Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    انور پیرزادہ سندھ کےمعروف ترقی پسند شاعر،محقق اور ادیب

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔

    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔

    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔ انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • یوم پیدائش،  انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    یوم پیدائش، انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔
    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔
    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔
    انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی

    فاطمہ حسن

    اصل نام: سیدہ انیس فاطمہ زیدی
    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:کراچی
    زبان:اردو
    اصناف:تحقیق، تنقید،شاعری
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بلوچستان کاادب اور خواتین-2006
    ۔ (2)فیمینزم اور ہم-2005
    ۔ (3)خاموشی کی آواز-2004
    ۔ (4)یادیں بھی اب خواب ہوئیں-2004
    ۔ (5)کہانیاں گم ہوجاتی ہیں-2000
    ۔ (6)دستک سے در کافاصلہ-1993
    ۔ (7)بہتے ہوئے پھول-1977
    مستقل پتا:ڈی41 بلاک7، گلشن اقبال ،کراچی

    نام سیدہ انیس فاطمہ،ڈاکٹر اور تخلص فاطمہ ہے۔ 25 جنوری 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کے آباء و اجداد کا وطن غازی پور(بھارت) تھا۔ سات برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ ڈھاکا چلی گئیں اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1971ء میں ڈھاکا یونیورسٹی میں آنرز کی طالبہ تھیں کہ سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آیا۔ 1973ء میں بھارت اور نیپال سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچیں۔ یہاں آکر جامعہ کراچی سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1977ء میں محکمۂ اطلاعات سندھ گورنمنٹ کے شعبۂ اشاعت سے وابستہ ہوئیں۔ پھرسوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں ڈپٹی ڈائرکٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ ترقی کرکے اس ادارے میں ڈائرکٹر ،تعلقات عامہ ترتیب وتحقیق کے عہدے پر فائز رہیں۔ فاطمہ حسن شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔ ماہ نامہ’’اظہار ‘‘کی نائب مدیرہ رہ چکی ہیں۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بہتے ہوئے پھول‘‘، ’’دستک سے درکا فاصلہ‘‘(شعری مجموعے)،’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں‘‘(افسانے)، ’’یادیں بھی اب خواب ہوئیں‘‘(شعری مجموعہ)، ان تینوں شعری مجموعوں کو ملا کر ایک مجموعہ ’’یاد کی بارشیں‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ہے۔ ’زاہدہ خاتون شیروانیہ‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:415

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
    وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
    جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
    وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا
    وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
    خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا
    بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
    وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا
    کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
    میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں
    خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں
    سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
    لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں
    رہبری اب شرط منزل کب رہی
    آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں
    یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے
    راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں
    مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح
    وہ مگر اب چاہتے کچھ اور ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی
    وہ ہم سفر تھا کشتی پہ مانجھی بھی تھا وہی
    دریا وہی ہے میں بھی ہوں کشتی نہیں رہی
    بدلا جو اس کا لہجہ تو سب کچھ بدل گیا
    چاہت میں ڈھل کے جیسی تھی ویسی نہیں رہی
    پیڑوں میں چھاؤں پھول میں خوشبو ہے اپنا رنگ
    ویرانی بڑھ گئی ہے کہ بستی نہیں رہی
    کچے مکان جیسے گھروندے سے کھیلتی
    پختہ ہوا جو صحن تو مٹی نہیں رہی
    اک اعتراف عشق تھا جو کر نہیں سکی
    خاموش اس لیے ہوں کہ سچی نہیں رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں
    اپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں
    کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور
    اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں
    جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیں
    لہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں
    روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گے
    آنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں
    جس منظر سے گزری تھی میں اس کے ساتھ
    آج اسی منظر میں آ کر تنہا ہوں
    پانی کی لہروں پر بہتی آنکھوں میں
    کتنے بھولے خواب جگا کر تنہا ہوں
    میرا پیارا ساتھی کب یہ جانے گا
    دریا کی آغوش تک آ کر تنہا ہوں
    اپنا آپ بھی کھو دینے کی خواہش میں
    اس کا بھی اک نام بھلا کر تنہا ہوں

  • ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیاں:مقبول جہانگیرکی داستان حقیقت

    ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیاں:مقبول جہانگیرکی داستان حقیقت

    مقبول جہانگیر
    24 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان میں ڈائجسٹوں کے ابتدائی دور میں اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ کا نام خاصہ نمایاں رہا ۔ اس زمانے میں مقبول جہانگیر اپنی ناقابل فراموش اور پراسرار کہانیوں کی وجہ سے قارئین کا ایک وسیع حلقے بنانے میں کامیاب رہے ۔ شکاریات اور مہم جوئی پر مبنی ان کی کہانیاں کافی مقبول رہیں ۔ مقبول جہانگیر 24 جنوری 1937 میں پیدا یوئے اور 24 اکتوبر 1985 میں ان کا انتقال ہوا معروف ادیبہ و شاعرہ امینہ عنبرین ان کی اہلیہ اور عافیہ جہانگیر ان کی بیٹی ہیں۔ مقبول جہانگیر ایک عرصہ تک سیارہ ڈائجسٹ کے مدیر بھی رہے۔ مقبول جہانگیر کا اصل نام مقبول الاہی ہے۔ ” موت کے خطوط” ہیبتناک افسانے ، خوفناک کہانیاں ، افریقہ کے جنگلوں میں ، فرار ہونے تک ، سمیت ان کی کئی یادگار کتابیں ہیں ۔

  • عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے

    غالب عرفان

    21؍جنوری 2021 یوم وفات

    نام #محمدغالبشریف اور تخلص #عرفانؔ تھا۔
    05؍مارچ 1938ء کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔تعلیم و تربیت صوبہ بہار کے شہر جمشیدپور میں ہوئی۔ وہیں سے بے اے پاس کیا۔ اردو ان کی مادری زبان ہے۔ انگریزی پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ ہندی بھی جانتے تھے۔ 1946ء میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے وہ جمشیدپور سے سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے شہر چاٹگام ہجرت کر گئے۔ بنگال میں قیام کے دوران انھوں نے بنگالی بھی سیکھی۔ ابھی ان کے قدم چاٹگام میں اچھی طرح جمنے بھی نہ پائے تھے کہ مشرقی پاکستان آگ اور خون کی لپیٹ میں آگیا۔ چنانچہ جنوری 1974ء میں اپنے بچوں سمیت کراچی چلے گئے۔ ان کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے ادبی اور نیم ادبی جریدوں کے علاوہ اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ”آگہی سزا ہوئی“، ”روشنی جلتی ہوئی،“ ”م” (نعتیہ کلام)
    غالب عرفانؔ 21؍جنوری 2021ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:329

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

    جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا
    حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

    فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر
    اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے

    مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں
    خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے

    خواب کو حقیقت کا روپ کوئی کیا دیتا
    منعکس تصور کا انعکاس ہم ہی تھے

    🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

    الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں
    دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئنے میں

    کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں
    کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئنے میں

    ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں
    ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئنے میں

    تہذیب کا تسلط ہے آئنے سے باہر
    تاریخ کے سفر کا وجدان آئنے میں

    رنگوں کی بارشوں سے دھندلا گیا ہے منظر
    آیا ہوا ہے کوئی طوفان آئنے میں

    زندہ حقیقتوں کی ہوتی ہے پردہ پوشی
    پلتی ہے جب رعونت نادان آئنے میں

    ہو روشنی کہ ظلمت صحرا ہو یا سمندر
    ہوتا ہے زندگی کا عرفانؔ آئنے میں

  • اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی،یوم پیدائش عرش صدیقی

    اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی،یوم پیدائش عرش صدیقی

    اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
    اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

    عرش صدیقی

    پیدائش:21جنوری 1927ء
    گرداس پور، ہندستان
    وفات:08اپریل 1997ء

    نام ارشاد الرحمن اور تخلص عرش تھا۔ 21؍جنوری 1927ء کو گورداس پور(مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ایم اے (انگریزی) گورنمنٹ کالج، لاہور سے کیا۔ پی ایچ ڈی ورلڈ یونیورسٹی اری زونا(امریکا) سے کیا۔ پروفیسر شعبہ انگریزی گورنمنٹ کالج ملتان، چیرمین پروفیسر شعبہ انگریزی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور رجسٹرار بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے عہدوں پر فائز رہے۔ 08اپریل 1997ء کو ملتان میں انتقال کرگئے۔ شاعری کے علاوہ افسانہ اور تنقید بھی لکھتے تھے۔ ان کی تصانیف کے چند نام یہ ہیں: ’دیدۂ یعقوب‘، ’محبت لفظ تھا میرا‘، ’ہرموج ہوا تیز‘(شعری مجموعے)، ’باہر کفن سے پاؤں‘(افسانے) پر آدم جی ایوارڈ ملا۔’تکوین‘، ’محاکمات‘، ’شعور‘، ’سائنسی شعور اور ہم‘( تنقید)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:200

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ
    ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

    اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
    اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

    ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے
    لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

    وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے
    اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا

    دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر
    گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا

    میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا
    اک راستہ ان سب سے جدا چاہئے مجھ کو

    ایک لمحے کو تم ملے تھے مگر
    عمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے

    بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر
    جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں

    زمانے بھر نے کہا عرشؔ جو، خوشی سے سہا
    پر ایک لفظ جو اس نے کہا سہا نہ گیا

    اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
    اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

    ہم نے چاہا تھا تیری چال چلیں
    ہائے ہم اپنی چال سے بھی گئے

  • ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    ریڈیو پاکستان کا پہلا نیوز بلیٹن تیار کرنے والے صحافی

    15اگست 1947 کو ریڈیو پاکستان لاہور سے خبروں کا جو پہلا بلیٹن نشر ہوا، وہ ممتاز صحافی غنی اعرابی نے تحریر کیا تھا اور انہی کی آواز میں نشر ہوا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز کے عہدے تک پہنچے۔ حکومت پاکستان کے پرنسپل انفرمیشن آفیسر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے پریس کونسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 21 جنوری 1998 کو اسلام آباد میں ان کی وفات ہوئی۔

  • معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    سندھ سےتعلق رکھنےوالی معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ 20 جنوری 1968 کوخیرپورسندھ میں پیدا ہوئیں ۔وہ سندھ کےسابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں ۔انہوں نےابتدائی تعلیم کراچی سےحاصل کی اوراس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے”غیرت کےنام پرقتل”کےموضوع پرپی ایچ ڈی کی

    وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں ۔اس سےقبل وہ دومرتبہ ایم این اے رہ چکی ہیں وہ اس سےقبل خیرپورکی ضلعی ناظمہ اور National Commission For Human Development(NCHD) کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں ۔

    نفیسہ شاہ کےوالد سیدقائم علی شاہ3 بارسندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکےہیں ۔نفیسہ شاہ کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ وہ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں Honour Unmasked, Gendar ViolenceاورLaw and Power in Pakistan ودیگر شامل ہیں ۔

  • جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    پیدائش:08 فروری 1819ء
    لندن
    وفات:20 جنوری 1900ء
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    کنگز کالج، لندن
    مادری زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ آکسفورڈ
    تحریک:آزاد خیال

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب آرٹ کا نقاد اور مصلح تھا۔ لندن میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ 1860ء میں اپنی ساری موروثی جائداد مزدوروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کی۔ ایک نمونے کا گاؤں بنایا جس میں کسان امدادِ باہمی کے اصولوں پر کام کرتے تھے۔ 1870ء میں آکسفورڈ میں فنونِ لطیفہ کا پروفیسر مقرر ہوا۔ وفات کے بعد آکسفورڈ کا ایک کالج اس کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی اہم تصنیف ’’ماڈرن پینٹرز‘‘ (پانچ جلدیں) ہے۔ دوسری تصانیف میں دی سیون لیمپس آف آرکی ٹیکچر اور دی اسٹونز آف وینس قابل ذکر ہیں۔

  • میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    وہ دن آخری ہو میری زندگی کا

    مہناز

    معروف گلوکارہ مہناز بیگم کا اصل نام سیدہ مطاہرہ کنیز رضا اور والد کا نام سید اختر علی تھا۔ وہ مشہور مغنیہ کجن بیگم کے ہاں 1953ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے استاد امراؤ بندو خان کے بھتیجے نذیر نے انہیں مہناز کا نام دیا۔ مہناز نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن خان کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی۔ امیر امام نے انہیں پاکستان ٹیلیوژن کے پروگرام” نغمہ زار ” کے ذریعے عوام سے متعارف کروایا جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم ‘حقیقت’ مہناز کی بطور پلے بیک سنگر ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی جس کے بعد جلد ہی مہناز فلمی دنیا کی مقبول ترین آواز بن گئیں اور فلمی صنعت کے ہر موسیقار نے مہناز کی آواز کو اپنی فلم میں شامل کرنا اپنا اعزاز جانا۔ مہناز نے ساڑھے تین سو سے زیادہ فلموں کے لیے پانچ سو سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے۔ اس کے علاوہ مہناز نے لاتعداد گیت اور غزلیں بھی گائیں جو آج بھی بیحد مقبول ہیں۔

    حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ انہیں ان کی گائیکی پر اور بھی متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں دس نگار ایوارڈ، دو نیشنل ایوارڈ، سات گریجویٹ ایوارڈ اور ایک پی ٹی وی ایوارڈ شامل ہیں۔ مہناز نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل سات سال تک نگار ایوارڈ حاصل کیا جو ایک منفرد اعزاز ہے۔

    مہناز طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھیں۔ 19 جنوری 2013ء کو وہ اپنے علاج کیلئے پاکستان سے امریکا جا رہی تھیں کہ اچانک راستے میں انکی طبیعت خراب ہو گئی۔ جہاز کو ہنگامی طور پر بحرین کے شہر مانامہ میں اتارا گیا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکیں اوراپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ وہ کراچی کی وادی حسین قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔ مہناز کی آواز میں چند مشہور نغموں کے بول

    میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
    او میرے سانوریا او بانسری بجائے جا
    تیرے میرے پیار کا ایسا ناتا ہے
    مجھے دل سے نہ بھلانا
    تیرےسنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی

    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا