Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ترنم ریاض

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نسائی ادب کی فہرست کے صف اول میں شامل ارود کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، کہانی و افسانہ نویس اور ناول نگار ترنم ریاض 9 اگست 1960 میں سری نگر جموں و کشمیر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام فریدہ ترنم ہے لیکن معروف ادیب پروفیسر ریاض پنجابی سے شادی کے بعد ترنم ریاض کا قلمی نام اختیار کیا۔ اردو کےجدید افسانہ نگاروں میں ان کا بہت بڑا نام اور مقام ہےافسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے ناول نگاری ، کہانی نویسی اور شاعری میں بھی خوب جوہر دکھایا ہے۔

    افسانہ نگاری ان کی پہلی پہچان ہے لیکن ان کی شہرت کا آغاز ان کی کہانی” شہر” سے ہوا بعد میں ان کے افسانے مشہور ہوتے گئے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ” ابابیلیں لوٹ آئیں گی” 2000 میں شائع ہوا۔ حقانی القاسمی نے ترنم ریاض کو Sweet Temper افسانہ نگار کا خطاب دیا ہے۔ ترنم ریاض کی تحریروں اور شاعری میں کشمیری معاشرے کا بھرپور عکس ملتا ہے اور احتجاج کی توانا آواز بھی ایک حساس تخلیق کار کی حیثیت سے ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ دکھ ، درد ، کرب اور مختلف احساسات اور کیفیت میں گزرا ہے۔

    انہوں نے اپنے تخلیقی احساسات کے بارے میں لکھا ہےکہ افسانہ” آدھے چاند کا عکس ” لکھتے وقت وہ ماں کی ممتا کے جذبے سے سرشار رہی کہانی ” باپ” لکھتے وقت وہ شدید ذہنی تناو کا شکاررہی افسانے ” ایجاد کی ماں” اور”میرا پیارا گھر” لکھتےوقت اسے بہت بڑا روحانی سکون میسر ہوا جبکہ افسانہ” مٹی” لکھتے وقت وہ سخت اذیت، کرب اوررنجیدہ احساس و کیفیت سے دوچاررہی ان کی تحریروں میں عورت کی مظلومیت اور محرومی کے تاثرات زیادہ ہیں وہ عورت کو حالات سے مقابلہ کرنے اور صبر کی تلقین بھی کرتی رہیں ۔ نسائی ادب کے اس نمایاں نام ترنم ریاض کی وفات 20 مئی 2021 میں ہوئی ۔

    ترنم ریاض کی تصانیف

    یہ تنگ زمین(1998)، ابابیلیں لوٹ آئیں گی (2000)، یمبرزل (2004)، مورتی (2004)، چشم نقش قدم (2005)، پرانی کتابوں کی خوشبو (2006)، مرا رخت سفر(2008)، فریب خطۂ گل (2009)، برف آشنا پرندے (2009)، اجنبی جزیروں میں (2015)، بھادوں کے چاند تلے (2015)، زیر سبزہ محو خواب (2015) جیسی کتابیں اُن کی شعری و نثری تصانیف ہیں جب کہ بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب (2004)اُن کی ترتیب کردہ کتاب ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق
    ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ہو چکا ہے جو علم اب نایاب
    اور جو پھیلے گا جانتے ہیں ورق

    سوچتا ہے یہ ذہن کیا کیا کچھ
    بے سبب ہم الٹ رہے ہیں ورق

    ہوشمندی سے ڈائری لکھنا
    دونوں جانب سے دیکھتے ہیں ورق

    روح کو دو جہاں کی راحت دیں
    رحل پر راہبر رکھیں ہیں ورق

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑی گتھیاں ہیں بڑے مسئلے ہیں
    کہیں کس سے ہم کس قدر مرحلے ہیں

    کوئی دن کی باتیں ہیں کچھ اور سانسیں
    بہت مختصر روح کے سلسلے ہیں

    گلستان ہی زد میں ہے بجلیوں کی
    لیے چار تنکے کدھر ہم چلے ہیں

    کڑی دھوپ گم گشتہ راہیں بے منزل
    شکستہ نظر ہے بلند حوصلے ہیں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    عیاشی
    ۔۔۔۔۔
    محبوب کی مانند اٹھلائے
    معشوق کی صورت شرمائے
    ہریالی کا آنچل اوڑھے
    ہر شاخ ہوا میں رقصاں ہے
    میں پیار بھری نظروں سے انہیں
    مسکاتی دیکھے جاتی ہوں
    شاموں میں پیڑوں کو تکنا
    ہے میری نظر کی عیاشی

  • وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    شگفتہ شفیق

    8 اگست 1969: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی معروف ادیبہ ، شاعرہ اور افسانہ نگار شگفتہ شفیق 8 اگست 1969 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حمد، نعت ، غزل اور نظم کی اصناف میں شاعری کی ہے جبکہ نثر میں انہوں نے کہانیاں اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئی تھیں مگر اللہ کے فضل سے تندرست ہو کر اس سے چھٹکارہ پا چکی ہیں۔ شفگتہ شفیق گلستان جوہر کراچی میں مستقل سکونت پذیر ہیں ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔
    1 , میرا دل کہتا ہے
    2 , یاد آتی ہے
    3 , جاگتی آنکھوں کے خواب
    4 , شگفتہ نامہ
    5 , مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے تو گھر میں رہتے ہیں موسم کمال کے
    اللہ کرے نہ آئیں کبھی دن زوال کے

    اتنا بڑا کیا ہے اسی نے تو پال کے
    آنے نہ دے جو پاس مرے دن ملال کے

    اک یاد تیری ساتھ تھی اب وہ بھی ڈھل گئی
    قصے پرانے ہو گئے میرے گلال کے

    دل کو بہت سکون اسے دیکھ کے ملا
    خوش باش ہیں وہ خوب مجھے بھول بھال کے

    دنیا کی بات چھوڑیئے قصہ یہ گھر کا ہے
    دن جا چکے ہیں لوٹ کے رنج و ملال کے

    آنسو بہا کے باپ نے بیٹے سے یہ کہا
    کیا مل گیا تجھے مری پگڑی اچھال کے

    میں سوچتی ہوں کیسی شگفتہؔ یہ بات ہے
    اب تو پہاڑ بن گیا غم پال پال کے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کا
    یہ وطیرہ ہے مرے گلفام کا

    روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
    اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا

    خوبصورت دل ربا سی شاعری
    سلسلہ ہے روح تک الہام کا

    چاہتوں کی بارشیں کرتا ہے وہ
    خوب واقف ہے وہ اپنے کام کا

    دل میں اپنے سوچتی ہوں میں کبھی
    وقت آئے گا مرے آرام کا

    وہ جنوں خیزی تو کب کی مٹ چکی
    اب شگفتہؔ واسطہ ہے نام کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
    خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی

    گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
    ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی

    ابھی مل گئے ہم کبھی یہ بھی ہوگا
    کہ رسم جدائی نبھانی پڑے گی

    تجھے کھو کے جینا بھی کیا زندگی ہے
    مگر زندگی یوں بتانی پڑے گی

    تیرا شیوہ چلتی ہواؤں سے لڑنا
    ہر اک بات تجھ سے چھپانی پڑے گی

    تیرے تیکھے تیور بتاتے ہیں مجھ کو
    کہ ہستی تو اپنی مٹانی پڑے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طلب عشق ساری مٹا دی ہم نے
    اس کو روکا نہ صدا دی ہم نے

    خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے راکھ راہوں میں اڑا دی ہم نے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

  • وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا
    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    موسیقار : مدن موہن

    14 جولائی 1975: یوم وفات

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کے نامور موسیقار اور میوزک ڈائریکٹر مدن موہن اردو اور ہندی فلموں کے مشہور و مقبول و معزز اور سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے موسیقاروں میں سے ایک تھے – 25 سال پر محیط کیریئر میں، انہوں نے صرف 100 سے کچھ زیادہ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں سے صرف 25 باکس آفس پر ہٹ ہوئیں۔ اس کی وجہ ان کی انتہائی پرہیزگار طبیعت تھی اور اس نے اپنی فلموں کے لیے جتنی دھنیں بنائیں وہ آج بھی موسیقار حلقوں میں شاہکار تصور کی جاتی ہیں۔ مدن موہن 25 جون 1924 کردستان میں پیدا ہوئے،. 1932 میں ان کا خاندان چکوال اس کے بعد جہلم اور کچھ عرصہ لاہور میں آباد ہوا 1951 میں ان کا خاندان بمبئی ہندوستان منتقل ہو گیا وہ راج بہادر چونی لال کے بیٹے تھے، جنہوں نے بامبے ٹاکیز اور فلمستان جیسے مشہور اسٹوڈیوز میں کام کیا۔ بچپن سے ہی وہ موسیقی کی طرف مائل اور باصلاحیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ درحقیقت، اپنی زندگی کے دوران، انہوں نے کمپوزیشن کا ایک حیرت انگیز ریکارڈ قائم کیا، جن میں سے زیادہ تر یا تو مناسب فلموں کی کمی کی وجہ سے استعمال نہیں کی گئیں یا ان کی فلموں کے لیے متبادل دھنیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بالی ووڈ میں میوزک ڈائریکٹر سی رام چندر کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا، اور اپنی پہلی بڑی فلم دی آئیز (1950) کے ساتھ ملی جو کہ ایک محبت کا مثلث ہے۔ فلم کامیاب رہی۔ اس کے بعد موہن کے پاس کافی کام آیا۔ ان کی پہلی فلموں میں ان کے بچپن کے دوست راج کپور کے ساتھ فلموں کی تریی تھی – آشیانہ (1952)،دھون (1952) اور پاپی (1953)۔ بدقسمتی سے موہن کے لیے، انھوں نے جن فلموں کے لیے کمپوزنگ کرنے کا انتخاب کیا، انھوں نے زیادہ اثر پیدا نہیں کیا، اور یہ صرف بھائی بھائی (1956) کے ساتھ تھا، جس میں لیجنڈری کمار بھائیوں، اشوک کمار اور کشور کمار نے کام کیا تھا، کہ انھیں کچھ کامیابی ملی۔ لیکن اس کے بعد سے، چیزیں کھردری ہو گئیں۔ ریلوے پلیٹ فارم (1955)، گیٹ وے آف انڈیا (1957)، جبکہ بہترین موسیقی کے ساتھ، زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اور معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے، تمام سرکردہ ستاروں نے کام کرنے کے لیے پہلے ہی ایک خاص موسیقار کا انتخاب کر لیا تھا (مثلاً نوشاد،) جس نے ڈیبیوٹنٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی، چاہے وہ باصلاحیت ہو۔

    پھر، 1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی میں، چیزیں بہتر کے لیے بدل گئیں۔ دیکھ کبیرا رویا (1957) اور عدالت (1958) کے لیے ان کے اسکور نے یہ ظاہر کیا۔ اور 1960 کی دہائی میں، وہ واقعی انپدھ (1962) کے ساتھ نظر آنے لگے، ان کے گانوں نے پورے ہندوستان میں دھوم مچا دی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ غزل کے بادشاہ کے طور پر جانے جانے لگے، حالانکہ وہ عدالت (1958) کے ساتھ پہلے ہی گوسامر دھنوں کے لیے اپنی شہرت قائم کر چکے تھے۔ انہوں نے راج کھوسلہ کی دو فلموں – وہ کون تھی (1964) اور میرا سایا (1966) کے ساتھ مزید تجارتی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فلمساز چیتن آنند کے ساتھ بھی کام کرنا شروع کیا، جس کے لیے انہوں نے ایک جنگی فلم حقیقت (1964) میں اپنا سب سے شاندار اسکور بنایا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے گلوکاروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن لتا منگیشکر کے ساتھ ان کے کام کا خاص تذکرہ کیا جانا چاہیے، جس نے ان دونوں کو اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔ یہ افسانوی مجموعہ 1951 میں اداا (1951) کے ساتھ قائم ہوا اور ان کی موت تک (اور بعد میں) جاری رہا۔ موہن کے پاس لتا کی آواز میں بہترین آواز لانے کا یہ خاص ہنر تھا – وہ سنجوگ (1961) میں، نیلا آکاش (1965) میں جاونٹی اور میرا سایا (1966) میں پرکشش آواز دے سکتی تھی۔ تاہم، یہ جذباتی گانوں میں تھا کہ وہ اپنے بہترین تھے۔ 1970 کی دہائی میں، جب ہرے راما ہرے کرشنا (1971) جیسی فلموں کے مغربی گانے، موہن نے تب بھی شاعرانہ دھنیں ترتیب دیں۔ ان کی سخت جمالیاتی حس کی وجہ سے وہ اگر تجارتی طور پر کامیاب فلم ساز نہیں تو حساس فلم سازوں کے ساتھ بہت زیادہ مانگ میں تھے، اور انہوں نے ہرشیکیش مکھرجی، سمپورن سنگھ گلزار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے معزز ناموں کے ساتھ تعاون کیا، بیدی کے ساتھ ان کا تعاون خاص طور پر نمایاں رہا جیسا کہ دستک کے ساتھ تھا۔ 1970) کہ انہیں بہترین میوزک ڈائریکٹر کا نیشنل ایوارڈ ملا – یہ وہ واحد بڑا ایوارڈ تھا جسے ان کی زندگی میں ملا۔14 جولائی 1975 میں، 51 سال کی عمر میں، موہن کا جگر کے سیروسس سے انتقال ہو گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد دو فلمیں ریلیز ہوئیں – موسم (1975) اور لیلا مجنوں (1975) – موسیقی کی شاندار کامیابیاں بنیں۔ تاہم، تین دہائیوں کے بعد، دو فلموں نے موہن کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک اب تمہارے ہولے وطن ساتھیو (2004) تھی، ایک جنگی فلم جس نے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا عنوان حقیت (1964) کے ان کے ایک گانے سے لیا گیا تھا۔ تاہم یہ فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ دوسری فلم، ویر زارا (2004) نامی رومانوی نے ایک موسیقار کے لیے زیادہ موزوں خراج تحسین پیش کیا – ہدایت کار، یش چوپڑا نے ان کی کچھ غیر استعمال شدہ کمپوزیشنز لیں اور انہیں فلم میں استعمال کیا۔ ویر زارا (2004) کی شاندار کامیابی، خاص طور پر اس کے ساؤنڈ ٹریک نے مدن موہن کو اب تک کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا.

    مدن موہن کی موسیقی میں گائے ہوئے مشہور گیتوں میں سے کچھ گیتوں کے بول درج ذیل ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے

    تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں کیا رکھا ہے

    دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

    تیرے پاس آ کے میرا وقت گزرتا ہے

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا

    میں تو تم سنگ نین ملا کے ہار گئی سجناں

    ہم سے آیا نہ گیا تمسے بلایا نہ گیا

    وہ دیکھو جلا گھر کسی کا

  • میں سمجھ بیٹھی جسے  اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان ، خدا خیر کرے

    8 جولائی 1955

    مینو بخشی کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے
    دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے

    رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں
    ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے

    وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے
    یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے

    یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا
    دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے

    اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا
    مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے

    جس کی فطرت ہے جفا اور ستم ہے شیوہ
    ہے وہی دل کا نگہبان خدا خیر کرے

    اٹھ گئے پاؤں اسی راہ میں اب تو مرے
    جس میں نیں جی کا ہے نقصان خدا خیر کرے

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان خدا خیر کرے

    ایسی ماضی کے سمندر نے قیامت ڈھائی
    دل کی بستی ہوئی ویران خدا خیر کرے
    ….
    پیدائش : 08 Jul 1955

    مینو بخشی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسپینش زبان کی پروفیسر ہیں لیکن شاعری ان کا شوق ہے۔ مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود شاعری میں لطیف جذبات کے اظہار کے لئے انہوں نے اردو جیسی خوبصورت اور دلکش زبان کا انتخاب کیا ہے۔ کلاسیکل موسیقی میں تربیت یافتہ مینو نے اردو کے سلیس مترنم الفاظ اپنی غزلوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ موسیقی کے سترنگی سروں میں باندھ کر ادب نواز ناظرین کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ دہلی ، لکھنو اور پٹنہ میں منعقد معیاری مشاعروں میں شرکت کی ہے اور ملک و ملک سے باہر محفل موسیقی میں مینو نے اپنی مترنم آواز سے سامعین کو محظوظ کیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’ہائوس آف لارڈس ‘ میں بھی وہ اپنی شاعری اور غزل گائیکی پیش کرچکی ہیں۔ مینو لندن فلم فیسٹول کی چیئر پرسن ہیں۔

    کلاسیکل موسیقی کی تعلیم کے بعد مینو نے گائیکی کی شروعات صوفیانہ کلام سے کی۔لفظوں نے جب دل کی راہ پکڑلی تو اندر چھپی شاعرہ نے دستک دی اور اس طرح مینو بخشی کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’ تشنگی ‘‘ روپا پبلکیکشنز انڈیا نے شائع کیا۔ شاعری کے قدردانوں نے ان کی تخلیقی صلاحیت کی دل کھول کر تعریف کی۔ 2014 میں حسن آرا ٹرسٹ نے امیر خسرو اعزاز اور بہار اردو اکادمی نے جمیل مظہری ایوارڈ سے نواز کر مینو کی شاعرانہ صلاحیت کا اعتراف کیا۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’ موج سراب ‘‘ بھی روپا پبلیکشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔حکومت ہند کے لئے اسپینش ترجمان کا اہم کام بھی پروفیسر مینوبخشی بخوبی نبھاتی آرہی ہیں۔ وہ کئی زبانوں کے درمیان ایک مضبوط کڑی ہیں۔اس کی بہترین مثال اردو میں شاعری ، یونیورسٹی میں اسپینش، سماجی حلقوں میں ہندی اور انگریزی ہے۔ حال ہی میں انہیں اسپین اور اسپین کی ثقافت کو پروموٹ کرنے کی سمت میں اہم رول ادا کرنے کے لئے Order of Isabella la Catolica ایوراڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ اسپین کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے جو اسپین کے بادشاہ کے ہاتھوں کسی غیر اسپینش شخصیت کو دیا جاتاہے۔ شادی کے موقع پر گائے جانے والے روایتی پنجابی گیتوں کا البم مینو کی آواز میں بے حد مقبول ہے۔

  • دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے

    زیب النساء زیبی

    تاریخ ولادت:03 جولا‎ئی 1958ء
    رہائش: گلشن اقبال کراچی پاکستان
    مادر علمی:وفاقی جامعۂ اردو
    جامعہ کراچی
    تعلیمی اسناد:ایم اے سیاسیات
    ایم اے اجتماعی ابلاغیات
    ادبی حیثیت :شاعرہ، افسانہ نگار

    زبان:اردو

    زیب النساء زیبی صاحبہ ایک نامور پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، مترجم اور ماہر تعلیم ہیں۔ اب تک 60 ادبی تخلیق اور 25 نصابی کتابیں تالیف اور ترجمہ کر چکی ہیں۔ شعری صنف سوالنے متعارف کرائی ہے، جب کہ تروینی میں اردو زبان کا پہلا مجموعہ شائع کیا ہے۔ اب تک تین کلیات شائع ہو چکی ہیں جن میں غزلیات کی کار دوام، ستر شعری اصناف پر مشتمل 23 مجموعے سخن تمام کے عنوان سے اور افسانوں، ناولٹوں اور ناول پر مشتمل عکس زندگی شامل ہیں۔ جب کہ ایک کلیات تحقیق و تنفید، ادبی مضامین اور کالموں کی زیر ترتیب ہے۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء کراچی میں اقبال بیگ اور زہرا خاتون کے ہاں 3 جولائی 1958ء کو پیدا ہوئیں، ان کے دیگر بہن بھائیوں میں 4 بھائی اور 3 بہنیں شامل ہیں۔ ایم اے صحافت، ایم اے سیاسیات کی سند جامعہ کراچی سے حاصل کی۔ محکمہ اطلاعات، حکومت سندھ میں افسر اطلاعات کے عہدے پر خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں۔ زیب النساء کی شادی محمد اقبال شیخ (سابق سرکاری افسر) سے ہوئی، ان کی اولاد میں دو بیٹیاں عنبرین افشاں اور سحرین درخشاں ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سخن تمام، (کلیات)
    اس میں ستر اصناف سخن پر شاعری کے 23 مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (2)کارِ دوام، کراچی، زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1744 ص (غزلیات)
    اس میں غزلیات کے اکیس مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (3)عکسِ زندگی، ،کراچی،زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1040 ص (کلیات)
    اس میں افسانوں کے اٹھارہ مجموعے،سات ناولٹ اور ایک ناول شامل ہے۔
    حمد و نعت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)حرف حرف بندگی (مجموعہ نعت)
    ۔ (2)بھیگی بھیگی پلکیں (مجموعہ نعت)
    بچوں کا ادب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)چاند ستارے آسمان
    ۔ (2)پھول کلیاں خوشبو
    ۔ (3)کہکشاں در کہکشاں
    فکاہیہ شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یہ عالم شوق کا
    ۔ (3)ایسی تیسی
    ۔ (4)یہ کہانی اور ہے
    سہ مصرعی نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تنہا تنہا چاند
    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مجھے کچھ کہنا ہے
    ۔ (2)کبھی تو ملیں گے
    سوالنے
    ۔۔۔۔۔
    آتی رت کا پھول (ذاتی اختراع)
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    تیرا انتظار ہے (اردو میں دوسرا اور کسی شاعرہ کا پہلا مجموعہ تروینی)
    قطعات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سحر درخشاں
    ۔ (2)عنبر وافشاں
    رباعیات اور دوہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یاد کے موسق
    ۔ (2)مسمط
    ۔ (3)تم سے دور تو نہیں (مثلث، مربع، مخمس، مسبح، مثمن، متسح، معثر، مسمط، تربیج بند، ترکیب بند میں)
    ۔ (4)ہتھیلی پر گلاب (چہار بیت، کہہ مکرنی، لوری، کافی، ڈھولا، گیکت، پہلی، ہیر، خماسی، پنجگانہ، سداسی، ملی نغمہ، قوالی، سہرا رخصتی یا مصری تکونی، ترائیلے)
    ناولٹ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خاموش جنازے
    ۔ (2)جہنم کے فرشتے
    ۔ (3) دلدل
    ۔ (4)کالی زبان
    ۔ (5)شہزادے کا انتظار
    ۔ (6)سیر عدم کی
    ۔ (7)اوروہ ہے اور ہم ہیں دوستو
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    آدھی گواہی

    تاثرات
    ۔۔۔۔۔
    رئیس امروہوی
    ۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی کو قدرت نے فیاضی کے ساتھ فہم و ادراک اور مشاہدات کی قوت سے شناسا کیا ہے۔
    عصمت چغتائی
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی اور ان کی ذہانت و تخلیقی کارکردگی پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے ادب ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔
    ڈاکٹر وزیر آغا
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی نے اپنی تحریروں میں زندگی کے تلخ حقائق کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے موضوعات میں بہت تنوع ہے اور ان کا فکر و خیال میں بلا کی برق رفتاری ہے۔
    فیض احمد فیض
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیبی انقلابی جوش و جذبے سے پر ایک حقیقت پسند دردمند دل رکھنے والی تخلیق کار ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریرون میں مظلوموں اور نسائیت کے مسائل کو بہت جرات سے بے نقاب کیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    : محبت کا جہاں میں گر محبت ہی صلہ ہوتا
    نہ آنکھوں سے کسی کی درد کا آنسو گرا ہوتا
    یہ تیری دلنشیں دنیا بھی جنت کی طرح ہوتی
    سرشت آدمی کو بس نہ اتنا شر دیا ہوتا
    – جہنم پیٹ کا رکھا ہے تونے ساتھ انساں کے
    سمندر خواہشوں کا جسم کو کچھ کم دیا ہوتا
    ملا کیا اس کو سچائی کے رستےپر قدم رکھ کر
    کہ ایسی نیک نامی کا یہاں کچھ تو صلہ ہوتا
    جو اتنے امتحاں لینے تھے ہر انسان سے تونے
    تو ہر انسان کو تونے پیمبر ہی کیا ہوتا
    دہے ہیں نا تواں زیبی کو اتنے درد و غم تونے
    دیا اک آس کا دل میں جلا کر رکھ دیا ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کردار ہے اور اپنی کہانی سے جڑا ہے
    انسان تو بس عالم ِ فانی سے جڑا ہے
    میں کیسے کہوں پیاس سے مرتے نہیں پنچھی
    یہ سانس کا رشتہ بھی تو پانی سے جڑا ہے
    دل ا ب بھی تیری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے
    ہر شخص ہی دنیا سے چلا جائے گا اک دن
    ہر شخص ہی جب نقل مکانی سے جڑا ہے
    اس غم کو بھی اب دل میں جگہ دینی پڑے گی
    یہ غم بھی مرے ساتھ جوانی سے جڑا ہے
    یہ درد میری جان کا دشمن بنا زیبی
    اس درد کا رشتہ بھی روانی سے جڑا ہے

    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    کیسی مہنگائی
    غربت سے تنگ آکر ماں
    بچے بیچ آئی

    ہر گھر روشن ہے
    جانے میرے گھر کا کیوں
    سورج دشمن ہے

    سرسی چھند دوہا
    ۔۔۔۔۔
    باپ ہوا ہے بوڑھا پھر بھی محنت کرنےجائے
    سچ کہتا ہے نہیں تو اس کو روٹی کون کھلائے

    جس کے پاس ہے دولت شہرت ساتھ چلے سنسار /
    سب کے لبوں پر ایسے منش کی دیکھی جےجے کار

    دوہا چھند
    ۔۔۔۔۔
    میں بھی لکھتی ہوں غزل پاس مرے ہیں نیر
    میرے رہبر رہنما غالب مومن میر

    کہہ مکرنی
    ۔۔۔۔۔
    کیسا برگ و بار شجر ہے
    سایہ بھی اس کا گھر گھر ہے

    اس کے بنا جیون ویراں
    اے سکھی رب . نا سکھی ماں
    _
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    دنیا کی دوزخوں میں انسان جل رہا ہے
    جنت کی حسرتوں میں خود کش بھی پل رہا ہے
    تہذیب کا جنازہ شاید نکل رہا ہے

    رباعی
    ۔۔۔۔۔
    ملتا ہے زمانے کو بھی محنت سے کمال
    آتا ہے ہر اک شے پہ زمانے میں زوال
    اک بار ملا کرتی ہے دنیا میں حیات
    رہتا ہی نہیں حسن سراپا یہ جمال

  • محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    اس شہر حوادث میں اگر ٹوٹ بھی جائوں
    اک عکس مرا شہر کے لوگوں میں رہے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    وہ میاں نواز شریف، قاضی حسین احمد، راحت فتح علی خان ،اداکارہ میرا و دیگر نامور شخصیات کے وکیل رہ چکے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گفتگو و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب، شاعر ، مصنف اور نامور قانون دان محمود گیلانی صاحب 12 دسمبر 1964 میں ضلع شیخو پورہ کے گاؤں ” لالکے” میں واقع اپنے نانا محترم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید محمود الحسن گیلانی اور قلمی نام محمود گیلانی ہے ۔ والد صاحب کا نام سید سردار محمد گیلانی جو کہ ایک زمیندار پیشہ تھے 2011 میں ان کی وفات ہوئی ۔ محمود گیلانی کے دادا سید ولایت حسین گیلانی بہت بڑے عالم ، بزرگ و روحانی شخصیت اور حافظ قرآن تھے ضلع جالندھر کے ایک گاؤں کی مسجد کے امام تھے ان کی اہلیہ سیدہ حسن جان بھی قرآن کی حافظہ تھیں اور گاؤں کی بچیوں کو قرآن کی تعلیم دیتی تھیں سید ولایت حسین گیلانی کے حسن اخلاق اور دینی تعلیمات سے متاثر ہو کر ہزاروں غیر مسلم ان کا دست بیعت ہو کر مسلمان ہو گئے ۔ تقسیم ہند کے بعد سید ولایت حسین اپنے خاندان کو ساتھ لے کر ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان منتقل ہو گئے ۔ سید محمود الحسن گیلانی نے پرائمری تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول ڈھلواں ضلع لاہور، میٹرک گورنمنٹ اخوان ہائی اسکول برکی لاہور سے گریجو ایشن وفاقی گورنمنٹ اردو آرٹس کالج کراچی ، ایم اے اردو اور ایل ایل بی جامعہ پنجاب لاہور سے کیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فوجداری کے مقدمات لڑتے ہیں۔ وکالت کے شعبے میں ان کی مقبولیت اور شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ، جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمد، گلوکار راحت فتح علی خان ، کرکٹر عبدالقادر ، اعجاز احمد، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب اور اداکارہ میرا و دیگر کئی نامور شخصیات کے وکیل رہ چکے ہیں۔ وہ ادارہ ہیومن جسٹس فرنٹ رجسٹرڈ پاکستان اور "بزم سرخیل ادب” کے چیئر مین ہیں ان کے ادارے ” ہیومن جسٙٹس فرنٹ کی جانب سے گزشتہ 20 سال سے اب تک 10 ہزار کے لگ بھگ بے بس ، غریب اور نادار لوگوں کو مفت قانونی امداد فراہم کر کے انصاف دلایا گیا ہے۔ گیلانی صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔

    بڑا بیٹا سید آفتاب سرخیل ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے مینیجر ہیں بیٹی سیدہ نایاب گیلانی صاحبہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں وہ. لندن سے اعلی تعلیم حاصل کر چکی ہیں جبکہ چھوٹا بیٹا سید التمش حسن ایک آرمی پبلک اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ سید محمود گیلانی صاحب ایف ایم 95 ریڈیو سے بھی منسلک ہیں جس میں وہ پچھلے 13 سال سے ” بابے دینے دا ڈیرہ ” کے عنوان سے ایک پروگرام کر رہے ہیں جبکہ وہ لاہور کے لاء کالج اور مختلف یونیورسٹیوں میں قانون پر لیکچرز بھی دیتے رہتے ہیں مختلف ٹی وی چینلز کے سیریلز میں اداکاری کے جوہر بھی دکھا چکے ہیں۔ گیلانی صاحب کا دفتر ٹرنر روڈ لاہور پر واقع ہے۔ محمود گیلانی نے 7 سال کی عمر سے شاعری شروع کی ان کے ایک کلاس فیلو ناصر بھی شاعری کرتے تھے ۔ شاعری میں محمود گیلانی کے استاد علامہ بشیر رزمی ہیں۔ وہ حمد، نعت، غزل اور ہائیکو کی صنف میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔ سید محمود گیلانی صاحب موجودہ اردوادب سےمطمئن نہیں ان کے خیال میں پاکستان میں اردو ادب قلم فروش اور ضمیر فروش نام نہاد ادیبوں کے نرغے میں ہے اس لیے عصری تقاضوں کے مطابق صحیح اور معیاری ادب تخلیق نہیں ہو رہا ہے اصل ادیب اور شعراء اپنے معاشی مسائل میں گھرے رہنے کے باعث گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ الیٹرونک اور پرنٹ میڈیا بھی طوائف کا کردار ادا کرتے ہوئے حکمرانوں کی قصیدہ گوئی کرنے والے ادباء اور شعراء کو پروموٹ کر رہا ہے۔ اصل ادباء کو متحد ہو کر نام نہاد ادیبوں اور شعراء کی اجارہ داری کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ محمود گیلانی کی ” بزم سرخیل ادب ” ادبی نشستوں اور مشاعروں کا انعقاد کرتی رہتی ہے اور کم وسائل اور غریب قلمکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سرگرم عمل ہے ۔ محمود گیلانی کی اب تک 5 کتابیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں 1 گل نایاب (حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل) 2 ۔ اک اور آسمان ( غزلیہ شاعری ) 3 . کچھ تو کہو (غزلیات شاعری). 4 . تجھے لائوں کہاں سے ( شاعری) 5 . تلوار اور ترازو ( مقدمات کی سچی کہانیاں ) جبکہ ان کی کتاب ” میں نے خود کو مرتے دیکھا” زیر طباعت ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آنسوں کی طرح روز وہ أنکھوں میں رہے گا
    وہ شخص ہمیشہ مرے خوابوں میں رہے گا

    ممکن تو نہیں گر میں اسے بھول بھی جاٶں
    پھر بھی وہ خیالوں مری سوچوں میں رہے گا

    اس بزم میں ہوتا ہے سدا تذکرہ اس کا
    بس تذکرہ اس کا مری باتوں میں رہے گا

    سانسوں میں وہ مچلے گا کبھی جسم کی صورت
    وہ جسم کی صورت کبھی سانسوں میں رہے گا

    اس شہر حوادٹ میں اگر ٹوٹ بھی جاٶں
    اک عکس مرا شہر کے لوگوں میں رہے گا

    اس شخص کی پہچان مری ذات سے ہوگی
    وہ شخص سدا میرے حوالوں میں رہے گا

  • گوہر جان ،منفرد گلوکارہ  رقاصہ اور شاعرہ

    گوہر جان ،منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ

    تاریخ پیدائش 26 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔ گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • بوجھ پھولوں کا اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں

    بوجھ پھولوں کا اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں

    کتنے نازک ہیں نئے دور کے شہزادے بھیٌٌٌٌٌ
    سمیرا عزیز

    اردو ، عربی اور انگریزی کی معروف ادیبہ، شاعرہ ، صحافی اور کالم نگار

    یوم پیدائش: 24 جون 1976
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام سمیرہ عزیز
    ولدیت: عزیز الر حمٰن (مرحوم)
    والدہ محترمہ: مہر افروز (مرحومہ )
    مقامِ پیدائش: الخبر۔ سعودی عرب(AlKhober, Saudi Arabia)

    موجودہ سکونت: جدہ، سعودی عرب
    قومیت: سعودی
    تعلیم: پی ایچ ڈی زیرِ تحقیق، ماسٹرز بین اااقوامی تعلقات، ماسٹرز جرنلزم، ماسٹرز ماس میڈیا (تخصص فلم سازی)
    پیشہ: سعودی میڈیا و بزنس وومن (چئیر پرسن سمیرہ عزیز گروپ آف کمپنیز)

    لکھنے کی ابتداء؟ نو برس کی عمر سے بچوں کے معروف رسالوں میں لکھنا شروع کیا

    طبع آزمائی: ناول نگاری،افسانہ نگاری،مضمون نگاری، شاعری، فلمی اسکرین پلے،،نیوز رائٹر،اداریہ، سماجی و سیاسی کالم نگاری، تحقیقی مقالے، گانوں کے بول، اسٹیج شو وغیرہ

    تصانیف و تالیف (نام و سن): بچوں کی بے شمار کہانیاں ((1985-1991،افسانہ نگاری (1991سے جاری ہے مثلاَ اجنبی میرے آنگن کا وغیرہ)، ناول ”رشتے بدل بھی جاتے ہیں“(سال 2000)،کالم و نیوز(سال 2000 سے جاری ہے)،دیوان ’کاغذ کی زمین‘)سال(2016، ڈیجیٹل البم ’موم کی گڑیا‘ (زیر نظرسال (2018، ’لفظوں کی کائنات‘(سال (2020، بالی ووڈ فلم اسکرپٹ، فلم ریم، فلم جر ات۔ڈئیر ٹو لو، فلم فرمان، سعودی فلم اسکرپٹ خلینی اطیر(مجھے اڑنے دو)،سعودی فلم اسکرپٹ ’منو‘
    ۔۔۔ کن زبانوں میں طبع آزمائی کرتی ہیں؟ اردو،انگریزی، عربی

