Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن 11 دسمبر 1918ء کو کیسلووودسک میں پیدا ہوئے الیکزینڈر سلزینسٹائن (1918ء تا 2008ء )روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1970ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

    انہیں ان کی خدمات پر متعدد اعزازتسے نوازا گیا جن میں میخائیل لومونوسف گولڈ میڈل (1998)، نوبل انعام برائے ادب (1970)، آرڈر آف ریڈ اسٹار (1944)، ٹیمپلٹن انعام، آرڈر آف اسٹار آف رومانیہ، آرڈر آف سینٹ اینڈریو سے نوازا گیا-

    2008 میں عارضہ قلب کی وجہ سے ماسکو میں وفات پا گئے تھے-

  • دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کرجس کوٹھہرجائیں مسافرکے قدم ایسا منظرتوکوئی راہ میں آیا ہی نہیں: شبانہ زیدی شبین کی خوبصورت باتیں

    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا نام: شبانہ زیدی شبین
    قلمی نام: شبین
    والد کا نام: سید ظفر زیدی
    والدہ کا نام: سیدہ مہرالنساء
    شوہر کا نام سید ذاکر حسین زیدی
    بچوں کے نام:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کنول
    ۔ (2)ثمر
    ۔ (3) مظفر
    ۔ (4)اظفر
    ۔ (5)حسنین رضا
    ۔ (6)احسن رضا
    آبائی وطن : اوکاڑہ، پاکستان ۔
    جائے ولادت: لیہ
    تاریخِ ولادت: 10 دسمبر 1988
    تعلیم: ایم اے۔ ایم ایڈ
    پیشہ: درس و تدریس
    آغازِ تحریر:۔ 2005
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سلگتے کنول۔2008
    ۔ (2)اک شہر بسا پانی پر۔2013
    ۔ (3)میں خیال ہوں کسی اور کا
    ۔ (انتخاب )
    ۔ (4)موج سبد گل2016
    ۔ (رثائی شاعری )
    ۔ (5)نظم کہانی۔2018
    ۔ ( بچوں کے لیے )
    ان کے علاوہ دو ناول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔1۔ سراب۔۔ 1988
    ۔2سوشلزم اور عشق بلاخیز ۔ منتظر اشاعت
    پذیرائی: پروین شاکر ایوارڈ
    شریف اکیڈمی
    ایوارڈ:دختر لیہ ٹائٹل ایوارڈ
    روش انٹرنیشنل ایوارڈ
    اور بےشمار ایوارڈ و اسناد
    پتا:۔ صدر گوگیرہ۔اوکاڑہ پنجاب۔پاکستان

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی کے رونے سے موسم ہرا نہیں ہوتا
    دو آنسوؤں سے زمیں کا بھلا نہیں ہوتا
    ہماری دوستی اس چاند سے ہو ئی جب سے
    کسی اندھیرے اب سے سامنا نہیں ہوتا
    ہوائے تازہ کا ہوتا بھی تو گزر کیسے
    دریچہ ذہن کا جب تک کھلا نہیں ہوتا
    ہوں جس کے اپنے ہی چہرے پہ داغ اور دھبے
    وہ دوسروں کے لیے آئینہ نہیں ہوتا
    اکیلی شام مہکتی ہے میرے آنگن میں
    اب انتظار کسی دوست کا نہیں ہوتا
    ہمیں تو جینا ہے خود اپنے ہی اصولوں پر
    آمیر شہر کسی کا خدا نہیں ہوتا
    خدا ڈبوئے تو پھر کیسے پار اترو گے
    خدا سے بڑھ کے کوئی ناخدا نہیں ہوتا
    تمھاری یاد بھی اب تھک چکی ہے آ آ کر
    شبین ہم سے بھی اب جاگنا نہیں ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اب کے موسم میں کوئی خواب سجایا ہی نہیں
    زرد پتوں کو ہواؤں نے گرایا ہی نہیں
    دیکھ کر جس کو ٹھہر جائیں مسافر کے قدم
    ایسا منظر تو کوئی راہ میں آیا ہی نہیں
    کیوں ترے واسطے اس دل میں جگہ ہے ورنہ
    کوئی چہرہ مری آنکھوں میں سمایا ہی نہیں
    اس نے بھی مانگ لیا آج محبت کا ثبوت
    ایک لمحے کے لیے جس کو بھلایا ہی نہیں
    مجھ کو تنہائی نے گھیرا ہے کئی بار مگر
    اس کی یادوں نے مگر ساتھ نبھایا ہی نہیں
    جس کی خوشبو سے مہکتے مرے گھر کے در و بام
    وقت نے رنگ کوئی ایسا دکھایا ہی نہیں
    روشنی اپنے مقدر کہاں ہوگی شبینؔ
    جب دیا ہم نے اندھیروں میں جلایا ہی نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رتوں کا لمس شجر میں رہے تو اچھا ہے
    مٹھاس بن کے ثمر میں رہے تو اچھا ہے
    کہاں سے دل کے علاقے میں آ گئی دنیا
    یہ سر کا درد ہے سر میں رہے تو اچھا ہے
    مرا قیام ہے گھر میں مسافروں جیسا
    یہ گھر بھی راہ گزر میں رہے تو اچھا ہے
    میں سن رہی ہوں قیامت کی آہٹوں کو شبینؔ
    حیات پھر بھی سفر میں رہے تو اچھا ہے

  • نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    جب سے اتری ہوں آسمان سے میں
    تب سے الجھی ہوں اس جہان سے میں

    عارفہ صبح خان

    تاریخ پیدائش:10 دسمبر 1970

    تحریر و تعارف: آغا نیاز مگسی

    پاکستان کی نامور ادیبہ_شاعرہ، اور صحافی ڈاکٹر عارفہ صبح خان 10 دسمبر 1970 میں لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد ادریس خان اور یوسفزئی پٹھان قبیلے سے تعلق ہے تحریک پاکستان میں انہوں نے بڑا فعال کردار ادا کیا جس کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کے بہت قریب رہے۔ ۔ عارفہ کے دادا سعید جان جج اور پر دادا ایس ایس پی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ عارفہ صبح خان نے ابتدائی تعلیم فاطمہ جناح گرلز ہائی اسکول لاہور سے اور اعلی تعلیم یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے ادبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    عارفہ نے چوتھی جماعت سے نثر نگاری اور شاعری شروع کی لیکن انہوں نے شاعری میں کسی استاد کی شاگردی اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی اصلاح لی لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ شاعری میں استاد ضروری ہے۔ وہ پاکستان میں اردو کی پہلی مزاحیہ خاتون ادیبہ اور صحافی ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں ۔ وہ علمی لحاظ سے ڈاکٹر فراق تحسینی اور ڈاکٹر سلیم اختر کو اپنا استاد مانتی ہیں۔ عارفہ نے روزنامہ جنگ سمیت متعدد اخبارات اور رسائل وغیرہ میں کام کیا ہے۔ وہ کرنل محمد خان، شفیق الرحمن ، احمد ندیم قاسمی اورعطاالحق قاسمی کا بڑے احترام کے ساتھ ذکر کرتی ہیں۔ عارفہ کی شادی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ظفر آفتاب کے ساتھ 1995 میں شادی ہوئی اور 1998 میں انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ وہ بیٹی کے پیداطہونے پر بہت خوش ہیںچلیکن انہیں اس بات کا بہت دکھطہے کہ انہیں بیٹے کی اولاد نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کو بھائی بھی والدین سے پیدا نہیں ہوا اور مزید یہ کہ عارفہ کی والدہ کا بھی کوئی بھائی پیدا نہیں ہوا یعنی ان کی تین نسلوں میں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)عکس زن
    ۔ (2)تجاہلِ عارفانہ
    ۔ (3)شٹ اپ
    ۔ (4)مابدولت
    ۔ (5)اماں حوا سے اماں کونسلر تک
    ۔ (6)کُرکُرے کردار
    ۔ (7)اب صبح ہو نے کو ہے
    ۔ (8)اردو تنقید کا اصلی چہرہ
    ۔ (9)صبح ہوگئی جاناں
    ۔ (10)عشقِ بلاخیز
    ۔ (11)ادبی ستارے
    ۔ (12)کافر ادا
    ۔ (13)تنقیدیں گرہیں
    ۔ (14)سیاست دانوں کے سائیڈ ایفیکٹس
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پاکستان کی
    ۔ پہلی مزاح نگار خاتون ہونے کا اعزاز
    ۔ (2)پاکستان کی پہلی کرائم رپورٹر ہونے کا اعزاز
    ۔ (3)پاکستان کی پہلی پولیٹیکل لیڈی رپورٹر
    ۔ (4)صحافت کی شیرنی کا لقب
    ۔ (صحافت کے امام مجید نظامی نے دیا)
    ۔ (5)خواتین کی پطرس بخاری کا خطاب
    ۔ (کرنل محمد خان مرحوم نے دیا)
    ۔ (6)خان زادی، خان بی بی
    ۔ اردو ادب کی قلوپطرہ، اعزازات کی ملکہ
    ۔ ادب کا ستارہ (خطابات)
    ۔ (7)10 گولڈ مڈلز اور پچاس ایوارڈز
    ۔ ادبی، صحافتی اور علمی خدمات پر
    ۔ (8)صدر آل پاکستان ویمن جرنلسٹ فورم
    ۔ پریس کلب، لاہور
    ۔ پانچ سال مسلسل صدر رہنے کا اعزاز
    ۔ (9)صحافت اور ادب میں سب سے زیادہ
    ۔ گولڈمڈلز اور ایوارڈز لینے کا ریکارڈ
    ۔ (10)بہترین صحافی ایوارڈ
    ۔ سات بار مسلسل
    ۔ (11)ڈرامے سیریلز لکھے
    ۔ سونے کی چڑیا
    ۔ نئے راستے
    ۔ لیڈی رپورٹر کیوں
    ۔ (12)چار سیاسی پروگراموں کی اینکرنگ
    ۔ ہاٹ ایشوز
    ۔ پولیٹیکلز ٹمپریچر
    ۔ ون ٹو ون
    ۔ ویمن ایشوز
    موبائل:00923008005450

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کی راہ جب نکالی تھی
    زندگی کس قدر مثالی تھی
    تو نے مجھ کو بھری تھی جب چٹکی
    میرے گالوں پہ کتنی لالی تھی
    گھیر رکھا تھا تیری یادوں نے
    سامنے چائے کی پیالی تھی
    جان دے کر دیارِ فرقت میں
    پیار کی آبرو بچالی تھی
    سارے ارماں سمیٹ کر دل میں
    ہم نے اک بزم سی سجالی تھی
    غمِ دنیا میں خود کو ڈھالا تھا
    عمر بھی اپنی لاابالی تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تیری یادیں سنبھال لیتی ہوں
    دل کا آنگن اُجال لیتی ہوں
    شعر کہہ کر غبار اندر کا
    میں ہمیشہ نکال لیتی ہوں
    اک تری جستجو میں گرتے ہوئے
    خود کو اکثر سنبھال لیتی ہوں
    کام آتی ہوں بے نواؤں کے
    اور دعائے وصال لیتی ہوں
    ہجر کی دوپہر میں سر پہ صبحؔ
    اس کی یادوں کی شال لیتی ہوں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    چلو اتنا ہی کردو
    ۔۔۔۔۔
    ابھی راتوں کی تاریکی
    ابھی موسم کا سناٹا
    ابھی یہ رینگتے سائے
    درو بامِ تمنا پر
    کہ جیسے کل مسلط تھے
    اسی صورت مسلط ہیں
    ابھی تو کچھ نہیں بدلا
    عجب اک بے کلی سی ہے
    عجب اک ہو کا عالم ہے
    میں کیسے دل کو سمجھاؤں، میں کیسے دل کو بہلاؤں
    اگر تم نے
    نہ آنے کی قسم توڑی نہیں اب تک
    چلو اتنا ہی کردو
    کہ اس میں کیا برائی ہے
    مجھے تم فون پر دل کے
    بہلنے اور سنبھلنے کی
    کی کوئی صورت بتادینا
    تمھارا شکریہ ہوگا

  • ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    عمیرہ احمد ایک نامور پاکستانی ادیبہ اور اسکرین لکھاری جو اپنی کتاب” پیر کامل” کی بدولت مشہور ہوئیں اور پھر اپنے متعدد ناولوں پر مبنی ٹی وی ڈراموں سے شہرۂ آفاق پر پہنچیں۔

    ان کے ناولوں پر بننے والے ڈراموں میں میری ذات ذرہ بے نشاں، دوراہا،پیر کامل، مٹھی بھر مٹی، شہرذات، میرا نصیب اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں۔ عمیرہ احمد مرے کالج، سیالکوٹ سے انگریزی میں ماسٹرز کر کے آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں۔ اپنے تحریری سفر کا آغاز انھوں نے خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں آگئیں۔

    ان کا پہلا ڈراما ‘‘وجود لاریب‘‘ انڈس ویژن سے 2005 میں آیا جس کے لیے انہوں نے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ لیا۔ اس کے بعد ‘‘دام‘‘، ‘‘قید تنہائی‘‘ اور متعدد ڈرامے وہ لکھ چکی ہیں اور ان کے کئی ناول کی ڈرامائی تشکیل ہو چکی۔ ‘‘نور کا مسکن‘‘ کے نام سے ایک ریڈیو ڈراما بھی لکھا۔
    ناول اور کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پیر کامل
    ۔ (2)زندگی گلزار ہے
    ۔ (3)میری ذات ذرہ بے نشان
    ۔ (4)ایمان امید اور محبت
    ۔ (5)حسنہ اور حسن آرا
    ۔ (6)حرف سے لفظ تک
    ۔ (7)میرے 50 پسندیدہ سین
    ۔ (8)من و سلوا
    ۔ (9)حاصل
    ۔ (10)لا حاصل
    ۔ (11)واپسی
    ۔ (12)شیریں
    ۔ (13)میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے
    ۔ (14)سحر ایک استعارہ ہے
    ۔ (15)دربار دل
    ۔ (16)امبر بیل
    ۔ (17)عکس
    ۔ (18)آب حیات
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)وجود لاریب (2004)
    ۔ (2)دام محبت (2009)
    ۔ (3)ٹی وی ون گلوبل (2009)
    ۔ (4)میری ذات ذرہ بے نشاں (2009)
    ۔ (5)تھوڑا سا آسماں (2009)
    ۔ (6)عمیرہ احمد (2010)
    ۔ (7)اڑان (2010)
    ۔ (8)مات (2011)
    ۔ (9)شہر ذات (2012)
    ۔ (10)کنکر (2013)
    ۔ (11)بے حد (2013)
    ۔ (12)زندگی گلزار ہے (2013)
    ۔ (13)محبت صبح کا ستارہ ہے (2014)
    ۔ (14)ڈائجسٹ رائٹر (2014)

  • اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈرامہ،افسانہ اور ناول نگار لوئجی پیرآندیلو کا یوم وفات

    لوئجی پیرآندیلو اٹلی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈراما نگار، افسانہ نگار اور ناول نگار اور 1934ء کے ادب کے نوبل انعام یافتہ مصنف ہیں۔

    حالات زندگی و ابتدائی تعلیم

    لوئجی پیرآندیلو 28 جون 1867ء کو سسلی، اٹلی میں گندھک کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ 1880ء میں پیآندیلو کے والدین سسلی کے صد مقام پالیرمو میں سکونت پزیر ہو گئے جہاں انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔

    اعلیٰ تعلیم

    1887ء میں روم یونیورسٹی اٹلی، 1888ء میں بون یونیورسٹی جرمنی میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    ادبی خدمات

    لوئجی پیرآندیلو بہت بڑا ڈراما نگار تھا۔ ڈراموں کی شہرت کی وجہ سے اس کے افسانے طویل عرصہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے حالانکہ پیرآندیلو بتنا بڑا ڈراما نگار تھا، اتنا بڑا افسانہ نگار بھی تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں 500 پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو تیرہ مجموعوں کی صورت میں شائع ہوچکی ہیں۔ لوئجی پیرآندیلو آفاقی تاثیر رکھنے والا مصنف ہے۔ اس کی کہانوں میں انسانی رشتوں کی ان سچائیوں کا معنی خیز اظہار ہے جن سے معاشرہ تعمیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ پیرآندیلو کا لازوال ڈراما ”چھ کردارخالق کی تلاش میں“ دنیائے ادب کے عظیم ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پیرآندیلو نے 50 سے زائد ڈرامے لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے شمار افسانے، ناول اور شاعری کے مجموعہ تخلیق کے۔

    اعزازات

    لوئجی پیرآندیلو کی ادبی خدمات کے صلے میں 1934ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔

    وفات

    دنیائے ادب کے عظیم ڈراما نگار اور افسانہ نگار لوئجی پیرآندیلو 10 دسمبر 1936ء کو روم، اٹلی میں انتقال کر گئے۔

  • سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    کوئی چار سال پرانی بات ہے۔ مجھے ایک لڑکی اچھی لگی اور بائیک سے گاڑی پر شفٹ ہونے کا خیال بھی آیا۔ کہ "وہ” بائیک پر بیٹھی اچھی نہیں لگے گی۔ اور اس پر مٹی بھی پڑے گی۔ میں ان دنوں بڑے لمبے لمبے وٹس ایپ سٹیٹس لکھا کرتا تھا۔ میرے قریبی دوست جانتے ہیں۔ جیسے اب فیس بک پر لکھتا ہوں ایسے ہی وٹس ایپ پر لکھتا تھا۔ بڑی آڈئینس کے سامنے اپنے وچار رکھنے کی ہمت نہ تھی۔ اور لکھنے میں تب یہ روانی بھی تو نہ تھی۔ انہی دنوں میں یہ کتاب دی سیکرٹ پڑھی۔ اور آنٹی بائرن کی اسکے بعد آنے والی تینوں کتب میجک، پاور، ہیرو بھی پڑھیں۔

    ان سب کتب کا مدعا یہ تھا کہ ہم جو بھی سوچتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اپنی سوچوں کی فریکوئنسی سے ہم کائنات کو پیغام دیتے ہیں۔ اور جو ہم سوچتے ہیں وہ بس ہوجاتا ہے۔ اس بات میں نے سچ مان لیا۔ اور نہ صرف خود کچھ گولز سیٹ کیے بلکہ اپنے دوستوں کو بھی ترغیب دی کہ ہم خود ہی اپنی ایک لمٹ طے کر لیتے ہیں۔ اور اس سے باہر نہیں سوچتے۔ صرف سوچنا ہی تو کافی نہیں ہوتا۔

    اسکے بعد سامنے آنے والے مواقع و امکانات کو اویل بھی کرنا ہوتا ہے۔ مجھے تنخواہ کے حساب سے دو یوٹیوب چینلز نے آزاد کرایا جنکو میں سکرپٹ لکھ کر دیتا تھا۔ اور آمدن کا 30 فیصد مجھے ملتا تھا۔ پھر سپیشل بچوں کے والدین کو دی جانی والی کنسلٹنسی ایک اور آمدن کا حصہ بنی۔ اوپن یونیورسٹی کی ٹیوٹرشپ اور آن لائن لیکچرز سالانہ آمدن میں 2 سے 3 لاکھ اضافے کی وجہ بنے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہی ساتھ چلتا رہا۔

    میری یہ سوچ تھی کہ سرکاری جاب کو چلاؤں یا چھوڑ دوں میری آمدن ایک ہزار ڈالر سے کم نہ ہو بس۔ یورپ جانے کا خیال آیا پھر سوچا وہاں گاڑیوں میں پٹرول بھرنے یا کسی سٹور پر کام کرنے یا ٹرک چلانے سے تو رہا۔ جس فیلڈ کو زندگی کے قیمتی ترین 10 سال دے چکا اب وہی جینا مرنا ہے۔ اور اس 1 ہزار ڈالر والے گول کو میں نے 2021 کے آخر میں ہی حاصل کر لیا تھا۔ ہمیں بس اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا ہوتا اور کچھ قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ چند سال راتوں کو کسی مقصد کی لگن میں جاگنا ہوتا ہے۔ اور اس سب کی قیمت ضرور ملتی ہے۔ ٹائم لگتا ہے مگر محنت کا پھل ملتا ضرور ہے۔ میری جاب بھی کوئی عام ملازمت تو ہے نہیں بلکہ میرا عشق ہے۔ جو بڑھتا ہی چلا گیا۔ کچھ بھی کروں وزیر اعظم پاکستان ہی کیوں نہ بن جاؤں ان سپیشل بچوں کے ساتھ براہ راست کام کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔

    پہلی لائن میں مذکورہ لڑکی کی شادی جلد ہی ہوگئی تھی۔ آس پاس ٹھنڈی اے سی والی ہوائیں بس چند دن ہی چل سکیں تھیں۔ اور میں تو اسے پرپوز بھی نہ کر سکا تھا۔ جس گاڑی میں اسے بٹھانے کا سوچا تھا وہ اب کافی دیر بعد ملی ہے۔ ابھی کل ہی اسکا میسج آیا۔ گاڑی کی مبارک باد دی اور بتا رہی تھی کہ اسکی شادی شاید چل نہ سکے۔ وہ رشتہ بچانے کی ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اسکا خاوند اولاد نہ ہونے کی وجہ فیملی پریشر میں ہے اور دوسری شادی کا سوچ رہا ہے۔ جہاں وہ شادی کرنا چاہتا انکی ڈیمانڈ ہے کہ پہلی کو طلاق دو پھر رشتہ دیں گے۔ اب اس سب میں جو ہونے جا رہا میرا تو کوئی قصور نہیں ۔ میں تو اسے پرپوز تک نہیں کر سکا تھا۔

    آنٹی بائرن کو ای میل کر دی ہے کہ بتائیں اب کیا کروں۔ گاڑی جو سوچی تھی چار سال بعد مل گئی۔ آپکا شکریہ کہ یہ خوشحالی کی طرف جانے کی سوچ اور راستہ آپ نے ہی دکھایا تھا۔ سالوں پہلے چھوڑی گئی فریکوئنسی یہاں کام خراب کر رہی ہے۔ ان لہروں کو واپس لانے کا کوئی طریقہ بتائیں کہ میری تو اب شادی ہو چکی ہے.

  • مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    مولانا محمد علی جوہر کا یوم پیدائش

    رام پور کے معزز وممتاز خاندان میں مولانا محمد علی ۱۰؍ دسمبر 1878کو پیدا ہوئے، دو برس کی عمر میں ہی ان کے والد عبد العلی خاں کا انتقال ہوگیا، والدہ کی عمر بیوگی کے وقت ۲۷؍ برس تھی، انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد ۸؍سا ل علی گڑھ میں گزارکر بی اے کی ڈگری حاصل کی، میر محفوظ علی کے مطابق وہ کلاس میں لیکچر سنتے، فیلڈ میں کرکٹ کھیلتے اور یونین میں تقریر کرتے تھے، ان کے بڑے بھائی شوکت علی نے روپے کا انتظام کرکے انہیں آکسفورڈ یونیورسیٹی میں داخلہ دلوادیا، جہاں سے انہوں نے تاریخ جدید میں بی اے آنرز کی سند حاصل کی، ان کی ذھنی وفکری تربیت میں ان کی والدہ بی اماں کا بڑا رول تھا، مولانا محمد علی کے دل میں ملت اسلامیہ کا بڑا درد تھا، ان کی خدمات کئی لحاظ سے قابل قدر ہیں، ملک کی آزادی کی جد وجہد، تحریک خلافت، اشاعت تعلیم، فروغ اردو، عوامی بیداری بذریعہ صحافت، اور اپنی مخلصانہ کوشش وکاوش میں وہ بہت کامیاب رہے۔

    برطانوی حکومت نے جب کلکتہ کے بجائے دہلی کو ہندوستان کی راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا تو محمد علی نے ’’کامریڈ‘‘ کا دفتر بھی 14؍ستمبر 1912کو دہلی میں منتقل کرلیا، اور 12؍ اکتوبر کو یہیں سے ’’کامریڈ‘‘ کا پہلا شمارہ شائع کیا، انہوں نے مسلمانوں کی آسانی کے لئے ’’نقیب ہمدرد‘‘ نامی اردو پرچہ کا اجرا کیا، جو بعد میں روزنامہ ہمدرد کے نام سے مشہور ہوا، باشندگان ہند کو آزادی وطن کے لئے بیدار اور تیار کرنے کی غرض سے مولانا نے صحافت کو موثر ذریعہ بتایا، اس کے ساتھ ساتھ وہ تحریک خلافت کے لئے مسلسل اسفار کرتے رہے۔
    ۹؍ جنوری 1920کو مولانا ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دہلی پہنچے تو چاندنی چوک پر ان کا شاندار استقبال ہوا، خواجہ حسن نظامی نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’۔۔۔ دہلی کی سر زمین پر کتنے ہی عظمت وجلال والے تاجدار اور شاہزادے اور حکام بلند مقام آئے اور چلے گئے لیکن سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد سے آج تک اس خلوص وعقیدت کے ساتھ شاید ہی کسی شخص کا خیر مقدم کیا گیا ہو-

    تحریک خلافت نے ملک میں آزادی کی تڑپ پیدا کردی ہر فرد کے دل میں علی برادران کے لئے محبت جاگزیں ہوگئی، اس تحریک نے انگریزی اسکولوں، کالجوں اور سرکار کی نگرانی میں چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو چھوڑ دینا فرض قرار دے دیا، چنانچہ تعلیمی محاذ پر ترک موالات کے لئے مولانا محمد علی نے علی گڑھ کے ایم اے او کالج سے پہل کی۔

    بالآخر 29اکتوبر کو جمعہ کے دن ایم اے او کالج کی مسجد میں بعد نماز جمعہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘‘ کی رسم افتتاح شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن کے ہاتھوں ادا ہوئی۔ حکیم اجمل خاں اولیں امیر جامعہ، مولانا محمد علی پہلے شیخ الجامعہ، حاجی موسی خاں سکریٹری، اور تصدق احمد شیروانی جوائنٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔

    مولانا محمد علی نے 22نومبر 1920کو فاؤنڈیشن کمیٹی کے جلسے میں یہ تجویز منظور کرالی کہ جب تک نیا نصاب تعلیم تیار ہوکر نہیں آجاتا مجوزہ نصاب ہی کو اصلاح وترمیم کے ساتھ جاری رکھا جائے اور اس میں دینیات کے مضمون کا اضافہ کردیا جائے۔

    اس موقع پر ایک نصاب کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا محمد علی ، ڈاکٹر سر محمد اقبال، مولوی عبد الحق، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا آزاد سبحانی، مولوی صدر الدین، ڈاکٹر انصاری، محی الدین، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولوی عنایت اللہ، پرنسپل ایس کے رودرا، پرنسپل گڈوانی، پروفیسر سہوانی، سی ایف اینہ ریوز، جواہر لال نہرو، راجندر پرشاد اور سید سلیمان شامل تھے۔
    اس عمومی نصاب پر غور وخوض کے بعد مولانا محمد علی جوہر کی خصوصی نگاہ دینیات کی طرف متوجہ ہوئی چونکہ محمد علی مسٹر سے مولانا ہوچکے تھے اور جدید وقدیم پر ان کی نگاہ ماہرانہ تھی، انہوں نے پھر دینیات کے نصاب کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل کی، جس میں مولانا آزاد سبحانی، مولانا سلامت اللہ، مولانا صدر الدین، مولانا عبد القیوم، مولانا داؤد غزنوی، مولانا عبد الماجد بدایونی، مولانا عبد القادر، مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ مولانا محمد علی جوہر خود بھی شامل رہے۔

    ایام اسیری میں جھنڈوارہ میں قیام کے دوران وہ قرآن کریم کی تلاوت اورباقاعدہ تفسیر کے مطالعہ کی سعادت حاصل کرچکے تھے، اس لئے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، دینیات اور تاریخ کو فوقیت دینا چاہتے تھے اور اس ذہن کے ساتھ نصاب تیار کئے جانے پر ان کی توجہ تھی، مولانا محمد علی جوہر کا نظریہ تعلیم تجربات کی روشنی میں ان کے سامنے واضح ہو کر آ چکا تھا، وہ اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کا منفی اثر ہندوستان کے باشندوں پر پڑے گا اور ملت اسلامیہ کو اس معاملہ میں کچھ زیادہ ہی حساس رہنا چاہئے، چنانچہ مصروفیت کے باوجود وہ نصاب تعلیم پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کی جزئیات پر ان کی نگاہ بار بار جارہی ہے، اس لحاظ سے ان کی نگاہ میں ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘‘ کا تصور بہت ارفع اور اعلی تھا-

    یہی وجہ ہے کہ اسلامیات اور دینیات کے بلند پایہ عالم دین شیخ الہندحضرت مولانا محمود حسن کے ذریعہ جامعہ کا افتتاح عمل میں آیا اور نصاب کمیٹی میں عصری علوم کے ماہرین کے ساتھ نامور اور بالغ نظر علماء کی بڑی تعداد کو انہوں نے اس کمیٹی میں شامل رکھا، اس سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر یوسف حسین اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:۔

    ’’مولانا محمد علی جوہر جب بولتے تھے تو فصاحت وبلاغت کا دریا بہادیتے، گھنٹہ دو گھنٹہ چارگھنٹے متواتر تقریر کا سلسلہ جاری رہتا، مولانا محمد علی کا بولتے بولتے گلا پڑ جاتا اور کبھی کبھی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔‘‘

    ان کی تاریخی تقریر کا یہ حصہ جو انہوں نے گول میز کانفرنس لندن میں کی تھی ملاحظہ فرمائیں’’میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا بشرطیکہ وہ آزاد ملک ہو پس اگر ہندوستان میں تم ہمیں آزادی نہ دوگے تو یہاں میرے لئے ایک قبر تو تمہیں دینی پڑے گی-

    ۴؍ جنوری 1931کو ساڑھے نو بجےصبح لندن کے ہائڈ پارک ہوٹل میں جہاں ان کا قیام تھاجامعہ ملیہ اسلامیہ کا اولین شیخ الجامعہ ، ہندوستان کے صف اول کا رہنما اپنے وطن سے دور دیار غیر میں ابدی نیند سوگیا، مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خواہش کا احترام کیا گیا، جنہوں نے مولانا کے جسد خاکی کو بیت المقدس میں دفن کرنے کی تمنا ظاہر کی تھی اور اس طرح مولانا کے جسد خاکی کو پیغمبروں کے مدفن اور قبلۂ اول میں دفن کیا گیا، مولانا کی قبر پر انہیں کا ایک شعر آج بھی لکھا ہوا ہے۔

    جیتے جی تو کچھ نہ دکھلائی بہار
    مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کُھلے

    اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے فرمایا ’’محمد علی کی زندگی کابیان در اصل ایک قوم اور ایک ملت کے حال اور مستقبل کی تفسیر کرنا ہے کہ محمد علی اسلامی ملت اور ہندی قوم کے قائد تھے اور نمائندہ بھی۔

    برطانوی ادیب ایم جی ویلز کا محمد علی کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ ’’محمد علی نے برک کی زبان، میکالے کا قلم، اور نپولین کا دل پایا ہے، مولانا مناظر احسن گیلانی نے ان پر باضابطہ مرثیہ لکھا ہے۔

    بقول مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندویؒ ’’انہوں نے حق کہنے میں نہ اپنے شیخ طریقت مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی پرواکی نہ اپنے سب سے محترم ومحبوب شریک کار اور جنگ آزادی کے رفیق کار گاندھی جی کی، نہ اس وقت کی سب سے بڑی سلطنت (برطانیہ) کے وزیر اعظم کی، نہ سب سے زیادہ قابل احترام سرزمین کے فرمانروا اور بانئی سلطنت سلطان عبد العزیز ابن سعود کی، انہوں نے ہر جگہ حق بات کہی اور صاف وبے لاگ کہی۔

    مولانا محمد علی جوہر کی غیرت دینی اور حمیت اسلامی مسلمانان ہند کے لئے مشعل راہ ہے، انہوں نے وطن عزیز کے لئے جو قربانی دی وہ ناقابل فراموش اور ملت کی شیرازہ بندی، ان کی تعلیمی ترقی اور جدید وقدیم مواد پر مشتمل نصاب کی تیاری سے ان کے تعلیمی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے جدید اعلی تعلیم کے حصول کے بعد بھی اپنی مذہبی شناخت کو اہتمام کے ساتھ نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس کے داعی اورمبلغ ہوگئےہمیں ان کےاچھےکارناموں کو یادبھی رکھنا ہےاوران اچھائیوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کرناچاہیے مولانا محمد علی کی زبان سے نکلے بعض اشعار ان کے موقف کی پوری ترجمانی کرتے ہیں۔

    توحید تو یہ ہے کہ خداحشر میں کہہ دے
    یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لئے ہے

    کیا ڈر ہے جوہو ساری خدائی بھی مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے

    اشعار

    نہ نماز آتی ہے مجھ کو نہ وضو آتا ہے
    سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے

    توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
    یہ بندہ زمانے سے خفا میرے لیے ہے

    قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    وہی دن ہے ہماری عید کا دن
    جو تری یاد میں گزرتا ہے

    ساری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ سودائی ہے
    اب مرا ہوش میں آنا تری رسوائی ہے

    وقار خون شہیدان کربلا کی قسم
    یزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے

    ہر سینہ آہ ہے ترے پیکاں کا منتظر
    ہو انتخاب اے نگہ یار دیکھ کر

    شکوہ صیاد کا بے جا ہے قفس میں بلبل
    یاں تجھے آپ ترا طرز فغاں لایا ہے

    تجھ سے کیا صبح تلک ساتھ نبھے گا اے عمر
    شب فرقت کی جو گھڑیوں کا گزرنا ہے یہی

  • تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ  بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہور خاتون رہنما، سفارت کار اور معروف ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ 22جولائی 1915ء کوکلکتہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد حسان سہروری برطانوی وزیر ہند کے مشیر تھے۔1932ء میں ان کی شادی جناب اکرام اللہ سے ہوئی جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

    بیگم شائستہ اکرام اللہ شادی سے پہلے ہی شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانہ لکھا کرتی تھیں اور ان کے افسانے اس زمانے کے اہم ادبی جرائد ہمایوں، ادبی دنیا، تہذیب نسواں اور عالمگیر وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ 1940ء میں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ناول نگاری کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی، وہ اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔

    تحریک پاکستان کے دنوں میں انہوں نے جدوجہد آزادی میں بھی فعال حصہ لیا اور بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کی رکن رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مراکش میں سفارتی خدمات انجام دیں۔

    ان کی تصانیف میں افسانوں کا مجموعہ کوشش ناتمام، دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے، فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ، لیٹرز ٹو نینا، بیہائینڈ دی ویل اور اے کریٹیکل سروے آف دی ڈیولپمنٹ آف دی اردو ناول اینڈ شارٹ اسٹوری شامل ہیں۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن اور بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ رحمن سبحان کی خوش دامن تھیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا۔

    A CRITICAL SURVEY OF THE DEVELOPMENT OF URDU NOVEL AND SHORT STORIES
    شائستہ کی دیگر تصنیفات حسب ذیل ہیں ؎
    LETTERS TO NEENA, published in 1951.
    BEHIND THE VEIL, published in 1953.
    FROM PURDAH TO PARLIAMENT,published in 1963.
    HUSEYN SHAHEED SUHARWARDY:A BIOGRAPHY:published in 1991.
    ENGLISH TRANSLATION OF MIR’ATUL UROOS
    KAHAVAT AUR MUHAVAREY
    انھوں نے FROM PURDAH TO PARLIAMENTکا اردو ترجمہ کیا تاکہ عام لوگ اسے پڑھ سکیں۔اس کے علاوہ سفرنامہ اور دلی کی بیگمات کی کہاوتیں اور محاورے اردو میں ہیں۔بیگم شائستہ اکرام شادی سے پہلے شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانے لکھا کرتی تھیں۔ان کے افسانے اس وقت کے موقر جریدوں جیسے ہمایوں، ادبی دنیا، عصمت، تہذیب ، عالمگیروغیرہ میں مستقل شائع ہوتے تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’کوشش ناتمام ‘کےعنوان سے منظر عام پرآیا شائستہ سہروردی اکرام اللہ کی منتخب تحریریں ماہنامہ عصمت ، ۱۹۳۴ء ؁ سے ۱۹۸۸ء؁ تک ‘ان کے مضامین کا مجموعہ زیور طبع سے آراستہ ہوا۔

    شائستہ کا تعلق ایک متمول اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ان کے دادا بحر العلوم مولانا عبید اللہ عبیدی سہروردی مدناپور کے باشندے تھے ۔انھوں نے مدرسۃ العالیہ سے تعلیم حاصل کی ۔۱۸۸۵ء؁ میں ڈھاکہ میں آپ کا انتقال ہوا۔آپ اینگلو اسلامک اسٹڈیز کے حامی تھے۔آپ نے ہی بنگال میں تعلیم نسواں کے لئےموافق فضا تیار کی۔آپ کے دو بیٹے حسّان سہروردی ، عبد اللہ المامون سہروردی اور ایک بیٹی خجستہ اختر بانو تھیں۔

    پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی (۱۲؍ ستمبر ۱۹۵۶ء؁ تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء؁) بیگم خجستہ اختر بانو کے صاحبزادے تھے۔بیگم خجستہ اختر پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنھوں نے سینیر کیمبرج پاس کیا تھا۔ وہ اردو رسائل میں لکھا کرتی تھیں۔

    شائستہ کا نانہال نوابین کا گھرانہ تھا اور ان کی والدہ ایک روایتی خاتون تھیں۔شائستہ سہروردی محمد اکرام اللہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔محمد اکرام اللہ ہندوستان کے ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ان کے والد خان بہادر حافظ محمد ولایت اللہ کا تعلق بھوپال کے شاہی خاندان سے تھا۔ان کی پیدائش ۱۹۰۳ء؁ میں بھوپال میں ہوئی۔

    اکرام اللہ ۱۹۳۴ء؁ میں انڈین سول سروسیزمیں آ گئے۔ ۱۹۴۵ء؁ کے آس پاس انھوں نے اقوام متحدہ لندن اور سان فرانسسکو میں preparatory commissionمیں اہم خدمات انجام دیں۔پاکستان کے قیام کے بعد آپ بھوپال سے کراچی منتقل ہو گئے۔محمد علی جناح نے خارجہ سیکریٹری کا عہدہ آپ کے سپرد کیا۔آپ نے اقوام متحدہ میں کئی مرتبہ پاکستان کی قیادت کی۔ آپ کینیڈا اور یو کے میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہے اور پرتگال اور فرانس کے سفیر بھی بنائے گئے۔

    Common wealth Economic Committeeقائم کرنے میں اکرام اللہ پیش پیش رہے۔وہ کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل بھی منتخب ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے ۱۹۶۳ء؁ میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔آپ کے چھوٹے بھائی محمد ہدایت اللہ 1968 سے 1970 ء تک ہندوستان کے چیف جسٹس اور ۱۹۷۹ء؁ سے ۱۹۸۴ء؁ تک نائب صدر جمہوریہ ہند رہے۔کچھ وقت تک آپ نے کار گذار صدر جمہوریہ کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔

    ۸۶؍برس کی عمر میں ۱۹۹۲ء؁ میں ہدایت اللہ کا انتقال ہو گیا۔شائستہ اکرام اللہ کا ایک بیٹا انعام اکرام اللہ(۱۹۳۴ء؁ سے ۲۰۰۴ء؁) اور تین بیٹیاں ناز اشرف(۱۹۳۸ء؁)، سلمیٰ سبحان(۱۹۳۷ء؁ سے ۲۰۰۳ء؁) اور ثروت (۱۹۴۷ء؁)ہیں۔ناز اشرف مشہور آرٹسٹ ہیں جب کہ سلمیٰ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ رحمٰن سبحان کی ہمسر بنیں۔ثروت اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

    10 دسمبر 2000ء کو بیگم شائستہ اکرام اللہ متحدہ عرب امارات میں وفات پاگئیں۔وہ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    یوم وفات، ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی

    پیدائش:05 ستمبر 973ء
    کاث
    وفات:09 دسمبر 1048ء
    غزنی
    رہائش:خوارزم
    رے
    غزنی
    گرگان
    شہریت:سلطنت غزنویہ
    زبان:
    ۔۔۔۔۔
    فارسی، قدیم یونانی
    توراتی عبرانی
    سریانی زبان
    سنسکرت، عربی
    شعبۂ عمل:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    طبیعیات، ریاضی، فلکیات
    علوم فطریہ، تاریخ کی سائنس
    لسانيات، ہندویات، زمینیات
    جغرافیہ، فلسفہ، نقشہ نگاری
    انسانیات، نجوم، کیمیا
    طب، نفسیات، الٰہیات
    علم الادویہ، تاریخ مذاہب
    کارہائے نمایاں:آثار الباقیہ
    عن القرون الخالیہ

    ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی (پیدائش: 05 ستمبر 973ء، وفات: 9 0دسمبر 1048ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس داں تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب ”آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ“ مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹے اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کاث شہر دریائے جیحون (دریائے آمو) کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ اس کے اردگرد کئی مضافاتی بستیاں تھیں جن میں ایک بستی کا نام بیرون تھا۔ اس مضافاتی بستی میں ایک یتیم بچہ پرورش پا رہا تھا جس کا نام محمد بن احمد تھا جو دنیا میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ بچہ شروع ہی سے قدرتی مناظر کا دلدادہ تھا۔ وہ دن بھر باغات میں پھرتا، خوب صورت پہاڑوں پر چڑھ جاتا، صحرا میں دوڑتا بھاگتا اور شام کے وقت گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھ میں ریحان کی کونپلوں اور ٹہنیوں کا ایک گلدستہ ہوتا جسے وہ ایک پیالے میں سجا دیتا اور جب ہوا چلتی تو اس گلدستے کی خوشبو اس کے غریب خانی کو معطر کردیتی۔ اس کی ماں اس کو اسی لیے ابو ریحان کہہ کر پکارتی تھی۔ البیرونی کا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا لیکن اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے البیرونی کی ماں اپنے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے روزی کمانے پر مجبور ہوگئی۔ اس کام میں البرونی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔
    ایک روز البرونی کی نباتات کے ایک یونانی عالم سے ملاقات ہو گئی۔ البرونی نے اسے ایک باغ میں پھول توڑنے اور جنگل کے درختوں کے نیچے پودوں کو کاٹتے دیکھا تو اس یونانی علم کے پاس پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے کہنے لگا: جناب آپ ان پھولوں کو کیوں توڑ رہے ہیں اور پودوں کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟ کیا آپ میری طرح ان کو کاٹے بغیر اور انھیں زندگی سے محروم کیے بغیر ان کی تصویریں نہیں بنا سکتے ہیں؟ یہ سن کر یونانی عالم ہنس پڑا اور کہنے لگا: بیٹے میں ان پھولوں اور پودوں کو علم کی خاطر جمع کر رہا ہوں، ان پودوں اور پھولوں سے ہم بیماریوں کے علاج کے لیے دوائیں تیار کر رہے ہیں۔ یہ سن کر البیرونی خوشی سے چلایا: تو آپ نباتات کے عالم ہیں؟ یونانی عالم نے پیار سے کہا: ہاں میرے بیٹے، میرا خیال ہے تمھیں پھولوں اور پودوں سے بہت محبت ہے۔ البیرونی نے کہا میں تو تمام قدرتی مناظر سے محبت کرتا ہوں۔ ستاروں، درختوں، پودوں، پھولوں، پہاڑوں، ٹیلوں اور وادیوں سب ہی مجھے پیار ہے۔ وہ یونانی عالم نے البیرونی کو روزانہ تعلیم دیتا رہااور نباتات کا علم سکھاتا رہا۔ اس وقت البیرونی کی عمر گیارہ سال تھی۔ تین سال گزر گئے اور ابو ریحان چودہ برس کا ہوگیا۔ اس عرصے میں اس نے یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی اور یونانی علم سے پودوں کی دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا۔ طبعی علوم کے بارے میں اس کا شوق اور بڑھ گیا۔ یونانی عالم اپنے وطن یونان لوٹنے سے پہلے البیرونی کو فلکیات و ریاضی کے عالم ابو نصر منصور علی کی خدمت میں جو خوارزمی خاندان کا شہزادہ تھا لے گیا۔ ابو نصر نے البیرونی کے لیے الگ گھر تعمیر کرایا اور وظیفہ بھی مقرر کیا۔ ابو نصر ہر روز فلکیات اور ریاضی کے علوم سکھاتا رہا۔ ابو نصر نے البیرونی کو مشہور ریاضی داں اور ماہر عبد الصمد کی شاگردی میں دے دیا۔

    کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”کتاب الہند“ ہے جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں، ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب ”قانون مسعودی“ ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس داں اور ریاضی داں سمجھا جاتا ہے۔ البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور ”کتاب الہند“ تالیف کی۔ علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام ”البیرونی کریٹر“ رکھا گیا ہے۔
    تصنیفات و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    البیرونی نے تاریخ، ریاضی اور فلکیات پر کوئی سو سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں :
    کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کتاب البیرونی نے جرجان کے حکمران شمس المعالی قابوس بن دشمکیر کے نام پر تحریر کی۔ اس کا خاص موضوع علم نجوم اور ریاضی تھا لیکن اس میں بہت سی دیگر دلچسپ علمی، تاریخی اور مذہبی و فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں اور جگہ جگہ تنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرح کتاب اس دور کے اہم تاریخی، مذہبی اور علمی مسائل کی ایک تنقیدی تاریخ بن گئی ہے۔
    کتاب الہند
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہندویات پر عربی زبان میں پہلی شہرہ آفاق کتاب جس کا پورا نام تحقیق ما للھند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرذولۃ ہے۔ یہ کتاب قدیم ہندوستان کی تاریخ، رسوم و رواج اور مذہبی روایات کے ذیل میں صدیوں سے مورخین کا ماخذ رہی ہے اور آج بھی اسے وہی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب الہند کا مواد حاصل کرنے کے لیے البیرونی نے سال ہا سال تک پنجاب میں مشہور ہندو مراکز کی سیاحت کی، سنسکرت جیسی مشکل زبان سیکھ کر قدیم سنسکرت ادب کا براہ راست خود مطالعہ کیا۔ پھر ہر قسم کی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی معلومات کو، جو اہل ہند کے بارے میں اسے حاصل ہوئیں اس کتاب میں قلم بند کر دیا۔ اس کتاب میں ہندو عقائد، رسم و رواج کا غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک انداز میں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس کے ذریعے عربی داں طبقہ تک ہندو مت کے عقائد و دیگر معلومات اپنے اصل مآخذ کے حوالے سے پہنچیں۔
    کتاب مقالید علم الہیئہ وما یحدث فی بسیط الکرہ۔
    قانون مسعودی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے جس کا نام اس نے سلطان محمود عزنوی کے نام پر رکھا ہے۔ پورا نام ہے۔ یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات اور سائنسی علوم کے موضوعات پر اس وقت میں لکھی جا چکی تھیں۔ اس کتاب کا علمی مقام بطلیموس کی کتاب المجسطی سے کسی طرح کم نہیں۔
    ۔ (1)کتاب استخراج
    ۔ الاوتار فی الدائرہ۔
    ۔ (2)کتاب استیعاب الوجوہ
    ۔ الممکنہ فی صفہ الاسطرلاب۔
    ۔ (3)کتاب العمل
    ۔ بالاسطرلاب۔
    ۔ (4)کتاب التطبیق
    ۔ الی حرکہ الشمس۔
    ۔ (5)کتاب کیفیہ رسوم
    ۔ الہند فی تعلم الحساب۔
    ۔ (6)کتاب فی تحقیق
    ۔ منازل القمر۔
    ۔ (7)کتاب جلاء الاذہان
    ۔ فی زیج البتانی۔
    ۔ (8)کتاب الصیدلہ
    ۔ فی الطب۔
    ۔ (9)کتاب رؤیہ الاہلہ
    (10)کتاب جدول
    ۔ التقویم
    ۔ (11)کتاب مفتاح
    ۔ علم الہیئہ۔
    ۔ (12)کتاب تہذیف
    ۔ فصول الفرغانی۔
    ۔ (13)کتاب ایضاح
    ۔ الادلہ علی کیفیہ
    ۔ سمت القبلہ۔
    ۔ (14)کتاب تصور امر
    ۔ لفجر والشفق فی
    ۔ جہہ الشرق والغرب
    ۔ من الافق۔
    ۔ (15)کتاب التفہیم
    ۔ لاوائل صناعہ التنجیم
    ۔ (16)کتاب المسائل
    ۔ الہندسیہ۔
    ۔ (17)مقالہ فی تصحیح الطول
    ۔ والعرض لمساکن المعمورہ
    ۔ من الارض۔

    البیرونی کی دریافتیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے، انہوں نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر ریسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔

  • لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    لاہور دا پاوا — ابوبکر قدوسی

    کبھی کوئی چائے والا اور کبھی پتی والا ۔۔۔اور کبھی کوئی پیپسی اور آج لاہور دا پاوا ۔۔۔۔۔۔۔

    افسوس اس قوم کے رہنماؤں نے اس قوم کو کھیل تماشے اور بےکار امور کے نشے میں یوں مبتلاء کیا کہ ان کو اپنی منزل بھول گئی ۔۔۔

    خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
    آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی

    ہر طرف ایک مجہول اور نامعقول شخص کے منہ سے نکلے فضول الفاظ کی تکرار ہے ، اور اچھے خاصے سنجیدہ دوست بھی اس بربادی وقت اور فکر کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔۔

    کہنے کو ہم رہنما اسلامی ملک ہیں ، خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم سے سب پوچھ کے منزل سفر طے کریں کہ ہم دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہیں اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پوری قوم کی زبان اور حواس پر ایک مجہول جملہ جاری وساری ہے ۔۔۔۔ایسا جملہ کہ جس کا معانی تلاش کیا جائے تو شائد لفظ ” نامعقولیت ” سے ہی ادا ہو پائے ۔۔۔۔

    تکلیف اس امر کی ہے کہ لہو و لعب کی رسیا اس جہالت کو ہر دوسرے ہفتے ایسی کسی جہالت کی تلاش ہوتی ہے۔ ۔۔اور جب ایسی کوئی جہالت مل جاتی ہے تو سوشل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سب اس جہالت کو ماتھے کا جھومر بنائے ناچ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔

    ایسا شخص کہ جس کی گفتگو کے سبب اسے کسی پڑھی لکھی مجلس میں جگہ نہ ملے اس کے انٹرویو چل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
    کیا ترقی چاہنے والی اقوام کے یہی طور طریقے ہوتے ہیں ؟ ۔حقیقت یہ ہے کہ ہم قوم نہیں نرا ہجوم ہیں ، بےہنگم اور تالیاں پیٹنے والا غیر سنجیدہ ہجوم ۔۔۔۔۔

    اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے کہ جب ملک بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ، کہ آج دیوالیہ ہوا کہ آج ، اور قوم کے بڑے چھوٹے سب ہاہا ہوہو کر رہے ہیں ۔۔یعنی جس وقت پوری قوم کو فکرمندی سے آنے والے دنوں کا سوچنا چاہیے اس وقت یہاں غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے ۔۔۔۔