Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ہم لوگ تیرے شہر میں  خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے  ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    تسنیم کوثر

    پاکستان کی نامور ادیبہ اور شاعرہ

    18 فروری 1957 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ ،شاعرہ ،مصنفہ،افسانہ نگار، خواتین اور بچوں سمیت انسانی حقوق کی جدوجہد کی اہم رہنما محترمہ تسنیم کوثر صاحبہ 18 فروری 1957 میں ساہیوال پنجاب( پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام قاضی نسیم الدین اور والدہ محترمہ کا نام منور جہاں بیگم ہے ۔ وہ اپنے 8 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔ ان کے خاندان کے بڑے دہلی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تسنیم کوثر نے پرائمری سے انٹر تک اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی جبکہ ایم فل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ تسنیم صاحبہ اپنے خاندان میں پہلی اور واحد ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔ شعر و ادب کا شوق انہیں زمانہ طالب علمی سے ہی پیدا ہوا اور اسکول و کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا میں انہوں نے اپنے کلام محشر زیدی صاحب کو دکھائے۔ ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک شعری مجموعہ "سرگوشی” اور 4 نثری کتابیں ہیں۔ تسنیم کوثر صاحبہ ایک ترقی پسند خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کی جانے والی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے 30سال تک پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی علمبردار عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے ساتھ مل کر کام کیا وہ اس دوران عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کی میڈیا کو آرڈینیٹر رہیں۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی اور خواتین پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ کیسز کیے اس کے علاوہ برن دکٹمز پر بھی فیکٹ فائنڈنگ کی اور اس موضوع پر آرٹیکلز بھی لکھے۔ جلسوں،جلوس، ورکشاپس اور سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کی ممبر کی حیثیت سے امن وفد کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا اس کے علاوہ ملائیشیا، مصر اور سعودی عرب کے بھی دورے کیے۔ تسنیم صاحبہ اس وقت روٹری انٹر نیشنل کے ساتھ منسلک ہیں اور روٹری کلب شادمان لاہور کی صدر ہیں ۔ وہ وہ تعبیر ادبی فورم کی چیئرپرسن ہیں جس کے زیر اہتمام متعدد پروگراموں کا انعقاد کرا چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک اور بیرون ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ اہل زبان ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے جبکہ پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ تسنیم صاحبہ کی 1980 میں اپنے خالہ زاد آصف صدیقی صاحب سے شادی ہوئی جن سے انہیں ماشاء اللہ 3 بچے پیدا ہوئے جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ تسنیم صاحبہ کو ہر اچھا شعر پسند ہوتا ہے خواہ وہ کسی نوآموز شاعر یا شاعرہ کا ہی کیوں نہ ہو تاہم وہ میر تقی میر کی مداح ہیں۔
    تسنیم کوثر صاحبہ اب تک کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور متعدد اداروں سے وابستگی ہے اور ان کی اب تک شائع شدہ تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تعلیم:ایم فل اردو
    ممبر:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
    ملازمت: اے جی ایچ ایس لیگل
    ۔ ایڈ سیل کوآرڈینیٹر
    ۔ پیرا لیگلز ،وائیلنس
    ۔ اگینسٹ وومن،چائلڈ ابیوز
    ۔ پریزیڈنٹ روٹری کلب آف
    ۔ لاہور شادمان لاہور
    ۔ 2021۔2022
    ۔ ورکنگ پولیو مانیٹرنگ ٹیم
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ
    ۔ (2)ساحر لدھیانوی ایوارڈ
    ۔ (3)قتیل شفائی ایوارڈ
    ۔ (4)روشن اسکول ایوارڈ
    ۔ (5)مادل ٹاؤن لیڈیز کلب ایوارڈ
    ۔ (6)حسان بن ثابت ایوارڈ
    زبان:اردو،پنجابی
    اصناف: سفرنامہ، شاعری، افسانے
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کہانی ان دنوں کی
    ۔ (سفرنامہ انڈیا)
    ۔ (2)سرگوشی
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (3)چبھن
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (4)جہاں رحمت برستی ہے
    ۔ (سفر نامۂ حجاز)
    ۔ (5)مجھے اس دیس جانا ہے
    ۔ (سفر نامۂ ملائیشیا)
    ۔ (6)چابی سے بندھی عورت
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (7)محبت کا دوسرا کنارہ
    ۔ (شعری مجموعہ)

    غزل

    معیار اپنا ہم نے گرایا نہیں کبھی
    جو گر گیا نظر سے وہ بھایا نہیں کبھی

    ہم آشنا تھے موجوں کے برہم مزاج سے
    پانی پہ کوئی نقش بنایا نہیں کبھی

    حرص و ہوس کو ہم نے بنایا نہیں شعار
    اور اپنا اعتبار گنوایا نہیں کبھی

    اک بار اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی بے رخی
    پھر اس کے بعد یاد وہ آیا نہیں کبھی

    تنہائیوں کا راج ہے دل میں تمھارے بعد
    ہم نے کسی کو اس میں بسایا نہیں کبھی

    تسنیم جی رہے ہیں بڑے حوصلے کے ساتھ
    ناکامیوں پہ شور مچایا نہیں کبھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھروعدہ نہیں کرنا
    یہ وعدے ہم نےدیکھا ہے کہ اکثرٹوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر ضِد بھی نہیں کرنا
    اِسی ضِد سے یہ دیکھا ہے کہ ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر تحفہ نہیں دینا
    یہ تحفے ہم نے دیکھا ہے بہت مجبور کرتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر شکوہ نہیں کرنا
    کہ شکوے ہم نے دیکھا ہے دِلوں کو دورکرتے ہیں
    محبت کے حسیں لمحوں میں دل رنجور کرتے ہیں

    قطعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھولوں کا چاندنی کا نگر یاد ہے ہمیں
    خوشیوں بھری تھی جس کی ڈگر یاد ہے ہمیں
    چاہت سے جس پہ لکھا تھا اِک دوسرے کا نام
    پیپل کا وہ گھنیرا شجر یاد ہے ہمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے کیسے گمان میں گزری
    زندگی امتحان میں گزری
    بند تھے جس کے سارے دروازے
    عمر ایسے مکان میں گزری

    تسنیم کوثر

  • ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں:سیما غزل کی زندگی کا شاندارسفر

    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھائو آنکھیں تھیں

    سیما غزل

    پیدائش:17فروری 1964ء
    لاہور، پاکستان

    پیدائش لاہور میں جمیل الدین عالی(چچا) کے گھر ہوئی لیکن کراچی میں پروان چڑھی۔ وہیں تعلیم حاصل کی۔ ادبی گھرانے سے تعلق ہے۔ والد شاعر اور ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے۔ ریڈیو سے ”آئو بچو کہانی سنو“ لکھنے سے شروعات کی۔ پھر 1989 میں پاکستان کے مشہور رسالہ ”دوشیزہ“ کی ایڈیٹر رہیں اور ساڑھے 12 سال ذمےداری نبھائی۔ پھر ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھنے لگیں۔ کئی ڈرامے بے پناہ مشہور ہوئے جن میں مہندی، چاندنی راتیں، انا، ہم سے جدا نہ ہونا کو لگاتار ہر سال لکس ایوارڈ ملے۔ اب تک تقریبا” 400 سے زیادہ ٹی وی ڈرامے لکھ چکی ہیں جس میں سے 375 سے زیادہ آن ائر آچکے ہیں اب بھی 4 سے زیادہ ڈرامے آن ائر ہیں جن میں اے آر وائی پہ ”دل نہیں مانتا“، ہم ٹی وی پہ ”دے اجازت جو تو“ ہم 2 پہ ”شدت“۔ زی زندگی انڈین چینل پہ ”میرا سایہ“، پی ٹی وی پہ دو سیریئلز ”نا آشنا“ اور ”چاہت“ ہے۔ ایک شعری مجموعہ ”میں سائے خود بناتی ہوں“ 2013 میں چھپا ہے اور اس کو 2013 کا پروین شاکر ”خوشبو“ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 7 ناولز لکھے جو مارکیٹ اور نیٹ پر موجود ہیں جن میں ”چاند کے قیدی“، ”کمند“، ”زرد پتوں کا بھنور“ ۔ ”کوری آنکھیں کال بیل“ ، ”اندھی رات کا بیٹا“ اور ”آدھا وجود“ ہیں. نظموں کی کتاب چھپنے کے مراحل میں ہے۔ کراچی میں ایک ادبی تنظیم ” سائبان“ کی چئرپرسن ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں
    عشق طوفاں میں ناؤ آنکھیں تھیں
    راستہ دل تلک تو جاتا تھا
    اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں
    ایک تہذیب تھا بدن اس کا
    اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں
    جن کو اس نے چراغ سمجھا تھا
    اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں
    دل میں اترا وہ دیر سے لیکن
    میرا پہلا لگاؤ آنکھیں تھیں
    قطرہ قطرہ جو بہہ گئیں کل شب
    آؤ تم دیکھ جاؤ آنکھیں تھیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس
    جاگی تو میرے سامنے صحرا تھا اور بس
    آیا ہی تھا خیال کہ پھر دھوپ ڈھل گئی
    بادل تمہاری یاد کا برسا تھا اور بس
    ایسا بھی انتظار نہیں تھا کہ مر گئے
    ہاں اک دیا دریچے میں رکھا تھا اور بس
    تم تھے نہ کوئی اور تھا آہٹ نہ کوئی چاپ
    میں تھی اداس دھوپ تھی رستہ تھا اور بس
    یوں تو پڑے رہے مرے پیروں میں ماہ و سال
    مٹھی میں میری ایک ہی لمحہ تھا اور بس

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سانس کی مہلت کیا کر لے گی
    اب یہ سہولت کیا کر لے گی
    بے بس کر کے رکھ دے گی نا
    اور محبت کیا کر لے گی
    کیا کر لے گا چارہ گر بھی
    درد کی شدت کیا کر لے گی
    ایک جہنم کاٹ لیا ہے
    اب یہ قیامت کیا کر لے گی
    میں ہی اپنے ساتھ نہیں جب
    اس کی رفاقت کیا کر لے گی
    میرا آنگن صحرا جیسا
    دشت کی وحشت کیا کر لے گی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    آواز میں نے سنی تھی ابھی کون بولا تھا یہ تو خبر ہی نہیں
    یہ تعلق ضروری ہے کس نے کہا وہ بھی خاموش تھا میں بھی خاموش تھی

    خود اپنے آپ سے ملنے کی خاطر
    ابھی کوسوں مجھے چلنا پڑے گا

    میں نے کہا تھا مجھ کو اندھیرے کا خوف ہے
    اس نے یہ سن کے آج مرا گھر جلا دیا

    مجھ کو اس کے نہیں خود میرے حوالے کرتے
    کم سے کم یہ تو مرے چاہنے والے کرتے

    ایسے کچھ حادثے بھی گزرے ہیں
    جن پہ میں آج تک نہیں روئی

    میں ایک روز اسے ڈھونڈ کر تو لے آؤں
    وہ اپنی ذات سے باہر کہیں ملے تو سہی

    سرد ہوتے ہوئے وجود میں بس
    کچھ نہیں تھا الاؤ آنکھیں تھیں

    بے قراری سے مرے پاس وہ آیا لیکن
    اس نے پوچھا بھی تو بس یہ کہ فلاں کیسا ہے

    جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے
    دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی ہے

  • معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    کلیم عاجز

    پیدائش: 11اکتوبر 1924ء
    وفات: 14 فروری 2015ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کلاسیکی لب و لہجے کے لئے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…نام کلیم احمد اور تخلص عاجزؔ ہے۔ ١١ اکتوبر ۱۹۲٠ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالات کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نویں جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلسِ ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
    تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

    اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
    دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

    ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
    دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    مے کدے کی طرف چلا زاہد
    صبح کا بھولا شام گھر آیا

    اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں
    کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
    زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
    جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
    وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

    ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
    پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    غم دل ہی کے ماروں کو غمِ ایام بھی دے دو
    غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

    امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
    عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

    حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
    تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
    تجھے ہم کیا سے کیا اے زُلفِ جانانہ بنا دیں گے

    شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
    مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

  • پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں

    پیر نصیر الدین نصیر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی
    دیگر نام:چراغ گولڑہ
    پیر صاحب گولڑہ شریف
    حضور نصیر ملت
    نصیرالدین اولیا
    پیدائش:14 نومبر 1949
    گولڑہ شریف،پاکستان
    وفات:13 فروری 2009ء
    گولڑہ شریف، اسلام آباد،پاکستان
    مذہب:سلام
    سلسلہ چشتیہ اور قادریہ قمیصیہ
    پیشرو:غلام معین الدین گیلانی
    جانشین:پیر سید نظام الدین جامی گیلانی
    پیر سید نجم الدین گیلانی
    پیر سید شمس الدین شمس گیلانی

    پیر نصیر الدین نصیر چشتی قادری قمیصی ایک شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی باصفا و پیر سلسلہ چشتيہ تھے۔ آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے۔ اسی وجہ سے انہیں ”شاعر ہفت زبان“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ پیر غلام معین الدین (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند ارجمند اور پير مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کی ولادت 14 نومبر 1949ء میں گولڑو شریف میں ہوئی۔ آپ گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔ پیر صاحب کا انتقال 13 فروری 2009ء کو ہوا آپ کا مزار گولڑو شریف میں مرجع خلائق ہے۔
    تصانیف و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ ؒ کی 36 (چھتیس) سے زائد تصانیف ہیں جن میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)
    ۔ (2)پیمانِ شب (غزلیات اردو)
    ۔ (3)دیں ہمہ اوست (عربی، فارسی، اردو، پنجابی نعوت )
    ۔ (4)امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)
    ۔ (5)نام و نسب(در بار سیادت پیران پیر )
    ۔ (6)فیضِ نسبت (عربی، فارسی، اردو، پنجابی مناقب)
    ۔ (7)رنگِ نظام ( رباعیات اردو )
    ۔ (8)عرشِ ناز (کلام در زبان فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی )
    ۔ (9)دستِ نظر ( غزلیات اردو)
    ۔ (10)راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)
    ۔ (11)تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی
    ۔ (12)قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت
    ۔ (13)لفظ اللہ کی تحقیق
    ۔ (14)اسلام میں شاعری کی حیثیت
    ۔ (15)مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب
    ۔ (16)پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، اسباب اور تجاویز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (17)فتوی نویسی کے آداب
    ۔ (18)موازنہ علم و کرامت
    ۔ (19)کیا ابلیس عالم تھا؟
    نمونہ اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    نمونہ اشعار فارسی
    ۔۔۔۔۔۔
    اے صاحبِ اسمِ پاک!مَن یـَنصُرُنِی
    دل ریشم و سینہ چاک،مَن یـَنصُرُنِی
    دستم اگر از فضل نہ گیری ربی
    مَن یـَنصُرُنِی سَوَاک!مَن یـَنصُرُنِی

    نمونہ اشعار اردو
    ۔۔۔۔۔۔
    دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

    ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
    مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

    بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
    مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

    غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
    محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

    یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
    آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں

    عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
    جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

    میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
    سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

    نمونہ اشعار پنجابی
    ۔۔۔۔۔۔
    بے قدراں کج قدر نہ جانی کیتی خوب تسلی ھو
    دُنیا دار پجاری زر دے جیویں کُتیاں دے گل ٹلی ھو
    بُک بُک اتھرو روسن اکھیاں ویکھ حویلی کلی ھو
    کوچ نصیر اساں جد کیتا پے جاسی تھر تھلی ھو

    نمونہ اشعار عربی
    ۔۔۔۔۔۔
    یا مدرک احوالي
    قد تعلم واللہ ،ما يخطر في بالي

    الفخر له جازا
    من جاء علٰي بابك، قد نال و قد فازا

    نمونہ اشعار پوربی
    ۔۔۔۔۔۔ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں
    جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں

    دُور بھیے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں
    پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں

    یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر
    ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں

    درشن کی پیاسی ہے نجریا ترسِن اکھیاں دیکھن کا
    ہم سے رُوٹھے منھ کو چُھپائے بیٹھے ہو کیوں چلمن ماں

    اے تہاری آس پہ ساجن سگرے بندھن توڑے ہیں
    اپنا کرکے راکھیو موہے آن پڑی ہوں چرنن ماں

    چَھٹ جائیں یہ غم کے اندھیرے گھٹ جائیں یہ درد گھنے
    چاند سا مکھڑا لے کر تم جو آنکلو مورے آنگن ماں

    جیون آگ بگولا ہِردے آس نہ اپنے پاس کوئی
    تیرے پریت کی مایا ہے کچھ اور نہیں مجھ نِردھن ماں

    ڈال گلے میں پیت کی مالا خود ہے نصیر اب متوالا
    چتون میں جادو کاجتن ہے رس کے بھرے تورے نینن ماں

  • بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    پارسائوں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

    عطا شاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :محمد اسحاق
    قلمی نام:عطا شاد
    تاریخ پیدائش :01 نومبر 1939ء
    تاریخ وفات:13 فروری 1997ء
    کوئٹہ، بلوچستان

    اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 1 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔
    عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔
    ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
    13 فروری 1997ء کو عطا شاد کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو
    بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
    یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو
    جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
    جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو
    میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
    مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو
    ہزار امتحان یہاں ہزار آزمائشیں
    ہزار دکھ ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
    رلا سکو تو ساتھ دو ہنسا سکو تو ساتھ دو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا
    درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
    شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا
    رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
    آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا
    کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح
    کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا
    تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں
    کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا
    ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر
    وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا
    سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ
    جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
    بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا
    مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب
    مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا
    کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس
    ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا
    وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
    میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا
    تمام شب تھا ترا ہجر تیرا آئینہ گر
    تمام شب مرے پہلو میں آفتاب سجا
    نہ تو ہے اور نہ میں ہوں نہ وصل ہے نہ فراق
    سجا شراب سجا جا بجا شراب سجا
    عطاؔ یہ آنکھ دھنک منزلوں کی چاہ میں تھی
    چھٹا جو ابر گھنی تیرگی کا باب سجا

  • حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    پیدائش:14 اکتوبر 1906ء
    قاہرہ
    وفات:12 فروری 1949ء
    قاہرہ
    وجۂ وفات:قتلِ ارادی
    طرز وفات:قتل
    شہریت:مصر
    مذہب:اسلام
    جماعت:اخوان المسلمون
    مادر علمی:جامعہ الازہر
    تلمیذ خاص:یوسف قرضاوی
    پیشہ:سیاست داں، الٰہیات داں، مصنف
    زبان:عربی
    مؤثر:جمال الدین افغانی
    بانی تحریک اخوان المسلمون
    مدت منصب
    1928 – 1949
    صدر:تحریک اخوان المسلمون

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي (14 اکتوبر 1906 – 12 فروری 1949) (1324ھ – 1368ھ) مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔ 1923 میں تصوف کے شاذلی طریقہ سے منسوب ہوئے اور شيخ عبد الوہاب حصافی کی خدمت میں تکمیل کی، اسی لیے حسن البنا کی شخصیت سازی میں شيخ عبد الوہاب حصافی کا بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1927 میں دار العلوم (مصر) سے فارغ ہوئے اور شہر اسماعیلیہ میں مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1928 میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں حسن البنا ایک بھرپور تحریکی زندگی گذارنے کے بعد 43 سال کی عمر میں قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کر لیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دار العلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔
    اخوان المسلمون کا قیام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علما اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہو گئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔
    تحریکی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کر دیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین” کے نام سے علاحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
    مطالبہ نفاذِ قوانین اسلامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جا رہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا اور بتایا کہ مصر ہی کے ایک عالم امام بدر الدین عینی شارح بخاری ایک سال جہاد کرتے تھے اور ایک سال تعلیم و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور ایک سال حج کرتے تھے۔
    اخوان اور ذرائع ابلاغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار” کی ادارت سنبھال۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
    اخوان اور دور ابتلا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    شہادت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تین ہفتے بعد وزیر اعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کر دیا۔ حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    المراۃ المسلمۃ
    تحديد النسل
    مباحث في علوم الحديث
    السلام في الإسلام
    قضيتنا
    الرسائل
    رسالۃ المتھج
    رسالۃ الانتخابات
    مقاصد القرآن الکريم

  • ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    پیدائش:06 مئی 1904
    جامشوگ، سویڈن
    وفات:11 فروری 1978ء
    اسٹاک ہوم، سویڈن
    اہم اعزازات:نوبل ادب انعام
    ۔ 1974ء
    ۔ (shared with آیونڈ جوہنسن)
    شریک حیات:Moa Martinson
    ۔ (1929-1940)
    ۔ Ingrid Lindcrantz

    ہیری مارٹنسن(1904 تا 1978 )سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں اورہم وطن آیونڈ جوہنسن کو 1974ء میں نوبل ادب انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔

  • اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”  حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار” حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”

    حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    11فروری 1965 کو افروایشیائی سیمینار کے مندوبین کیلئے لاہور میں سرکاری طور پرایک ثقافتی شو کا اہتمام کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ نےنیلو کو شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے رقص کرنے کیلئے کہا۔ اس نے انکار کیا تو گالیاں دیں اورڈرایا دھمکایا ۔ اس بے عزتی پر نیلو نے بڑی مقدار میں خواب آور گولیاں کھالیں۔ بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹر کئی دن کی کوششوں سے نیلو کی جان بچانے میں کامیاب رہے ۔
    فلمی صنعت نے اس واقعہ پر احتجاجاََ ایک دن کی ہڑتال کی۔ حبیب جالب نے نظم ’’نیلو‘‘ لکھی۔ جس کا پہلا بند یہ تھا ۔۔۔

    توکہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
    رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
    تجھہ کو انکار کی جرأت ہوئی تو کیونکر
    سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے؟

    مشہور رائٹر، ڈائریکٹر اور فلم ساز ریاض شاہد نے نیلو کی جرأت اور عزتِ نفس کو کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ اسے شادی کی پیشکش کر دی، اور وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

    ریاض شاہد نے 1969 میں فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی پر اپنی مشہور فلم ’’زرقا‘‘ بنائی۔ زرقا کا مرکزی کردار نیلو نے ادا کیا۔

    فلم کو فلسطینیوں کی تنظیم ’’الفتح‘‘ نے بہت سراہا۔ 21 اکتوبر 1969 کو کراچی میں ایک تقریب ہوئی، جس میں ’’الفتح‘‘ کے نمائیندےخالد الشیخ نے ریاض شاہد کو یہ فلم بنانے پرمبارکباد دی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
    ریاض شاہد نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیلئےفلم کی نمائش کے حقوق الفتح کو دے دئیے اور کہا کہ اس کی آمدنی جدوجہدِ آزادی میں صرف کی جائے۔

    اس موقع پر نیلو نےفلمی زندگی سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرقا ان کی زندگی کا عظیم ترین کردار تھا، اس کے بعد وہ عام فلمی کردار ادا کرنا پسند نہیں کریں گی۔
    لیک ریاض شاہد کی موت کے بعد معاشی ضرورتوں نے انہیں اس عہد پر قائم نہ رہنے دیا،اور انہیں پھر کچھہ عرصے کیلئے فلموں میں آنا پڑا

  • پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیدائش:08 مئی 1940ء
    نیویارک شہر
    وفات:11 فروری 2006ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    وجۂ وفات:پھیپھڑوں کا مرض
    شہریت:ریاستہائے متحدہ امریکا
    مادر علمی:ہارورڈ یونیورسٹی
    زبان:انگریزی

    انگریزی کے مشہور ناول نگار جن کے ناول پر ہالی ووڈ کی مشہور فلم ”جاز“ بنائی گئی۔ نیویارک میں پرورش پائی اور ہارورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے کے لیے صدر لنڈن بی جانسن کی تقریریں لکھنے کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

    ناول ’جاز‘ کی 1974ء میں پہلی اشاعت سے قبل انھوں نے صحافی کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ پیٹر بنچلے کو بچپن سے ہی شارکوں سے دلچسپی تھی اور ان کا بچپن جزیرہ نما نیٹاکیکٹ میں بھی گزرا۔ ان کا ناول ’جاز‘ ایک ایسی بہت بڑی سفید شارک کے بارے میں ہے جس نے ایک شہر کو ہراساں کر رکھا ہے۔ اس ناول کی اب تک دو کروڑ جلدیں فروخت ہو ئیں۔

    ان کے اس ناول پر فلم مشہور ڈائریکٹر اسٹیون سپلبرگ نے بنائی اور انھوں نے اس فلم میں خود بھی ایک رپورٹر کا کردار ادا کیا۔ انھیں سمندر اور سمندری حیاتیات سے گہری دلچسپی تھی اور ان کے دوسرے دو ناول ’دی ڈیپ‘ اور ’دی آئی لینڈ‘ بھی سمندر سے متعلق ہیں۔

  • مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی (پیدائش: 11 فروری 1967) ایک ہندوستانی لوک گلوکارہ ہے۔ وہ ہندی اور متعلقہ زبانوں جیسے اودھی، بندیل کھنڈی اور بھوجپوری میں گاتی ہیں۔ وہ ٹھمری اور کجری میں بھی پیش کرتی ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 2016 میں پدم شری کے شہری اعزاز سے نوازا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Malini Awasthi (born 11 February 1967) is an Indian folk singer.
    She sings in Hindi and related languages such as Awadhi, Bundelkhandi and Bhojpuri.
    She also presents in Thumri and Kajri.
    The Government of India awarded her the civilian