Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی نفاست

    اردو شاعری کی ایک گہری اور پیچیدہ شکل ہے، جو اپنی خوبصورتی اور گہرائی کے لیے مشہور ہے۔ اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے لگن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ شاعری کی مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتا ہے جیسے شاعری، اشارے، اور استعارہ کو ایک ایسی زبان بنانے کے لیے جو اظہار اور پُرجوش دونوں ہو۔ اکثر گہرے جذبات سے بھری ہوئی، شاعری متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ گونجتی ہے، اس کے موضوعات کو آفاقی اور لازوال بناتی ہے۔

    تفریحی یا فنکارانہ اظہار کا ذریعہ ہونے کے علاوہ، اردو شاعری کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت ہے۔ یہ مختلف ادوار کے لوگوں کے جذبات، خیالات اور تجربات کی عکاسی کرتا ہے، ان کی زندگیوں اور جذبات کی ایک جھلک فراہم کرتی ہے۔پاکستان و بھارت کی بھرپور ثقافتی میراث کے اٹوٹ حصہ کے طور پر، یہ دنیا بھر کے شاعروں اور شاعری سے محبت کرنے والوں کو متاثر کرتا رہتا ہے۔

    اردو، فارسی اور عربی اثرات سے مالا مال ہے، اس کا ایک منفرد تال میل ہے۔ اس کی فطری موسیقیت، جس میں حروف اور حرفوں کے باہمی تعامل سے اضافہ ہوتا ہے، ایک ایسا گیت کا معیار پیدا کرتا ہے جو قارئین اور سامعین کو یکساں مسحور کرتا ہے۔ یہاں تک کہ پیچیدہ آیات بھی شاعری اور میٹر کے ہم آہنگ امتزاج کی وجہ سے طاقتور جذبات کو جنم دے سکتی ہیں، جو شاعری کو قابل رسائی لیکن گہرا بناتی ہیں۔

    علامت نگاری اردو شاعری کا ایک اور اہم پہلو ہے جو ثقافتی، تاریخی اور ادبی حوالوں سے اخذ کیا جاتا ہے۔ معنی کی یہ پرتیں متعدد تشریحات پیش کرتی ہیں، شاعری میں گہرائی کا اضافہ کرتی ہیں اور قارئین کو متن کے ساتھ بار بار مشغول ہونے کی دعوت دیتی ہیں تاکہ اس کی مکمل اہمیت کو آشکار کیا جا سکے۔

    جنوبی ایشیا کی تاریخ اور ثقافت میں گہری جڑیں، اردو شاعری خطے کی اقدار، روایات اور عقائد کے بارے میں بصیرت پیش کرتی ہے۔ اس آرٹ فارم کی صحیح معنوں میں تعریف کرنے کے لیے، کسی کو اس کی لسانی وسعت میں گہرائی تک جانا چاہئے، اس کے ثقافتی تناظر کو سمجھنا چاہیے، اور موسیقی اور منظر کشی کو انھیں گہرے جذباتی اظہار کی دنیا میں لے جانے کی اجازت دینا چاہیے۔

  • تبصرہ کتب،اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب ۔۔۔۔اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    نام مولف۔۔۔۔عبدالمالک مجاہد
    ناشر۔۔۔۔۔۔۔دارالسلام انٹرنیشنل،انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    قیمت : 1500روپے
    برائے رابطہ : 042-37324034

    سیر ت سرورعالم ایک سدا بہار موضوع ہے۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے مسلمان کبھی سیرنہیں ہوتے۔ اللہ کے رسو ل ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جا رہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اخلاق کے معانی بے حد وسیع ہیں۔ تمام اچھی صفات کے مجموعہ کا نام اخلاق ہے۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ یہ تمام صفات اللہ کے رسول ﷺ کی ذات بابرکات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔یاد رکھیے! کسی بھی قوم، امت ، گروہ یا شخصیت کے بارے میں جاننا ہو کہ اس کے اخلاق کیسے ہیں، تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتائو اپنے ساتھیوں کے ساتھ، رشتہ داروں، دوستوں، گھر والوں، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیساہے۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کی تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالی نے فرمائی تھی۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایاکہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے۔

