Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • طاہرہ ردا کے پہلے شعری مجموعے” تیرے نام کے سارے شعر” کی شاندار تقریب رونمائی

    طاہرہ ردا کے پہلے شعری مجموعے” تیرے نام کے سارے شعر” کی شاندار تقریب رونمائی

    عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگوشناسی فورم کے تحت شکاگو کی معروف شاعرہ، اینکر اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ طاہرہ ردا کے شعری مجموعے "تیرے نام کے سارے شعر "کی تقریب رونمائی ہوئی۔

    تقریب رونمائی اردو ادب کے عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش” سفیرِ عشق” کے ہاتھوں ہوئی۔ اس تقریب رونمائی میں امریکہ کی مختلف ریاستوں سے شعراء اور ادیبوں نے اور شکاگو لینڈ کے دوستوں اور ریاست الیناۓ کے مختلف شہروں سے کافی تعداد میں شائقین ادب اور طاہرہ ردا کے دوستوں اور شعرا نے شرکت کی۔ طاہرہ ردا کی فیملی نے بھرپور شرکت کی ۔ تقریب کے میزبان پروفیسر مسرور قریشی نے تمام شرکاء کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور طاہرہ ردا کے شعری سفر پر ایک سیر حاصل مضمون پڑھا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے بیرون ریاست الیناۓ سے آنے والے شعراء و ادیبوں کا بھرپور شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی محبت میں آپ کی آمد پر ہم سب اپ کے ممنون ہیں۔ پروگرام میں ڈاکٹر سعید پاشا اوہایو، مونا شہاب میری لینڈ، عتیق حیدر اوہانیو، اکرام بسرہ آئیوا، خرم سہیل اوہانیو، ڈاکٹر قطب الدین ابو شجاع انڈیانا سے تشریف لائے۔

    کتاب کی طباعت عباس تابش کے ادارے عشق آباد سے ہوئی۔ انہوں نے طاہرہ کے شعری مجموعے کی طباعت کے مراخل بتاتے ہوئے طاہرہ ردا کے شعری کلام کے محاسن پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے شعروں پر داد دی۔ ڈاکٹر توفیق انصاری احمد نے طاہرہ کے شعری کلام کو سراہا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو شکاگو میں نئی کتاب کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے عباس تابش کو "سفیر عشق” کا خطاب دیا کہ وہ اردو کے عشق میں ملکوں ملکوں سفر کر کے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ طاہرہ ردا کی کتاب شخصیت اور کمیونٹی میں فال رول ادا کرنے پر مونا شہاب، اکرام بسرہ، ڈاکٹر سعید پاشا، عابد رشید، امین حیدر، ڈاکٹر افضال الرحمن افسر، ریاض نیازی، شگفتہ حسین، حمیرہ عقیل، ڈاکٹر زاہد ملک نے خطاب کیا محمد مجید اللہ خان صدر وبانی عالمی مرکزی ادبیات اردو کی جانب سے عباس تابش اور طاہر ردا کو نشان سپاس پیش کیا گیا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو انکے اشعارپر مشتمل ان کی تصویرکے ساتھ ایک شاندار پورٹریٹ پیش کیا۔ کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا شرکاء کی جانب سے طاہرہ ردا کو ایک درجن سے زائد پھولوں کے گلدستے اور تحائف پیش کیے گئے۔

    شرکاء کی تواضع کے لیے ظہرانے کا اہتمام تھا۔ پروگرام میں چائے اور دیگر لوازمات موجود تھے شرکا کے مطابق شکاگو لینڈ میں یہ ایک بھرپور ادبی تقریب تھی۔ جن پر منتظمین کو مبارکباد دی گئی۔ پروگرام میں مظہر عالم نے جزوی طور پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی ،تقریب کے انتظامات مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم ،محمد حسین، محمد مجید اللہ خان ،شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے سنبھالے ہوئے تھے۔ تقریب میں مہمانِ خصوصی صحافی فرحت خان اورشاہ رخ ویڈیو فوٹوگرافی کر رہے تھے جبکہ پاکستان کے ممتاز ٹی وی چینل 92 کے نمائندہ امریکہ انصاری رضوی ویڈیو بنا رہے تھے اور خصوصی طور پر رپورٹ بنا رہے تھے۔شرکاء کے مطابق شکاگو لینڈ میں یہ ایک شاندار ویادگار تقریب تھی۔
    رپورٹ.ثوبیہ راجپوت

  • میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،اپووا ایک تنظیم ہی نہیں ایک ادارہ ہے جس سے ہزاروں لوگ بلاواسطہ یا براہ راست جڑے ہوئے ہیں اور مستفید ہو رہے ہیں،اپووا اپنے احباب اور جڑے لوگوں کی عزت اور عزت نفس کا محافظ ہے اور الحمدللہ دن رات محنت لگن خلوص سے جانب منزل رواں دواں ہے اور اپنی صلاحیتوں اور نت نئے پروگرامز متعارف کروانے پہ اپنی مثال آپ ہے
    آزمائشوں اور تجربات سے گزر کر مذید پختہ ہوتا جا رہا ہے
    ایم ایم علی نے جو پودا لگایا تھا اج وہ پوری قدوقامت کے ساتھ کھڑا پھل دے رہا ہے
    کئی پھل گر کر پرندے کھا گئے کئی خشک ہو گئے مگر پودا اپنی جگہ پر قائم ہے
    ہمیشہ کی طرح نو نومبر کو بھی یوم اقبال پہ اپووا نے ایک منفرد اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا جس میں اپووا کے خیر خواہ اوربے لوث چاہنے والوں کا جم غفیر تھا لاکھوں کے نقد انعامات اور بکس تقسیم کی گئیں
    تمام ممبران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
    میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ایم ایم علی اور اس ساری محفل کے روح رواں جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب حافظ زاہد صاحب اور سفیان فاروقی اور محترمہ پروفیسر سمیرا صاحبہ ماریہ خان،لاریب، حفضہ خالد ایمن سعید اور دیگر تمام معزز خواتین و حضرات کا جنہوں نے اس مقدس محفل میں حصہ لیا،اور شکر گزار ہوں ان تمام معزز مہمانان گرامی قدر کا جو شامل ہوئے،
    انشاءاللہ تعالیٰ اپووا اسی طرح کے شاندار پروگرام کر کے اپنی شناخت کو خوب سے خوب تر کی طرف لیجانے کی ڈگر پہ چلتا رہیگا انشاء اللّه
    اور مجھے فخر ہے کہ میں اپووا کا ایک کارکن ہوں،ایک بار پھر ایم ایم علی،جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب اور تمام اپووا کے محبت کرنے والوں خیر خواہوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد
    اور اگر کسی کا نام بھول گیا ہوں تو معذرت خواہ
    ہمارا نعرہ ہے کہ
    اپووا تھا
    اپووا ہے
    اپووا رہے گا
    انشاءاللہ تعالیٰ

  • اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت،  تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت، تحریر:طارق نوید سندھو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیراہتمام ایک نہایت بامعنی اور روح پرور تقریب، “عطائے ارمغانِ عقیدت”لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ دلوں کی کیفیات، عشقِ رسول ﷺ کے رنگ اور قلم کی لطافتوں کا حسین امتزاج تھی۔یہ محفل اُن خوش نصیب اہلِ قلم کے نام تھی جنہوں نے اپووا کے تحت منعقدہ مراسلاتی مہم میں سرورِ کائنات ﷺ کے حضور خطوط تحریر کیے۔ ان خطوط میں کسی نے ندامت کے آنسو لفظوں میں سموئے، کسی نے عقیدت کے پھول نذر کیے، تو کسی نے اپنی زندگی کے مدعا کو آقائے دو جہاں ﷺ کے حضور بیان کیا۔ ہر خط اپنے اندر ایک داستانِ عشق، ایک نغمۂ محبت اور ایک پیامِ وفا سمیٹے ہوئے تھا۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس نے فضا کو معطر کردیا۔حافظ محمد زاہد نے تلاوت کی جبکہ حفصہ خالد نے نعت رسول مقبول پڑھی، اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے شرکا کو خوش آمدید کہاسینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان بھی محفل پرنور کی زینت بنے، ان کی گفتگو میں ادب کے فروغ اور عشقِ رسول ﷺ کی ترویج کا جوش نمایاں تھا۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی اور شریکِ محفل، مجھے بھی عزت و احترام سے نوازا گیا۔ اپووا کی پوری ٹیم کی محبت اور خلوص نے دل کو ممنون کر دیا۔ اس موقع پر جناب ایم ایم علی، ناصر بشیر و دیگر نے بھی خطاب کیا،

    اختتامی لمحات میں اُن تمام لکھنے والوں کو یادگاری اسناد اور ارمغانِ عقیدت سے نوازا گیا جنہوں نے اپنے خطوط کے ذریعے عشق و عقیدت کا حق ادا کیا۔ ان تحریروں میں وہ کیف و جذب تھا جو لفظوں سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔یہ تقریب دراصل ایک عہدِ نو کی بشارت تھی کہ جب لفظ عشق کے تابع ہوں اور قلم محبت کے رنگ میں تر ہو، تو ادب عبادت بن جاتا ہے۔ اپووا کی یہ کاوش یقیناً ادبی تاریخ میں محبتِ رسول ﷺ کے فروغ کی ایک روشن مثال بن کر یاد رکھی جائے گی۔

    جب قلم محبت کے چراغ جلائے،
    اور دل عقیدت کی روشنی میں بھیگ جائے،
    تو الفاظ محض حروف نہیں رہتے، وہ دعائیں بن جاتے ہیں۔
    “تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت” دراصل انہی دعاؤں کا سنگم تھی
    جہاں محبتِ رسول ﷺ نے ہر دل کو منور کیا،
    اور ہر قلم نے اپنی سیاہی کو نعت کی خوشبو سے معطر کر دیا۔

  • تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    قوموں کی تعمیر صرف عمارتوں اور صنعتوں سے نہیں ہوتی بلکہ کردار اور ایمان سے ہوتی ہے۔ کردار کی تعمیر وہی قوم کر سکتی ہے جو اپنی نئی نسل کو اپنے دینی و اخلاقی سرمایے سے روشناس کرائے۔ اور ہمارے لیے سب سے بڑا سرمایہ قرآن و سنت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے؛ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”یہ فرمان آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ساڑھے چودہ سو برس پہلے تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کے ذہنوں میں قرآن و سنت کی روشنی اتارنے کا وہ حق ادا کیا ہے جو ہونا چاہیے؟ افسوس کہ آج ہمارے بچوں کی لائبریریاں رنگ برنگی کہانیوں اور مغربی کرداروں سے بھری پڑی ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، ان کے پیغام اور ان کی سنت کے حوالے سے مواد نہایت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔یہی وہ خلا ہے جسے دارالسلام انٹرنیشنل نے اپنی خوبصورت کاوش 20 احادیث فار کڈز (انگلش) سے پر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب بچوں کے معصوم ذہن کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ بیس صحیح احادیث کا انتخاب، ان کا نہایت سادہ ترجمہ اور عام فہم تشریح، اور ساتھ ہی دلچسپ مشقیں یہ سب کچھ مل کر کتاب کو ایک ایسی تحریر بنا دیتے ہیں جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ دل میں اترنے کے لیے ہے۔یہ کتب خانوں کی سجی سجائی الماریوں کے لیے نہیں بلکہ گھروں کے ڈرائنگ روم، کلاس روم کی میز اور ہر اس جگہ کے لیے ہے جہاں بچوں کے ذہن پروان چڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ بچے ہی تو ہمارے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر ان کے دل میں ابھی سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور احادیث کی روشنی ڈال دی جائے تو آنے والی نسلیں یقیناً گمراہی کے اندھیروں سے بچ جائیں گی۔کتاب کی ایک اور بڑی خوبی اس کی طباعت ہے۔ چہار رنگوں کے ساتھ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی یہ کتاب بچے کے ذوق کو اپیل کرتی ہے۔ رنگوں کی یہ دلکشی اس کے پیغام کو اور زیادہ جاذبِ نظر بنا دیتی ہے۔ سادہ سا مواد اگر خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے تو وہ ذہن پر کئی گنا زیادہ اثر ڈال دیتا ہے، اور یہی خصوصیت اس کتاب کو بھی امتیازی حیثیت دیتی ہے۔قیمت کے اعتبار سے بھی کتاب ہر والدین کی دسترس میں ہے۔ محض 450 روپے میں یہ قیمتی تحفہ لاہور کے معروف ادارے دارالسلام انٹرنیشنل سے دستیاب ہے۔ ایک ایسی سرمایہ کاری جو ہر مسلمان گھرانے کو کرنی چاہیے، کیونکہ اس کا منافع دنیاوی دولت نہیں بلکہ بچوں کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے۔یہ کتاب صرف ایک اشاعتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ یہ والدین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں محض کھلونے نہ دیں، بلکہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے آراستہ وہ تحفہ دیں جو انہیں زندگی بھر روشنی عطا کرے۔ یہ اساتذہ کو بھی پیغام دیتی ہے کہ وہ نصاب کے بوجھ سے نکل کر بچوں کے لیے وہ علمی غذا فراہم کریں جو ان کے کردار کو سنوارے۔حقیقت یہ ہے کہ 20 احادیث فار کڈز ہماری نئی نسل کے لیے ایک چراغ ہے۔ ایک ایسا چراغ جو گھروں کی دیواروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرتا ہے۔ یہ کتاب صرف خریدنے کے لیے نہیں بلکہ اپنانے کے لیے ہے، اور ہر اس والدین پر قرض ہے جو اپنی اولاد کو ایمان کی امانت دینا چاہتا ہے۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل 36لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے

  • تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    جب ہم دنیا میں حیات ہوں تو بچے ہمارے لیے رحمت ، راحت اور خوشی کا باعث بن سکتے ہیں اور جب ہم دنیا سے چلے جائیں گے تو اس وقت ہمارے بچے ہمارے لیے بخشش ، نجات اور صدقہ جاریہ بن سکتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوگا جب ہم بچوں کی تربیت اچھی کریں گے، ان کے اخلاق وکردار کو سجانے اور سنوارنے کے لیے محنت کریں گے اور انھیں دین کی تعلیمات سے آشنا کریں گے لیکن اگر ہم بچوں کی تربیت اچھی نہیں کریں گے اور کا تعلق دین سے نہیں جوڑیں گے تو کل قیامت کے دن یہی بچے ہمارا گریبان پکڑیں گے اور اللہ کی عدالت میں ہم پر دعویٰ دائر کریں گے تب ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا ۔ بچوں کی اچھی تربیت والدین کا فرض ہے ۔ اچھی تربیت میں عمدہ کتابیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ بچوں کے لیے اصلاحی اخلاقی کتابیں شائع کرنے میں دارالسلام انٹرنیشنل کا ایک نام اور مقام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ اس کتاب میں 60ایسی احادیث شامل کی گئی ہیں جو روزمرہ زندگی کے معاملات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ مثلاََ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، حیا ایمان کا حصہ ہے ، نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے ، جنت کی کنجی نماز ہے ، جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ، تم سچائی پر قائم رہو ، مظلوم کی بدعا سے بچو ، تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے ہاتھ ہاتھ سے نہ کھائے ، بے شک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ، جہنم کی آگ سے بچو ، رشتے داروں سے حسن سلوک عمر میں اضافے کا بعث بنتا ہے ، جھوٹ سے بچو ، جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ اپنی ہتھلیاں اپنے چہرے پر رکھے اور اپنی آواز پست رکھے ، بے شک صدقہ اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے ، جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ، ماں کی خدمت کرو بلاشبہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے ، جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا ، چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا ، اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے ، جس نے خیر وبھلائی کے کام کی رہنمائی کی اسے نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا ۔ اسی طرح دیگر احادیث بھی اصلاحی اور اخلاقی موضوع پر ہیں ۔ان احادیث سے اس کتاب کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ بات معلوم ہے کہ اللہ نے انسان کی زندگی کو مزین کیا ہے اولاد کے ساتھ اورمال کے ساتھ۔ یہ اولاد اور مال انسان کے لیے آزمائش ہے۔ مال ہو تو انسان کا حق ہے کہ اسے جائز طریقے سے کمائے اور جائز طریقے سے خرچ کرے اولاد ہو تو انسان کا حق ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرے ۔ اولاد کی تربیت میں غفلت سنگین جرم ہے جس کے دنیا میں بھی انسان کو نتائج بھگتنے پڑتے ہیں اور آخرت میں تو اس کے لیے عذاب عظم ہے ہی ۔ بچوں کو اگر بچپن ہی سے اچھی کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی تربیت اچھی نہ ہو ۔ رسول ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لیے ہدایت کا شفاف سرچشمہ ہے ۔ ہمیں زندگی کے ہر ہر لمحے آپ کی پاکیزہ سیرت اور احادیث سے رہنمائی ملتی ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی بڑی محبت سے احادیث اور دین کی باتیں نہ صرف سکھیں بلکہ انھیں محفوظ بھی کیا ۔ آج وہ تمام ذخیرہ احادیث ہماری رہنمائی کے لیے ہمارے پاس موجود ہے ۔ کتب احادیث میں بہت ضخیم کتب بھی موجود ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے تاہم مختصر کتب احادیث کی بھی اپنی اہمیت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے ل میں ایسی 60مختصر احادیث جمع کی گئی ہیں جو ہمارے اور ہمارے بچوں بچیوں کے اخلاق اور کردار کو سجا اور سنوار سکتی ہیں ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر شائع کردہ اس کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد لوئر مال سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے ۔

  • امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں، جد و جہد اورعزم سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نمایاں نام ہے لاہور کے رہائشی 25 سالہ پاکستانی مصنف حسن صدیقی کا ، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی ادب کے افق پر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ حسن صدیقی اُن گنے چنے پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو انسانیت، ہمدردی اور امید کے پیغام کا ذریعہ بنایا، اور دنیا کو دکھایا کہ اصل قومی ہیرو وہی ہوتے ہیں جو علم و اخلاق کے ذریعے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    Cupertino Library میں پہلا پاکستانی مصنف
    حال ہی میں حسن صدیقی نے ایک اور نمایاں عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ اُن کی کہانی "A Hope for One Homeless” کو 10 اکتوبر 2025 کو World Homeless Day کے موقع پر امریکہ، کیلیفورنیا کی معروف عوامی لائبریری Cupertino Library میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ لائبریری Silicon Valley کے علمی و ثقافتی مراکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور Apple کے عالمی ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہونے کے باعث دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتی ہے۔

    یوں حسن صدیقی وہ پہلے پاکستانی مصنف بن گئے جن کا کام اس نمایاں امریکی ادارے میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے جو نہ صرف اُن کی صلاحیتوں بلکہ پاکستان کے تخلیقی نوجوانوں کی قوتِ ارادی کا مظہر ہے۔

    ادبی سفر کا آغاز، ماں کی جدائی اور کم عمری کی ذمہ داریاں
    حسن صدیقی کی زندگی کا سفر آسان نہ تھا۔ محض 14 سال کی عمر میں اُن کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد زندگی نے اُنہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ کم عمری میں گھریلو ذمہ داریاں اور تعلیمی تقاضے ایک ساتھ نبھانا اُن کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اُن کے والد ایک فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہیں، اور محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ بیٹے کے خوابوں کو جینے دیا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں سے حسن صدیقی نے سیکھا کہ اصل کامیابی وسائل سے نہیں، عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ مایوس کن حالات اور محدود وسائل کے باوجود، انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے وہ کر دکھایا جس کا بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔

    کینٹربری کیتھیڈرل میں عالمی اعزاز
    اس سے قبل دسمبر 2024 میں، حسن صدیقی کی کہانی “A Christmas Homeless” برطانیہ کے عظیم تاریخی و ثقافتی ورثے کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جو یونیسکو کے عالمی ورثہ میں شامل ہے۔ یہ کہانی دسمبر 2024 سے مارچ 2025 تک وہاں نمایاں طور پر آویزاں رہی۔ یہ اعزاز صرف اُن کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ تھا، کیونکہ وہ اس عالمی شہرت یافتہ مقام پر نمایاں ہونے والے پہلے پاکستانی مصنف بنے۔
    حسن صدیقی کی اس کامیابی کو متعدد بین الاقوامی اداروں نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا, جن میں برطانوی حکومت (7 جولائی 2025)، یونیسکو (20 جولائی 2025)، اقوامِ متحدہ (19 اگست 2025)، اور برطانوی ہائی کمیشن پاکستان (20 مئی 2025) شامل ہیں۔ یہ تسلیم شدہ اعزاز اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان بھی عالمی ادب کے افق پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

    وطن میں خاموشی کیوں؟
    جب ایک نوجوان اپنی تحریر سے دنیا بھر کے قارئین کے دل جیت لے، عالمی تنظیمیں اس کے کام کو سراہیں، تو یہ لمحۂ فخر ہونا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں جب ایسے نوجوانوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ہمارے قومی ہیرو کب پہچانے جائیں گے؟

    ادب، فن اور ثقافت کسی قوم کا چہرہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک مصنف اپنے الفاظ سے دنیا میں انسانیت، ہمدردی اور اخلاق ک پیغام پھیلا رہا ہے تو یہ پوری قوم کے لیے باعثِ عزت ہونا چاہیے۔

    ورلڈ اسکالرز کپ اور عالمی ادبی پلیٹ فارمز میں نمایاں کامیابیاں، NASA
    حسن صدیقی کی علمی اور تخلیقی صلاحیتیں صرف ادبی دنیا تک محدود نہیں ہیں، انہوں نے NASA سے مضمون نویسی میں اعترافی سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ World Scholars Cup میں تحقیق اور تحریر کے شعبے میں گولڈ میڈلسٹ کے طور پر نمایاں کارکردگی دکھائی، ان کی تحریریں Spillwords Press، Illumination، Storymaker اور دیگر بین الاقوامی ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکی ہیں اور ان کی کتاب Twenty Bright Paths: Stories of Growth & Learning امریکہ میں شائع ہوئی، جسے نوجوان قارئین نے بے حد سراہا، اور یہ حسن صدیقی کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت پاکستانی مصنف کے طور پر متعارف کروانے کا سبب بنی۔


    خواتین کے لیے آواز: “The Female Times”
    حسن صدیقی صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک سماجی شعور رکھنے والے لکھاری بھی ہیں۔ وہ دی فیمل ٹائمز کے بانی ہیں ، ایک غیر منافع بخش ڈیجیٹل میگزین جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کی آواز کو بلند کرنے کے لیے وقف ہے۔یہ پلیٹ فارم اُن خواتین کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں اپنی کہانیاں سنانے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ حسن صدیقی کا ماننا ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین اپنی بات خود کہہ سکیں اور اپنی جدوجہد کو کھلے عام پیش کر سکیں۔

    حکومتی اعتراف اور قومی فخر کی ضرورت
    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے لکھاریوں اور دانشوروں کو قومی ہیرو کا درجہ دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اُن کے ملک کی پہچان ہیں۔ لیکن پاکستان میں جب کوئی نوجوان عالمی سطح پر کامیاب ہوتا ہے تو اکثر سرکاری سطح پر خاموشی چھا جاتی ہے۔

    حسن صدیقی کی مسلسل عالمی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ اگر حکومت ایسے مصنفین کو سرکاری اعزازات، مالی معاونت، اور سرپرستی فراہم کرے تو یہ پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط کرے گا۔حسن صدیقی نے ثابت کیا ہے کہ وطن کے حقیقی سفیر وہی ہوتے ہیں جو عمل، اخلاق، اور علم سے دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ آج بھی اس یقین کے ساتھ لکھ رہے ہیں کہ ایک دن پاکستان بھی اُن کی کاوشوں کو تسلیم کرے گا ، کیونکہ قومی ہیرو ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لکھتے ہیں، چاہے قوم اُنہیں کب تسلیم کرے۔

  • تبصرہ کتب،نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    تبصرہ کتب،نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    پیش نظر کتاب ” نوجوان نسل کےلئے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ عبدالمالک مجاہد کی نئی تالیف ہے جسے دینی کتابوں کے ادارہ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے ۔یہ کتاب کتب ِ سیرت میں ایک خوبصورت موتی کی طرح گرانقدراضافہ ہے ۔ موضوع جس قدر عظیم ہے عبدالمالک مجاہد نے اسی قدر بہتر طریقے سے اسے لکھنے کاحق ادا کیا ہے ۔ کتاب میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو بغیر سند کے مذکور ہویاجس کی صحت مشکوک ہو ۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی حیات مبارک کو مختصر طور پر پڑھنے کی خواہشمند نوجوان نسل کے لئے لاجواب اور بےمثال تحفہ ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود سیرت النبی کے تمام پہلوﺅں کا مکمل احاطہ کرتی ہے اس میں نبی ﷺ کی مبارک زندگی کے تمام گوشے خوبصورت طریقے سے بیان کئے گئے ہیں ۔کتاب کااسلوب نہایت دلچسپ اورعام فہم ہے جوکہ بطور خاص نوجوان نسل کالجوں ، یونیورسٹیز اوردینی اداروں کے طلبہ وطالبات کے لئے نہایت مفید ہے۔

    انداز بیاں میں سادگی اورروانی ہے تاکہ نوجوان نسل اسے دلچسپی سے پڑھے ۔ اس لئے کہ یہ محبوب الہیٰ کا تذکرہ ہے ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے دنیا میں بسایا اس کے بعد بیشمار ادوار گزرتے چلے گئے تاآنکہ انسانی جذبات واحساسات نے تحریرکی شکل اختیار کی اول اول انسان نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا تب سے اب تک جتنے ادور بھی گزرے، لوگ لکھتے رہے اور لکھتے چلے جائیں گے لیکن سیرت رسول پر لکھنے کا حق ادا نہیں کرسکیں گے سیرت طیبہ کے ہدی خوانوں میں عبدالمالک مجاہد بھی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ”پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ میں تمام واقعات مستند اور صحیح ہیں ۔ یہ واقعات سیرت کی قابل اعتماد کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر عربی عبارات کے ترجمے کو لفظی ترجمے کی بجائے آسان ترین اوربامحاورہ ترجمے کی صورت میں لکھا گیاہے ۔کتاب اللہ کے نبی ﷺ کی روشن زندگی کے روشن اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے جس کے مطالعہ سے ہم دین ودنیا کی کامیابیاں سمیٹ سکتے اوردنیا کو بھی انسانیت، امن ، سلامتی کاایک امیدافزا پیغام دے سکتے ہیں ۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لوئر مال لاہور پر دستیاب ہے۔ یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ 416صفحات پر مشتمل اس کتاب کے لوکل ایڈیشن کی قیمت 1000روپے ، آرٹ پیپر دو کلر ایڈیشن کی قیمت 1300روپے ہے جبکہ امپورٹڈ پیپر پر طبع شدہ ایڈیشن کی قیمت 1900روپے ہے ۔

  • کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    کنجوانی کا سفر ،تحریر: ڈاکٹر الوینہ

    گرمیوں کی چھٹیاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیر و تفریح کے بہانے گزر جاتی تھیں۔ اس بار بھی حسبِ روایت منصوبہ بندی جاری تھی کہ اچانک ابو کے ایک رشتہ دار کی کال آ گئی۔ ان کا گھر فیصل آباد کے قریب کنجوانی نامی گاؤں میں تھا اور وہ ہمیں دعوت دے رہے تھے۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم کسی ایسے خاندان سے ملنے جا رہے تھے جنہیں پہلے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہ تھا، اس لیے سب ہی پرجوش تھے۔

    جمعرات کی دوپہر ہم سامان باندھ کر نکلے۔ سرگودھا سے فیصل آباد تک کا دو گھنٹے کا سفر تو جلد کٹ گیا، مگر کنجوانی تک پہنچتے پہنچتے مزید تین گھنٹے لگ گئے۔ بھوک کے مارے سب نڈھال تھے کیونکہ ہم یہ سوچ کر نکلے تھے کہ کھانا وہاں جا کر کھائیں گے۔

    جب گاڑی گاؤں میں داخل ہوئی تو کیچڑ، گوبر اور تنگ گلیاں دیکھ کر دل کچھ بوجھل سا ہو گیا۔ بہن کی اونچی ہیلز اور ہمارا شہروں والا انداز اس ماحول میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی گھر پہنچے تو دروازے پر کھڑے میزبانوں کے خوش اخلاق استقبال نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔

    گھر دیہاتی طرز کا مگر کشادہ تھا۔ کھلا صحن، لکڑیوں کا چولہا، بیٹھک، کچن اور کمرے سب کچھ ترتیب سے بنا ہوا تھا۔ مکھیاں بےشک بہت تھیں لیکن میزبانوں کی مسکراہٹ نے ساری کوفت کم کر دی۔سب سے پہلے آم کا ملک شیک ملا، پھر تھوڑی دیر بعد تازہ پھل اور اسنیکس۔ ان کے اپنے کھیتوں کی خوبانی اتنی میٹھی تھی کہ شاید ہی زندگی میں کبھی کھائی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد بھرپور رات کا کھانا لگا۔مٹن کڑاہی، آلو قیمہ، چکن پلاؤ، رائتہ، سلاد اور میٹھے میں رس ملائی۔ کھانے کے بعد چھت پر گئے تو غروبِ آفتاب اور ہلکی بارش نے منظر اور بھی دلکش بنا دیا۔ شہروں میں ایسے نظارے شاذ ہی نصیب ہوتے ہیں۔اگلی صبح فجر کے وقت ٹھنڈی ہوا اور پرندوں کی آوازیں دل کو سکون بخش رہی تھیں۔ ناشتہ اور بھی شاندار تھا۔تازہ پراٹھے، تندوری نان، حلیم، سبزیاں، اچار، دہی اور لسی۔ شہروں میں جہاں ٹوسٹ اور چائے پر گزارا ہوتا ہے، وہاں کا خالص دیسی ناشتہ لاجواب تھا۔ناشتے کے بعد ہم کھیتوں کی طرف نکلے۔ بارش سے زمین گیلی تھی مگر ہوا خوشگوار تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ان کا احاطہ آیا جہاں سولر پر چلنے والا ٹیوب ویل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب نے کپڑے بدلے اور پانی میں نہانے کا فیصلہ کیا۔

    شروع میں ڈر لگا، لیکن جیسے ہی پانی میں اترا تو لگا کہ ساری تھکن اور الجھنیں بہہ گئی ہیں۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار تجربہ تھا۔ دیہات کے ایک چھوٹے سے ٹیوب ویل نے وہ سکون دیا جو بڑے بڑے شہروں کی آسائشیں بھی نہ دے سکیں۔

    کھیتوں میں کپاس چنتی عورتیں، ہنستے مسکراتے چہرے اور ہر گھر میں ملنے والی سچی مسکراہٹ،یہ سب کچھ ہمارے لیے نیا مگر بہت خوبصورت تجربہ تھا۔ گاؤں کے لوگ کم وسائل کے باوجود جتنے خوش مزاج اور مخلص ہیں، شہروں میں ویسی خلوص بھری مسکراہٹ شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔دوپہر کو چنا چاٹ اور فرائی فش کے بعد ہم نے سرگودھا واپسی کی تیاری کی۔ سفر اگرچہ مختصر تھا مگر یادیں بہت گہری چھوڑ گیا۔

    اس سفر نے ایک بات سچ کر دکھائی جسے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا:
    گاؤں جیسا سکون، شہروں میں کہاں!

  • اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام، حضور اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 1500 ویں سالانہ جشنِ ولادت کے بابرکت سلسلے میں، ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں ایک پرنور محفل کا انعقاد ہوا، جہاں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو ہر سو بکھر رہی تھی۔ یہ محفل محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والی ایک روحانی نشست تھی۔ اس پورے پروگرام کی نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری اپووامدیحہ کنول نے اس خوبصورتی سے انجام دیے کہ سامعین کی توجہ شروع سے آخر تک قائم رہی۔ اس بابرکت محفل کی نگرانی ایم ایم علی کر رہے تھے جبکہ اس کی سرپرستی کا اعزاز ملک یعقوب اعوان کے حصے میں آیا۔​اس نعتیہ مشاعرے کے صدارت، نہایت محترم اور سینئر شاعر ناصر بشیر نےکی ، جن کی موجودگی نے اس محفل کو مزید وقار بخشا۔

    سب سے پہلے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت سفیان علی فاروقی نے حاصل کی اور اپنی پرسوزآواز کی بدولت پورے ہال میں ایک روحانیت کی فضا قائم کر دی۔ ان کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کے لیے خنیس الرحمان اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور اپنے دلنشیں انداز میں نعت سنا کر حاضرین کے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ کی تپش سے گرمایا۔​اس کے بعد، ملک بھر سے آئے ہوئے شعرائے کرام کی ایک کہکشاں نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں اپنے جذبوں کا اظہار کیا۔ ہر شاعر نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد و تحسین وصول کی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر نعت کے ساتھ اس پرنور محفل میں انوار کی بارش ہو رہی ہو۔ کلام پیش کرنے کے بعد، کچھ مہمانانِ گرامی نے اس بابرکت محفل سے خطاب کیا اور نعتیہ شاعری کی اہمیت پر ایسی روشنی ڈالی کہ ایمان مزید تازہ ہو گیا۔​اس روح پرور تقریب سے پہلے، تمام مہمانانِ گرامی کے لیے اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب کی طرف سے پُرتکلف لاہوری ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مشاعرے کےآخر میں، صدرِ محفل ناصر بشیر نے اپنا کلام پیش کیا جسے تمام حاضرین نے بہت سراہا، اور یوں ان کی سرپرستی میں یہ بہترین تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ مشاعرہ نہ صرف ایک ادبی محفل تھی بلکہ عشقِ رسول ﷺ کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوا۔

    مشاعرے میں حمزہ ارشد،چوہدری غلام غوث،حاجی عبدلطیف ،عافیہ بزمی،سائرہ حمید تشنہ،معروف شاعرہ ثوبیہ خان نیازی،معروف شاعرہ رقیہ غزل،معروف شاعرہ عروج درانی اور سنیئر شاعر مشتاق قمر نے اپنا اپنا نعتیہ کلام سنانے کی سعادت حاصل کی۔

    نعتیہ مشاعرے کے بعد دوسرے سیشن آغاز ہوا جس سے معروف دانشور و ادبی شخصیت ریاض احمد احسان،استاد ،تربیت کار اور معروف لکھاری اشفاق احمد خان ،ڈی ایس پی شہزادی گلفام،اور اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے خطاب کیا اورنبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی تقریب کے اختتام پر اپووا قصور کے کو آرڈنیٹر اور معروف صحافی طارق نوید کی طرف سے تمام شرکاء میں قصور کی مشہور سوغات قصوری اندرسے تقسیم کئے گئے۔دیگر شرکاء میں محمد اسلم سیال،ایمن سعید ،لاریب اقرء،غلام زادہ نعمان صابری،عبدلصمد مظفر،محمد بلال، معروف صحافی مہر اشتیاق احمد، معروف کالم نگار فیصل رمضان اعوان ،محمد ہشام ہاشمی،صائمہ محمد علی ، سنئیر صحافی غلام زہرہ،نمرہ امین،خولہ رضویہ سمیت کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

  • تبصرہ کتب،خلفائے راشدین ( بچوں کےلئے )

    تبصرہ کتب،خلفائے راشدین ( بچوں کےلئے )

    زیر نظر کتاب ”خلفائے راشدین “ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام کی شائع کردہ ایک خوبصورت پیشکش ہے جو بالترتیب چار حصوں پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب مشہور ماہر تعلیم، ادیب اور محقق اشفاق احمد خاں کی تصنیف ہے ۔ اشفاق احمد خاں کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری محمد یونس حسرت مرحوم کے فررزند ارجمند ہیں ۔محمد یونس حسرت مرحوم نے بچوں کےلئے بیشمار تربیتی اور اصلاحی کتب لکھیں ہیں ۔ اشفاق احمد خاں کی تحریر میں وہی اپنے والد مرحوم والی پختگی، شگفتگی، سلاست اور روانی پائی جاتی ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو بڑاانسان بنانا چاہتے ہیں تو انھیں بڑے لوگوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کروائیں۔مسلمانوں کے نزدیک انبیا ءعلیھم السلام کے بعد سب سے زیادہ عظمت اور شان والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم ہیں ۔ جبکہ صحابہ کرام میں سے سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنھم خلفائے راشدین ہیں اور ان کا عہد ۔۔۔۔ خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ خلافت راشدہ کے عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے۔ تیس سال کوئی بہت لمبا عرصہ نہیں صرف تین عشرے ہیں ان تین عشروں میں خلفائے راشدین نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اسلامی ریاست کی توسیع و استحکام کےلئے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو صدیوں میں بھی ممکن نہیں ہوتے ہیں ۔ خلفائے راشدین میں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اولین خلیفہ ہیںجبکہ خلافت راشدہ کے زریں عہد کی آخری لڑی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

    خلافت راشدہ ۔۔۔۔کا دورہر لحاظ سے تاریخ کا سنہرا دور ہے جو ہمارے آج کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ اس دور میں تمام رعایا کو بنیادی حقوق حاصل تھے۔ ان کی شخصی و سیاسی آزادی کی حفاظت کی جاتی تھی۔ مسلمان اور غیر مسلم کے حقوق یکساں تھے ۔ کوئی شخص کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کسی پر زیادتی کی جرا ت کرسکتا تھا۔ غیر مسلموں کو مذہبی آزادی حاصل تھی اس کے ساتھ ان کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت بھی کی جاتی تھی۔ عدل کا ترازو سب کے لیے برابر تھا۔ نہ کوئی امیر، نہ غریب، نہ بادشاہ ، نہ عامی، نہ گورا ، نہ کالا اور نہ ہی رنگ و نسل کا امتیاز تھا۔ سب برابر تھے۔ مجرم مجرم ہی تھا خواہ کوئی بھی ہو۔خلافت راشدہ میں فتوحات کا سلسلہ بھی جاری ہوا اور سلطنت وسیع ہوئی۔ اندرونی فتنوں کو بھی دبایا گیا اور بیرونی خطرات کا مقابلہ بھی ہوا لیکن ان تمام کاموں میں ایک چیز مشترک تھی وہ یہ کہ ان کا مقصد عوام کی فلاح، ان کی خوشحالی و آسودہ حالی، ان کو امن و سکون اور اسلامی ریاست و اسلام کا تحفظ تھا۔آج امت مسلمہ خستہ حالی کا شکار ہے اور اس کا جسد تارتار ہے تاہم نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے اللہ اسی امت میں سے ایسے جوان پیدا فرمائے گاجو امت کے درد کا درماں کریں گے شرط ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی بنیادوں پر کریں انھیں اسلامی ، اخلاقی اور اصلاحی کتب پڑھنے کےلئے دیں ۔اور یہ بات سمجھیں کہ خلفائے راشدین کا بچپن ، جوانی اور بڑھاپا ۔۔۔۔ہمارے آج کے بچوں ، بچیوں ، جوانوں اور بزرگوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔
    یہ بات یقینی ہے کہ یہ فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے ، اس دور میں موبائل ، فیس بک ، پب جی گیم ، واٹس ایپ اور دیگر ایسے بہت سے ذارئع موجود ہیں جو بچوں اور بچیوں کے اخلاق وکردار پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔۔۔۔ان حالات میں والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں بچیوں کے لئے ایسی کتابوں کاانتخاب کریں جو ان کے اخلاق وکردار کو سنواریں اور ان کے دلوں میں اپنے نبی علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین کی محبت پیدا کریں ۔” خلفائے راشدین “ بچوں کے مطالعہ لئے بہترین انتخاب ہے۔چار حصوں پر مشتمل اس خوبصورت اور لاجواب کتاب میں بطریق احسن خلفائے راشدین کے حالات زندگی بیان کئے گئے ہیں ۔ کتابوں کاانداز بیاں بہت دلچسپ ، سادہ، آسان اور شستہ ہے جو ان شاءاللہ بچوں کی شخصیت پر گہرے نقوش مرتب کرے گا ، ان کے دلوں میں اسلام ، نبی علیہ السلام اور خلفائے راشدین کی محبت پیدا کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتاب دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہے باطنی طور پر اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔چار کتابوں پر مشتمل سیٹ کی قیمت 1300روپے ہے جو دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ042-37324034 پر دستیاب ہے ۔مرکز ایف ایٹ اسلام آباد 051-2281513 ، دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796655پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے