Baaghi TV

Category: خواتین

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    کل رم جھم برستی بارش اور لاہور کے خوبصورت خنک موسم میں فرح ہاشمی کے آ رٹسٹک گھر میں شاندار نشست ہوئی ، فرح ہاشمی صاحبہ نے آ ئرلینڈ سے آ ئیں مصنفہ ڈاکٹر سیمیں رخ کے اعزاز میں اس نشست کا اہتمام کیا تھا فرح ہاشمی کے گھر کی شاندار ڈیکوریشن اینٹکس ، سٹڈی روم گھر کا ہر گوشہ انتہائی آ رٹسٹک طریقے سے ڈیکور کیا گیا تھا اور فرح کے اعلیٰ زوق کا آ ئینہ دار تھا سب نے بہت تعریف کی اور ڈرائینگ روم میں موجود چرخے نے تو سب کا دل موہ لیا وہ چرخہ جو سنا تھا چاند پر موجود ہے اور بڑھیا صدیوں سے کات رہی ہے چرخے کے علاوہ اور بھی ثقافتی اشیا لالیٹن ، حقہ ، ہاتھ سے بنے پنکھے ، ڈیکوریشن کے علاوہ کھانے کی میز پر بھی فرح کا سلیقہ نظر آ رہا تھا تمام چیزیں گھر کی بنی اور مزیدار تھیں ، فرح نے عمدہ میزبانی کی ہر چیز خود پیش کرتی رہیں ، کباب ، سموسے ، دہی بڑے ، پاسٹا ، پکوڑے ، سویٹ ڈش ، گھر کی بنی ہر چیز مزیدار تھی ، کھا نے کے بعد محفل شعر وسخن ہوئی سب نے اپنا کلام سنایا مارچ میں یوم خواتین کے حوالے سے عمدہ شاعری سننے کو ملی.

    ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی کتب ،، باد مسموم ،، زرد پتوں کی بارش ،، اور ،، ایک تھی ستارہ،، سب کو پیش کیں ، ڈاکٹر سیمیں رخ آ ئر لینڈ میں مقیم ہیں پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں آ جکل پاکستان آ ئی ہوئی ہیں پاکستانی اہل قلم خواتین سے ملکر خوش تھیں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں پلوشن اور ٹریفک کے مسائل ہیں لیکن اپنے ملک کی فضاؤں میں اپنائیت ہے انہیں اپنی پذیرائی اچھی لگ رہی ہے

    اس نشست میں ہمارے علاوہ کنول بہزاد ، شاہین زیدی اور شاعرہ شاہدہ مجید نے شرکت کی ، بہت خوبصورت شام تھی رات گئے تک یہ محفل جمی رہی ، ڈاکٹر سیمیں رخ چند دنوں بعد آ ئیرلینڈ سدھار جائیں گی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگلی بار وہ آ ئیں تو پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوں اور ٹریفک اور پلوشن کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح منظم ہوجائے جیسا کہ انہوں نے بتایا آ ئیر لینڈ میں ہے –

  • نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کی اہمیت اور اثرات معاشرتی ترقی میں بے شمار ہیں۔ یہ پیشہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں صرف سچائی، ایمانداری، اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافت کے میدان میں قدم رکھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا اور اپنے لیے ایک معتبر مقام پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ایسی ہی ایک جرات مندانہ مثال نمرہ ملک کی ہے، جو تلہ گنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمرہ ملک نے نہ صرف صحافت کے میدان میں قدم رکھا بلکہ اس میدان میں اپنی محنت، لگن اور قابل رشک کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنا نام بنایا بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا صحافت سے تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بہت محنت سے ہوا۔ انہوں نے کئی اہم اخبارات اور میڈیا اداروں سے وابستہ رہ کر صحافت کے اصولوں کو سیکھا اور اپنے کام میں بہترین مہارت حاصل کی۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کو معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے دلوں تک پہنچ کر انہیں متحرک بھی کرتی ہیں۔
    nimra malik talagang
    نمرہ ملک نہ صرف صحافت کی دنیا میں بلکہ ادب کی دنیا میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر ایک منفرد زاویہ اور گہرا پیغام رکھتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کو ایک نیا نقطہ نظر بھی فراہم کرتی ہیں۔نمرہ ملک نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے صحافت میں بے شمار ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے نام نو سو سے زائد ایوارڈز ہیں، جو ان کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا غماز ہیں۔ یہ اعزازات ان کی جدو جہد اور کمیونٹی میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا واضح اظہار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی "مرد صحافی” کو اتنی عزت نہیں ملی جو نمرہ ملک نے حاصل کی ہے۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کی کامیابی صرف ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی مستقل مزاجی، لگن، اور جرات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھتے وقت جہاں ایک طرف خواتین کے لیے اس میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر انسان میں عزم و ہمت ہو تو کوئی بھی مشکل راستہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔نمرہ ملک کی کہانی ایک ایسی کامیاب خاتون کی کہانی ہے جس نے نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کیا بلکہ صحافت کے میدان میں عورتوں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ کسی بھی شعبے میں قدم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔نمرہ ملک کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدو جہد کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد راستہ نہیں ہوتا، اور محنت اور عزم کے ساتھ اپنی راہ بنانے کا جذبہ کبھی ناکام نہیں جاتا۔
    نمرہ ملک کے لیے ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔
    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا مختصر تعارف،نمرہ ہی کی زبانی
    پروفیسر نمرہ ملک پرائڈ آف پرفارمنس مصنفہ ادیبہ
    ماسٹرز ان اردو،ماس کمیونکیشنز۔بی ایڈ ،میڈیکل
    مختلف زبانوں میں انٹرپریٹر ہوں۔
    مبصرہ ناولسٹ
    افسانہ نگار
    کالم نگار(میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔)
    کمپیئر
    اینکر پرسن
    سفر نامہ نگار
    صحافی
    چیئرپرسن ضلع پریس کلب تلہ گنگ
    ضلع چکوال کی پہلی ورکنگ جرنلسٹ۔۔۔۔نیشنل جرنلسٹ
    مختلف قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے
    قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ
    حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب "کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔
    "شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020 کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
    پنجابی مجموعہ "مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔
    پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
    میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب آچکی ہیں
    پندرہ زبانوں میں شاعری کا اعزاز حاصل ہے
    انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
    ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے
    کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔
    میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ

    ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔پانچ مختلف زبانوں میں لکھتی ہوں۔پندرہ مختلف زبانوں کواپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ادب اطفال کی جانب سے متعدد بار ایوارڈز مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے "پھول” میں پہلی کہانی شائع ہوئی تھی۔
    nimra malik talagang
    میری کتابوں کی تفصیل ۔
    مہنڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
    شاہ سائیں(ناول)
    دریچہ (کالمز)
    کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
    بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
    مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
    کتاب زیست(ناول)
    عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
    آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
    ah my dreams!!(انگلش )
    مائے نی (پنجابی ماہیا،)
    6.(افسانے)
    مرشد خانہ (سفر نامہ)
    میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
    پیمانہ بدہ(فارسی کلام)

    من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
    جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
    (نمرہ ملک)

  • والدین کی اہمیت،تحریر:   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    والدین کی اہمیت،تحریر: ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے دوسری شادی کا مشورہ دیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ ایک بیٹے کا ہونا ہے، اور وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے گا۔
    بیٹے کی تربیت
    جب بیٹا بڑا ہوا، تو اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کو سونپ دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔
    تنہائی کا احساس
    بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے اپنے گھر کا مکمل کنٹرول اپنی بہو کے حوالے کر دیا۔
    ایک دن کا واقعہ
    بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا بھی دفتر سے آیا۔ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔
    کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔
    حیرت انگیز خبر
    کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!” والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں اور اب تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟”
    حقیقت کا انکشاف
    لڑکے نے جواب دیا، "بابا، میں اپنی ماں کو آپ کے لیے نہیں لا رہا، نہ ہی ایک ساس کو اپنی بیوی کے لیے لا رہا ہوں! میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔”

  • اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کی فلاح اور حقوق کے تحفظ کے لیے آیا۔ اس میں خواتین کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اور انہی حقوق میں سے ایک اہم حق وراثت کا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں یہ مسئلہ ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے، لیکن اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا، جو اس سے پہلے کسی بھی مذہب میں نہیں تھا۔اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دے کر ایک نیا باب رقم کیا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”مرد اور عورت کے درمیان جو بھی تقسیم ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ بھی تم پر فرض کیا گیا ہے، وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔” (القرآن)

    اللہ کی یہ ہدایت واضح کرتی ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو وراثت میں حصہ ملے گا، تاہم ان کے حصوں میں فرق ہوگا، جو کہ اسلام کی عدل و انصاف پر مبنی تقسیم ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مرد اور ایک بیٹی وراثت کے حقدار ہوں، تو مرد کو دو حصے ملیں گے اور بیٹی کو ایک حصہ، یعنی بیٹی کو مرد سے نصف حصہ ملے گا۔جب اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا فیصلہ کیا، تو اس وقت تک دنیا کے بیشتر معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ بہت سے معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت میں شریک کرنے کے بجائے انہیں جائیداد سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس روایتی ظلم کو ختم کیا اور بیٹیوں کو بھی جائیداد میں حصہ دیا، تاکہ انہیں بھی مالی حق ملے۔

    مردوں کا جائیداد بیچنا اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا
    لیکن جب ہم آج کے معاشرتی حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مرد اپنی جائیداد بیچتے وقت یا کسی اور صورت میں اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کوئی بہن یا بیٹی نہیں ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور اس سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔”ہماری کوئی بہنیں یا بیٹیاں ہیں ہی نہیں، ہم اکیلے وارث ہیں”، یہ وہ جملے ہیں جو بعض لوگ جائیداد کی تقسیم کے دوران کہہ کر بیٹیوں کے حقوق سے انکار کرتے ہیں۔ اس عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسلام میں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا فرض ہے، اور اس طرح کے حربے اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

    معاشرے میں ابھی بھی کچھ لوگ اسلام کے اصولوں کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں پیچھے ہیں۔ اگرچہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیا، لیکن اس کے باوجود بعض مردوں کا اس حق سے انکار کرنا یا اسے چھپانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ یہ عمل نہ صرف دین کے ساتھ ناانصافی ہے، بلکہ اس سے بیٹیوں کی حیثیت اور ان کے حقوق کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اس مسئلے کا حل صرف اور صرف تعلیم میں ہے۔ مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ اگر ہر فرد یہ سمجھ لے کہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا ہے تو ایسے غیر اسلامی اقدامات کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ، اسلامی رہنماؤں اور علماء کو اس بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنی چاہیے کہ وراثت میں بیٹی کا حصہ دینا نہ صرف فرض ہے، بلکہ یہ اسلام کی روحانی اور اخلاقی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، اور یہ کسی بھی طرح سے ان کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کو جائز نہیں ٹھہرا سکتا۔ معاشرتی ترقی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس اصول کو تسلیم کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔ اس طرح ہم ایک معاشرتی تبدیلی لا سکتے ہیں جہاں بیٹیوں کو ان کے حقوق ملیں اور ہر مسلمان اس عمل کو اپنی زندگی میں اپنائے۔

  • سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت. تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    علامہ اقبال نہ صرف ایک آفاقی شاعر تھے بلکہ وہ عظیم مفکر ، فلسفی ، صوفی ، قانون دان اور مصنف تھے پوری دنیا میں ان کا کلام پسند کرنے والے اور ان کے چاہنے والے موجود ہیں اور اقبالیات ایک وسیع موضوع بن چکا ہے وہ ہر دور کے شاعر ہیں پیغبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں سرشار تھے اور قرآن سے وابستگی نے ان کا اقبال مزید بلند کیا اردؤ شاعری کی طرح ان کی فارسی شاعری بھی لاجواب ہے لیکن فارسی عام زبان نہ ہونے کی وجہ سے ان کا یہ کلام زیادہ منظر عام پر نہیں آ تا

    علامہ اقبال کی ایک شاہکار فارسی نظم جو ،، رموز بےخودی ،، میں موجود ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کو جناب سیدہ کی کتنی معرفتِ تھی وہ جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی گہرائی کو سمجھ گئے تھے کہ ،، فاطمہ بضعتہ منی ،، ( فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ) اور یہ حدیث مبارکہ بھی کہ ،، فاطمہ سیدہ ۃ نساء عالمین ( فاطمہ سارے جہان کی عورتوں کی سردار ہے )

    اقبال کہتے ہیں
    مریم از یک نسبت عیسی عزیز
    از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
    ( بی بی مریم سلام اللہ علیہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بزرگ وبرتر ہیں جبکہ فاطمہ زاہرا تین نسبتوں سے بزرگ وعزیز ہیں آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نور چشم ہیں جو اولین و آخرین عالم کے رہبر و امام ہیں
    آ نکہ جان در پیکر گیتی دمید
    روز گار تازہ آ ئین آ فرید
    ( وہی رحمت للعالمین جنہوں نے کائنات کے پیکر میں روح پھونک دی اور ایک تازہ دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی )
    بانوے آ ن تاجدار ھل اتیٰ
    مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا
    ( آ پ ھل اتیٰ کے تاجدار مرتضیٰ شیر خدا کی زوجہ معظمہ ہیں)

    مادر آ ن مرکز پرکار عشق
    مادر آ ن کاروان سالار عشق
    ( ان کی ماں ہیں جو عشق کا مرکزی نقطہ اور پرکار عشق ہیں اور ماں ہیں ان کی جو کاروان عشق کے سردار ہیں )

    آ ن ادب پروردہ ء صبر ورضا
    آ سیا گردان ولب قرآن سرا
    ( صبر ورضا کا یہ عالم تھا کہ چکی پیستی جاتی تھیں اور لبوں پر قرآن جاری رہتا)

    بہر محتاجی دلش آ ن گونہ سوخت
    با یہودی چادر خود را فروخت
    ایک محتاج اور مسکین کی حالت پر ان کو اس قدر ترس آ یا کہ اپنی چادر یہودی کو بیچ ڈالی)

    رشتہ آ ئین حق زنجیر پاست
    پاس فرمان جناب مصطفیٰ است
    (آ ئین حق سے رشتہ تعلیماتِ اِسلام اور رسول اللہ کا فرمان میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتا ہے)
    ورنہ گرد تر بتش گردید می
    سجدہ ہا بر خاک او پاشید می
    ( ورنہ میں آ پ کی تربت کے گرد طواف کرتا اور اس خاک پر سجدے کرتا )

    علامہ اقبال کی اس نظم کے آ خری اشعار حیرت انگیز اور بے حد متاثر کن ہیں انہوں نے سیرت جناب سیدہ فاطمہ کا کتنا گہرا مطالعہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاؤں میں شریعت کی زنجیر نہ ہوتی تو میں ان کی قبر مبارک کا طواف کرتا اور سجدے کرتا ،یقننا جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا ایسی ہی قدر و منزلت والی ہستی تھیں رسول اللہ ان کے آ نے پر کھڑے ہو جاتے تھے ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے تھے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے تھے وہ شہر علم تھے علم نبوت کی رو سے جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کے پیارے بیٹے اپنے نانا کے دین پر قربان ہونگے اور وہ کفار مکہ جو ان کو طعنے دیتے تھے کہ آ پ کا کوئی بیٹا نہیں ہے آ پ کی نسل ختم ہوجائے گی اللہ نے اپنے پیارے حبیب کی نسل ان کی بیٹی سے چلائی ،اس زمانے میں جب جاہل عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کی قدر و منزلت فرمائی ان کو ہر طرح کے حقوق دینے بیٹی کے بچوں کو کندھے پر بٹھایا اور کہا حسن وحسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ،مدینے کے عیسائی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے انکار کرتے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا کہ
    ،، اے رسول یہ تم سے عیسیٰ کے بارے میں بات کرتے ہیں تم ان سے کہہ دو کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لاتے ہیں تم اپنی عورتوں کو لاؤ ہم اپنی عورتوں کو لاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو لاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں اور پھر عیسیٰ کے بارے میں مباہلہ کرتے ہیں اور پھر جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ،،
    ( آیت نمبر 61 ، پارہ تیسرا ، محل نزول مدینہ)

    سورۃ آل عمران کی ان آ یات کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی حکم کے مطابق اپنے بیٹوں کے طور پر اپنے نواسوں حسن وحسین علیھم السلام اور فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام کو لے کر میدان مباہلہ میں نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کرنے گئے تھے ،فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے بچوں نے بچپن میں ہی اپنے نانا جان کے ہمراہ توحید کی روشنی سے جہان کو منور کیا اور اپنی عالی مرتبت ماں کی تربیت سے ایک زمانے کو حریت وصداقت کا درس دیا

    اقبال فرماتے ہیں
    سیرت فرزند ہا از امات
    جوہر صدق وصفا از امات
    مزرع تسلیم را حاصل بتول
    مادران را اسوہ کامل بتول
    ( فرزندوں کوسیرت اور روش زندگی ماؤں سے ورثے میں ملتی ہے صدق وخلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے اور تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا حاصل بتول ہیں اور ماؤں کے لیے نمونہ کامل بتول ہیں)

    ( 3 جمادی الثانی جناب سیدہ فاطمہ زاہرا سلام اللہ علیہا کے یوم رحلت پر لکھا گیا مضمون)

  • ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ایک کالم صرف لڑکیوں کیلئے۔۔۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    یہ دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں فاصلے سمٹ چکے ہیں، اور ہر کوئی دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کسی سے بھی رابطہ کر سکتا ہے۔ محبت کے جذبات بھی ان ڈیجیٹل راستوں پر بہنے لگے ہیں، جہاں ایک تصویر، ایک میسج، ایک ویڈیو کال کسی کو دل کے قریب کر دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ محبت حقیقت میں بھی اتنی ہی گہری اور سچی ہوتی ہے جتنی کہ دکھائی دیتی ہے؟اونیجا اینڈریو رابنس نامی یہ امریکی خاتون گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں موجود ہیں اور اُس کی موجودگی خبروں اور تبصروں کی زینت بن رہی ہے۔ویزا کی معیاد پوری ہونے اور پاکستانی اور امریکی حکام کی متعدد کوششوں کے باوجود وہ واپس امریکہ جانے سے انکاری ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی میں ایک پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا ہو کر اُس کی تلاش میں پہنچی تھیں۔

    یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو امریکہ میں پلی بڑھی، آزادی اور خودمختاری کی زندگی گزار رہی تھی۔ مگر دل پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ فیس بک پر ایک پاکستانی نوجوان سے دوستی ہوئی، اور پھر یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ دن رات کی گفتگو، وعدے، خواب، اور یقین دہانیاں اسے اس حد تک لے آئیں کہ اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔یہ اس کامحبت کا سفر تھا یا زندگی کی سب سے بڑی غلطی؟۔یہ لڑکی سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئی، دل میں خوشی، امید، اور محبت کا چراغ جلائے۔ اس نے یقین کر لیا تھا کہ جس شخص سے وہ ملنے جا رہی ہے، وہ اس کا سچا محبت کرنے والا ہے، جو اسے عزت، خوشی اور تحفظ دے گا۔ لیکن جیسے ہی وہ پاکستان پہنچی، اس کا خواب ٹوٹ گیا۔ وہ لڑکا جو اسے ایئرپورٹ پر لینے آنا تھا، غائب ہو چکا تھا۔بار بار کال کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں، میسجز بھیجنے پر کوئی ردعمل نہیں، اور جب اس نے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ وہ لڑکا حقیقت میں کہیں اور مصروف تھا، اور اس کے جذبات محض ایک کھیل تھے۔ وہ لڑکی ایک اجنبی ملک میں، اکیلی، بے سہارا، اور دل شکستہ کھڑی رہ گئی۔

    یہ کہانی ایک سبق ہے۔یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک سبق ہے ان تمام لڑکیوں کے لیے جو سوشل میڈیا کی محبت کو حقیقت سمجھ کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر بیٹھتی ہیں۔محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ محبت اور دھوکہ میں فرق کیا جائے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی کے میٹھے بول اور جھوٹی محبت کے جال میں آ کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ایک بڑی نادانی ہے۔آنکھیں بند کر کے اعتبار نہ کریں۔سوشل میڈیا پر کسی سے تعلق بنانا آسان ہے، لیکن اعتبار کرنے سے پہلے تحقیق کرنا ضروری ہے۔ جو شخص آپ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ حقیقت میں کیسا ہے؟ کیا اس کی باتوں میں سچائی ہے؟ کیا وہ واقعی آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہے یا محض وقت گزاری کر رہا ہے؟ یہ سب جانچنا ضروری ہے۔محبت میں جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔محبت ایک خوبصورت احساس ہے، لیکن اگر یہ جذبات میں بہہ کر کی جائے تو نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کسی سے محض آن لائن بات چیت کے بعد اس پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا حماقت ہے۔اپنے خاندان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔اگر کوئی واقعی آپ سے محبت کرتا ہے تو وہ آپ کے خاندان کے سامنے آنے سے نہیں گھبرائے گا۔ اگر کوئی شخص آپ کو چھپ کر، خفیہ طور پر ملنے یا کسی اور ملک آنے کے لیے مجبور کر رہا ہے تو یہ واضح اشارہ ہے کہ کچھ غلط ہے۔ خود کو قیمتی سمجھیں ،کسی بھی لڑکی کی عزت، خودداری، اور زندگی کسی کے جھوٹے وعدوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ کوئی بھی شخص جو آپ کی سچائی کا فائدہ اٹھا کر آپ کے جذبات سے کھیل رہا ہو، وہ آپ کے لائق نہیں۔ایسی کہانیوں کو دہرانے سے کیسے بچا جائے؟یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر ہونے والے ان گنت دھوکوں میں سے ایک ہے۔

    آئے دن ہم ایسی خبریں سنتے ہیں کہ کسی لڑکی نے کسی اجنبی پر بھروسہ کر کے اپنی زندگی برباد کر لی۔ اس سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں: کسی سے آن لائن دوستی ہونے پر پہلے مکمل تحقیق کریں۔ محبت کے جذبات میں جلد بازی نہ کریں۔کسی اجنبی پر بغیر ملے اور سمجھے اعتبار نہ کریں۔اگر کوئی شخص سچی محبت کرتا ہے تو وہ کبھی بھی آپ کو خود سے الگ نہیں کرے گ۔ااپنی عزت نفس، خودمختاری اور وقار کو ہر چیز سے زیادہ اہم رکھیں۔اس کے نتیجہ میں سچی محبت وہی ہے جو عزت دے۔سچی محبت وہی ہوتی ہے جو عزت دے، اعتماد دے، اور سب کے سامنے ہو۔ جو محبت چھپانی پڑے، جو آن لائن وعدوں اور جھوٹے خوابوں پر قائم ہو، وہ محض ایک دھوکہ ہوتی ہے۔وہ امریکی لڑکی شاید اب اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی پر پچھتا رہی ہو گی، لیکن اگر اس کی کہانی کسی اور لڑکی کے لیے سبق بن جائے، تو شاید وہ اپنی زندگی برباد ہونے سے بچا سکے۔ محبت خوبصورت ہے، لیکن اس کے لیے آنکھیں کھلی رکھنا ضروری ہیں۔یاد رکھیں عزت ہی سب کچھ ہے۔عزت وہ اثاثہ ہے جو نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ کسی کو دے کر واپس لیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جو اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو پوری زندگی کی تگ و دو بھی اسے واپس نہیں لا سکتی۔ دولت، شہرت، محبت سب کچھ فانی ہے، مگر عزت وہ دائمی دولت ہے جو انسان کی پہچان بنتی ہے۔ جو عزت کو قربان کر دے، وہ سب کچھ کھو دیتا ہے۔ اپنی عزت کی حفاظت کرنا ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے قیمتی ہے، تو وہ عزت ہے—اور عزت ہی سب کچھ ہے!یہ کالم صرف لڑکیوں کے لئے ہے، امریکن لڑکی کی حالت پر غور کریں اس سے سبق سیکھیں،کیونکہ جو آپکے لئے آپ کے والدین سوچتے ہیں ، اسی میں عافیت اور بھلائی ہے، وگرنہ فیس بک کی دوستی پرامریکن لڑکی کی پاکستانی لڑکے سے شادی کے نام پر ذلالت تو آپ نے دیکھ ہی لی ہے

  • ماہ نیم شب۔تحریر:فرح علوی

    ماہ نیم شب۔تحریر:فرح علوی

    ماہ نیم شب
    تحریر:فرح علوی
    وہ ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھا اپنی باری آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اندر کو دھنسی آنکھیں اور چہرے پر کرب کی بے شمار کہانیاں لکھی تھیں۔ ملگجی سا میلا کچیلا لباس اور ٹوٹے پھوٹے جوتے پہنے ہوئے، اس کی حالت بہت قابلِ رحم تھی۔

    "شاکر خان۔۔۔۔۔۔!” نرس نے اس کا نام پکارا تو وہ بے تاثر سی خالی خالی نظروں سے ڈاکٹر کے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے جونہی روم کے اندر داخل ہوا تو اس کی نظر اپنے سامنے بیٹھی ڈاکٹر ادینہ پر پڑی۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر گھوم سا گیا۔ حیرت و بے یقینی کے عالم میں اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ فائل پر جھکا چہرہ، جس پر بلا کا اعتماد تھا۔ بالوں کا بنا بیک کومب اسٹائل اور سادہ سے سوٹ پر اوور آل پہنے ہوئے، وہ بہت باوقار لگ رہی تھی۔

    "آئیے۔۔۔۔۔۔” فائل سے نظریں ہٹا کر اس نے اپنے سامنے کھڑے شاکر خان کی طرف دیکھا تو چہرے پر چھائے اطمینان کی جگہ اضطراب نے لے لی۔ وہ حیرت و بے یقینی کے عالم میں کھڑی ہو گئی۔ جھریوں زدہ چہرے کے پیچھے ماضی کی اندوہناک کہانیاں واضح لکھی ہوئی تھیں۔ وہ ان تحریروں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتی تھی، مگر یہ امر اس کی دسترس سے باہر تھا۔ ماضی نے اسے ایسے زخم دیے تھے، جن پر بظاہر تو کھَرَنڈ آ چکا تھا مگر وہ اندر سے ناسور بن چکے تھے۔ حال نے ایک بار پھر ماضی کا صفحہ پلٹ کر اس کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا۔ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے والی لڑکی تھی، مگر زندگی شاید اس سے کوئی اور امتحان لینا چاہتی تھی۔

    ماضی میں شاکر خان کی ساری خوشیاں ادینہ کی اذیتوں سے مشروط تھیں اور وہ آج بھی اسی چہرے کے پیچھے چھپے اپنے ہر درد اور اذیت کا مداوا چاہتی تھی۔ شاکر کے ضبط کا بند ٹوٹا تو آنسو خود بخود آنکھوں کے حلقوں سے ابل کر باہر نکل آئے۔ اس نے اپنے جھریوں والے کپکپاتے ہاتھ ادینہ کے سامنے جوڑ دیے، لیکن وہ بے تاثر سی کھڑی ناپسندیدگی کے باوجود ماضی کے ان جھروکوں میں داخل ہو چکی تھی، جن میں وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔
    ……………..
    بیٹے کی خواہش میں پے در پے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ آج بھی حسنہ وہی اذیت سہہ رہی تھی اور پھر وہ چوتھی بیٹی کو جنم دیتے ہی اس جہانِ فانی کو الوداع کہہ گئی۔ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی منحوس کے لقب سے نوازا گیا، کیونکہ ماں کے مرنے کی ذمہ دار صرف یہی بچی تھی۔ موت اور زندگی کا اختیار تو صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے تو پھر انسان کیوں دوسرے انسان کو اس امر کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے؟

    وقت اپنی مست خرامی میں گزرتا رہا۔ بڑی دو بہنوں نے باپ کی نفرت کا زیادہ اثر لیا اور چھوٹی بہن سے ہتک آمیز سلوک کرنے لگیں۔ بڑی بہن نے پھر بھی کسی حد تک سمجھوتہ کر لیا تھا۔ وہ بچپن سے ہی دبی دبی اور سہمی ہوئی رہتی۔ پانچ سال کی عمر میں اس نے اسکول جانا شروع کیا تو کچھ وقت سکون کا میسر آنے لگا۔ وہ کتابوں کو اس طرح سینے سے لگا کر رکھتی گویا یہی وہ نیا ہے، جو زندگی کے بیکراں سمندر میں اسے پار لگائیں گی۔ وہ بہت خوشی سے تیار ہو کر اسکول جاتی مگر اپنی خوشی کو کسی پر ظاہر نہ کرتی۔ تلخ حالات، اپنوں کی بیگانگی اور احساسِ تنہائی نے اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا۔ گھر میں جب شاکر خان داخل ہوتا تو ادینہ ایسے چھپتی جیسے اس نے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو۔ وقت کی مخصوص رفتار کے ساتھ وہ بھی بڑی ہو رہی تھی۔

    آج اسکول میں ایک شاندار پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں ادینہ نے بھی حصہ لیا۔ ڈائس پر مائیک کے سامنے اپنی تمام تر متانت اور اعتماد لیے ادینہ نے اظہارِ خیال کرنا شروع کیا۔
    …………….
    میرا ان تمام فوت شدہ ماؤں سے ایک سوال ہے۔ جن روحوں کو جنم دیتے ہی مائیں اس جہان کو چھوڑ جاتی ہیں۔ کیا ان کے مرنے کے ذمہ دار ہم ہوتے ہیں۔۔۔؟
    کیا قانونِ قدرت وہ بے بس بچہ اپنی دسترس میں لے سکتا ہے، جو بولنے، سننے، سمجھنے، چلنے پھرنے اور خود کھانے پینے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔۔۔؟ تو پھر معاشرے کے لوگوں کا رویہ اتنا نفرت آمیز کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟ کیا زندگی اور موت انسانی خواہش پر منحصر ہے۔۔۔؟ میں یہ اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ فوت شدہ اجسام میرے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہیں، تو اس لیے میرا سوال ان زندہ انسانوں سے ہے، جو آج ہر جذبے سے عاری، محسوسات کے عنصر سے خالی ذہن لیے زندہ لاشیں بنے پھرتے ہیں۔ کیا یہ سب ان کو زندہ کر کے واپس لا سکتے ہیں۔۔۔؟ جن کو مارنے کا ذمہ دار ہمیں ٹھہرایا جاتا ہے۔۔۔؟

    "اس نے اپنے سوالات مکمل کرنے کے بعد سوالیہ نظروں سے حال میں بیٹھے حاضرین کی طرف دیکھا۔ سبھی خاموش تھے۔ حال پر چھائے اس سکوت کو پرنسپل کی تالیوں نے توڑا تو سبھی اٹھ کر ادینہ کو تالیاں بجا بجا کر داد دینے لگے۔ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو ضبط کرتے ہوئے اس نے سب کی طرف دیکھا۔

    "تمام تر حسیات سے محروم یہ معاشرہ آپ کے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے، بیٹا۔” پرنسپل صاحب نے نظریں جھکا کر رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
    ……………..
    ادینہ گھر میں داخل ہوئی تو ایک ہنگامہ اس کا منتظر تھا۔ باپ کی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت کو محسوس کرتے ہوئے ادینہ کانپ سی گئی۔ وہ نظر بچا کر کمرے میں جانے لگی تو شاکر خان ایک جھٹکے سے اٹھا اور ادینہ کو گردن سے دبوچ لیا۔
    "کیا کہہ کر آئی ہے تُو سکول میں۔۔۔؟ کیا میں نے اس لیے تجھے سکول جانے کی اجازت دی تھی کہ تُو ہماری بدنامیاں کرتی پھرے؟” وہ غم و غصے کی حالت میں سب کچھ فراموش کر چکا تھا۔ بڑی بہن بچانے کے لیے لپکی۔ چھوٹی دونوں سہمی کھڑی تھیں۔
    "ابا، چھوڑ دے اسے، نہیں تو یہ مر جائے گی۔” بڑی بہن نے ادینہ کو اس سنگین گرفت سے آزاد کرانے کی ناکام کوشش کی۔
    "میرے لیے تو یہ کب کی مر چکی ہے۔” یہ کہتے ہوئے شاکر خان نے اسے چوٹی سے پکڑا اور گھر سے باہر نکال دیا۔ وہ آگے بڑھ کر گھر میں داخل ہونے لگی تو دروازہ دھڑاک کی آواز پیدا کر کے اس کے منہ پر بند ہوا۔ وہ روتے ہوئے بہت دیر تک دروازہ پیٹتی رہی، مگر بے سود۔

    اداس شام آہستہ آہستہ رات سے ہم آغوش ہوتی شاکر خان کی حویلی کی دہلیز پر اُتر رہی تھی۔ ادینہ روتی رہی۔ اس نے ملتجی نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا۔ برستی کہر نے اطراف کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ جاڑے کی اس ٹھٹھرتی شب میں وہ ننگے پاؤں یونہی بے سرو سامان چل پڑی۔ انجان رستوں پر منزل سے بے خبر۔ وہ کچی آبادی میں لگے خیموں میں آگئی۔ وہ نڈھال سی ہو کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ ایک خانہ بدوش خاتون کی اس پر نظر پڑی، جو زمین پر بیٹھی روٹی ہاتھ پر رکھے پانی کے ساتھ کھا رہی تھی۔ اس نے روٹی ادینہ کی طرف بڑھاتے ہوئے اسے کھانے کی پیشکش کی، جسے اس نے فوراً قبول کر لیا۔ تین دن کی مسلسل بھوک نے اسے ہوش و خرد سے بیگانہ کر دیا تھا۔ وہ کھانے کی طرف لپکی اور کھانا اس خانہ بدوش خاتون کے ہاتھوں سے جھپٹ کر نوالہ پر نوالہ ٹھونسنے لگی۔ خاتون نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے مٹی کے پیالے میں پانی بھر کر اسے دیا۔ وہ پانی بھی ایک ہی سانس میں ختم کر گئی۔

    پیٹ کی بھوک ختم ہوئی تو مستقبل کی فکر نے اسے آ لیا۔ وہ اس خاتون سے ملتجی لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
    "مجھے چند دنوں کے لیے اپنے پاس رکھ لو۔ جیسے ہی میرے میٹرک کے پیپر ختم ہوں گے، میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔” ادینہ کی حالت کے پیشِ نظر اس خاتون نے اسے اپنے پاس رکھنے کی ہامی بھر لی۔ یہ ماحول بھی اس کے لیے سازگار نہیں تھا۔ پیٹ کی بھوک کب کسی کے اندر احساس رہنے دیتی ہے! وہ یہاں سے بھاگی اور بھاگتی چلی گئی۔ بل کھاتی سڑک دور دور تک سنسان پڑی تھی۔ کہیں کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ وہ اپنے قدموں کی آواز سے بھی سہمی ہوئی تھی۔ وہ بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گری تو بے ہوش ہو گئی۔

    وہ جب ہوش میں آئی تو خود کو ایک پُرسکون خواب گاہ میں پایا۔
    "میں کہاں ہوں۔۔۔؟” اس نے خودکلامی کرتے ہوئے خود سے سوال کیا۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا تو ایک مکمل لباس زیب تن کیے نفیس اور مدبر سی خاتون لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ سجائے کمرے میں داخل ہوئی۔
    "بچیوں کے بارے میں اس معاشرے میں پھیلے ناسور کو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں، بیٹی۔۔۔ زندگی کے سارے باب تلخیوں سے بھرے ہیں، بس انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جو لوگ ہمت سے کام لیتے ہیں، شکست ان کے آگے خودبخود ہار مان جاتی ہے۔” اس خاتون کے الفاظ گویا زخموں پر مرہم کا کام کر رہے تھے۔ اس نے اس خاتون کو تشکر آمیز نظروں سے دیکھا۔

    گزرتے وقت کے ساتھ اس نے بھی حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ یہاں اس خاتون کے اصرار اور حوصلہ دینے پر پھر سے تعلیم شروع کر لی۔ وہ گزشتہ تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ اس شفیق خاتون کا بہت احترام کرتی۔ وہ پرخلوص رہتی اور اس کی بہت خدمت کرتی۔ اس نے ادینہ کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ احساس اور خلوص بھرے اس رشتے کی بھی مدت بہت کم تھی اور یہ خاتون اپنا سارا اثاثہ ادینہ کے نام کر کے اس جہان کو الوداع کہہ گئی۔ حالات نے ایک بار پھر ایسی ٹھوکر لگائی کہ وہ بکھر کر چکنا چور ہو گئی۔
    …………..
    اس نے میڈیکل مکمل کرنے کے بعد اپنا کلینک بنا لیا۔ مسلسل محنت نے اسے سب کچھ بھلا دیا۔ وہ دکھی انسانیت کی خدمت میں بےانتہا سکون محسوس کرتی اور اسی خدمتِ خلق کو اس نے نصب العین بنا لیا۔ اس کی زندگی یونہی سبک روی سے رواں دواں تھی کہ آج پھر شاکر خان کی صورت میں ایک اور اذیت اس کی منتظر تھی۔ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوئیں تو سارے مناظر دھندلا گئے۔ وہ آگے بڑھی تو کرسی سے ٹکرا گئی۔ شاکر خان نے آگے بڑھ کر بیٹی کو تھام لیا۔ آنسوؤں کا سیلاب ایسا امڈا کہ بند باندھنا مشکل ہوگیا۔ الفاظ سارے ختم ہو چکے تھے، کربناک داستانوں کا ابھی اختتام نہیں ہوا تھا اور زندگی کے سارے رنگ مانند پڑ گئے تھے۔ یہ کیسی محرومی تھی، جس کے ختم ہونے کی اسے نہ خوشی ہوئی، نہ اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کا ملال تھا۔

    "مجھے معاف کر دو، بیٹی۔۔۔۔۔” شاکر نے لرزتی ہوئی آواز سے اور کپکپاتے ہوئے ہاتھوں کو اس کے آگے جوڑتے ہوئے کہا۔

    "کیا کر رہے ہیں، بابا۔۔۔۔۔” ادینہ نے اپنے والد کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیا۔

    "تیرے بعد مجھے زندگی میں ایک پل بھی سکون میسر نہیں آیا۔ میں نے تجھے بہت ڈھونڈا، لیکن تو مجھے کہیں نہیں ملی۔ میرے ان ہاتھوں کو چومنے کی بجائے اگر تو ان کو کاٹ دے تو مجھے زیادہ سکون ملے گا، کیونکہ انہیں ہاتھوں نے تجھے دربدر کیا تھا۔” یہ کہتے ہوئے اس کی آواز آنسوؤں میں گم ہونے لگی۔

    اس نے ایک نظر اپنے والد کے چہرے پر چھائے ملال کو دیکھا اور صرف "بابا” کہہ سکی۔ آج تک تنہائی کا عذاب سہتے ہوئے آج وہ کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر والد کے چہرے کی طرف دیکھا۔ چہرہ آنسوؤں سے تر اور آنکھیں معافی کی طلبگار تھیں۔

    وہ چاہ کر بھی آج یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ زندگی اکیلے گزارے یا پھر باقی زندگی کے ایام انہیں پتھروں کے حوالے کر دے، جن سے ٹھوکریں کھاتے ہوئے وہ آج یہاں تک پہنچی تھی۔

  • سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    سگریٹ،جان و مال کا دشمن،تحریر: حنا سرور

    پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اکثر انہیں مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم میں ایک حیرت انگیز تضاد پایا جاتا ہے: ایک طرف مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے اور دوسری طرف عوام اپنی جیب سے پیسہ نکال کر ایسی چیزوں پر خرچ کر رہے ہیں جو نہ صرف صحت کے لئے مضر ہیں بلکہ ان کی مالی حالت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی چیز سگریٹ نوشی ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف فرد کی صحت کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس سے معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور زہریلے مادے انسان کے پھیپھڑوں، دل اور دیگر اعضاء پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم بڑی تعداد میں سگریٹ پینے کی عادت میں مبتلا ہے۔پاکستانی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے کتنی خطرناک ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے ترک کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ایک نشے کی عادت بن چکی ہے، جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی مالی حالت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    پاکستان میں جہاں لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات جیسے کھانا، تعلیم، اور علاج معالجے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے پاتے لیکن سگریٹ خریدنے کے لئے پیسہ نکال لیتے ہیں۔ کچھ والدین اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کی فیس جمع کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لیکن وہ سگریٹ کے لئے رقم نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی صحت، دولت اور بچوں کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔

    یہاں پر حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔ اگرچہ حکومت نے کئی بار سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اقدام ابھی تک اس حد تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا جتنا متوقع تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سگریٹ کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے تاکہ یہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے۔ اگر عوام کو یہ سمجھ آ جائے کہ سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنا صرف صحت کے لئے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لئے بھی ضروری ہے، تو شاید وہ اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرے۔ اس کے لئے میڈیا اور اسکولوں میں تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ غریب لوگ اس کی خریداری سے گریز کریں۔ مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اس بات کا شعور دینا چاہئے کہ سگریٹ نوشی نہ صرف صحت کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ معاشرتی طور پر بھی غلط ہے۔

    پاکستانی قوم کو اپنے معاشرتی اور صحت کے مسائل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے سگریٹ نوشی جیسے مضر صحت عادات کو ترک نہ کیا تو یہ نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے ملک کی معیشت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو گا۔ ہمیں اپنی عادات کو بہتر بنانا ہوگا اور ایسی چیزوں پر خرچ کرنے کی بجائے جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر دیں، ہمیں اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

  • جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    بھارت کی ساحلی ریاست کیرالہ میں، جہاں قدرتی مناظر اور پرسکون ماحول کا راج ہے، فوٹوگرافر کیرتھنا کناتھ نے ایسی تصاویر لی ہیں جن میں طاقتور اور مضبوط خواتین اپنے جسموں کو فخر سے پیش کر رہی ہیں۔ یہ خواتین سمندر کی لہروں، کھجور کے درختوں یا چٹانوں کے درمیان بائسپس کو جمانے، ٹانگوں کو سٹریچ کرنے یا شانوں کو بڑھانے کے دوران اپنے باڈی بلڈنگ کی مہارتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اور جِم کی مخصوص وردی کے بجائے زریں سبز لباس یا خواتین کے روایتی چیکرڈ بیکنی ٹاپ اور اسکرٹ میں جلوہ گر ہو رہی ہیں۔

    تاہم کیرالہ میں، جہاں کیرتھنا کناتھ کا تعلق ہے، خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ اب بھی ایک ممنوعہ موضوع ہے، کیونکہ یہاں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روایتی نسوانی اصولوں پر عمل کریں۔ ایک باڈی بلڈر کی انسٹاگرام پروفائل کو دیکھنے کے بعد، کناتھ نے ان خواتین سے متاثر ہو کر باڈی بلڈنگ کی دنیا کا جائزہ لیا جو اس کھیل کے لئے اپنی زندگی وقف کر چکی ہیں اور سماجی روایتوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کی خواہشات کو بھی نظرانداز کر چکی ہیں۔

    کناتھ نے سی این این کو فون کال میں بتایا، "جہاں ہم رہتے ہیں، یہ بہت عام بات نہیں ہے۔ میں اسے کمیونٹی کہوں گی بھی نہیں، کیونکہ یہ ابھی تک ایک نیا رجحان ہے اور صرف چند لڑکیاں ہی اس میں دلچسپی رکھتی ہیں۔”

    بھارت میں خواتین کا باڈی بلڈنگ کی طرف بڑھتا ہوا رجحان
    بھارت بھر میں، حالیہ برسوں میں خواتین کا ایک بڑھتا ہوا رجحان باڈی بلڈنگ میں شامل ہو رہا ہے اور بہت سی خواتین نے بین الاقوامی فٹنس اینڈ باڈی بلڈنگ فیڈریشن سے پیشہ ورانہ حیثیت حاصل کی ہے۔ 2016 میں، دیپیکا چودھری نے پہلی بھارتی خاتون باڈی بلڈر بن کر اس میدان میں ایک سنگ میل قائم کیا۔

    کییرتھنا نے ابتدائی طور پر کیرالہ میں جنسی لحاظ سے غیر جانبدار مارشل آرٹ "کالاری پائٹ” پر تحقیق کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن جب انہوں نے باڈی بلڈنگ پر فوکس کرنے والی خواتین کا پتہ چلایا تو ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہو گئی۔ کناتھ کی فوٹوگرافی کی سیریز میں شامل خواتین باڈی بلڈرز ایک دوسرے کو براہ راست نہیں جانتی تھیں، مگر سوشل میڈیا اور مقابلوں کے ذریعے ان کے درمیان ایک انجان سی پہچان تھی۔

    بھو میکا کمار، جو 22 سال کی ہیں اور کیرالہ کے شہر کوچین سے تعلق رکھتی ہیں، نے بچپن میں اپنی جسمانی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے باوجود باڈی بلڈنگ میں دلچسپی پیدا کی۔ اپنے والدین کے سخت رویے کی وجہ سے انہیں بچپن میں کھیلنے کی آزادی نہیں مل سکی تھی، مگر بالغ ہونے کے بعد یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے ورزش کا آغاز کیا اور پھر خاندان کے ساتھ بحث و تکرار کے بعد جِم میں شامل ہو گئیں۔ آج وہ مس کیرالہ اور مس ارناکولم جیسے مقامی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔کمار اور دیگر باڈی بلڈرز کی کہانیاں ایک ہی جتنی ہیں، جنہیں اپنے خاندانوں سے تنقید اور دباؤ کا سامنا رہا کہ وہ اپنے جسموں کو دکھا کر غیر روایتی دنیا میں کیوں قدم رکھ رہی ہیں۔
    india
    خواتین باڈی بلڈرز کا عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کا عزم
    کیرتھنا کناتھ کی فوٹوگرافی میں شامل ایک اور خاتون، 25 سالہ سینڈرا اے ایس ہیں جو 4 سال سے باڈی بلڈنگ کر رہی ہیں اور اب باڈی بلڈنگ کے نئے کھلاڑیوں کو تربیت بھی دیتی ہیں۔ ان کا مقصد خواتین کے لئے باڈی بلڈنگ کے میدان میں رکاوٹیں توڑنا اور بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری کوالیفیکیشن حاصل کرنا ہے۔

    کیرتھنا نے اپنی فوٹوگرافی کے دوران بھارتی دیویوں کی تصاویر سے متاثر ہو کر خواتین کے ہیروک پورٹریٹس بنائے ہیں۔ انہوں نے مقامی اسٹائلسٹ ایلتن جان کے ساتھ مل کر ایسی تصاویر تخلیق کیں جو جسمانی طاقت کو نرمی اور حسن کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ فوٹوگرافر کے مطابق، "یہ خواتین انتہائی مضبوط، پراعتماد اور طاقتور ہیں، لیکن پھر بھی ان میں ایک نرمائی ہے۔”

    کیرتھنا نے اپنی سیریز "نات واٹ یو سو” کے ذریعے ان خواتین کے عزم اور محنت کو اجاگر کیا ہے جو باڈی بلڈنگ کے میدان میں مردوں کے غلبے کو توڑنے کے لئے مسلسل محنت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، "انہوں نے اپنے لئے یہ جگہ بنائی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی کہانیاں جشن منانے کے قابل ہیں۔”

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند