” دور نبوت کے بچے “ یہ دس کتابوں پر مشتمل حسین و معنوی سیٹ ہے ، جسے فور کلر اور معیاری طباعت کے ساتھ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے، یہ بچوں کی تربیت و کردار سازی میں ایک بے مثال علمی و دینی خزانہ ہے۔ یہ کتابیں نہ صرف بچوں کے دل و دماغ کو ایمان کی گہرائیوں سے روشناس کراتی ہیں بلکہ انہیں اسلامی اخلاق و ایمان کے ساتھ مضبوط کردار اپنانے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں بچوں کی تربیت کو نہایت اہم مقام حاصل ہے کیونکہ بچے آئندہ نسل کے معمار ہوتے ہیں جبکہ بچوں کی تربیت میں اسلامی اصلاحی اور اخلاقی کتابیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ دور نبوت کے بچے اسی سلسلہ کی خوبصورت کڑی ہے یہ خوبصورت سیٹ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری اشفاق احمد خاں کی کاوش ہے ۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اس پرفضا کاوش میں دس مندرج ذیل ہستیاں شامل ہیں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنھما۔ یہ دونوں شہزادے رسول اللہ ﷺ کے نواسے،جگر گوشہ فاطمہ بتول ، باغ نبوت کے پھول اور نوجوانان جنت کے سردار ہیں ،سیدنا عبداللہ بن عباس ہیں جنھو ں نے رسول مقبول ﷺ کے زیر سایہ بچپن گزارا ،انھیں بچپن ہی سے علم سے خاص شغف تھا ، سفر وحضر میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے ۔مزاج میں سنجیدگی تھی اس لیے رسول مقبول ﷺ نے ان کے لیے علم وحکمت کی دعا کی تھی اور یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ اسے مفسر قرآن اور دین میں سمجھ والا بنا دے ۔ کتاب میں سیدنا عبداللہ بن زبیر کا تذکرہ شامل ہے جو عظیم شاہسوار تھے اور شجاعت وفراست میں بے مثال تھے ۔ ، عبداللہ بن جعفر دور نبوت کے وہ عظیم بچے ہیں جنھیں سخاوت کا دریا کیا گیا ہے وہ اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے تھے ، عبداللہ بن عمر مطیع اعظم ہیں انھیں رسول ﷺ سے شدید محبت تھی ، یہ محبت ہمارے آج کے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ، عبداللہ عمرو ہیں وہ عظیم خاندان کے چشم وچراغ تھے ، ان کو وراثت میں عقل مندی ، بہادری اور فصاحت وبلاغت کی صفات ملیں اور وہ ہر وقت جنت کے متلاشی رہتے تھے ، سعید بن عاص ایک ایسے انوکھے سخے ہیں جنھیں رسول ﷺ نے مستقبل کا معزز آدمی قرار دیا تھا وہ جمعہ کی رات اپنے غلام کو دیناروں کی تھیلیاں دے کر کوفہ کی مسجد میں بھیجتے ۔ غلام وہ تھیلیاں لے جاکر نمازیوں کے سامنے رکھ دیتا ، ضرورت مند اس میں سے اپنی ضرورت کے دینار خود اٹھا لیتے ۔ پھر کتاب میں اسامہ بن زید کا تذکرہ شامل ہے جو وفا کا پیکر تھے ۔ وہ غلام کے بیٹے تھے لیکن ان کی خوش بختی کا کیا کہنا کہ انھیں دنیا کے بہترین رہبر ملے اور اس کےلئے محبت ، شفقت اور تربیت کے خزانوں کے منہ کھل گئے وہ وفا کا پیکر تھے جنھوں نے رسول ﷺ سے وفا نبھائی ۔ ، خادم خاص رسول مقبول ﷺ انس بن مالک رضی اللہ عنہ محض آٹھ سال کے تھے یہ کھیلنے کودنے کی عمر تھی خوش قسمتی سے وہ رہبر اعظم محمد ﷺ کے خادم خاص بن گئے ۔آغوش نبوت میں تربیت حاصل کرنے والے ان بچوں کے کمالات، بچوں کو اخلاقی و روحانی فضیلت کی طرف مائل کرتے ہے ۔ یہ کتابیں ان کی معصوم ذہانت میں نیکی، تقویٰ، صبر اور قربانی کی اعلیٰ اقدار بٹھاتی ہیں، جو ہماری دینی و معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اشاعت نے اس مجموعے کو قوتِ بیان، فصاحت اور آسانی سے قابلِ فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ ہر کتاب ایک ایسا منبع ہے جو بچوں کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت جگانے کے ساتھ ساتھ انہیں اچھے معاشرتی کردار کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے، جو اسلام کے روشن چہرے کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ یہ کتابیں والدین، اساتذہ اور مربیوں کے لیے بہترین وسائل ہیں، جن کی مدد سے بچے زندگی کی سختیوں کا مقابلہ کرنے، حق و سچ کا ساتھ دینے، اور فضائل و نیکیاں اپنانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کی شخصیت سازی پر زور دیتے ہوئے، یہ سیٹ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق بچوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتا ہے اور انہیں صداقت، عزم، اور محبت کے سنہرے اصولوں سے روشناس کرواتا ہے۔ کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتابیں دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہیں تعلیم وتربیت کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہیں ۔دس کتابوں پر مشتمل سیٹ کی رعایتی قیمت1870 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ042-37324034 پر دستیاب ہے ۔مرکز ایف ایٹ اسلام آباد 051-2281513 ، دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796655پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
Category: ادب و مزاح
-

ادب کی بےنصیب نسل — ادب کا بچھڑتا رشتہ.تحریر: اقصیٰ جبار
ہم ایک ایسی نسل میں سانس لے رہے ہیں جس نے نئی دنیا کو خوش آمدید تو کہا، لیکن اس راستے میں سب سے پہلے جس چیز کو پیچھے چھوڑا، وہ "ادب” تھا۔ یہ وہی نوجوان نسل ہے جو دنیا بھر کی خبریں اور معلومات ایک کلک پر حاصل کر لیتی ہے، مگر غالب، فیض اور اقبال جیسے نام اس کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ جسے نئے گانوں کے بول تو یاد ہیں، لیکن "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” جیسے الفاظ اجنبی لگتے ہیں۔
ادب کو زندگی سے یوں الگ کر دیا گیا ہے جیسے وہ کسی پرانے وقت کی چیز ہو۔ اب نہ وہ کلاس میں گفتگو کا حصہ ہے، نہ گھروں میں کتابوں کی مہک باقی ہے، نہ شام کی چائے کے ساتھ افسانوں اور نظموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ زبان کی خوبصورتی، احساس کی گہرائی اور سوچ کی نرمی اب تیز رفتار ویڈیوز میں کہیں کھو چکی ہے۔
