Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہماری کنولیج (knowledge) — حنیف سمانا

    ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ

    "اداکارہ میرا انگریزوں کی زبان کے ساتھ وہی کر رہی ہیں جو انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں برِصغیر کے غریب باشندوں کے ساتھ کیا”

    مگر صاحب میرا پر کیا منحصر…خود ہم اکثر انگریزی کی

    Mother Sister together

    مطلب ماں بہن ایک کرتے رہتے ہیں .

    خود ہمیں شاہِ برطانیہ نے کئی بار اپنے سفارت کار کے ذریعے خفیہ پیغام بھیجا کہ

    "اگر تم انگیزی بولنا چھوڑ دو تو میں تمہارا سالانہ ١٠٠ پونڈ کے حساب سے وظیفہ مقرر کر دیتا ہوں“

    مگر ہم نے بھی اپنے آباٶ اجداد کے نام پر آنچ نہیں آنے دی۔ 100 پونڈز پر لات ماری اور کہا

    ” اے طاٸر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی …جس رزق سے آتی ہے پرواز میں کوتاہی” وغیرہ وغیرہ ..

    ہاں البتہ ہم نے سفارت کار کے کان میں کہا کہ شاہ سے کہو 100 پونڈز کم ہیں.

    بچپن میں ہمارے ایک استاد نے ہم سے کہا کہ انگریزی کی زیادہ سے زیادہ پریکٹس کے لئے آپ اپنے کسی دوست سے تہہ کر لیجئے کہ جب بھی آپ ملیں گے..صرف انگریزی میں بات کریں گے.

    ہمیں یہ آئیڈیا پسند آیا۔ ہم نے اپنے جان سے پیارے دوست مولوی سے یہ وعدہ لیا کہ اب ہم دونوں جب بھی ملیں گے انگریزی میں بات کریں گے یا پھر خاموش رہیں گے.

    اس "شملہ معاہدے” کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم دونوں غیبت جیسے بڑے گناه سے بچ گئے…

    ہم اکثر گھنٹوں ساتھ ہوتے ….

    مگر خاموش ……

    آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کی کمپنی سے بور ہونے لگے.

    اور پھر ملنا جلنا چھوڑ دیا…

    کئی ہفتے کے گیپ کے بعد ایک روز مولوی صبح صبح وارد ہوئے اور آتے ہی انگریزوں کو پنجابی زبان میں تین چار ناقابلِ اشاعت گالیاں دیں…

    پھر کہنے لگے یہ بھی کوئی زبان بناٸی ہے بالکل تھرڈ کلاس…

    بتاؤ …جب "بی یو ٹی” بَٹ(but) ہوتا ہے اور "سی یو ٹی” کَٹ (cut) …تو پھر "پی یو ٹی” پَٹ (زبر کے ساتھ) کیوں نہیں ہوتا…پُٹ (پیش کے ساتھ) کیوں ہوتا ہے…

    کسی نائی نے یہ زبان بنائی ہے…

    بتاؤ… جب ایک لفظ کو پڑھنا ہی نہیں تو اس کو لکھنے کی کیا ضرورت ….

    جاہل لوگ کنولیج کو بھی نولیج پڑھتے ہیں”

    ہمیں مولوی کی بات میں وزن نظر آیا…

    ہم نے بھی مولوی کے ساتھ مل کر اس وقت انگریزی کی اور انگریزوں کی خوب برائی کی…

    ولیم شیکسپئیر کے "چار باپ” (Forefathers) کو خوب برا بھلا کہا….

    اور انگریزی بولنے سے توبہ کرلی.

  • جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریزمختصرکہانی نویس، شاعر اور ناول نگار

    پیدائش:30 دسمبر 1865ء
    ممبئی
    وفات:18 جنوری 1936ء
    لندن
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    شہریت: مملکت متحدہ ( انگلستان)
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    رائل سوسائٹی آف لٹریچر
    والد:جان لاکووڈ کپلنگ
    زبان:انگریزی
    ملازمت:یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    نوبل انعام برائے ادب (1907)
    فیلو آف دی رائل سوسائٹی آف لٹریچر

    جوزف رڈیارڈ کپلنگ ایک انگریز مختصر کہانی نویس، شاعر اور ناول نگار تھا۔ وہ بنیادی طور پر بھارت میں برطانوی فوجیوں کی کہانیوں اور نظموں اور بچوں کے لیے کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ وہ بمبئی میں برطانوی راج کے دوران پیدا ہوا۔ وہ پانچ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان چلا گیا۔ کپلنگ بہترین افسانوں میں دی جنگل بک (The Jungle Book)، جسٹ سو سٹوریز(Just So Stories)، کم (Kim)، دی مین ہو وڈ بی کنگ (The Man Who Would Be King) مشہور ہیں۔ لاہور میں1883ء تا 1889ء سول اینڈ ملٹری گزٹ کے لیے کام کرتے رہے۔

  • حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

    موسیٰ نہیں جو تاب نظارہ نہ لاسکوں
    کچھ دیر اور رہنے دو پردہ اٹھا ہوا

    حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کے معروف ادیب و شاعر تحریک ختم نبوت اور تحریک آزادی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم کارکن حافظ محمد یوسف آزاد 1907 کو سکندرہ راو ضلع علیگڑھ ہندوستان ایک زمیندار گھرانے میں اہل قریش کے شیخ ظفر الدین کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ وہ فقط شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ پہلوان، موسیقار، تحریک خلافت، تحریک ختم نبوت، تحریک آزادی پاکستان کے فعال اور سرگرم رکن اور نعت خواں بھی تھے۔ انہوں نے عربی ، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی اور فارسی تعلیم میں الحاج سید محمد ابراہیم ان کے استاذ تھے اور ان ہی سے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 21 برس کی عمر میں انہوں نے شاعری شروع کی استاد شاعر ” اللہ راضی رہبر” سے اصلاح اور رہنمائی لی جن کا سلسلہ حضرت امیر مینائی سے ملتا ہے ۔ حافظ محمد یوسف صاحب نے ابتدا میں یوسف تخلص استعمال کیا لیکن ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد انہوں نے آزاد تخلص اختیار کیا۔ انہوں حمد، نعت ، منقبت، غزل اور نظم سمیت اردو شاعری کی تمام اصناف میں بھرپور طبع آزمائی کی جبکہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے پسمنظر میں انہوں نے کافی جنگی ترانے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے ۔ ۔ یوسف آزاد شہنشاہ تغزل حضرت جگر مراد آبادی، علامہ سیماب اکبر آبادی، استاد قمر جلالوی، زیبا ناروی اور احسن مارہروی کے ہم عصر شعراء میں سے تھے بلکہ انہوں نے اپنا پہلا مشاعرہ جگر مراد آبادی کے اصرار پر ان کے ساتھ سرگودھا میں پڑھا۔ سرگودھا میں انہوں نے ” بزم حریم ادب” قائم کی اور اس کے علاوہ دیگر دو ادبی تنظیموں کے بھی بانی اور سرگرم عہدیدار رہے ۔ انہیں ہندی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ چناں چہ اس ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے دو ہندی سوانگ (منظوم ڈرامے) ” جوگن کی عصمت” اور ” مہا رانی تارا” تصنیف کیے جنہیں بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ اردو زبان میں ان کی تصانیف ” مدح صحابہ کرام رضہ” ” بڑھیا نامہ” اور ” فضیلت ماہ رمضان” بہت مقبول ہوئیں۔ محمد یوسف آزاد صاحب 1950 میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جن میں ان کی اہلیہ محترمہ ایک بیٹی اور تین بیٹے محمد یونس ارشاد ، محمد یاسین اور محمد یامین شامل تھے ہندوستان سے ہجرت کر کے سرگودھا پاکستان میں آباد ہو گئے ان کے یہ تینوں فرزند بھی والد کی طرح شاعر بن گئے جبکہ پاکستان میں آنے کے بعد ان کے ہاں مزید ایک بیٹی اور 3 بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے دو بیٹے بچپن میں ہی فوت ہو گئے ایک بیٹا خالد محمود یوسفی ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور یہ بھی ایک بہت اچھے شاعر ہیں۔ یوسف آزاد صاحب کی 30 دسمبر 1979 میں سرگودھا میں وفات ہوئی اور یہیں پہ آسودہ خاک ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند خالد یوسفی نے آزاد صاحب کا ایک خوب صورت شعری مجموعہ” آئینہ آزاد” کے نام سے شایع کروا دیا ہے ۔یوسف آزاد صاحب ہندوستان اور پاکستان میں موجود شاگر شعراء کی تعداد دو درجن کے قریب ہیں جن میں علاوالدین بیکل(انڈیا) عزیز انبالوی، صوفی فقیر محمد، اقبال منظر ، کریم بخش مضطر، رب بخش کلیار، حسن عباس زیدی ، مقصود احمد راہی، شفق بجنوری، محمد عمر عاصم جلیسری، کرنل فریدی، الحاج شیخ محمد یاسین، محمد یامین، محمد یونس ارشاد، خالد محمود یوسفی و دیگر شعراء شامل ہیں۔

    حافظ محمد یوسف آزاد کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "آزاد ” شب تنہائی میں ایسے بھی گزرتے ہیں لمحے
    دل درد سے بے کل ہوتا ہے اور درد چھپانا پڑتا ہے

    سبنھلنا یہاں شیخ جی میکدہ ہے
    بہک جاتے ہیں ہوشیار آتے آتے

    پھول غیروں کی وہ تربت پہ چڑھاکے آئے
    میری تربت پہ جب آئے تو چڑھائے کانٹے

    دیر و کعبہ میں نہ گلشن نہ بیاباں کے قریب
    میرے محبوب کا مسکن ہے رگ جاں کے قریب
    زندگی گزری ہے پرستش میں بتوں کی ” آزاد”
    شرم اب آتی ہے جاتے ہوئے یزداں کے قریب

    طور نے جل کے کہا غش میں پڑے ہو موسیٰ
    ہوش میں آئو تو پوچھیں کوئی دیدار کی بات

    ہر کوئی بسمل نظر آتا ہے بسمل کے قریب
    جتنے بھی بیٹھے ہوئے ہیں میرے قاتل کے قریب

    آزاد جو کٹ مرتے ہیں ناموس وطن پر
    پیچھے نہیں ہٹتے ہیں وہ انسان ہمی ہیں

    وہ تھامے ہوئے قلب و جگر آئے ہیں آزاد
    میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں

    میں وہ مے نوش ہوں ساقی تیرے مے خانے میں
    گھول کر توبہ کو پی لیتا ہوں پیمانے میں

  • ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ہمارا بچپن تو بہت سادہ تھا. جب ہمیں ایک ایسی گھڑی ملی تھی جس میں روزانہ تاریخ بدلتی تھی تب ہم یہ سمجھتے تھے اس میں ضرور کوئی چھوٹا سا آدمی ہوگا جو روزانہ رات کو تاریخ بدل دیتا ہے. لیکن آج کل کے بچے بہت عقلمند ہیں. کیونکہ یہ کمپیوٹر موبائل فون کا دور ہے. بچہ بچہ انٹرنیٹ کو جانتا ہے.

    یہ کمپیوٹر موبائل بنانے والوں نے سائنس انجینئرنگ سے ایک شاہکار مشین تخلیق کر دی. یہ ایسی مشین ہے جس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا ہے. لیکن اس مشین کے خالق اس کے اندر نہیں بیٹھے. ہم سب مانتے ہیں یہ انٹرنیٹ کے ذریعے گلوبل کنیکشن بناتے ہیں. ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مشین کا اچھا برا استعمال ہم نے خود ہی سیکھنا ہے. کیونکہ یہ مشین بیک وقت آپ کو اچھائی سے بھی جوڑ سکتی ہے اور برائی سے بھی.

    ہمیں پتہ ہے اس مشین کہ کوئی اپنے جذبات نہیں. محبت نفرت غصہ کینہ اچھائی برائی نفع نقصان سب اس کو استعمال کرنے والے آپریٹر کے ہوتے ہیں. مشین تو تابعدار بس حکم کی تعمیل کرتی ہے. ایسے ہی اس دُنیا میں انسانیت کا بھی ایک نیٹ ورک ہے. اللہ رب العزت اس کا خالق ہے. ہم میں سے ہر ایک کو جسم کی ایک مشین ملی ہے.

    دنیا کے انٹرنیٹ کا نظر آنے والا حصہ بہت کم اور نظر نہ آنے والا یعنی ڈارک ویب بہت بڑا ہے جس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے. یہی انسانوں کا مزاج ہے. لوگوں کو ہمارے نظر آنے والے اعمال اور پوشیدہ زندگی کا بھی یہی تناسب ہے. کل یوم حشر لیکن جو ہمارا حساب ہوگا اس میں سب کچھ سامنے ہوگا . اسی مشین کا پرزہ پرزہ ہم پر گواہ ہوگا.

    قرآن سورۃ التوبة میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے. اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰٮهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‌ ۞”کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اس کو غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے ؟ ” دوستو جیسے کمپیوٹر میں ہم توبہ کرتے ہیں ہسٹری صاف کرتے ہیں سب کچھ برا ڈیلیٹ کر دیتے ہیں. ایسا سسٹم اللہ رب العزت نے صرف ایک دیا ہے. اسے توبہ استغفار کہتے ہیں. کل کیلئے اچھے استعمال کی ہسٹری اور برے استعمال پر توبہ کریں. معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں. ہمیں کوئی پتہ نہیں کب کون ہمیشہ کیلئے لاگ آف ہو اور پھر سامنا اس میدان حشر میں ہو جہاں توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہو.

  • اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا. یہ اربوں کھربوں پتی دنیا کے دولت مند ترین انسان کسی ایسے غریب کو مکمل نظر آتے ہوں گے جو ان جیسا بننے کے خواب دیکھ رہا ہو لیکن وہ دولت مند ہندسوں کے ایک ایسے جال میں ہوتا ہے جو ایک کہ بعد ایک کروڑ ارب سے اپنی تکمیل چاہتا ہے. نہ کوئی مشہور شہرت یافتہ اداکار کھلاڑی اپنی شہرت کو مکمل سمجھتا ہے. وہ بھی اور مشہور ہونا چاہتا ہے.

    انسان فطری طور پر ریس پسند کرتا ہے. اس لئے آپ دیکھیں تو کونسی دوڑ نہیں جو انسان کھیلتے ہیں؟ . خود بھی ریس لگاتے ہیں اور کار، موٹر-سائیکل، گھوڑے کتے جو چیز ان کو دوڑ کے قابل لگتی ہے اسے بھی دوڑا دیتے ہیں. جیتنے کی جبلت ہماری فطرت کا حصہ ہے. یہی جبلت ہماری بے چینی محرومی حسد بغض ناکامی مایوسی جیسے ان گنت جذبات کی بنیاد بنتی ہے.

    لیکن اسی جبلت میں سکون کا ایک راز بھی چھپا ہے. مثال کے طور پر آپ ریس میں کھڑے ہیں. لیکن آپ آس پاس دوسرے کھلاڑیوں سے ریس کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کریں کے میں نے صرف منزل ٹارگٹ تک پہنچنا ہے. مجھے کسی پوزیشن کی خواہش ہی نہیں تو آپ کا دماغ دوسروں کے ساتھ آگے پیچھے کا حساب چھوڑ کر منزل پر فوکس کر لے گا.

    زندگی چلنے اور چلتے جانے کا نام ہے. دوڑ پھر بھی آپ رہے ہوں گے لیکن آس پاس کون آگے کون پیچھے کا حساب نہیں رہے گا. آپ پھر منزل ہی نہیں اس سفر سے بھی لطف لیں گے. زندگی اس سفر کا نام ہے موت جس کی منزل ہے. اس دنیا کی منزلیں تو اس سفر میں پھیلے بہت سے چیک پوائنٹس ہیں جن سے ہو کر آپ نے گزرنا ہے.

    اصل جیت وہی ہوتی ہے جو ہم خود سے جیت جائیں.

  • رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    کوئی انسانی تعمیر پرفیکٹ نہیں ہوتی. خوابوں کا نیا گھر بھی جب آباد ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کچھ یہاں کچھ وہاں غلطی کمی بیشی رے گئی ہے. مکین بس عادی ہو جاتے ہیں. ہمارے ایک آفس میں ایک دروازہ کچھ نیچے تھا. اوپر بلڈنگ کا کراس بیم تھا. ہم آفس والے عادی تھے کہ یہاں سر جھکانا ہے. نئے آنے والے کو کوئی نہ کوئی آواز دے دیتا کہ سر بچا کر. پھر بھی کسی نہ کسی کا سر لگ ہی جاتا.

    مسئلہ یہ تھا کہ اس دروازے کیلئے اب ساری عمارت کا سٹرکچر بدلا نہیں جا سکتا تھا. آفس کا کام اچھا چل رہا تھا تو کسی نے اس انجینئرنگ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی. لیکن کچھ لوگ کام چھوڑ کر مستری بن جاتے ہیں. ہمیں بھی کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا ہوتا جیسے کچھ بیم تراش لو یا فرش چند انچ نیچے کردو اور ہم سمجھاتے اس سے چھت کمزور ہوگی یا سٹرکچر وغیرہ.

    شادی کا رشتہ بھی انسانی تعمیر ہے. یہ نیا خاندان ایک نیا گھر اور بہت سے نئے رشتوں کی بنیاد ہوتا ہے. یہ تعمیر بھی کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتی. ہر رشتے میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے. وقت کے ساتھ اس رشتے کی عادت ہو جاتی ہے اور گزارا چل رہا ہوتا ہے. لیکن اس رشتے میں کوئی ایک مستری بن جائے یا دوسروں کے مشوروں پر اپنے بسے بسائے گھر کا نقشہ اپنی خواہش و پسند پر کرنے لگے تو بنیادیں اور چھت ہلنا شروع ہو جاتی ہیں.

    رشتے عادت پر سمجھ آتے ہیں. اپنی یا دوسروں کی عادات پر ضرور کوشش کریں. عادت وقت کے ساتھ بنتی یا ختم ہوتی ہیں. البتہ اپنے رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں، چاہے وہ آپ کے نفس کا مستری ہو یا رشتہ دار دوست مہمان مستری ہوں. گھر آباد رہے گا.

  • اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول
    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا) لاہور میں نہایت کامیاب اور عظیم الشان ادبی تقریبات اور ورکشاپس منعقد کرواتی رہی ہے سال 2022کی آخری تقریب کے لیے اپووا نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کا انتخاب کیا ،سرگودھا ادب کا گہوارہ ہے اور ادب کے بہت سے درخشندہ ستارے اپووا کو وہاں لے جانے کا سبب بنے ۔بہت سے قدآور علمی ادبی اور خوبصورت شخصیات اور چمکتے ناموںکو ایک چھت تلے اکٹھا کرنے کا بیڑہ اپووا نے اٹھایا اور بلاشبہ اسے پار بھی لگایا۔تقریب کے انتظامات کو مکمل کرنے کے لیے راقم اور تنظیم کے بانی و صدر ایم ایم علی ایک دن پہلے سرگودھا پہنچے ۔ چونکہ یہ تقریب سول ڈیفنس ہال میں ہونا تھی اس لئے سرگودھا پہنچتے ہی پہلی میٹنگ چیف وارڈن سول ڈیفنس محترمہ سائرہ خان سے ہوئی ۔ انہوں نے انتظامی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروای ۔ اور اپنےعملے کو طلب کرکے ہمارے ساتھ مل کرانتظامات مکمل کروانے کی ہدائت کی ۔کالمنگار اور سماجی کارکن طیب نوید نے بھی ہمیں جوائن کیا اورانتظامات کوحتمی شکل دینے میں ہماری مدد کی ۔ہال میں انتظامات سےفارغ ہو کر طیب نوید نے ہمارے اعزاز میں ڈنرکا اہتمام کیا۔ایڈوکیٹ سعدیہ ہما شیخ جو کہ تنظیم کی لیگل ایڈوائزر بھی ہیں اور اس تقریب کی میزبان بھی تھیں سعدیہ آپی نے میزبانی نبھای اور خوب نبھائی۔ ہمیں بہت اپنائیت کا احساس دلایا،ہمارے لیے سرگودھا میں قیام وطعام کی تمام ذمہ داری بہت اچھے طریقے سے نبھائی۔24دسمبر کی صبح 9بجے سول ڈیفنس ہال میں ادبی کانفرنس کی تمام تیاریاں مکمل تھیں ۔معزز مہمانوں کی آمد شروع ہوچکا تھا ۔لاہور سے اپووا کے دو کارواں بھی پہنچ چکے تھے ۔ ایک کارواں کی قیادت تنظیم کے سنئیر نائب صدر حافظ محمد زاہد کر رہے تھے ان کے ساتھ لیجنڈ اداکار راشد محمود ، معروف ڈرامہ نگار شگفتہ بھٹی ،ینگ ڈرامہ نگار زید بلوچ،نائب صدر اسلم سیال سیکرٹری انفارمیشن سفیان فاروقی،ہارر رائٹر فلک زاہد،ڈبیٹر حفصہ خالد شامل تھیں ۔جبکہ دوسرے کارواں کی قیادت خواتین ونگ کی نائب صدر ریحانہ عثمانی کررہیں تھیں ،ان کے ساتھ ہر دلعزیز شاہین اشرف آپا،دلشاد نسیم ،ثمینہ سید،علیمہ جبیں،نرگس نوراور مریم راشد شامل تھیں۔نمرہ ملک خصوصی طور پر تلہ گنگ سے جبکہ شانیہ چوہدری سیالکوٹ سے تشریف لائیں۔ اس بار سحرش خان ،ثمینہ طاہر بٹ زرش بٹ اور عبداللہ لیاقت کی کمی شدت سے محسوس ہوئی اپووا کے یہ متحرک ممبران اپنی اپنی مصروفیات کی وجہ سے ادبی کانفرنس میں شرکت نہ کر سکے۔

    ہال کے اندر تمام تر چیزوں کو مینج کرنے کی ذمہ داری انچارج سوشل میڈیا ساجدہ چوہدری کے ذمہ تھی۔ جبکہ تقریب کی نقابت کی ذمہ داری راقم نے نبھائی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری عمر دراز خان کی دلسوز تلاوت سے ہوا ۔ جبکہ نعت رسول مقبول اقراء افضل پیش کی ۔ دیگر مہمان گرامی میں ، وفاقی وزیر مملکت تسنیم قریشی ،لیجنڈ اداکار راشد محمود،معروف بزنس مین اور مصنف زبیر انصاری ،اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی،معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ، چیف وارڈن (اسلام آباد) مہر شاہد اقبال، چیف وارڈن (سرگودھا) سائرہ خان، معروف دانشور ہارون رشید،معروف شاعر حیات بھٹی،لیکچرار و شاعرمرتضی حسن شیرازی،پرنسپل لاکالج ظفر اقبال،شاعر ممتاز عارف، معروف ڈرمہ نگار جہانزیب قمر اور شگفتہ بھٹی، ثمینہ گل،منزہ گوئیندی،منزہ احتشام ،نجمہ منصور،جاوید آغا،معروف ڈائجسٹ رائٹر اور مصنفہ نایاب جیلانی اور لیکچرار وشاعرہ ثمینہ سید تھے ۔علمی وادبی شخصیات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ادب کو زندہ رکھنے کی یہ کاوش موجودہ حالات میں بہت اہمیت کی حامل ہے ۔لکھاری کو چاہیے کہ وہ حق اور سچ لکھے۔ ایک لکھاری ہی کسی بھی معاشرے کی اچھائی اور برائی دونوں موضوعات پر روشنی ڈال سکتا ہے ۔اور معاشرے کی مثبت تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں اس نوعیت کی یہ پہلی ادبی کانفرنس ہے۔مقررین کی طرف سے اپووا کے سرپرست اعلی اور بانی و صدر کی فروغِ ادب کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا گیا ۔ دوران تقریب مہمانوں میں ،ایوارڈز،میڈل اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر معروف پنجابی شاعر حیات بھٹی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے آخر میں اپووا کے سنئیرنائب صدر حافظ محمد زاہد نے تقریب میںتشریف لانے پر معزز مہمانوں کاشکریہ ادا کیا ۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیئے کھانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔یوں اپووا ادبی کانفرنس بہت ساری خوبصورت یادوں کے ساتھ ہمارے دلوں میں انمٹ نقوش چھوڑ کر اختتام پذیر ہوگئی ۔

  • سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    پیدائش:20 مئی 1900
    ۔۔۔ Kausani، North-Western
    ۔۔۔ Provinces
    ۔۔۔ برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:28 دسمبر 1977ء
    الٰہ آباد، اتر پردیش، بھارت
    قومیت:Indian
    تعلیم:Hindi Literature
    موضوع:Sanskrit
    اہم اعزازات:پدم بھوشن (1961)
    گیان پیٹھ انعام (1968)

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر تھے۔ وہ 20ویں صدی کے ہندی زبان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور پسند کیے جانے والے شعرا میں سے ہیں۔ وہ رومانی شاعر تھے جنہوں نے فطرت، عوام اور ان کی خوبصورتی کو اپنا موضوع سخن بنایا۔
    پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔
    پنت کی ولادت اتراکھنڈ کے الموڑا ضلع کے کوسانی گاؤں میں ہوئی۔ وہ درمیانی درجہ کے براہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ولادت کے چند گھنٹوں بعد ہی والدہ چل بسیں۔ انھیں پھر کسی سے کبھی لگاؤ نہیں ہوا۔ انھوں نے والد، دادی/نانی یا بھائی سے والہانہ تعلق قائم نہیں کیا اور یہ ان کی تحریروں میں صاف جھلکتا ہے۔ گویاکہ یہی سوچ ان کے شاعر ہونے کا محرک ثابت ہوئی۔ ان کے والد چائے کے ایک باغ میں کام کرتے تھے۔ وہ وہاں منیجر تھے اور زمین میں بھی ان کی شراکت داری تھی۔ پنت گاؤں میں ہی پلے بڑھے اور وہیں سے انھیں فطرت میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور یہی دلچسپی ان کی شاعری کا موضوع بنی۔
    انہوں نے 1918ء میں کوینس کالج بنارس میں داخلہ لیا اور سروجنی نائڈو اور رابندر ناتھ ٹیگور کا مطالعہ شروع کیا۔ ان دو شخصیات نے پنت کو خوب متاثر کیا۔ انھوں کچھ انگریزی رومانی شاعروں کو بھی پڑھا۔ 1919ء میں وہ الہ آباد چلے گئے۔ 1926ء میں ان کا پہلا دیوان پلو شائع ہوا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ برج بھاشا اور گزرے زمانے کی بات ہوگئی۔ اگر شہرت حاصل کرنی ہے تو نئی زبان (ہندی) میں لکھنا ہوگا۔
    ادبی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پنت نے گرچہ ہندی میں لکھنا شروع کیا تھا مگر وہ سنسکرت سے متاثر ہندی لکھتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری اور ڈراما میں کل 28 کتابیں شائع کیں۔ وہ شاعری کے کئی مناہج سے متاثر تھے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    1968ء میں انہیں گیان پیٹھ انعام دیا گیا۔ “کالا اور بوڑھا چاند“ کے لیے انہیں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ انہیں 1961ء میں حکومت ہند نے پدم بھوشن سے نوازا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    28 دسمبر 1977ء کو الہ آباد میں ان کی وفات ہوگئی۔

  • عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    پرندے پالنے والا ایک شخص اپنے پنجرے کا دروازہ کھول دیتا. پرندے ہوا میں اڑنے لگتے وہ انکا بڑا سا پنجرا صاف کرتا پانی اور دانہ ڈالتا اور پرندے سارے واپس پنجرے میں آجاتے. یہ دروازہ بند کر لیتا. میں نے ایک بار پوچھا ان کو یہ عادت کیسے دی.؟ اُس نے بتایا پنجرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے انکا پیٹ نہیں بھرا جاتا. یہ خالی پیٹ جب اڑتے ہیں تو بھوک ان کو یاد دلاتی ہے کہ پیٹ بھرنے کا سامان پنجرے میں ہے. یہ واپس آجاتے ہیں.

    یہی حال ہماری عادتوں کا بھی ہوتا ہے. قرآن شریف میں ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ-سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ(۳۷) یعنی” آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو” جلد بازی کا عنصر ہماری فطرت کا عنصر ہے. ہم اپنے فیصلے فوری نتائج فوری تسکین اور فوری تسلی اطمینان کیلئے کرتے ہیں. اور یہ پھر ہماری عادت بن جاتی ہے.

    عادتوں کے اس حصار کو آپ پنجرا کہہ لیں اسے کمفرٹ زون کہہ لیں یا اپنی شخصیت ہم جب اس کے قابو میں آتے ہیں تو یہ ہم سے صبر اور اپنے نفس کے خلاف مزاحمت چھین لیتی ہے. ہم ان خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں جو وقتی تسکین تو بن سکتی ہیں لیکن دوررس کامیابی نہیں. ہم خود بھی اسے مانتے ہیں لیکن خود سے جیت نہیں سکتے.

    پرندے بھی تیار دانہ چھوڑ کر تلاش کی ہمت چھوڑ دیتے ہیں اسی لئے اس پنجرے کو اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. ہم بھی عادات کی فوری تسکین چھوڑ کر نئی تلاش اور اس کی ہمت و مشقت سے گھبرا کر واپس اپنے حول میں بند ہو کر اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. عادت کے قیدی کے پاس نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہوتا ہے یہ صبر و ہمت کا راستہ ہے.

  • پاکستانی اداکارہ کا  ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    پاکستانی اداکارہ کا ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    ( کسی بھی اداکارہ سے خوبصورتی کا راز پوچھیں تو وہ ہمیشہ ,, اندر کی خوبصورتی اور ڈھیرا سارا پانی بتاتی ہیں ، مجال ہے جو حقیقت بتا دیں ۔ ایک ایسی ہی سلیبرٹی کا انٹرویو پڑھیے )

    *آخر میں اپنے دیکھنے والوں کو اس خوبصورتی کا راز بتانا چاہیں گی ؟
    کوئی راز نہیں ڈئیر

    *نہیں! آپ کے پرستار جاننا چاہتے ہیں ۔

    کوئی خاص راز نہیں، Its peace of mind actually

    *تو کیا باقی لڑکیاں مینٹل ڈس آرڈر کا شکار ہیں یا انھیں مرگی کے دورے پڑتے ہیں؟

    اوہ نو ۔۔۔ ایسا تو نہیں ، ایکچویلی دن میں پندرہ سے بیس گلاس پانی بس۔۔۔

    * یہ پانی جاتا کہاں ہے؟ مطلب بیس گلاس پانی پی کر آپ ہل جل کیسے لیتی ہیں ؟ شوٹنگ کب کرتی ہیں اور لیٹرین کتنی بار جاتی ہیں
    یہ تو مینج کرنے پہ ہے نااا سویٹ ہارٹ

    * کیسے مینج ہوتا ہے، ہماری خواتین آدھا گلاس پانی پی لیں تو تین بار بس رکواتی ہیں ۔ آپ کا پانی بخارات بن کے اڑ جاتا ہے کیا؟

    نو ، نو ایکچوئیلی میں کھانے میں صرف سبزیاں اور دالیں لیتی ہوں بس ۔۔۔۔ اس لیے سکن گلو کرتی ہے۔

    *ادھر شلجم ، گوبھی اور ثابت مسور منہ کو آ جاتی ہیں مگر مجال ہے جو منہ پر رونق آئے ۔ کیا آپ سبزیاں ” Tony & Guy” سے لیتی ہیں؟

    او مائی گاڈ۔۔۔ یہ سب نیچرل بیوٹی ہے ، بالکل قدرتی

    *آپ کی نیچرل ہے تو کیا باقی لڑکیاں پلاسٹک کی بنی ہیں ؟ بتا کیوں نہیں دیتی آپ

    کیا بتاوں ۔۔۔ رئیلی کچھ بھی نہیں لگاتی ، یہ سب انر بیوٹی ہے ڈارلنگ !

    مان لیتی ہوں میم ۔۔۔

    اوکے میری شوٹنگ کا وقت ہوگیا ، چلتی ہوں ۔ بااائے

    *ارے ، ارے ۔۔۔ سنیے ! آپ کا بیگ میرے دوپٹے سے الجھ کر الٹ گیا ہے ، رکیے

    اوہ سوری ۔۔ یہ تو سب چیزیں بکھر گئیں مائی گاڈ

    *کوئی بات نہیں میڈم ، میں اٹھا دیتی ہوں ۔۔۔

    یہ رہا آپ کا مسکارا ، یہ بلش آن ، اور یہ فاونڈیشن، کنسیلر ، فیس پاوڈر ۔۔۔ یہ میز کے نیچے فیس پرائمر ، آئی پرائمر ، لپ گلوس ، آئی شیڈوز’ ہائی لائٹر ، برونزر بھی پڑے ہیں ، یہ لیجیے ۔۔۔ یہ واقعی ” Inner beauty ” ہی ہے کیونکہ پرس سے نکلی ہے ۔

    غازے کی تہہ نے ڈھانپ لیں چہرے کی سلوٹیں،

    تازہ پلاسٹر میں ۔۔۔۔۔۔ عمارت قدیم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!