    یہ بات معلوم ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کی زندگیوں کا ایک مشترک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ دنیا کے عام قائدین کی طرح نہ تھے کہ لوگوں کو تو وعظ و نصیحت کر دی مگر خود اس پر عمل نہ کیا۔ انبیائے کرام سب سے پہلے اپنے کہے ہوئے پر خود عمل کرتے تھے۔ یہ وہ نفوس قدسیہ تھے جو لوگوں کو جتنا بتاتے اس سے کہیں زیادہ خود اس پر عمل کرتے تھے۔ آپ ﷺ میں بھی یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی کہ آپ نے اپنی امت کو جو تعلیم دی اس پر سب سے پہلے خود عمل کرکے دکھایا۔

    سیرت نبی ﷺ کی کتابیں شائع کرنے میں دارالسلام انٹرنیشنل ایک بڑانام ہے ۔اس موضوع پردارالسلام اب تک کئی شاہکارکتابیں شائع کرچکاہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جب میں نے اخلاق نبوی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیرت پاک کا مطالعہ شروع کیا اورآپ ﷺ کے اخلاق کے حوالے سے واقعات کو جمع کرنا شروع کیا تو بہت سارے واقعات ملتے چلے گئے۔ تاہم میں نے متعدد بار ایسی کتاب کی تلاش کی جس میں اخلاق نبوی ﷺ کے جملہ واقعات کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہو ، متعدد علمائے کرام سے بھی یہی سوال کیا مگر ہر بار مجھے یہی جواب ملا کہ اخلاق کے حوالے سے واقعات تو ضرور ملتے ہیں لیکن یہ واقعات ایک ہی جگہ اکٹھے نہیں ملتے، چنانچہ اللہ کی توفیق سے میں نے نیت کی کہ اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات کو خود ہی ایک جگہ جمع کروں اور پھر ان واقعات کو سادہ انداز میں لکھ کر عامۃ الناس کے سامنے رکھوں اور ان سے کہوں:
    دیکھیں !یہ تھے ہمارے پیارے رسول ﷺ ۔

    زیرنظر کتاب میں اخلاق نبوی ﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا گیا ہے۔ کتاب میں کوئی من گھڑت، موضوع، ضعیف واقعہ شامل نہیں بلکہ صرف انھی واقعات کو شامل کیاگیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کا تذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ اس کتاب میں جو لکھاگیا اس کی علماء نے بھی خوب تحقیق و تخریج کی ہے ۔ زبان و بیان کی بہتری،عبارات کی تصحیح اور کتاب کی نوک پلک سنوارنے کے سلسلے میں پاکستان کے معروف محقق محسن فارانی نے اس پر کام کیا ہے ۔پاکستان کے ممتاز عالم دین پروفیسر مزمل احسن شیخ نے بھی پوری کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھا اور بعض گراں قدر مشوروں سے نوازا،جس کتاب کاتحقیقی معیارمزیدخوبصورت ہوگیاہے۔زیرنظر کتاب کے اردوایڈیشن کی بے پناہ مقبولیت کے بعدعبدالمالک مجاہد اس بات کاعزم رکھتے ہیں کہ اس کتاب کو دنیا کی کم از کم دس زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کیا جائے گا تاکہ دیگر اقوام بھی اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کے حوالے سے آگاہ ہوسکیں۔ اس طرح اس کتاب کو پڑھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہوں گے اور اسلام کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور ہوں گی۔ دارالسلام نے طباعت کی عمدہ روایت کوبرقراررکھتے ہوئے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں ،نہایت ہی عمدہ طباعت دیدہ زیب سرورق اورعنوانات کی ترتیب ایسی خوبصورت ہے کہ دل بے اختیارکتاب کی طرف کھینچاچلاجاتاہے ۔ضروری ہے کہ ایسی عمدہ کتاب ہرگھر ،ہرلائبریری کی زینت بنے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس سے استفادہ کرسکیں ۔

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • تبصرہ کتب، تجلیات نبوت

    تبصرہ کتب، تجلیات نبوت

    نام کتاب : تجلیات نبوت
    مصنف مولانا صفی الرحمن مبارک پوری
    صفحات : 340
    قیمت : بڑا سائز 1600، چھوٹا سائز 1350روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034

    پیش نظر کتاب ’’ تجلیات نبوت ‘‘ دارالسلام کی خوبصورت ترین کتابوں سے ایک ہے ۔ اس کتاب کے تعارف میں اتنا ہی لکھ دینا کافی ہے کہ اس کے مصنف ممتاز محقق ، عالم اسلام کے معروف عالم دین اور سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری ہیں جو کہ ’’ الرحیق المختوم ‘‘ جیسی کتاب کے بھی مصنف ہیں ۔سیرتِ طیبہ کا موضوع اتنا متنوع ہے کہ ہر وہ مسلمان جو قلم اٹھانے کی سکت رکھتا ہو، اس موضوع پر حسبِ استطاعت لکھنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ اسی طرح ہر ناشر سیرتِ رسولﷺ پر کتب شائع کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے اور اسے خوب سے خوب تر شائع کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔دارالسلام اب تک عربی ،انگریزی اور دیگر بہت سے زبانوں میں88سے زائد کتب ِ سیرتِ رسولﷺ شائع کر چکا ہے، تاہم نوجوان نسل کو تفاصیل میں لے جائے بغیر سیرتِ طیبہ سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہوئے عصرِ حاضر کے عظیم سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ سے درخواست کی گئی کہ عربی زبان میں نوجوانوں اور بطورِ خاص میٹرک تک کے طلبہ کے لیے ایک مختصر مگر جامع کتاب لکھیں جو عام فہم اور صحیح واقعات پر مبنی ہو اور اس کا انداز اتنا دلکش ہو کہ نوجوانوں کے دلوں میں رسول اللہﷺ کی محبت اور سیرت نقش ہو جائے۔ انھوں نے اس التماس کو شرفِ قبولیت بخشا اور تھوڑے ہی عرصہ بعد ’’روضۃ الأنوار في سیرۃ النبي المختار‘‘ کے نام سے کتاب کا مسودہ تیار کر دیا۔کتاب شائع ہوئی تو سعودی عرب کے تعلیمی اداروں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بہت سے افراداوراداروں نے اسے مفت تقسیم کیا، کچھ اسکولوں نے اسے اپنے نصاب میں داخل کر لیا۔زیرنظرکتاب’’ تجلیات نبوت‘‘اسی کااردوترجمہ ہے۔فاضل مصنف نے کمال ہنرمندی سے ’’تجلیاتِ نبوت‘‘ میںسیرت کے تمام تر وقائع کو ایک ایسی نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے کہ اس کے مطالعے سے دل و دماغ پر ایک پاکیزہ نقش قائم ہوتا ہے۔زیر تبصرہ ایڈیشن سکولوں ، کالجوں اور دینی مدارس کے طلبہ وطالبات کی سہولت اور ذہنی استعداد کو مد نظر رکھ کر تیار گیا ہے ۔ ہر عنوان کے آخر میں مختصر سوالات ، معروضی سوالات دیے گئے ہیں مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والا کماحقہ اس کتاب سے مستفید ہوسکے اور ہر عنوان اسے کے ذہن نشین ہوجائے ۔ امید ہے کہ یہ کاوش قارئین کو پسند آئے گی ۔ ان شاء اللہ

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب، مسنون حج و عمرہ

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • ماتا ہری،  جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    ماتا ہری، جاسوس اور ڈانسر

    17 اگست یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بین الاقوامی شہرت یافتہ جاسوس اور خوب صورت و ماہر رقاصہ (ڈانسر) مارگریٹ ذیلی المعروف ماتا ہری 17 اگست 1876 میں نیدر لینڈ ہالینڈ میں ہیدا ہوئی۔ وہ بہت خوب صورت ، بہادر اور سیر و سیاحت کی شوقین تھی ۔ اپنے شوق کی بدولت وہ جلد ایک ماہر ڈانسر بن گئی جس کی وجہ سے اس کی شہرت ،دولت اور تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کی سیر و سیاحت کرتے ہوئے فرانس پہنچ گئی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی ۔ ماتا ہری کی بھرپور جسمانی کشش اور سحر انگیز رقص کی وجہ سے بڑے بڑے فوجی جرنیل ، وزرا اور ارکان پارلیمان اس کے چاہنے والے افراد کی فہرست میں شامل رہے اور یہیں سے خفیہ اداروں کے عہدے داران نے اس کو اپنے ملک کیلئے دشمن ممالک میں جاسوسی کرنے پر آمادہ کر لیا۔ ماتا ہری نے فرانس کے شہر پیرس میں رہائش اختیار کی ۔ اس دوران پہلی جنگ عظیم میں فرانس کیلئے جرمنی کی جاسوسی کرنے لگی جبکہ کچھ عرصے بعد وہ جرمنی کیلئے فرانس کی جاسوسی بھی کرنے لگ گئی ۔ اس طرح وہ دونوں ملکوں کے لیے جاسوسی کرنے لگی آخر ایک روز فرانس کی خفیہ ایجنسیوں ایک سینیئر آفیسرز نے ماتا ہری کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔

    یہ پہلی عورت تھی جس نے فلمی کہانیوں کی بجائے حقیقی دنیا میں ” ڈبل ایجنٹ ” کا کردار ادا کیا۔ 15 اکتوبر 1917 میں پیرس میں جاسوسی کا جرم ثابت ہونے پر ماتا ہری کو اسکواڈ کے سامنے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ماتا ہری نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے نہیں دی بلکہ مسکراتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔ اس کی لاش کو لاوارث قرار دے کر اس کا جسد خاکی ہسپتال میں میڈیکل کالج کے طلبہ کے تجربات کیلئے استعمال کیا گیا اس کی گردن کو فرانس کے میوزیم میں رکھا گیا لیکن بعد میں وہ گردن چوری ہو گئی۔ ماتا ہری کی زندگی پر 250 کے لگ بھگ ناول اور سوانح حیات لکھی گئی ہیں اس کے علاوہ اس موضوع پر دنیا کے متعدد ممالک میں فلمیں اور اسٹیج ڈرامے بھی بنائے گئے ہیں ۔

  • مظہر عباس،  صحافی و کالم نگار

    مظہر عباس، صحافی و کالم نگار

    6 جولائی 1958: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سابق جنرل سیکریٹیری اور کراچی پریس کلب کے سابق سیکریٹری مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔ مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔

    2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں، ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں ان کی 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت کراچی میں مقیم ہیں ۔

  • سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے

    سارے رستے جاتے جاتے اور طرف کو جا نکلے
    اس کی جانب جانے کا پھر کوئی نہ رستہ یاد رہا

    ڈاکٹر نزہت عباسی (شاعرہ بنت شاعر)

    27 جون 1971: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی نامور ادیبہ اورشاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی صاحبہ 27 جون 1971 میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا اصل نام نزہت سلطانہ ہے ۔ محمد حسین عباسی صاحب (ظفر انجمی) ان کے والد اور وقار النساءصاحبہ ان کی والدہ محترمہ ہیں۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں۔ اردو ان کی مادری زبان ہے ۔ 1994 میں ڈاکٹر نزہت صاحبہ کی ظفر اقبال عباسی صاحب سے شادی ہوئی ماشاء اللہ ان کے دو بچے فاکہہ عباسی اور اعتزاز عباسی ہیں ۔

    نزہت عباسی شاعرہ محقق اور نقاد ہیں۔ ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے والد محمد حسین عباسی ظفر انجمی صاحبِ دیوان شاعر تھے، ڈاکٹر نزہت عباسی زمانہ طالب علمی سے ہی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال رہیں، ابتدا بچوں کے لیے نظمیں اور کہانیاں لکھنے سے ہوئی، اسی دور میں مشاعروں میں شرکت کی، کالج اور یونیورسٹی کے مجلوں کی ادارت کی، بزم ادب کی صدر رہیں، اردو ادبیات میں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسی سال تدریس کا آغاز کیا۔
    2005 میں پہلا شعری مجموعہ ’سکوت‘ کے نام سے شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ 2015 میں ’وقت کی دستک‘ کے نام سےمنظرِعام پر آچکا ہے۔ 2011 میں جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، ان کا تحقیقی مقالہ ’اردو کے افسانوی ادب میں نسائی لب و لہجہ‘ انجمن ترقی اردو نے 2013 میں شائع کیا۔ تحقیقی و تنقیدی مقالات کا مجموعہ ’نسخہ ہائے فکر‘ 2019 میں شائع ہوا۔
    ایک مقامی کالج میں شعبہ اردو کی صدر ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے اردو افسانے پر 100 سے زیادہ پروگرام کیے ہیں، مشاعروں اور ادبی تقاریب کی نظامت کے لیے بھی مشہور ہیں، کئی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں، ادبی تنظیم دبستانِ غزل کی صدر ہیں جس کے تحت ہر مہینے نشست ہوتی ہے۔

    تصانیف
    ڈاکٹر صاحبہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی ترتیب درج ذیل ہے۔
    1. اردو کے ادب میں نسائی لب و لہجہ
    2 دستک
    3 سکوت
    4. نسخہ ہائے فکر

    نزہت عباسی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    موج دریا کے لبوں پر تشنگی ہے کربلا
    ریگ ساحل پر تڑپتی زندگی ہے کربلا

    صبر کی اور ضبط کی یہ منزلیں ہیں آخری
    عزم اہل بیت کا کیا دیکھتی ہے کربلا

    حق کبھی جھکتا نہیں ہے سر بھی کٹ جائے اگر
    ذہن و دل کے واسطے اک آگہی ہے کربلا

    کیوں سکینہ اور زینب اس قدر خاموش ہیں
    دور تک صحرا میں دیکھو خامشی ہے کربلا

    مٹ گیا ہے فرق سب فردا میں اور دیروز میں
    مات دے کر رخش دوراں کو چلی ہے کربلا

    تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
    ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا

    اے غم شام غریباں اے شب تار الم
    اہل دل کو روز و شب تڑپا رہی ہے کربلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں کمی سی رہ گئی ہے
    کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے

    نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب
    فقط اک برہمی سی رہ گئی ہے

    عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر
    ترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے

    سمندر کتنے آنکھوں میں اتارے
    تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے

    نہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا
    مگر اک بیکلی سی رہ گئی ہے

    خلش دل میں کوئی باقی ہے اب تک
    کہ آنکھوں میں نمی سی رہ گئی ہے

    وہی اک بات جو کہنی تھی تم سے
    وہی تو ان کہی سی رہ گئی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود کو اس طرح آج شاد کریں
    تم کو بھولیں تمہیں کو یاد کریں

    تم سے ملنا نہیں قیامت تک
    فیصلہ یہ بھی آج صاد کریں

    رنگ کتنے ہیں تیرے چہرے کے
    کس حوالے سے تجھ کو یاد کریں

    کر کے احسان ہم پہ ناحق ہی
    ہم سے وابستہ وہ مفاد کریں

    آگ گھر کی انہیں بھی یاد رہے
    شہر میں جو کبھی فساد کریں

    آج خود سے ذرا سی دیر ملیں
    آج پوری چلو مراد کریں

    یاد میں ایک مرنے والے کی
    آج محفل کا انعقاد کریں

  • بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالد شریف

    ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک

    18 جون 1947: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔
    خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کے درجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں۔ اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
    تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
    میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
    تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

    آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
    کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

    آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
    سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

    آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
    تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

    آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
    چاند کمرے میں مرے اترا ہے

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
    وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
    ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
    دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

    وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
    اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

    زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
    یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
    ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے

  • مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
    مجھے بس وہ ، اسے سارا زمانہ چاہئے تھا

    بشری اعجاز

    18 جون 1959: یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس اور کالم نگار بشری اعجاز صاحبہ 18 جون 1959 سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں کوٹ فضل احمد میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا تعلق پنجاب کے ایک روایتی زمیندار گھرانے سے ہے ان کے والد صاحب کا نام میاں نوازش علی رانجھا اور خاوند محترم کا نام اعجاز احمد ہے ۔ اولاد میں انہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور ماشاء اللہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ان کا بیٹا اپنی والدہ محترمہ کی تقلید کرتے ہوئے شاعری میں طبع آزمائی کر رہے ہیں ۔ بشری صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے اور وہ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کرتی ہیں ان کا شمار پاکستان کی مقبول و معروف شاعرات اور لکھاریوں میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے شادی کے بعد شعر و شاعری اور لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا 1989 میں کی۔ ان کی اب تک نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 بارہ آنے کی عورت 2 پباں بھار 3 آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں 4 بھلیکھا اور دو سفرنامے ہیں ایک حج پر اور دوسرا بھارت کے سفر پر لکھا گیا ہے۔ بشری صاحبہ آجکل روزنامہ نئی بات میں ” تیسرا کنارہ” کے مستقل عنوان سے کالم لکھ رہی ہیں اور وہ لاہور کینٹ میں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کی ایک غزل قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہئے
    رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہئے

    اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر
    منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے

    سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک
    ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہئے

    تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں
    دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا چاہئے

    پھول کی پتی پہ لکھوں نظم جیسی اک دعا
    ہاتھ اٹھانے کے لیے مجھ کو بہانا چاہئے

    وصل کی کوئی نشانی ہجر کے باہم رہے
    اب کے سادہ ہاتھ پر مہندی لگانا چاہئے

    پھول خوشبو رنگ جگنو روشنی کے واسطے
    گھر کی دیواروں میں اک روزن بنانا چاہئے

    شام کو واپس پلٹتے طائروں کو دیکھ کر
    سوچتی ہوں لوٹ کر اب گھر بھی جانا چاہئے

    بشریٰ اعجاز

  • یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    عباس تابش

    تاریخ پیدائش:15 جون 1961ء

    اردو کے مشہور شاعر عباس تابش 15جون 1961ء کو میلسی ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1977ء میں میلسی سے میٹرک کیا اور مختلف مقامی اخبارات کے لیے کام کرنے لگے۔ 1981ء میں پرائیویٹ طور پر ایف اے کیا اور لاہور آ کر روزنامہ جنگ میں ملازمت اختیار کر لی۔ انھوں نے دوران ملازمت 1984ء میں بی اے کیا۔ 1986ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کرنے کے بعد بطور لیکچرار ملازمت کا آغاز کیا۔ آپ مختلف کالجز میں فرائض انجام دیتے رہے اور آج کل گورنمنٹ کالج گلبرگ لاہور کے شعبہ اردو کے سربراہ ہیں۔ آپ دوران تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور میں رسالہ ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ آپ دوبئی‘ ناروے‘ آسٹریلیا، مسقط، شارجہ، برطانیہ، ہندستان، امریکا کے متعدد مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ اردو میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ اب تک پانچ شعری تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں اور ایک شعری انتخاب آ چکا ہے۔ تصانیف میں1۔ تمہید 2۔ آسمان 3۔ مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا 4۔ پروں میں شام ڈھلتی ہے 5۔ عشق آباد (کلیات) 6۔ جب تیرا ذکر غزل میں آئے (انتخاب) شامل ہیں۔ اب تک مختلف ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ عباس تابش آج کی غزل کے نمائندہ شعرا ء میں سے ہیں۔ عباس تابش کی شاعری کا انتخاب ’’سلسلہ دلداری کا‘‘شکیل جاذب نے کیا ہے۔ دیباچہ معروف نقاد اور ڈراما نگار اصغر ندیم سید نے لکھا ہے۔ کتاب میں شامل شاعری عباس تابش کی کتابوں تمہید، آسمان، مجھے دعائوں میں یاد رکھنا، پروں میں شام ڈھلتی ہے اور رقص درویش‘‘ سے لی گئی ہے۔

    جناب احمد ندیم قاسمی صاحب عباس تابش کے بارے میں لکھتے ہیں۔
    ’’عباس تابش کے نزدیک شعر ایک ذاتی واردات کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ اسے کوئی نظریہ یا کوئی فلسفہ نہیں سمجھتا‘ اگر اس کے اشعار پڑھتے ہوئے آپ پر بھی وہی کیفیات وارد ہوتی چلی جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری صورت میں عباس تابش آپ کو مجبور تامل نہیں کرے گا کہ یہ اس کا مسلک نہیں۔ وہ تو اپنی بات اپنے انداز میں کرتا چلا جاتا ہے۔ کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار ٹھہرتا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی اس کے تجربے کا حصہ دار نہیں بن پاتا تو بھی ٹھیک ہے کہ عباس تابش اپنی طبیعت میں نیاز رکھتے ہوئے بھی ذرا ہٹ دھرم واقع ہوا ہے۔‘‘
    ان کا ایک شعر عوام الناس میں بہت مشہور ہوا۔
    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    معروف کالم نگار فرخ شہباز وڑائچ لکھتے ہیں کہ عباس تابش کی ہر غزل میں زندہ شعر ملتا ہے،بلاشبہ عباس تابش موجودہ غزل کا نمائندہ شاعر ہے۔ عباس تابش کا ماں جیسی عظیم ہستی پر لکھا گیا ایک شعر کئی شعرا کی کلیات پر بھاری ہے۔ عباس تابش میرے دکھ درد کے ساتھی ہیں اور مجھے ان کی شاگردی پر فخر ہے۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

    ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
    جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    تیری روح میں سناٹا ہے اور مری آواز میں چپ
    تو اپنے انداز میں چپ ہے میں اپنے انداز میں چپ

    فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا
    جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

    ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار
    اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

    آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر
    یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

    گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
    ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا
    تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

    اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں
    بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

    بس ایک موڑ مری زندگی میں آیا تھا
    پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری

    میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید
    مرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری

    اک محبت ہی پہ موقوف نہیں ہے تابشؔ
    کچھ بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں نادانی میں

    جھونکے کے ساتھ چھت گئی دستک کے ساتھ در گیا
    تازہ ہوا کے شوق میں میرا تو سارا گھر گیا

    عشق کر کے بھی کھل نہیں پایا
    تیرا میرا معاملہ کیا ہے

    مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت
    آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

    تری محبت میں گمرہی کا عجب نشہ تھا
    کہ تجھ تک آتے ہوئے خدا تک پہنچ گئے ہیں

    محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی
    یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ

    ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو
    یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

    مدت کے باد خواب میں آیا تھا میرا باپ
    اور اوس نے مجھ حب الوطنی اتنا کہا خوش رہا کرو

    ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے
    ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں

    تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے
    بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

    بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں
    اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

    نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا
    ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

    میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
    سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

    رات کمرے میں نہ تھا میرے علاوہ کوئی
    میں نے اس خوف سے خنجر نہ سرہانے رکھا

    ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح
    اب یہ باتیں ہمیں لگتی ہیں فسانوں کی طرح

    بیٹھے رہنے سے تو لو دیتے نہیں یہ جسم و جاں
    جگنوؤں کی چال چلیے روشنی بن جائیے

    پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
    خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

    جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے
    خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

    پہلے تو ہم چھان آئے خاک سارے شہر کی
    تب کہیں جا کر کھلا اس کا مکاں ہے سامنے

    وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا
    اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

    پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا
    ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

    التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک
    بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

    ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے
    وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

    رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا
    تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم

    میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر
    سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

    ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے
    کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

    میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص
    مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

    یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو
    کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

    ملتی نہیں ہے ناؤ تو درویش کی طرح
    خود میں اتر کے پار اتر جانا چاہئے

    یہ موج موج بنی کس کی شکل سی تابشؔ
    یہ کون ڈوب کے بھی لہر لہر پھیل گیا

    ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے
    کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

    طلسم خواب سے میرا بدن پتھر نہیں ہوتا
    مری جب آنکھ کھلتی ہے میں بستر پر نہیں ہوتا

    دے اسے بھی فروغ حسن کی بھیک
    دل بھی لگ کر قطار میں آیا

    یہ زمیں تو ہے کسی کاغذی کشتی جیسی
    بیٹھ جاتا ہوں اگر بار نہ سمجھا جائے

    مکیں جب نیند کے سائے میں سستانے لگیں تابشؔ
    سفر کرتے ہیں بستی کے مکاں آہستہ آہستہ

    کچھ تو اپنی گردنیں کج ہیں ہوا کے زور سے
    اور کچھ اپنی طبیعت میں اثر مٹی کا ہے

    موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا
    تم آئے اور بور نہ آیا درخت پر

    یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ
    اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں

    اس کا مطلب ہے یہاں اب کوئی آئے گا ضرور
    دم نکلنا چاہتا ہے خیر مقدم کے لیے

    نہال درد یہ دن تجھ پہ کیوں اترتا نہیں
    یہ نیل کنٹھ کہیں تجھ سے بد گماں ہی نہ ہو

    شب کی شب کوئی نہ شرمندۂ رخصت ٹھہرے
    جانے والوں کے لیے شمعیں بجھا دی جائیں

    میرا رنج مستقل بھی جیسے کم سا ہو گیا
    میں کسی کو یاد کر کے تازہ دم سا ہو گیا

    سن رہا ہوں ابھی تک میں اپنی ہی آواز کی بازگشت
    یعنی اس دشت میں زور سے بولنا بھی اکارت گیا

    خوب اتنا تھا کہ دیوار پکڑ کر نکلا
    اس سے ملنے کے لیے صورت سایہ گیا میں

  • تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    تبصرہ کتب، اسلامی قانون وراثت

    نام کتاب : اسلامی قانون وراثت
    تالیف: مولاناابونعمان بشیر احمد
    صفحات : 104
    قیمت :300روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034ن
    علم میراث کا شمار علم فرائض میں ہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے ہاں اس اہم ترین علم ۔۔۔۔۔یعنی علم میراث کو بالکل ہی نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ اکثر علمائے کرام بھی اس سے بے بہرہ ہیں ، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے علم میراث کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے ۔ فرمان نبوی کا ترجمہ ہے ” علم وراثت سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ جلد ہی میری موت واقع ہوجائے گی ، علم فرائض بھی اٹھالیاجائے گا ، فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی کسی مقررہ حصے میں اختلاف کریں گے اور کوئی آدمی ایسا نہیں پائیں گے جو ان میں فیصلہ کرسکے ۔“ اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ علم میراث کو سیکھنا اور سمجھنا کس قدر ضروری ہے ۔ موت اور میراث کاچولی دامن کا ساتھ ہے ۔ موت اٹل ہے تو میراث کے مسائل ومعاملات بھی ناگزیر ہیں ۔ یہ مسائل ومعاملات کس طرح حل کئے جائیں ۔۔۔۔؟ اس سے بیشتر لوگ آگاہ نہیں ہیں حالانکہ اسلام میں میراث کے تمام مسائل کے انتہائی اطمینان بخش جوابات موجود ہیں ۔عام لوگوں کی تو بات ہی کیا ۔۔۔۔؟ اکثر علمائے کرام بھی میراث کے مسائل سے آشنا نہیں ہیں ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ” اسلام کا قانون وراثت “ کے نام سے یہ کتاب شائع کی ہے ۔ کتاب کے مﺅلف مولانا ابونعمان بشیر احمد ہیں جبکہ شیخ الحدیث ، محدث دوراں حافظ عبدالستار الحماد نے نہ صرف موضوع کے حوالے سے گرانقدر تحقیقی مواد فراہم کیا ہے بلکہ اس کتاب کے مسودے پر نظر ثانی کی ذمہ داری بھی احسن طور پر ادا کی ہے اس طرح سے اس کتاب کی علمی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ یہ کتاب سادہ اور عام فہم اسلوب میں لکھی گئی ہے تاکہ علما ، اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ اور عام لوگ بھی اس سے مستفید ہوسکیں ۔عام طور پر اسلام کے قانون وراثت کو ایک مشکل اور پیچیدہ علم سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کتاب میں جو عام فہم اور سادہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس سے یہ بات آشکاراہوتی ہے کہ میراث کا علم ہرگز مشکل نہیں ۔ کتاب میں سوال وجواب کا انداز اختیار کیا گیا اس سے یہ کتاب مزید مفید طلب اور عام فہم ہوگئی ہے ۔ کتاب میں جہاں اسلام کے احکام میراث پر بات کی گئی ہے وہاں حقیقت بھی واضح کی گئی کہ اسلامی احکام میراث عدل وانصاف پر مبنی ہیں جو کہ تنازعات کے امکانات ختم کردیتے ہیں اور پرامن فلاحی معاشرے کی بنادیں مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” اسلامی قانون وراثت “ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی کہ اسلام تنازعاتِ ملکیت کو خوش اسلوبی سے اور انتہائی بروقت طے کرنے کی تعلیم وتربیت دیتا ہے ۔ کتاب میں درج ذیل موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے : علم میراث کی تعریف ، علم میراث کا موضوع اور غرض وغایت ، میت کا ترکہ ورثا میں کب تقسیم کیا جائے ؟وہ اسباب جن کی وجہ سے وارث وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے ؟ مال میراث میں مقررہ حصے اور ان کی تقسیم ، میت کے وہ رشتے دار جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ان رشتے داروں کےلئے اسلام میں کیا احکام ہیں ۔۔۔۔۔؟ تقسیم ترکہ کا طریقہ کارکیا ہے ۔۔۔؟ محنث کا وراثت میں حصہ ۔۔۔۔؟ وہ گم شدہ شخص جس کے زندہ یا فوت ہونے کا علم نہ ہوسکے اس کےلئے احکام وراثت ۔۔۔۔؟ میت کے وہ کون سے رشتے دار ہیں جن کے حصے وراثت میں متعین نہیں ، کن صورتوں میں ورثا کے مقررہ حصوں میں کمی واقع ہوجاتی ہے ، میت کا ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے اس کے ورثا میں سے ایک یا ایک سے زیادہ فوت ہوجائیں تو ایسی صورت میں ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ۔۔۔؟وہ گمشدہ شخص جس کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں علم نہ ہوسکے تو اس کےلئے کیا احکام ہیں ، عاق نامے کی شرعی حیثیت ، یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ ۔ کتاب میں میت کے تمام ورثا کے حصے نکالنے کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے اسی طرح ایک تفصیلی نقشہ بھی دیا گیا ہے جس سے وراثت کے تمام مسائل اور حصوں کو سمجھنا مزید آسان ہوگیا ہے ۔ دریں اثنا ان تمام وجوہات کی بناپر یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب اور باکمال کتاب ہے اس کتاب کا مطالعہ ہر مرد وعورت کےلئے بے حد ضروری ہے ۔