حالانکہ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں۔ یہ ہماری تہذیب، ہماری پہچان، اور ہمارے شعور کا آئینہ ہے۔ جب ادب سے رشتہ کمزور ہوتا ہے تو صرف لفظ نہیں، بلکہ سوچ، احساس اور اخلاق بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ جو نسل خود کو "ڈیجیٹل دور” کی نمائندہ کہتی ہے، وہ اپنی زبان، اپنی شاعری، اور اپنے قصے کہانیوں سے ناآشنا ہے۔ اب بچے قاعدہ پڑھنے کے بجائے موبائل ایپ سے زبان سیکھتے ہیں، اور جوان میر و غالب کو "پرانی باتیں” کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مشاعرے خاموش ہو چکے ہیں، کتابیں صرف امتحان کے دنوں میں کھلتی ہیں، اور جہاں کبھی ادبی محفلیں ہوتی تھیں، اب وہاں ڈانس ویڈیوز اور وی لاگز کا راج ہے۔
ادب صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو سمجھنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ منٹو کو پڑھیں تو ایک تلخ سچائی آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔ اقبال کو سمجھیں تو ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی تحریریں انسان کو اپنے دل میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ادب ہمیں اچھا انسان بننے کا ہنر سکھاتا ہے۔
آج طالب علم کے لیے ادب ایک اضافی بوجھ بن چکا ہے۔ وہ بحث، سوال اور سوچ کے عمل سے دور ہو چکے ہیں۔ اب علم کا مطلب صرف نمبر لینا ہے، نہ کہ سمجھ پیدا کرنا۔ لطیفے، میمز اور کلپس نے گہرے خیال کی جگہ لے لی ہے۔ یہ صرف زبان کا نقصان نہیں، یہ سوچ کی سطحیت، احساس کا ختم ہونا، اور ذہنی زوال کی علامت ہے۔
جب انسان کتاب سے رشتہ توڑتا ہے، تو سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ شاعری سے دور ہوتا ہے، تو دل سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اور جب وہ کہانیاں نہیں پڑھتا، تو زندگی کو صرف اوپر سے دیکھتا ہے، اس کی گہرائی اسے نظر نہیں آتی۔
ادب ہمیں سوچنا، محسوس کرنا، اور بہتر انداز سے جینے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ادب کو نصاب کا بوجھ نہ بنائیں، بلکہ دل سے جینے کا ذریعہ بنائیں۔ بچوں کو کہانیاں سنائیں، ان سے بات کریں، ان کی رائے سنیں۔ گفتگو اور سوال کی فضا پیدا کریں، تاکہ لفظ صرف لفظ نہ رہیں، بلکہ احساس بنیں، روشنی بنیں، تربیت بنیں۔
یہ خوشی کی بات ہے کہ آج بھی کچھ نوجوان ایسے ہیں جو چپکے چپکے فیض کے اشعار پڑھتے ہیں، کچھ آن لائن بلاگز میں اردو افسانے لکھتے ہیں، اور کچھ ریختہ جیسے پلیٹ فارم پر ادب کی شمع روشن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں انہی چراغوں کو ہوا دینی ہے۔
ادب ہمیشہ زندہ رہے گا…
اگر ہم زندہ دل، زندہ دماغ، اور زندہ ضمیر کے ساتھ اسے پڑھیں گے، لکھیں گے اور محسوس کریں گے۔ورنہ وہ وقت دور نہیں جب لکھنے والے تو شاید بچ جائیں —
لیکن پڑھنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔ -

یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی
گزشتہ دنوں مجھے سعادت حاصل ہوئی کہ میں یاسمین بخاری صاحبہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کر سکوں۔ یہ ملاقات نہ صرف ایک عزت افزائی تھی بلکہ ادب کے ایک نادر خزانے سے بھی روشناس کرانے والی تھی۔ یاسمین بخاری صاحبہ نے مجھے ایک خوبصورت کتاب تحفے میں دی، جو رثائی ادب کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کے بہترین کلام پر مشتمل ہے، جو کربلا والوں کی پیاس کو ایک گہرے استعارے کی صورت میں بیان کرتی ہے۔
یہ کتاب کربلا کے واقعات اور وہاں کے شہداء کی پیاس کو مرکزی موضوع بنا کر ان کی بے مثال جرأت، بہادری، قربانی اور مصائب کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ زاہد شمسی صاحب کا کلام اس کتاب میں ایک ایسا آفاقی پیغام دیتا ہے جو صرف تاریخی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ انسانی جذبوں اور ایمانی قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔کتاب کی ایک خاص بات اس کا عالی نسبی ذکر ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعلق سے کیا گیا ہے۔ اس میں حمد و نعت سے آغاز ہوتا ہے، جو روحانی فضا کو مزید معطر کر دیتا ہے۔ ہر شعر میں عقیدت، محبت اور عزم کی ایسی خوشبو ہے جو قاری کو سیدھا امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔
کتاب کا ٹائٹل خود یاسمین بخاری صاحبہ نے رکھا ہے، جو کتاب کے موضوع اور مزاج سے بخوبی ہم آہنگ ہے۔ اس کے ساتھ ایک خوبصورت آیل پینٹنگ بھی شامل ہے، جو امام حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ کو نہایت نفاست اور خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ یہ پینٹنگ کتاب کی روح کو مزید جلا بخشتی ہے۔یاسمین بخاری صاحبہ نے اس کتاب کو اپنے والد، ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے نام منسوب کیا ہے جو قائداعظم کے ذاتی معالج تھے۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائداعظم کے آخری لمحات میں بھی ان کے ساتھ ایمبولینس میں موجود رہے۔ یاسمین صاحبہ نے اپنی اس کوشش کو ڈاکٹر صاحب اور ان کے خاندان کے ایصال ثواب کے لیے وقف کیا ہے، جو ایک انتہائی قابل تحسین عمل ہے۔
یہ ملاقات اور تحفہ میرے لیے ایک قیمتی تجربہ رہا۔ رثائی ادب میں ایسے الفاظ اور احساسات کو دیکھنا جو تاریخ کی تلخیوں کو جذبات کی زبان میں ڈھال سکیں، واقعی ایک نعمت ہے۔ یاسمین بخاری صاحبہ اور ان کے استاد زاہد شمسی صاحب کو ادب کی خدمت پر میری دلی دعا ہے کہ وہ ایسے قیمتی کام جاری رکھیں اور ہماری تہذیب و ثقافت کو مزید روشنی بخشیں۔
-

ڈاکٹرجمیل جالبی،علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ
ڈاکٹر جمیل جالبی، علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ
تحریر: ظفر اقبال ظفر
علم و ادب کی روشنی بکھیرنے والی عظیم شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی نے اردو زبان و ادب کو جن جہتوں سے جِلا بخشی، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نے اردو زبان کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور معاشرتی شعور کو جلا بخشی۔ ان کی تصانیف، تحقیقی کام، لغت نویسی، تنقید، ترجمہ، تدریسی اور اداری خدمات نے ان کی شخصیت کو ہمہ جہت بنا دیا۔لغت نویسی: زبان کی بنیادوں کا تعین
ڈاکٹر جمیل جالبی لغت نویسی میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی معرکہ آرا تصنیف "قومی انگریزی اردو لغت” دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جو اردو زبان کی سائنسی، ادبی، معاشی، قانونی، طبّی، تجارتی اور سماجی اصطلاحات کو مربوط انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس لغت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علاقائی، مقامی اور عوامی سطح کے الفاظ کو بھی شامل کیا گیا تاکہ زبان کی اصلیت قائم رہے۔ دیگر لغوی کاموں میں "قدیم اردو کی لغت” اور "فرہنگِ اصطلاحات جامعہ عثمانیہ” شامل ہیں۔تحقیق و تاریخ ادب اردو
ڈاکٹر جالبی کی سب سے نمایاں اور یادگار تصنیف "تاریخ ادب اردو” ہے، جو چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک فکری، تحقیقی اور ثقافتی دستاویز ہے۔ اس میں اردو ادب کے ارتقاء کو صرف زمانی ترتیب میں نہیں بلکہ تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی عوامل کی روشنی میں بھی پیش کیا گیا ہے۔

ان کی تحقیقی خدمات میں "مثنوی قدم راؤ پدم راؤ”, "دیوان حسن شوقی” اور "دیوان نصرتی” کی بازیافت شامل ہے، جن کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی گمشدہ کڑیوں کو بازیاب کیا۔ ان کی دیگر اہم کتب میں "اردو زبان کی تاریخ” اور "اردو نثر کا ارتقاء” شامل ہیں۔تنقید: فکری تجزیے کی بنیاد
ڈاکٹر جالبی کا شمار جدید تنقیدی نظریات کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ ان کی اہم تنقیدی کتب میں "تنقید اور تجربہ”, "نئی تنقید”, "عصری ادب”, "ادب، کلچر اور مسائل”, "میر تقی میر: ایک مطالعہ”, "قومی زبان: یکجہتی، نفاذ اور مسائل” شامل ہیں۔وہ ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تنقید، فکری تجزیے اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تصنیف "ارسطو سے ایلیٹ تک” مغربی تنقید کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ترجمہ نگاری: علم و ادب کی عالمی رسائی
ڈاکٹر جالبی نے ترجمہ نگاری میں بھی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے اہم تراجم میں جارج آرویل کا ناول "جانورستان”, "ٹی ایس ایلیٹ کے مضامین”, "برصغیر میں اسلامی کلچر” اور "برصغیر میں اسلامی جدیدیت” شامل ہیں۔ان کے تراجم صرف زبان کی تبدیلی نہیں بلکہ تخلیقی حسن کے آئینہ دار ہیں، جن میں اصل متن کی روح اور مفہوم کو محفوظ رکھا گیا۔
کلچر، تہذیب اور بچوں کا ادب
کلچر اور تہذیب کے میدان میں ان کی کتاب "پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل” ایک اہم تصنیف ہے، جس میں انہوں نے زبان، رسم و رواج، قومی وحدت اور تہذیبی شناخت پر سیر حاصل بحث کی۔بچوں کے لیے ادب بھی ان کے قلم کی توجہ کا مرکز رہا۔ ان کی بچوں کے لیے لکھی گئی کتابیں "حیرت انگیز کہانیاں” اور "کھوجی” مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔
ادارتی، تدریسی و ادارتی خدمات
ڈاکٹر جالبی نے "پیامِ مشرق”, "ساقی” اور "نیا دور” جیسے معروف ادبی جرائد کی ادارت کی۔ وہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین اور اردو لغت بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ان کی خطوط نگاری کا بھی ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس میں تقریباً دو ہزار خطوط شامل ہیں۔ ان کا مجموعہ "مکاتیب مشاہیر بنام ڈاکٹر جمیل جالبی” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

جمیل جالبی: ایک زندہ علمی روح
معزز قارئین! بطور ادب کے طالب علم، جمیل جالبی کے مطالعے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ان کی علمی روح سے ملاقات کر رہا ہوں۔ انہوں نے معاشرے کے ذہنوں سے جہالت کے اندھیرے مٹانے کے لیے جو چراغ جلائے، ان کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔علم و ادب کی مٹھاس جس معاشرے کی زبان پر آ جائے، وہاں نفرتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر جالبی نے ادب کو ایک ایسا مرہم بنا دیا جو ہر زخم کو بھرنے کی شفا رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی روح کو بلند درجات عطا فرمائے اور ان کی کتابوں کی روشنی سے معاشرے کے اندھیرے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ آمین ثم آمین۔
-

تبصرہ کتب،شخصیت سازی کے سنہرے اصول
مصنف : محمد بلال لاکھانی
ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
قیمت :770روپے ۔4کلر آرٹ پیپر
برائے رابطہ : 042-37324034
پیش نظر کتاب ’’ 21ویں صدی کے ماڈرن مسلمان کے لئے شخصیت سازی کے سنہرے اصول ‘‘ دارالسلام کی بہت ہی خوبصورت اور مفید کتاب ہے۔ اس کتاب کے مصنف محمد بلال لاکھانی ہیں جو قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں محمد بلال لاکھانی نے اصل میں یہ کتاب انگریزی زبان میں real Life Lesson From The Holy Quran(for the 21 Ist Century Muslim) کے نام سے لکھی تھی ۔ زیر نظر کتاب انگلش کااردوترجمہ ہے جسے دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپر پر چہار کلر، دلکش اور جاذب نظر طریقے سے باتصویر شائع کیا ہے ۔ اس کتاب کی افادیت اور اہمیت کااندازہ اس کے نام سے بھی کیاجاسکتا ہے ۔یہ کتاب کامیاب زندگی گزارنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ اور کامیابی کازینہ ہے ۔ زندگی بہت قیمتی شئی ہے ، اسے ہم اپنی مرضی سے نہیں گزارسکتے۔ اس لئے کہ زندگی کاایک ایک پل اور ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کی جائے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ کامیاب زندگی بسر کرے ، اس کی زندگی میں آرام اورسکون ہو ۔ آرام دہ اور پرسکون زندگی کاراز اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہے ۔ دنیاامتحان گاہ ہے اور زندگی ایک امتحان ہے ۔امتحان میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو محنت کرے اور امتحان کی تیاری کے لئے سب سے پہلے طے شدہ نصاب پڑھے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں پر بہت مشفق ومہربان ہے یہ اس کی شفقت ومحبت اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں دنیا میں ہی نصاب اور امتحان کے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے مقصد یہ ہے کہ ہم اچھے طریقے سے تیاری کرلیں ۔ یہ نصاب قرآن مجید ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے اس نصاب کو بہت کم پڑھاجاتا ہے یا پڑھتاتو جاتا ہے لیکن سمجھا نہیں جاتا ۔ زندگی کے پرچے حل کرتے وقت جوبڑی غلطیاں کی جاتی ہیں وہ نصاب ِ زندگی کوتوجہ سے نہ پڑھنے کا ہی منطقی نتیجہ ہے ۔ چنانچہ دنیا کے دیگر امتحانوں کی طرح زندگی کے امتحان کے نصاب کو پڑھنا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے ۔ پیش نظر کتاب کا مقصد بھی یہی باور کروانا ہے کہ اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان قرآن مجید سے زندگی کے اسباق تلاش کریں اور اس کو نصاب زندگی کے طور پرپڑھیں ۔ یہ کتاب ان شاء اللہ قارئین میں قرآن مجیدکے تفصیلی مطالعے اور اس پر گہرے غوروخوض کاشوق اور جذبہ پیداکرے گی ۔ اس کتاب میں اکیسویں صدی کے جدید تعلیم یافتہ مسلمان کے لئے قرآن مجید سے اخذ کئے گئے سو سے زائد اسباق دیے گیے ہیں اور زندگی کے معاملات ومسائل کے متعلق قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے آسان اور موثر طریقے بتائے گئے ہیں ۔ کتاب کاانداز بیان سادہ ، دلنشین اور عام فہم ہے ۔ قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی حاصل کرنے کے لئے مختلف اسالیب کی مناسب تشریح بھی کتاب میں شامل ہے ۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں بتایاگیا ہے کہ زندگی خوشگوار ہوتوکیاکرنا چاہئے ،زندگی خوشگوار نہ ہوتو کیاکرناچاہئے ،اللہ تعالیٰ دولت اور صحت واپس لے لے توکیاکرناچاہئے ؟مشکلات ومصائب میں کون سی قرآنی آیات مددگار ہیں ، آدمی خود کوشیطان کاپیروکار بنتادیکھے توکیاکرے ؟ ۔ دوسرے باب میں حصول جنت کی قدم بہ قدم منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ اور ان افعال ، احوال اور معاملات کاتذکرہ کیاگیاہے جن پر عمل پیرا ہوکر بندہ یقینی طور جنت کاحقدار بن جاتا ہے ۔ تیسرے باب میں جہنم سے بچنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور کارآمد نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ۔چوتھے باب میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کی روشنی میں حقیقی زندگی کے اسباب بیان کئے گئے ہیں ۔ آخری باب میں بیان کیا گیا ہے کہ روپیہ اور اسلام دوست ہیں یادشمن ؟ ۔اہم بات یہ ہے کہ کتاب میں مذکور تمام واقعات اور تمثیلات قرآن مجید سے ہی لئے گئے ہیں اور قرآن مجید سے خوب استفادہ کیا گیا ہے ۔ کتاب کاہرہر باب اچھی ، کامیاب اور حقیقی زندگی گزارنے کے متعلق کئی کئی اسباق پر مشتمل ہے ۔ قرآن مجید کے زریں اصولوں ، ہدایات ، اسباق پر مشتمل یہ کتاب ہرنوجوان بچے ، بچی کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید سے ماخوذ نصاب ِ زندگی کی یہ کتاب اکیسویں صدی کے جدید مسلمان کو غلطیوں سے بچائے گی اور سیدھی راہ پرچلائے گی ۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب دنیا کے انسان اپنے مسائل کے حل کے لئے قرآن مجید سے رہنمائی لیں ۔ ظاہری اعتبار سے یہ کتاب جس قدر خوبصورت ہے مضامین کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے ۔ یہ کتاب ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے ۔ یہ کتاب اپنے بچوں ، بچیوں اور دوست احباب کو تحفہ میں بھی دی جاسکتی ہے ۔ -

آہ …اظہر عباس بھی چل بسے،تحریر:راحت عائشہ
کچھ لوگوں کی حوصلہ افزائی انسان کو بہت تقویت دیتی ہے، آگے بڑھنے کی جستجو اور لگن کو تیز کرتی ہے۔ جب میں پہلی مرتبہ اظہر بھائی سے ملی ایک نو آموز رائٹر تھی جس کی اکا دکا تحریریں کسی میگزین میں شائع ہوئی تھیں۔ لیکن ان تحریروں پر تبصرہ کرنا، مختلف آئیڈیاز دینا کہ کن موضوعات پر بچوں کے لیے لکھنا چاہیے۔ یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کرنا کہ میں چاہتا ہوں میری بیٹی آپ کی طرح بنے۔۔۔ یہ لفظ میری زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں جو اس شخص کے الفاظ تھے جو خود بہت بڑا ادیب، معاشرے میں ایک بہت اچھی حیثیت رکھتا تھا۔ مجھے جب ایوارڈ ملا تو انہوں نے مجھے اسلام آباد سے لاہور آنے کا حکم دیا کہ اتنی جلدی کوئی بڑا پروگرام تو ممکن نہیں لیکن کوئی چھوٹی موٹی تقریب کر لیں گے۔۔ قذافی اسٹیڈیم کی ای لائبریری میں ہونے والی وہ تقریب بھی کوئی چھوٹی سی نہ تھی۔۔ لاہور کے علاوہ دور دور سے بھی بہت سے ادیبوں نے شرکت کی تھی۔۔۔ اور انہوں نے مجھے اتنا بڑا گلدستہ دیا تھا کہ آج تک زندگی میں ویسا گلدستہ دوبارہ نہیں ملا۔۔۔۔
پھر پچھلے سال جب میں آخری مرتبہ لاہور چلڈرن لٹریری سوسائٹی کی تقریب میں گئی تھی ۔۔ ایک حادثے کی وجہ سے (اس حادثہ ہی کہنا چاہیے) میں تقریب میں جب پہنچی جب تقریباً مہمان جاچکے تھے لیکن اظہر بھائی ابھی بھی تھے۔۔۔
یا پھر کچھ عرصہ قبل جب ان کی علالت کا پتا چلا تو میں نے انہیں میسج کیا ۔۔ تب ہشاش بشاش آواز میں جواب دیا تھا کہ ارے کچھ نہیں! بیمار ہو گیا تھا اب تو آفس آنا بھی شروع کردیا۔۔ ابھی بھی آفس میں ہی ہوں۔۔۔
آج صبح اچانک یہ خبر سنی تو پھر فیس بک کھولنے سے دل ڈر رہا تھا۔۔ کاش یہ سچ نہ ہو۔۔
اتنی دور چلے گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بہترین میزبانی کرے، جیسے آپ دنیا میں سب کے لیے مہربان تھے خدائے ذوالجلال اس سے بڑھ کر آپ پر مہربان ہو۔۔
خدا آپ کے بچوں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
آپ ہمیشہ ہماری دعاؤں میں رہیں گے۔۔
اللہ آپ سے راضی ہو ۔۔
خدا حافظ ۔۔۔
دل غم سے بھرا ہوا ہے ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون -

تبصرہ کتب: تعلیمی تربیتی سنہری کہانیاں
مصنف : عبدالمالک مجاہد
صفحات : 408
قیمت : 1500روپے
ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ ، لاہور
برائے رابطہ :37324034 042-
