حسن میں اضافہ کرنے والے مندر چوک، منگ لدھا چوک، گیڈر چوک، کراچی ہوٹل، تولہ رام پیلس اور حویلی جگن کشور کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہیں پرانے شراب خانے سونامینا، قدیم درختوں، گورنمنٹ کالج کیمبل پور کے پروفیسروں، سردار پریم سنگھ، ایشرسنگھ، ایش کمار پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے، پرانے احوال و آثار میں ہندووں کا سکول، این پی ٹی بس سٹینڈ، بھولے بسرے کوچوان، تانگوں کے مستری، کیمبل پور جنکشن، بمبی ایکسپریس اور اندرون شہر مزارات کو نہایت تحقیق کے ساتھ فاضل محقق نے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے، اسی تاریخی دستاویز میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ محبتوں بھری اس بستی میں تقسیم سے پہلے کتنی محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا ہوا کرتی تھی، دیوالی، بسنت، ہولی اور دسہرا جیسے تہوار کس قدر محبتوں سے منائے جاتے تھے ، شہر کے زندہ کرداروں میں جیتا رام، بی آر سہگل، جونا سنگھ، پنڈت بھوپال چند بلبیر سنگھ اور لالا فقیر چند ایڈوکیٹ اس شہر کی رونق تھے آج ہمیں آریا سماج مندر، سیتا رام مندر، گردوارہ ڈی بلاک، گردوارہ گوبند صاحب اور وہ مرکزی گردوارہ دکھائی نہیں دیتا جو تقسیم ہند سے پہلے موجود تھا

    مختصر یہ کہ پہلا باب اس شہر کے حسن و جمال کو بیان کرتا ہے فاضل محقق نے دوسرے اور تیسرے باب میں ہندو مسلم فسادات کی لرزہ خیز داستان بیان کی ہے، ان ابواب میں لکھا گیا ہے کہ کتنی ہندو اور سکھ لڑکیوں کا اغوا ہوا، کتنی ہی بیٹیاں قتل ہو گئیں اور کیسے کیسے ہنستے بستے گھر اجڑ گئے، کس طرح محبتوں بھری بستی میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں اور کون سوچ سکتا تھا کہ محبتیں نفرت میں بدل جائیں گی، مندروں پر حملے ہوں گے، کیمبل پور کے کنویں لاشوں سے بھر جائیں گے، یہی سچ ہے اور یہی صداقتیں ہمیں اسی کتاب میں دکھائی دیتی ہیں

    جب بٹوارہ ہو چکا تو لوگوں نے کس طرح املاک پر قبضے کیے جھوٹے فرضی کلیم داخل کروائے گئے قیمتی جائیدادیں رشوت کے ذریعہ ہتھیا لی گئیں، فقیر امیر ہو گئے اور اجڑ کے آنے والے نواب اپنی قسمت کو پیٹتے ہوئے تہی دامن رہ گئے

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہر صاحب شعور کو اپنے ماضی کی خوبصورتی اور بدصورتی کو سامنے رکھنا ہوگا اور کھلے دل کے ساتھ حقائق تسلیم کرنا پڑیں گے میں نے اس کتاب کو ہر حوالے سے منفرد اور مستند پایا ہے ایک قیامت تھی جو اس شہر پہ گزر گئی تھی بقول احمد علی ثاقب بٹوارہ محبت کا ہو یا نفرت کا دونوں صورتوں میں قیامت خیز ہوتا ہے یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے استاد دامن کے دو شعر یاد آ رہے ہیں

    لالی اکھاں دی صاف پئی دسدی اے
    روئے تُسی وی او روئے اسی وی آں
    انہاں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا
    ہوئے تسی وی او ہوئے اسی وی آں

  • حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام،تحریر:گلناز کوثر

    حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے بینرتلے ”مایا“ پر گفتگو کا اہتمام کیا گیا، میرے لیے یہ شام بلاشبہ کئی شاموں پر بھاری تھی جسے میں نے بڑی احتیاط سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ، خلیق الرحمن اور ارشد معراج جیسے دوستوں کا ساتھ قسمت کی مہربانی ہے.

    ”حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا گزشتہ اجلاس 8 نومبر 2024 کو کانفرنس ہال اکادمی ادبیات پاکستان میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں برطانیہ سے تشریف لائیں منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ گلناز کوثر کے نظمیہ مجموعہ "مایا” کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ کیا گیا۔ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ممتاز شاعر و دانشور پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر نے کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر وحید احمد بوجہ ناسازی طبیعت تشریف نہ لا سکے۔ سٹیج پر موجود دیگر مہمانِ خاص میں جناب محمد حمید شاہد، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش اور جناب ڈاکٹر ارشد معراج شامل تھے۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری حلقہ جناب ڈاکٹر خلیق الرحمٰن نے سرانجام دیے۔ انہوں نے محترمہ پروین طاہر کا مضمون پڑھ کر سنایا جو بوجوہ تشریف نہ پاسکیں۔ اس کے بعد جن معروف علمی و ادبی شخصیات نے مایا کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کی ان میں جناب منیر فیاض، محترمہ ڈاکٹر فاخرہ نورین، جناب ڈاکٹر ارشد معراج، جناب ڈاکٹر صلاح الدین درویش، جناب ڈاکٹر ثاقب ندیم، جناب محمد حمید شاہد اور جناب پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر شامل تھے۔ اس موقع پر محترمہ گلناز کوثر صاحبہ کو علمی ادبی شخصیات نے پاکستان آمد پر خوش آمدید بھی کہا اور انہیں گلدستے اور اپنے تازہ مجموعہ کلام پیش کیے۔ تقریب بہت بھرپور اور شاندار رہی۔ تقریب میں جڑواں شہروں کے علاوہ مختلف شہروں اور بیرون ملک مقیم مقیم اہم علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں

    ڈاکٹر مینا نقوی ،یوم وفات 15 نومبر

    ہندوستان کی معروف شاورہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ کا اصل نام منیر زہرہ اور تخلص میناؔ ہے ۔ وہ نگینہ ضلع بجنور، اتر پردیش میں سیّد التجا حسین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ ان کی دو بہنیں نصرت مہدی اور علینا عترت ہیں۔ آپ درس وتدریس کے مقدس فریضے سے وابستہ تھیں۔

    مینا نقوی کی شاعری ،عصری ادب میں جن حوالوں سے پہچانی جاتی ہے ان میں ان کی سادگی اور زندگی کی مثبت قدروں کے احترام کو ا ولیت حاصل ہے۔یہ سچ ہے کہ ان کی شاعری کا خمیر بھی دیگر شعراء کی طرح رومانی جذبات و احساسات کی آمیزش سے تیار ہوا ہے مگر ان کی شعری کائنات میں زندگی کے مسائل و مصائب اور عصری فکر و شعور کا جذبہ بھی قابلِ ذکر ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقی ریاضت اور شعری تجربے نے ان کی شاعری کا کینوس وسیع کر دیا ہے۔ مینا نقوی کئی برسوں سے شاعری کر رہی تھیں اور اب تک ان کے نو ( ۹) شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں اور انہیں متعدد اعزازات و انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :
    1-سائبان (اردو) 2-بابان…(اردو) 3-درد پت
    جھڑ کا (ہندی) 4-کرچییاں درد کی (اردو) 5-کرچیاں درد کی( ہندی) 6-جاگتی آنکھیں (اردو) 7-دھوپ چھاؤں (.ہندی) 8- منزل 9 – آئینہ

    سیدہ مینا نقوی کافی عرصے سے سرطان جیسے مہلک مرض سے نبرد آزما تھیں اور 15 نومبر 2020 کو انتقال کر گئیں

    منتخب اشعار
    یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتے ہیں
    طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں

    دھوپ آئی نہیں مکان میں کیا
    ابر گہرا ہے آسمان میں کیا

    یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں
    انا کے حق میں کثیر ہوں میں

    جب اسے دیکھا ذرا نزدیک سے
    تب سمجھ پائے ہیں تھوڑا ٹھیک سے

    چاند کیسے کسی تارے میں سما جائے گا
    پھر بھی امید کو ضد ہے کہ وہ آ جائے گا

    محبتوں میں وفا کا حساب دے گا کون
    اندھیری شب کے لئے آفتاب دے گا کون

    پھول مہکائے تھے میں نے شادمانی کے لیے
    ہر نفس اب مر رہی ہوں زندگانی کے لیے

    مزاج اپنے کہاں آج ہیں ٹھکانے پر
    حضور آئے ہیں میرے غریب خانے پر

    آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے
    جس دن سے محترم ہوا قاتل مرے لئے

    کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں
    اک انتظار کا موسم رہا ہے آنکھوں میں

    آنکھوں میں رنگ پیار کے بھرنے لگی ہوں میں
    آئینہ سامنے ہے سنورنے لگی ہوں میں

    تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے
    روشنی دن کی سیہ رات ہوا کرتی ہے

    اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ
    تو مری جان ہے جاناں کی طرح واپس آ

