Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    دور سے اگر آپ زرافہ کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ جانور عجیب ہی لگے گا. چھ فٹ لمبی اگلی ٹانگوں کے پیچھے دونوں ٹانگیں چھوٹی ہیں. اوپر سے گردن مینار پاکستان بنی ہوتی ہے. لیکن اتنی لمبی گردن نہیں کہ زمین کو چھو لے. اس لئے جب زرافہ پانی پیتا ہے تو بے ہنگم انداز میں دونوں ٹانگیں باہر کی طرف پھیلا کر گردن پہلے نیچے لاتا ہے.

    آپ سوچیں گے یہ صبح صبح لالہ کو زرافہ کیوں یاد آگیا.؟ تو وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ بھی زرافہ کی طرح ہی ہوتے ہیں. یہ دوسروں کو جب دیکھتے ہیں تو خود پہاڑ پر بیٹھ جاتے ہوں. کیونکہ دوسروں کو ان کے مسائل کے حل پھر ایسے بتا رہے ہوں گے جیسے پہاڑ پر بیٹھا شخص نیچے والے کو ہدایات دے رہا ہو.

    لیکن یہی شخص اپنے مسائل کو پھر ایسا دیکھتا ہے جیسے وہ مسائل نہ ہوں بلکہ کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ ہو جسے پار کرنا ہے. یہ آپ کو اور خود کو یہ یقین دلائیں گے کہ انکا قد چھوٹا نہیں بلکہ ان کے چیلنج ہی اتنے عظیم ہیں جو یہ ان کو حل نہیں کر پائے.

    آپ کو یقین نہیں تو کسی بھی محفل میں اپنے کچھ مسائل بیان کر کے دیکھیں. سب آپ کو ایسے حل بتائیں گے کہ جیسے ایک چھٹکی بھر مسئلہ ہی تو ہے. ایسے عظیم لوگوں سے بھرا یہ ملک یہ معاشرہ پھر اتنے مسائل کا شکار کیوں ہے.؟ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم سب زرافے ہیں. ہمیں دور کی چیزیں تو نظر آتی ہیں لیکن اپنے قدموں کی گھاس نہیں چر سکتے. ہم سارا دن اپنے ملک ہی کیا دنیا بھر کے بڑے بڑے مسائل کا حل بتاتے ہیں لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل حل نہیں کرسکتے.

    زرافہ کی گردن اگر نیچے نہیں آسکتی تو اسے قدرت نے ایسا بنایا ہے. لیکن ہمارے چراغ تلے جو اندھیرا ہے یہ ہم نے خود تخلیق کیا ہوا ہوتا ہے. دکھاوے کے پہاڑوں سے نیچے اتر کر اگر اپنی زندگی اپنے مسائل کیلئے ہم وقت نکالیں. ان پر بات کریں انکا سامنا کریں یہ پھر پہاڑ جیسے نہیں لگتے.

  • سندھ کےعظیم شاعرشیخ مبارک علی ایاز کا یوم وفات

    سندھ کےعظیم شاعرشیخ مبارک علی ایاز کا یوم وفات

    شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز (پیدئش: 23 مارچ، 1923ء – وفات: 28 دسمبر، 1997ء) سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

    آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ، 1923ء میں شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے "شاہ جو رسالو” کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔

    23 مارچ، 1994ء کو آپ کو ملک سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلال امتیاز 16 اکتوبر، 1994ء کو فیض احمد فیض ایوارڈ ملا۔ شیخ ایاز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے 28 دسمبر، 1997ء کو کراچی میں ہوا۔

    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)نیل کنٹھ اور نیم کے پتے۔ (اردو)
    ۔ (2)الوداعی گیت – الوداعی گيت
    ۔ (3)جو بیجل نے اکھیا (پنجابی)
    نثر
    ۔۔۔۔
    ۔ (1)سفید وحشی (سندھی کہانیاں)
    ۔ (2)جی کاک ککوریا کاپری (سندھی میں خط)
    ۔ (3)جگ مڑوئی سپنو (سوانح عمری)
    ۔ (4)ساھیوال جی ڈائری

  • روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    سرگیئی الیکساندرووچ یسینن روسی (پیدائش: 3 اکتوبر 1895ء – وفات: 27 دسمبر 1925ء) روس کے غنائی شاعر تھے۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یسینن 3 اکتوبر 1895ء کو روسی سلطنت کے صوبے ریازان کے گاؤں کنستن تینووہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کلیسائی استادوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ سرگیئی یسینن سولہ سترہ سال کی عمرمیں پہلی نظمیں لکھیں اور سینٹ پیٹرزبرگ گئے جہاں ان کی ملاقات الکساندر بلوک، گرودیتسکی، کلیوئیف اور دوسرے شاعروں ادیبوں سے ہوئی۔ ڈیڑھ سال انھوں نےسینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اپنے گاؤں واپس آگئے۔

    انھوں نے اپنی خود نوشت میں 1925ء میں لکھا کہ ”انقلاب کے برسوں میں پوری طرح سےانقلاب اکتوبر کی طرف تھا لیکن ہر چیز کو میں نے اپنی طرح سے کسانی رجحانات کے ساتھ قبول کیا۔“

    باکو کے 26 کمیساروں کے بارے میں (جنہیں رجعت پرست انقلاب دشمنوں نے مصالحت کا دھوکا دے کر قتل کر دیا تھا) ان کی نظم یسینن کی بے مثال طبائی کی بہترین مثالوں میں ہے۔ یہ نظم انھوں نے ماورائے قفقاز میں اپنے قیام کے دوران میں لکھی۔

    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ماں کے نام خط
    روس سوویت والا
    الوداع
    خزاں
    میں اپنے گاؤں کا آخری شاعر ہوں
    پوگاچیف
    ایک خاتون کے نام خط
    کالاشخص
    کچلوف کا کتا

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    روس کے غنائی شاعر سرگیئی یسینن 30 سال کی عمر میں 28 دسمبر 1925ء کو لینن گراد (موجودہ سینٹ پیٹرزبرگ)، سویت یونین میں انتقال کر گئے۔

  • پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل
    کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

    پروفیسر سحر انصاری

    27 دسمبر 1941 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب ، نقاد ، ماہرِتعلیم اورمیرے استادِ محترم پروفیسر سحر انصاری 27 دسمبر 1941 کو اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے 1973 میں بلوچستان یونیورسٹی سے بطوراستاد پیشہ وارانہ سرگرمی کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں جامعہ کراچی کے شعبہ تدریس سے وابستگی اختیار کی ۔ پہلی کتاب نمود 1976 میں شایع ہوئی جسے بے حساب پزیرائی حاصل ہوئی۔ خدا سے بات کرتے ہیں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2015 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
    ..
    جانے کیوں رنگ بغاوت نہیں چھپنے پاتا
    ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں
    ..
    صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں
    حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں
    ہجوم اپنی جگہ تاریک جنگل کے درختوں کا
    پرندے پھر بھی شاخ آشیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا
    نشانی یاد رکھتے ہیں نشانہ یاد رکھتے ہیں
    ہم انسانوں سے تو یہ سنگ و خشت بام و در اچھے
    مسافر کب ہوا گھر سے روانہ یاد رکھتے ہیں
    دعائے موسم گل ان کو راس آ ہی نہیں سکتی
    جو شاخ گل کے بدلے تازیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہماری سمت اک موج طرب آئی تو یاد آیا
    کہ کچھ موسم ہمیں بھی غائبانہ یاد رکھتے ہیں
    غرور ان کو اگر رہتا ہے اپنی کامیابی کا
    سحرؔ ہم بھی شکست فاتحانہ یاد رکھتے ہیں

  • افسانہ نویس  و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    قیصر نذیر خاورؔ یکم اگست 1953ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ رہائش انارکلی میں تھی. 1976ء میں پنجاب یونیورسٹی سے جیالوجی اور 1983ء میں پبلک ایڈمنسٹریٹریشن میں ڈگریاں حاصل کیں. اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں ملازم ہوئے اور بطور ڈائریکٹر جنرل (ایجوکیشن) ، او پی ایف ریٹائر ہوئے ۔
    ترقی پسند لٹریچر کی اشاعت کیلئے دوستوں نے مل کر جو ادارہ مکتبہ فکر و دانش قائم کیا تھا، اس کے شرکاء نے اگرچہ الگ الگ کئی ادارے قائم کرلئے لیکن مکتبہ فکرودانش کا نام قیصر نذیر خاور نے زندہ رکھا. اپنی تمام کتابیں اسی ادارے کے نام سے شائع کیں.

    قیصر نذیر خاور کی تخلیقات و تراجم :

    انگولا سے زائر تک ، 1976
    یک سِنگھے ‘ ( بارہ افسانے )، جاپان کے مشہور ادیب ہاروکی موراکامی کے منتخب افسانوں کے اردو تراجم 2012
    حکایات ِ عالم‘ ( 101 حکایات کا انتخاب اور اردو ترجمہ، 2018ء،
    ۔جولیٹ اور دیگر کہانیاں، (نوبل انعام یافتہ ادیبہ ایلس منرو کے دس منتخب افسانوں کا ترجمہ، 2018ء،

    ۔عالمی ادب سے ایک انتخاب ، ( دنیا بھر سے 25 منتخب ادیبوں کے تعارف کے ساتھ ان کے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ 2018ء،

    ۔عالمی ادب اور افسانچہ، (196 افسانچے)، 2018ء،

    ۔”دوسری نسل کا المیہ”، برناڈ شیلنک (Bernhard Schlink) کے جرمن ناول Der Vorlese اور پر مبنی فلم The readerکے اسکرپٹ کا ترجمہ 2019ء

    ۔”وارفکشن: سرحد کے آس پاس کہیں اور دیگر افسانے”، (منتخب افسانوں کےاردو تراجم اور طبع زاد تحریریں) ، 2019ء،
    ۔”اپنی محفل سے مت نکال ہمیں”، کازُوا اِشیگورو کے ناول Never Let Me Go کا اردو ترجمہ اور مضامین، 2020ء،

    "جھوٹ کی سرزمین اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب 28 افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "انجان نگر میں کھلی کھڑکی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "مچھلیوں کی خودکشی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ)، 2020ء

    "کیوں ھوئے خوار و زبوں”، جے ایشر (Jay Asher) کے ناول THIRTEEN REASONS WHY کا اردو ترجمہ، 2020ء،
    کلب نا آفریدہ ( کامریڈ کلب علی شیخ کے مضامین )، 2021ء

    "انُوکل اور دیگر کہانیاں”، مصنف: ستیہ جِت رے، قیصر نذیر خاور، 2021ء
    "دی فادر ، دی سَن اینڈ دی ہولی گھوسٹ”، (طبع زاد ناولٹ) 2022ء

    "ادھ کھلے دریچے”، (طبع زاد ناولٹ)، 2022ء
    "فائٹ کلب ” ، فینش ادب: افسانے، شاعری، بچوں کی کہانیاں ، (Finland Literature) ، قیصر نذیر خاور، غلام حسین غازی 2022ء

  • تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب  کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    معروف شاعرہ شبینہ ادیب 27 دسمبر 1974ء کو کانپور، اترپردیش میں عزیز احمد اور ریبو بیگم کے ہاں پیدا ہوئیں ان کی شادی جوہر کان پوری سے ہوئی ان کے ہاں ایک بیٹی طوبیٰ جوہر پیدا ہوئی ان کی تصنیف میں تم میرے پاس رہو“ (شعری مجموعہ) شامل ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں اُلفت نئی نئی ہے
    ابھی تکلف ہے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ہے

    ابھی نہ آئے گی نیند تمکو، ابھی نہ ہمکو سکوں ملے گا
    ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے

    بہار کا آج پہلا دن ہے، چلوچمن میں ٹہل کے آئیں
    فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوںمیں رنگت نئی نئی ہے

    جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    ذرا سا قدرت نے کیا نوازا، کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں
    ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے

    بموں کی برسات ہو رہی ہے،پُرانے جانباز سو رہے ہیں
    غلام دُنیا کو کر رہاہے، وہ جسکی طاقت نئی نئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارا چہرہ چراغوں میں کون رکھتا ہے
    مری طرح تمہیں آنکھوں میں کون رکھتا ہے

    خدا کی ذات پہ ہم کو یقین ہے ورنہ
    دئیے جلاکے ہواؤں میں کون رکھتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیر کے معروف شاعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا یوم ولادت

    برصغیر کے معروف شاعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا یوم ولادت

    بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام ہوگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب مصطفے خان شیفتہ

    مصطفٰی خان شیفتہ ( پیدائش:27 دسمبر 1809ء دہلی، وفات:11 جولا‎ئی 1869ء) جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھوں نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857ء میں باغیوں کے لوٹا اور آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندوستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا ”جرم“ معاف ہوگیا اور پنشن مقرر ہوئی۔

    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد میں نواب اسحاق خان بیٹے اور نواب محمد اسماعیل خان پوتے تھے۔ جو 1883ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے بار ایٹ لا کیا اور وطن واپس آ گئے۔ نواب محمد اسماعیل خان تحریک خلافت میں بھی شریک رہے اور یوپی خلافت کانفرنس کے چیف آرگنائزر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    گلشنِ بے خار
    تقریظ: غالب پر تعریفی تنقید

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
    دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

    اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
    یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

    جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
    کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

    ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
    بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

    شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
    اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

    بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
    یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے

    ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
    جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

    فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ
    بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے

    آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ
    طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں

    کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر
    کیا کوئی اور ستم یاد آیا

    دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو
    چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو

    اڑتی سی شیفتہؔ کی خبر کچھ سنی ہے آج
    لیکن خدا کرے یہ خبر معتبر نہ ہو

    شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
    جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں

    اے تاب برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
    کچھ رہ گئے ہیں خار و خس آشیاں ہنوز

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم
    سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم
    تا دل کینہ ور میں پائیں جگہ
    خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
    وہ تو سو بار اختیار میں آئے
    پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
    کب ہوئے خار راہ غیر بھلا
    کیوں کھٹکتے ہیں چشم یار میں ہم
    کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
    آمد و رفت بار بار میں ہم
    نعش پر تو خدا کے واسطے آ
    مر گئے تیرے انتظار میں ہم
    گر نہیں شیفتہؔ خیال فراق
    کیوں تڑپتے ہیں وصل یار میں ہم

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل لیا جس نے بے وفائی کی
    رسم ہے کیا یہ دل ربائی کی
    تذکرہ صلح غیر کا نہ کرو
    بات اچھی نہیں لڑائی کی
    تم کو اندیشۂ گرفتاری
    یاں توقع نہیں رہائی کی
    وصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ
    مجھ کو طاقت نہیں جدائی کی
    دل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے
    کس کو ہے لاف دل ربائی کی
    ایک دن تیرے گھر میں آنا ہے
    بخت و طالع نے گر رسائی کی
    دل لگایا تو ناصحوں کو کیا
    بات جو اپنے جی میں آئی کی
    شیفتہؔ وہ کہ جس نے ساری عمر
    دین داری و پارسائی کی
    آخر کار مے پرست ہوا
    شان ہے اس کی کبریائی کی

  • معروف شاعرہ صائمہ الماس مسرو کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ صائمہ الماس مسرو کا یوم پیدائش

    صائمہ منزلوں کی خواہش بھی
    راہ کا خم ہے اور کیا مانگوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ. نثرنگار،افسانہ افسانہ نگار اور کالم نویس صائمہ الماس 27دسمبر 1977ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ان کا قلمی نام صائمہ الماس مسرو ہے ان کی تصنیفات میں دکھ بولتے ہیں، اکھیوں اوہلے، کون کہاوے دو، لوگ کیا کہیں گے، محبت بھیک میں دے دو شامل ہیں-

    غزل
    ۔۔۔۔۔

    ترے رخ کی تلاوت ہو
    تو دل کی پوری حاجت ہو
    یہی میری حقیقت ہے
    کہ تم میری حقیقت ہو
    محبت بھی عبادت ہے
    بشرطیکہ عبادت ہو
    ہماری آنکھ ہے مجرم
    کہ تم بھی خوبصورت ہو
    غزل الماس کی ہو تم
    مری زندہ کرامت ہو

    غزل
    ۔۔۔۔
    آنکھ پُرنم ہے اور کیا مانگوں
    یہ عطا کم ہے ؟ اور کیا مانگوں
    زندگی ، زندگی بنانے کو
    آپ کا غم ہے اور کیا مانگوں
    نیند سے مالا ہوں جس میں
    رتجگا ضم ہے اور کیا مانگوں
    شورشِ جسم و جان سے پہلے
    ہٗو کا عالم ہے اور کیا مانگوں
    صائمہ منزلوں کی خواہش بھی
    راہ کا خم ہے اور کیا مانگوں

    اشعار
    ۔۔۔۔
    لبوں کو پیاس نے گھیرا ہوا ہے
    اسی احساس نے گھیرا ہوا ہے

    ملا ہے حکمِ ہجرت جب سے ان کو
    مجھے بن باس نے گھیرا ہوا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    تجھ سے جب رابطہ نہیں ہوتا
    چین جی کو ذرا نہیں ہوتا

    جان جاؤگے چوٹ لگنے پر
    درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

    نظم
    ۔۔۔۔
    گزارش
    ۔۔۔۔۔۔
    میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو
    بہت بیزار کرتا ہے
    تمھارا اس طرح کاغذ کے سینے پر ابھر آنا
    مرے لفظوں کے آنگن پر ترے بادل کا سایہ ہے
    میں لفظ ہجر لکھوں تو یہ دنیا وصل پڑھتی ہے
    جو لفظِ خواب لکھوں تو مجھے لگتا ہے کاغذ پر
    تمھاری آنکھ رکھی ہے
    پسِ معنی کسی عنواں میں تیرا تذکرہ آئے
    تو سر تا پا

  • برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    مرزا غالب

    تاریخ ولادت:27 دسمبر 1797ء
    تاریخ وفات:15 فروری 1869ء

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا۔

    غالب اور عہدِ غالب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر مولا بخش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غالب کے متن سے معاملہ کرنے والے کئی نقادوں کو اس امر کی شکایت ہے کہ غالب کے اشعار یہ نہیں بتاتے کہ وہ کس عہد میں لکھے گئے ہیں۔یہ سوال کرنے سے پہلے ہمیں ذرا غالب نے جس صنف سے معاملہ کیاہے اس کی فطرت کو بھی دیکھ لینا چاہئے۔کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ غزل کے اشعار میں روح عصر اس طرح سے واضح طور پر نظر نہیں آسکتی جس طرح ہمیں کسی نظم ،افسانے،ناول،مکتوب وغیرہ میں یا خاکہ یا مرثیہ اور مثنوی میں نظر آتی ہے۔غزل کے دو مصرعوں میں پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ ان اشعار میں اگر زمانے کو پیش کرنا ضروری بھی ہو جائے تو وہ زمانہ مثلاً ماضی یا مستقبل یا حال نقلی حال بناکر پیش کیاجاتاہے تاکہ پڑھنے والا ہر زمانے میں اسے اپنے زمانے کا مسئلہ سمجھے۔اس کے باوجود غزل کی شاعری کی داخلی ساخت میں اترنے کے بعد شاعر کا عہد اور اس عہد کے سوالات اور مسائل کا نظارہ کیاجاسکتاہے۔

    غالب کی شاعری میں ان امور سے متعلق انکشاف کے لیے حددرجہ ذہین قاری کی ضرورت ہے ادب کا رشتہ شاعر یا ادیب کے عہد سے جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ادب تخلیق کرنے والے ادیب اپنے عہد سے آنکھیں بچا کر ادب کی تخلیق نہیں کر سکتے، لیکن یہ بھی اتنا ہی بڑا سچ ہے کہ آج جو با معنی ہے وہ ادب کل بھی اتنا ہی با معنی ہوگا اس کی گارنٹی کون دے سکتاہے؟اسی لیے مکمل طور پر ادیب اگر اپنے عہد کی ترجمانی کرنے لگ جائیں تو یہ ضرور ہے کہ ادب اور صحافت میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

    اس لیے بڑے شعرا اور ادیب یہ جانتے ہیں کہ ایک عہد کا محاورہ دوسرے عہد سے میل نہیں کھاتا۔اس لیے وہ اپنے فن پاروں کو دوسرے عہد میں بھی اتنے ہی بامعنی بنانے کے جتن سے واقف ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غالب اپنے عہد میں جتنے بامعنی تھے یا نہ تھے آج اس سے کہیں زیادہ بامعنی ہیں یا نہیں ہیں؟ اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بات وہی ہے کہ اگر اپنے عہد کی تصویر کے ساتھ ساتھ ادیب اپنا ایک منفرد عہد بھی خلق کرتاہے تو وہ ہر زمانے میں اپنی معنویت بر قرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔غالب اردو میں کچھ اسی طرح کے جتن کے ذریعے ہر عہد میں مقبول اور مشہور شاعر کے روپ میں زندہ ہیں۔غالب کو یہ احساس تھا کہ وہ صرف اپنے عہد کے شاعر نہیں ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ اپنے عہد کے شاعر کے طور پر خود کو پیش کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔اسی لیے تو انہوں نے برملا طور پر یہ کہا تھا:

    ہوں گرمیٔ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
    میں عندلیبِ گلشن نا آفریدہ ہوں
    میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
    لیکن عبث کہ شبنم خورشید دیدہ ہوں

    اگر پہلے شعر پر غور کریں تو اعلان کیا ہے کہ یہ ایک ایسے انسان کی شاعری ہے جس کا زمانہ ابھی پیدا نہیں ہوا ہے یعنی یہ مستقبل کی شاعری ہے۔ دوسرے شعر میں ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کی ہے جو اہل نظر ہے اور آگاہ ہے۔لیکن اس کا کیا کیجیے کہ یہ دنیا جادو کی پوٹلی ہے جسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔تس پر ستم یہ کہ اس پر غور کرنے کی عمر ایسی ملی ہے جیسے سورج کسی شبنم کے قطرے کو دیکھنا چاہے۔ظاہر ہے کہ سورج نکلتے ہی شبنم کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ شاعر جس عہد میں جی رہا ہے اُسے پوری طرح سے سمجھنا اس کے لیے کتنا مشکل ہے۔ ادب اور عہد کے رشتے پر غور کرنے والوں نے ان امور سے صرف نظر کیاہے۔

    بڑے ادیب جانتے ہیں کہ ایک ہی عہد میں کئی عہد ہوتے ہیں اور تاریخ کے اندر بھی کئی تاریخیں ہوتی ہیں جسے فوق التاریخ کا نام دیاگیاہے۔غالب کی نگاہ اس حقیقت پر ہے۔وہ ماضی،حال اور مستقبل پر یکساں طور پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ان کے نزدیک ان میں سے کوئی اہم یا غیر اہم نہیں ہے۔ہاں! وہ ان تینوں زمانوں کے نقائص کا احساس رکھتے ہیں اور ان تینوں زمانوں سے نباہ کرنے کا منفرد زاویۂ نظر بھی رکھتے ہیں۔

    غالب اپنے ماضی کے ورثے کے قائل تھے لیکن جو اچھی قدریں تھیں انھیں وہ اپناتے نظر آتے ہیں اوربری قدروں کو رد بھی کرتے ہیں جیسے اپنے سے پہلے کے شعرا کو جس قدر وہ عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ جگ ظاہر ہے:

    ریختے کہ تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    اتنا ہی نہیں وہ مشرقی تہذیب کے زوال کی طرف بھی نگاہ رکھتے ہیں اور زوال کے اس منظر کو دیکھ کرکڑھتے نظر آتے ہیں لیکن آخر کار وہ زمانے کی رو کو اور تبدیلی کی فطرت کو تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔ایسے میں وہ کہتے ہیں:

    وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
    اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خواب سحر گئی
    دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
    آگ اس گھر کو لگی ایسی، کہ جو تھا جل گیا

    ان اشعار کے معنی اخذ کرتے وقت قاری کا دھیان غالب کے عہد کے اجتماعی دکھ اور مغلیہ تہذیب کے زوال کی طرف بھی جاتاہے۔ بہرصورت غالب بھی اس جاگیردارانہ بلکہ آمرانہ نظام کا ایک حصہ تھے۔انہیں انگریزوں سے باضابطہ پنشن ملا کرتاتھا جو بعد کے ادوارمیں بند ہو جانے کے بعد غالب نے تقریباً دو دہائیوں تک پنشن کا مقدمہ لڑا اور باضابطہ ہار بھی گئے۔ایک ایسا شخص جس نے عیش و عشرت کی راتیں اور حسیں قہقہوں کے دن گزارے ہوں، وہ یہ کیونکر نہ کہے کہ ‘وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں’ اور اپنے دل کو کیونکر اس طرح نہ سمجھا لے کہ چلیے زمانے کا یہی دستور ہے۔ ع

    ہد غالب میں طرز حکومت کے بدلنے اور ایک نئی قوم انگریز کی آمد نے ہر کس و ناکس کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا۔پرانی تہذیبی قدریں Cultural Values شطرنج کے مہروں کی طرح باری باری پٹتی چلی جا رہی تھیں۔انگریزوں کے لائے ہوئے صنعتی انقلاب کی وجہ سے نیا اخلاقی نظام مرتب ہو رہاتھا۔ایسے میں مشرقی تہذیب کے دلدادہ اشخاص اور کیاکہہ سکتے تھے اس کے سوا کہ ‘آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔’ یعنی ایک طرف تو وہ میر سے منسوب اپنے ماضی کی قدروں کے دلدادہ معلوم ہوتے ہیں تودوسری طرف وہ سر سید کی کتاب ‘آئین اکبری’ کی تقریظ لکھتے ہوئے ماضی کے اس ورثے کے تحفظ کے رویے کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ مردہ پروری کوئی مبارک کام نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے ‘آثار الصنادید’ کے ذریعے اپنے ماضی کے ورثہ کو محفوظ کرنے کے سرسید کے جذبے کو سراہا بھی تھا، کیونکہ اس کتاب کے ذریعے مستقبل کے منصوبے تیار کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔

    دہلی کالج کے قیام کے بعد مغربی سائنس کے اصولوں کے عام ہونے کے اثرات غالب پر کیوں کر مرتب ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ظاہر ہوا کہ فن کار اپنے عہد کی تعمیر ماضی کے ورثے کے عیب و نقائص پر نگاہ رکھتے ہوئے ان میں سے کچھ کو رد تو کچھ کو قبول کرتے ہوئے کرتاہے۔اس طرح وہ اپنے عہد کی مخلوق کے ساتھ ساتھ خالق بھی بن جاتاہے۔

    اگر غالب کی سوانح کا ترتیب وار ذکر کیاجائے تو اس کے ذریعے عہد غالب کی سیاسی،ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی صورتحال ہمارے سامنے آجائے گی۔ ان کے خطوط میں ان کی زندگی اور اپنے عہد کے حالات زیادہ مذکور ہوئے ہیں لیکن یہاں ان کے حوالے نہیں دیے جارہے ہیں۔

    مرزا کا آنا جانا دہلی میں اس وقت شروع ہوا جب شاہ عالم ثانی کی آنکھیں غلام قادر روہیلہ نے پھوڑ دی تھیں۔ شاہ عالم سندھیاکے چنگل میں تھے ۔انگریز لارڈ ویلزلی نے بادشاہ کو اس چنگل سے چھڑانے کی پیش کش کی۔1803میں انگریزی فوج قلعے میں داخل ہوئی۔جنرل آکٹر لونی دہلی میں انگریز ریذیڈنٹ مقرر ہوا۔بادشاہ پنشن دار ہو گیا۔1806میں اکبر شاہ ثانی تخت نشیں ہوئے اور اکتیس سال حکومت کی،وہ بھی انگریزوں کے پنشن دار تھے۔ہاکنس ریزیڈنٹ مقرر ہوا مگر چوں کہ وہ گھمنڈی تھا اس لیے ایک معاملہ فہم ریذیڈنٹ ولیم فریزر مقرر کیاگیا۔یہ وہی ریذیڈنٹ ہے جو نو اب شمس الدین خاں کے خلاف غالب کے پنشن کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی تھی۔

    اس کے مارے جانے کے بعد مٹکاف ریزیڈنٹ مقرر ہوا۔یہ اور ان جیسے دیگر انگریزوں کی آئیڈیولوجی یہ تھی کہ خدا نے ہندوستانیوں کی حالت سدھارنے کے لیے انہیں ہندوستان بھیجا ہے، یعنی ہم لوگ نجات دہندہ ہیں۔راجہ رام موہن رائے اور بعد میں سر سید نے بھی انگریزی راج کو اپنے لیے باعث ترقی سمجھا۔انگریزی تعلیم کی وکالت کے پیچھے میں یہی تصور پوشیدہ تھا۔اس وقت کے انگریز حاکم کو فارسی زبان و ادب سے خاص شوق ہوتا تھا اور اس لحاظ سے غالب کی ان دنوں ایسے افسروں کے نزدیک بڑی قدر تھی۔پھر غالب قدامت پرستی کے بجائے جدت پسندی میں یقین رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے بنیادی اصولوں کا خیر مقدم کیا۔

    غالب کے خسر مرزا الٰہی بخش کا انگریزوں میں اثر و رسوخ جگ ظاہر تھا جس کے توسط سے غالب کی راہ و رسم بھی اونچے طبقے سے پیدا ہوئی۔سبھی جانتے ہیں کہ غالب نے آگرہ میں گیارہ سال کی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کر دیاتھا او بیدل کی پیروی میں حد درجہ مشکل گو ثابت ہوئے تھے، لیکن جب وہاں پہنچے تو مولوی فضل حق خیر آبادی کے مشورے کے مطابق طرز بیدل کو چھوڑ کر سلیس اور صاف شعر کہنے لگے۔ لیکن یہ صرف ایک قصہ ہے۔سچ تو یہ ہے کہ غالب نے نہ طرز بیدل کو چھوڑا نہ روش عام سے ہٹ کر شعر کہنے کا طریقہ چھوڑا۔ بلکہ وہ حسب ضرورت غزل میں زبان کو بطور رجسٹر استعمال کرنے لگے۔ یعنی جہاں فارسی آمیز،طویل اضافتوں والی اردو کی ضرورت تھی ،وہاں انہوں نے اخیر عمر تک وہی انداز برقرار رکھا اور جہاں تخیل پر جذبے نے قابو پالیا وہاں اردو کا وہ رجسٹر سامنے آگیا جسے میرؔ نے اپنے مصرعے سے واضح کیا تھا۔ غالب میر کے اسی فقرے ‘‘پر مجھے گفتگو عوام سے ہے’’ والی زبان میں شعر کہنے کی روش اختیار کرنی شروع کر دی۔

    اس عہد کی ایک اہم اور انقلابی تحریک وہابی تحریک تھی جس کا مقصد انگریزوں کو ہندوستان کی مقدس دھرتی سے نکال باہر کرنا تھا۔غالب کا اس تحریک سے براہ راست کوئی رشتہ تو نہ تھا لیکن اس تحریک سے وابستہ بہت سے اشخاص سے ان کی راہ و رسم تھی۔ اس تحریک کا اثر غالب کی شاعری میں بھی تلاش کیا جا سکتاہے۔1857کی تباہی اور اس کے بعد کی صورتحال کے اشارے بھی غالب کی شاعری میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔لیکن غالب تو بقول خورشید الاسلام :

    ‘‘گویا بچپن میں غالب،مغلوں،مرہٹوں اور انگریزوں کی مربیانہ توجہ سے بالواسطہ فیضیاب رہے۔غالباً ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی ہوگی کہ مغل بادشا ہ ہے اور نہیں بھی ہے۔مرہٹہ مغلوں کا نائب ہے اور حاکم بھی ہے۔انگریز مسلمان نہیں،ہندو نہیں،لیکن دہلی پر حکومت کرتاہے اور میرے خاندان کے بزرگ ہر طاقت کے ساتھ ہیں۔اور سچ پوچھو تو کسی کے ساتھ بھی نہیں۔ممکن ہے انہوں نے کسی فقیر کو استاد نظیر کا یہ بند گاتے سنا ہو،اور اس سے اپنے زمانہ کی سیاست کا بھید پا گئے ہوں:

    کپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے
    لمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے
    باندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے
    سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے
    جتنے ہیں، روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں

    خورشید الاسلام نے غالب کے زمانے یا عہد کو کلی طور پر پیش کیاہے۔نظیر کی شاعری نے بھی کیونکر غالب کو ان کے اپنے عہد کے سمجھنے میں اہم رول ادا کیاتھا یا کیا ہوگا،اس بابت خورشید الاسلام کی توضیح قابل داد ہے۔
    پروفیسر محمد حسن نے اپنے مضمون ‘دو غالب’ میں ظاہر ہے ایک غالب تو اسی کو قرار دیا ہے جس کا نام اسد اللہ خاں تھا اور جس کے باپ کا نام عبد اللہ بیگ اور چچا نصر اللہ بیگ فوجی سردار تھے۔اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے غالب بھی بین السطو ر میں جھانکتے ہیں۔محمد حسن لکھتے ہیں کہ:

    ”یہ دوسرا غالبؔ کہیں روح عصر تو نہیں؟بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر لمحہ سہ جہتی ہوتاہے ایک شخصی واردات کا درجہ رکھتاہے دوسرا سماجی یا اجتماعی شعور کی جہت تیسرا عصری زندگی کے سیل رواں کا حصہ ہوتاہے۔غالبؔ نے جب آنکھ کھولی تو انقلاب فرانس دنیا کو تہہ و بالا کر چکا تھا۔نپولین کی گھن گرج ٹیپو سلطان تک پہنچ چکی تھی جو اپنے شہنشاہ کی جگہCITIZENکہنے لگا تھا۔سائنس اور فکرنئی منزلیں پا رہے تھے، ورڈورزتھ اور شیلے کی آوازیں نغمے بکھیر چکی تھیں (محمد حسن،نصرت پبلشرز،لکھنؤ 1977،ص:15)

    یہ تو تصویر تھی اس وقت کی دلی اور وہاں کی ادبی کہکشاؤں کی ۔ اب زمانے کی ہوا کیونکر چلی اور کیا کیا بدل گیا، یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ مرزا غالب اپنے عہد کے دوسرے افراد کی طرح اپنے طبقے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔یعنی وہ طبقاتی افتراق میں یقین رکھتے ہیں لیکن انہیں ایسا کرتے ہوئے بھی یہ احساس ہے کہ یہ سب کچھ آگے چل کر بہت جلد ختم ہو جائے گا۔غالب کی زندگی ہی کیا ہندوستان کی تاریخ میں1857کی جنگ آزادی جسے انگریزوں نے غدر سے عبارت کیا،ایک ایسے طوفان سے عبارت کی جا سکتی ہے جس نے ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی میں تبدیلیوں کی ایک لہر پیدا کر دی۔محمد حسن نے اپنے دوسرے مضمون’’غالب اور جدید ذہن‘‘میں لکھا ہے کہ:

    ‘‘غدر1857کوغالب نے رستخیز بیجا کہا اور وہ اس رستخیز کے قلزم خون سے گزرے۔ اس دور کی پوری خونخواری، درندگی اور تباہی کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور ہر لمحہ دل خون کیا۔ مگر ان واقعات کی تصویریں ان کی شاعری میں بہت بھونڈی ہیں البتہ ان کے مکاتیب نہایت خوبصورت اور پر تاثیر ہیں۔اس آشوب سے جو کچھ کرب انہیں ملا وہ غزل میں کسی اور عنوان میں ڈھل گیا۔ان کی شاعری ان کے دور ہی کی نہیں آنے والے ادوار کی زبان بن گئی۔’’ (محمد حسن، نصرت پبلشرز، لکھنؤ 1977، ص 84)

    پروفیسر محمد حسن نے دبی زبان سے ہی سہی، یہاں غالب کے متن کا اپنے عہد سے رشتے کے منقطع ہونے کا شکوہ کیاہے۔یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے۔غالب کے یہاں عصر کی روح کی پیش کش بہت واضح طور پر ہے، بلکہ وہ متن کی زیریں ساخت میں موجود ہے،جسے کرید کر قاری بر آمد کر سکتاہے۔پروفیسر عتیق اللہ نے لکھا ہے:

    ”غالب کوئی مشن لے کر نہیں چلے تھے ان کی وسیع المشربی صوفیا کی تعلیمات کے توسط ہی سے نہیں بلکہ عام شعری رویے کے تحت ان کے ضمیر کی آواز تھی۔مردہ پروری کو نامبارک قرار دینے،درس نظامی کے روایتی ضوابط کو نشان زد کرنے،نئے ذریعہ ابلاغ و ترسیل نیز آرام و آسائش مہیا کرنے والی سہولتوں اور تکنیکی وسائل کی اجرا کاری میں انہیں یقینا ترغیبات کاایک جہان موجزن نظر آیاتھا۔

    لیکن اس نئے منظر نامے سے وہ کوئی ایسا تصور نہیں قائم کر سکےجو نئی نسل میں نیا طرز احساس پیدا کرنے کا سامان مہیا کرتا۔ ‘انکار ’ کے رویے پر کاربند ہونے کے باجود غالب کا باغیانہ شعور پوری طرح نہ تو پروان چڑھ سکا اور نہ ان کے قویٰ میں اتنی جولانی تھی کہ اپنے خیالات کو تحریک میں بدلنے کے لیے کوئی عملی راہ اختیار کرتے۔“

    (بیانات،عتیق اللہ،کتابی دنیا،2011،ص:43,46,47)
    اس عبارت کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ خواجہ منظور حسین نے غالب کے دیوان سے ایسے بہت سے اشعار پیش کیے ہیں جن میں غالب اپنے عہد کی آئیڈیولوجی کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں لیکن آفتاب احمد خاں نے ان کے اس خیال سے اتفاق نہیں کیاہے۔بات یہ نہیں ہے کہ کسی شاعر کے یہاں اپنے عہد کی خبر نظم ہو جائے۔غالب کو معلوم تھا کہ خبر اور شاعری میں فرق ہے۔غزل کے شعر سے اس طرح کی امید بھی بہت زیادہ صائب نہیں ہے۔جب عہد ہی بجائے خود ایک تہہ دار متن ہو تو اس کی پیش کش کے طریقے بھی حد درجہ رمزیہ ہو سکتے ہیں۔ہمارے نقاد اس حقیقت پر نگاہ نہیں رکھتے۔

    غالب نے اپنے دیوان میں ایسے بے شمار اشعار کہے ہیں جو ان کے عہد اور ان کی ذاتی زندگی کو آفاقی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے شہزادہ سلیم کا قصیدہ اس امید پر لکھا کہ شاید شہزادہ سلیم ہی ہندوستان کا بادشاہ بنیں گے۔ظفر زندگی بھر غالب سے خفا رہے اور جب ظفر سے ان کی وابستگی بعد کے زمانوں میں ہوئی توانہوں نے ایک قصیدہ میں ذوق کی غزل سرائی پر کچھ تیکھے تبصرے کر دیے اور ظفر کو یہ سب کچھ اچھا نہیں لگا اور غالب نے مندرجہ ذیل شعر میں جس کی معذرت چاہی:

    استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
    یہ تاب ، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
    سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
    کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

    ان اشعار کے سیاق و سباق سے واقف قاری یہ اندازہ کر سکتاہے کہ شعرا اپنے عہد کے حکمرانوں کی وجہ سے کہاں کہاں اپنی انا سے سمجھوتہ کرتے تھے۔غالب نے اس معذرت میں بھی اپنی شان برقرار رکھی ہے۔شاہ سے معذرت کرتے ہوئے بھی انہوں نے دوسرے شعر میں یہ کہہ کر کہ وہ بہادر سپاہیوں کی اولاد میں سے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ اس کی عزت صرف شاعری کی وجہ سے ہو،اپنے اندر کی ٹوٹتی ہوئی انا کو مجتمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کے مندرجہ ذیل اشعار ان کی ذاتی زندگی اور اس عہد کے انسانوں کی نفسیات کو پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

    غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
    پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہ تاب میں
    غالب وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
    وہ دن گئے کہ کہتے تھے’’نوکر نہیں ہوں میں‘‘
    غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
    روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟
    لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی
    ہوس سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو
    زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
    ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
    ہوا ہے شہہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
    وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
    نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے
    تجھ سے جو اتنی ارادت ہے وہ کس بات سے ہے
    اور میں وہ ہوں کہ گرجی میں کبھی غور کروں
    غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے

    مذکورہ بالا اشعار صرف آپ بیتی نہیں ہیں بلکہ کسی عہد میں ایک حساس انسان یا فرد اپنے زمانے کی اتھارٹی (Authority) سے کہاں کہاں سمجھوتے کرتاہے،اپنی انا کو برقرار رکھتاہے،اس کی کہانی ان اشعار میں در آئی ہے۔کسی بھی عہد میں فرد کی نا قدری کا خاص طور سے اس فرد کا جو حساس اور فن کار ہو،اس کا دل کیونکر خون کے آنسو روتاہے،اس درد کو غالب کے اس شعر میں محسوس کیاجاسکتاہے جس میں انہوں نے ’غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں‘جیسا خیال قلم بند کیاہے۔کیا کسی انسان کے نہیں ہونے سے اس دنیا کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگتی؟اگر ایسا ہے تو کیوں؟کیا یہ مستحسن ہے،کیا جیتے جاگتے انسان کے اتنے ہی معنی ہیں کہ جب وہ نہ رہے تو اس کی کمی کا احساس تک نہ ہو؟ یہ اور ان جیسے بہت سے دکھوں کا ذکر غالب کی شاعری میں نجی واردات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ مثلاً اس ذیل میں یہ شعر بھی روح عصر کو بڑی صفائی سے ہمارے سامنے رکھتے ہیں:

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے، پہ بدنام بہت ہے
    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    جو لوگ غالب کی سوانح سے واقف ہیں انہیں پہلا شعر سمجھتے دیر نہیں لگے گی۔اپنی ہی سوانح کے ذریعے غالب نے ایک آفاقی صداقت بھی بیان کر دی ہے۔شاعر ہونا الگ بات ہے اور اچھا انسان ہونا الگ بات۔غالب اپنے عہد کا ایک ایسا فرد ہے جو جاگیردارانہ سماج کی لاش پر بیٹھا رو رہاہے۔صنعتی انقلاب کی تیز دھمک نے ملکیوں کو کیونکر طرح طرح کے قرضوں کی طرف دھکیل دیاتھا، یہ سب کچھ اس عہد کی تاریخ کے حوالے ہو چکاتھا۔یہاں غالب نام کے کسی ایسے فرد کا بھی ذکر ہے جو شراب کے لیے بھی قرض لیتا تھا۔ انسان چاہے جس سطح پہ بھی جی رہاہو اچھے دنوں کے آنے کی امید اس کی سرشت میں شامل ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
    کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
    صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
    جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
    سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
    آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
    مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
    بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
    آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
    موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
    شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
    دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
    لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
    نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
    خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
    پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
    وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
    جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
    قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
    آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
    تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
    اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل
    سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
    معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار
    چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
    حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار
    سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
    ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
    نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
    کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام
    پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
    تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
    دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
    دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ
    مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
    خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
    دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
    سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
    ترے سرو قامت سے اک قد آدم
    قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
    تماشا کہ اے محو آئینہ داری
    تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
    سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
    کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
    بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
    تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
    کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
    کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
    خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
    مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

  • ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال،صحافی، مصنف یشپال ضلع کانگرا میں 03 دسمبر 1903ء میں پیدا ہوئے، یشپال ہندی کے مارکسی ناول نگار مانے جاتے ہیں۔ ادب کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے وہ ایک انقلابی تنظیم سے وابستہ تھے۔ ان کے ابتدائی ناولوں میں انقلابی رحجان کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ یشپال کے ناول تین رحجانات کے حامل ہیں۔ ”دادا کامریڈ“ رومانی انداز کا ناول ہے۔ اس کے کردار جذباتی اور تخیل پسند ہیں۔ اسے ہندی کا ایسا پہلا ناول قرار دیا گیا ہے جس میں سیاست اور رومانیت کا امتزاج ہے۔ دوسرا رحجان سماجی حقیقت نگاری کا ہے۔

    ”دیش دروہی“، ”دبیا“ اور ”پارٹی کامریڈ“ سماجی حقیقت نگاری کے ناول ہیں۔ ان میں ایسے سماج کی تمنا کی گئی ہے جس میں لوگ طبقوں میں بٹے ہوئے نہ ہوں۔ اس طرح کے ناولوں میں متوسط طبقے کی تصویر ملتی ہے۔ تیسرا رحجان فطرت پسندی کا ہے۔ ”منش کے روپ“ میں یشپال فطر پسندی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ ”پرتشٹھا کا بوجھ“ اور ”دھرم رکھشا“ یشپال کی ایسی کہانیاں ہیں جن میں فطرت پسندی کی طرف جھکاؤ ملتا ہے۔ لیکن یشپال کے جس ناول کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ "جھوٹا سچ” ہے۔ اس ناول میں کا پس منظر تقسیم کے بعد کے فسادات ہیں۔

    تقسیم نے دونوں ملکوں کے مختلف فرقوں اور مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان میں جو زہر گھولا اس کی موثر انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ یشپال اپنی تخلیقات میں سماجی برائیوں، اندھے عقائد اور سماجی ناانصافی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 1976ء میں ”میری تیری اس کی بات“ پر ان کو ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا اور یہ پدم بھوشن وصول کنندہ بھی تھے۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یشپال 1903ء میں کانگڑا چوٹیوں میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کی اماں بہت غریب تھیں اور اپنے دو بچوں کی اکیلے پرورش کرنے کی ذمہ دار ان ہی کے کندھوں پر تھی۔ انھوں نے اس دور میں نشو و نما پائی جب برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے دعووں کی گونج میں اضافہ ہوچکا تھا اور ان کی اماں آریہ سماج کی کٹر حمایتی تھیں۔ انہوں نے غربت کے سبب ابتدائی تعلیم آریہ سماج کے گروکُل (روایتی مدرسہ) سے حاصل کی، جہاں مفت کھانے، کپڑوں اور ٹیوشن کی سہولت تھی۔