Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • 4 فروری :افغان انقلابی خاتون  مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل

    4 فروری :افغان انقلابی خاتون مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل

    4 فروری 1987

    افغان انقلابی خاتون مینا کشور کا کوئٹہ پاکستان میں قتل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنگ و جدل اور کشت و خون کے مستقل سلسلے کی حامل سرزمین افغانستان میں ایک نامور انقلابی عورت مینا کشور کمال 27 فروری 1956 میں کابل میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے دوران تعلیلم کابل یونیورسٹی میں افغانستان کی خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے بہتر روشن مستقبل کی غرض سے ” جمعیت زنان افغانستان ” Revolutionary Association of Women s of Afghanistan(RAWA) کا قیام عمل میں لایا جس کو بہت بڑی پذیرائی ملی جبکہ اپنی تنظیم کی طرف سے انہوں نے افغان خواتین کے حقوق کے لیے شعور اجاگر کرنے کی غرض سے ایک رسالہ ( پیام زن) Women s Message جاری کیا جس میں وہ خود بھی کالم لکھتی اور خصوصی پیغامات وغیرہ بھی جاری کیا کرتی تھیں۔

    تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی تنظیم RAWA کے پلیٹ فارم سے افغانستان کی مظلوم ، محکوم اور مجبور و بےگھر اور مہاجر خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد شروع کر دی ۔ اس دوران ان کی افغانستان کے ایک روشن خیال مرد رہنما فیض احمد سے شادی ہوئی جس کے بعد دونوں میاں بیوی نے مل کر منظم جدوجہد شروع کر دی جس کی وجہ سے افغانستان کی ایک خطرناک خفیہ ایجنسی ” خاد” نے مینا کے شوہر فیض احمد کو 1986 میں قتل کر دیا جبکہ اس کے اگلے سال 1987 میں ” خاد” کے سربراہ انجنیئر گلبدین حکمت یار کے حکم کے تحت خاد کے ایجنٹس نے 4 فروری 1987 میں مینا کشور کمال کو ، کوئٹہ بلوچستان پاکستان میں قتل کر دیا جس کی موت سے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے جاری ایک موثر تحریک کا خاتمہ اور ایک توانا آواز کو خاموش کر دیا گیا۔

  • عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    3 فروی 1975
    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مصر سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ام کلثوم 31دسمبر 1898میں مصر کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام ابراہیم اور والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد ابراہیم قرآن کے حافظ اور مسجد کے امام تھے اپنی بیٹی کلثوم کو بھی انہوں نے قرآن حفظ کرایا۔ بعد میں ان کے والد نے ہی ان کو گلوکاری کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے گلوکار ابوالعلا سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔

    انہوں نے سب سے زیادہ مصر کے عرب شاعر احمد راہی کے گیت گائے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی شعراء کے کلام بھی گائے۔ ام کلثوم کی آواز میں بلا کی مٹھاس اور سوز و سرو شامل تھا وہ اپنی آواز کا جادو جگا کر سامعین پر سحر طاری کر دیتی تھیں یہی وجہ ہے کہ انہیں مصر کی بلبل،کوکب المشرق یعنی مشرق کا ستارہ اور عرب موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مصر کے شاہ فاروق اور جمال ناصر بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے ۔

    شاہ فاروق نے ان کو مصر کے سب سے بڑے ایوارڈ "ذیشان الکمال” سے نوازا۔ جبکہ علامہ اقبال کا ترجمہ شدہ کلام عربی میں گانے پر حکومت پاکستان کی جانب سے ان کو ستارہ الہلال کا ایوارڈ عطا کیا گیا ۔ مصری حکومت نے ام کلثوم کی آواز میں قرآن کی تلاوت بھی ریکارڈ کروایا ۔ ام کلثوم 1923 میں اپنے آبائی گاؤں سے قاہرہ منتقل ہو گئیں ۔ 1954میں ام کلثوم کی ڈاکٹر حسن الخضری سے شادی ہوئی ۔ ام کلثوم پر گاتے وقت وجد طاری ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ وہ اپنے ہاتھ میں رومال رکھتی تھی وہ گانے کے دوران وجد میں آ کر اس رومال کو پھاڑ کر لیرا لیرا کر دیتی تھیں ۔

    ام کلثوم کا شمار عرب دنیا کی موسیقی کے 4 بڑے گلوکاروں میں ہوتا ہے جن میں عبدالحلیم حافظ، ام کلثوم ، محمد عبدالوہاب اور فرید الطرش شامل ہیں ۔ دنیائے عرب کی ملکہ موسیقی اور ستارہ مشرق ام کلثوم کا 3 فروری 1975 میں انتقال ہوا ان کے جنازہ نماز میں 40 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جوکہ ایک عالمی ریکارڈ اور ان کی انتہا درجے کی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔

  • حیا ہراریت   اسرائیلی   اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت

    اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    3 فروری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ اسرائیلی اداکارہ ، مصنفہ اور اسکرپٹ رائٹر حیا ہراریت 20 ستمبر 1931 میں ہائفہ فلسطین میں پیدا ہوئی۔ ہائفہ اس وقت اسرائیل کا حصہ ہے ۔ 1955 میں انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا انہوں نے بیحد متاثر کن اداکاری کے جوہر دکھائے اور اورفلمی کہانیاں لکھیں اور فلم اسکرپٹ لکھ کر بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی اور عالمی فلمی میلہ میں خصوصی ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے دو شادیاں کیں پہلی شادی اسرائیلی انجنیئر Nachman Zervanitzer سے کی چند برس بعد ان سے علیحدگی اختیار کی جبکہ دوسری شادی برطانوی فلم ڈائریکٹر Jack Clayton سے کی ۔ 3 فروری 2021 برطانیہ میں 90 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔

  • جیمز جوائس؛آئرش نامہ نگار،افسانہ نگار اورشاعر

    جیمز جوائس؛آئرش نامہ نگار،افسانہ نگار اورشاعر

    پیدائش:02 فروری 1882ء
    وفات:13 جنوری 1941ء
    زیورخ
    وجۂ وفات:ورمِ صفاق
    شہریت: آئرلینڈ
    تعداد اولاد:2
    مادر علمی:جامعہ کالج ڈبلن
    (1898-1902)
    تلمیذ خاص:سیموئل بکٹ
    زبان:انگریزی
    پیشہ ورانہ زبان:اطالوی، لاطینی زبان، فرانسیسی، انگریزی
    کارہائے نمایاں:ڈبلینرز، یولیسیس

    جیمز جوائس انگریز ناول نگار، ڈبلن ’’آئرلینڈ‘‘ میں پیدا ہوا۔ بچپن عسرت میں بسر ہوا۔ پیرس میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے گیا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکا اورلسانیات پڑھانے لگا۔ 1907ء میں اپنی نظموں کا مجموعہ اور 1914ء میں کہانیوں کا مجموعہ شائع کیا۔ اس کے نام Portarit of the artist میں اس کی آپ بیتی کے آثار ملتے ہیں۔ اس کا شاہکار ناول Ulysses ہے جو 1922ء میں پیرس سے شائع ہوا۔

  • کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

    میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔

    پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

    کشور ناہید کے چھ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۶۹ء میں ان کی کتاب ’’لب گویا‘‘ پر آدم جی ایوارڈ بھی ملا۔ انہوں نے فرانس کی مشہور ناول نگار سمعون ڈی بوار کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا اردو ترجمہ ۱۹۸۳ء میں ’’عورت‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ کشور ناہید کی متعدد نظموں کا انگلش اور ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

    کشور ناہید کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ یونیسکو پر اثر منڈیلا ایوارڈ، ستارئہ امتیاز اور کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
    .
    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
    اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

    دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی
    خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

    پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا
    پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

    آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک
    ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

    کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ
    کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

    عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا
    فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

    ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا
    کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

    اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں
    جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

    اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت
    وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

    وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے
    جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

    غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے
    کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

    اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر
    دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

    میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر
    ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

  • ڈینئل پرل امریکی صحافی

    ڈینئل پرل امریکی صحافی

    پیدائش:10 اکتوبر 1963ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    ریاستہائے متحدہ امریکا
    وفات:01 فروری 2002ء
    ۔ (عمر 38 سال)
    ۔ کراچی، سندھ، پاکستان
    وجہ وفات:سر قلم
    طرز وفات:قتل
    دریافت نعش:16 مئی 2002ء
    رہائش:واشنگٹن ڈی سی
    ریاستہائے متحدہ
    قومیت:ریاستہائے متحدہ
    اسرائیل
    دیگر نام:ڈینی
    نسل:یہودی
    آبائی علاقہ:اینسینو، لاس اینجلس
    کیلی فورنیا، ریاستہائے متحدہ
    مذہب:یہودیت
    رکن:فی بیٹا کاپا سوسائٹی
    زوجہ:میرئین پرل
    ۔ (1999-2002ء
    ۔ اس کے سانحۂ انتقال تک)
    اولاد:ایڈم ڈانئیل پرل
    ولادت:28 مئی 2002ء
    والدین:جوڈیا پرل (والد)
    روتھ پرل (ماں)
    رشتے دار:میشیل اینڈ تمارا (بہنیں)
    تعلیم:مواصلات میں بی اے
    مادر علمی:اسٹینفورڈ یونیورسٹی
    پیشہ:صحافت
    زبان:انگریزی
    ملازمت:وال اسٹریٹ جرنل
    وجہ شہرت:وال اسٹریٹ صحافت

    ڈینئل پرل ایک امریکی صحافی تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈانئیل پرل کا اغوا اس وقت کیا گیا تھا جب وہ 2002ء میں ایک کہانی کی تحقیق کے لیے کراچی میں تھے۔ اغوا کے بعد ان کا قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش کراچی کے باہری علاقے میں ملی تھی۔ اس وقت پولیس نے قتل کی تحقیقات کے بعد اس میں انتہا پسند مذہبی عناصر کے شامل ہونے کا شک ظاہر کیا تھا جسے بعد میں سچ پایا گیا تھا۔

  • سائونی گھوش:ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ

    سائونی گھوش:ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ

    سائونی گھوش (پیدائش: 27 جنوری 1993) ایک ہندوستانی بنگالی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ اور گلوکارہ ہے۔
    ان کی اداکاری کا آغاز ٹیلی فلم سوچے دانا سے ہوا، اور بڑے پردے پر ان کی پہلی نمائش فلم نوٹوبور نوٹ آؤٹ میں مختصر کردار کے ساتھ ہوئی اس کے بعد اس نے راج چکرورتی کی شوٹرو میں کچھ تجربہ کار اداکاروں کے ساتھ اسکرین شیئر کی، اور بعد میں ایک لاپرواہ صحافی کا کردار ادا کیا۔ راج چکرورتی کے روزمرہ کے صابن پرولوئے آسچے میں۔
    انہوں نے فلموں کاناماچی، انترال، ایکلا چلو، بٹنون، مائر بیا، راجکاہنی میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

    Saayoni Ghosh (Born 27 January 1993) is an Indian Bengali film and television actress and singer.
    Her acting debut was with a telefilm Ichhe Dana, and her first appearance on the big screen was with a short role in the film Notobor Notout After this she shared the screen with some veteran actors in Raj Chakraborty’s Shotru, and later played a carefree journalist role in Raj Chakraborty’s daily soap Proloy Asche.
    She has played lead roles in the films Kanamachi, Antaraal, Ekla Cholo, Bitnoon, Mayer Biye, Rajkahini.

  • کویتا کرشنامورتی:16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ

    کویتا کرشنامورتی:16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ

    کویتا کرشنامورتی

    16 زبانوں میں گانے والی منفرد گلوکارہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کویتا کرشنامورتی ایک بھارتی فلمی پلے بیک گلوکارہ ہیں جنہوں نے ہندی، تیلگو، مراٹھی، انگریزی، اردو، تامل، ملیالم، کنڑ، گجراتی، نیپالی، بنگالی، آسامی، کونکنی اور اوڈیا وغیرہ میں گانے گائے ہیں۔
    کلاسیکی موسیقی میں تربیت یافتہ، کویتا کرشنامورتی نے 30 سال کے کیریئر میں 16 زبانوں میں 25,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے ہیں۔
    لکشمی کانت – پیاری لال، نوشاد، ایس ایچ بہاری، کیفی اعظمی، انجان، او پی نیئر، خیام، ہیمنت کمار، رویندر جین، بپی لہڑی، سمیر، آنند بخشی، جاوید اختر، انو ملک، آر۔ڈی برمن، ہمیش ریشمیا، ہمسلیکھا، زوبین گرگ اور اے۔آر رحمان
    وہ چار فلم فیئر بہترین خاتون پلے بیک سنگر ایوارڈز کی وصول کنندہ بھی ہیں، جن میں 1994-1996 کی مدت میں مسلسل تین ایوارڈز، اور پدم شری جو انہیں 2005 میں ملا تھا۔
    1999 میں، اس نے وائلنسٹ ایل۔
    سبرامنیم اور بنگلورو میں مقیم ہیں۔ کویتا کی پیدائش شاردا نئی دہلی، ہندوستان میں ایک تامل آئیر خاندان میں ہوئی تھی۔
    کرشنامورتی، وزارت تعلیم کے ملازم۔
    اس نے موسیقی کی تربیت اپنی خالہ پروتیما بھٹاچاریہ کے اصرار پر شروع کی جنہوں نے اسے سورما باسو کے پاس داخل کرایا، جو اسے رابندر سنگیت سکھاتے تھے۔
    اس نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں اپنی باقاعدہ تربیت کا آغاز ایک کلاسیکی گلوکار بلرام پوری کے تحت کیا۔
    آٹھ سال کی چھوٹی عمر میں، کویتا نے موسیقی کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
    اس نے 1960 کی دہائی کے وسط میں نئی ​​دہلی میں انٹر منسٹری کلاسیکل مقابلے میں حصہ لیتے ہوئے بہت سے تمغے جیتے تھے۔

    25/01/2023

    Kavita Krishnamurthy is an Indian film playback singer who has sung songs in Hindi, Telugu, Marathi, English, Urdu, Tamil, Malayalam, Kannada, Gujarati, Nepali, Bengali,Assamese, Konkani and Odiya Etc.
    Trained in classical music, Kavita Krishnamurthy has recorded more than 25,000 songs in 16 languages in a career span of 30 years.
    Working with almost all the music composers including Laxmikant–Pyarelal, Naushad, S H Bihari, Kaifi Azmi, Anjan, O P Nayyar, Khayyam, Hemant Kumar, Ravinder Jain, Bappi Lahiri, Sameer, Anand Bakshi, Javid Akthar, Anu Malik, R.D.Burman, Himesh Reshammiya, Hamsalekha, Zubeen Garg and A.R.Rahman.
    She is also the recipient of four Filmfare Best Female Playback Singer Awards, including three consecutive awards in the period 1994–1996, and the Padmashri which she received in 2005.
    In 1999, she married violinist L.
    Subramaniam and residing in Bengaluru. Kavita was born Sharada in a Tamil Iyer family in New Delhi, India to T.S. Krishnamurthy, an employee of the Education Ministry.
    She began her music training at the insistence of her aunt, Protimma Bhattacharya who enrolled her with Suruma Basu, who taught her Rabindra Sangeet.
    She began her formal training in Hindustani classical music under Balram Puri, a classical singer.
    At the young age of eight, Kavita won a gold medal at a music competition.
    She won many medals participating in the Inter-Ministry Classical Competition in New Delhi in the mid 1960s.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکر علی
    عظیم تجریدی مصور
    یوم وفات : 27 جنوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون ہیں۔

  • آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    حمیدہ شاہین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    26 جنوری 1963 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی ایک بہتر پاکستانی شاعرہ پروفیسر حمیدہ شاہین صاحبہ 26 جنوری 1963 کو سرگودھا پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1988 میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں لیکچرر تعینات ہوئیں اور ٹھیک 32 برس بعد اپنی سالگرہ کے دن 26 جنوری 2020 میں ترقی کرتے ہوئے 20 گریڈ میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ جبکہ آج اپنی سالگرہ کے دن 60 سال کی عمر کو پہنچ کر گورنمٹ ملازمت سے سبکدوش ہو گٙئی ہیں۔ حمیدہ شاہین صاحبہ کے اب تک 3 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، دستک، دشت وجود اور”زندہ ہوں” شامل ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نمونہ کلام

    کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
    آدھے لوگ نِری مٹی تھے ، آدھے چاند ستارے لوگ

    اُس ترتیب میں کوئی جانی بوُجھی بے ترتیبی تھی
    آدھے ایک کنارے پر تھے ، آدھے ایک کنارے لوگ

    اُس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
    آدھے اس نے ساتھ ملائے ، آدھے اس نے مارے لوگ

    آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
    اُس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے
    آدھے پھیکے بے رس ہو گئے ، آدھے زہر تمہارے لوگ

    آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دیے
    آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

    آدھوں آدھ کٹی یک جائی ، پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
    آدھے پاؤں کے نیچے رکھے ، آدھے سر سے وارے لوگ

    ایسا بندو بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
    ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اُتارے لوگ

    کچھ لوگوں پر شیشے کے اُس جانب ہونا واجب تھا
    دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

    حمیدہ شاہین