    حالات کے دریاؤں میں خطرے کے نشاں تک
    چل پائیں گے کیا آپ مرے ساتھ وہاں تک

    جب چاندنیاں گھر کی دہلیز پہ چلتی ہیں
    آسیب زدہ روحیں سڑکوں پہ ٹہلتی ہیں

    کس طرح چبھتے ہوئے خار سے خوشبو آئے
    پھول ہوں لفظ تو اظہار سے خوشبو آئے

    غم نہیں ہے چاہے جتنی تیرگی قائم رہے
    مجھ پہ بس تیری نظر کی چاندنی قائم رہے

    جب سے ترے لہجے میں تھکن بول رہی ہے
    دل میں مرے سورج کی جلن بول رہی ہے

    ڈاکٹر مینا نقوی

  • دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    دبستان بولان کا ماہانہ مشاعرہ

    پچھلے مہینے دبستان بولان اپنے سہ روزہ کل پاکستان ادبی میلے سے بہ حسن خوبی سبکدوش ہو کر نومبر سے پھر اپنے ماہانہ مشاعروں کا حسب معمول آغاز کر دیا ہے۔

    اب کے دس نومبر کو ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ایک طویل غیر حاضری کے بعد سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے بھی شرکت کی جس کی عدم موجودگی کو دبستان بولان مسلسل محسوس کر رہا تھا اس غیر حاضری کی وجہ ان کی بیرون کوئٹہ منصبی ذمہ داریاں ہیں گویا وہ اس وقت شہر بدری کے عرصے میں زندگی گزار رہے ہیں بقول محسن بھوپالی:
    تادیر ہم بہ دیدۂ تر دیکھتے رہے
    یادیں تھیں جس میں دفن وہ گھر دیکھتے رہے
    ان کے علاوہ فارسی اور اردو کے معروف بزرگ شاعر سید جواد موسوی بھی کافی مدت کے بعد تشریف لائے تھے گویا مشاعرہ گاہ ایک ملاقات گاہ میں تبدل ہوا بقول امیر مینائی:
    امیر جمع ہیں احباب درد_دل کہہ لے
    پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے
    بہر حال مشاعرے کا آغاز تلاوت آیات پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب قاری صادق علی نے حاصل کی جن کی دل موہ لینے والی تلاوت نے ایک وجدانی کیفیت پیدا کردی پھر انہوں نوجوانوں سے خطاب کے عنوان سے ایک خوبصورت فارسی نظم بہت خوبصورتی ترنم سے پیش کی آپ بھی بڑی مدت کے بعد رونق محفل بنے۔
    مشاعرہ کی صدارت سید جود موسوی نے کی جبکہ مہمان خاص سرجن ذاکر اعظم بنگلزئی تھے۔ نظامت کے فرائض حسب معمول دبستان کے اسٹیج سکریٹری پروفیسر اکبر ساسولی نے انجام دئیے۔ان کے علاوہ پروفیسر صدف چنگیزی، جناب شفقت عاصمی، جناب جرات علی رضی اور جناب عرفان عابد شریک مشاعرہ تھے۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں 03030204604

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور ننھا لکھاری علی حیدر بھنڈر،تحریر:سجاد علی بھنڈر

    میں سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ ایم ایم علی بانی و چیئرمین اپووا ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران کا دل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے میرا ایک دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کروایا ۔اپووا کے پلیٹ فارم پر محترم زبیر احمد انصاری اور ایم ایم علی صاحب کی گراں قدر خدمات لائق تحسین ہیں ۔میں ایک ادنیٰ سا گمنام کالم نگار ہوں اور ایک عرصے سے فیس بک پر اپووا میں شامل سینئر لکھاریوں کی تحاریر پڑھ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ کاش میں بھی کبھی ان کی صف میں شامل ہو پاؤں گا کہ نہیں !پھر ایک دن اچانک اپووا کے فیس بُک پیج پر مجھے میرے ہی نام کا پوسٹر نظر آیا ۔
    اللّٰہ اکبر
    میری خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی میں نے ایم ایم علی بھائی کو میسنجر پر سلام پیش کیا اور انھوں نے اپنا نمبر سینڈ کر دیا ۔اور یوں پہلی بار میرا رابطہ میرے محسن کے ساتھ ہوا ۔میں دل سے شکر گزار ہوں اور ایم ایم علی صاحب کے لیے ہمیشہ دعا گو ہوں سر اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور مزید عزت و تکریم سے نوازے ۔
    اب باری تھی تربیتی ورکشاپ میں جانے کی ۔ الحمدللہ علی حیدر بھنڈر میرا اکلوتا نور چشم ہے اور میں اپنی ساری زندگی کی دینی و دنیاوی جمع پونجی خرچ کر کے اسے ایک پہچان دینا چاہتا ہوں اور شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں ۔علم و ادب اور تہذیب و تمدن ہمیشہ میرے پسندیدہ مشاغل میں سر فہرست رہے ہیں ۔ لہذا میں علی حیدر بھنڈر میں بھی وہی گن بھرنا چاہتا ہوں ۔اسی لیے میں نے ایم ایم علی صاحب سے گزارش کی کہ مجھے علی حیدر کو ساتھ لانے کی اجازت دیں جس پر انھوں نے بخوشی اظہار مسرت فرمایا ۔

    دراصل میں علی حیدر کو کامیاب لوگوں کی کامیابی کی داستانیں ان کی اپنی زبانی سنوانا چاہتا تھا تاکہ علی حیدر کے دل میں بھی ادب سے محبت کا پودا پروان چڑھ سکے ۔لہذا ہم ایک پھولوں کا خوبصورت گلدستہ لے کر بروقت پر منزل مقصود ہیریٹیج ہوٹل جا پہنچے ۔ایم ایم علی بھائی نے کھلے بازو ہمارا استقبال کیا اور علی حیدر کے سر پر دست شفقت پھیرا ۔بس پھر ہم بھی تقریب کا حصہ بن گئے ۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے آغاز ہوا اور پھر ایک ایک کرکے مقررین نے حاضرین محفل سے خطاب فرمایا ۔اپووا تربیتی ورکشاپ میں شامل سینئر صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شعراء کرام اور ڈراما نگاروں کے خصوصی لیکچرز پیش کیے گئے جس کی چند جھلکیاں آپ کی بصارتوں کی نذر۔

    قلم کاروں ‘ لکھاریوں‘صحافیوں ‘ادیبوں اور شاعروں کی نمائندہ جماعت آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام نوآموز لکھاریوں اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کیلئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے نامور لکھاریوں ، صحافیوں ۔ ادیبوں ۔ شاعروں ۔ ادارکاروں اور ڈاکٹرز سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔سینئر صحافی و کالم نگار ارشاد عارف ۔معروف اینکر پرسن ریحام خان ۔ لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب اور میگھا جی ۔ لیجنڈ اداکار غلام محی الدین ۔ بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی ۔ موٹیویشنل سپیکر اختر عباس ۔ معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر ۔ سینئر صحافی عنبرین فاطمہ ۔ معروف شاعر و استاد پروفیسر ناصر بشیر ۔ نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید ۔ افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی ۔ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی ۔ نوجوان نسل کے معروف شاعر اتباف ابرک ۔ رپورٹر جیو نیوز دعا مرزا ۔ تجزیہ نگار نوید چوہدری ۔ معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیر ۔ معروف شاعرہ مہوش لاشاری ۔ میگزین ایڈیٹر ندیم نذر ۔ عقیل انجم اعوان ۔ ریاض احمد احسان اور ندیم اختر سمیت دیگر نے شرکت کی اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صرف لکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اچھا اور بہترین لکھنا ہی آپ کو بے مثال بناتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں کیونکہ اچھا لکھاری ہوتا ہی وہی ہے جو اچھا پڑھنے والا ہو ۔ خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی ایک قدم آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے ۔ صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے ۔
    تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہال اپنے وسیع ہونے کے باوجود تنگی داماں کا منظر پیش کرتا رہا ۔ دورانِ تقریب اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈ ۔ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ۔ اس ورکشاپ کی ایک بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں ’’میڈیکل کیمپ‘‘ بھی لگایا گیا تھا اور ڈاکٹرز کا ایک پورا پینل وہاں فری چیک اپ کرنے کے لیے ورکشاپ کے اختتام تک موجود رہا اور شرکاء اپنے طبعی مسائل اُن کے ساتھ ڈسکس کرتے رہے ۔ آخر میں اپووا انتظامیہ نے یہ عہد کیا کہ ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسے کامیاب پروگرام کرواتے رہیں گے اور تنظیم کا گراف انشاءاللہ العزیز مزید اوپر جائے گا ۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے پرتکلف ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔دھند اور سموگ کی وجہ سے موسم کی خرابی کے باوجود دور دراز سے آنے والے شرکاء کا اپووا کے عہدیداران کی جانب سے خصوصی شکریہ ادا کیا گیا,اور یوں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی ۔

    اب واپس آتے ہیں علی حیدر بھنڈر صاحب کی جانب ۔علی حیدر کی خواہش تھی کہ اس کے بابا جان بھی اسٹیج پر جائیں اور خطاب کریں ۔شیلڈز اور ایوارڈ کی تقسیم ہوئی ۔ میڈلز اور اسناد بھی تقسیم کئے گئے ۔علی حیدر یہی سوچتا رہا کہ اس کے بابا جان کے حصے میں بھی کچھ نہ کچھ تو ضرور آئے گا ۔یہی وجہ تھی کہ علی حیدر 2 بار شیلڈز والی ٹیبل پر گیا اور ایک ایک نام پڑھ کر اپنے بابا جان کا نام تلاشتہ رہا ۔علی حیدر پھر بھی پر امید تھا کہ شاید اس کی تلاش میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی اور بابا جان کا نام اسے نظر ہی نہیں آیا ہو گا وہ تقریب کے آخری لمحات تک پر امید تھا ۔کیونکہ اس کے بابا جان اس کے لیے سب سے اچھے ہیں ۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جس مقام پر آج اپنے بابا جان کے ساتھ آیا ہے اس کے بابا جان عمر میں چاہے بڑے تھے لیکن علم و ہنر اور تجربے کے لحاظ سے سب سے جونیئر تھے ۔بحرحال ایم ایم علی صاحب کی شفقت سے ملنے والے خوبصورت لفافہ میری لاج رکھ گیا اور اس میں سے ایک تعریفی سند بھی مل گئی لہذا میں نے اس سند پر ننھے لکھاری علی حیدر بھنڈر کا نام لکھا اور افتخار افی صاحب سے گزارش کی کہ ہمارے ساتھ ایک تصویر بنوا لیں ۔ افتخار افی صاحب نے ہمارا مان بڑھایا اور ایک یادگار تصویر بنوا کر شفقت فرمائی ۔
    شکریہ سر سلامت رہئے ۔

    سیالکوٹ سے آئیں فاکہہ قمر آپی نے بھی علی حیدر کے ساتھ یادگار تصویر بنوائی جو انشاء اللّٰہ اسے مستقل میں اعزاز محسوس ہو گا ۔ریاض احمد احسان صاحب نے علی حیدر کی آٹو گراف ڈائری پر سب سے پہلا آٹو گراف دیا اور خوب محبت کا اظہار کیا ۔ثناء آغا خان میری پیاری سی چھوٹی بہن نے بھی علی حیدر کو آٹو گراف دیا اور ڈائری میں نصیحت رقم کی کہ علی حیدر والدین بہت قیمتی ہیں ان سے محبت کرو اور ہمیشہ خوش رہو ۔مشہور شاعرہ مہوش لاشاری صاحبہ نے بے خیالی میں لی گئی علی کی تصویر اسٹیج پر ان کے ساتھ دیکھ کر شکوہ لکھا کہ انھیں متوجہ کیوں نہیں کیا گیا ۔ورنہ میں خود علی حیدر کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنواتی ۔یہ واقعی ان کا بڑاپن ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آپی انشاء اللّٰہ میری پوری کوشش ہے کہ بہت جلد علی حیدر شاعروں اور ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو جائے ۔

    ماشاءاللہ علی حیدر بھنڈر پلے گروپ سے ہر سال مسلسل فرسٹ پوزیشن کی شیلڈ حاصل کرتا آ رہا ہے ۔اور الحمدللہ اس کے بابا جان نے بھی ہر شعبے میں ہمیشہ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور صحافی ہونے کے ناطے کسی بھی صحافی کا ڈپٹی کمشنر لاہور سے آن ریکارڈ شیلڈ حاصل کرنا بھی ایک منفرد روایت ہے ۔میں دل کی گہرائیوں سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ۔ بانی و چیئرمین ایم ایم علی ۔ صدر حافظ زاہد محمود اور جن بہن بھائیوں کے نام مجھے یاد نہیں ان سب کا شکر گزار ہوں ۔اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ شاد و آباد اور مزید کامیابیوں سے سرفراز فرمائے ۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سبز خط اور شرمیلا لکھاری ،تحریر:مجیداحمد جائی

    سجادجہانیہ کے بقول ادب اطفال کے ذیل میں دبستان ِملتان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں علی عمران ممتاز اپنے نام کی طرح ایک منفرد اور ممتاز حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں ۔ادب اطفال کو ذریعہ ِاظہار بنا کر انھوں نے ملکی سطح پر شہرت اور شناخت پائی ہے ۔علی عمران ممتاز ادب اِطفال پر تیرہ کتب اب تک تصنیف کر چکے ہیں جن میں سے دو کو صدارتی ایوارڈ سے نوازاجاچکا ہے ۔یہ امر دبستان ِملتان کے لیے نہایت خوش کن اور قابل ِفخر و اعزاز ہے ۔

    ”سبزخط“علی عمران ممتاز کی بچوں اور ٹین ایجرز کے لیے لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل کتاب ہے ۔یہ پڑھنے میں کہانیاں ہیں ۔سمجھنے میں راہی کوراستادکھاتی ہیں ۔نصیحتیں کرتی یہ کہانیاں ہمیں سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت وحدیث پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتی ہیں ۔بچوں اور بڑوں کو کہانی کے انداز میں درس دینا بہترین حکمت عملی ہے ۔ہر کہانی کا انداز الگ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچے کہانی میں مکمل طور پر دل چسپی لیتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں ۔

    علی عمران ممتاز ”پہلی بات“میں قلم فرسائی کرتے ہوئے کہتے ہیں ”میری کوشش رہی ہے کہ تعلیمات نبوی کی روشنی میں بچوں کو روشن راہ دکھا سکوں اور بچوں کو بتا سکوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی آئے گا۔آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی حیات ِمبارکہ بچوں ہی نہیں بڑوں کی عملی زندگی کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔”سبزخط“کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

    اختر عباس،علی عمران ممتاز کے بارے میں لکھتے ہیں ”اللہ جی انسانوں کی بھیڑ میں کم کم لوگوں کو ممتاز کرتے ہیں ۔ہم نے البتہ اپنی آنکھوں سے ملتان کے ایک نوعمر لڑکے کو اللہ جی کی رحمت کے سائے میں آتے اور پھر دھیرے دھیرے علی عمران ممتاز بنتے اور لکھنے والوں میں ممتاز ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔اب اس کی پہچان محنت کش قاری و لکھاری کی نہیں ہے بلکہ اس کا تخلیقی کام اپنی خوب صورتی ،وسعت اور مقدار میں بھی نظر آتا ہے ۔اب وہ دو رسائل کے مدیر اعلیٰ ہونے کی کامیابی سے آسودہ ہے ۔کتنی ہی کتابیں اس کے قلم سے لکھی اور ترتیب پاگئی ہیں ۔”سبز خط“کی کہانیاں اس کے اعزازت میں اضافے کا باعث بننے والی ہیں ۔
    ریاض عادل لکھتے ہیں ”سبز خط“علی عمران ممتاز کی بچوں کے لیے کہانیوں کی نئی کتاب ہے جسے ہم سیرت کہانی یا حدیث کہانی کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔علی عمران ممتاز نے تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں ،بچوں کو کہانیوں کی صورت میں ،سماجی بُرائیوں سے دور اور محفوظ رہنے کی تعلیم دی ہے ۔علی عمران ممتاز کی کہانیاں بچوں کو یہ باور کرانے کی ایک بھر پور کوشش ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہمارے لیے ایک مکمل نمونئہ حیات ہے ۔سماجی بگاڑسے بچنے کی واحد صورت یہی کہ بچوں کو جو ہمارا مستقبل ہیں ،سیرت طبیہ کے مختلف پہلوﺅں سے روشناس کروایا جائے۔

    علی عمران ممتازکی شخصیت اپنے اندر نام کی طرح تمام تر خوبیاں رکھتی ہے ۔خود میں بھی دو دہائیوں سے علی عمران ممتاز کو پڑھ اور دیکھ رہا ہوں ،مل رہا ہوں ،سمجھ رہاہوں۔کئی سفرایک ساتھ ہوئے ۔محفلیں سجیں،طبیعت کا شرمیلا یہ نوجوان اپنے اندر بے پناہ خوبیاں رکھتا ہے ۔اندازدھیما،گفتار سے گھبرانے والا ،قلم فرسائی کا شاہ سوار،لبوں پر مسکراہٹ رکھنے والا مردِقلندر ہے ۔ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا ،اللہ سے محبت کرنے والا اور اسی ذات کریمی کا ذکر کرنے والا ہے ۔اس کی کامیابی و شہرت کی یہی وجہ ہے ۔اسی کے نام سے یہ مقام پاتا ہے اور نوازا گیا ہے ۔اس کی زندگی کے کئی پہلوہیں اور ہر پہلو اپنے اندر ایک جہاں رکھتا ہے ۔
    اس کا قلم محترک اور جوان ہے ۔اسلوب ِنگارش سادہ اور رواں ہے ۔زبان آسان اور عام فہم ہے ۔یہ دلوں میں اُتر جانے کا ہنر جانتا ہے ۔یہی چیز اس کی تحریروں میں جھلکتی ہے ۔چاہے کہانی ہو یا افسانہ ،ناول ہو ناولٹ۔ملنسار اور ہنس مکھ نوجوان (جوشاید اب نہیں )ہر دل میں اپنی جگہ بنانے کا ہنر جانتا ہے ۔اسی کے قلم سے موتی بن کر نکلنے والے لفظ”سبز خط“کی صورت ہمارے سامنے ہیں۔

    ”سبز خط“مجھے دو بار پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔اس کا پروف بھی کیا ہے ۔اس کتاب میں کل چودہ (14) کہانیاں ہیں ۔ہر کہانی اپنے الگ اسلوب سے متاثر کرتی ہے ۔”سبزخط“سر ورق کہانی ہے ۔اس تخیلاتی کہانی نے رونگٹے کھڑے کر دئیے ہیں ۔ایک یتیم بچی جو قبرستان میں اپنی بڑی بہن کے ساتھ جھونپڑی میں رہتی ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتی ہے اور اپنا حال ِ دل بیان کرتی ہے اور مدد کے لیے بلوادیتی ہے ۔خط پر واپسی کا پتا لکھنا بھول جاتی ہے ۔جب ڈاکیا وہ منفرد خط دیکھتا ہے تو گھر بیوی سے ذکر کرتا ہے ۔ان کی اولاد نہیں ہوتی ۔ڈاکیا اس بچی سے ملنا چاہتا ہے لیکن خط سے معلومات نہیں ملتی ۔اسی کش مکش میں دوسرا خط بھی مل جاتا ہے ۔جس پر واپسی کا پتا درج ہوتا ہے ۔ڈاکیا کی مشکل آسان ہو جاتی ہے اور وہ اس بچی تک پہنچ جاتے ہیں ۔آگے کیا ہوتا ہے یہ کہانی پڑھ لیجیے ۔میری طرح آپ بھی نم دیدہ ہو جائیں گے ۔
    ”سبزخط“کی چند منفرد کہانیوں کے عنوان دیکھیے ”جنت کی مٹی “۔”میں کون ہوں “،یہ انعام تمھارا ہے “نیا گھر “اور”بارہ سو ساٹھ روپے “وغیرہ ۔معروف بچوں کے لکھاری ریاض عادل ،مزاح نگار حافظ محمد مظفر محسن اور نامورکالم و کہانی کار سجاد جہانیہ نے قلم فرسائی کرکے لکھاری اور اس کے فن پر سیرحاصل گفت گو کی ہے ۔
    ”سبز خط“کا انتساب ان بچوں کے نام کیا گیا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کو اپنے لیے مشعل ِراہ مانتے ہیں اور آپ کی سنت و احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہیں ۔کرن کرن روشنی پبلشرز نے فروری 2014ءمیں شائع کی ہے ۔سرورق معظم حسن واصفی نے تخلیق کیا ہے ۔کتاب کی قیمت سات سو روپے ہے اور کرن کرن روشنی پبلشرز سے رابطہ کرکے منگوائی جا سکتی ہے ۔سجادجہانیہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے میں بھی پُر اُمید ہوں کہ خالق ارض و سماعلی عمران ممتاز کو اس میدان میں استقامت و کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے اور کرتا رہے گا ۔ان شاءاللہ ۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی اٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ لاہور کے مقامی ہوٹل میں نو نومبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں پورے ملک سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین نے بھرپور شرکت کی۔لوگ دور دراز سے اپنے پسندیدہ شعراء، ادباء، اینکر پرسنز اور ادب کی دیگر اصناف سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیکچرز سننے کے لیے آئے۔ دنیائے ادب کی نامور شخصیات نے تقریب میں تشریف لا کر اس خوبصورت محفل کو چار چاند لگا دئیے۔نظامت کے فرائض راقم نے سر انجام دئیے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔محترم حافظ محمد زاہد نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی۔صدارتی ایوارڈ یافتہ نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ کر سماں باندھ دیا۔9 نومبر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دن کی مناسبت سے کلام اقبال پیش کیا گیا۔ڈاکٹر کوثر اقبال صاحبہ نے ترنم سے کلام اقبال پیش کیا اور داد پائی۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی صدر پنجاب محترمہ ریحانہ عثمانی نے اپووا کا تعارف،اغراض ومقاصد،سالانہ تربیتی ورکشاپس،لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ، اپووا کتاب ایوارڈ،سیمینارز اور تقریبات، تفریحی دورے،اپووا پبلیکیشن ،اپووا ڈائجسٹ،اپوواویب سائٹ، اپوواموبائل ایپلیکیشن،اپووا فیملی اور اپووا فنڈ کے بارے میں معلومات فراہم کیں اورحاضرین محفل کی معلومات میں اضافہ کیا۔

    پروگرام کا اگلا مرحلہ اپووا کامیابی کی کہانیاں ان ممبرزکے لیے تھا جو ادب کےمختلف شعبہ جات میں کام کر رہے تھے اپووا میں شمولیت نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیااور جواپووا میں بطور ممبر شامل ہوے، اپنی پہچان بنائی اور اب ادب کے مختلف شعبوں میں کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مرحلے کی صدارت اپووا کی خواتین ونگ کی صدر محترمہ ثمینہ طاہر بٹ نے کی۔سب سے پہلے اپووا کے بانی ایم ایم علی نے اپووا بنانے کا مقصد اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اس کے بعدثمینہ طاہر بٹ،ریحانہ عثمانی،سفیان علی فاروقی،سحرش خان،مہوش لاشاری،نبیلہ اکبراور مدیحہ کنول نے اپنی کامیابی کی کہانی شئیر کی۔
    اپووا سر پرست اعلی جناب زبیر احمد انصاری صاحب
    لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری صاحب
    سینئر صحافی و کالم نگار جناب ارشاد عارف صاحب
    فلاحی شخصیت سیدہ بلقیس اصغر صاحبہ
    معروف اینکر پرسن ریحام خان صاحبہ
    لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب صاحبہ
    اداکارہ اور گلوکارہ میگھا جی
    اینکر پرسن ثنا آغا خان
    لیجنڈ اداکار غلام محی الدین صاحب
    بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی صاحب
    موٹیویشنل سپیکر اختر عباس صاحب
    معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر صاحب
    سینئر صحافی عنبرین فاطمہ صاحبہ
    معروف شاعر و استاد پروفیسرناصر بشیر صاحب
    نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب
    افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی صاحب
    معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی صاحب
    نوجوان نسل کے معروف شاعرمحترم اتباف ابرک صاحب
    رپورٹر جیو نیوز دعا مرزاصاحبہ
    سینئر تجزیہ نگار نوید چوہدری صاحب
    معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیئر صاحب
    میگزین ایڈیٹرجناب ندیم نظر صاحب
    شاعر آغر ندیم سحرصاحب
    رائٹر،ایڈیٹرندیم اختر صاحب
    مصنف عقیل انجم اعوان
    ادبی شخصیت ریاض احمدحسان صاحب
    سمیت کئی بڑے نام اسٹیج پر جلوہ افروز رہے۔
    تمام محترم مہمانان گرامی نے باری باری ڈائس پر آکر اپنے نادر خیالات کا اظہار کیا۔ نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ اچھا لکھاری وہی ہوتا ہے جو اچھا قاری ہو ۔ اورا س کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں۔ معاشرے کی ترقی و ترویج کے لیے قلم کے ذریعے جو کردار ادا کر سکیں ضرور کریں ۔مزید برآں کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں کبھی نہ کبھی آپ کو اس کام کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔ لوگ وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنے قلم سے وہ سب دکھا سکتے ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہے ۔معاشرے کی موجودہ ابتد حالت اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل بھی موضوع سخن رہے۔خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے۔ عورتوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں وہ کسی بھی خوف سے آزاد ہو کر ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے قلم اور عمل سے خود کو منوا سکیں اور معاشرے پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہو سکیں ۔

    مقررین نے سرپرست اپووا زبیر احمد انصاری،بانی اپووا ایم ایم علی،صدر حافظ محمد زاہد،سمیت دیگر عہدیدران کو ان کاوشوں ہر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اپووا نے اس ورکشاپ پر بھی فلسطینی بہن بھائیوں سے اظہاریکجہتی کے لے ہال میں فلسطینی پرچم آویزاں کیے۔اس کے علاوہ شرکاء کو فلسطین سے اظہار یک جہتی کے لیے بیجز بھی دئیے گئے ۔اس بار اپووا کی طرف سے میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا تھا ۔جہاں موجود ٹیم نے لوگوں کو مفت طبی مشورے فراہم کیے ۔خراب موسمی حالات کے باعث موٹروے کی بندش کی وجہ سے مختلف شہروں سے آنے والے مہمانوں کو سفری مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ان سفری مشکلات کے باوجود ملک کے کونے کونے سے شرکاء نے ورکشاپ میں شرکت کی۔ہم آپکی آمد کے تہہ دل سے مشکور ہیں ۔

    دوران تقریب ایورڈز،میڈلز،اور سرٹیفکیٹس کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ میدان ادب میں مختلف شعبہ جات میں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو سراہا جاتا رہا اور ان خوبصورت لمحات کو کیمروں میں مقید کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ تقریب میں اپووا میگزین کے ممبران کو ان کے پریس کارڈز بھی جاری کئے گئے اور ایک سال سے میگزین میں اچھی کارکردگی دکھانے پر میڈلز دئیے گئے ۔واضح رہے کہ اپووا میگزین آن لائن ماہانہ شمارہ ہے اور اس وقت بہت سے مفید سلسلوں کو لے کر چل رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قرعہ اندازی کی گئی اور گفٹ ہیمپرز اور کیش پرائز بھی تقسیم کیے گئے۔خوبصورت تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لئے پرتکلف بوفے لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا،جس میں چکن قورمہ، نان، بریانی،رائتہ سلاد،کولڈ ڈنکس،قلفہ،اور چائے شامل تھی۔شرکاء لنچ سے لطف اندوز ہوے اور اپنی اپنی منزل کی جانب چل دئیے۔

    ایک خوبصورت تقریب دل ودماغ پر انمٹ نقوش اور خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جو مدتوں یاد رکھی جاۓ ۔ انشاءاللہ

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد