Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بل کھاتا ڈھلوانی راستہ،اور راستے میں اداس چرواہوں،بے چین و مغموم پرندوں،شدید سوگوار ایستادہ درختوں کے سنگ چلنے کے بعد اچانک ایک موڑ پر منظر کھلتا ہے۔نیلے،سفید گنبد اور ایک آبادی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اداس راستے کی افسردگی اور پژمردگی ختم کرنے کےلیے کافی تھا۔انھی گنبدوں کے قریب مندر اور گوردوارے بھی موجود تھے۔ چاروں طرف ہی مذہبی رواداری کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔ جب بارہویں کی کھیر کسی ہندو کے گھر کھائی جاتی،اور جب ہندو بہن،مرکزی بازار میں واقع سردار جی کی دکان سے خرید کر مسلمان بھائی کو راکھی باندھتی،تو پاس بہتا خاموش سندھو (دریائے سندھ) پُرجوش ہو کر اچھل پڑتا۔صد افسوس! آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔یہ شہر تو وہیں ہے،مگر یہ مناظر وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔یہاں کے ملاحوں کی بستی کے بوڑھے ملاح نے اپنی بیڑی کے چھید تو بھر لیے،مگر بستی کی تاریخ و تہذیب کے پیراہن میں لگے چھید کون رفو کرے گا؟

    گزشتہ برس عید پر آبائی گاؤں خوشحال گڑھ جانا ہوا۔مکھڈی حلوہ تو کھانے کو نہ ملا،مگر مکھڈ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوگیا۔میں پہاڑوں کا مرید ہوں،اور وادیاں میری مرشد،جبکہ سفر،نہ راضی ہونے والی محبوبہ۔اسی کو راضی کرنے کےلیے مکھڈ شریف کےلیے رخت سفر باندھا۔بل کھاتے پہاڑی راستوں پر اس قدر اداسی و افسردگی تھی کہ سر سبز و شاداب درخت بھی غمکین معلوم پڑتے۔پورے راستے میں پہاڑوں کے علاؤہ چند چرواہے،ریوڑ اور طویل ویرانیاں۔۔۔۔۔۔ یہ سفر مجھے کسی ناپسندیدہ لیکچر سے بھی کہیں زیادہ بورنگ لگنے لگا۔مگر اچانک ہم ایک موڑ مڑتے ہیں،تو آنکھیں ٹھنڈی اور تھکان و اداسی زائل ہونے لگ پڑتی ہے۔نیلے نیلے گنبد اور ان کے قریب چھوٹی سی بستی دیکھ کر لگا کہ ویرانیاں اور اداسیاں ختم ہوئیں،اور آغاز بہار ہو گیا ہے۔مناظر آنکھوں میں قید کرتے آگے بڑھتے گئے،کیونکہ ہماری اصل منزل دریائے سندھ تھا۔اپنے وقتوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز سے آج گزرے تو یوں لگا کہ جیسے کسی شہر خموشاں سے گزر ہو رہا ہو۔یوں ہماری بہار و رونق کی امید دریائے سندھ پہنچنے سے پہلے ہی دریا برد ہوگئی۔

    تاریخ کے اوراق کہتے ہیں کہ سی پیک تراپ انٹرچینج کے قریب دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ مکھڈ، تاریخی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔جب پٹڑیاں اور سڑکیں نہ تھیں،تب دریائی راستے استعمال کیے جاتے۔مکھڈ کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ دریائے سندھ میں چلنے والے بحری بیڑوں کی آخری بندرگاہ تھی۔اور دوسری بڑی وجہ کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کےلیے یہی سب سے موزوں ترین آبی بندرگاہ تھی۔کالا باغ کا نمک بھی اسی راستے سے افغانستان سے ہوتا ہوا دوسرے ممالک جاتا۔اس لیے اس دور میں یہ علاقہ بڑی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔یہاں کے بازاروں میں قدیمی پتھروں اور لکڑی کے تختوں سے بنی موجود دکانیں آج بھی عظمت رفتہ کی قصہ خواں ہیں۔

    بند بازار کو دیکھتے ہوئے،چلتے گئے۔اب راستہ قدرے مشکل شروع ہورہا تھا۔کیونکہ ہمیں نیچے دریا کی طرف جانا تھا۔چند قدم چلنے کے بعد ایک دیو مالائی خستہ حال مندر نظر آیا۔اسی عمارت کے قریب خاموش بہتا اداس دریائے سندھ اور دریا میں تیرتی چند کشتیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ علاقہ نہ صرف تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا،بلکہ تہذیب و ثقافت کے بھیدوں کا مہاکھڈ بھی تھا۔ کئی گرودوارے، منادر اور ان پر بنے نقش نگار اپنی جانب متوجہ کراتے ہوئے،نوحہ کناں ہیں۔اس کی تہذیبی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ قبل از مسیح سے آباد ہے۔اور یہ بدھ مت،سکھ ازم،ہندومت اور اسلام چار تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔1650 میں ایک صوفی بزرگ نوری بادشاہ یہاں آئے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔جن کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے۔

    سندھو دریا کے کنارے ہم نے مچھلی پلا تو نہ کھایا،مگر مچھلیوں کے قریب جانے کےلیے کشتی میں بیٹھ گئے۔لکڑی کے بھاری بھرکم تختوں کے اوپر لگا انجن اسٹارٹ ہونے سے سندھو کا سکوت ٹوٹا،تو برا بھی لگا۔مگر سورج کی شعاعوں سے سنہری لہریں دل کو بھانے لگی۔سندھو کی اٹھتی موجوں کو چھونے کا لمس۔۔۔۔۔اور سہنری لہریں،ہمیں کشتی سے اترنے ہی نہیں دے رہی تھی۔جب سورج نے غروب ہونے کی تیاری کی،تو ہم بھی گھر طلوع ہونے کے لیے نکل پڑے

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

  • اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    کالم نگاری ایک فن ہے جس میں ایک مخصوص موضوع پر گہری تحقیق اور تحریر کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے کالم نگار وہ ہوتے ہیں جو اپنے خیالات کو واضح، دلچسپ اور قاری کے دل و دماغ پر اثرانداز کرنے والی زبان میں پیش کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن "اپووا” نے سالانہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جو لاہور کےمقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی

    تربیت ورکشاپ نے سینئر صحافی واینکر پرسن ،ٹی وی چینل کے مقبول ترین پروگرام کھرا سچ کے میزبان ،مبشر لقمان کے ہمراہ شرکت کرنی تھی، مگر کسی وجہ سے مبشر لقمان صاحب ورکشاپ میں شریک نہ ہو سکے،یوں ورکشاپ میں اکیلے پہنچے تو اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی اور موجودہ صدر حافظ زاہد استقبال کے لئے گیٹ پر موجود تھے، جہان پاکستان کے میگزین ایڈیٹر انجم عقیل اعوان بھی میرے ساتھ ہی ورکشاپ میں پہنچے، کالم نگار فیصل رمضان اعوان مجھ سے قبل ہی پہنچ چکے تھے اور میری آمد کا انتطار کر رہے تھے، ورکشاپ جاری و ساری تھی، ایک طرف خواتین رائیٹرز اور ایک طرف مرد حضرات، یوں اپووا نے رائیٹرز کا ایک گلدستہ سجا رکھا تھا،مہمانان خاص آ اور جا رہے تھے، اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو جدید تحریری تکنیکوں، تحقیقی مہارتوں، اور تاثراتی تحریر کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے تھی۔ اس کا مقصد کالم نگاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں اس بات کی تربیت دینا تھا کہ وہ کس طرح اپنے کالمز کو مزید مؤثر اور قاری کے لیے دلچسپ بنا سکتے ہیں۔
    aini

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ،معروف صحافی و کالم نگار ریحام خان بھی بطور مہمان خاص ورکشاپ میں آئیں، انہوں نے خطاب کیا اور ساتھ گلہ بھی کیا کہ میں تو ورکشاپ میں کالم نگاروں سے کچھ سننے اور سیکھنے آئی تھی لیکن یہاں مجھے خود سننے کی بجائے سنانے کا موقع مل رہا ہے،ریحام خان سمیت دیگر مہمانان خاص نے ورکشاپ کے شرکا میں اعزازی شیلڈز ،انعامات تقسیم کئے،ریاض احمد احسان جو کبھی ورلڈ کالمسٹ کلب میں متحرک تھے اور ادبی برادری کے لئے ہمیشہ صف اول میں نظر آتے ہیں وہ بھی مہمانان خاص میں شامل تھے،سینئر صحافی ارشاد عارف، روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر ندیم نذر، نوائے وقت کی سینئر صحافی امبرین فاطمہ،لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری بھی مہمانوں میں شامل تھے،ورکشاپ کے شرکا سے خطاب میں مہمانان خاص نے بتایا کہ کالم نگاری میں تحقیق کا اہم کردار ہے۔ ورکشاپ میں کالم نگاروں کو تحقیق کے جدید طریقوں اور ذرائع سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اپنے کالمز میں معلوماتی اور حقائق پر مبنی مواد فراہم کرسکیں۔کالم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ قاری کو محظوظ کرنا اور سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے۔

    ورکشاپ کے اختتام پر کھانے کی میز پر شرکا کے درمیان آراء کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ہر کسی کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ اس سے ان میں تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔تربیتی ورکشاپ میں پاکستان بھر سے کالم نگار، شعرا شریک تھے، اپووا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہر سال تربیتی ورکشاپ باقاعدگی سے ہوتی ہے، جس کے لئے رجسٹریشن کی جاتی ہے، اہل کتاب افراد کی پذیرائی کی جاتی ہے، شعرا کی ادبی کاوشوں کی تحسین کی جاتی ہے.

    zahid

    پاکستان میں خواتین کا کردار دن بدن مختلف شعبوں میں نمایاں ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر میڈیا اور صحافت میں بھی اب خواتین کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپووا کے زیرِ اہتمام کالم نگاروں کی ورکشاپ میں خواتین صحافیوں اور کالم نگاروں نے بھی بھرپور شرکت کی جس کا مقصد خواتین کو صحافت کے شعبے میں مزید متحرک اور فعال بنانے کے لیے ان کی مہارتوں کو نکھارنا تھا،اپووا کی تربیتی ورکشاپ میں خواتین کی بھرپور شرکت نے اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین اب صحافت کے میدان میں ایک طاقتور اثر ڈالنے والی قوت بن چکی ہیں۔ مختلف پس منظر اور تجربات رکھنے والی خواتین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع حاصل کیا۔ ورکشاپ میں مہمانان خاص نے شرکا کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ معروف کالم نگار اور صحافی، جنہوں نے اس ورکشاپ میں اظہارِ خیال کیا، کہنا تھا کہ خواتین کا صحافت میں حصہ بڑھنے سے معاشرتی مسائل اور خواتین کے حقوق کی آگاہی میں اضافہ ہوگا۔ خواتین کے کالموں میں ایک حساسیت اور گہرائی ہوتی ہے جو مردوں کے لکھے ہوئے کالموں میں اکثر نہیں ہوتی اور یہ خصوصیت ایک منفرد آواز کی شکل اختیار کرتی ہے۔
    apwwa

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی اس ورکشاپ کا انعقاد نہ صرف کالم نگاروں کے لئے مفید بلکہ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ صحافتی دنیا میں ترقی اور تبدیلی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اپووا کی یہ تربیتی ورکشاپ کالم نگاروں کو نہ صرف نئے طریقے سکھاتی ہے بلکہ انہیں اپنے خیالات اور نظریات کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس طرح کی ورکشاپس صحافت کی دنیا میں معیار کی بلندی اور تحریری مہارت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ یہ کالم نگاروں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے کام کو نہ صرف معلوماتی بلکہ تخلیقی اور اثرانداز بھی بنا سکیں۔

    mmali

    اپووا کی شاندار اور ہمیشہ کی طرح کامیاب تربیتی ورکشاپ پر اپووا کی پوری ٹیم کو مبارکباد

    باغی ٹی وی پر تحریریں شائع کروانے کے لئے ای میل کریں یا واٹس اپ کریں
    03030204604

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    9نومبر یوم اقبال 2024 کو لاہور کے پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں اپووا کی ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی شاندار خدمات پر ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ اس تقریب کا مقصد ان افراد کی کوششوں کو سراہنا تھا جو اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    تقریب میں مجھے بھی کئی خاص اعزاز ات حاصل ہوئے، جہاں مجھے میری ادبی خدمات پر ایوارڈ، سرٹیفیکیٹ، میڈل اور اپووا میگزین کی جانب سے خصوصی افسانہ انچارج کے کارڈسے نوازا گیا۔ اس لمحے نے میری محنت کی قدر و قیمت کو اور زیادہ بڑھا دیا، اور میں نے اس اعزاز ات کو اپنے تمام اپووا کے ساتھیوں اور اس شعبے میں کام کرنے والے تمام افراد کی محنت کا نتیجہ سمجھتی ہوں۔

    اس تقریب کی کامیابی میں مختلف پہلوؤں کا کردار تھا۔ سب سے پہلے، تقریب کے نظم و ضبط نے اس کو بے حد کامیاب بنایا۔ تقریب کا آغاز مقررہ وقت پر ہوا، اور ہر سرگرمی اور سیشن کا وقت بالکل درست تھا۔ کسی بھی قسم کی خلفشار یا تاخیر نہیں ہوئی، جس سے مہمانوں اور شرکاء کو ایک پُر سکون اور مرتب ماحول میں شرکت کا موقع ملا۔

    دوسرا اہم پہلو شخصیات کا تھا، کیونکہ اس تقریب میں شرکت کرنے والے افراد ایم ایم علی صاحب ، محمد خافظ صاحب ، سفیان علی فاروقی صاحب اور اپووا کے سر پرست زبیر احمد انصاری صاحب کی جانب سے مدعو کئے گئے مہمانان نہ صرف اپنے اپنے شعبے میں ماہر تھے بلکہ ان کی شخصیت بھی شاندار تھی۔ تقریب میں شرکت کرنے والے مختلف ماہرین اور کامیاب شخصیات سے مل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان افراد کی باتوں میں ایک خاص جذبہ اور لگن تھی، جو اس تقریب کو اور بھی متاثر کن بنا رہا تھا۔

    شہزاد نیر صاحب اور افتحار عارف صاحب کی شاعری نے خوب سماں باندھا اور تقریب کو چار چاند لگا دئیے پھر اس کے بعد مزید مزہ تب آیا جب قرعہ اندازی میں میری مما کا نام نکل آیا جس پر میں بہت خوش ہوئی ،اسی دوران سب لکھاری نادعلی کے ساتھ تصویریں بھی بناتے رہے ان کی محبتوں کی مقرض ہوں اور انکل افتحار اور اتباف ابرک کے ساتھ تو نادعلی نے دوستی بھی کر لی ،آخری لیکن بہت اہم بات تقریب میں کھانے کے انتظام کی تھی۔ اپو وا کی جانب سے پاک ہیری ٹیج ہوٹل نے اس سلسلے میں بہترین انتظامات کیے تھے۔ کھانا نہ صرف لذیذ تھا بلکہ اس کی پیشکش اور تنوع بھی بہت شاندار تھا۔ ہر ایک کھانے کی قسم نے اپنے ذائقے اور معیار سے مہمانوں کو محظوظ کیا، اور اس نے پورے تجربے کو مزید دلکش اور یادگار بنا دیا۔

    یہ تقریب دوسری تقریبات کی طرح صرف ایک رسمی ایوارڈ تقریب نہیں تھی بلکہ ایک خوبصورت تجربہ تھا جس میں ہر عنصر نے اپنی جگہ پر شاندار کام کیا، اور میں ان سب چیزوں کی شکر گزار ہوں جو مجھے اس یادگار موقع پر حاصل ہوئیں۔

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    لاہور کے ڈیوس روڈ پر پاک ہیری ٹیج ہوٹل میں منعقدہ آل پاکستان رائٹرزویلفئر ایسوسی ایشن کی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے لئے دن ساڑھے گیارہ بجے شہر کی آلود ترین سموگ کو چیرتے ہوئے ہم مقامی ہوٹل پہنچے تقریب کا آغاز ہوچکا تھا ہم بھی اپنی نشست تک پہنچ چکے تھے ،مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ادبی دنیاکے چند بڑے نام بھی اس پیاری محفل کا حصہ بنے مختلف موضوعات پراہل علم اپنے علم وادب کےموتی بکھیرتے رہے چونکہ منعقدہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد ہی نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تربیت شامل ہے تو ظاہر ہے علم وادب کے باذوق ترین حاضرین وہی علم کی شمع روشن کرنے والے اور اپنے قیمتی خیالات لوگوں تک پہچانے والے ہی ہال میں موجود تھے، سٹیج سے دور آخری نشستوں کے بیچ میں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو ایک بڑا لکھاری سمجھ رہے تھے لیکن ہمیں اپنی خبر ہے کہ ہم لکھنے میں اتنے ماہر نہیں ہیں کہ اپنے آپ کوبڑا لکھاری کہہ سکیں لیکن خیر تقریب کو لگے چارچاندسے ہم ضرور مستفید ہوتے رہے.

    خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ہماری عورتوں میں علم وادب کا شوق قدرے زیادہ پایا جاتا ہے جس پر ہم جتنا فخر کرسکیں کم ہے ہماری یہی مائیں بہنیں بیٹیاں یقیننا علم وادب کے میدان میں نئے لوگ لارہی ہیں جو خوش آئند ہے اور ادبی دنیا کی رونقیں آباد ہیں انشااللہ یہ آباد رہیں گی ہماری خواتین سے زیادہ جان پہچان نہیں تھی ثوبیہ نیازی کی شاعری اور ان کے کالم ہم بہت محبت سے پڑھتے ہیں ثوبیہ بھی محفل میں تشریف فرما تھیں لیکن ان سے ملاقات نہ ہوسکی دیگر خواتین شعرا کالم نگار افسانہ نگار ڈرامہ نگار اور اینکرز بھی موجود تھیں اور سٹیج پر اپنے علمی وادبی تجربات سے ہمیں آگہی دیتی رہیں .

    منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے منتظم جناب ایم ایم علی اورحافظ زاہد محمود تھے جو بھاگ دوڑ میں تھے ان سے راہ چلتے ہوئے ملاقاتیں ہوتی رہیں خوبصورت محفل سجانے پر ہم انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں معروف قلم کار ادیب کالم نگار اردشاد احمد عارف سے ملاقات ہوئی ہم نے ان کو بھی بتلایا کہ ہم بھی اسی میدان کے کھلاڑی ہیں اگرچہ اناڑی ہیں لیکن آپ جیسے سنیئر سے سیکھ رہے ہیں ڈرامہ نگار کالم نویس مصنف افتخار احمد عثمانی المعروف افتخار احمد افی سے خوشگوار ملاقات بھی ہمارے دن بھر کی مصروفیت میں شامل رہی مبشرلقمان صاحب بیماری کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے تقریب میں ان کا آڈیو پیغام ممتاز اعوان صاحب لے آئے تھے جو محفل شرکا کو سنایا گیا ممتاز دن بھر ہمارے ساتھ رہے اور نئے لوگوں سے تعارف ہوتا رہا روزنامہ مشرق کے میگزین ایڈیٹر جناب ندیم نذر سے اپنا تعارف کروانا ضروری سمجھا اور انہیں بتایا کہ ہم بھی لکھتے ہیں ندیم نذر خوبصورت شخصیت کے باذوق انسان ہیں معروف شاعر ناصربشیر صاحب سے گپ شپ ہوئی گل نوخیزاختر سے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور اپنے دوست معروف سرائیکی شاعر نغمہ نگار افضل عاجز کی غیر موجودگی کے ذکر پر کچھ دیر کے لئے ہم اداس ہوئے کیونکہ افضل عاجز تقریب میں ہمارے درمیان نہیں تھے اپوا کے زیر اہتمام یہ تقریب ہرسال منعقد کی جاتی ہے یہ آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ تھی اس سے قبل بھی ہم ان خوبصورت لوگوں کی محفل میں شامل ہوتے رہے ہیں 9 نومبرکو اس دلچسپ تقریب میں شرکت گویا ہماری خوش قسمتی تھی

    دعا ہے کہ اپوا کے منتظمین اسی شوق لگن اور محنت سے اس ورکشاپ کا سالانہ اہتمام جاری رکھیں اور ہرسال ایک نئی جدوجہد اور پوری توانائی کے ساتھ متواتر یہ سلسلہ جاری وساری رہے تاکہ نئے لوگوں کو حوصلہ ملے وہ آگے آئیں اور علم وادب کی دنیا کو یونہی آباد رکھ سکیں

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن درس گاہ بھی ہے،امان گاہ بھی اور علاج گاہ بھی ہے-اپووا حرف کی تخلیق سے تشہیر تک تخلیق کار کی معاون و مددگار رہی ہے-اپنے قیام سے تادم تحریر سینکڑوں تقریبات،آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ اور درجنوں سیاحتی دوروں سمیت مقتدر ایوانوں تک تخلیق کاروں کی پذیرائی کو یقینی بنانا اپوا کا خاصہ ہے-آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کیا تھی؟ تخلیق کاروں کا ایک جھرمٹ تھا،چار سو بلکہ ہر سو حکمت و شعور کے چراغ جلانے والے مقدس نفوس تھے جو عزت مآب زبیر انصاری اور سفیر خوشبو برادرم ایم ایم علی کو خراج تحسین پیش کرتے دکھائی دے رہے تھے-تخلیق کاروں کے اظہار و بیان میں لذت تھی سو یہ تقریب حقیقی اعتبار سے واقعی ست رنگی تقریب تھی کہ فلم،ٹی وی،اسٹیج،صحافت،ادب،سیاست اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ایک خاندان کی طرح اس تقریب میں شریک تھے جبکہ وطن عزیز کے ہر بڑے شہر سے تخلیق کاروں کی خصوصی شرکت نے اس تقریب کو منفرد بھی بنائے رکھا-

    اپوا کے ایک ایک معزز رکن کے حضور انتہائی محبت سے حقیر سا تحفہ تحسین پیش ہے- امید ہے لفظوں کے یہ پھول ماحول کو معطر کرنے کی ایک کوشش قرار پائیں گے- اپوا میں موجود تخلیق کار اور انکے فالورز جانتے ہیں کہ لفظ کہنا، لفظ تحریر کرنا اور لفظ کا کرب سہنا ذرا سی بات تھوڑی ھے- حرف سے لفظ کی تخلیق کا مرحلہ اور پھر لفظ بھی وہ جو تصویر بنا رھا ھو وہی لفظ نگاہ سے دل اور دل سے روح میں اترتا ہے-ایک لفظ تخلیق ھونے سے پہلے کرب و بلا کے کتنے مرحلے طے کرتا ھے اس کا احساس صرف ماں کا منصب پانی والی خوش بخت عورت ہی جانتی ھے کہ وہ تخلیق کے عمل اور تخلیق کی اذیتوں سے پوری طرح آگاہ ہوتی ہے- کڑے دن اور مشکل راتیں،مضمون کی زمین جتنی بھی زرخیز ھو اس پر ستارے، چاند، پھول، شبنم، شفق، رنگ بلکہ رنگ کا نیرنگ، آبجو، چاندنی، شجر و ہجر، صحرا و آبشار اور سورج اگانا بہت مشکل ھوتا ھے-

    خون میں جتنی بھی شدت اور حدت ھو ہوا کا رخ تبدیل کرنے میں زمانے لگانا پڑتے ہیں- جسم کے سارے اعضاء سکّوں میں ڈھال کر خرچ کرنا پڑتے ہیں- سخن کا آغاز دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی ، آنکھ کے آنسو، پلکوں کی جھالروں کی جھل مل، لبوں کے ترنم اور کان کی سرگوشیوں سے ھوتا ھوا روح میں اترتا دکھائی دیتا ھے-ہنر کے تخت پر جلوہ افروز ہستیاں مہر و ماہ و انجم غلام کرتی ھیں- ظلمت شب میں نور کا پرچار کرتی ھیں- بہار کا سورج شام و سحر اہل ہنر کا طواف کرتا ھے- خود فریبی کے آئنے چکنا چور ھوتے ھیں- آوازوں کے شہر آباد ھوتے ھیں— باغوں میں کوئلیں راج کرتی ہیں-آپ بھی محبت کی شاخوں پر الفت کے پھول کھلائیے تاکہ آس و امید کی کلیوں اور کونپلوں کو دلفریب عکس دکھائی دیں-برف جذبوں میں خوشبوئیں گھولیں، بجھتے تاروں کی بزم میں چاند سے باتیں کرنے کا ہنر بانٹیں، دیپک راگ مزاجوں پر مثل ملہار راگ برسنے کی کوشش کیجیئے- ہم ہر پوسٹ پر عادتاً واہ، خوب اور کمال لکھ دیتے ہیں ہمیں اس عادت کو ترک کرنا ہوگا- ہمیں کسی بھی صاحب خیال پر اترنے والے مضامین پر اپنی رائے کا اظہار کرنا گا وہ رائے بھلے ہی اختلافی ہی کیوں نہ ہو اس عمل سے آپکے اندر تخلیق کا جذبہ انگڑائیاں لے گا جو یقیناً کسی لاجواب تخلیق کی جانب پہلا قدم بنے گا- آپ اور آپ سے محبت کرنے والوں کی دم دم خیر-

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سلانہ تربیتی ورکشاپ (اپووا مینجمنٹ ٹیم کے زیر اہتمام) لاہور کے مقامی ہوٹل منعقد کی گئی۔جس میں ملک بھر سے نامور لکھاریوں شاعروں ادیبوں کالم نگاروں ڈرامہ نگاروں افسانہ نگاروں وکلاء برادری اینکرز ڈاکٹرز پروفیسرز محکمہ پولیس کے افسران اور دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب میں شرکاء کے لئے بہترین بیگز ایوارڈز اور مہمانوں کے لئے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔

    سموگ رش اور روڈ بلاک کی وجہ سے کئی دوست تاخیر سے پہنچے مگر شاید کوئی ایک دوست ہی رہا ہو اتنی خوبصورت تقریب میں شرکت کے لئے میں بہت مشکور ہوں سر ایم علی صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ کے لئے اناونس کیا اور بوس زبیر احمد انصاری صاحب کا جہنوں نے مجھے ایوارڈ دیا۔محترمہ ثمینہ طاہر بٹ صاحبہ جو ہمیں بیٹوں کی طرح سمجھتے ہیں انہوں نے اپنی کتاب سنگ ریزے اور محترمہ آپا سعدیہ ہما شیخ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے اپنی کتاب بال ہما دی جو انشاءلله انمول تحفوں کی طرح مطالعہ کرکے رکھیں گے ،حافظ محمد زاہد کا خصوصی شکریہ جہنوں نے اس پروقار تقریب میں شرکت کی دعوت دی ،آپا ساجدہ چوہدری آپا سحرش خان میرے پیارے بھائی ڈاکٹر عمر شہزاد کا بھی شکریہ آپی ساجدہ چوہدری کا خصوصی شکریہ کیونکہ انکے بھائی کی اور میری شکل ملتی ہے اور وہ اکثر مجھے اپنے بھائی کے نام سے پکارتی اور یاد کرتی ہیں

    زندگی بھی گزر جاتی ہے لوگ بھی اچھی یادیں اچھے گزارے ہوۓ لمحات ہمیشہ دل و دماغ میں رہ جاتے ہیں,آخر میں بوس زبیر انصاری صاحب حافظ زاہد صاحب اور اپووا کی تمام ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جہنوں نے کئی روز کی محنت کے بعد یہ ورکشاپ کا انعقاد کرکے اسے کامیاب بنایا۔
    شکریہ اپووا

    اپووا کے زیر اہتمام افطار میٹ اپ کا اہتمام

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

  • تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    تبصرہ کتب،تربیتی نصاب

    نام کتاب : تربیتی نصاب ( 3جلد )
    صفحات : 192
    قیمت : مکمل سیٹ720روپے
    ناشر: دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    ہر بچہ عقائد اور اعمال کا ذہن لے کر دنیا میں آتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی اچھی تربیت اور ذہن سازی اس میں بلند پایہ اوصاف پروان چڑھاتی ہے جس سے وہ معاشرے کا بہترین اور کارآمد فرد بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس غلط تربیت سے عقائد و اعمال بگڑ جاتے ہیں اور ایسا شخص معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔ اس لیے تعلیم کے ساتھ تربیت اتنی ہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس۔ ہمارے ہاں مختلف سطح پر مختلف طرح کے کثیر تعداد میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیاں بھی ہیں اور دینی تعلیم کے ادارے بھی ہیں ۔ دنیوی تعلیمی اداروں میں تو تربیت کا بالکل ہی فقدان ہے ۔ دینی تعلیم کے اداروں میں تعلیم کے ساتھ تربیت کا جذبہ تو ہے لیکن یہاں زیر تعلیم بچوں کے لیے ان کی ذہنی سطح کے مطابق تربیت کا کوئی ایسا سائنٹیفک اور رہنما نصاب کتابیں دستیاب نہیں جو مفید اسلامی معلومات، سیرت نبوی اور بزم ادب کے پروگرام پر مشتمل ہو اور بچوں کو مثالی مسلمان بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے۔ اسی اہم ضرورت کے پیش نظر دار السلام انٹرنیشنل بچوں کے لیے تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تیار کی ہے جسے جید علمائے کرام اور کہنہ مشق سکالرز نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے۔ تین حصوں پر مشتمل یہ کتاب تعلیم و تربیت کے اہم اور مفید پہلوو¿ں کا احاطہ کرتی ہے جنھیں 8 ہفتوں کے حساب سے سمیسٹر وائز تقسیم کیا گیا ہے۔ضروری ہے کہ نئی نسل کی اسلامی خطوط پر تربیت کے لیے اس کتاب کو عام کیا جائے ، دینی اداروں سمیت سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج کیا جائے تاکہ ہمارے بچے بچیاں مفید پاکستانی بننے کے ساتھ ساتھ اچھے مسلمان بھی بن سکیں ۔

    طلبہ اور اساتذہ کی سہولت کی خاطر تینوں کتابیں سمیسٹر وائز ترتیب دی گئی ہیں ۔ہر سمیسٹر کا دورانیہ 2 ماہ ہے۔ ہر سمیسٹر میں 8 ہفتوں کے حساب سے مختلف تربیتی موضوعات تقسیم کیے گئے ہیں۔

    ہر سمیسٹر کے پہلے ہفتے میں قرآن مجید کی کچھ سورتیں حفظ کےلئے دی گئی ہیں ، دوسرے ہفتے میں مسنون دعائیں، تیسرے ہفتے میں حفظ احادیث ، چوتھے ہفتے میں بنیادی عقائد ، پانچویں ہفتے میں سیرت النبی ﷺ ، چھٹے ہفتے میں تجوید، ساتویں ہفتے میں اسلامی آداب اور آخری ہفتے میں پورے سمیسٹر کی دہرائی کے ساتھ ساتھ بچوں کو عملی سرگرمیاں شامل کتاب کی گئی ہیں ۔بچوں میں ادبی ذوق پیدا کرنے اور گفتگو کی صلاحتیں نکھارنے کےلئے ہر کتاب کے آخر میں بچوں کےلئے حمد ونعت اور مختلف موضوعات پر تقاریر بھی دی گئی ہیں ۔ ہر کتاب کے شروع میں طلبہ اور اساتذہ کےلئے مفید تجاویز اور رہنما اصول بھی دیے گئے ہیں جن کی روشنی میں ان کتابوں کو سمجھنا ، پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بالکل ہی آسان ہوگیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پر فتن اور آزمائشوں کے دور میں تین حصوں پر مشتمل اس کتاب کا مطالعہ ہر بچے بچی کےلئے بے حد ضروری ہے ۔ اسی طرح ان کتب کا مطالعہ والدین کےلئے بھی بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ ۔ یہ کتاب بچوں کو عملی مسلمان بنانے، معاشرے کا مفید شہری بنانے اور ان کی اچھی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گی

  • تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    تبصرہ کتب: پراسرار حویلی

    زیر نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ اپنے نام کی طرح اسرار وتجسس سے بھرپور ایک کہانی ہے۔یہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر کی تصنیف ہے ۔ عام طور پر تجسس اور پر اسرار واقعات سے بھر پور کہانیوں میں بچوں کی تربیت واصلاح کا فقدان ہوتا ہے۔ یا پھر اسرار وتجسس کے نقطہ نظر سے لکھی گئی کہانیاں بچوں کو جرائم کی راہ پر لے جاتی ہیں لیکن دارالسلام کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس کی شائع کردہ کتابوں میں بچوں کے لیے اسرار وتجسس بھی ہے اسلامی معلومات بھی ہوتی ہیں ، اصلاح وتربیت اور سچائی وصداقت کا بھی بھر پور اہتمام ہوتا ہے۔جیسا کہ پیش نظر کتاب ” پراسرار حویلی “ ہے۔ یہ کتاب ایک حویلی کے گرد گھومتی ہے جو کسی وقت میں آباد تھی۔ ایک باپ، دو بیٹوں اور دیگر اہل خانہ پر مشتمل ایک خاندان اس حویلی میں پیارو محبت کے ساتھ رہ رہا تھا لیکن پھر اس کے مکین ایک دوسرے کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگے۔ یہی حسد گھر کی خواتین کو جادو ٹونہ کرنے والے آستانوں پر لے گیا۔ پھر ایک وقت آیا جب جادو کی نحوست سے یہ خاندان بکھر گیا ، حویلی اجڑ گئی اور نشان عبرت بن گئی۔ یہاں سے تہہ در تہہ خوفناک واقعات رونما ہونے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول ایسے جھوٹے عاملوں سے بھرا پڑا ہے جو شیطان کے ساتھی ہیں، شیطان کی مدد سے لوگوں کو جادو میں مبتلا کرتے ہیں۔ شیطان ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ صرف جاہل ہی نہیں، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان جعل ساز فقیروں ، نقلی پیروں اور کالے جادو کاعلم رکھنے والے عاملوں اور نجومیوں کے ہتھے چڑھ کر آخرت اور دنیا دونوں برباد کر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے شیطانی حربوں نے لوگوں کے دلوں کو نفرت سے بھر دیا ہے۔ گھروں سے اطمینان اور سکون رخصت ہو گئے ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور بے رخی عام ہوگئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فساد کا کوئی علاج بھی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہر بیماری کا علاج ، ہر مسئلے کا حل ہمیں اللہ تعالیٰ نے ضرور عطا کیا ہے۔ جادو ٹونے کا حل بھی قرآن وسنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اگر ہم قرآن وسنت کی حفاظتی تدابیر پرعمل کریں تو نہ صرف جادو اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم پر محافظ بھی مقرر کر دیے جاتے ہیں۔ پرابلم یہ ہے کہ ہم وہم کا علاج جادو کے ذریعے سے کر تے ہیں۔ جھوٹے عاملوں، جعلی پیروں اور نجومیوں کے آستانے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں نادان لوگ اپنے ہی رشتوں کو، اپنے ہی پیاروں کو جادو کی بھینٹ چڑھانے کے لیے چلے آتے ہیں۔ شیطان کے ساتھیوں نے دنیا میں دکھ پھیلا دیے ہیں ان دکھوں کا بس ایک ہی علاج ہے اللہ کی طرف اپنا رخ موڑا جائے۔ یہ کتاب ” پر اسرار حویلی “ ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ حسد و بغض واضح تباہی و بربادی کا راستہ ہے اور اس سے بچاوصرف قرآن کی طرف رجوع میں ہے۔ کتاب میں جادو کی مختلف اقسام ، جادو اور اس کے اثرات اور جادو سے بچاﺅ کی تدابیر بیان کی گئی ہیں۔ گویا یہ کتاب محض ایک کہانی ہی نہیں بلکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جادو ، ٹونے سے بچاﺅ کے لیے رہنما کتاب ہے۔ اس وقت جعلی عاملوں ، پیروں ، فقیروں نے جس طرح سے معاشرے میں پنجے گاڑ رکھے ہیں اور لوگوں کے ایمان ، مال اور عزتیں برباد کررہے ہیں ان حالات میں اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید ہوگا ان شاءاللہ۔ آرٹ پیپر 4کلر کے ساتھ طبع شدہ اس کتاب کی 670روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    تبصرہ کتب:ماہنامہ دعوت دین

    ماہنامہ دعوت دین ( سیرت تاجدار ختم نبوت ایڈیشن )
    زیر تبصرہ جریدہ ’’ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کا سیرت تاجدار ختم نبوت ﷺ پر خصوصی شمارہ ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے ’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ فرقہ واریت سے پاک تبلیغی ، اصلاحی ، تربیتی اور دعوتی میگزین ہے ۔’’ ماہنامہ دعوت دین ‘‘ کی ادارتی ٹیم تجربہ کار ، نظریاتی اور فکری لکھاریوں پر مشتمل ہے جو فرد اور معاشرے کی اصلاح کو زندگی کا مشن سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کی تربیت واصلاح کیلئے فی الوقت اس طرح کے جرائد کی اشد ضرورت ہے۔ ماہنامہ دعوت دین کے ایڈیٹر محمد سہیل ہاشمی ہیں وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ’’ ماہنامہ دعوت دین معاشرہ کی اصلاح کیلئے مینارہ نور ثابت ہوگا ۔بات یہ ہے کہ فی الوقت ہمارا معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہے ، نوجوان نسل کا رابطہ َ کتاب سے تقریباََ ختم ہوتا جار ہا ہے اور اس کی تمام تر توجہ کا مرکز سوشل میڈیا ہے ۔ ان حالات میں ایسی تربیتی اور اصلاحی کتب اور جرائد کی بے حد ضرورت ہے جو نوجوان نسل کو دین کے ساتھ جوڑیں ، انھیں مقصد ِ زندگی کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں ، معاشرہ اور فرد کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں ۔’’ مجلہ دعوت دین ‘‘ اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ یہ مجلہ ظاہری اعتبار سے جتنا خوبصورت ہے معنوی اور مضامین کے اعتبار سے اس بھی کہیں زیادہ خوبصورت ،جاذب نظر اور دلکش ہے ۔ آرٹ پیپر 4کلر ٹائٹل بہت ہی خوبصورت ہے جو فوراََ ہی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے ۔ جبکہ ہر شمارے میں مضامین کا انتخاب اتنا عمدہ ہوتا ہے کہ قاری انھیں پڑھے بغیر خود کو تشنہ محسوس کرتا ہے ۔ سرورق کا اندرونی صفحہ معاشرتی مسائل ومعاملات کی اصلاح وتربیت کیلئے مختص ہے۔سیاست ، حالات حاضرہ ، دین ودنیا ، روزمرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں ۔۔۔میگزین کے خصوصی موضوعات ہیں ۔

    میگزین کے چار صفحات قرآن مجیدکی تفسیر اوردو صفحات مستقل درس حدیث کیلئے مختص ہیں ۔دو صفحات روز مرہ زندگی میں پیش آمدہ مسائل اور استفسارت کیلئے مختص ہیں ۔ زیر تبصرہ میگزین درس قرآن اور درس حدیث کے علاوہ درج ذیل مضامین پر مشتمل ہے : دعوت دین اور سیرت خاتم النبین ﷺ ، تاجدار ختم نبوت ﷺ کی سیاست وسیرت ، ختم نبوت اور قادیانی ٹولے کے عزائم ، تحریک ختم نبوت اور ڈاکٹر بہائوالدین ، تحریک ختم نبوت میں علمائے اہلحدیث ملتان کا کردار ، غیر مسلموں کا قبول اسلام ڈرائونا خواب کیوں ۔۔۔؟ میگزین میں ’’ آئینہ مرزائیت ‘‘ کے نام سے ایک تاریخی اور معلوماتی انٹرویو بھی شامل ہے ۔یہ انٹرویو سابق سٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر میاں احسان باری مرحوم کا ہے ۔ میاں احسان باری اپنے وقت کے دبنگ اور نہایت ہی بہادر طالب علم رہنما تھے ۔ ان کا تعلق ملتان سے تھا ۔ان کی ساری زندگی ختم نبوت کی چوکھٹ کی پاسداری کرتے گزری وہ پابند سلاسل بھی ہوئے لیکن کوئی سی بھی صعوبت ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکی ۔ جاوید ہاشمی اور شیخ رشید جیسے طالب علم رہنما میاں احسان باری کو سیاست میں اپنا استاد مانتے تھے۔23مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان سے سوات جانے والے طلبہ کے قافلے میں میاں احسان باری بھی طالب علم رہنما کے طور پر شامل تھے ۔ طلبہ کے اسی قافلے کو واپسی پر ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اور پھر اسی ظلم کے نتیجہ میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔ یہ تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے تاکہ قارئین جان سکیں کہ ڈاکٹر میاں احسان باری تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے اور اس ضمن میں رونما ہونے والے تمام حالات وواقعات کے عینی شاہد تھے۔ ڈاکٹر احسان باری کا یہ انٹرویو حرف حرف انکشاف اور معلومات افزاء ہے جو عقیدہ ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری کرنے والوں کیلئے خاص تحفہ ہے ۔یہ چونکہ دعوتی اور اصلاحی میگزین ہے اسلئے اس کی قیمت صرف 100روپے فی شمارہ رکھی گئی ہے تا کہ ہر آدمی باآسانی اس سے استفادہ کرسکے۔ جو احباب میگزین حاصل کرنا چاہئیں وہ درج ذیل فون نمبر0305-4033965اور 0310-2334595 پر رابطہ کرسکتے ہیں

  • ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب برسوں بعد دوبارہ منظرعام

    ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب ”ابجد ہومیو پیتھی” برسوں بعد دوبارہ منظر عام پر آ گئی۔ بالمثل معالج پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی طرف سے لکھی گئی مذکورہ کتاب کو اسی اور نوے کی دہائی میں خاص طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر اس کے ترمیم شدہ نسخہ جات ہومیو پیتھک سے کسی بھی حوالے سے وابستہ احباب کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی میں صرف علاج معالجہ ہی نہیں صحت قائم رکھنے کے اصول و ضوابط بھی درج ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد مرحوم کی جانب سے وہ راز بھی افشاء کیے گئے ہیں جو اطباء اپنے سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی نہ صرف مبتدی معالجین کے لیے بہترین گائیڈ ہے بلکہ ہر معالج کے لیے ایک بہترین معاون کا کام بھی دے سکتی ہے۔ اس میں فن ہومیو پیتھی کے حوالے سے مکمل معلومات اور کلینک پر پیش آنے والے واقعات کا مکمل نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر 03153242517 اور 03334289005پر رابطہ کیا جا سکتا ہے