Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    مٹی ملے گدلے پانی کو کسی برتن میں رکھ دیں اسے کچھ وقت دیں تو اس کی مٹی آہستہ آہستہ تہہ پر بیٹھ جاتی ہے. آپ زندگی کی سائنس اگر جانتے ہوں تو یہی کام پھٹکری یعنی ایلم زیادہ جلدی کر لیتا ہے. کیونکہ ایلم پانی کی اساسیت سے مل کر ایک جیلیٹن ایفیکٹ بناتا ہے جو پانی میں موجود ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر تہہ پر بیٹھ جاتا ہے.

    یہی صبر اور شُکر ہے. زمین پر موجود ہر مسافر انسان کے اس سفر کا زاد راہ ہے. صبر ہمارے پر اُمید انتظار کا نام ہے اور شُکر بندگی کی سائنس ہے. صبر ہمیں وقت سکھا دیتا ہے لیکن شُکر ہمیں خود سیکھنا ہوتا ہے. ہماری اکثریت شُکر پر بلکل ویسے ہی کنفیوز ہوتی ہے جیسے یہ سائنس پر ہو جاتی ہے. شکر کوئی قرض نہیں ایک احسان ہے.

    قرض ایک حساب ہے. جبکہ احسان ایک احساس ہوتا ہے. قرض بھلے کوئی مال ہو اسباب ہو خدمت ہو اسکا حساب ممکن ہے. اور لوٹایا بھی جا سکتا ہے. احسان جب کے بس ایک احساس ہوتا ہے جو ہم تسلیم کر لیتے ہیں. جیسے ماں باپ کی اپنی اولاد سے محبت ایک احسان ہے. آپ زندگی بھر یہ احسان اتار ہی نہیں سکتے.

    ہمارا یہ تسلیم کرنا شکر ہے. جب ہم اللہ رب العزت کے خود پر احسانات شمار کرنے شروع کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہ بے حساب ہیں. یہی احساس ہماری ذات کی پوشیدہ بنیادوں میں وہ کیفیت تخلیق کرتی ہے جو سوچ و شخصیت کے آلودہ ذرات کو صاف کر کے ہماری سوچ کو شفاف بنا دیتی ہے. یہی شفافیت وہ فوکس یا ارتکاز دیتی ہے جو روح کو سیراب و مطمئن رکھتی ہے.

    قرآن سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 147
    مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيۡمًا ۞

    اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا ؟ اللہ بڑا قدردان ہے (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔

  • ماں — نعیم گلزار

    ماں — نعیم گلزار

    بائیس تئیس برس قبل کی بات ہے۔ ماں جی سے لڑائی کے نتیجے میں گھر سے بھاگا اور لاہور جا نکلا۔ وہاں کچھ عرصہ انڈر ورلڈ کے لوگوں کے ہتھے چڑھا رہا۔ پھر کچھ اس ماحول سے اکتاہٹ، کچھ لاہور شہر کی نفسا نفسی اور پھر ماں جی کی یاد۔۔ ان تمام عوامل نے مجبور کیا تو واپس گھر بھاگ آیا۔

    واپس آکر دوبارہ نئے سکول میں داخلہ لیا تو میرا تعارف وکی سے ہوا۔ وکی کا گاؤں میرے گاؤں سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ تھا۔ وکی خبطی سا تھا۔ جلدباز طبعیت، ہر وقت کھپتے رہنا، باتیں زیادہ اور پڑھائی کم کرنا، اسکے مزاج کا حصہ تھا۔ البتہ اسکو پیسہ کمانے کا بڑا شوق تھا۔ مجھے جتنی اس سے چڑ ہوتی تھی۔ وہ اتنا ہی میرے قریب ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ مالی حالات بھی اسکے مخدوش سے تھے۔ جسکی وجہ سے وہ کالج نہ جا سکا۔ جبکہ ہم آگے ایف ایس سی میں چلے گئے۔ بعد میں ہنگامہ زیست میں کبھی اسکی خبر ہی نہ لگی کہ وہ کن حالات میں ہے۔ بیس سال بعد اک شادی پہ ملاقات ہوئی تو ایک عدد کار کے ساتھ وہ اب سر ملک وقاص بن چکا تھا۔ شاید کہیں اس نے مقولہ پڑھ لیا تھا۔

    ” علم بڑی دولت ہے۔”

    پھر اسی مقولے کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے کوئی پرائیویٹ سکول بنایا اور بعد میں بناتا ہی چلا گیا۔ استفسار پہ پتہ چلا چھ کے قریب پرائیویٹ سکول اس وقت چلا رہا ہے۔ پیسے کی طلب اب بھی اسکی گفتگو میں واضح جھلک رہی تھی۔ اور بیس سال کے بعد بھی اسکی جلدباز طبعیت میں کوئی ٹھہراؤ نہیں آیا تھا۔ رہائش بھی بیوی بچوں سمیت اس نے شہر میں رکھ لی تھی۔ البتہ اسکی ماں اب بھی گاؤں میں ہی رہ رہی تھی۔

    آج میں اپنے گاؤں سے متصل قصبہ کے مین اڈے پہ کھڑا کچھ خرید و فروخت کر رہا تھا۔ کہ یکایک اک کار میرے پاس آ کر رکی۔ ٹو پیس سوٹ کے ساتھ ملک وقاص صاحب اندر سے برآمد ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی جپھی ڈالی اور کہنے لگا:

    نیمے یار۔۔ اچھا ہوا تو مل گیا۔ مجھے بہت جلدی ہے۔ ماں جی ساتھ گاڑی میں بیٹھی ہیں۔ انکو گاؤں پہنچانے کے لیے کوئی رکشہ کروا دو۔ کچھ دفتری امور نپٹانے ہیں، میں واپس جا رہا ہوں۔ تین سو روپیہ کرایہ میں نے ماں جی کو دے دیا ہے۔

    یہ سن کر میری آنکھیں تو ساکت رہیں البتہ میں نے کار میں جھانکا تو ماں جی کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔۔!!!!

  • قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    عائشہ بنت یوسف باعونیہ مرشدہ( پیدائش سنہ 1460 ء وفات21 دسمبر 1516ءدمشق) اور صوفی شاعرہ تھیں، یہ قرون وسطیٰ کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ تھیں۔ وہ بیسویں صدی کی دیگر خواتین کی بہ نسبت بجا طور پر سب سے زیادہ عربی کلام لکھنے والی خاتون ہیں۔ ان کی تحریروں میں ادبی صلاحیت، ان کے خاندان کا صوفیانہ رجحان صاف جھلکتا ہے۔ دمشق میں پیدا ہوئیں اور وہیں وفات پائیں حالانکہ کا ان آبائی اصلی وطن اردن کا ”باعون“ شہر ہے، اسی کی طرف نسبت کی وجہ سے باعونیہ کہا جاتا ہے۔

    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ کے والد یوسف (مولود 805/1402 قدس، متوفی 880/1475 دمشق) صفد، طرابلس، حلب اور دمشق کے قاضی القضاۃ تھے اور اپنے مشہور خاندان ”باعونی“ کے اہم رکن تھے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے مشہور علما، فقہا اور شعرا میں شمار ہوتا تھا۔ عائشہ باعونیہ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم اور خاندان کے دوسرے ذی علم حضرات سے حاصل کیا۔ ان سے قرآن، حدیث، فقہ اور شاعری پڑھی، آٹھ سال کی عمر سے پہلے ہی قرآن کو حفظ کر لیا تھا۔

    عائشہ نے صوفی جمال الدین اسماعیل ہواری اور ان کے خلیفہ محی الدین یحیی اورماوی سے ملاقات کی اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا، دونوں مرشد پندرہویں اور سولہویں صدی کے مشہور اور عظیم مرشد تھے سنہ 1475 عیسوی میں عائشہ باعونیہ نے مکہ کا سفر کیا اور حج ادا کیا۔

    عائشہ باعونیہ کی شادی احمد بن محمد بن نقیب اشرف (متوفی 909/1503) سے ہوئی، جو دمشق کے مشہور علمی خاندان ”علید“ سے تھے۔ ان سے دو اولاد، ایک لڑکا عبد الوہاب اور ایک لڑکی برکت ہوئی۔

    قاہرہ میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 919 ہجری مطابق 1513 عیسوی میں عائشہ اور ان کے بیٹے دمشق سے قاہرہ ہجرت کر گئے، پھر 923ھ/1517ء میں دمشق واپس آ گئے۔ مصر جانے کا مقصد بیٹے کے عملی میدان کی حفاظت کرنا تھا، راستے میں ”بلبیس“ کے قریب ڈاکوؤں کے گروہ نے انھیں لوٹ لیا اور سارا سامان جس میں عائشہ کی کتابیں بھی شامل تھیں سب کو چھین لیا۔ قاہرہ میں ماں اور بیٹے محمود بن محمد بن اجا کی ضیافت میں تھے، جو مملوکی سلطان الاشرف قانصوہ غوری کے خاص معتمد اور وزیر خارجہ تھے۔ ابن اجا نے علمی اور فکری حلقوں میں شامل کرنے کے لیے عائشہ کی بہت مدد کی، عائشہ نے ان کے لیے ایک تعریفی قصیدہ بھی تحریر کیا تھا۔ قاہرہ میں عائشہ نے قانون کی تعلیم حاصل کی، انھیں قانون کی تعلیم دینے اور شرعی قوانین (فتاوی) جاری کرنے کا اجازت نامہ (لائسنس) میں ملا تھا اور ایک فقیہہ کی حیثیت مل گئی۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 922ھ مطابق 1516ء میں سلطان الاشرف قانصوہ غوری کی حلب میں جنگ مرج دابق میں شکست کے بعد عائشہ، اپنے بیٹے، ابن اجا، شمس سفیری اور دوسرے علما کے ساتھ قاہرہسے رخصت ہو گئیں۔ یہ ان کی زندگی کا غیر معمولی حادثہ تھا۔ عائشہ باعونیہ دمشق واپس چلی گئیں، جہاں سنہ 923ھ مطابق 1517ء میں وفات ہوئی۔

    علمی کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ بیسویں صدی کی سب سے زیادہ لکھنے والی خاتون ہیں، تھامس ایمیل ہومرین کے مطابق عائشہ کے بیشتر کام ابھی تک نا معلوم ہیں، پھر بھی جو کام منظر عام پر آئے ہیں ان میں سب کچھ یہ ہیں:

    ۔ (1)دیوان الباعونیہ
    ۔ (2)درر الغائص فی بحر المعجزات و الخصائص
    ۔ (3)الفتح الحقی من فیح التلقی
    ۔ (4)الفتح المبین فی مدح الامین
    ۔ (5)الفتح القریب فی معراج الحبیب
    ۔ (6)فیض الفضل و جمع الشمل
    ۔ (7)فیض الوفا فی اسماء المصطفی
    ۔ (8)الاشارات الخفیہ فی منازل العالیہ
    ۔ (9)مدد الودود فی مولد المحمود
    ۔ (10)الملامح الشریفہ فی الآثار اللطیفہ
    ۔ (11)المورد الاہنی فی المولد الاسنی
    ۔ (12)المنتخب فی اصول الرتب
    ۔ (13)القول الصحیح فی تخمیس بردۃ المدیح
    ۔ (14)صلاۃ السلام فی فضل الصلاۃ و السلام
    ۔ (15)تشریف الفکر فی نظم فوائد الذکر
    ۔ (16)الزبدۃ فی تخمیس البردہ

  • معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور

    نجم آفندی اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری کے جدید اصناف شاعری میں نئے تجربوں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

    نام اور خاندان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔

    کلام کی قدر دانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاندانی احوال کے زیر اثر نجم کم عمری سے شاعری کرنے لگے۔ انھوں نے اپنی مشہور نظم در یتیم لکھنؤ میں سنائی تھی۔ اس نظم پر بولی لگائی گئی تھی اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے راجا راولپنڈی نے اسے 5600 روپیوں میں خریدا تھا (جو 1910ء میں ایک چونکانے والی قیمت تھی)۔ رقم کی وصولی کے بعد نجم نے اسے یتیم خانے کے حوالے کر دیا تھا۔

    ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی نجم ”کسان“، ”مزدور کی آواز“، ”ہماری عید“ جیسے موضوعات کو اپنے شاعرانہ کلام کا حصہ بنا چکے تھے نجم اپنی زندگی کے بعد کے ایام میں خالصتًا مذہبی شاعری اور مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔

    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    نجم نے کئی مرثیے، نوحے، قصائد اور رباعیات قلم بند کیں جنھیں بعد میں ”کلیاتِ کائناتِ نجم“ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا تھا۔

    ہجرت اور انتقال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپریل 1971ء میں نجم آفندی ہندستان سے ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے۔ وہ کراچی میں بس گئے اور 21 دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور
    پھر ٹھہر گیا قافلۂ درد سنا ہے
    شاید کوئی رستے میں مری طرح گرا اور
    اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر
    جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور
    منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا
    تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور
    اللہ گلہ کر کے میں پچتایا ہوں کیا کیا
    جب ختم ہوئی بات کہیں اس نے کہا اور
    کیا زیر لب دوست ہے اظہار جسارت
    حق ہو کہ وہ ناحق ہو ذرا لے تو بڑھا اور
    دولت کا تو پہلے ہی گنہ گار تھا منعم
    دولت کی محبت نے گنہ گار کیا اور
    یہ وہم سا ہوتا ہے مجھے دیکھ کے ان کو
    سیرت کا خدا اور ہے صورت کا خدا اور

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے
    اداؤں میں تکلف آ نہ جائے
    تری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں
    کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے
    کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ
    زبردستی اگر بدلا نہ جائے
    محبت راہ چلتے ٹوکتی ہے
    کسی دن زد میں تو بھی آ نہ جائے
    وہاں تک دین کے ساتھی ہزاروں
    جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ جائے
    ترے جوش کرم سے ڈر رہا ہوں
    دل درد آشنا اترا نہ جائے
    کہاں تم درد دل لے کر چلے نجمؔ
    مزاج درد دل پوچھا نہ جائے

  • لئوپولڈ سیدار سینگور:ادب کی دنیا کا معروف نام

    لئوپولڈ سیدار سینگور:ادب کی دنیا کا معروف نام

    پیدائش:09 اکتوبر 1906ء
    وفات:20 دسمبر 2001ء
    شہریت:فرانس
    سینیگال
    جماعت:سینیگال سوشلسٹ پارٹی
    مادر علمی:لائیسی لوئیس لی گرینڈ
    مادری زبان:فرانسیسی
    اعزازات:
    ۔ (1)بین الاقوامی نونینو انعام
    ۔ (1985)
    ۔ (2)جواہر لعل نہرو ایوارڈ
    ۔ (1982)
    ۔ (3)پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ
    ۔ (1968)
    ۔ (4)گرینڈ کراس آف دی لیگون آف ہانر
    ۔ (1961)
    ۔ (5)یونیورسٹی آف ویانا کے اعزازی ڈاکٹر
    مناصب
    ۔۔۔۔۔۔
    صدر سینیگال
    ۔۔۔۔۔۔
    برسر عہدہ
    ۔ 06 ستمبر 1960 – 31 دسمبر 1980

    چیئر پرسن آف دی آرگنائزیشن
    ۔۔۔۔۔۔
    آف افریقن یونٹی
    ۔۔۔۔۔۔
    برسر عہدہ
    ۔ 28 اپریل 1980- 01 جولا‎ئی 1980

    لئوپولڈ سیدار سینگور (انگریزی: Léopold Sédar Senghor) ایک سینیگالی شاعر، سیاست داں ہیں اور وہ 1960ء سے 1980ء تک سینیگال کے پہلے صدر تھے۔

  • نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    ’’نامکمل زندگی‘‘ نگارشِ قلم ہے ایک "معذور” بچی کی۔ لیکن میں اس ننھی پری کو ’’معذور‘‘ نہیں کہہ سکتا۔ حقیقت میں معذور اور ڈس ایبل تو وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کے دماغ مائوف، ذہن بانجھ اور قلب پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ ’’نامکمل زندگی‘‘ کے ابتدائی چند اوراق پڑھ کر ہی مجھے عربی کا یہ مقولہ یاد آگیا کہ ’’عدیم البصارۃ لکن مملو بالبصیرۃ‘‘ یہ عرب لوگ ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں، جو آنکھوں کی بصارت سے محروم ہونے کے باوجود بصیرت کے نور سے منور ہو۔ قرآن کریم نے بھی یہی فرمایا گیا ہے: ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحج) حنا سرور بھی ایسی ہی ایک بیٹی ہے، جسے جسمانی معذوری کے باوجود قلب سلیم کی دولت سے نوازا گیا ہے۔

    اس نے نہایت دل نشین انداز میں جسمانی عوارض لے کر دنیا میں آنے والے افراد کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ اپنی تحریر میں قرآنی آیات، احادیث اور واقعات صحابہ کرامؓ کے ساتھ اشعار کا برمحل استعمال کیا ہے۔ حق تعالیٰ اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو بھی جسمانی عوارض والے افراد کو حقیقی معنوں میں ’’اسپیشل افراد‘‘ سمجھ کر ان کے ساتھ ایسے ہی برتائو کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جس کے یہ لوگ مستحق ہیں۔مصنفہ اس کتاب کی اشاعت پر بجا طور مبارکباد کی مستحق ہے۔

  • مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    افریقی ملک آئیوری کوسٹ کے غریب کان کنوں کو سونے کی تلاش میں ایک کنویں میں کام کرتے اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کا پہلا ردعمل ہوگا کیا یہ پاگل ہیں.؟ یہ نہ صرف انتہائی محنت و مشقت کا کام ہے بلکہ یہ موت کے ساتھ کھیلنا ہے. سونا دریا کے نشیبی علاقوں میں دستیاب ہے جہاں تھوڑی کھدائی کرتے ہی اطراف سے پانی رسنے لگتا ہے. نیچے کیچڑ بنتی ہے اور کنوئیں کی دیواروں سے مٹی گرتی ہے. اسے لکڑیاں لگا کر یہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں.

    نیچے بہت سا کیچڑ نکال کر وہ چٹانی ٹکڑے ملتے ہیں جن کے ساتھ تھوڑا بہت سونا چپکا ہوتا ہے. سونا اتنا ہی ملتا ہے جو بمشکل دیہاڑی پوری کر پاتا ہے. پھر یہ پاگل پن کیوں؟ تو اس کیوں کا بہت سادہ جواب ہے کہ پھر یہ کریں تو کیا کریں؟ یہی مزدور سیزن میں کوکوا کے فارمز پر جاتے ہیں اور سخت گرمی میں دنیا کے چاکلیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کوکوا چنتے ہیں. یا پھر ان کنوؤں میں اترتے ہیں.

    یہ کنویں اس لئے آباد ہیں کہ ان کے ساتھ امیدیں اور خواب جوڑ بنا لیتے ہیں. کسی دن کوئی ایک بڑا سونے کا ڈلا اگر مل گیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے. ان ہی خوابوں کی تعبیر کیلئے مزدور کسی بھی وقت زندہ دفن ہونے کیلئے ان میں اتر جاتے ہیں. آئیوری کوسٹ کے کنویں میں اترنے والوں کی وجہ پھر سمجھ آجاتی ہے.

    لیکن مایوسی کے کنویں میں اترنے والے کی سمجھ نہیں آتی. آئیوری کوسٹ کے مزدور تو ایک ٹیم بنا کر یہ کام کرتے ہیں اور مایوسی کے کنویں میں اترنے والا تنہا ہوتا ہے. ایک کے پاس سونے کے کسی بڑے ڈلے کی اُمید اور خوبصورت زندگی کے خواب ہوتے ہیں. جبکہ دوسرا اپنی امید اور خواب باہر چھوڑ کر اندر اتر جاتا ہے.

    یہ مایوس موت کی منتظر قبریں پھر سمجھ نہیں آتیں. اپنی مایوسیوں کو کلمہ پڑھا لیں. کیونکہ مسلمان مایوس نہیں ہوتا.

  • معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے،عبدالغنی صراف کنڈے کے ہاں 20 دسمبر 1949ء کو قصبہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے انہوں نے اے لیول اردو، کامرس ، اکائونٹنگ، بیچلرزساوئتھ ایشن سٹڈیز اینڈ اردولندن، ماسٹر آف ہومیوپیتھی لندن (M.Hom) سے تعلیم حاصل کی اور پیشے کے طور پرہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے-

    ان کی پسندیدہ ادبی شخصیت:خواجہ الطاف حسین حالیؔ جن کی مسدس کی سحر انگیزی سے متاثر ہوکر میرا قیاس ہے شاعرِ مشرق کا قلم شکوہ جواب شکوہ لکھنے پر متحرک ہوا پسندیدہ غیر ادبی شخصیت ہومیوپیتھک طریقِ علاج کے بانی ڈاکٹر ہنی مین جن کی تحقیق و پیشکش کی بدولت دنیا کے کروڑوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔

    مرزا غالب نے بیدل کو اپنا معنوی استاد تسلیم کیا تھا۔ غالبؔ میر تقی میر کو اپنا پیش رو مانتے تھے۔ غالب کے یہاں ردّ ومقبول کے واقعات موجود ہیں۔ غالب کسی کی شخصیت کو قبول کر لیتے ہیں کسی کی شخصیت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے غالب کی نفسیات کار فرما ہے جسے احساسِ برتری اور احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے آپ کو سب سے بڑا شاعر بھی مانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے مثلاً

    ہیں یوں تو زمانے میں سخن ور بہت اچھّے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

    ہمارے عہد کے اہلِ قلم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا شاعر تسلیم کریں۔ یہ کوئی عیب نہیں، نہ ہی اسے تعلّی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ کی اہمیت کو تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کے بعض اشعار میں یہ احساس موجود ہے۔ وہ جب تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو انھیں خیال گزرتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے الگ سے ضرور ہیں۔ وہ ذرا دور سے، پردوں کے اس طرف سے۔ اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں۔

    جس کو ہوں دل میں چھپائے رات دن
    بس وہی موتی منورؔ اصل ہے

    اس کا مطلب ہے۔ دنیا کے سارے جواہر نقلی ہیں، سارے موتی پھیکے ہیں جو خزانہ میری تحویل میں اللہ تعالیٰ نے دے دیاہے ، اور جومیرے تصرف میں ہے وہی اصلی ہے، آب دار ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے موتی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی خیال شاعر کو اپنی قیمت بڑھانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ شاعر کو اپنے مقابلے میں دنیا کی ہر کرنسی کم قیمت لگتی ہے :

    جہاں بھر کی کرنسی سے بالاتر ہوں میں
    فروخت کرنا ہو خود کو پانچ دس میں نہیں

    یہاں نفی اور اثبات کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی اپنی ذات کا اثبات کرتا ہے تو خود بہ خود بہت سی چیزوں کی نفیہو جاتی ہے۔ یہ احساس اردو غزل کو غالب نے دیا ہے۔ غالب نے ہمیشہ اپنے آپ کو نایاب سمجھا۔ غالب آسانی سے کبھی کسی کو دستیاب نہیں ہوئے۔ منور احمد کے بعض اشعار میں ہمیں یہ احساس ملتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:

    طے کرے فاصلہ وہ بھی تو کچھ
    ہم سے ملنا ہے تو اِس پار آئے

    اُس پار سے اِس پار آنا جواں مردی کا کام ہے۔ سمندر کو پار کرنا ۔ لہروں سے نبرد آزمائی، طوفانوں سے دو دو ہاتھ۔ ان خطروں سے بچ گئے تو ہم سے مل پاؤگے۔ ورنہ ممکن نہیں۔ ہم وہ گوہرِ نایاب ہیں جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
    غالب نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کئی طرح کے اشعار کہے ہیں۔ ایک شعر اس طرح بھی کہا ہے :

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    تمنا کے دوسرے قدم کے متلاشی غالب کی نظر میں دنیا کبھی کبھی بہت حقیر ہو جاتی ہے۔ بچوں کا کھلونا، کھیلو اور توڑ دو۔ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ منور احمد نے بھی اس طرح کی راہ سے گزرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے زمانے اور مزاج کے لحاظ سے ذرا سا بدلا ہوا مزاج ہے ان کا :

    میرے ماضی کے کھلونے ہیں منورؔ یہ تو سب
    تم نے بس قصّہ سنا ہے خنجر و شمشیر کا

    عالم انسانیت کی ایک مکمل تاریخ سمٹ آئی ہے اس شعر میں۔ یہ خنجر، یہ شمشیر، یہ تیر وتفنگ ایسے کھلونوں کی مانند ہیں جن سے میں ماضی میں کھیل چکا ہوں۔ یہاں موضوعات میں یکسانیت ضرور ہے۔ لیکن اظہار کا طریقہ بدل چکا ہے۔ماضی کے اللہ والوں کی جوانمردیاں شاعر کے احساسات کو گھیرے ہوئے ہیں ، منورؔ ابوابِ تاریخ کے بحور میں ڈوب چکا ہے، الفاظ بدل چکے ہیں۔ اسلوب نگارش میں تبدیلی آ چکی ہے۔ غالب کا زمانہ اور تھا اور منور کا زمانہ اور ہے۔ غالب کی زبان دوسری تھی منور کی زبان دوسری ہے۔ لیکن دنیا کی حقیقت جو دوسو سال پہلیغالب کی نظروں میں تھی آج دو سو سال بعد بھی دنیا کی حقیقت منورؔ احمد کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔دلّی کے اسد اللہ خان غالب ؔنے کہا تھا ؎
    ہوتا ہے شب و روز ہمیشہ مرے آگے

    پیرمحل کے پیرِ سخنوراں منورؔ احمد کنڈے کہتے ہیں تم جو آج خنجر وشمشیر کی باتیں کرتے ہو۔ میرے بازو کل ان کھلونوں سے کھیل چکے ہیں۔

    مرزا غالب اور منور احمد کے درمیان یہاں موازنے کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ دو صدیاں بیت چکی ہیں۔۔۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانوں کی عکاسی کی ہے۔ دردمندی اور تفکر کا احساس ہر زمانے میں ہر آدمی کو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ برتری کا جذبہ جب اذہان سے پھوٹ کر زبانوں پر آتا ہے تو ذرے بھی خود کو سورج کے پیکر میں ڈھال لیتے ہیں۔ انسان تو ان ذرّوں سے بالاتر ہے۔ منورؔ احمد کنڈے ایک شاعر کا نام ہے ، اورشاعر عام انسان سے بالاتر ہوتاہے۔ یہ حسن و عظمت خالقِ کائنات کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔

    نمونہ تحریر:
    ۔۔۔۔۔
    (نظم)
    ۔۔۔۔۔
    بُلبلے
    ۔۔۔۔۔
    تھا کنارہ وہ کسی تالاب کا
    محو تھا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
    آ رہا تھا صاف پانی میں نظر
    بادلوں نے آسماں گھیرا ہوا
    پھر گھٹا سے اِک چمک پیدا ہوئی
    اور منور ہو گئی ساری زمیں
    ابر سے آئی گرج کی اِک صدا
    اور بارش کا سماں پیدا ہوا
    سطحِ پانی پر ابھرتے جا بجا
    بلبلے لگتے تھے کتنے خوشنما
    ایک لمحہ رُک کے مِٹ جاتے تھے وہ
    اِک پتے کی بات کہہ جاتے تھے وہ
    زندگی کی ہے حقیقت اس قدر
    کیوں نہیں آتا بشر کو یہ نظر
    موت کیا ہے اور کیا ہے زندگی
    ہم سے پاؤ اے منورؔ آگہی
    ہے ہماری اور تمھاری بات ایک
    اور قضا کے سامنے اوقات ایک
    بلبلے نے اک سبق سکھلا دیا
    رہ گیا میں سوچ میں ڈوبا ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آسماں سے زمین پر اُترا
    لفظ روحِ حسین پر اُترا
    دورِ قدما سے اِرتقا پا کر
    ذہنِ انساں مشین پر اُترا
    ہم ہیں شاہد کہ دورِ حاضِر میں
    رنگِ حِرفت ہے چین پر اُترا
    مارِ قاتِل ہے جس کا شیدائی
    وہ سپیرے کی بین پر اُترا
    ہم تو محکوم لاالہ کے رہے
    اُن کا ایماں ہے تین پر اُترا
    ایک سجدہ دعا کا مسکن تھا
    مہ جبیں کی جبین پر اُترا
    جس نے پائی قلم کی سُلطانی
    وہ ہی دل کے یقین پر اُترا
    راز ہر صدق کا منورؔ جی
    ہے محمدؐ کے دین پر اُترا

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1) پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ ’باغاں دے وچکار‘ ۲۰۰۳ء
    ۔ (2) اردو شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ 2005ء ’بیداردل‘
    ۔ (3)طاقِ دل
    ۔ (اردو شاعری کا مجموعۂ دوم)
    ۔ (4)پنجابی شاعری کا مجموعۂ دوم
    ۔ ’پینگ ہُلارے‘
    ۔ (5)ابرِ قبلہ (مذہبی منظومات
    ۔ 2010ء)
    ۔ (6)حرفِ منورؔ منظومات
    ۔ 400 صفحات 2010ء
    ۔ (7)لختِ دل
    ۔ اردو وپنجابی کلام
    ۔ 2011ء
    ۔ (8)بحرِ خاموش
    ۔ اردو کلام غزلیات ومنظومات
    ۔ 2012ء
    ۔ (9)اوراقِ شفاء ہومیوپیتھی
    ۔ 2012ء
    ۔ (10)رودِ وفا
    ۔ شعری مجموعہ (اردو)
    ۔ 2012ء
    ۔ (11)برگِ شفاء
    ۔ ہربل ہومیوپیتھی 2012ء
    ۔ انگریزی زبان میںہربلزم
    ۔ او رہومیوپیتھی پرعلی الترتیب
    ۔ چار اور پانچ جلدوں پر
    ۔ مشتمل کار سپانڈس کورس)
    ۔ (12)بامِ دل
    ۔ (اردو شاعری)
    ۔ (13) دُرِ منور
    ۔ (مذہبی مثنوی منظومات)
    ۔ (14)شبیہِ دل
    ۔ (زیرِ ترتیب)

    ایوارڈ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیلو آف دی چارٹرڈ سوسائٹی آف ہومیوپیتھی اینڈ نیچرل تھیراپیوٹکس لندن۔۔۔
    ۔ (2)پولنگ پرنسپیلیٹی سے متعدد اعزازات (نوبل بردہڈ ممبر شپ۔۔۔ نائٹ ہڈ۔
    ۔ (3)ڈاکٹر آنریز کوسا۔۔۔۔ اور مزید نوبیلیٹی ٹائٹلز

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ  فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین مرحوم مشتاق انور اور امینہ خاتون کے ہاں کولکاتا میں 19 دسمبر 1999 پیدا ہوئیں، انہوں نے
    ایم-اے (اردو، بی-ایڈ اور ڈی-ایل-ایڈ تک تعلیم حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں انہوں نے 2017 میں باقاعدی شاعری کا آغاز کیا-

    ان کے پسندیدہ شاعر میر تقی میر، مرزا غالب، احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکراور احمد کمال حشمی، خورشید طلب ہیں ان کا مشغلہ شعری و نثری کتب کا مطالعہ کرنا، سیر و تفریح کرنا، کلاسیکی شعرا کی غزلیں اور پرانے گانے سننا ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہوا
    دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا
    خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم
    پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا
    ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر
    گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا
    مجھ کو نہیں قبول تمہارا کوئی جواز
    اب روز روز کا یہ بہانہ بہت ہوا
    اوروں کے درد و غم کا پتا چل گیا ہے نا
    اب تو ہنسو کہ رونا رلانا بہت ہوا
    تعبیر چاہیے مجھے، تدبیر کیجئے
    آنکھوں کو خواب واب دکھانا بہت ہوا
    فرزاؔنہ کوئی بات غزل میں نئی کہو
    ذکرِ وصال و ہجر پرانا بہت ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
    گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
    میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
    میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
    پگھل نہ جاؤں ترے جذبوں کی تپش سے میں
    نگاہیں اپنی مرے چہرے سے ہٹا تو سہی
    لحاظ پچھلے تعلق کا اس نے کچھ تو کیا
    مری صدا پہ وہ پل بھر کو ہی رکا تو سہی
    میں اپنے شعروں کے پیکر میں ان کو ڈھالوں گی
    تو اپنا حالِ غمِ دل کبھی سنا تو سہی
    طلب نہیں نئے قول و قرار کی مجھ کو
    کیا تھا مجھ سے جو وعدہ کبھی، نبھا تو سہی
    میں کیسے کہہ دوں کہ الفت میں کچھ نہیں پایا
    ملا نہ وہ، نہ سہی، اس کا غم ملا تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے
    اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے”
    تم یاد تو آتے ہو مگر آتے نہیں ہو
    یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے
    ہے دور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی
    اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے
    گہرائی کا اندازہ نہیں سطح سے ممکن
    جذبات کو جو ناپے وہ پیمانہ نہیں ہے
    اے شمع دوانے ترے ہیں کتنے پتنگے
    ہو جائے جو قربان وہ پروانہ نہیں ہے
    اندازِ سخاوت مرا شاہانہ ہے لیکن
    اندازِ طلب اُس کا فقیرانہ نہیں ہے
    دریافت کیا میں نے کہ ہے کیوں یہ اداسی
    لوگوں نے کہا بزم میں فرزاؔنہ نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
    اذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دھواں بھی ہر سو
    اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
    سارے زخموں کو ہرے کرتا ہے اک تیرا خیال
    یاد تیری مرے زخموں کی نگہبان ہے کیا
    زخم اب کوئی نیا دیتا نہیں ہے مجھ کو
    بے وفا اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہے کیا
    آشنائی کی جھلک اس کی نگاہوں میں نہیں
    آنے والے کسی خطرے کا یہ امکان ہے کیا
    ایک اک پل یہ جدائی کا ہے صدیوں پہ محیط
    اور اس طرح سے جینا کوئی آسان ہے کیا
    درد اتنا ترے لہجے میں کہاں سے آیا
    تیرے کمرے میں کہیں میر کا دیوان ہے کیا
    آندھی سی اٹھتی ہے فرزاؔنہ کے دل میں ہر پل
    اس کے سینے میں بھی برپا کوئی طوفان ہے کیا

  • رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    آخری شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے مجاہد آزادی اورانقلابی 11 جون 1897ء کو اتر پردیش کےگاؤں شاہ جہان پور میں پیدا ہوئے رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔

    وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔

    بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

    11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

    بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔

    بسمل ان کا تخلص تھا بسمل کے علاوہ رام اور نامعلوم کے نام سے مضمون وغیرہ لکھتے تھےرام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔

    كاكوری سانحہ کا مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا تھا۔ پنڈت جگت نارائن ملا سرکاری وکیل کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ملزمان کے لئے ” ملازم ” لفظ بول دیا۔ پھر کیا تھا، پنڈت رام پرساد بسمل نے جھٹ سے ان پر یہ چٹیلی پھبتی کسی:

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے
    عدالت کے ادب سے ہم یہاں تشریف لائے ہیں
    پلٹ دیتے ہیں ہم موج حوادث اپنی جرات سے
    کہ ہم نے آندھیوں میں بھی چراغ اکثر جلائے ہیں

    جب بسمل کو شاہی كونسل سے اپیل مسترد ہو جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی ایک غزل لکھ کر گورکھپور جیل سے باہر بھجوائی

    مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا !
    دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا !

    مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال ،
    اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا !

    اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں ،
    پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا !

    کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے ،
    یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا !

    آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ ،
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا !