Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • 24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد کراچی حیدرآباد میں ہندوستان سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ مختلف علاقوں کی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے ۔ان کا لباس ۔رہن سہن ۔رسم و رواج۔کھانے ۔زبان مقامی لوگوں سے مختلف تھی جس کا اظہار آج بھی ہوتا ہے

    بریانی بھی ان میں سے ایک ہے کہ یوں تو پورے پاکستان میں بنائی اور کھائی جاتی ہے لیکن کراچی حیدرآباد کے علاؤہ بریانی کے نام پر لوگ دھوکا ہی کھاتے ہیں۔

    بریانی پاکستان کی قومی ڈش نہیں لیکن یہ یقینی طور پر کراچی والوں کے لئے پسندیدہ ترین ہے، جو ہمیشہ مزیدار بریانی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بریانی کی ایک مکمل پلیٹ میں خوشبو دار چاول، گوشت کے پیسز شامل ہوتے ہیں۔ جو بہت ہی مزید اراور لذیذ ہوتے ہیں۔

    بریانی پورے ملک میں یہ شادیوں اور مختلف پروگراموں کے لئے پیش کی جاتی ہے لیکن کھانے پینے کے حوالے سے مشہور تمام شہروں میں کراچی حیدرآباد میں سب بہترین بریانی بنائی جاتی ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ کراچی کے لوگ اس حیرت انگیز پکوان کو کھانا پکانا اچھی طرح جانتے ہیں۔بریانی بہترین غذائیت سے بھرپور کھانا ہے۔ یہ پیٹ میں نہیں جاتی بلکہ سیدھے سیدھے دل میں اتر جاتی ہے

    آپ نے خوشبودار، مزے دار اور ذائقہ دار بریانی، کراچی کی مشہور بریانی یا کراچی کی خاص بریانی جیسے بورڈز تو اکثر دکانوں پر دیکھے ہوں گے لیکن کراچی کی اصل بریانی ہر جگہ دستیاب نہیں کیوں کہ صرف نام رکھنے سے اصل بریانی نہیں بن جاتی۔

    پاکستان کے معاشی حب کراچی میں کئی طرح کی بریانی دستیاب ہے جن میں تہ دار بریانی، بیف بریانی، کراچی بریانی، وائٹ بریانی، زعفرانی بریانی، مصالحے دار بریانی، تکہ بریانی، سندھی بریانی اور مکس بریانی قابل ذکر ہیں۔

    کراچی میں بریانی کے مشہور علاقے:

    کراچی کا علاقہ صدر بریانی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے پورے شہر میں اس جیسی بریانی کہیں نہیں ملتی۔

    صدر کی مشہور بیف بریانی:صدرکی سب سے مشہور بریانی ، بیف بریانی ہے جس کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ اب مختلف جگہوں پر چکن یا مٹن بریانی بننے لگی ہے لیکن بیف بریانی ہی اصل بریانی ہوتی ہے۔ مصالحے دار گرم چاولوں کے ساتھ نرم اور چکنے گائے کے گوشت کی مزیدار بوٹیاں، جسے دیکھتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔

    صدر کی تہ دار بریانی:صدر کی چکن، مٹن اور بیف کی تہ دار بریانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں پہلے چاولوں کی ایک تہ لگائی جاتی ہے پھر اس پر ذائقے اور لذت سے بھر پور تیار کردہ مصالحے کی ایک اور تہ لگا دی جاتی ہے۔ اسی طرح باری باری چاولوں اور مصالحے کی تہیں لگا کراسے دم دے دیا جاتا ہے۔

    صدر کی مکس بریانی: یہ بھی تہ دار بریانی کی طرح ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں زردہ رنگ ملایا جاتا ہے اور چاولوں کے ساتھ مصالحے کی تہیں لگانے کے بعد انہیں مکس کر دیا جاتا ہے۔

    صدر کی وائٹ اور زعفرانی بریانی: صدر میں ایک اور منفرد اور مزیدار بریانی بھی دستیاب ہے جس میں رنگ کے بجائے زعفران کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہلاتی ہے وائٹ زعفرانی بریانی جس کا مزہ بھی سب سے الگ ہوتا ہے۔

    برنس روڈ کی کراچی بریانی: برنس روڈ، کراچی کی مشہور اور قدیم فوڈ اسٹریٹ پر ویسے تو بریانی کی بہت سی دکانیں ہیں لیکن سب سے مشہور یہاں کی کراچی بریانی ہے۔

    چٹ پٹی بریانی: یہ وہ بریانی ہے جو کراچی کی ہر دوسری گلی میں دستیاب ہے خاص طور پر گلشن اقبال میں اکثر دکانوں پر ملتی ہے لیکن اس کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خاص طورپر گلشن کےعلاقے موتی محل کی ایک دکان پردستیاب چٹ پٹی بریانی کا اپنا ہی مزہ ہے۔

  • نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ مصنف اور بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر۔(پیدائش:10 اکتوبر 1930ءلندن،وفات:24 دسمبر 2008ء لندن) ڈراما نگاری میں اپنے مخصوص اسٹائل ’پنٹریسک‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔ پنٹر کے کرداروں کی ڈائیلاگ کی ادائیگی کے دوران لمبی خاموشی کو ’پینٹرسک اسٹائل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے تیس سے زائد ڈرامے لکھے جن میں ’دی کیئر ٹیکر، ’ہوم کمنگ‘ اور ’بیٹریئل‘ بہت مشہور ہوئے۔ ہیرالڈ پینٹر ایک سیاسی سوچ کے حامل شخصیت تھے اور زندگی آخری برسوں میں وہ اپنی سیاسی تحریروں کے وجہ سے پہچانے جانے لگے۔لندن کے علاقے ہیکنی میں پیدا ہونے والے ہیرالڈ پینٹر بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے اور امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے بڑا نقادوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہوں نے زندگی صرف ایک بار دائیں بازو کی جماعت کنزویٹو پارٹی کی رہنما مارگریٹ تھیچر کے حق میں ووٹ ڈالا اور وہ ان کی ان کی زندگی کا سب سے ’شرمناک عمل‘ تھا۔

    عراق جنگ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نے سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکا اور برطانیہ کی جارحیت کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ انہوں نے 2005ء میں اپنی نوبل پرائز تقریب میں اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ صدر بش اور ٹونی بلیئر پر عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔ ہیرالڈ پینٹر نے کہا تھا کہ بیشتر سیاست دان ’طاقت اور طاقت پر اپنے کنٹرول کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، سچائی میں نہیں۔‘پِنٹر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سیاست دان سمجھتے ہیں کہ یہ ’ضروری ہے کہ لوگ لاعلم رہیں، سچائی سے بے خبر رہیں، یہاں تک کہ اپنی زندگی کی سچائی سے بھی۔ ہیرالڈ پنٹر مزید کہا کہ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے امریکا کا دعویٰ تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار تھے، جو سچ نہیں تھا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نہ صرف تیس سے زائد ڈرامے لکھے بلکہ بے شمار ڈارموں میں خود بھی اداکاری کی۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے دو(2) شادیاں کیں۔ ان کے پہلی اہلیہ سے ان کا ایک بیٹا ہے۔ یہ بات بہت کم لوگوں معلوم ہو گی کہ انھیں کرکٹ سے بہت دلچسپی تھی ۔وہ اپنی ذاتی زندگی میں اپنی بذلہ سنجی کے لیے اپنے قریبی احباب کے حلقے میں پسند کیے جاتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری بھی کی مگر ان کا اصل میدان ڈرامہ نگاری تھا اور یہی ان کی شناخت ہے۔ ہیرالڈ پینٹر کا انتقال 78 سال کی عمر میں 24 دسمبر 2008 کو لندن میں ہوا۔
    انھوں نے بتیس (32) ڈرامے لکھے۔
    ۔ (1)The Room
    ۔ (1957)
    ۔ (2)Old Times
    ۔ (1970)
    ۔ (3)The Birthday Party
    ۔ (1957)
    ۔ (4)Monologue
    ۔ (1972)
    ۔ (5)The Dumb Waiter
    ۔ (1957)
    ۔ (6)No Man’s Land
    ۔ (1974)
    ۔ (7)A Slight Ache
    ۔ (1958)
    ۔ (8)Betrayal
    ۔ (1978)
    ۔ (9)The Hothouse
    ۔ (1958)
    ۔ (10)Family Voices
    ۔ (1980)
    ۔ (11)The Caretaker
    ۔ (1959)
    ۔ (12)Other Places
    ۔ (1982)
    ۔ (13)A Night Out
    ۔ (1959)
    ۔ (14)A Kind of Alaska
    ۔ (1982)
    ۔ (15)Night School
    ۔ (1960)
    ۔ (16)Victoria Station
    ۔ (1982)
    ۔ (17)The Dwarfs
    ۔ (1960)
    ۔ (18)One For The Road
    ۔ (1984)
    ۔ (19)The Collection
    ۔ (1961)
    ۔ (20)Mountain Language
    ۔ (1988)
    ۔ (21)The Lover
    ۔ (1962)
    ۔ (22)The New World Order
    ۔ (1991)
    ۔ (23)Tea Party
    ۔ (1964)
    ۔ (24)Party Time
    ۔ (1991)
    ۔ (25)The Homecoming
    ۔ (1964)
    ۔ (26)Moonlight
    ۔ (1993)
    ۔ (27)The Basement
    ۔ (1966)
    ۔ (28)Ashes to Ashes
    ۔ (1996)
    ۔ (29)Landscape
    ۔ (1967)
    ۔ (30)Celebration
    ۔ (1999)
    ۔ (31)Silence
    ۔ (1968)
    ۔ (32)Remembrance of
    ۔ Things past
    ۔ (2000

  • پروفیسر اسٹینلے والپرٹ:کی ادبی زندگی

    پروفیسر اسٹینلے والپرٹ:کی ادبی زندگی

    پروفیسر اسٹینلے والپرٹ

    23 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنوبی ایشیا کی مستند تاریخ کے حوالے سے اتھارٹی تصور کیے جانے والی شخصیت امریکی ماہر تعلیم، محقق اور مصنف اور اسکالر پروفیسر اسٹینلے والپرٹ 23 دسمبر 1927 کو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انہیں جنوبی ایشیا کی تاریخ سے گہری دلچسپی تھی چنانچہ برطانوی حکومت نے انہیں ہندوستان آ کر تحقیق کرنے کی پیشکش کی جس پر وہ ہندوستان آ گئے ۔

    اسٹینلے نے ہندوستان کی تاریخ کے علاوہ جنوبی ایشیا کی اہم ترین سیاسی شخصیات مہاتما گاندھی ، قائد اعظم محمد علی جناح ، جواہر لال نہرو اور ذوالفقار علی بھٹو کی سوانح حیات پر مبنی کتابیں تحریر کیں ۔ پاکستان میں قائد اعظم کے بارے میں ان کی تصنیف ” جناح آف پاکستان ” بہت مشہور ہوئی جبکہ ہندوستان پر برطانوی تسلط کے آخری دور کے اہم واقعات پر مبنی ان کی کتاب "شیم فل فلائیٹ ” کو بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ پروفیسر اسٹینلے والپرٹ کی 7 مارچ 2019 میں وفات ہوئی۔

  • ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل اندر سے انتہائی نرم اور باہر سے انتہائی سخت ہوتا ہے. کبھی آپ نے سوچا ایسا کیوں ہے.؟ ناریل کا صحت بخش بہترین پانی پیتے یا اس کی گری کھاتے کبھی اس سخت چھلکے کو دیکھا ہے جس نے یہ لذت سنبھال کر رکھی ہوتی ہے.؟ آپ نے بھلے نہ سوچا ہو ناریل یہ صدیاں سوچ سوچ کر اپنی شکل بنائی ہے.

    ناریل کے پیڑ بہت اونچے ہوتے ہیں. پھل اسکا کل ہے. اس کی نسل ہے. اس نسل کو زمین سے جوڑ بنانے کیلئے گرنا ہوتا ہے. ناریل اپنی بقا کیلئے جب بلند سے بلند ہو رہا تھا تو اس نے اپنی نسل کو زمین پر گرنے کی تکلیف سہنے کیلئے اس کا چھلکا انتہائی سخت کر دیا. اب یہ پھل بھلے اونچائی سے گر جائے ٹوٹے گا نہیں.

    انسانوں میں بھی انتہائی سخت مزاج کڑوے لوگ بلکل ناریل کی طرح ہوتے ہیں. وقت کی سختیاں جھیلتے بقا کی جبلت میں ان پر سخت چھلکے چڑ جاتے ہیں. ہم بھلے ان کو بے حس پتھر سمجھ لیں لیکن ہر پتھر کے سینے میں ایک دل ہوتا ہے. جس میں ایک سہما ہوا خوفزدہ بچہ چھپا بیٹھا ہوتا ہے. جسے ٹوٹ جانے سے ڈر لگتا ہے.

    ان کو توڑنے کی خواہش کی بجائے جب کوئی پپار سے ان کا حول اتار کر دیکھے تو پتہ چلتا ہے یہ تو زندگی سے بھرپور بہترین انسان ہے. تب ہم حیران ہوتے ہیں تو باہر سے یہ اتنا سخت کیوں تھا.؟ انسانوں کی اکثریت میں صبر نہیں اور جہاں صبر کم ہو آب حیات نمکین ہو وہاں پھر ناریل زیادہ ہوتے ہیں.

  • زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
    شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

    مظفر وارثی

    پیدائش:23دسمبر 1933ء
    میرٹھ، ہندوستان
    وفات:28جنوری 2011ء

    نام محمد مظفر الدین احمد صدیقی اور تخلص مظفر ہے۔23؍دسمبر 1933ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے اور لاہور میں بودوباش اختیار کی۔ بہترین نعت گو کا ایوارڈ پاکستان ٹیلی ویژن سے 1980ء میں حاصل کیا۔ غالب اکیڈمی دہلی کی جانب سے بہترین شاعر کا ’’افتخار غالب‘‘ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ متعدد فلموں کے گانے بھی لکھ چکے ہیں مگر جب سے نعت کہنا شروع کی، فلمی گانوں کو خیر آباد کہہ دیا۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’برف کی ناؤ‘(مجموعۂ غزل)، ’باب حرم‘(نعت)، ’لہجہ‘(غزل)، ’نورازل‘(نعت) ، ’الحمد ‘(حمدوثنا)، ’حصار‘(نظم)، ’لہوکی ہریالی‘(گیت)، ’ستاروں کی آب جو‘(قطعات)، ’کھلے دریچے‘، ’بند ہوا‘ (غزل)،’کعبۂ عشق‘(نعت)، ’لاشریک‘، ’صاحب التاج‘، ’گئے دنوں کا سراغ‘، ’گہرے پانی‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:282

    نعتِ پاک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ میرے سخن کو سخن کہو
    نہ مری نوا کو نوا کہو
    میری جاں کو صحنِ حرم کہو
    مرے دل کو غارِ حرا کہو
    میں لکھوں جو مدحِ شہہِ اُمم
    اور جبرائیل بنیں قلم
    میں ہوں ایک ذرہء بےدرہم
    مگر آفتابِ ثناء کہو
    طلبِ شہہِ عربی کروں
    میں طوافِ حُبِ نبی کروں
    مگر ایک بےادبی کروں
    مجھے اُس گلی کا گدا کہو
    نہ دھنک، نہ تارا، نہ پھول ہوں
    قدمِ حضور کی دُھول ہوں
    میں شہیدِ عشقِ رسول ہوں
    میری موت کو بھی بقا کہو
    جو غریب عشق نورد ہو
    اُسے کیوں نہ خواہشِ درد ہو
    میرا چہرہ کتنا ہی زرد ہو
    میری زندگی کو ہرا کہو
    ملے آپ سے سندِ وفا
    ہوں بلند مرتبہء صفا
    میں کہوں محمدِ مصطفیٰ
    تم بھی صلے علیٰ کہو
    وہ پیام ہیں کہ پیامبر
    وہ ہمارے جیسا نہیں مگر
    وہ ہے ایک آئینہء بشر
    مگر اُس کو عکسِ خدا کہو
    یہ مظفر ایسا مکین ہے
    کہ فلک پہ جس کی زمین ہے
    یہ سگِ براق نشین ہے
    اسے شہسوارِ صبا کہو

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
    شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

    لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
    تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

    پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے
    اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

    کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
    ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

    ہر شخص پر کیا نہ کرو اتنا اعتماد
    ہر سایہ دار شے کو شجر مت کہا کرو

    میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح
    مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا

    تو چلے ساتھ تو آہٹ بھی نہ آئے اپنی
    درمیاں ہم بھی نہ ہوں یوں تجھے تنہا چاہیں

    جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں
    بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا

    وعدہ معاوضے کا نہ کرتا اگر خدا
    خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

    مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہ
    یہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں

    ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا
    میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں گا

    خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
    آئینہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی

    زخم تنہائی میں خوشبوئے حنا کس کی تھی
    سایہ دیوار پہ میرا تھا صدا کس کی تھی

    سانس لیتا ہوں کہ پت جھڑ سی لگی ہے مجھ میں
    وقت سے ٹوٹ رہے ہیں مرے بندھن جیسے

  • اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    نام:یاسمین یاس
    تاریخ پیدائش:23 دسمبر 1974ء
    زبان: اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    1 . میرا جلنا ضرور ہوگیا ہے
    ۔2. . میرے بے خبر
    3 ۔ رات گئے آنکھوں سے

    مستقل پتا:ای-3، فرزانہ بلڈنگ، بلاک 7 ینڈ8
    فرسٹ فلور، ایس،ایم روڈ کراچی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت سے بھی نفرت ہوگئی ہے
    عجب وحشت سی وحشت ہوگئی ہے

    فنا کرلو ڈالوں خود کو اور سب کو
    بتاؤں کیا جو حالت ہوگئی ہے

    جو رکھے یاد اس کو یاد رکھو
    محبت اب تجارت ہوگئی ہے

    زمانے بھر میں رسوا ہورہے ہیں
    یقیناً ہم سے غفلت ہوگئی ہے

    کسی پر زندگی قربان کردیں
    وہ چاہت ایک حسرت ہوگئی ہے

    کبھی وحشت تھی جس دیوانگی سے
    وہی اب میری قسمت ہوگئی ہے

  • ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    احسان اللہ مونی ایک بنگالی فلسماز ہے. اس نے تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ کر کے ڈھاکہ میں ڈپلیکیٹ تاج محل بنایا. احسان اللہ نے بتایا کہ 1980 میں وہ جب آگرہ گیا اور اس نے تاج محل دیکھا تو وہ اسے دیکھتا ہی رے گیا. اس نے سوچا کتنے غریب بنگالی ہوں گے جو زندگی بھر اس حسن تعمیر کو دیکھ ہی نہیں پائیں گے. اور اسی سے اسے خیال آیا کیوں نہ بنگلا دیش میں بھی ایک تاج محل بنایا جائے.

    بنگلا دیش میں تاج محل بن گیا. بیشک یہ اصلی تاج محل نہیں نہ حسن تعمیر میں اسے مات کر سکتا ہے. لیکن آج کوئی بنگالی خاندان جب اپنے بال بچوں کے ساتھ سیر کیلئے چار ایکڑ پر پھیلے اس تاج محل میں آتا ہے تو اپنے بچوں کو یہ ضرور بتا سکتا ہے آگرہ کا تاج محل بلکل ایسا ہی ہے.

    ہم لوگ جب کسی خوبصورت حسین یا تاریخی مقام پر جاتے ہیں تب ہم ایک خوف کا شکار ہو جاتے ہیں. یہ خوبصورت پل یہ حسین یادیں کہیں ہم کھو نہ دیں. ہم ان کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں. تاکہ آنے والے وقتوں میں ہم بتا سکیں ہم نے یہ مقام دیکھا ہے. اس لئے ہم دھڑا دھڑ وہاں تصاویر نکالتے ہیں. کچھ بے وقوف اسی خوف کا شکار ہو کر وہاں اپنے نام لکھنا شروع کر دیتے ہیں.

    آپ آج بھی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی زندگی کے وہ حسین پل خوبصورت مقامات کا سوچیں تو آپ کو اکثریت یادیں وہ ملیں گی جو تصاویر میں نہیں ہوں گی. خوف کی ہر یاد دماغ بھول جاتا ہے. اپنی ماضی کی تصاویر آپ کو اجنبی لگیں گی. کچھ احسان اللہ مونی کی طرح لوگ بھی ہوتے ہیں. وہ یہ حسن اپنے ساتھ لے آتے ہیں. اپنی یادوں میں سب کو شامل کر لیتے ہیں.

    لندن پیرس سوئٹزرلینڈ کے حسن اور یادیں بیان کرتے لوگ یا دوسرے معاشروں کے انصاف اور انتظام کی کہانیاں سنانے والے ہمارے لوگ بھی اگر اپنے خوف سے نکل کر یہ حسن صفائی انتظام اور انصاف اپنے ساتھ لاتے اپنے آبائی علاقوں میں وہی مثل بنا کر دکھاتے تو یہاں کے غریب بھی اپنے بچوں کو دکھاتے دیکھو سوئٹزرلینڈ لندن پیرس کی سڑکیں گلیاں ایسی ہوتی ہیں. وہاں انصاف ایسا ہوتا ہے.

    لیکن ہمارے پاس کوئی احسان اللہ مونی نہیں. ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں جن کو دیکھنے کیلئے ہماری نسل باہر جانے کے خواب دیکھتی ہے. ان دشوار راستوں پر یہ قوم اپنے لاکھوں بچے ہار گئی ہے.

  • ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    آپ کو اگر جانوروں کی دنیا میں کوئی دلچسپی ہو اور آپ انکا مشاہدہ کرتے ہوں تب بہت سی عجیب باتیں آپ دیکھتے ہیں. جیسے زیبرا کے غول کے سب سے بڑے دشمن شیر ہوتے ہیں. لیکن آپ دیکھیں گے زیبرے اُسی وقت اطمینان اور سکون سے میدانوں میں گھاس چر رہے ہوتے ہیں جب شیروں کا خاندان دھوپ میں سامنے لیٹا ہو.

    لیکن جب شیر نظر نہ آرہے ہوں تو پورا غول خوفزدہ ہوتا ہے. ہوا سے بھی لمبی گھاس ہلے تو ڈر کر دوڑ لگا لیتے ہیں. آپ کو ان کی سراسیمگی باقاعدہ محسوس ہو رہی ہوتی ہے. ان کے کان کھڑے ہوتے ہیں. یہی حال انسان کا بھی ہوتا ہے. بس ہمیں اسے سمجھنا ہوتا ہے.

    وہم اندیشے ہمارے وہ خوف ہیں جو ہمیں تب ڈراتے ہیں جب ہمارا خوف ہمارے سامنے نہ ہو. جیسے ناکامی کا خوف ہو جیسے دوسروں کے سامنے مذاق بن جانے کا ڈر ہو. جیسے کچھ کھو دینے کا خوف ہو. سامنا کرنے کا ڈر ہو. ہمارا دماغ اس ان دیکھے خوف کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کر رہا ہوتا ہے اور ہر تجزیے پر ہمارا ڈر مزید بڑھ رہا ہوتا ہے.

    ہم اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نہ زیبرا ہیں نہ کوئی دوسرا جانور جسے خوف کا انتظار کرنا پڑے. ہم انسان ہیں اور ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ بجائے خوف کے انتظار کے ہم خود اس خوف کے سامنے کھڑے ہو جائیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ تقدیر ہماری لکھی جا چکی ہے.

    ہمت اور حوصلہ کسی دوسرے کو زمین پر گرانے کا نام بلکل نہیں ہے. یہ اپنے خوف کو ڈھونڈ کر اسے آزمانے کا نام ہے. یہی وہ تربیت ہے جو آزمائش سے پہلے جب ہم آزما لیتے ہیں تو کل جب وہ آزمائش سامنے کھڑی ہو تب ہم سکون سے اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں. مقابلہ پھر بھی لازم ہوگا لیکن وہ خوف ڈر نہیں ہوگا جو آپ کو لڑنے سے پہلے ہی ہرا چکا ہوتا ہے.

  • بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    "کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں”

    ,وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    "اور”انوکھا لاڈلا”

    جیسے بے شمار مقبول گیت گانے والی گلوکارہ بلقیس خانم کراچی میں انتقال کرگئیں۔بلقیس خانم نے ریڈیو، ٹی وی کے ساتھ فلموں کے لئے بھی یاد گار گیت گائے۔ میوزک انڈسٹری نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے
    وہ معروف ستار نواز استاد رئیس خاں کی بیوہ تھیں۔

  • بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    پیدائش:21 دسمبر 1804ء
    لندن
    وفات:19 اپریل 1881ء
    مے فیئر
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مذہب:کلیسائے انگلستان
    (اپنی زیادہ تر زندگی میں)
    یہودی (13ویں سال تک)
    جماعت:کنزرویٹو پارٹی
    رکن:رائل سوسائٹی
    پیشہ:سیاست داں، ناول نگار
    مصنف، سوانح نگار
    زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ گلاسگو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)رائل سوسائٹی فیلو
    ۔ (2)آرڈر آف گارٹر
    وزیر اعظم مملکت متحدہ
    مدت منصب
    ۔ 20 فروری 1874 – 21 اپریل 1880
    حکمراں، ملکہ وکٹوریہ
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1868 – 1 دسمبر 1868
    قائد حزب اختلاف
    مدت منصب
    ۔ 01 دسمبر 1868 – – 17 فروری 1874
    چانسلر
    مدت منصب
    ۔ 06 جولائی 1866 – 29 فروری 1868
    مدت منصب
    ۔ 26 فروری 1858 – 11 جون 1859
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1852 – 17 دسمبر 1852

    بنجمن ڈزریلی (پیدائش: 1804ء، انتقال: 1881ء) یہودی نژاد برطانوی وزیر اعظم۔ ابتدا میں ناول لکھتے تھ۔ 1837میں پارلیمنٹ کا رکن بنے۔ 1852ء میں وزیر خزانہ اور 1837ء میں وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی ہار گئی لیکن نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر 1874ء سے 1880ء تک پھر وزیر اعظم رہے۔ ان کے عہدِ وزارت میں مزدوروں کی بہبود کے لیے کارخانوں میں نئی اصلاحات کی گئیں۔ نہر سویز کے حصص خریدے گئے اور ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی ملکہ بنی۔