زیر تبصرہ کتاب ” سنہری کہانیاں “ نوجوان بچوں ، بچیوں اور خصوصاََ آٹھویں ، نویں اور دسویں کے طلبہ وطالبات کے لیے لکھی گئی ہے ۔بچوں اور نوجوانوں کی تربیت واصلاح کے حوالے سے یہ بہت ہی شاندار ، لاجواب اور مفید کتاب ہے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جو نوجوان ایک بار یہ کتاب پڑھ لے ۔۔۔۔ممکن نہیں کہ وہ اپنے اندر مثبت اور مفید تبدیلی نہ پائے ۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی سے تباہی کا شکار ہے ان حالات میں نوجوانوں کی تربیت واصلاح کی بے حد ضرورت ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔نوجوان ہی قوم کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔24کروڑ آبادی کے حامل ملک پاکستان کی مجموعی آبادی کا 64فیصد حصہ 30سال سے کم عمر کے جوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں 29فیصد 15سے 29سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔اس طرح 195ممالک میں سے پاکستان یوتھ پاپولیشن کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ کسی بھی قوم کی کامیابی وناکامی ، فتح وشکست ، ترقی وتنزلی اور عروج وزوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ باوجود اس بات کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ملک تعمیر وترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہے ۔ وجہ یہ کہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی نہیں کی جارہی ۔ آج بھی اگر نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کی جائے تو یقینا یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل بن سکتا ہے اور قوم کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے ۔اس وقت پاکستان بھر میں دارالسلام انٹر نیشنل بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی کے لیے سب سے زیادہ کتابیں شائع کررہا ہے ۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کے مصنف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ” جب بھی کوئی مصنف یا مو¿لف کوئی کتاب لکھتا یا تالیف کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ ” سنہری کہانیاں “ لکھنے کا سبب بھی ایک ایسے سکول ٹیچر ہیں جو ایک دفعہ مجھے سے ملے اور کہنے لگے ” مجاہد صاحب ! میرا معمول ہے کہ کلاس میں بچوں کو پڑھانے سے پہلے آپ کی کسی نہ کسی کتاب کا کوئی واقعہ اپنے شاگردوں کو سناتا ہوں۔ اس سے بچوں کے دل نرم اور دماغ فریش ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح میں بڑے اچھے انداز میں اپنے شاگردوں کو پڑھا لیتا ہوں“ ۔مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ قوم کا ایک معمار اورمعلم بچوں کی اصلاح و تربیت میں میری کتابوں سے مدد لیتا ہے ۔ اس ایک واقعہ سے بچوں کے لیے لکھی گئی کتابوں کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ کتابوں میں لکھے بعض واقعات بہت عمدہ اور دلچسپ ہوتے ہیںجو سامعین کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر واقعات سچے ہوں تو ان کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔جبکہ اس کائنات میں سب سے سچی کتاب قرآن مجید ہے جس کا ایک ایک لفظ صحیح ہے یا پھر صحیح احادیث میں جو واقعات مذکور ہیں وہ بھی بالکل صحیح ہیں۔ پیش نظر کتاب ” سنہری کہانیاں “ کی تیاری میں قرآن مجید ، احادیث سیرت و تاریخ کی کتابوں میں موجود واقعات سے مدد لی گئی ہے ۔ اسی طرح بعض واقعات عصر حاضر میں پیش آتے ہیں، بعض معاصر کتابوں اور اخبارات میں جگہ پاتے ہیں ،بعض علماءکرام ، خطباءاور واعظین بیان کرتے ہیں ۔اس طرح کے ایک سو سبق آموز اور نصیحت آموز واقعات اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں ۔ کتاب میں موجود کہانیوں کا انتخاب عمدہ ، دلچسپ ، تربیتی اور اصلاحی ہے ۔جن کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل موضوعات سے کیا جاسکتا ہے : اپنے قاتل پر لطف وکرم ، جب بھی نواسہ رسول ﷺ کو دیکھا آنکھیں بھیگ گئیں ، لاالہ الا کی فضیلت وبرکت ، ایک ذہین جرنیل کی کہانی ، دماغ سے کام لو جیبوں کو بھر لو ، قریشی نوجوان کی ایمان افروز کہانی ، یہودی بچے کی عیادت ، عبرتناک موت کے واقعات ، طاقت کے باوجود معاف کرنے والا جنتی ، انگور کے گوشے نے وزارت دلا دی ، طلبہ کے ساتھ حکمت ، چرواہے کا تقویٰ حیران کرگیا ، بیت الخلا میں موت ، فضول خرچ آدمی شیطان کا بھائی ، احسان اور وفا کا دن ، سب سے زیادہ مہمان نواز مکی گھرانہ ، جھوٹی قسم کھانے والے کا عبرناک انجام ، سر قلم ہونے والا تھا کہ معاف کردیا ، امی فرشہ فرشتہ آگیا آگیا ، اللہ کی رضا پر راضی رہنے والی ماں ، نبی علیہ السلام کی خاص دعا خاص موقع کے لیے ، خیر اور بھلائی کی خصلتیں ، چھوٹے بچے بڑوں کے رہبر ، غریب بڑھیا کی دعا کا معجزہ ، سکول ٹیچر کی کہانی اس کی زبانی ، براءبن مالک نے تاریخ کا رخ موڑ دیا ، بھلائی بری موت سے بچاتی ہے ، میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا ، نبی ﷺ کا ایک خوش قسمت دیہاتی دوست ۔ کتاب میں شامل دیگر موضوعات بھی اسی طرح دلچسپ اور سبق آموز ہیں ۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ کتاب ہر گھر کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہئے کہ گھروں میں اپنے بچوں کو یہ واقعات سنائیں ، اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں یہ واقعات سنائیں ، دوست اپنی محفلوں اور مجالس میں اور واعظین اپنے خطبوں اور تقاریر میں یہ واقعات بیان کریں۔ ان شاءاللہ ان واقعات سے معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی آئے گی ۔ -

وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں چار دن.تحریر:شاہد نسیم چوہدری
ہر سال کی طرح، سال 2025 کے جون میں بھی فیصل آباد پریس کلب نے اپنے صحافی ساتھیوں کو جنت نظیر وادی کشمیر کی سیر کرانے کا عزم کیا۔ اس سفر کا خواب صدر پریس کلب شاہد علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ترتیب دیا۔ ہر انتظام، ہر مقام، ہر لمحہ اُن کی پیشہ ورانہ سوچ اور محبت کی جھلک لیے ہوئے تھا۔ مگر قدرت نے ایک آزمائش لکھ دی۔ والدہ کی طبیعت ناساز ہوئی اور شاہد علی ٹرپ پر نہ جا سکے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی میں بھی پروگرام کی روانی اور شاندار تنظیم نے ثابت کیا کہ ایک اچھے قائد کی تربیت صرف موجودگی سے نہیں، جذبے سے جھلکتی ہے۔ اُن کی ٹیم نے جس انداز سے ہر مرحلے کو نبھایا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وادی کے ہر نظارے میں لیڈر کی دعائیں اور شفقت شامل ہو۔
یہ کوئی عام دن نہ تھا۔ سورج اپنی پہلی کرنوں کے ساتھ فیصل آباد پریس کلب کی عمارت پر نرمی سے پڑ رہا تھا۔ فضا میں ایک خوشی اور تجسس کی مہک تھی۔ یہ کوئی عام ٹور بھی نہ تھا۔ یہ ایک خواب کی تعبیر، ایک جنت نظیر وادی کی گواہی بننے کا سفر تھا۔ چار خواتین کی موجودگی نے قافلے کو اور بھی متوازن، شائستہ اور جاندار بنا دیا تھا۔19 جون کی رات جب ہم 72 صحافی، دو کوسٹرز اور ایک ہائی ایس گاڑی میں سوار ہو کر موٹر وے کے ذریعے مظفرآباد روانہ ہوئے، تو کسی کے چہرے پر نیند کے آثار تھے، تو کسی کی آنکھوں میں وادیٔ کشمیر کے خواب۔ لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی: جنت نظیر وادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی تڑپ۔موٹر وے کی ہموار سڑک پر گاڑیوں کے پہیے سرپٹ دوڑ رہے تھے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دلوں میں وادی کی دلفریب مناظر دیکھنے کی آرزو بڑھتی جا رہی تھی
مظفرآباد پہنچتے ہی سنٹرل پریس کلب کی جانب سے پرتپاک استقبال ہوا۔ ناشتہ جیسے جشن کا آغاز تھا۔ پھر ہم پیر چناسی کی بلندیوں کی طرف روانہ ہوئے۔ 9500 فٹ کی بلندی، چار گھنٹے کا سفر، اور بل کھاتی سڑکیں۔ ہر موڑ پر قدرت نے جیسے اپنی نئی تصویر بنائی ہو۔ درختوں سے ڈھکے پہاڑ، بادلوں کی اوٹ میں چھپتا سورج، اور دُور دُور تک پھیلا سبزہ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی خیالی دنیا میں داخل ہو چکے ہوں۔
ہماری اگلی منزل پیر چناسی تھی،
پیر چناسی ایک سیاحتی مرکز ہے جو مظفر آباد آزاد کشمیر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر ہےپیر چناسی سید حسین شاہ بخاری کو کہتے ہیں ان کا مزار پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے۔مقامی روایت کے مطابق یہ بزرگ بلوچستان کے علاقے سے 350 سال پہلے ہجرت کر کے تبلیغ کے سلسلے میں یہاں آ کر بس گئے تھے۔ یہ مقام سطح سمندر سے 9500 فٹ بلند ہے۔ نزدیکی آبادی بھی خاصی نیچے پائی جاتی ہے۔ اس کے ایک طرف پیر سہار کو راستہ جاتا ہے، جہاں پیدل جانا پڑتا ہے دوسری طرف نیلم کا خوبصورت پہاڑی سلسلہ اور وادی کاغان۔کے پہاڑ مکڑا کا نظارا ہوتا ہے۔ایک ایسا مقام جو اپنی بلندی اور قدرتی حسن کے لیے مشہور ہے۔9500 فٹ کی بلندی پر واقع اس حسین چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہمیں چارگھنٹے کا مشکل مگر حسین سفر طے کرنا پڑا۔ بل کھاتی چڑھائیاں اور درختوں سے ڈھکے سرسبز پہاڑ، ہر منظر دل کو موہ لینے والا تھا۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے فضا میں ایک سحر طاری تھا۔پیر چناسی کی چوٹی پر پہنچ کر ہم نے جو نظارہ دیکھا، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ چاروں طرف پھیلی وسیع و عریض وادی، بادلوں کے جھرمٹ اور پرسکون ماحول نے ایسا جادو کیا کہ ہم مبہوت رہ گئے.پیر چناسی پہنچنے پر الفاظ کم پڑ گئے۔ اُس اونچائی پر مزارِ پیر چناسی ایک روحانی سکون کا مرکز تھا۔ لنگر کی خوشبو، زائرین کا ہجوم، اور دھمال ڈالنے والے ڈھولچی۔ وہ لمحہ ناقابلِ بیان تھا جب ہمارے کچھ ساتھیوں نے دھمال میں شرکت کی اور پورے منظر میں ایک ماورائی کیفیت پیدا ہو گئی۔نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد، ہمارے سپورٹنگ سٹاف نے چوٹی پر قالین بچھا کر کھانا پیش کیا۔ نان، گوشت، سلاد، چٹنیاں، سب کچھ ساتھ لایا گیا تھا۔ جیسے قدرت کی گود میں دعوت کا اہتمام ہو۔پھر شام ڈھلے ہم شاردا وادی کی جانب روانہ ہوئے شارد پاکستان کی ریاست آزاد کشمیر کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم کی تحصیل ہے ۔ مظفرآباد سے 136 کلومیٹر (85 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ تحصیل شاردا کا صدر مقام ہے۔ یہ قصبہ ایشیائی تاریخ میں قدیم علمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ قریباً تین ہزار سال قبل مسیح میں وسطی ایشیائی قبائل یہاں وارد ہوئے جو بدھ مت اور شیومتکے پیروکار معلوم ہوئے نے یہ بستی قائم کی۔ ان قبائل میں سے کشن قبیلے نے اپنے واسطے ایک نئی دیوی کی تخلیق کی جسے شاردہ دیوی کہا جاتا تھا۔ اسی دیوی کے نام سے یہ قصبہ آج بھی آباد ہے۔ دریاۓ نیلم کا قدیمی نام کشن گنگا بھی اسی خاندان سے منسوب ہے۔ یہ لوگ علم و فن سے روشناس تھے تاہم انھوں یہاں ایک علمی مرکز قائم کیا۔ تاریخ نویسوں کے مطابق زمانۂِ قدیم میں چین، وسطی ایشیا اور موجودہ پاکستان اور ہندوستان کے باسی حصولِ علم کی خاطر یہاں کا رخ کیا کرتے تھے۔ اس علمی مرکز کے آثار اب بھی کھنڈر کی شکل میں شاردہ میں موجود ہیں جنھیں شاردہ یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ رات کے سناٹے میں چھ گھنٹے کا سفر، اور پھر نیلم کے کنارے دریا پار کرتے ہوٹلوں تک پہنچنا۔ سگنلز کا نہ ہونا ہمیں ماضی کی سیر پر لے گیا۔ ہوٹل نیا تھا، تھانہ شاردا کے پاس۔ رات کے کھانے کے بعد، کمرے میں راقم شاہد نسیم کے علاوہ ساتھیوں عامر بٹ،ملک غلام مصطفے،حافظ احمد نومان،ظفران سرور اور نعیم شاکرنے ایک دوسرے سے یوں باتیں کیں جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ نیند نے دھیرے سے اپنی بانہوں میں لیا اور فجر کی اذان نے جگایا۔ہم نے اپنے کمرے میں ہی نماز ادا کی اور بستر پر لیٹ گئے۔ کمرے میں کوئی پنکھا یا اے سی نہیں تھا، لیکن ہلکے لحاف رکھے گئے تھے اور ہلکی ہلکی ٹھنڈک کا احساس تھا۔ دریائے نیلم کے کنارے ہوٹل میں ہم سب جلد ہی گہری نیند کی وادیوں میں کھو گئے۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے آنکھ اس وقت کھلی جب سیکریٹری عزادار حسین عابدی نے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا کہ جلدی اٹھو، ناشتہ تیار ہے اور ہمیں ساڑھے نو بجے وادی کیل کے لیے روانہ ہونا ہے ہمیں ناشتے کے قالین تک پہنچایا۔ مرغ چنے، نان، جیم، کیچپ، مایونیز، اور پھر اولپرز چائے۔ ایسا ناشتہ شاید کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں بھی نہ ملے۔شاندار چائے نے جسم میں نئی جان ڈال دی۔تقریباً دس بجے ہماری تینوں گاڑیاں وادی کیل کے لیے روانہ ہو گئیں۔ کیل پاکستان کی ریاست آزاد کشمیر کا ایک قصبہ جو ضلع نیلم میں مظفرآباد سے 155 کلومیٹر (96 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ]کیل ریاست آزاد کشمیر کا ڈسٹرک نیلم کی تحصیل شاردا کا ایک قصبہ ہے، جو آزاد کشمیر کے کیپیٹل مظفر آباد سے 155 کلومیٹر اور تحصیل شاردا سے 19 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں پر 19000 فٹ بلند سارا والی کیل کی چوٹی واقع ہے، جو پہاڑی چوٹیوں اور بڑے گلیشئروں کی جانب جانے والے کوہ پیماؤں کا بیس کیمپ بھی ہے، یہ ایک جدید تفریح گاہ ہے جہاں تک آنے کے لیے بسیں چلتی ہیں، میلوں تک وسیع و عریض سبزہ زاروں میں جولائی کے مہینا میں رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں، یہ بھی چھ گھنٹے کا سفر تھا، جو اپنے اندر کئی خوبصورت مناظر سموئے ہوئے تھا۔ کیل پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ دریا پار کرنے کے لیے چیئر لفٹ استعمال کرنی پڑتی ہے، لیکن رش اتنا زیادہ تھا کہ ہماری باری تین گھنٹے بعد آتی۔ چیئر لفٹ میں صرف بارہ افراد کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے انتظار کرنا پڑتا۔ بہرحال، ہم میں سے کچھ دوستوں، جن میں رانا زاہد، ڈاکٹر سعید طاہر، عزیز بٹ، ڈاکٹر جمیل ملک، ابرار حبیبی، ملک غلام مصطفٰی، اشرف، ملک ظہور ،منیبہ اوررفعت وغیرہ شامل تھے، نے نیچے دریا کی طرف پیدل جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے وہاں دکانوں سے بزرگوں والی اسٹک کرائے پر حاصل کی، اور جاتے ہوئے اسٹک کی مدد سے ہم آرام سے اترتے گئے، تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے بعد ہم دریا کی موجوں کے سامنے تھے۔ پانی میں سب نے خوب انجوائے کیا، ٹھنڈے پانی میں پیر ڈال کر دل کو سکون ملا۔ دو بجے واپسی کا اعلان ہوا تو ڈیڑھ کلومیٹر کی چڑھائی چڑھتے وقت میرے سمیت جن دوستوں کی حالت ہوئی، وہ وہی جانتے ہیں یا خدا جانتا ہے۔ عزیز بٹ نے ہمارا بہت ساتھ دیا اور اوپر تک پہنچنے میں حوصلہ بڑھاتے رہے۔ ہماری ساتھی منیبہ کو تو گھوڑے پر بٹھا کر اوپر پہنچایا گیا۔ گرمی اور دھوپ بھی بہت سخت تھی، لیکن گرتے پڑتے ہم بھی بالآخر اوپر پہنچ گئے۔ واپسی پہاڑ کا دوسرا نام تھی۔ چڑھائی کے ہر قدم پر سانس پھولتی، لیکن عزیز بٹ کی ہمت افزائی ہمیں اوپر لے آئی۔
سب نے کرائے کی اسٹک واپس کیں اور کھانے کے لیے تیار ہو گئے۔ کھانے میں چاول تھے جو تھکن کے بعد بہت لذیذ محسوس ہوئے۔کھانے کے بعد ہم LOC کی طرف روانہ ہوئے۔ دریائے نیلم کی دوسری طرف مقبوضہ کشمیر تھا۔ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ پاکستانی جھنڈا فخر سے لہرا رہا تھا اور دوسری جانب زبردستی تھوپا گیا جھنڈا۔ فضا میں عجیب کشمکش کا احساس تھا۔پھر وہ منظر… جب دریا کے اس پار مقبوضہ کشمیر پر قابض ہندوستان کا جھنڈا، اور اِس طرف کشمیر و پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ آنکھوں نے جو دیکھا، دل نے اسے صرف محسوس کیا۔ اس منظر کے آگے کوئی زبان بےبس ہے۔
کشمیر کی وادی کیرن میں برفیلے پانی اور تیز بہاوٴ والے دریائے نیلم کی ایک جانب جب سیاح گانے گاتے ہیں تو دوسری جانب سیاح ان کے لیے تالیاں بجاتے ہیں۔ دو ملکوں میں بٹے اس مقام پر سرحد یہی دریا ہے۔
ایسے میں دریا کے ایک جانب موجود پاکستانی سیاح گیت گائیں تو دوسری جانب انڈین شہری انھیں سن کر داد دے سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔واپسی پر ہم ایک اور جنت نظیر وادی میں رکے، جہاں دریا کے اوپر رسوں اور لکڑی کے پھٹوں کا پل پار کیا۔ اس پل پر ایک وارننگ لکھی ہوئی تھی کہ ایک وقت میں صرف دو لوگ ہی پل پر سے گزر سکتے ہیں۔ پل پار کر کے وہاں پر موجود پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات ہوئی جو اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ اتنے خوبصورت نظارے تھے کہ انہیں الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ ہر طرف سبزہ، صاف شفاف پانی اور بلند و بالا پہاڑ، قدرت کی کاریگری کا حسین امتزاج تھا۔ پاک آرمی کے سپاہی شعیب سے ملاقات، جو اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف تھا۔ قدرت، وطن، اور ذمہ داری کا حسین امتزاج۔رات کو دریا کنارے موٹر بوٹ کا مزہ، شاردا بازار کی رونقیں، اور کچھ ضروری خریداری کی۔
اگلی صبح، چھ بجے سب کو اٹھا دیا گیا، ناشتےکے بعد ہم نے واٹر فال، انسانی شکل نما پہاڑ ،کنڈل شاہی اور دو مزید خوبصورت مقامات کی سیر کی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان مقامات میں تقریباً 25-30 کلومیٹر اس طرف آزاد کشمیر تھا اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیر، اور بیچ میں دریا بہہ رہا تھا۔ یہ سرحد کی تقسیم اور قدرت کی بے پناہ خوبصورتی کا ایک عجیب و غریب امتزاج تھا۔ وہاں سے ہم واپس مظفر آباد آئے اور مظفر آباد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہالہ کے مقام پر دریائے کنارے کھانا کھایا۔ مغرب کی نماز ادا کر کے ہم وہاں سے مری کے لیے روانہ ہو گئے۔ مری ہمارے ٹرپ میں شامل نہیں تھا، لیکن دوستوں کے مشورے سے اسے شامل کر لیا گیا۔ رات 11 بجے ہم مری پہنچے جہاں مال روڈ کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔ رنگا رنگ روشنیوں، سیاحوں کے ہجوم اور ٹھنڈی ہوا نے دل کو مزید شاد کر دیا۔ مال روڈ کی رونقیں، سردی کی خوشبو، اور رات کا حسن۔۔۔ سب کچھ جیسے فلمی سین کا حصہ ہو۔
ہمیں دو گھنٹے کا وقت دیا گیا جس میں ہم نے مال روڈ کی سیر کی اور خریداری کی۔ اس کے بعد سارے ساتھی اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر واپس فیصل آباد کی طرف روانہ ہو گئے۔ فیصل آباد پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، جو اس یادگار سفر کا ایک خوشگوار اختتام تھا۔ جہاں بارش ہماری واپسی پر اشک بار تھی۔ شاید قدرت بھی ہمیں رخصت کرتے ہوئے اداس تھی۔
یہ سفر صرف ایک ٹور نہ تھا، یہ ایک خواب، ایک افسانہ، ایک روحانی تجربہ تھا۔ وادیٔ کشمیر جنت نظیر ہے، نہ صرف قدرتی حسن کی وجہ سے بلکہ ان جذبات، احساسات، اور لمحوں کی بدولت جو انسان کو اپنے اندر نرمی، شکر، اور محبت سے بھر دیتے ہیں۔
بلاشبہ اس سارے سفر کے دوران محمدعقیل،میاں رمضان،رومان رومی، سجاد اور کاشف کی خدمات ہر لحاظ خالصتا ناشتےا،کھانے کے بندوبست کے حوالے سے قابل تعریف ہیں۔ جنکی بناء پر تمام صحافیوں کو شاندار انتظامات میسر آئے۔ سیکریٹری عزادار عابدی،طاہر نجفی نے بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے مکمل انصاف کیا۔۔۔۔
یہ سفر صرف ایک تفریحی دورہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ہمیں قدرت کے حسین شاہکاروں سے متعارف کرایا، باہمی بھائی چارے اور دوستی کے رشتے کو مضبوط کیا اور وطن عزیز کے حسین گوشوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ وادی کشمیر، بلاشبہ جنت نظیر ہے، اور فیصل آباد پریس کلب کی یہ کاوش قابل تحسین ہے جس نے صحافیوں کو اس حسین وادی کی سیر کا موقع فراہم کیا۔ یہ سفر ہماری یادوں میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔کشمیر کا یہ ٹور صرف ایک سفر نہ تھا، یہ دلوں کا بدل جانا، احساسات کا نیا جنم اور وطن سے جڑت کا نیا روپ تھا۔ ہر صحافی اب صرف قلم نہیں، کشمیر کا سفیر بھی بن چکا ہے۔ اگر کسی نے اس ٹور کی ایک تصویر کھینچی ہو، تو وہ صرف منظر نہ ہو گا، وہ ایک جذبہ ہو گا… ایک وعدہ ہو گا کہ ہم اس جنت نظیر خطے کی محبت، اس کی خوبصورتی، اس کے سچ کو دنیا کے سامنے لاتے رہیں گے۔ -

اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان
قلم کی لو سے روشن ہے، یہ بزمِ بیداری
لفظوں میں ہے طاقت، اور فن میں دلداری
ادب کے قافلے کی ہے، یہ شانِ نیازی
اپووا ہے وہ تنظیم، ہے سب پر یہ بھاری
ادیبوں کی پکار ہے، لکھاریوں کی شان
خیالوں کا یہ قافلہ، نہیں کوئی عام کاروان
جو حرف میں بغاوت ہو، جو نظم میں ہو جان
اپووا کے ہر رکن کا، ادب سے جڑا ہے ایمان
یہ بزمِ علم ہے ایسی، جو سوچ جگاتی ہے
اندھیر دل میں بھی کچھ خواب ٹانک جاتی ہے
جو خامشی میں بولے، جو چپ توڑ جاتی ہے
اپووا وہ امید ہے، جو حوصلہ بڑھاتی ہے۔
مشاعرے ہوں یا اجلاس، ہو کوئی تخلیق کا باب
یہ کارواں ادب کا ہے، نرالا، بے حساب
قلم سے انقلاب آئے، سچائی ہو کامیاب،
اپووا ہے وہ محاذ، جہاں لفظ ہو جواب۔
تو آؤ، ارادوں سے ہم روشن چراغ جلائیں
اپووا کی چھاؤں میں، نئی دُنیائیں بسائیں
ادب کا پیغام لے کر، ہم سب کو ساتھ لائیں
یہ بزمِ فن کہتی ہے — چلو، دلوں کو ملائیں
یعقوب اعوان -

مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی
26 مئی پیر کے دن کاسمو پلیٹن کلب میں مسرت کلانچوی صاحبہ کے اعزاز میں ایک شام منانے کا اہتمام کیا گیا یہ اہتمام انجن ترقی پسند مصنفین اور پاک میڈیا فاؤنڈیشن طرف سے تھا بہت خوبصورت شام تھی جس میں مصنفین، صحافیوں اور پی ٹی وی سے وابستہ افراد اور مسرت صاحبہ کے دوستوں نے بھر پور شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا .
مسرت کلانچوی جو تغمہ امتیاز سمیت بہت سے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں انہوں نے ادب کی ہر صنف میں لکھا اور بہت خوب لکھا ان کی صلاحیتوں کو بہت پذیرائی ملی ان کے لکھے ڈرامے ہوں یا افسانے ناول ہوں یا بچوں کا ادب اور پھر سیرت نبوی پر بھی لکھا اردو میں بھی اور سرائیکی میں بھی لکھا بلکہ وہ سرائیکی کی پہلی افسانہ نگار ہیں نام و نمود سے دور وہ ایک جینوئن تخلیق کار کی طرح بچپن سے اب تک فن کی آبیاری کرتی رہیں
اس پروگرام میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، پروگرام کی نظامت جاوید صاحب نے کی مہمانان خصوصی میں پروین ملک صاحبہ، بلقیس ریاض صاحبہ، حفیظ طاہر صاحب، ڈاکٹر ایوب ندیم ، آ غا قیصر عباس، ڈاکٹر امجد طفیل شامل تھے جبکہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے کمال مہربانی سے اپنی دوستوں کو بھی مہمانان خصوصی کا درجہ دیا اور ہم سب کو باقاعدہ اسٹیج پر بلوا کر بٹھایا اور گفتگو کا موقع دیا دوستوں میں دعا عظیمی، ثمینہ سید ، کنول بہزاد ، رقیہ اکبر ، شاہین اشرف علی ، فاطمہ شیروانی اور دیگر شامل تھیں .بلقیس ریاض صاحبہ نے کہا کہ میں نے جب مسرت کلانچوی کا سارا تخلیقی کام دیکھا تو بہت حیران اور متاثر ہوئی کہ اتنا بہترین تخلیقی کام ان کے کریڈٹ پر ہے ثمینہ سید اور کنول بہزاد نے بھی مسرت صاحبہ کے تخلیقی کام پر عمدہ گفتگو کی ڈاکٹر ایوب ندیم ، پروین ملک ، کامریڈ تنویر صاحب اور تمام گیسٹ سپیکرز نے مسرت صاحبہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا
میں نے کہا کہ مسرت صاحبہ بھاگوان یعنی نصیب والی ،خوش قسمت ہیں کہ ان کو ساز گار جہان ملا ان کے والد نے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ان کو اچھا ماحول دیا اور پھر ان کی شادی بھی ایسے شخص سے ہوئی جہاں ان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مزید جلا ملی علامہ اقبال نے ایک شعر میں کہا تھا
گفند جہان ما آ یا بہ تو می سازد؟
گفتم کہ نمی سازد گفند کہ برہم زن
(کیا تمہیں میرا جہان ساز گار ہے ؟
کہا ، نہیں، کہا، تو پھر اسے درہم برہم کردو)
اس دنیا میں بہت سے لوگوں کو جہان ساز گار نہیں ملتا لیکن وہ اسے درہم برہم نہیں کر سکتے بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی ایسے گزرتی ہے کہ
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیںمسرت کلانچوی صاحبہ نے آخر میں بہت خوبصورت گفتگو کی اور اپنے لکھے پہلے ڈرامے ،، ایک منٹ، ، کا پس منظر بیان کیا ان کا پہلا ڈرامہ ہی نصرت ٹھاکر اور پی ٹی وی کے ارباب اختیار کو بہت پسند آیا اور آن ایئر ہونے پر عوام کو بھی پسند آیا ، مسرت کلانچوی صاحبہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ واقعی خوش قسمت ہیں ان کے والد اور شوہر اسلم ملک صاحب نے بھر پور تعاون کیا،مسرت کلانچوی صاحبہ کے اس مقام تک پہنچنے میں قسمت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی محنت اور فن سے ان کی گہری وابستگی، کمٹمنٹ کا بھی ہاتھ ہے، ایسے لگتا ہے وہ پیدائشی تخلیق کار ہیں بچپن میں ہی کہانیاں لکھنا مصوری کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ ننھی مصورہ آج بہت عروج پا چکی ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ،پروگرام کے منتظمین کو اتنا اچھا پروگرام ترتیب دینے پر بہت مبارکباد