    اعزازات (ادبی/غیر ادبی): سعودی عرب کی پہلی اردو ناول نگار خاتون، جی سی سی رائٹرز ایوارڈ،گریٹ وومن ایوارڈ دوبئی، جرنلزم ایوارڈ انڈیا، بزنس ایوارڈ ریاض، سعودی کلچرل ایوارڈبرائے سو میڈیاافراد وغیرہ
    ۔۔۔ مضامین یا منظومات جن رسائل میں شائع ہوئے یا ہوتے ہیں؟ ہمدرد، بچوں کی دنیا، نونہال، دوشیزہ، پاکیزہ، اردو نیوز، اردو میگزین،آواز (سعودی عرب)، سعودی گزٹ وغیرہ
    ۔۔۔
    دیگر معلومات: سمیرہ عزیز نے نو برس کی عمر سے بچوں کی کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ حکیم محمد سعید (مرحوم) کے ننھے لکھاریوں میں وہ بھی ایک تھیں اور ہمدرد رسالے میں ان کی پہلی کہانی ’ماں‘ شائع ہوئی تھی۔ وہ ساتھ ساتھ نظمیں بھی لکھتیں تھیں۔ وہ سعودی عرب کی پہلی’اردو ناول نگار‘ہیں۔انہوں نے میڈیا میں باقاعدہ 1999ء میں قدم رکھا اور ان کی تربیت سعودی وزارت برائے ثقافت و اطلاعات کے زیر نگرانی ہوئی۔ اس کے بعد ان کو امیر احمد بن سلمان (مرحوم) کی سرکردگی میں سعودی ریسرچ و مارکیٹنگ گروپ کے غیر ملکی زبان کے روزنامے و ہفتہ روزہ مجلے اردو نیوز اور اردو میگزین میں تعینات کیا گیا۔ سمیرہ عزیز نے وہاں اپنی محنت، قابلیت او ر جراتمندانہ رپورٹوں سے قدم جمائے۔وہ خفیہ’اسٹنگ آپریشن‘ بھی کرتیں اور حقائق سے پردہ اٹھاتیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صحافت میں سعودی عرب میں خواتین کا ہونا ایک اچھوتی بات تھی۔سات برس بعد سمیرہ عزیز کوانگریزی روزنامے سعودی گزٹ کی سینئیر انٹرنیشنل ایڈیٹر بنا کر بھیج دیا گیا جو کہ ملک کی بڑی کمپنی عکاظ کے زیر اہتمام شائع کیا جاتا تھا۔ سمیرہ عزیز نے وہاں بھی محنت و خوش دلی سے فرائض منصبی ادا کئے۔ سمیرہ عزیز نے اس ادارے سے اردو ہفت روزہ ’آواز‘ کا بھی اجراء کیا۔آٹھ سال وہاں خدمات انجام دینے بعد سمیرہ عزیز مزید اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرونِ ملک چلی گئیں۔انہوں نے انٹر نیشنل ریلشن، صحافت،ماس کمیونیکیشن اور فلمسازی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ ان کو تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی حد تک شوق رہا ہے۔سمیرہ عزیز نے جدہ میں اپنے کاروبار’سمیرہ عزیز گروپ‘کی بنیاد ڈالی۔وہ ذاتی طور پرکئی کمپنیوں مثلاََ فلم کمپنی، اشتہاری ایجنسی (ایڈ ایجنسی)، غذائی کمپنی،امپورٹ ایکسپورٹ، ٹرانسپورٹ اور ایونٹ کمپنی اورشاپنگ اسٹور کی مالکہ ہیں۔ سمیرہ عزیز کی شادی اس وقت ہوئی تھی جب وہ محض 16برس کی تھیں۔ انہوں نے تعلیمی سلسلہ شادی کے بعد جاری رکھا اور محنت،ہمت و عزم کا طویل سفر طے کیا۔سعودی شہریت یافتہ ہوئے بھی اردو کا دامن انہوں نے نہ چھوڑا۔ میڈیا،ثقافت اور ادبی میدانوں میں اردو اور ا نگریزی زبانوں کا مثبت استعمال کرکے انہوں نے اپنے وطن سعودی عرب کو دنیا کے سامنے حقیقی طریقے سے روشناس کروانے کا ذریعہ حاصل کیا۔ ان کی شاعری میں ان کی اپنے وطنِ عزیز سعودی عرب سے محبت کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں بنیادی طور پرایک صحافی ہوں اور رپورٹنگ کرنا میرا کام ہوا کرتا تھا۔ اسلئے معاشرے میں رونما ہونے والی ہر روداد میری شاعری میں جھلکتی ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی درد اور جذبوں کی عکاسی ملتی ہے۔وہ فر ضی واردات نہیں لکھتیں، چاہے وہ شاعری ہو یا فلم اسکرپٹ، وہ وہی کچھ لکھتی ہیں، جو اپنے ارد گرد دیکھ چکی ہوتی ہیں۔

    اپنی شاعری معاشرے کی نذر کرتے ہوئے وہ اہم بات کہتی ہیں کہ ”اگر سعودی عرب کے صحراء سے اردو شعر و نثر کے گلاب لے کر مَیں نہ نکلی تو کہیں یہ پھول مرجھا نہ جائے۔ مجھے اپنی اردو اور اس سے منسوب اپنی ذاتی کاوشوں پر فخر ہے۔اس وقت بطور سعودی شہری میں آگے نہ آئی تو اردو کا علَم اٹھا کر اس صحراء سے کون دنیا میں نکلے گا؟ صحراء میں عظیم زبان اردو کے پھول کھلتے ہیں، یہ کو ن بتائے گا؟تاریخ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ میرا کو ئی بھی شعر میری ذات سے منصوب نہ کیجئے گا، بلکہ یہ دیکھئے گا کہ میں نے کسی دوسرے انسان کا درد و مسرت کتنی اپنائیت سے پیش کئے ہیں، اور کتنی سچائی و صاف گوئی سے دوسرے کے دکھ سکھ اپنا کر شعر کی صورت میں ڈھالے ہیں۔جس لمحے میرے شعر میں پوشیدہ ٹِیس و چبھن آپ کومحسوس ہوں، بس وہی میری کامیابی کا لمحہ ہے۔ آپ اگر اپنے ارد گرد اس طرح کے درد کو محسوس کریں تو اس کا مداوہ کرنے کیلئے اور کچھ نہیں کر سکتے ہوں تو ’صرف ایک مسکراہٹ‘ کسی کوہدیہ کرکے بھی دکھی انسانیت کو پیار کا پیغام دے سکتے ہیں۔ میرا پیغام ہے

    یونہی نہیں سخن کا اثاثہ ملا مجھے
    گزری ہے میری عمر کتابوں کے درمیاں

  • یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ عنبرین انصاری المعروف عنبرین حسیں عنبر 23 جون 1981 میں کراچی میں پیدا ہوئیں وہ اردو کے ممتاز شاعر ا ماہر تعلیم پروفیسر سحر انصاری کی صاحبزادی ہیں۔ عنبرین حسیں عنبر کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں ۔ ان کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں وہ کراچی سمیت ملک بھر کے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں اور مشاعروں کی مقبول ترین شاعرات کی فہرست میں شامل ہیں۔

    شعری مجموعے

    ۔ (1)دل کے اُفق پر-2012ء
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (2)تم بھی ناں-2020ء
    ۔ (شعری مجموعہ)

    عنبریں حسیں عنبر کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی
    ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا

    فیصلہ بچھڑنے کا کر لیا ہے جب تم نے
    پھر مری تمنا کیا پھر مری اجازت کیوں

    تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا
    کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں

    مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
    میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو

    اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب
    ہونٹ خاموش رہے آنکھ نے بارش نہیں کی

    تم نے کس کیفیت میں مخاطب کیا
    کیف دیتا رہا لفظ تو دیر تک

    اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں
    انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

    عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت
    خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے

    اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے
    ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے

    ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ
    تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی

    دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں
    مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں

    بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو
    اشکوں میں بھی تم بہتے ہو تم بھی ناں

    بھول جوتے ہیں مسافر رستہ
    لوگ کہتے ہیں کہانی پھر بھی

    دل جن کو ڈھونڈھتا ہے نہ جانے کہاں گئے
    خواب و خیال سے وہ زمانے کہاں گئے

    محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے
    در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا

    کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل
    میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی

    زندگی میں کبھی کسی کو بھی
    میں نے چاہا نہیں مگر تم کو

    وہ جنگ جس میں مقابل رہے ضمیر مرا
    مجھے وہ جیت بھی عنبرؔ نہ ہوگی ہار سے کم

    جو تم ہو تو یہ کیسے مان لوں میں
    کہ جو کچھ ہے یہاں بس اک گماں ہے

    کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی
    ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے

    عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے
    زمیں گم ہو تو پھر کیا آسماں ہے

    ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے
    نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم

    اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں
    ایک وحشت ہے کہ تعبیر ہوئی جاتی ہے

    لفظ کی حرمت مقدم ہے دل و جاں سے مجھے
    سچ تعارف ہے مرے ہر شعر ہر تحریر کا

    تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی
    سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی

    اے آسماں کس لیے اس درجہ برہمی
    ہم نے تو تری سمت اشارا نہیں کیا

    مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہی
    ان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے

    پیروی سے ممکن ہے کب رسائی منزل تک
    نقش پا مٹانے کو گرد راہ کافی ہے

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

  • پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا  وہ شخص

    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    رشید قیصرانی ،21 جون : یوم وفات

    اردو کے ممتاز شاعر و ادیب رشید قیصرانی 13 دسمبر 1930 میں اپنے والد سردار شیر بہادر خان کی بسائی ہوئی بستی شیر گڑھ میں پیدا ہوئے رشید قیصرانی کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے مشہور بلوچ قبیلے قیصرانی کے سردار گھرانے سے تھا۔ آپ نے شاعری کالج کے زمانہ سے ہی شروع کی۔ آپ نہ صرف اردو غزل میں ملک کے صف اوّل کے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ آپ کا نام اردو ادب کا بھی ایک مقبول نام ہے۔ مشہور نقّاد ڈاکٹر عابد حسین نے 1955ء میں اردو ادب کی تاریخ لکھتے ہوئے رشید قیصرانی صاحب کو پاکستان کی غزل کی آواز قراردیا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر اختر ارینوی نے، ڈاکٹر انور سدید نے تاریخ ادب اردو میں خاص طور پر ان کا نام مرقوم کیا اور ان کی خدماتِ ادب کو سراہا ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر نامور ادیبوں اور شاعروں نے ان کے فن اور شخصیت پر مضامین لکھے ہیں، جن کوخالد اقبال یاسر اور جلیل حیدر لاشاری نے یکجا کر کے ’’رشید قیصرانی فن اور شخصیت‘‘کے نام سے ایک کتاب کی صورت میں شائع کروایا۔

    رشید قیصرانی کے پانچ شعری مجموعے شائع ہوئے: ’فصیل لب‘، ’صدیوں کا سفر تھا‘، ’نین جزیرے‘، ’سجدے‘ اور ’کنار زمین تک‘۔ پھر ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی صورتحال پر آپ کی کتاب Thought of the dayبھی شائع ہوئی جسے بڑی پذیرائی ملی۔ آپ کے اخباری کالم اور مضامین پر مشتمل ایک کتاب ’’یہ کیا ہے، یہ کیوں ہے‘‘ کے نام سے بھی شائع شدہ ہے۔

    آپ کا انتقال 21 جون ملتان میں ہوا آپ عرصے سےعارضہ قلب کے شکار تھے۔

    منتخب کلام بطور خراجِ تحسین:-

    میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص
    سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص

    میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ
    اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص

    سوچوں بھی اب اسے تو تخیل کے پر جلیں
    مجھ سے جدا ہوا تو خدا ہو گیا وہ شخص

    سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی
    میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ شخص

    میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً
    سمٹا سمٹ کے رنگ حنا ہو گیا وہ شخص

    یوں بھی نہیں کہ پاس ہے میرے وہ ہم نفس
    یہ بھی غلط کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص