Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    پیدائش:21 دسمبر 1804ء
    لندن
    وفات:19 اپریل 1881ء
    مے فیئر
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مذہب:کلیسائے انگلستان
    (اپنی زیادہ تر زندگی میں)
    یہودی (13ویں سال تک)
    جماعت:کنزرویٹو پارٹی
    رکن:رائل سوسائٹی
    پیشہ:سیاست داں، ناول نگار
    مصنف، سوانح نگار
    زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ گلاسگو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)رائل سوسائٹی فیلو
    ۔ (2)آرڈر آف گارٹر
    وزیر اعظم مملکت متحدہ
    مدت منصب
    ۔ 20 فروری 1874 – 21 اپریل 1880
    حکمراں، ملکہ وکٹوریہ
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1868 – 1 دسمبر 1868
    قائد حزب اختلاف
    مدت منصب
    ۔ 01 دسمبر 1868 – – 17 فروری 1874
    چانسلر
    مدت منصب
    ۔ 06 جولائی 1866 – 29 فروری 1868
    مدت منصب
    ۔ 26 فروری 1858 – 11 جون 1859
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1852 – 17 دسمبر 1852

    بنجمن ڈزریلی (پیدائش: 1804ء، انتقال: 1881ء) یہودی نژاد برطانوی وزیر اعظم۔ ابتدا میں ناول لکھتے تھ۔ 1837میں پارلیمنٹ کا رکن بنے۔ 1852ء میں وزیر خزانہ اور 1837ء میں وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی ہار گئی لیکن نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر 1874ء سے 1880ء تک پھر وزیر اعظم رہے۔ ان کے عہدِ وزارت میں مزدوروں کی بہبود کے لیے کارخانوں میں نئی اصلاحات کی گئیں۔ نہر سویز کے حصص خریدے گئے اور ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی ملکہ بنی۔

  • نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں ” جوگن” نظر آئے

    : نینا جوگن

    تاریخ ولادت:21 دسمبر 1964ء
    تعلیم:بی اے (آنرز) فرسٹ کلاس فرسٹ
    بی ایڈ، مولوی، عالم، فاضل
    تصنیف:تمھارے نام (شعری مجموعہ)
    فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی
    لکھنؤ کے تعاون سے شائع
    مصروفیات:پڑھنا، لکھنا اور کھانا پکانا
    ادارت:معاون مدیر، سہہ ماہی ”کوہسار“ جرنل
    پتا:کوہسار، بیکھن پور-3، بھاگل پور-

    نیناجوگن:کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فرضی نام ہے، حقیقت جو بھی ہو لیکن اس نام سے بہت سی کہانیاں شائع ہوئی ہیں، 1974ء کے بعد ہندوستان کے بیشتر رسائل میں ان کے افسانے شائع ہورہے ہیں، ان کے افسانوں میں زندگی کے حقائق اور اندرونی کیفیات کی سچی اور تیکھی ترجمانی ملتی ہے۔
    (’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم 1996ء‘‘)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کوئی رند ، نہ ساقی ، نہ چھلکتی پیالی
    کہیں ٹوٹا ہوا شیشہ کہیں ساغر خالی
    آگیا روپ جو سبزے پہ تو کلیاں چٹکیں
    غنچہ و گل میں تلی خیر سے ڈالی ڈالی
    پھر چھماچھم کی بہاروں سے کھِلے دل کے کنول
    صحنِ گلشن میں ہوا آگئی اُتّر والی
    ہائے کیا وقت ہے کیا فصل ہے کیا موسم ہے
    کیف سے جس کے ہر اک آنکھ ہوئی متوالی
    یہ ہوائیں یہ نظارے یہ بہاریں یہ سماں
    دیکھتی ہے وہی پتلی جو ہے قسمت والی
    کوئی سنتا ہی نہیں نیناؔ کہانی آکر
    جی میں آیا تو خود اپنے ہی لئے دُہرالی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جذبِ محبت تری تاثیر سے شاید
    کچھ راہ پہ آئے کہ سرِ رہ گزر آئے
    اے دل کبھی آنا نہ لگاوٹ میں کسی کی
    ظاہر میں وہ اپنے ہیں پہ باطن میں پرائے
    ہرجائی کہا میں نے تو وہ غصہ میں آکر
    آنکھوں میں ابھی تھے ابھی دل میں اُتر آئے
    اڑتا ہے جبیں سائی سے سنگِ درِ جاناں
    یہ میری کرامت ہے کہ پتھر کے پتر آئے
    ملتے ہیں سرِ راہ تو کرتے ہیں شکایت
    جاتی ہوں تو کہتے ہیں کہ کہئے کدھر آئے
    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں جوگنؔ نظر آئے

  • صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    21 دسمبر…… آج صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش ہے۔
    صابرہ سلطانہ (اصل نام رابعہ) منگل 21 دسمبر 1945 کو بمبئی، بھارت میں ایک انتہائی قدامت پسند گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کی اباو اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔
    اس کے دوستوں کو یاد ہے کہ فلم ڈائریکٹر اے ایچ صدیقی نے صابرہ میں اداکاری کی زبردست صلاحیت کو پہچانا اور ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں اسے فلم ‘انصاف’ (صابرہ کی پہلی فلم) کے لیے سائن کیا تھا۔ ‘انصاف’ میں نیلو اور کمال نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ کراچی میں بنائی گئی تھی۔ اگلا، شباب کرنوی، جو اس وقت کے ایک مستحکم ہدایت کار تھے، نے انہیں اپنی دو فلموں، ‘جمیلہ’ اور ‘شکریہ’ کے لیے لیا۔ ان دونوں فلموں میں صابرہ نے مرکزی کردار ادا کیا، بعد ازاں وہ معروف ہدایت کار حسن طارق کی فلم ‘کنیز’ میں نظر آئیں۔ صابرہ نے ایک بوڑھی عورت کے اپنے سب سے زیادہ چیلنجنگ کردار کے ساتھ پورا انصاف کیا، جسے اس کی اپنی کوئی غلطی نہ ہونے کے ناانصافی کا نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے ‘کنیز’ میں اپنے جاندار کردار کے لیے بے پناہ تعریفیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ ‘کنیز’ نے آخر کار انھیں ایک اعلیٰ ترین اداکارہ کے طور پر قائم کیا، جس کی وجہ ان کے شاندار فلمی کیرئیر میں اہم کردار ادا کرنے والی بہت سی چیزوں میں سے ایک وجہ صابرہ کی تھی۔ چہرے، پر سکون، مسکراہٹ، جس نے پرجوش عوام میں اس کا نام روشن کیا۔ مزید یہ کہ اس کی بے مثال طبیعت میں کچھ ایسا تھا جس نے فلم بینوں کو اپنی فلموں کے لیے لائن لگانے پر مجبور کیا۔ سلور اسکرین کی خوبصورتی صابرہ نے ایک خوبصورت لڑکی کا کردار ادا کیا۔ فلم ‘مجاہد’ میں جو ان کی حقیقی زندگی کے بہت قریب تھی، اس لحاظ سے کہ وہ ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی تھی۔ اس کا ملکہ کا کردار تھا، جس نے فلم میں ان کی موجودگی کو چار چاند لگا دیا۔

    فلم’عادلیںں صابرہ نے اپنی تمام فلموں میں اپنا کام قابل تعریف انداز میں کیا۔ سخت مقابلے کے زمانے میں، انہوں نے ‘اعلان جیسی فلم میں اپنے بے شمار مداحوں کی داد حاصل کی۔ اس نے فلم ‘برما روڈ’ میں شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ سحرا، جس کے گانے آج تک مقبول ہیں۔ صابرہ نے فلم ’بہادر‘ میں اپنے کردار سے لاکھوں لوگوں کو مسحور کیا تھا۔ کوئی پرانی یادوں کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ‘شام سویرا’ اور احمد سرتاج کی فلم ‘ضدی’ جیسی بلاک بسٹر میں صابرہ کی جذباتی اداکاری کو یاد کرتا ہے، جس نے ساٹھ کی دہائی کو متاثر کیا تھا۔ مزید برآں، سپر ہٹ فلموں کے وسیع سلسلے میں، ان کے مخلص پرستار صابرہ کی فلموں ‘لگان’ اور ‘بزدل’ میں اداکاری کو کبھی نہیں بھولیں گے، جس میں ان کے ناقابل بیان جذبے اور احساس کو شامل کیا گیا تھا۔

    صابرہ کی فلمیں ‘چودہ سال’، ‘شریک حیات’، اور ‘معجزہ’ میں اپنے شدید محسوس اور پرکشش کرداروں کے لیے بہت قدر کی جاتی ہیں، جس نے ان کی شہرت کو بلندیوں تک پہنچایا۔اپنے فلمی کیرئیر کے دوسرے مرحلے میں انہوں نے متعدد فلموں میں کریکٹر رول ادا کیا۔

    جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، چونکہ صابرہ کا تعلیمی پس منظر مضبوط تھا، اس لیے وہ لاہور میں اپنے ہی لڑکیوں کے اسکول میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

    ان کی فلموں کی فہرست یہ ہیں: انصاف، تم نہ مانو، یہودی کی لڑکی، شکریہ، جمیلہ، ماں کا پیار، چھوٹی بہن ، بہو بیگم، عید مبارک، مجاہد، کنیز، معجزہ ، میرا سلام، عادل، انسان، نغمہ صہرا ، اعلان ، برما روڈ، شام سویرا، 14 سال، شریک حیات، سونے کی چڑیا ، صایقہ ، تاج محل، بزدل، دل دیکے دیکھو ، تخت اور تاج، آنسو بن گئے موتی، نورین، چاند سورج، غرناطہ ، چراغ کہاں روشنی کہاں، عجب خان آفریدی، بدلے گی دنیا ساتھی، دل ایک آئینہ ، سہاگ ، فرض، سرحد کی گود میں، نیا راستہ، زخمی، رنگیلا اور منور ظریف، جنگ اور امن ، انتظار، وطن مینا، مستانی محبوبہ، مسال، ہیرو، مرد جینے نہیں دیتے، قسمت، بالی جٹی، جگ ماہی، شرنگ دا بنگرو، تیرے پیار میں، جانور ، اور چلو عشق لڑائیں شامل ہیں ۔

  • حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    دنیا میں ایک سے ایک حسین و خوبصورت پھل موجود ہیں . کینیڈا سے لیکر جنوبی اشیاء تک نارنجی بیر اگر آپ ان بیر کے درختوں پر دیکھیں گے تو دل فوری کھانے کو مچلے گا. سردی کے موسم میں شوخ سرخ رنگ کے بیر یورپی جنگلات میں دکھائی دیتے ہیں. بندہ دیکھتا ہی رے جائے.

    لیکن یہ آپ کھا نہیں سکتے. اگر غلطی سے کھا بھی لیا تو پچھتاتے رے جائیں گے. ہمارے بیر بظاہر اتنے خوبصورت نہیں لیکن آپ بے فکر کھا سکتے ہیں. بظاہر بدشکل مٹیالا چیکو بھی اندر سے مٹھاس کا خزانہ ہے. سمندر کا نیلگوں پانی بے تحاشا ہے. لیکن کسی پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا. صحرا میں بارش کا پانی سنبھالے تالاب بھلے گدلا ہو لیکن انسان اور مویشی اسے پی سکتے ہیں.

    حسن پر ہم کچھ دیر آنکھ جھپکنا ضرور بھول جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری آنکھوں کو پندرہ سے انیس ہزار بار روز جھپکی لینی ہی ہوتی ہے. ہمیں نیند لازم چاہئے اور یہ آنکھیں سب کچھ بھول کر بند ہو جاتی ہیں. لیکن دل ہمارا چوبیس گھنٹے دھڑکتا ہے. اچھے اخلاق اور اچھے لوگوں کا دل خوبصورت ہوتا ہے. ایسے لوگ دل کو اچھے لگتے ہیں.

    حسن و خوبصورتی کا تعلق آنکھوں سے جوڑ بناتا ہے اس لئے ہر حسن کو زوال ہے. جبکہ اچھائی اور دل کی خوبصورتی نسل سے جوڑ بناتی ہے اس لئے وقت کے ساتھ اسکا حسن دوبالا ہوتا چلا جاتا ہے. یہ حسن اللہ کی نعمت اور ایسے حسین لوگ زندگی میں ہوں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے.

  • صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    مٹی ملے گدلے پانی کو کسی برتن میں رکھ دیں اسے کچھ وقت دیں تو اس کی مٹی آہستہ آہستہ تہہ پر بیٹھ جاتی ہے. آپ زندگی کی سائنس اگر جانتے ہوں تو یہی کام پھٹکری یعنی ایلم زیادہ جلدی کر لیتا ہے. کیونکہ ایلم پانی کی اساسیت سے مل کر ایک جیلیٹن ایفیکٹ بناتا ہے جو پانی میں موجود ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر تہہ پر بیٹھ جاتا ہے.

    یہی صبر اور شُکر ہے. زمین پر موجود ہر مسافر انسان کے اس سفر کا زاد راہ ہے. صبر ہمارے پر اُمید انتظار کا نام ہے اور شُکر بندگی کی سائنس ہے. صبر ہمیں وقت سکھا دیتا ہے لیکن شُکر ہمیں خود سیکھنا ہوتا ہے. ہماری اکثریت شُکر پر بلکل ویسے ہی کنفیوز ہوتی ہے جیسے یہ سائنس پر ہو جاتی ہے. شکر کوئی قرض نہیں ایک احسان ہے.

    قرض ایک حساب ہے. جبکہ احسان ایک احساس ہوتا ہے. قرض بھلے کوئی مال ہو اسباب ہو خدمت ہو اسکا حساب ممکن ہے. اور لوٹایا بھی جا سکتا ہے. احسان جب کے بس ایک احساس ہوتا ہے جو ہم تسلیم کر لیتے ہیں. جیسے ماں باپ کی اپنی اولاد سے محبت ایک احسان ہے. آپ زندگی بھر یہ احسان اتار ہی نہیں سکتے.

    ہمارا یہ تسلیم کرنا شکر ہے. جب ہم اللہ رب العزت کے خود پر احسانات شمار کرنے شروع کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہ بے حساب ہیں. یہی احساس ہماری ذات کی پوشیدہ بنیادوں میں وہ کیفیت تخلیق کرتی ہے جو سوچ و شخصیت کے آلودہ ذرات کو صاف کر کے ہماری سوچ کو شفاف بنا دیتی ہے. یہی شفافیت وہ فوکس یا ارتکاز دیتی ہے جو روح کو سیراب و مطمئن رکھتی ہے.

    قرآن سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 147
    مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيۡمًا ۞

    اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا ؟ اللہ بڑا قدردان ہے (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔

  • ماں — نعیم گلزار

    ماں — نعیم گلزار

    بائیس تئیس برس قبل کی بات ہے۔ ماں جی سے لڑائی کے نتیجے میں گھر سے بھاگا اور لاہور جا نکلا۔ وہاں کچھ عرصہ انڈر ورلڈ کے لوگوں کے ہتھے چڑھا رہا۔ پھر کچھ اس ماحول سے اکتاہٹ، کچھ لاہور شہر کی نفسا نفسی اور پھر ماں جی کی یاد۔۔ ان تمام عوامل نے مجبور کیا تو واپس گھر بھاگ آیا۔

    واپس آکر دوبارہ نئے سکول میں داخلہ لیا تو میرا تعارف وکی سے ہوا۔ وکی کا گاؤں میرے گاؤں سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ تھا۔ وکی خبطی سا تھا۔ جلدباز طبعیت، ہر وقت کھپتے رہنا، باتیں زیادہ اور پڑھائی کم کرنا، اسکے مزاج کا حصہ تھا۔ البتہ اسکو پیسہ کمانے کا بڑا شوق تھا۔ مجھے جتنی اس سے چڑ ہوتی تھی۔ وہ اتنا ہی میرے قریب ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ مالی حالات بھی اسکے مخدوش سے تھے۔ جسکی وجہ سے وہ کالج نہ جا سکا۔ جبکہ ہم آگے ایف ایس سی میں چلے گئے۔ بعد میں ہنگامہ زیست میں کبھی اسکی خبر ہی نہ لگی کہ وہ کن حالات میں ہے۔ بیس سال بعد اک شادی پہ ملاقات ہوئی تو ایک عدد کار کے ساتھ وہ اب سر ملک وقاص بن چکا تھا۔ شاید کہیں اس نے مقولہ پڑھ لیا تھا۔

    ” علم بڑی دولت ہے۔”

    پھر اسی مقولے کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے کوئی پرائیویٹ سکول بنایا اور بعد میں بناتا ہی چلا گیا۔ استفسار پہ پتہ چلا چھ کے قریب پرائیویٹ سکول اس وقت چلا رہا ہے۔ پیسے کی طلب اب بھی اسکی گفتگو میں واضح جھلک رہی تھی۔ اور بیس سال کے بعد بھی اسکی جلدباز طبعیت میں کوئی ٹھہراؤ نہیں آیا تھا۔ رہائش بھی بیوی بچوں سمیت اس نے شہر میں رکھ لی تھی۔ البتہ اسکی ماں اب بھی گاؤں میں ہی رہ رہی تھی۔

    آج میں اپنے گاؤں سے متصل قصبہ کے مین اڈے پہ کھڑا کچھ خرید و فروخت کر رہا تھا۔ کہ یکایک اک کار میرے پاس آ کر رکی۔ ٹو پیس سوٹ کے ساتھ ملک وقاص صاحب اندر سے برآمد ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی جپھی ڈالی اور کہنے لگا:

    نیمے یار۔۔ اچھا ہوا تو مل گیا۔ مجھے بہت جلدی ہے۔ ماں جی ساتھ گاڑی میں بیٹھی ہیں۔ انکو گاؤں پہنچانے کے لیے کوئی رکشہ کروا دو۔ کچھ دفتری امور نپٹانے ہیں، میں واپس جا رہا ہوں۔ تین سو روپیہ کرایہ میں نے ماں جی کو دے دیا ہے۔

    یہ سن کر میری آنکھیں تو ساکت رہیں البتہ میں نے کار میں جھانکا تو ماں جی کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔۔!!!!

  • قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    عائشہ بنت یوسف باعونیہ مرشدہ( پیدائش سنہ 1460 ء وفات21 دسمبر 1516ءدمشق) اور صوفی شاعرہ تھیں، یہ قرون وسطیٰ کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ تھیں۔ وہ بیسویں صدی کی دیگر خواتین کی بہ نسبت بجا طور پر سب سے زیادہ عربی کلام لکھنے والی خاتون ہیں۔ ان کی تحریروں میں ادبی صلاحیت، ان کے خاندان کا صوفیانہ رجحان صاف جھلکتا ہے۔ دمشق میں پیدا ہوئیں اور وہیں وفات پائیں حالانکہ کا ان آبائی اصلی وطن اردن کا ”باعون“ شہر ہے، اسی کی طرف نسبت کی وجہ سے باعونیہ کہا جاتا ہے۔

    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ کے والد یوسف (مولود 805/1402 قدس، متوفی 880/1475 دمشق) صفد، طرابلس، حلب اور دمشق کے قاضی القضاۃ تھے اور اپنے مشہور خاندان ”باعونی“ کے اہم رکن تھے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے مشہور علما، فقہا اور شعرا میں شمار ہوتا تھا۔ عائشہ باعونیہ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم اور خاندان کے دوسرے ذی علم حضرات سے حاصل کیا۔ ان سے قرآن، حدیث، فقہ اور شاعری پڑھی، آٹھ سال کی عمر سے پہلے ہی قرآن کو حفظ کر لیا تھا۔

    عائشہ نے صوفی جمال الدین اسماعیل ہواری اور ان کے خلیفہ محی الدین یحیی اورماوی سے ملاقات کی اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا، دونوں مرشد پندرہویں اور سولہویں صدی کے مشہور اور عظیم مرشد تھے سنہ 1475 عیسوی میں عائشہ باعونیہ نے مکہ کا سفر کیا اور حج ادا کیا۔

    عائشہ باعونیہ کی شادی احمد بن محمد بن نقیب اشرف (متوفی 909/1503) سے ہوئی، جو دمشق کے مشہور علمی خاندان ”علید“ سے تھے۔ ان سے دو اولاد، ایک لڑکا عبد الوہاب اور ایک لڑکی برکت ہوئی۔

    قاہرہ میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 919 ہجری مطابق 1513 عیسوی میں عائشہ اور ان کے بیٹے دمشق سے قاہرہ ہجرت کر گئے، پھر 923ھ/1517ء میں دمشق واپس آ گئے۔ مصر جانے کا مقصد بیٹے کے عملی میدان کی حفاظت کرنا تھا، راستے میں ”بلبیس“ کے قریب ڈاکوؤں کے گروہ نے انھیں لوٹ لیا اور سارا سامان جس میں عائشہ کی کتابیں بھی شامل تھیں سب کو چھین لیا۔ قاہرہ میں ماں اور بیٹے محمود بن محمد بن اجا کی ضیافت میں تھے، جو مملوکی سلطان الاشرف قانصوہ غوری کے خاص معتمد اور وزیر خارجہ تھے۔ ابن اجا نے علمی اور فکری حلقوں میں شامل کرنے کے لیے عائشہ کی بہت مدد کی، عائشہ نے ان کے لیے ایک تعریفی قصیدہ بھی تحریر کیا تھا۔ قاہرہ میں عائشہ نے قانون کی تعلیم حاصل کی، انھیں قانون کی تعلیم دینے اور شرعی قوانین (فتاوی) جاری کرنے کا اجازت نامہ (لائسنس) میں ملا تھا اور ایک فقیہہ کی حیثیت مل گئی۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 922ھ مطابق 1516ء میں سلطان الاشرف قانصوہ غوری کی حلب میں جنگ مرج دابق میں شکست کے بعد عائشہ، اپنے بیٹے، ابن اجا، شمس سفیری اور دوسرے علما کے ساتھ قاہرہسے رخصت ہو گئیں۔ یہ ان کی زندگی کا غیر معمولی حادثہ تھا۔ عائشہ باعونیہ دمشق واپس چلی گئیں، جہاں سنہ 923ھ مطابق 1517ء میں وفات ہوئی۔

    علمی کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ بیسویں صدی کی سب سے زیادہ لکھنے والی خاتون ہیں، تھامس ایمیل ہومرین کے مطابق عائشہ کے بیشتر کام ابھی تک نا معلوم ہیں، پھر بھی جو کام منظر عام پر آئے ہیں ان میں سب کچھ یہ ہیں:

    ۔ (1)دیوان الباعونیہ
    ۔ (2)درر الغائص فی بحر المعجزات و الخصائص
    ۔ (3)الفتح الحقی من فیح التلقی
    ۔ (4)الفتح المبین فی مدح الامین
    ۔ (5)الفتح القریب فی معراج الحبیب
    ۔ (6)فیض الفضل و جمع الشمل
    ۔ (7)فیض الوفا فی اسماء المصطفی
    ۔ (8)الاشارات الخفیہ فی منازل العالیہ
    ۔ (9)مدد الودود فی مولد المحمود
    ۔ (10)الملامح الشریفہ فی الآثار اللطیفہ
    ۔ (11)المورد الاہنی فی المولد الاسنی
    ۔ (12)المنتخب فی اصول الرتب
    ۔ (13)القول الصحیح فی تخمیس بردۃ المدیح
    ۔ (14)صلاۃ السلام فی فضل الصلاۃ و السلام
    ۔ (15)تشریف الفکر فی نظم فوائد الذکر
    ۔ (16)الزبدۃ فی تخمیس البردہ

  • معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور

    نجم آفندی اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری کے جدید اصناف شاعری میں نئے تجربوں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

    نام اور خاندان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔

    کلام کی قدر دانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاندانی احوال کے زیر اثر نجم کم عمری سے شاعری کرنے لگے۔ انھوں نے اپنی مشہور نظم در یتیم لکھنؤ میں سنائی تھی۔ اس نظم پر بولی لگائی گئی تھی اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے راجا راولپنڈی نے اسے 5600 روپیوں میں خریدا تھا (جو 1910ء میں ایک چونکانے والی قیمت تھی)۔ رقم کی وصولی کے بعد نجم نے اسے یتیم خانے کے حوالے کر دیا تھا۔

    ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی نجم ”کسان“، ”مزدور کی آواز“، ”ہماری عید“ جیسے موضوعات کو اپنے شاعرانہ کلام کا حصہ بنا چکے تھے نجم اپنی زندگی کے بعد کے ایام میں خالصتًا مذہبی شاعری اور مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔

    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    نجم نے کئی مرثیے، نوحے، قصائد اور رباعیات قلم بند کیں جنھیں بعد میں ”کلیاتِ کائناتِ نجم“ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا تھا۔

    ہجرت اور انتقال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپریل 1971ء میں نجم آفندی ہندستان سے ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے۔ وہ کراچی میں بس گئے اور 21 دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور
    پھر ٹھہر گیا قافلۂ درد سنا ہے
    شاید کوئی رستے میں مری طرح گرا اور
    اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر
    جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور
    منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا
    تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور
    اللہ گلہ کر کے میں پچتایا ہوں کیا کیا
    جب ختم ہوئی بات کہیں اس نے کہا اور
    کیا زیر لب دوست ہے اظہار جسارت
    حق ہو کہ وہ ناحق ہو ذرا لے تو بڑھا اور
    دولت کا تو پہلے ہی گنہ گار تھا منعم
    دولت کی محبت نے گنہ گار کیا اور
    یہ وہم سا ہوتا ہے مجھے دیکھ کے ان کو
    سیرت کا خدا اور ہے صورت کا خدا اور

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے
    اداؤں میں تکلف آ نہ جائے
    تری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں
    کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے
    کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ
    زبردستی اگر بدلا نہ جائے
    محبت راہ چلتے ٹوکتی ہے
    کسی دن زد میں تو بھی آ نہ جائے
    وہاں تک دین کے ساتھی ہزاروں
    جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ جائے
    ترے جوش کرم سے ڈر رہا ہوں
    دل درد آشنا اترا نہ جائے
    کہاں تم درد دل لے کر چلے نجمؔ
    مزاج درد دل پوچھا نہ جائے

  • لئوپولڈ سیدار سینگور:ادب کی دنیا کا معروف نام

    لئوپولڈ سیدار سینگور:ادب کی دنیا کا معروف نام

    پیدائش:09 اکتوبر 1906ء
    وفات:20 دسمبر 2001ء
    شہریت:فرانس
    سینیگال
    جماعت:سینیگال سوشلسٹ پارٹی
    مادر علمی:لائیسی لوئیس لی گرینڈ
    مادری زبان:فرانسیسی
    اعزازات:
    ۔ (1)بین الاقوامی نونینو انعام
    ۔ (1985)
    ۔ (2)جواہر لعل نہرو ایوارڈ
    ۔ (1982)
    ۔ (3)پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ
    ۔ (1968)
    ۔ (4)گرینڈ کراس آف دی لیگون آف ہانر
    ۔ (1961)
    ۔ (5)یونیورسٹی آف ویانا کے اعزازی ڈاکٹر
    مناصب
    ۔۔۔۔۔۔
    صدر سینیگال
    ۔۔۔۔۔۔
    برسر عہدہ
    ۔ 06 ستمبر 1960 – 31 دسمبر 1980

    چیئر پرسن آف دی آرگنائزیشن
    ۔۔۔۔۔۔
    آف افریقن یونٹی
    ۔۔۔۔۔۔
    برسر عہدہ
    ۔ 28 اپریل 1980- 01 جولا‎ئی 1980

    لئوپولڈ سیدار سینگور (انگریزی: Léopold Sédar Senghor) ایک سینیگالی شاعر، سیاست داں ہیں اور وہ 1960ء سے 1980ء تک سینیگال کے پہلے صدر تھے۔

  • نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    ’’نامکمل زندگی‘‘ نگارشِ قلم ہے ایک "معذور” بچی کی۔ لیکن میں اس ننھی پری کو ’’معذور‘‘ نہیں کہہ سکتا۔ حقیقت میں معذور اور ڈس ایبل تو وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کے دماغ مائوف، ذہن بانجھ اور قلب پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ ’’نامکمل زندگی‘‘ کے ابتدائی چند اوراق پڑھ کر ہی مجھے عربی کا یہ مقولہ یاد آگیا کہ ’’عدیم البصارۃ لکن مملو بالبصیرۃ‘‘ یہ عرب لوگ ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں، جو آنکھوں کی بصارت سے محروم ہونے کے باوجود بصیرت کے نور سے منور ہو۔ قرآن کریم نے بھی یہی فرمایا گیا ہے: ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحج) حنا سرور بھی ایسی ہی ایک بیٹی ہے، جسے جسمانی معذوری کے باوجود قلب سلیم کی دولت سے نوازا گیا ہے۔

    اس نے نہایت دل نشین انداز میں جسمانی عوارض لے کر دنیا میں آنے والے افراد کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ اپنی تحریر میں قرآنی آیات، احادیث اور واقعات صحابہ کرامؓ کے ساتھ اشعار کا برمحل استعمال کیا ہے۔ حق تعالیٰ اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو بھی جسمانی عوارض والے افراد کو حقیقی معنوں میں ’’اسپیشل افراد‘‘ سمجھ کر ان کے ساتھ ایسے ہی برتائو کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جس کے یہ لوگ مستحق ہیں۔مصنفہ اس کتاب کی اشاعت پر بجا طور مبارکباد کی مستحق ہے۔