Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

    زیر تبصرہ کتاب ” عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “اپنے موضوع پر بہت ہی خوبصورت ، مفید اور جامع کتاب ہے جسے عبدالمالک مجاہد نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب خاص کر بچوں ، بچیوں ، طلبہ وطالبات کےلئے مرتب کی گئی ہے تاہم اس کتاب کا مطالعہ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کےلئے بھی بے حدضروری اور مفید ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نے آرٹ پیپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار کلر کے ساتھ شائع کی ہے ۔ کتاب کاانداز بیاں سادہ اورسلیلس ہے ۔ یوں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے حالات زندگی کا مطالعہ ہر دور میں ہی ضروری رہا لیکن موجودہ دور میں اس کی ضرورت بے حد بڑھ چکی ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم وہ خوش نصیب جنھوں نے رسول مقبول ﷺ کے سایہ نبوت میں تربیت پائی ، ان میں دس اصحاب وہ تھے جنھیں آپ ﷺ نے دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی ۔ اس لیے انھیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ۔ان عظیم المر تبت صحابہ کرام میں چار تو خلفائے راشدین ہیں ، یعنی سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضوان اللہ علیھم شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا سعید بن زید اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیھم کے اسمائے گرامی عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں ۔ یہ سب امت مسلمہ کے لیے روشنی کے مینار ہیں جن کے بارے میں وقتاََ فوقتاََ سید المر سلین ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے نکلے ہوئے الفاظ ان کی عظمت و مرتبت ، خوبی کردار اور شان ہدایت کی عکاسی کرتے ہیں ۔

    چاروں خلفائے راشد ین کا بابرکت عہد ” خلافت ِ راشدہ “ کہلاتا ہے جو ملت اسلامیہ کے لیے سیاست و حکومت ، معیشت و عدالت اور نظام ِ مملکت کا بہترین نمونہ ہے اور تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ دنیا بھر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت و عزیمت ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدالت و فراست ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت و کرامت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت و استقامت کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم نے جو فلاحی ریاست قائم کی ، دنیا کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی قوم اور کوئی معاشرہ ایسی فلاحی جمہوری ریاست قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ خلفائے راشدین کے عہد ِ مسعود میں شام ، عراق ، ایران ، خراسان ، فلسطین ، مصر اور طرابلس یکے بعد دیگرے فتح ہوتے چلے گئے ۔جبکہ اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے محاذ شا م کے فاتح سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور عراق و ایران کے فاتح سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے ۔طلبہ و طالبات کی تعلیمی و تربیتی ضرورت کے پیش نظر انھیں عشرہ مبشرہ کی پاکیزہ زندگی سے متعارف کرانے کے لیے زیر نظر کتاب میں اس امت کی دس بہترین شخصیات کے عملی نمونے پیش کیے گئے ہیں ، تاکہ ان عظیم ہستیوں کے حسن سیرت کے آئینے میں وہ اپنی راہ ِ عمل متعین کر سکیں ۔” عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنھم کی زندگیوں کے سنہرے واقعات “ اتنی مفید اور خوبصورت کتاب کہ جو بچوں بچیوں کو بطور گفٹ بھی دی جاسکتی ہے ۔ امید ہے کہ یہ کتاب پڑھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی زندگی کے روشن روشن واقعات ہماری نوجوان نسل کے لیے رہنما ثابت ہوں گے ۔ اس سے نہ صرف ہمارے بچوں بچیوں کی اسلامی تعلیمات میں اضافہ ہوگا بلکہ اپنے حال اور مستقبل کو سنوارنے میں مدد بھی ملے گی ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ کتاب کی قیمت 450روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔

  • تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    تبصرہ کتب،نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار

    زیر تبصرہ کتاب”نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار “ بطور خاص ننھے منے بچوں بچیوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں۔ عبدالمالک مجاہد کا نام محتاج تعارف نہیں وہ دارالسلام انٹرنیشنل کے بانی ہیں اور لاتعداد وبے شمار کتابوں کے مصنف ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی کتابوں کی ہے۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں اس کتاب میں بچوں کے لیے نہایت ہی ضروری دعاﺅں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جو بچے بچیاں کم عمری میں ہی دعائیں اور اذکار سیکھ لیں گے اور انھیں یاد بھی کرلیں۔۔۔۔وہ دعائیں ساری زندگی ان کے کام آ ئیں گی۔دعائیں یاد کرنا اور اذکار پڑھنا سنت ہے، روحانی شفا اور مصائب وپریشانیوں سے نجات ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ صبح وشام کے اذکار پڑھا کرتے تھے اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اذکار یاد کرنے کی تلقین وترغیب کیا کرتے تھے۔زیر تبصرہ کتاب ’ ’نونہالوں کے لئے سنہرے اذکار “ روزہ مرہ کی اہم ترین دعاﺅں پر مشتمل ہے۔مثلاََ نیند سے بیدار ہونے کی دعا ، بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا ، بیت الخلا سے نکلنے کی دعا ،وضو سے پہلے کی دعا ، وضو کے بعد کی دعا ، سیرت وصورت بہتر بنانے کی دعا ، لباس پہننے کی دعا ، گھر سے نکلتے وقت کی دعا ، مسجد میں داخل ہونے کی دعا ، سلام پھیرنے کے بعد کی دعا ، مسجد سے نکلنے کی دعا ، گھر میں داخل ہوتے وقت کی دعا ، بیمار پرسی کے وقت کی دعائیں ، سیدالاستغفار ، جب بارش ہو تو کیا دعا مانگی جائے ، چاند دیکھنے کی دعا ، کھانا کھانے سے پہلے کی دعا ، کھانے سے فراغت کے بعد کی دعا ، چھینک کی دعائیں ، سواری پر بیٹھنے کی دعا ، بازار میں داخل ہونے کی دعا ، سوتے وقت کی دعا ۔

