Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول  نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرحین چوہدری صاحبہ ایک دبنگ قسم کی ممتاز پاکستانی ادیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس ، اسکرپٹ رائٹر ، سفر نامہ نگار اور شاعرہ ہیں جن کی شہرت بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ 19 دسمبر 1960 کو ، کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کےوالد انور مبشر صاحب ایک بینک آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ان کی مادری زبان ہندکو ہے مگر وہ اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی زبانیں روانی سے بولتی ہیں-

    فرحین چوہدری کا اصل نام شہابہ انور ہے شادی کے بعد شہابہ گیلانی بنیں لیکن پی ٹی وی کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر قاسم جلالی نے ان کا نام شہابہ انور سے تبدیل کر کے فرحین چوہدری رکھ دیا حالانکہ فرحین چوہدری بننے سے قبل ان کا بہت بڑا مواد شہابہ انور اور شہابہ گیلانی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ فرحین چوہدری نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کر رکھا ہے۔

    انہوں نے دوران تعلیم 7 سال کی عمر سے ہی اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا۔ وہ بچپن سے اب تک ادب تخلیق کر رہی ہیں ۔افسانہ ، شاعری ، خاکے ، کالم نگاری اور سکرپٹ میں انہوں نے سخت محنت کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ لٹریری آرٹ اور کلچرل سنںڈیکیٹ کی بانی چئرپرسن کے طور پر بھی گزشتہ 12 سال سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں ۔

    وہ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسی دیوقامت ادبی اور روحانی شخصیات کے بہت قریب رہی ہیں اور ان کی تنظیم” رابطہ” کی پہلی کم عمر ترین رکن اور بعد میں خاتون سیکریٹی رہیں۔ وہ” حلقہ ارباب ذوق” کی دوسری خاتون سیکریٹری بھی منتخب ہوئیں۔ فرحین چوہدری نے سارک ممالک میں کئی سال تک ادبی و ثقافتی طائفوں کی سربراہی کرنے صوفی کانفرنسز کے سیشن کی صدارت کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے 2013 میں سنگارپور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پہلی خاتون پاکستانی لکھاری کی حیثیت سے شرکت کی اور ” جنوبی ایشیا میں خواتین لکھاری اور ان کے موضوعات” کے عنوان سے انگریزی میں مقالہ پڑھا ۔

    لوک ورثہ میں پروگرام ایگزیکٹو ، مین ہیٹن انٹرنیشنل میں ڈائرکٹر پروڈکشن، ایورنیو کانسیپٹ میں ڈائرکٹر پروڈکشن اور ہنجاب اور سٹار ایشیا ٹی وی چینل کی سٹیشن ہیڈ اسلام آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ۔ پی ٹی وی کے لئے کئی مشہور سیریل سیریز اور ٹیلی فلمز لکھیں ۔ جن میں دام رسائی ، ماٹی کی گڑیا ، اشتہار لگانا منع ہے ، چاند میرا بھی تو ہے ، خوشبو ، خواب جو د یکھے آنکھوں نے وغیرہ شامل ہیں ۔

    "پانی پہ نام” سیریل لکس سٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا تھا۔ آئی ایس پی آر اور آئی او ایم کے لئے ڈاکومنٹریز کے علاوہ بھی کئی ڈاکومنٹریز اور ٹی وی پروگرامز بطور ڈائرکٹر بنائے ۔ چار افسانوی مجموعے ، سچے جھوٹ آدھا سچ میٹھا سچ ، شوگر کوٹڈ شعری مجموعہ، سورج پہ دستک اور یاداشتوں کی کتاب ، "مفتی جی اور میں ” چھپ چکی ہیں ۔

    2013 میں سارک لٹریری اور کلچرل ایوارڈ 2019 ممتاز مفتی گولڈ میڈل برائے ادب 2022 گولڈ میڈل منجانب امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 23 ایوارڈ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دیے گئے ان کی 4 نئی تصانیف جلد منظر عام پر آنے والی ہیں۔ فرحین صاحبہ گزشتہ طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں۔ ان کے بڑے فرزند مسقط اومان میں مقیم ہیں جبکہ ان کے چھوٹے فرزند ان کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں مقیم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نمونہ کلام

    ہم سادہ دل تھے لوگ سکھی
    ہمیں دھوکہ دے گئے لوگ سکھی

    ہم ہنس کر بازی ہار گئے
    کیوں جیت بناتے روگ سکھی

    جو راہ ہمارا حصہ تھی
    اس راہ میں پڑگئے لوگ سکھی

    یہ جیون کھیل تماشا ہے
    ہمیں لینے پڑ گئے جوگ سکھی

    خود اپنے آپ کو مار دیا
    پھر ہم نے منایا سوگ سکھی

    اب کیا پرواہ کس حال میں ہیں
    اب کیا کہتے ہیں لوگ سکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا یے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    مجھ میں پھیلے ہوئے صحرائوں کی وسعت ہے عجب
    ایک درویش کی مٹھی میں سما جاتے ہیں

    وہاں کاغذوں کے گھر تھے
    جہاں آگ جل رہی تھی

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی

  • امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    اگر آپ نے امیر بننا ہے تو لاس اینجلس امریکہ کا ڈان پینیا آپ سے بیس ہزار ڈالر لیتا ہے. پھر اگلے ایک گھنٹہ وہ آپ کو خوب ذلیل کرے گا. وہ آپ کو امیر لوگوں کے نام لے لے کر بتائے گا شرم کرو اگر یہ امیر بن سکتے ہیں تو تم کیوں نہیں.؟ وہ آپ کی غیرت جگائے گا.

    پاکستان کا کوئی ڈبل شاہ آپ کو امیر بننے سے پہلے ہی یقین دلا دے گا کہ آپ تو بہت امیر ہیں. آپ اتنے امیر ہیں کہ آپ کو کسی قسم کے کام کی ضرورت ہی نہیں. آپ پیسے مجھے دیں امیر لوگوں کی طرح گھر بیٹھ جائیں. ہم نوکر ہیں نہ آپ کو امیر سے امیر ترین بنانے کیلئے. آپ بس ہر مہینے کا منافع گنتی کریں.

    ڈان پینیا نے کسی کو امیر بنایا یا نہیں یہ تو میں نہیں جانتا لیکن ڈان ہو یا پاکستان کا ڈبل شاہ یہ سب خود امیر ضرور بن گئے ہیں. آپ کو امیر بنانے کے موٹیویشنل سپیکرز بہت مل جائیں گے. آپ فری میں یوٹیوب پر فری کی ویڈیوز دیکھ کر امیر بن جائیں. یا آپ کو زیادہ جلدی ہے تو آپ امیر بننے کیلئے نقد انویسٹمنٹ کرلیں. یہاں ہر طرف آپ کو ایک ڈان پینیا یا کوئی ڈبل شاہ مل جائے گا.

    لیکن ہم کوئی موٹیویشنل سپیکر نہیں ہیں. ہم امیر بننے کے طریقے بھی نہیں جانتے البتہ بطور ایک انسان صرف انسانیت سکھانے کی کوشش کرتے ہیں. تاریخ بتاتی ہے انسان جب بھی انسانیت سے دور ہوا معاشرہ وہ جنگل بن جاتا ہے جہاں کمزوری جرم ٹھرتی ہے. یہ کمزوری نفسیاتی بھی ہوتی ہے عادات کی بھی تو علم و عمل بھی کمزور ہو سکتے ہیں.

    اپنی کمزوری کا اعتراف صرف بہادر کر سکتے ہیں. ایک طاقتور شعور ہی شعوری طاقت کا قدردان ہوتا ہے. یہ ایک دوسرے سے سیکھنے اور سکھانے کا رشتہ ہے. کوئی کسی بند دروازے کے سامنے یہ سوچ کر کھڑا نہ ہوجائے جیسے یہی زندگی کا اکلوتا دروازہ ہو. تب یہ انسانیت کا رشتہ ہی ہے جو اپنے اپنے دروازے کھول کر بتاتے ہیں نہیں زندگی کے بہت سے دروازے ہیں. مایوسی تمہیں ادھر ادھر بس دیکھنے نہیں دے رہی.

  • کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی. جیسے اکثر موٹیویشنل سپیکرز ہاتھی کے اس بچے کی کہانی سناتے ہیں جس کے پاوں میں ایک پتلی زنجیر ڈال دی جاتی ہے. وہ اس زنجیر کو توڑ نہیں پاتا. وقت کے ساتھ ہاتھی تو بھاری بھرکم جسامت کے ساتھ بڑا ہو جاتا ہے لیکن زنجیر وہی رہتی ہے. اب ہاتھی اسے توڑنے کی کوشش ہی نہیں کرتا. سپیکرز بتاتے ہیں کہ وہ مان چکا ہوتا ہے کہ وہ یہ زنجیر نہیں توڑ سکتا تو کیا آپ بھی اپنی زنجیروں پر یہ تسلیم کر چکے.؟

    ہاتھی کی کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے. لیکن کیا ہاتھی کیلئے یہ کہانی ختم ہوئی.؟ انسانوں کے علاوہ ہاتھی ہی ہیں جو ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے نکل نہیں پاتے. اس نفسیاتی بیماری کو PTSD کہتے ہیں. ہم انسان بھی اسکا شکار ہوتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ہاتھی چڑیا گھر میں کم از کم اس بیماری سے چھٹکارا نہیں پا سکتا. اسے واپس جنگل جانا ہوگا جہاں وہ اپنے کل کا فیصلہ خود کر سکے.

    ہمارے بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں. ماں باپ بھائی بہن دوست عزیز و رشتہ دار لیکن کوئی آپ سے آپ کا درد نہیں لے سکتا. آپ کی تکلیف کا بھلے ان کو جتنا بھی احساس ہو وہ یہ تکلیف محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن وہ یہ آپ سے لے نہیں سکتے. آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنے سر درد سے تھک گیا ہوں کچھ دیر اسے اپنے سر پر لے لو.

    ہمیں واپس اپنے پاس جانا ہوتا ہے. ہمیں اپنے کل کے پاس جانا ہوتا ہے. کل کیلئے ہمارے پاس کوئی خواب ہوں کوئی منزل ہو تب آنے والا کل ہمیں گزرے کل سے کھینچ لیتا ہے. لیکن اگر ہمارے پاس کوئی خواب اور مقصد یا منزل نہ رہے تب ہم گزرے کل میں زندگی کے چڑیاگھر کا ایک کردار بن جاتے ہیں. ہماری کہانی پر وقت گزر رہا ہوتا ہے لیکن کہانی آگے نہیں بڑتی.

  • رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    کچھ کھیل بہت مہنگے ہوتے ہیں. جیسے گرم ہوا کے غباروں کی ریس ہو یا بادبانی کشتی کی دوڑ. بے شک ہیں تو یہ کھیل ہی لیکن ان کو کھیلنے کیلئے آپ کو پہلے لاکھوں روپے خرچ کر کے غبارہ یا کشتی خریدنی ہوگی. کچھ کھیل بہت سستے ہیں جیسے کُشتی یعنی ریسلنگ ہو یا رسہ کشی. ایک میں کوئی مخالف چاہئے تو دوسرے میں مخالف کے ساتھ ایک رسی بھی درکار ہوگی.

    اکثریت مہنگا کھیل ایفورڈ نہیں کر سکتی تو سستے کھیل عام ہیں. رسہ کشی عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے بھی مصر کی تہذیب میں کھیلی جاتی تھی. ان کی دیواروں پر اس کے نقش آج بھی موجود ہیں. کشتی کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہوگی. یہ اتنے عام کھیل ہیں کہ ہمارے دماغ کو بھی کوئی مخالف نہ ملے تو یہ ہم سے ہی کھیلنا شروع کردیتا ہے.

    تب دماغ میں ایک رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے. عقل شعور اور وقت کے تقاضے آپ کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں جبکہ دماغ کہتا ہے پہلے مجھ سے جیت کر دکھاو اور دماغ میں ایک میدان سج جاتا ہے. ہم خود سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں. اچھا ہر کھیل میں فریقین کی الگ پہچان بھی ہوتی ہے. اس رسہ کشی میں بھی ایک طرف دلیل ہوتی ہے تو دوسری طرف خوف اندیشے وہم ہوتے ہیں.

    ہر کھیل کی ایک تکنیک اور داو پیچ بھی ہوتے ہیں . جیسے دماغ اس خوف سے ڈراتا ہے جو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں ہوتا. آپ کے ان اندیشوں ڈر و خوف پر آپ کو کوئی دلیل بھی مطمئن نہیں کر پاتی. کیونکہ مستقبل پر ہم کبھی ختمی دلیل یا پیشن گوئی کر نہیں پاتے. لیکن آپ ایک کام کر سکتے ہیں. آپ رسی چھوڑ سکتے ہیں.

    رسہ کشی جب خوب گرم ہو اور کوئی ایک فریق رسی چھوڑ دے تو دوسرا اپنے ہی زور میں پیچھے گر جاتا ہے. چھوڑنے والے بھی آپ ہوں گے گرنے والے بھی آپ ہی لیکن انسانی نفسیات بہت پیچیدہ ہے. جیسے گرم پانی کا غسل آپ کو وہی کیفیت دیتا ہے جیسے کسی محبت والے رشتے سے بغل گیر ہوگئے ہوں. انگریزی میں اسے کہتے ہیں let it go.. یعنی ہو جانے دو. آپ بھی رسی چھوڑ دیا کریں. بولو نہیں کھیلنا. یہ کوئی لاکھوں ڈالر کا گرم غبارہ یا سپیڈ بوٹ نہیں جو آپ ہارنے کی فکر کریں.

    کچھ رشتوں کچھ تعلقات اور کچھ خواہشات میں بھی اپنے ہاتھ لہولہان کرانے سے بہتر یہ رسہ چھوڑ دینا ہوتا ہے.

  • جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    پیدائش:16 دسمبر 1775ء
    وفات:18 جولا‎ئی 1817ء
    ونچیسٹر
    مدفن:ونچیسٹر کیتھیڈرل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:مملکت برطانیہ عظمی
    مادری زبان:انگریزی
    کارہائے نمایاں:تکبر اور تعصب، شعور و احساس

    جین آسٹن(16دسمبر 1775ء – 18جولائی 1817ء) انگریزی کے عظیم ناول نگاروں میں سے ایک، موجودہ دور کے بعض نقادوں کے نزدیک اس کے ناول ”پرائڈ اینڈ پریجوڈس“ کا شمار دنیا کے دس عظیم ناولوں میں کیا جا سکتا ہے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جین ایک پادری کی لڑکی تھی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی 25 سال اس نے ہیمپ شائر میں اپنے باپ کے ساتھ گرجا میں گزارے۔ یہیں اس نے اپنے تین مشہور ناول تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)، شعور و احساس (Sense and Sensibility) اور نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey) لکھے جو بہت بعد میں شائع ہوئے۔ باپ کے انتقال کے بعد پورا خاندان ہمپ شائر میں چاٹن کاٹیج منتقل ہو گیا۔ آخر عمر تک جین یہیں رہی۔ ایک پادری کی لڑکی کے قلم سے ایسی ناول نگاری اس دور کے سماج کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے یہ ناول لکھنے کے کافی عرصہ بعد چھپے اور وہ بھی فرضی نام سے البتہ قریبی دوست احباب کو اس کا علم تھا۔ اس کا ناول نارتھینجر ایبے مسز ریڈ کلف کے اسکول کے رومانوں پر ایک نہایت پر لطف اور طنزیہ ناول ہے جس کا مسودہ 1803ء میں صرف دس پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔ جین نے ان ناولوں پر خاص طور سے ان کی زبان پر کافی محنت کی تھی لیکن اس کی زندگی میں اسے کوئی شہرت نہ ملی۔ اس کے سارے ناول صوبائی سماج میں رہنے والے شرفا کے اطراف گھومتے ہیں۔ اکثر قصوں میں شادی کے قابل لڑکیوں کے لیے شوہر کی تلاش اصل موضوع ہے۔ جین اپنی اعلیٰ نثر کے لیے مشہور ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں کرداروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح بڑی چابک دستی کے ساتھ گھماتی ہے۔ اخلاقی قدریں بڑی گہری ہیں۔ پلاٹ میں ہلکا طنز ومزاح ہے۔ وہ بیوقوف، بر خود غلط سیدھے سادے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتی ہے۔ اس کا شمار انگریزی زبان کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات الگ الگ مجموعے کی شکل میں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ اس کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے۔
    ایک نیلامی میں جین آسٹن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات 993250 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)
    شعور و احساس (Sense and Sensibility)
    مینزفیلڈ پارک (Mansfield Park)
    ایما (Emma)
    نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey)
    ترغیب (Persuasion)

  • کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    کمزوری کا پردہ — ریاض علی خٹک

    ویرانے میں بنے کسی گھر میں کچھ دیر قیام کرنے والے مسافروں کے تاثرات الگ الگ ہوں گے. ایک چور سوچے گا یہ جگہ چوری کے بعد کچھ دن چھپنے کیلئے بہترین ہے. ایک شاعر سوچے گا کچھ عرصہ بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت میں رہنے اور اسکے حسن کو بیان کرنے کیلئے کتنی بہترین جگہ ہے. ایک طالب علم اسے الگ نظر سے سوچے گا تو کوئی شکی مزاج اُس پہلے آدمی پر شک کرے گا کہ آخر اس ویرانے میں یہ چھت اس نے بنائی کیوں..؟

    ہم ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے ہم ہوتے ہیں، ویسے ہی سوچتے ہیں جیسی ہماری شخصیت ہوتی ہے. وہی نتائج نکالتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ ہوتے ہیں. ایک منفی شخصیت کو اپنے آس پاس سب کچھ غلط نظر آرہا ہوتا ہے. وہ دن رات آس پاس وہ برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے جنکا وہ خود شکار ہوتا ہے. وہ مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے جن کا وہ خود شکار ہوتا ہے. پھر پریشان بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے.

    اسے ہر وقت کا ایک شکوہ ہوتا ہے ” لوگ نہیں بدل رہے” . وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ذات ہے جسے وہ بدل سکتا ہے. وہ یہ "خود” ہے. باقی لوگوں کو بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں صرف اچھائی یا برائی کی طرف دعوت ہی وہ دے سکتا ہے. جو طاقتور لوگ ہوتے ہیں وہ خود کو بدلتے ہیں. جو کمزور شخصیت ہوتی ہے وہ دوسروں میں پھر اپنی کمزوری کے جواز ڈھونڈتی ہے. یہی ان کی کمزوری کا پردہ ہوتا ہے.

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

  • پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    غریبِ شہر تو فاقے سے مرگیا عارفؔ
    امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کرلی

    عارف شفیق 31 اکتوبر 1956 کو کراچی میں پیدا ہوئے. عملی زندگی میں صحافت سے وابستہ رہے ان کی شاعری کے یہ مجموعے شائع ہوئے: آدھی سوچیں گونگے لفظ (1977) سیپ کے دیپ (1979) سر پھری ہوا (1985) جب زمین پر کوئی دیوار نہ تھی (1987) احتجاج (1988) یقین (1989) میں ہواؤں کا رخ بدل دوں گا (1991) مرا شہر جل رہا ہے(1997)

    ان کا کچھ کلام

    اس شخص پر بھی شہر کے کتے جھپٹ پڑے
    روٹی اٹھا رہا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے

    عارف شفیق کوئی نہ آگے نکل سکا
    میں نے ہر آنیوالے کو خود راستہ دیا

    جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
    مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کرلی

    زندگی خوف کا سفر کیوں ہے
    کاش کیوں اگر مگر کیوں ہے

    مجھے خدا نے وہ بخشا ہے شاعری کا ہنر
    جو خواب دیکھتا ہوں وہ دکھا بھی سکتا ہوں

    ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار ہوں جہاں عارفؔ
    مجھے قلم سے وہاں انقلاب لانا ہے

    اور کچھ نہ دے سکا میں اگر ورثے میں
    اپنی اولاد کو سچائی تو دے جاؤں گا

    عارف شفیق ورثے میں اولاد کے لئے
    میں جا رھا ھوں جرآت اظہار چھوڑ کر

    اک فتویٰ پھر آیا ہے یہ غاروں سے
    کافر کہہ کر مجھ کو مارا جاسکتا ہے

    ساری دنیا ہے آشنا مجھ سے
    اجنبی اپنے خاندان میں ہوں

    آنسو پونچھے، دکھ بانٹے انسانوں کے
    میں نے بھی تو ساری عمر عبادت کی

    آنکھوں میں جاگ اٹھے ہیں تنہا شجر کے دکھ
    گلدان میں جو پھول سجے دیکھتا ہوں میں

    موم کی صورت خود ہی پگھل جائے گا اک دن
    لفظ محبت لکھ دے تو دل کے پتھر پر

    کسی کی آنکھ سے آنسو بھی پونچھ لیتا کبھی
    غرور کرتا ہے جو شخص اپنے سجدوں پر

    وہی ہیں لفظ پرانے جو لکھ رہے ہیں سب
    معانی ان میں مری شاعری اتارتی ہے

    اکثر سب کو رستہ دینے والے لوگ
    میری طرح سے خود پیچھے رہ جاتے ہیں

    شہر سارا ہی ہوگیا روپوش
    کوئی ملتا نہیں ٹھکانے پر

    یقیں اب ہوگیا میں سچ ہوں عارف
    جبھی دنیا مجھے جھٹلا رہی ہے

    سولی پہ چڑھا کر مرے چاند اور مرے سورج
    اب شہر میں مٹی کے دیے بانٹ رہا ہے

    ایسا نہ ہو وہ خود کو سمجھنے لگے خدا
    اتنا بھی جھکنا ٹھیک نہیں التماس میں

    وہاں ہر چیز تھی اک جنس وفا تھی نایاب
    خاک ڈال آیا ترے شہر کے بازاروں پر

    جب کوئی اہم فیصلہ کرنا
    اپنے بچوں سے مشورہ کرنا

    میں نے سیکھا ہے اپنے بچوں سے
    سچ کا اظہار برملا کرنا

    وقت کرتا ہے خود فیصلہ ایک دن
    اب ہمیں وقت کا فیصلہ چاہیے

    چند سکے نہ دے ہم کو خیرات میں
    اپنی محنت کا پورا صلہ چاہیے

    عارف وہ فیصلے کی گھڑی بھی عجیب تھی
    دل کو سنبھالنا پڑا میزان کی طرح

    پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے کیوں میرا نام و نسب
    سوچ لیں پیغمبروں سے سلسلہ مل جائے گا

    تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر
    ترے بغیر بسر میں نے زندگی کرلی

    اپنے دروازے پہ خود ہی دستکیں دیتا ہے وہ
    اجنبی لہجے میں پھر وہ پوچھتا ہے کون ہے

    کوئی لشکر یہاں سے گزرا ہے
    اتنی اُجڑی یہ رہگزر کیوں ہے

    خوب ہے تیری عاجزی لیکن
    اونچا مسجد سے تیرا گھر کیوں ہے

    کیا کبھی تُو نے سچ نہیں بولا
    تیرے شانوں پر پھر یہ سر کیوں ہے

    نظمیں

    .. رابطہ..

    اپنی ذات
    اپنے گھر
    اپنے مذہب
    اپنی تہزیب
    اور اپنے قبیلے کی
    دیواریں اتنی بھی اونچی نہ کرو
    کہ ساری دنیا سے
    تمہارا رابطہ کٹ جائے

    .. زمینی کتاب..

    اب تک آسمانوں سے
    زمین پر کتابیں اتری ہیں
    میں اس زمین کا شاعر ہوں
    میری خواہش ہے کہ
    ایک کتاب زمین سے
    آسمانوں پر بھی اترے
    کیونکہ
    آسمان والے جان سکیں
    کہ
    قیامت سے پہلے
    زمین پر کتنی قیامتیں
    گزر چکی ہیں

    .. محرومی..

    میں ماں باپ کے ہوتے ہوئے
    یتیموں کی طرح
    زندگی گزار رہا ہوں
    تنہا کھڑا
    اس کتیا کو دیکھ رہا ہوں
    جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے
    پیار سے ان کو چاٹ رہی ہے
    اور
    میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
    کاش میں پلا ہی ہوتا

  • برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    برصغیرکےنامور فلمی نغمہ نگارشنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    برصغیر کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکرداس کیسری لال عرف شَیلیندر۔ 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔

    شیلیندر صاحب کے نغمے اورر اشعار

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند……

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند……

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند…….

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

  • میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔

    میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