    اس کتاب کی آرٹ پیپر پر 4کلر باتصور طباعت اتنی عمدہ ، دلکش ، جاذب نظر اور خوبصورت ہے کہ جو بچہ بھی اسے دیکھ لے وہ اسے پڑھے بغیر نہیں رہ سکتااس طرح سے بچے کا دل خود بخود دعائیں یاد کرنے کی طرف راغب وآمادہ ہوگا ۔کتاب کی اہم ترین خصوصیات یہ ہیں کہ تقریباََ ہر دعا کے ساتھ ضروری ہدایات بھی درج کی گئی ہیں ۔ مثلاََ بیت الخلا میں داخل ہونے والی دعا کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ پہلے بایاں پاﺅں اندر رکھا جائے ۔دعا واش روم میں داخل ہونے سے پہلے پڑھی جائے ۔ واش روم میں باتیں نہ کی جائیں ۔ واش روم میں قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھا جائے ۔ خود کو پانی سے پاک کیا جائے ۔ قضائے حاجت کے بعد واش روم صاف کرنے کے لیے پانی والا لیور ضرور دبایا جائے ۔اسی طرح دیگر دعاﺅں کے ساتھ بھی ضروری ہدایات دی گئی ہیں ۔ ہر دعا کے ساتھ حدیث کی کتاب کانام اور حدیث نمبر بھی درج کیا گیا ہے ۔ یوں اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ کتاب کی اہمیت وافادیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے اس کتاب کا ہر گھر میں اور ہر بچے کے پاس ہونا بے حد ضروری ہے ۔ اس کتاب کا مطالعہ نہ صرف بچوں بلکہ والدین کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ اس وقت مسلم والدین کو جو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں ان میں سے اہم ترین مسئلہ بچوں کی تربیت کا ہے۔ والدین بچوں کی تربیت کے حوالے سے بے حد پریشان رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے غفلت کرتے ہیں۔ بلاشبہ بچوں کی اسلامی اور اخلاقی اصولوں پر تربیت ایک اہم ترین اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ بچوں کی ابتدا ہی سے تربیت اسلامی اصولوں پر کی جائے۔نونہالوں کے لیے سنہرے اذکار سے جہاں بچوں کے لئے دعائیں یاد کرنا آسان ہے وہاں اس کتاب کے مطالعہ سے بچوں کا دین کی طرف بھی شوق بڑھے گاان شاءاللہ ۔کتاب کی قیمت 320روپے ہے یہ خوبصورت اور جاذب نظر کتاب یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور 042-35324034دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796677دارالسلام اسلام آباد مرکز ایف ایٹ051-2281513پر دستیاب ہے ۔

  • عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    منصورہ احمد
    یکم جون 1958: یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ منصورہ احمد یکم جون 1958 کو حافظ آباد میں معروف قانون دان مرزا حبیب احمد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پرائمری سے انٹر تک حافظ آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ گریجویشن لاہور میں کیا۔ شاعری کا انہیں بچپن میں شوق تھا ۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ 1998 میں انہیں ان کے شعری مجموعے "طلوع” پر اکادمی ادبیات پاکستان نے وزیراعظم ادبی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ وہ ادبی جریدے” مونتاج” کی مدیرہ بھی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی تھیں. وہ 1986 سے 2006 تک ادبی جریدہ "فنون” سے وابستہ رہیں ۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ 8 جون 2011 کو لاہور میں وفات پاگئیں اور حافظ آباد میں آسودہ خاک ہوئیں۔

    منصورہ احمد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا
    یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    میں سب سمجھتی رہی اورمسکراتی رہی
    مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی
    کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی
    شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا

    سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں
    خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا

    وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام
    کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا

    مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے
    تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
    گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں
    بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے

  • تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    تبصرہ کتب، بلوغ المرام،جدید ایڈیشن

    نام کتاب : بلوغ المرام/ جدید ایڈیشن( دوجلد )
    تالیف : شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی
    صفحات : 1138
    ناشر  : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئرمال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    زیر نظر کتاب” بلوغ المرام من ادلة الاحکام “ ابو الفضل حافظ شہاب الدین احمد ابن حجر العسقلانی کی بے مثال کتاب ہے ۔فقہائے محدثین کے سلسلے میں ایک بہت بڑا اور معتبر نام نویں صدی ہجری کے امیر المومنین فی الحدیث شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد المعروف ابن حجر العسقلانی کا ہے جنہیں معاصرین نے حافظ مشرق والمغرب کا لقب بھی دیا ہے۔ وہ بہت بڑے مفسر ، محدث ، فقیہ ، مورخ اور ماہر لغت تھے ۔ شرعی احکام کے حدیثی دلائل پر مبنی فقہ میں ان کی مایہ ناز کتاب بلوغ المرام ہے جو صدیوں سے دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں معروف چلی آرہی ہے ۔ یہ کتاب ضخامت میں مختصر ہے لیکن جامعیت اور افادیت کے اعتبار سے بے نظیر ہے ۔ مسائل و احکام کا یہ نہایت اہم اور گراں قدر مجموعہ علماءاور طلباءکے لیے یکساں مفید ہے ۔ اس نامور کتاب کا اردو میں نہایت خوبصورت ترجمہ قارئین کے ہاتھوں میں ہے ۔ اگرچہ اب تک اس کتاب کے سینکڑوں تراجم شائع ہوچکے ہیں لیکن یہ ترجمہ پیش رو تمام تراجم سے یکسر مختلف اور منفرد ہے ۔

    اس کی پہلی انفرادیت یہ ہے کہ یہ ترجمہ معروف سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے کیا ہے ۔ اس کتاب کی دیگر خصوصیات یہ ہیں کہ کم و بیش ہر حدیث کے نیچے پہلے لغوی تشریح پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح اور تفہیم آسان ہو جائے۔ راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں۔حافظ ابن حجر العسقلانی نے اس کتاب میں فقہائے محدثین کے اسلوب کا تدبر انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے کیا ہے انہوں نے ہر مسئلے کو احادیث نبویہ کے ذریعے سے واضح کیا ہے جبکہ علماءاس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک عام مسلمان احکام شریعت پر عمل کرنے کے لیے کوئی ایسی کتاب منتخب کرے جو مختصر ہو ، آسان ہو ، فقہی ابوا ب کے کے مطابق مرتب ہو ، تمام مسائل کے بارے میں مکمل رہنمائی کرتی ہو اور اس پر کسی تردد یاذہنی تحفظ کے بغیر عمل کیا جا سکتا ہو تو اس کے لیے بلوغ المرام سب سے عمدہ انتخاب ہوگا

  • تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی  مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تبصرہ کتب،مختار النحو( قرآنی مثالوں سے مزین عربی گرامر )

    تالیف : مولانا مختار احمد سلفی
    صفحات : 270
    قیمت :920روپے
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 024-37324034

    قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے عربی علوم میں ’’فن نحو کو ‘‘ بنیادی مقام حاصل ہے ۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ کو کماحقہ سمجھنا ممکن نہیں ۔ قرآ ن و سنت کو سمجھنے کے لیے نحو کا علم بنیاد ہے ۔ا س کے متعلق مشہور زمانہ مقولہ ہے’’ نحو کی کلام میں وہی حیثیت ہے جو کھانے میں نمک کی ہے ‘‘ الغرض ’’ نحو ‘‘ ایک نہایت اہم علم ہے۔ اسی کے پیش نظر مدارس اسلامیہ میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں علمائے اسلام نے اس فن کے متعلق کتابیں لکھی ہیں اور اسے آ سان سے آ سان تر بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ زیر نظر کتاب مختار النحو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔یہ اپنے موضوع پر نہایت ہی لاجواب اور آسان کتاب ہے۔ اس میں قرآنی مثالوں کے ذریعے علم النحو کو آسان فہم انداز میں سمجھانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔کتاب کی عبارت عام فہم ہے ۔ عربی زبان کے تمام بنیادی قواعد کو عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔ ہر قانون کی توضیح مثالوں کے ذریعے کی گئی ہے ۔ کتاب ایک مقدمہ تین ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے ۔ پوری کتاب کو 70 اسباق پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں نحو کی بنیادی باتیں ذکر کی گئی ہیں۔

    پہلا باب اسم، دوسرا باب فاعل اور تیسرا باب حرف کے بیان میں ہے۔ اسباق کے آ خر میں مشقی سوالات اور قران و حدیث کی مثالوں سے مزین تمرینات دی گئی ہیں۔تمام مثالیں قرآ ن و حدیث اور احادیث نبویہ سے ماخوذ ہیں۔ کوشش یہی کی گئی ہے کہ ہر مثال آ سانی سے سمجھ میں آ نے والی ہو ۔ کتاب کے آ خر میں نحو کے قوانین کو عربی عبارت پر لاگو کرنے کے لیے اجرا اور مطالعہ کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ اسی طرح ہر سبق کی ایک مثال کی ترکیب کر دی گئی ہے تاکہ اس کو سامنے رکھتے ہوئے باقی مثالوں کی ترکیب کرنا آسان ہو جائے ۔ کتاب کے اسلوب کو نحو کی دوسری کتابوں کے مطابق ہی رکھا گیا ہے تاکہ قارئین کی ذہنی استعداد میں باآسانی اضافہ ہو ۔ جو قارئین محنت اور کوشش سے اس کتاب کو پوری طرح سمجھ کر پڑھیں گے وہ کافی حد تک فن نحو کے ابتدائی قواعد میں ماہر ہو جائیں گیاور عربی زبان کو صحیح طرح سے پڑھنے ، سمجھنے ، لکھنے اور بولنے پر قادر ہوجائیں گے ان شاء اللہ ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • پاک دامن اور بہادر طوائف

    پاک دامن اور بہادر طوائف

    قصے اور کہانیاں /، آغا نیاز مگسی

    اردو شاعری میں سب سے پہلی صاحب دیوان خاتون شاعرہ کا اعزاز جس عورت نے حاصل کیا وہ اپنے دور کی حسین و جمیل طوائف چندا بائی ماہ لقا تھی جس کا تعلق حیدر آباد دکن سے تھا جس طرح کی وہ خوب صورت تھی ایسی ہی اس کی خوب صورت شاعری تھی ۔ اس کا ایک شعر ہے

    کبھی صیاد کا کھٹکا کبھی خوف خزاں
    بلبل اب جان ہتھیلی پہ لئے بیٹھی ہے

    اس خاتون شاعرہ اور مشہور طوائف کے پرستاروں میں بڑے بڑے راجے مہاراجے، نواب، رئیس، امیر کبیر، وزیر مشیر اور سیٹھ وغیرہ شامل تھے اور اس کی دوستی پر فخر کرتے تھے ۔ تعجب اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام عمر تجرد میں گزار دی یعنی شادی نہیں کی ۔ اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی جو اب تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکی ۔ میرے اس مضمون کا عنوان چندا بی بی نہیں بلکہ دیپالی بتول ہے لیکن اس کی کہانی بیان کرنے سے پہلے کسی طوائف کا ایک قول ملاحظہ فرمائیں کہ کسی حضرت نے طوائف سے پوچھا تمہیں کوٹھا چلاتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے تو طوائف نے کہا کہ یہ کوٹھا نہیں بلکہ بڑے بڑے شریفوں کا قبرستان ہے جبکہ سعادت حسن منٹو کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ معاشرہ کسی عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر اسے ٹانگہ چلانے کی اجازت نہیں دیتا ۔

    قیام پاکستان سے پہلے انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں 5 بڑے بازار حسن تھے کلکتہ کا ” سونا گاچی ” اور لاہور کا بازار حسن ” ہیرا منڈی ” جبکہ کراچی میں لی مارکیٹ اور نیپیئر روڈ کے بازار حسن، ملتان کا بازار حسن اور میاں چنوں اور عبدالحکیم کے درمیان تلمبہ کا نہایت خوبصورت بازار حسن شامل تھے ۔ تلمبہ میں اس وقت کے حکمران مہا راجہ رنجیت سنگھ نے 1818 میں بازار حسن قائم کیا تھا ۔ تلمبہ کے تاریخی بازار حسن کو تبلیغ کے ذریعے بند کرنے میں مولانا طارق جمیل کا اہم کردار ہے اور اس بازار حسن کی جگہ پر مولانا طارق جمیل نے ایک خوبصورت مدرسہ حسنین قائم کیا ہے ۔ اس سے پہلے یہ مقام پنجاب کے لوگوں میں” تلمبہ دی کنجری ” کے حوالے سے مشہور تھا ۔ کلکتہ کا بازار حسن سونا گاچی سب سے زیادہ مشہور تھا اور اس میں پدمنی کو ٹھا سب سے زیادہ مہنگا اور بہت اہم تھا ۔ یہاں ہندوستان بھر سے بڑے بڑے راجے مہاراجے، شرفاء اور اعلی سرکاری افسران اپنی ” چھٹیاں ” منانے آتے تھے واپسی پر اپنے گھروں میں اپنی بیگمات سے کسی خاص مصروفیت کا بہانہ گھڑ لیا کرتے تھے ۔ 14 سال کی عمر کی ایک یتیم لیکن خوب صورت دوشیزہ دیپالی کو سلہٹ کے پہاڑوں کے درمیان میں موجود ایک محل نما مندر کی انتظامیہ نے سونا گاچی کے دلالوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ 1898 میں ہندوستان میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تھی جس سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے اور ہزاروں بچے یتیم ہو گئے تھے ۔ دیپالی بھی ایک یتیم اور بے سہارا بچی تھی۔ طاعون کی وباء میں اس کے والدین فوت ہو گئے تھے اور اس کے رشتہ داروں نے دیپالی کو مندر کے پروہتوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ بعدازاں مندر کی انتظامیہ نے کلکتہ کے بازار حسن سونا گاچی میں اس کی بولیاں لگائیں خوب صورتی کے باعث اس کی بڑی قیمت لگائی گئی اور اس کو سب سے مہنگے کوٹھے پدمنی میں پہنچایا گیا ۔ کوٹھے کی مالکہ نے اسے سنگھار کر کے ” معزز ” گاہکوں کا دل بہلانے کا حکم جاری کردیا لیکن دیپالی نے انکار کر دیا ۔ اس کو ” راہ راست ” پر لانے کے لئے 2 ماہ تک سمجھایا گیا لیکن دیپالی اپنے انکار پر قائم رہی ۔ ایک روز ایک مشہور شخصیت اور سابق رکن انڈین لے جلسٹو اسمبلی سیٹھ تیج بھان کو خوش کرنے کے لئیے اسے زبردستی کمرے میں دھکیل دیا گیا اور ساتھ میں دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے سیٹھ کو ناراض کیا تو اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی جائے گی ۔ آدھی رات کو سیٹھ تیج بھان نے کوٹھے کے بالائی کمرے میں دیپالی سے دست درازی شروع کر دی تو دیپالی نے سیٹھ کی منت سماجت کی مگر وہ باز نہ آیا ۔تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق دیپالی نے پوری قوت کے ساتھ سیٹھ کو کسی بوری کی طرح اٹھا کر کھڑکی سے باہر نیچے روڈ پر پھینک دیا جس سے ایک دھماکہ سا ہوا اور سیٹھ کے پرخچے اڑ گئے ۔ پولیس آئی اور دیپالی کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کر کے لے گئی۔ اگلی صبح ہندوستان بھر میں یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک کوٹھے میں نئی آنے والی طوائف نے سیٹھ تیج بھان کو کوٹھے سے گرا کر قتل کر دیا ہے ۔ سونا گاچی سے کے بازار میں جب بھی کسی معصوم طوائف کے ہاتھوں کوئی قتل ہو جاتا تو متعلقہ پولیس تھانے خوشی کی لہر دوڑ جاتی ۔ تفتیش کے نام پر ایس ایچ او مجبور طوائف کو زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا اگر طوائف خوب صورتی میں پری پیکر لگتی تو ضلع کا ایس پی صاحب بنفس نفیس تفتیش کے لیے پہنچ جاتا یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا ۔ ایس پی صاحب رات کے اندھیرے میں پولیس تھانے پہنچ گیا ۔ دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایک بڑے ہوٹل میں کھانا کھلانے کے بعد کلکتہ کے وہاڑہ بریج کی سیر کرانے لے گیا اور وہاں گاڑی سے اتر کر دیپالی کو بریج کے کنارے گھمانے کے بہانے باتیں کرتے کرتے اپنے مطلب کی بات کر ڈالی دیپالی نے جواب میں ایس پی صاحب کو ایک زور دار دھکہ دیا اور ایس پی نہر میں ڈوب گیا ۔ اب دیپالی پر سیٹھ کے بعد ایس پی کے قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کے چرچے پورے ہندوستان میں ہونے لگے ۔ کلکتہ کے سینٹ جوزف گرلز کالج کی خواتین پروفیسرز اور طالبات نے دیپالی سے جا کر حوالات میں ملاقات کی اور قتل کی وجہ معلوم کی تو دیپالی نے ایک تاریخی جملہ کہا ” کہ میں کوٹھے سے گرفتار ضرور ہوئی ہوں مگر میں کوٹھے والی نہیں ہوں” ۔ یہ لوگ مجھ سے زبردستی میری عزت لوٹنا چاہتے تھے میں نے اپنی عزت بچانے کی خاطر ایسا قدم اٹھایا ۔ کالج کی طالبات نے سونا گاچی بازار اور پولیس کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیپالی کو رہا کیا جائے ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا نے دیپالی کا مقدمہ مفت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک طرف سیٹھ اور ایس پی کے قتل کیس پر دیپالی کو سزائے موت دلانا چاہتے تھے تو دوسری جانب خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کی باعزت رہائی کے لیے میدان میں اتری تھی ۔

    حکومت اور اپر کلاس کے دباؤ کے نتیجے میں عدالت کمزور پڑ گئی تھی قتل کے عدم ثبوت کے باوجود سیشن کورٹ کے جج نے دیپالی کو 2 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا ۔ اس کی عمر کے لحاظ سے بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی اس کی عمر 14 سال سے کچھ ماہ اوپر تھی ۔ سزائے موت کے فیصلے کے بعد اس کو جیل بھیج دیا گیا ۔ جیل کے وارڈن کی بھی نیت خراب ہو گئی ۔ جیل کی پہلی رات ہی وارڈن نے اس کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہوئے دعوت کے بہانے دیپالی کو اپنے بنگلے چلنے پر مجبور کیا ۔ رات کو جیل وارڈن نے دیپالی سے دل لگی کی باتیں شروع کر دیں ۔ جوں ہی دیپالی کے قریب آنے کی کوشش کی تو دیپالی نے وارڈن کو گرن سے پکڑ کر دبوچ لیا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی ۔ دیپالی کے خلاف قتل کا ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ پورے ہندوستان میں دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کی شہرت ہو گئی ۔ اس نئے قتل کی تفتیش کے دوران جیلر نے دیپالی کو زیر کرنے کا پختہ ارداہ کر لیا ۔ ایک رات دیر سے جیلر نے آ کر دیپالی کو بارہ دری چلنے کا حکم دیا یہ اس جیل کے ایک مخصوص ٹارچر سیل کا نام تھا جس کا نام سن کر قیدی تھر تھر کانپنے لگتے تھے مگر دیپالی کے چہرے پر کسی بھی قسم کی پریشانی کے تاثرات نظر نہیں آئے ۔ جیلر دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ٹارچر سیل کی بجائے اپنے بنگلے پر لے گیا ۔ دیپالی کو اپنے سامنے بٹھا کر وہی خباثت کی باتیں کرنے لگا ۔ دیپالی نے بھی مشتعل ہونے میں دیر نہیں کی پوری قوت کے ساتھ جیلر کی گردن دبا کر موت کی وادی میں دھکیل دیا ۔ 3 قتل کے بعد اب چوتھے قتل کا مقدمہ بھی دیپالی کے خلاف درج کیا گیا ۔ ہندوستان کے عوام دیپالی کی بہادری اور پولیس کی بے شرمی پر حیران ہو رہے تھے ۔ جیلر کے قتل کے بعد دیپالی نے جیل انتظامیہ کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید خواتین کو اگر کسی نے بھی بری نظر سے دیکھا تو وہ جیلر کے انجام کو اپنے ذہن میں ضرور رکھے ۔ اس وارننگ کے بعد وہ کلکتہ کی جیل کے اندر آزادنہ گھوم رہی تھی اور خواتین قیدیوں کی ہر ممکن مدد اور خدمت کر رہی تھی ۔ نئے تعینات ہونے والے جیلر کا رویہ دیپالی کےساتھ مشفقانہ تھا اور اس نے اس سے کہا کہ بیٹی میری دعا ہے تم جلد رہا ہو جائے گی ۔ دیپالی نے کہا کہ بابا ایسی دعا مت کریں جیل کے باہر میرا کون ہے جس کے پاس میں جاوں گی ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کا مقدمہ مفت میں بڑی محنت کے ساتھ لڑ رہی تھی باالآخر ایک روز ناری سنستھا تنظیم کی نمائندہ وکیل مریم بی بی جو ایک مسلمان تھی دیپالی کو آ کر رہائی کی خوشخبری دی اور اپنے ساتھ گھر چلنے کا کہا ۔ دیپالی کے پاس کوئی سامان اور کپڑے وغیرہ تو تھے نہیں ۔ ایک لیڈی کینسٹیبل نے اس کو اپنے کپڑوں کا ایک جوڑا دیا ۔ قیدیوں کا لباس اتار کر لیڈی کینسٹیبل کے کپڑے پہن کر مریم بی بی کے ساتھ اس کے گھر گئی ۔ مریم کے گھر میں مذہبی ماحول تھا دیپالی کے ساتھ سب کا بہت اچھا رویہ تھا ۔ جس سے متاثر ہو کر اس نے مریم کی ماں کے ہاتھوں مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ مسلمان ہونے کے بعد دیپالی کا نام دیپالی بتول رکھا گیا ۔ مریم کے گھر میں قرآن مجید پڑھنے اور نماز سیکھنے کے بعد مریم کی ماں نے دیپالی کی رضامندی سے اس کی شادی آسام کے گولا گائوں کے ایک حافظ قرآن سے نکاح کرا دیا شادی کے بعد وہ اپنے سسرال منتقل ہو گئی ۔ دیپالی کی کہانی سے ہمیں ایک بار پھر یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی عورت یا لڑکی اپنی رضا خوشی سے نہ طوائف بنتی ہے اور نہ ہی بازار حسن میں کوٹھے والی بننا پسند کرتی ہے یہ معاشرہ ان کو مجبور کرتا ہے ۔ بہت سی خواتین اور لڑکیاں خود کو کمزور اور مجبور پا کر حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں اور بہت ہی ایسی کم لڑکیاں اور خواتین دیپالی بتول کی طرح اپنی عزت و عصمت بچانے کے لیے مرنے اور مارنے پر تیار ہوتی ہیں ۔

  • اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    ڈاکٹر فریاد آذر

    وفات : 12؍اپریل 2024

    معروف شاعر ڈاکٹر فریاد آذر کا اصل نام سید فریاد علی ہت10؍جولائی 1956ء کو اترپردیش کے بنارس شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی تھی اور ان کے شعری آہنگ سے بہت متاثر تھے۔
    انھوں نے دہلی کے کئی اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے دو شعری مجموعے "خزاں میرا موسم” (اشاعت 1994ء) اور قسطوں میں گزرتی زندگی” (اشاعت 2005ء) شائع ہوئے۔آج بروز جمعہ 12؍اپریل 2024ء کو لمبی بیماری کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

    ڈاکٹر فریاد آذرؔ کے منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
    میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

    نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو
    بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا

    معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر
    مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

    بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی
    وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا

    بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں
    پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا

    مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر
    کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
    اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں
    سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے

    ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت
    اور کس شہر محبت میں اماں باقی ہے

    میں کبھی سود کا قائل بھی نہیں تھا لیکن
    زندگی اور بتا کتنا زیاں باقی ہے

    مار کر بھی مرے قاتل کو تسلی نہ ہوئی
    میں ہوا ختم تو کیوں نام و نشاں باقی ہے

    ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
    ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

    لاکھ آذرؔ رہیں تجدید غزل سے لپٹے
    آج بھی میرؔ کا انداز بیاں باقی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے
    یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بلا کے مجھے

    میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر
    وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

    اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
    مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

    جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا
    قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

    میں اپنی قبر میں محو عذاب تھا لیکن
    زمانہ خوش ہوا دیواروں پر سجا کے مجھے

    یہاں کسی کو کوئی پوچھتا نہیں آزرؔ
    کہاں پہ لائی ہے اندھی ہوا اڑا کے مجھے

  • 27 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    27 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    27 مارچ تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1668ء انگلینڈ کے حکمران چارلس دوئم نے ممبئی کو ایسٹ انڈیا کمپنی سونپی۔

    1721ء فرانس اور اسپین نے میڈرڈ معاہدے پر دستخط کئے۔

    1794ء امریکی کانگریس نے ملک میں بحری فوج قائم کرنے کی منظوری دی۔

    1824ء کینیڈا نے سوویت یونین کو تسلیم کیا۔

    1854ء کریمین جنگ میں برطانیہ نے روس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1855ء امریکی ابراہام گیسز نے کوئلے سے ایک نئی قسم کا تیل کیروسین آئل (مٹی کا تیل) کے نام سے ایجاد کر کے پیٹنٹ کروایا۔

    1871ء پہلا بین الاقوامی رگبی میچ اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا جو اسكاٹ لینڈ نے جیتا۔

    1884ء بوسٹن سے نیویارک کے درمیان پہلی بار فون پر لمبی بات چیت ہوئی۔

    1899ء انگلینڈ اور فرانس کے درمیان پہلی بین الاقوامی ریڈیو نشریات اطالوی موجد جی مارکونی کی طرف سے کیا گیا۔

    1901ء امریکہ نے فلپائن کے باغی لیڈر ایمیلیو ایگونالڈو کو اپنے قبضے میں لیا۔

    1905ء برطانیہ میں پہلی بار قتل کے ایک مقدمے میں انگلیوں کے نشانات کو بطور ثبوت استعمال کیا۔

    1933ء جاپان نے لیگ آف نیشنز سے خود کو الگ کر لیا۔

    1944ء لتھوانیا میں دو ہزار یہودیوں کو قتل کیا گیا ۔

    1956ء امریکی حکومت نے کمیونسٹ اخبار ڈیلی ورکر پر قبضہ کر لیا۔

    1958ء نکیتا خروشیف سوویت یونین کے وزیر اعظم بنے۔

    1964ء الاسکا میں 4ء7؍کی شدت والے زلزلے سے ۱۱۸؍افراد ہلاک۔

    27 مارچ 1964ء کو حکومت نے نیشنل پریس ٹرسٹ (این پی ٹی) کے قیام کا اعلان کردیا۔ بعض سینئر صحافیوں کے مطابق این پی ٹی خواجہ شہاب الدین کے اور بعض کے مطابق الطاف گوہر کے ذہن کی پیداوار تھا مگر قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس ٹرسٹ کے خالق ایوب خان کے عہد کے ’’سپر بیوروکریٹ‘‘ غلام فاروق تھے جنہوں نے ایوب خان کے ایما پر اس کے خدوخال اور دائرہ کار متعین کیے تھے۔ این پی ٹی کے قیام کی مزاحمت سب سے پہلے پی ایف یو جے کی جانب سے ہوئی اس کے بعد ملک بھر کے مدیران اخبار و جرائد‘ ناشروں اور (کنونشن مسلم لیگ کے علاوہ) تمام سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی مگر حکمران جنتا نے اپنے منصوبے پر عمل کیا۔ غلام فاروق نے این پی ٹی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کی غرض سے ’’مخیر حضرات‘‘ کا ایک ڈھونگ تیار کیا اور 27 مارچ 1964ء کو اس کے قیام کا اعلان کردیا۔ ٹرسٹ کا ابتدائی سرمایہ پچاس لاکھ روپے تھا تاہم حکومت کی ایما پر نیشنل بنک آف پاکستان نے اسے ایک کروڑ روپے کا قرضہ بھی فراہم کیا تھا۔ این پی ٹی میں شروع شروع میں وہی اخبارات و جرائد شامل تھے جو میاں افتخار الدین کے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضے کے ذریعے ہتھیائے گئے تھے لیکن بعد میں اس کے دائرے میں مارننگ نیوز‘ مشرق‘ دینک پاکستان‘ اخبار خواتین‘ اسپورٹس ٹائمز اور انجام بھی شامل ہوگئے۔ ابتدا ہی سے ٹرسٹ کے اخباروں نے سرکاری ترجمان کا کردار ادا کرنا شروع کردیا اور بغیر کسی خلش کے سرکاری موقف کی پیروی کرنے لگے۔ خوشامد اور چاکری نے اسم اعظم کی حیثیت اختیار کرلی اور وہ اخبارات جو کبھی حکومت کی کڑی نگرانی کیا کرتے تھے اب انتظامیہ کے پالتو بن کر رہ گئے۔ این پی ٹی لفظی اور کاغذی طور پر ایک آزاد ادارہ تھا لیکن حقیقت میں اس کے اخباروں نے ہمیشہ انتظامیہ کے ترجمان کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے مالکان ایوب اور یحییٰ کی‘ یکساں جوش اور جذبے کے ساتھ غلامی کی۔ عوامی مارشل لا نافذ ہونے پر انہوں نے اپنی وفاداری کا رخ ’’عوامی صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘‘ کی جانب موڑ دیا‘ جن کے نامساعد دور میں وہ دن رات ان کی بدگوئی کیا کرتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خود پاکستان پیپلز پارٹی‘ جس کے منشور میں‘ این پی ٹی کا توڑا جانا شامل تھا‘ این پی ٹی کو قومی تحویل میں رکھنے کی سب سے بڑی حامی بن گئی جس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جب جولائی 1977ء میں پیپلز پارٹی کے خلاف فوجی بغاوت برپا ہوئی تو یہ اخبارات اتنی ہی خوشی اور سہولت کے ساتھ پیپلزپارٹی کے مخالف بن گئے جیسے اس کی حکومت قائم ہونے پر اس کے حامی بن گئے تھے۔ 1988ء میں نیشنل پریس ٹرسٹ توڑے جانے کا عمل پاکستان کے اس وزیر اعظم کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچا جسے بظاہر پاکستان کا سب سے کمزور وزیر اعظم سمجھا جاتا تھا، یہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو تھے۔ بقول میر تقی میر: سب پہ جس بار نے گرانی کی اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا

    1977ء ہوا بازی کی تاریخ کا سب سے بڑا اور خوفناک حادثہ پیش آيا جب جزائر کینرلی کے ایئر پورٹ پر دو 747 جیٹ طیارے آپس میں ٹکرائے۔ اس حادثے میں 852 افراد ہلاک ہوئے۔

    ملک معراج خالد 27 مارچ 1977ء سے 05 جولائی 1977 تک پاکستان کی قومی اسمبلی کے دسویں اسپیکر رہے۔ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے۔ 2 مئی1972ء سے 10نومبر 1973ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مارچ 1977ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن اور 27مارچ 1977ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 5 جولائی 1977ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء میں جب پیپلز پارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئی تو ملک معراج خالد ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر 3 دسمبر 1988ء سے 4 نومبر 1990ء تک فائز رہے۔ 5 نومبر1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا ملک معراج خالد نگراں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس عہدے پر وہ 16فروری 1997ء تک فائز رہے۔ ملک معراج خالد کا انتقال 13جون 2003ء کو ہوا۔

    1989ء خلا میں امریکہ کے میزائل اینٹی سیٹلائٹ تجربہ ناکام ہوا۔

    27 مارچ 1998ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سر سید احمد خان کی صد سالہ برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت سات روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پرسر سید احمد خان کا خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا اور انگریزی میں DEATH CENTENARY OF SIR SYED AHMAED KHAN 1898-1998 کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

    2002ء اسرائیل کے نتنيا میں خود کش حملے میں 29؍ افراد مارے گئے ۔

    2008ء ناروے اور جنوبی کوریا نے کوسوو کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔

    2008ء لاہور کے ریس کورس پارک میں بم دھماکہ ہوا جس میں 67 افراد شہید اور 50 کے قریب زخمی ہوئے۔

    2016ء۔اقبال پارک لاہور میں ایسٹر کے موقع پہ خودکش حملہ۔74 افراد جاں سے گئے اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے

    2023ء۔۔اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں منعقد جلسہ عام میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی دھمکی کا انکشاف کیا جو امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید نے مشہور زمانہ سائفر میں بھیجی تھی۔

  • وسیم راشد

    وسیم راشد

    شاہد ریاض خصوصی رپورٹ(باغی ٹی وی)
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کے ملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    وسیم راشد(معروف صحافی، ادیبہ،شاعرہ اوراینکر)
    23 مارچ 1977: یوم پیدائش
    شوہر کا نام:راشد شہاب
    والد کا نام:حافظ عبدالوحید خاں
    والدہ کا نام:سرور جہاں
    جائے ولادت:دہلی
    تعلیم:ایم اے (بی ایڈ)، پی ایچ ڈی ماس کمیونیکیشن
    زبان:انگلش، ہندی، اردو
    پیشہ:معلہ، صحافی، ٹی وی پروڈیوسر، اینکر
    مشاغل:شاعری، نظامت، مقالے پڑھنا، ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا
    موجودہ عہدہ:چیف ایڈیٹر ”صدا ٹوڈے“ نیوز پورٹل
    ممبر گورننگ کونسل، دلی اردو اکادمی
    سابق عہدے:سینئر پی جی ٹی اردو ،صدر شعبۂ اردو (نیو ہورائزن اسکول)وائس پرنسل، کریسنٹ اسکول دریا گنج، نئی دہلی
    ایسوسی ایٹ پروڈیوسر (عالمی سہارا اردو) مدیر (چوتھی دنیا اردو) پرنسپل آور انڈیا انٹر نیشنل اسکول، کاندھلہ، یوپی

    غیرملکی سفر:انگلینڈ، ایران، عراق، کویت، جدہ، پاکستان
    تصنیفات:سرسید کے مخالفین(حقائق کی روشنی میں) 2018ء
    ایوارڈ و اوعزازات

    ۔ (1)پرم شری میڈیا ایکسی لنسی ایوارڈ
    ۔ 2017ء-(برائے اردو صحافت)
    ۔ (2)رانی جھانسی لکشمی بائی ایوارڈ (برائے اردو صحافت)
    ۔ (3)ناہید صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (4)آفتابِ صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (5)مولانا ابواکلام آزادایوارڈ(برائے اردو صحافت)
    ۔ (6)قرۃ العین حیدر ایوارڈ (برائے اردو فکشن)
    ۔ (7)بہترین استاد ایوارڈ-2004ء(دلی اردو اکاڈمی)
    ۔ (8)بہترین استاد ایوارڈز 2004ء(نیو ہورائزن اسکول)
    ۔ (9)پروین شاکر ایوارڈ، پونہ (برائے اردو شاعری)
    ۔ (10)عصمت چغتائی ایوارڈ (برائے اردو ادب)
    ۔ (11)گولڈ میڈل، پوزیشن، دوئم ، ایم اے اردو، دہلی یونیورسٹی
    ۔ (12)مرزا غالب ایوارڈ( بی اے، اول پوزیشن، دہلی یونیورسٹی)
    گھر کا پتا:C1/9، فلیٹ نمبر 401، چوتھا فلور پاکٹ 11، جسولہ وہار، نئی دہلی-25

    غزل

    تیرا خیال میری انجمن میں رہتا ہے
    عجیب پھول ہے تنہا چمن میں رہتاہے
    میں اس سے دور بھی جاؤں تو کس طرح جاؤں
    وہ عطر بن کے میرے پیرہن میں رہتا ہے
    وہ اپنی روح کے زخموں کو کس طرح گنتا
    ہمیشہ الجھا ہوا وہ بدن میں رہتا ہے
    تری تلاش میں تھک جاتے ہیں قدم لیکن
    سکون قلب بھی شامل تھکن میں رہتا ہے
    یہ بات سچ ہے نظریات جس کے چھوٹے ہوں
    بڑے مکان میں بھی وہ گھٹن میں رہتا ہے
    وسیم ہند کی مٹی میں کیسا جادو ہے
    کہیں بھی جاؤں مرا دل وطن میں رہتا ہے

    غزل

    زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح
    یاد رکھتے ہیں انھیں لوگ مثالوں کی طرح
    علم والوں کو کبھی موت نہیں آتی وہ
    زندہ رہتے ہیں کتابوں کے حوالوں کی طرح
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کےملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    غزل

    نہ وہ کہانی نہ اب داستان باقی ہے
    بس ایک زخم کا دل پر نشان باقی ہے
    تمھاری یاد کا سایہ تھا جب تلک سر پر
    ہمیں بھی لگتا رہا آسمان باقی ہے
    نہ کوئی آس نہ امید تیرے آنے کی
    نہ جانے کس لیے آنکھوں میں جان باقی ہے
    اسی لیے چلے آتے ہیں اس کے کوچےمیں
    وہ چاہتا ہےہمیں یہ گمان باقی ہے
    ہمیں نصیب تھا جیسا وسیم بچپن میں
    نہ ویسا گھر ہے نہ وہ خاندان باقی ہے

    غزل

    دل کا قصہ نہ کبھی بیچ میں چھوڑا جائے
    یہ ورق ایسا نہیں ہےجسے موڑا جائے
    چاہے شیشہ ہو کہ کھلونا ہو کہ دل ہو میرا
    اسکی قسمت میں ہی لکھا ہے کہ توڑا جائے
    اپنی دہلی سے ہٹوادیے پتھر اس نے
    میں پریشاں ہوں کہ سر اب کہاں پھوڑا جائے
    بعد میں جوڑیں گے ہم ٹوٹے ہوئے جام وسبو
    پہلے ٹوٹے ہوئے ہر رشتے کو جوڑا جائے
    کیوں میرے اشکوں کی محفل میں نمائش ہو وسیم
    کیوں بھری بزم میں آنچل کو نچوڑا جائے

  • تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تبصرہ کتب،خواتین اور رمضان المبارک

    تیس دروس اور مخصوص مسائل پر مستند فتوی
    مصنف : ابو انس حسین بن علی
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    صفحات : 96
    قیمت : 190روپے
    احکام ومسائل میں خواتین مردوں کے تابع ہیں ، اس لئے کتاب وسنت میں عمومی طور پر مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ لیکن کئی مسائل عورتوں کے ساتھ خاص ہیں ۔ خصوصاََ رمضان المبارک کے حوالے سے خواتین کو کئی ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جو عام طور پر بیان نہیں کئے جاتے ۔ خصوصاََ جو خواتین مسجد نہیں جاتیں وہ زندگی بھر ان مسائل سے ناآشنا رہتی ہیں ۔ اس ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب دارالسلام نے شائع کی ہے ۔ اس کتاب میں مختصراََ ان تمام مسائل کااحاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق خواتین اور رمضان المبارک سے ہے۔ تمام مسائل قرآن مجید اور مستند احادیث سے بیان کئے گئے ہیں ۔ انداز بیان بہت دلچسپ، عام فہم اور عام کتابوں سے منفرد ہے ۔ کتاب روزوں کے ایام کی مناسبت سے تیس دروس پر مشتمل ہے ۔ سب سے پہلے بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک کااستقبال کیسے کیا جائے؟ ماہ رمضان سے استفادے کا پروگرام کیسے ترتیب دیا جائے؟

    رمضان کے حوالے سے خواتین کے لئے نہایت بیش قیمت نصیحتیں بھی کتاب میں شامل ہیں ۔ بتایاگیا ہے کہ مرد اور عورت اعمال وثواب میں برابر ہیں ، مسلمان خواتین کے لئے جنت کاآسان راستہ ، خواتین اور زیورات کی زکوة ، زیورات کی زکوة نکالنے کا کیا طریقہ ہے ؟ خاتون خانہ کے لئے نماز تراویح ، حیض ونفاس ، حاملہ اور دودھ پلانے والے خاتون ، بوڑھی عورت جس میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ، مانع حیض گولیوں کے استعمال کے کیا احکام ہیں ، بچی پر روازہ کب واجب ہوتا ہے ؟ جنتی خواتین کون ہیں ۔۔۔۔؟ بعض ایسی گھریلو برائیوں کی نشاندھی کی گئی ہے جن سے ایمان اور روزے کی حفاظت کے لئے اجتناب ضروری ہے ۔ خواتین اور صدقہ ، اخراجات میں اعتدال اور افراط وتفریط سے اجتناب کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت ، خواتین کے مسائل کے حوالے سے چنداہم فتوے خواتین کے ذوق مطالعہ کی نذر کئے گئے ہیں ۔ خواتین کی مجالس ، فرماں بردار خواتین کی دعائیں ، بچوں کی تربیت اور خاتون خانہ ، دعا کامرتبہ ومقام اور آداب ، چندقرآنی دعائیں ، رسول ﷺ کی مسنون دعائیں ، مسلم خاتون اور عید ، رمضان کے بعد عمل قبول ہونے کی علامات ، رمضان کے روزے اور قیام کی فضیلت ، کیا عورت عورتوں کو نماز تراویح کی امامت کرواسکتی ہے۔۔۔۔؟ حیض ونفاس والی عورت کاقرآن مجید، کتب حدیث پڑھنااور دعائیں کرنا ، نماز تراویح میں قرآن مجید سے دیکھ کر قرآت کرنا ، مستورات کااعتکاف جیسے اہم مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہماری ہر ماں ، بہن ، بیٹی اس کتاب کا مطالعہ کرلے تو وہ جہاں بہترین مومنہ صالحہ بن سکتی ہے وہاں وہ رمضان لمبارک کی رحمتوں ، سعادتوں اور برکتوں کو بھی سمیٹ کر جنت کی حقدار بن سکتی ہے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات