Baaghi TV

Category: خواتین

  • رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    رشتہ توڑنے سے قبل…….تحریر:نور فاطمہ

    دنیا کے ہر رشتے میں اختلافات ایک فطری عمل ہے۔ دوستوں کے درمیان، والدین اور اولاد کے درمیان، شوہر اور بیوی کے درمیان، یا حتیٰ کہ ہمسایوں کے درمیان بھی کبھی نہ کبھی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جو غلط فہمی یا ناراضی کا باعث بن جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس اختلاف کو کیسے لیتے ہیں؟ کیا ہم ہر بات پر رشتہ توڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں یا ہم ایک لمحہ رک کر سوچتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والا انسان ہمارے خلاف ہے، یا وہ ہمیں نیچا دکھانا چاہتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف صرف نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے۔ ہر انسان کی سوچنے کی صلاحیت، اس کی پرورش، تجربات اور علم مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے رائے بھی مختلف ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم بغیر سوچے سمجھے ردعمل دیتے ہیں، تو ہم وہ دروازے بند کر دیتے ہیں جو دلوں کو جوڑ سکتے تھے۔

    ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر رشتہ قیمتی ہوتا ہے۔ زندگی میں ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دل سے ہمارے لیے مخلص ہوتے ہیں۔ اختلاف کی صورت میں اگر ہم تھوڑا سا تحمل، برداشت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں، تو شاید ہم بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ اکثر اوقات چھوٹی باتوں پر ناراضی شروع ہوتی ہے، اور پھر وہ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ برسوں پرانے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور افواہوں کا دور ہے، وہاں "تفرقہ ڈالنے والے” عناصر بہت سرگرم ہیں۔ ایک کامیاب رشتہ یا مضبوط تعلقات کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوتے۔ ایسے موقعوں پر وہ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں، اور پیغام رسانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اگر ہم ایک لمحے کو رک کر یہ سوال کریں کہ "کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟” تو شاید ہم بہتر انداز میں صورتحال کو سمجھ سکیں۔

    غلط فہمیاں اکثر ان لوگوں کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں جو ہماری زندگی میں منفی سوچ لے کر آتے ہیں۔ اگر ہم ہر بات پر برا ماننے لگیں، بغیر تصدیق کے کسی کی بات پر یقین کر لیں، تو ہم خود اپنے رشتوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی بات خود کریں، وضاحت طلب کریں، اور دل صاف رکھیں۔آخری بات یہی ہے کہ”اس سے پہلے کہ ہم کسی سے اختلاف کریں یا رشتہ توڑیں، ایک لمحہ رک کر خود سے یہ سوال ضرور کریں: کون ہے جو ہمارے بیچ اختلاف سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟”یہ سوال نہ صرف ہمارے فیصلے کو بہتر بنائے گا بلکہ ہمیں اندر سے مضبوط، باشعور اور بالغ نظر بھی بنائے گا۔

  • ایمان و حیا،لازم و ملزوم،تحریر:نور فاطمہ

    ایمان و حیا،لازم و ملزوم،تحریر:نور فاطمہ

    ایمان اور حیا دو ایسی بنیادی خصوصیات ہیں جو ایک مسلمان کی شخصیت کی پہچان بناتی ہیں۔ ان دونوں کا تعلق انسان کی روحانیت اور اخلاقی اقدار سے ہے، اور دونوں کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ان میں سے ایک کی کمی، دوسری کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ایمان ایک ایسا عقیدہ ہے جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے احکام پر یقین کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ ایمان انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ کی رضا، اس کی ہدایات، اور آخرت کی حقیقت پر ایمان انسان کو نیک عمل کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ایمان کا اثر انسان کے عمل، سوچ، اور دل پر پڑتا ہے۔ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے، انسان میں اچھے اخلاق، صدق، امانت داری، اور سچائی کی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ ایمان کی کمی انسان کو دنیا کی فریب کاریوں میں مبتلا کر سکتی ہے، اور وہ اخلاقی لحاظ سے گرنے لگتا ہے۔

    حیا انسان کی ایک اندرونی خصوصیت ہے جو اسے برے کاموں سے روکنے اور اچھے کاموں کی طرف راغب کرتی ہے۔ حیا کا تعلق انسان کی عفت و پاکیزگی سے ہے۔ جو انسان حیا دار ہوتا ہے، وہ اپنے کردار، زبان اور عمل میں اعتدال کا مظاہرہ کرتا ہے۔ حیا انسان کو کسی بھی برے کام سے بچاتی ہے اور اسے اپنی عزت نفس کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔حیا کا عمل نہ صرف معاشرتی سطح پر ضروری ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی روحانیت سے بھی ہے۔ حیا انسان کے ایمان کا مظہر ہوتی ہے۔ جب انسان میں حیا ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خواہش میں اپنی بےہودہ حرکتوں سے بچتا ہے۔

    ایمان اور حیا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایمان کی روشنی دل میں کم ہو جائے تو انسان کی حیا بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایمان کی طاقت انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے، اور حیا اس کی حفاظتی قوت بنتی ہے۔ اگر ایمان کمزور ہو جائے، تو حیا بھی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ انسان کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس کے احکام کا خوف کم ہو جاتا ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "اگر ایمان کسی شخص کے دل میں ہوتا ہے، تو اس کے اندر حیا ضرور ہوگی۔” (صحیح مسلم)اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور حیا ایک دوسرے کا جزو ہیں، اور ان میں سے ایک کی کمی دوسرے کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایمان اور حیا کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں اللہ کی یاد کو اپنی عادت بنائے۔ نماز، ذکر، قرآن کی تلاوت اور صدقہ انسان کو اپنے ایمان کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اچھی صحبت، نیک لوگوں کا ساتھ اور برے کاموں سے بچنا بھی ایمان اور حیا کی حفاظت کا اہم ذریعہ ہے۔

    ایمان اور حیا دونوں انسان کے اندر کی خوبصورت خصوصیات ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں۔ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے، تو حیا کی روشنی دل میں درخشاں ہوتی ہے۔ اور جب حیا موجود ہوتی ہے، تو انسان کی زندگی میں عزت، وقار اور اخلاقی استحکام آتا ہے۔لہذا، ہر مسلمان کو اپنی زندگی میں ایمان اور حیا کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ وہ اللہ کی رضا اور معاشرتی اخلاقی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزار سکے۔ ان دونوں کی حفاظت کی کوشش کرنا ہی اصل میں ہماری روحانیت اور اخلاقی کامیابی کی ضمانت ہے۔

  • آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    آغوشِ ماں.تحریر”سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اک مدت سے مری آنکھوں میں خواب نہیں اترے
    اپنی آغوش کی پھر پناه دے مجھ کو ماں

    کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جب ماں کی گود کی بڑی شدت سے ضرورت محسوس کی ہوتی ہے۔ کہ جہاں دنیا کے ہر غم سے ہمیشہ کے لیے چھپا جا سکے۔ اور جہاں دنیا کا ہر سکون دستیاب ہو۔ جہاں انسان پھر سے معصوم بچہ بن جائے۔ اور جہاں ماں کا لمس ہی زندگی کی ہر تلخی سے بچا کے جیسے اپنے حصار میں لے لیتا ہو۔

    ماں دنیا میں اللہ رب العزت کی خاص نعمت ہے۔ جس کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

    اللہ رب العزت نے والدین میں اولاد سے بے لوث محبت کا جذبہ رکھا ہے۔ جب دنیا آپ کو اپنے مفادات کے تناظر میں تول رہی ہوتی ہے۔ تو والدین ہی ہوتے ہیں جن کا دامن اپنی اولاد کے لیے کبھی تنگ نہیں ہوتا۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں۔ جو اپنے ادھورے خواب اپنی اولاد میں پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اور پھر ماں کی محبت تو ایک الگ ہی نظیرِ وفا ہے۔ دنیا طاقت ور سے محبت رکھتی ہے۔ اور ماں اپنی اولاد میں سے سب سے کمزور بچے سے سب سے زیادہ محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ بن بچے کے کچھ کہے اس کی تکلیف کو محسوس کر لیتی ہے۔ اپنی بہترین چیز اپنی اولاد کو دے کر خوش ہوتی ہے۔ خود اپنا لقمہ اپنی اولاد کے منہ میں ڈال کے اپنی بھوک بھول جاتی ہے ۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے۔ جو اپنی مامتا کا حق اس وقت سے ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی اس کی اولاد اس کائنات میں آئی بھی نہیں ہوتی ۔ ماں کی تو ایک رات کی نیند کا بھی حق اولاد ادا نہیں کر سکتی ۔

    یہ حقیقت ہے کہ جب کسی بچے کو چوٹ لگتی ہے۔ تو وہ سب سے پہلے اپنی ماں کو تلاش کرتا ہے ۔ اس کی گود ہی اس کی ہر تکلیف کی دوا ہوتی ہے۔ مامتا کی حرارت ہی ایسی ہے۔ کہ جو اسے ہر تکلیف سے آزاد کر دیتی ہے۔ انسان بڑا ہو جاتا ہے۔ مگر چوٹ لگنے اور تکلیف ملنے کا سلسلہ تو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کہ عروج و زوال ، ٹوٹنا اور پھر سے جڑنا زندگی کا حصہ ہیں۔

    احساسِ درد سے کر دیتا ہے آزاد
    ماں کا لمس آبِ شفا ہو جیسے

    مگر جن کی مائیں نہیں ہوتیں ان کے پاس وہ گود بھی میسر نہیں ہوتی ۔جس کی حرارت انہیں زندگی کے تند و تیز تھپیڑوں سے بچا سکے ۔ جس کے پاس انسان کی ہر تکلیف اور ہر درد کی دواء ہو۔ جہاں آپ کے ہر نقصان کا مداوا موجود ہو۔ جہاں ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔ اور جہاں ہر چوٹ بس ” چیونٹی کا آٹا گرنے” کے برابر ہو۔ تکلیف سے بڑھ کے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب آپ بکھریں تو سمیٹنے والا کوئی نہ ہو۔

    باپ ہو تو سجتی ہے عید بھی عنبرؔ
    ماں ہو تو تہوار بھی اچھا لگتا ہے

    جنت کے حصول کے لیے عبادات بھی کریں مگر جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی محبت کا کچھ نہ کچھ حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔

    رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾
    (سورة الإسراء)
    ترجمہ : ” اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔”
    آمین

  • تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    تبدیلی ،ہمیشہ خود سے،تحریر:نورفاطمہ

    اکثر ہم سنتے ہیں یا خود کہتے ہیں کہ "یہ دنیا بہت بری ہے۔ یہاں اچھے لوگ نہیں رہے۔” لیکن کبھی ہم نے خود سے پوچھا ہے کہ آخر یہ دنیا بری کیوں بنی؟ کیا واقعی دنیا اپنے آپ میں بری ہے یا ہم انسانوں نے اسے ایسا بنا دیا ہے؟

    ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں سے نفرت کرتے ہیں، بغض رکھتے ہیں، حسد کرتے ہیں، پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں، اور موقع ملتے ہی کسی کو نقصان پہنچانے سے نہیں کتراتے۔ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے دوسروں کی عزت، آرام اور سکون کو قربان کر دیتے ہیں۔اور جب کوئی ہمارے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جیسا ہم نے دوسروں کے ساتھ کیا، تو ہم چیخ اٹھتے ہیں "دنیا بہت خراب ہو گئی ہے۔ لوگ خودغرض ہو گئے ہیں۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں رہی۔”

    یہ دنیا تو ہماری ہی عکاسی کرتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ دنیا وہی ہے جو ہم خود اسے بناتے ہیں۔ دنیا میں محبت ہو، اخلاص ہو، خیرخواہی ہو، یا نفرت، بغض، اور فریب ، یہ سب ہم انسانوں کے رویوں کا عکس ہے۔ دنیا ایک آئینے کی مانند ہے۔ ہم جو اس میں دکھاتے ہیں، وہی ہمیں واپس دکھاتا ہے۔ہم ظلم کرتے ہیں، اور الزام دنیا پر،ایک شخص اگر اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکلیف دیتا ہے، انہیں دھوکہ دیتا ہے، زبان سے زخم دیتا ہے، اور دل آزاری کرتا ہے، تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا بری ہے۔ وہ یہ سوچے کہ اس نے خود کتنا برا ماحول پیدا کیا ہے۔ جب ہر شخص اپنے حصے کی روشنی بجھا دے گا تو اندھیرا خود بخود چھا جائے گا۔

    بد اخلاقی، حسد، تکبر، اور نفرت وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہم اپنی زبان سے لوگوں کو کاٹتے ہیں، اپنی آنکھوں سے نفرت کرتے ہیں، اور دل سے دشمنیاں پالتے ہیں۔ پھر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن ہو، محبت ہو، اور بھائی چارہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ دنیا ایک بہتر جگہ بنے، تو ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنے رویے، اپنی نیت، اپنے الفاظ اور اعمال کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب ہر شخص اپنے آپ کو درست کرے گا، تبھی یہ دنیا درست ہو سکتی ہے۔دنیا ویسی ہی ہے جیسا ہم اسے بناتے ہیں۔ اگر ہم اسے محبت، رحم دلی، اخلاص اور حسنِ سلوک سے سجائیں گے، تو یہ خوبصورت ہو جائے گی۔ اور اگر ہم نفرت، بغض، فریب اور ظلم کو عام کریں گے، تو پھر اس میں شکایت کا کوئی حق نہیں رہتا۔تو آئیے، آج سے یہ عہد کریں کہ ہم دنیا کو برا کہنے سے پہلے خود کو بہتر بنائیں گے۔ کیونکہ تبدیلی ہمیشہ خود سے شروع ہوتی ہے۔

  • اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    اک آواز…پرسکون کرنے کی طاقت،تحریر:نورفاطمہ

    زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہم میں سے ہر ایک کو کبھی نہ کبھی تناؤ اور اضطراب کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ اور جسم پر اس کا برا اثر پڑتا ہے، اور ہمیں سکون کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسی سکون کی تلاش میں ہم مختلف طریقے آزمانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز وہ جادوئی نسخہ ثابت ہو سکتی ہے جو آپ کے عصاب کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ آواز نہ صرف دل کو سکون دیتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی کم کر دیتی ہے۔آواز کا دماغ پر اثر ایک قدرتی عمل ہے جو انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جب ہمیں کسی پسندیدہ شخص کی آواز سنائی دیتی ہے، تو دماغ میں ایک قسم کا سکون پیدا ہوتا ہے۔ یہ آواز ہمارے دماغ کو ایک محفوظ اور محبت بھری حالت میں لے آتی ہے، جو کہ ہمارے جسم میں اینڈورفنز (یعنی خوشی کے ہارمونز) کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔

    اینڈورفنز، جو کہ قدرتی درد کش دوا کی طرح کام کرتے ہیں، ہمارے جسم کو سکون فراہم کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آواز آپ کے اندر ایک خاص احساس پیدا کرتی ہے جو آپ کے دماغ کو خوشی اور سکون کی حالت میں لے آتی ہے۔جب آپ اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو یہ آپ کے دماغ میں ان یادوں کو تازہ کرتی ہے جو آپ نے اس شخص کے ساتھ گزاری ہیں۔چائے کی محفلیں،کھانے کی دعوتیں،دفتر میں گزرے پل،تنہائی کے حسین لمحے، وہ یادیں،باتیں اور تعلقات آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، اور جب وہ آواز آپ کے کانوں میں گونجتی ہے، تو وہ احساسات دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ان یادوں اور تعلقات کا دماغ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ صرف آپ کو خوشی اور سکون نہیں دیتے، بلکہ آپ کو ایک محفوظ جگہ کا احساس بھی دلاتے ہیں، جو کہ ذہنی سکون کے لئے ضروری ہے۔ یہ تعلقات اور یادیں آپ کے جسم میں ایک حفاظتی نظام کی طرح کام کرتے ہیں، جو کہ اضطراب اور پریشانی کو کم کرتا ہے۔

    آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز کا دماغ پر اثر صرف ذہنی سکون تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا جسمانی اثر بھی ہوتا ہے۔ جب آپ کو سکون ملتا ہے، تو آپ کا جسم بھی آرام دہ ہو جاتا ہے۔ آپ کی دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور آپ کے جسم میں تناؤ کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی سانسوں کا رفتار بھی نارمل ہو جاتا ہے، اور آپ کا جسم مکمل طور پر ریلیکس ہوتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق، جب ہم کسی کو اپنی پسندیدہ آواز میں بات کرتے ہوئے سنتے ہیں، تو ہمارے جسم میں ایک طرح کی فلاحی حالت پیدا ہوتی ہے جو ہماری صحت کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔

    آج کل کے جدید دور میں ہم اپنی زندگی کے بیشتر حصے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے گزار رہے ہیں۔ موبائل فون، ویڈیو کالز، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع نے ہمیں اپنے پیاروں سے میلوں دور ہونے کے باوجود جڑا رکھا ہے۔ جب ہم ان ذرائع کے ذریعے اپنے پسندیدہ شخص کی آواز سنتے ہیں، تو ہمیں وہی سکون ملتا ہے جو ہم انہیں قریب محسوس کرنے پر پاتے ہیں۔یہی نہیں، بلکہ اب ہم کسی بھی وقت، کہیں بھی اپنے پسندیدہ شخص سے بات کر سکتے ہیں، اور یہ آوازیں ہمیں زندگی کے دباؤ سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے میلوں دور رہ کر بھی وہ احساسات اور سکون ہمیں فراہم کیا ہے جو ہم کبھی اس طرح سے نہیں محسوس کر پاتے تھے۔آخرکار، یہ کہنا کہ میلوں دور سے آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز آپکے عصاب کو پرسکون کرنے کی طاقت رکھتی ہے، محض ایک خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ جب آپ کے اندر سکون اور سکون کا احساس آتا ہے، تو آپ کا دماغ اور جسم دونوں بہتر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں۔ یہ آپ کو اپنی زندگی کی مشکلات کا بہتر مقابلہ کرنے کے لئے توانائی فراہم کرتا ہے۔یاد رکھیں کہ زندگی میں پرسکونیت اور سکون کے لمحے بہت اہم ہیں، اور یہ صرف آپ کے پسندیدہ شخص کی آواز سے ہی نہیں، بلکہ ان لمحوں سے جڑے ہوئے جذبات سے بھی ملتا ہے جو آپ کے اندر موجود ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کی آواز ایک عجیب جادوئی اثر رکھتی ہے جو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب وہ شخص ہمارے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہو، تو اس کی آواز ہمارے اندر ایک سکون کی لہر پیدا کر دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارا دماغ پرسکون ہوتا ہے، بلکہ ہمارا جسم بھی ایک توانائی محسوس کرتا ہے جو ہمیں روزمرہ کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں، یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب آپ کا پسندیدہ شخص آپ کو اپنی آواز کے ذریعے سکون دینے آتا ہے، اور اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،کبھی بھی نہیں، غلطی سے بھی نہیں، اور اگر نظر انداز کر دیں تو سمجھیں…..بہت کچھ کھو دیا…

  • پسند کے تعاقب میں زندگی رواں.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    پسند کے تعاقب میں زندگی رواں.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اور الحمد اللّٰہ میں اللّٰہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتی ہوں۔
    اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قرآن میں وعدے کرتا یے، ان تمام عہدوں میں سے ایک عہد یہ بھی ہےکہ آپ جیسے ہوں گے، ہم سفر بھی ویسا ملے گا۔
    اگر آپ خبیث ہیں، تو خباثت آپ کی منتظر ہے۔ اور اگر آپ نیک ہیں اور نیکی آپ کے لیے محو انتظار ہے۔
    خبیث کو خبیث ملنا ہے اور طیب کو طیب !
    یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے۔
    اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ۔ ( سورہ نور)
    ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے۔
    پس اسی کے پیشِ نظر اس قسم کی باتیں میری بشاشت کا ساماں نہیں بن پاتیں۔ میں ہر بار یہی کہتی ہوں کہ میں اپنی ہم عمر لڑکیوں بالیوں سے بہت مختلف ہوں، مجھے اپنی تعریف اور توصیف سن کر ذرا خوشی نہیں ہوتی، میرے پاس لٹوں کو سنبھالنے کا وقت نہیں اور فیشن کرنے میں میری کوئی دل چسپی نہیں، البتہ کوئی دل سے تعریف کرے تو میں پہچان لیتی اس میں کتنا صدق اور اخلاص ہے، بس پھر ذرا مسکرا دیتی ہوں۔ جھوٹی تعریفوں پر مسکرایا نہیں جاتا۔
    میری خواہشات کی فہرست میں پہلی خواہش یہی ہے کہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی پسندیدہ بن جاؤں۔
    پس اللّٰہ تعالیٰ نفیس ہے اور نفاست کو پسند کرتا یے، وہ لطیف ہے اور لطافت کو پسند ہے۔ وہ پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے۔
    لہذا انہی پسند کے تعاقب میں زندگی رواں ہے۔

  • ‎یہ خاموشی کب تک؟تحریر:‎ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ‎یہ خاموشی کب تک؟تحریر:‎ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ‎موسم گرما کی ایک ایسی دوپہر جب چیل بھی انڈا چھوڑ جاتی ہو، سکول بس سے اترنے والی بچی نے ادھر ادھر دیکھا اور ایک طرف کو چل دی۔ ہر روز بس معمول کے مطابق رکتی، وہ بس سے چھلانگ لگا کے اترتی، بستہ کمر پہ بندھا ہوتا اور تیزی سے چلتی ہوئی اس گلی میں داخل ہو جاتی جو دو تین موڑ مڑتی اس کے گھر تک جاتی تھی۔‎وسیع سڑک پہ دو رویہ دکانیں تھیں جو دوپہر کے وقت عموماً خالی پڑی ہوتیں اور ددوکاندار گرمی کی شدت سے بیزار گاہکوں کے انتظار میں اونگھ رہے ہوتے۔‎اس دوپہر وہ بچی گلی میں داخل ہونے کی بجائے اس جنرل سٹور کی طرف مڑ گئی جس کے برآمدے میں بہت سے ایسے ریک پڑے ہوتے جو مختلف کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کے ہمراہ رکھوا دیتیں۔ ہر ریک کے اوپر اس چیز کا بڑا سا اشتہار بھی لگا ہوتا جس سے ریک کے اندر موجود شے کا علم ہو جاتا۔‎بچی برآمدے میں پڑے اس ریک کے پاس رکی جس کے اوپر لگے اشتہار میں ایک خوبصورت عورت ایک جھولے پہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ نیچے ریک کے شیلف پہ بہت سے پیکٹ پڑے ہوئے تھے۔
    ‎بچی کو آتے دیکھ کے اونگھتا دوکاندار سیدھا ہو کے بیٹھ گیا،
    ‎“بیٹا، کونسی چاکلیٹ دوں”
    ‎“نہیں انکل، چاکلیٹ نہیں چاہیے” بچی با اعتماد لہجے میں بولی۔
    ‎“پھر کیا چاہیے بیٹا آپ کو؟” دوکاندار نے شفقت سے پوچھا۔
    ‎“وہ”
    ‎بچی کی انگلی اس ریک کی طرف اشارہ کر رہی تھی جس پہ وہ مسکراتی ہوئی عورت براجمان تھی۔
    ‎دوکاندار نے حیران ہو کے بچی کی طرف دیکھا۔ شاید بچی کو اس کی بڑی بہن یا ماں نے خریدنے کو کہا ہو، کہ خواتین شرم کے مارے کہنا مشکل سمجھتی تھیں اور اس کی دکان پہ اس ریک کی سیل بہت ہی کم تھی۔ بغیر کچھ کہے اس نے ایک خاکی لفافے میں پیکٹ لپیٹ کر بچی کو تھما دیا جو اس لفافے کو سکول بیگ میں رکھ کر جلدی سے سیڑھیاں اتر گئی!

    ‎ہمارا سن ہو گا یہی کوئی بارہ تیرہ برس کا اور ہم محسوس کر چکے تھے کہ کلاس میں ہم جماعتوں کی کھسر پھسر بڑھ چکی ہے۔ دبی دبی آواز میں رازو نیاز، شرمائی لجائی مسکراہٹ، دوپٹہ اوڑھنے میں احتیاط اور پابندی، اٹھتے بیٹھتے دامن کو جھٹکنا اور پشت سے قمیض سیدھی کرنا تو تھا ہی مگر کچھ اور بھی تھا جس کی پردہ داری تھی اور وہ ہم پہ کھلتا نہیں تھا۔
    ‎اب ماجرا یہ تھا کہ ہم کلاس کی اکژیت سے معصوم اور کم عمر دکھائی دیتے تھے سو کئی موضوعات ہمارے لئے شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔ گو یہ سمجھنے والے یہ نہیں جانتے تھے کہ ہماری آگہی کا درجہ بیشتر ہم جماعتوں سے اوپر ہی تھا۔
    ‎کبھی کبھار کچھ لڑکیاں ٹوہ لینے کے انداز میں ہماری طرف دیکھتیں گویا اندازہ لگا رہی ہوں کہ ہم کیمپ میں ساتھی بنے کہ نہیں۔ سیدھے سبھاؤ لوگ ہماری معصومیت کو داغدار کرنے کا حوصلہ نہیں پاتے تھے۔
    ‎کتابیں اور رسائل پڑھ کے کچھ اندازے تو ہم لگا چکے تھے سو ایک روز آپا کے سر ہوئے کہ مخفی امور و رموز کی مزید تفصیلات سے دلچسپی تھی۔ آپا سے ہم نے بات کچھ یوں شروع کی کہ نہ جانے کیوں ہم جماعتیں ٹٹولتی ہوئی نظروں سے ہمیں دیکھتی رہتی ہیں؟ آپس میں تو کچھ کہتی ہیں لیکن جب ہم پاس پہنچتے ہیں تو خاموش ہو جاتی ہیں؟
    ‎آپا نے پہلے کچھ ٹال مٹول کرنے کی کوشش کی لیکن ہماری ضد کے سامنے بھلا کب تک ٹھہرتیں۔ چلیے جی انہیں بتانا ہی پڑا کہ ہمیں بھی ایک ناگہانی کا سامنا کرنا ہو گا لیکن یہ علم نہیں کہ کب؟ کہاں؟ کس وقت؟

    ‎منصوبہ ساز تو ہم شاید پیدائشی طور پہ تھے کہ ہر بات پہلے سے سوچ کے رکھتے۔ اب دماغ اس جوڑ توڑ میں مصروف تھا کہ ہم نے اس آفت سے نبٹنا کیسے ہو گا؟ آپا کے مطابق تو وقت پڑنے پر ہمیں روئی کا ایک بنڈل فراہم کیا جانا تھا جس کے ساتھ ڈاکٹری پٹی بھی ہو گی۔ حسب ضرورت روئی اور اس پہ لپٹی جالی نما پٹی…. بھئی یہ تو بہت فضول آئیڈیا ہے، روئی اور پٹی سے تیاری … کچھ اور ہونا چاہئے، ہم نے دل میں سوچا۔
    ‎اسی سوچ بچار میں کچھ دن گزرے کہ ہمیں حل سمجھ آ گیا اور اس کا سہرا اخبار کے سر بندھا جس میں چھپے اشتہار ہم بہت شوق سے پڑھتے تھے۔
    ‎اب اگلا مرحلہ کہاں سے اور کیسے کا تھا۔ وہ بھی ہماری عقابی نظر کی بدولت سر ہوا کہ سکول واپسی پہ جس سڑک پہ ہم بس سے اترا کرتے تھے ، وہیں ایک جنرل سٹور کے برآمدے میں ایک ریک پہ ہماری مشکل کا جواب رکھا ہوا تھا۔ یہ ہماری اور سینٹری پیڈز کی پہلی شناسائی تھی، جانسن اینڈ جانسن کے بنائے ہوئے موڈیس پیڈز!

    ‎اس دن جنرل سٹور سے پیڈز خرید کر لانے کے بعد گھر میں انہیں چھپا کر رکھنا بھی ہمارا ایک کارنامہ تھا۔ اپنی تیاریوں کی خبر ہم اماں اور آپا کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ پیڈز خرید کر اب ہماری حالت اس سپاہی کی سی تھی جو محاذ جنگ پہ سرحد کے پاس چوکنا ہو کے دشمن کا انتظار کر رہا ہو اور دشمن ہو کہ آ ہی نہ چکتا ہو۔‎کچھ ہی ماہ کے بعد وہ وقت آ ہی گیا جس کے لئے ہم کمر کس کے تیار بیٹھے تھے۔ بنا پریشان ہوئے یا روئے دھوئے ہم نے اس صورت حال سے بخوبی نمٹ لیا۔ اور مزے کی بات یہ کہ اماں اور آپا کو اگلے چھ ماہ تک پتہ ہی نہ چل سکا کہ ان کی ناک کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے؟

    ‎یہ راز یوں اگلنا پڑا جب اماں نے پریشان ہو کر ہمیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ علم ہونے پہ ہم کھلکھلاتے ہوئے بولے، ہم بالکل نارمل ہیں اور ہمیں ماہواری ہوتے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔
    ‎اماں اور آپا کی حیرت زدہ پھٹی پھٹی آنکھیں ہمیں آج تک نہیں بھول پائیں!
    ‎ان کی لاپروا الہڑ بیٹی معاشرتی دباؤ کے ساتھ جنگ کا آغاز کر چکی تھی۔

  • دکھاوے کی زندگی کا فریب،تحریر:صدف ابرار

    دکھاوے کی زندگی کا فریب،تحریر:صدف ابرار

    آج کے دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل منظوری نے ہماری زندگیوں پر راج قائم کر لیا ہے، وہاں اصلیت اور بناوٹ کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔ اب زندگی ایک ذاتی سفر نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی کارکردگی بن چکی ہے جو ایک "نظر نہ آنے والے” سامعین کے لیے مسلسل پیش کی جا رہی ہے۔ فلٹر شدہ خوشیوں سے لے کر بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی بیماریوں تک، ہم ایک ایسی ثقافت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جہاں احساسات سے زیادہ ظاہری تاثر اہمیت رکھتا ہے۔

    ایک وقت تھا جب ذاتی دکھ درد صرف قریبی اور مخلص لوگوں سے شیئر کیے جاتے تھے، اور خوشیاں ان کے ساتھ منائی جاتی تھیں جن کا ساتھ اصل ہوتا تھا۔ آج، زندگی کی معمولی باتیں — ہلکا سا سر درد، ایک کپ چائے، اُداس لمحہ یا زبردستی کی مسکراہٹ — سب کچھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ہم زندگی گزار نہیں رہے، بلکہ اسے اسٹیج پر دکھا رہے ہیں —وہ بھی محض توجہ، تعریف اور تالیوں کے لیے۔

    اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے لمحے کی اطلاع دوسروں کو دینا صرف عادت نہیں، بلکہ ایک اندرونی خلا کو ظاہر کرتا ہے — وہ خلا جو تسلی، اہمیت اور تسکین کی تلاش میں ہے۔ لوگ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بیماری کا بہانہ کرتے ہیں، کامیاب دکھنے کے لیے جھوٹی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور خود کو بہتر ظاہر کرنے کے لیے جعلی طرزِ زندگی اپناتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس مجمع کے لیے یہ سب کیا جاتا ہے، اسے درحقیقت آپ کی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    چلیے سچ تسلیم کریں — لوگوں کو واقعی آپ کی زندگی کی اونچ نیچ سے کچھ خاص سروکار نہیں۔ وہ ایک لائک، ایک تبصرہ، یا ایک ایموجی ضرور دے سکتے ہیں، مگر ان کے ذہن اپنے مسائل، اپنی فکریں اور اپنی اہمیت کی تلاش میں الجھے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی کامیابی یا ناکامی پر کوئی نیند نہیں کھوتا۔ یہ تلخ حقیقت اکثر بہت دیر سے سمجھ آتی ہے — جب آپ کئی سال اپنی زندگی صرف دوسروں کو متاثر کرنے میں گزار چکے ہوتے ہیں۔

    اپنی زندگی دوسروں کو اپڈیٹ کرنے کے لیے جینا ایسے ہی ہے جیسے کسی خالی ویرانے میں پکارنا — شاید آواز گونجے، لیکن کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ یہ دکھاوٹی رویہ نہ تو عزت دلاتا ہے اور نہ ہی وقار، بلکہ ترس یا مذاق کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ انسان کو ایک ایسی شخصیت میں بدل دیتا ہے جو اندر سے کھوکھلی، مگر باہر سے چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    جعلی زندگی کا جذباتی بوجھ
    ظاہری دکھاوے کو برقرار رکھنا آسان نہیں — یہ ذہنی سکون، اصلیت اور حقیقی تعلقات کی بھاری قیمت پر ہوتا ہے۔ ہر وقت ‘ٹھیک’ یا ‘کامیاب’ نظر آنے کی کوشش انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ جب آپ وہ بننے کی اداکاری کرتے ہیں جو آپ ہیں ہی نہیں، تو آپ کی اصل خوشیاں بھی کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ، جب لوگ جذباتی کمزوری یا بیماری کو ڈرامہ بنا کر پیش کرتے ہیں، تو وہ ان لوگوں کی حقیقی تکلیف کو کم تر کرتے ہیں جو واقعی درد سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح ہمدردی ایک وقتی ردعمل بن کر رہ جاتی ہے — ایموجیز اور ری ایکشنز کی شکل میں۔

    خاموشی اور نجی زندگی کی طاقت

    خاموشی میں حکمت ہے۔ ہر بات کو شیئر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ نجی زندگی کوئی راز نہیں بلکہ خود احترام کی علامت ہے۔ نہ ہر کامیابی تالی مانگتی ہے، نہ ہر درد ہمدردی۔ زندگی کے کچھ باب صرف اپنے لیے ہوتے ہیں — انہی میں اصل سکون پوشیدہ ہے۔بالغ سوچ یہ ہے کہ ہر کوئی آپ کی زندگی کی اسکرین پر بیٹھا تماشائی نہیں ہونا چاہیے۔ گہرائی کو اپنائیں، دکھاوے کو چھوڑیں، اور ظاہری کارکردگی کی بجائے اندرونی سکون کو اہمیت دیں۔

    زندگی گزاریں، اسٹیج ڈرامہ نہ بنائیں
    یہ دوسروں کو خوش کرنے کا معاملہ نہیں — اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے ساتھ سچے ہیں یا نہیں۔ خواہ وہ جھوٹی خوشی ہو، فرضی تکلیف ہو یا مصنوعی کامیابی — دکھاوا صرف آپ کو چھوٹا اور بے وقوف بناتا ہے۔جنہیں واقعی آپ کی پرواہ ہے، انہیں آپ کی زندگی کا ثبوت سوشل میڈیا پر نہیں چاہیے۔ اور جنہیں پرواہ نہیں، ان کے لیے جینا دانشمندی نہیں۔ اس لیے اسٹیج سے اتر جائیں، اور اصل زندگی گزارنا شروع کریں۔”آپ کی قدر اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ آپ کی زندگی کو کتنے لوگ دیکھ رہے ہیں، بلکہ اس سے طے ہوتی ہے کہ آپ اسے کتنی سچائی سے گزار رہے ہیں۔”

  • خود سے وفاداری.تحریر:کوثر رحمتی

    خود سے وفاداری.تحریر:کوثر رحمتی

    زندگی کا سفر جب بچپن اور جوانی کی دہلیز سے نکل کر شعور، تجربے اور سکون کی تلاش کی طرف بڑھتا ہے تو بہت سی چیزیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کی ترجیحات، اس کے رشتے، اس کی باتیں، اس کی خاموشیاں ، سب کا مطلب بدل جاتا ہے۔ایک وقت آتا ہے جب دل خود کہتا ہے،”میرے پاس بے معنی دوستیاں، جبری تعلق اور غیر ضروری گفتگو کرنے کی توانائی نہیں ہے”

    یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کے تجربات، تھکن، سچائی، اور اندرونی امن کی ایک چیخ ہے۔ بے معنی دوستیاں ، جب دل کا رشتہ صرف نام کا رہ جائے،بچپن میں ہم بہت سے لوگوں کو دوست کہتے ہیں۔ ہر ساتھ کھیلنے والا، ہر ہم جماعت، ہر ہنسی بانٹنے والا دوست بن جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ سمجھ آتی ہے کہ سچی دوستی بہت نایاب ہوتی ہے۔ ایسی دوستیاں جو،صرف وقتی فائدے پر مبنی ہوں،جہاں سننے والا صرف اپنی کہتا ہو، دوسروں کی نہ سنے،جہاں آپ کا دکھ مذاق بن جائے،یا آپ کا سکون، ان کی حسد کی آگ میں جلنے لگے،ایسی دوستیاں، تعلقات نہیں بلکہ ایک ذہنی بوجھ بن جاتی ہیں۔ اصل دوستی وہ ہے،جو خاموشی میں بھی آپ کو سمجھ لے،جو آپ کے بغیر بولے دل کا حال جان لے،جس کے ساتھ آپ "خود” بن کر رہ سکیں، بنا دکھاوے کے

    ہماری زندگی میں کچھ رشتے صرف اس لیے موجود ہوتے ہیں کہ معاشرہ کہتا ہے، یا ہماری پرورش میں یہ سکھایا گیا ہوتا ہے کہ رشتہ کبھی توڑنا نہیں چاہیے، خواہ وہ آپ کو اندر سے توڑتا ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے رشتے جہاں،عزت نہیں، صرف زبردستی ہو،دل سے نہیں، صرف فرض سے نبھایا جا رہا ہو،جہاں آپ کی ذات کا انکار ہو، مگر تعلق کا دکھاوا باقی ہو،ایسے رشتے قید بن جاتے ہیں۔ کبھی کبھار خود کو بچانے کے لیے رشتے سے فاصلہ اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مطلب بے وفائی نہیں، بلکہ خود سے وفاداری ہے۔

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاموشی کو کمزوری اور مسلسل بولنے کو "ملنساری” سمجھا جاتا ہے۔ مگر جیسے جیسے انسان خود سے جڑتا ہے، اسے احساس ہوتا ہے،”ہر بات ضروری نہیں، اور ہر خاموشی اداسی نہیں۔”لوگوں کے فالتو تبصرے،بیکار گپ شپ،جھوٹی تعریفیں،روزمرہ کے رسمی سوالات جن کا کوئی مقصد نہ ہو، کب بات کی جائے؟جب بات دل سے ہو،جب بات کا مقصد ہو،جب خاموشی سے زیادہ بات ضروری ہو

    ہم دوسروں کے جذبات کو سمجھنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ خود کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔ وہ چیخ کر نہیں، خاموشی سے کہتا ہے،”اب مجھ میں باقی سب کے بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔”یہ خود غرضی نہیں، بلکہ خود شناسی ہے۔ یہ احساس کہ سکون ہر قیمت پر ضروری ہے،تنہائی بہتر ہے بجائے جھوٹے ہجوم کے،”نہیں” کہنا بھی ایک طرح کی عبادت ہے، اب بس سادگی، خلوص اور سکون چاہیے،میری زندگی اب ان لوگوں اور باتوں کے لیے کھلی ہے جو سچے ہوں،جو زبردستی نہ ہوں،جو خاموشی کو بھی سمجھ سکیں،اور جو میرے ساتھ مجھے ہی رہنے دیں،”زندگی چھوٹی ہے، اور دل نازک، دونوں کو سنبھالنا ہے تو خود پر رحم کرنا سیکھنا ہوگا۔ اور اس کی پہلی سیڑھی ہے،بے معنی لوگوں اور باتوں سے کنارہ کشی،

  • انتقام…کبھی نہیں، تحریر:نور فاطمہ

    انتقام…کبھی نہیں، تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کا سفر سیدھا نہیں ہوتا۔ یہ اونچ نیچ، خیر و شر، محبت و نفرت، وفا و بےوفائی سے بھرا ہوتا ہے۔ ہم سب نے کبھی نہ کبھی ایسے لمحات ضرور گزارے ہیں جہاں کسی نے ہمیں دھوکہ دیا ہو، ہماری نیکی کا غلط فائدہ اٹھایا ہو، ہمارے جذبات کو پامال کیا ہو یا پھر …. ایسے وقت میں انسان کے دل میں فطری طور پر انتقام کی آگ بھڑکتی ہے۔جب کوئی ہمیں تکلیف دے، تو سب سے پہلا خیال جو ذہن میں آتا ہے، وہ یہ ہوتا ہے کہ "میں بھی اس کو وہی دکھ دوں گا، جو اس نے مجھے دیا ہے۔” ہم سمجھتے ہیں کہ بدلہ لینے سے ہمیں سکون ملے گا، ہماری روح کو قرار آئے گا، لیکن سچ یہ ہے کہ انتقام ایک ایسا زہر ہے جو سب سے پہلے خود انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔انتقام ہمیں اس شخص سے جوڑ کر رکھتا ہے جس نے ہمیں تکلیف دی، اور یوں ہم اس سے نجات نہیں پا سکتے۔ ہماری توانائیاں، ہمارے خیالات، ہمارا سکون سب کچھ اس ایک انسان کی گرفت میں آ جاتا ہے، اور ہم زندگی کے اصل حسن سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    قدرت کا نظام خاموش ضرور ہوتا ہے، مگر اندھا نہیں،یاد رکھو، ہر انسان کا ایک خدا ہے، جو دیکھ رہا ہے۔تمہاری خاموشی، تمہارے آنسو، تمہارے صبر کا ایک ایک لمحہ اُس کے علم میں ہے۔جب تم کسی پر ظلم کرتے ہو تو تم اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہو، لیکن جب تم ظلم برداشت کرتے ہو اور بدلہ نہیں لیتے، تو تم اپنے کردار کی بلندی کا مظاہرہ کرتے ہو۔

    اکثر لوگ خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں، لیکن دراصل خاموشی بہت بڑی طاقت ہے۔ جب تمہارا دل ٹوٹا ہو، آنکھیں نم ہوں، دل انتقام کی آگ سے بھر جائے، لیکن تم صرف اللہ پر چھوڑ دو ، یہ ایمان کی معراج ہے۔تم بس دور ہو جاؤ۔مشاہدہ کرتے رہو۔اور ایک دن تم دیکھو گے کہ وہی شخص، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، وہ تقدیر کے ہاتھوں کیسا بےبس ہوتا ہے۔تمہارا کام صبر ہے، حساب اللہ کا کام ہے،تم اپنا دامن صاف رکھو، اپنی نیت درست رکھو، اپنی محنت جاری رکھو۔تمہارے ساتھ جو ہوا، وہ تمہیں روکنے کے لیے نہیں، تمہیں بلند کرنے کے لیے تھا۔جو تمہارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، وہ دراصل خود اپنے لیے برا بیج بوتے ہیں۔اور یاد رکھو، قدرت کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتی۔

    زندگی بہت مختصر ہے کہ اسے بدلے، نفرت یا غصے میں ضائع کیا جائے۔سکون صبر میں ہے، خاموشی میں ہے، اللہ پر چھوڑ دینے میں ہے۔جب تم کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرو، انتقام نہ لو، تو اللہ تمہاری حفاظت خود کرتا ہے، تمہیں عزت دیتا ہے، اور تمہیں ایسے مقام پر پہنچاتا ہے جہاں تمہارا دشمن صرف تمہیں دیکھ سکتا ہے، چھو نہیں سکتا۔تو بس یاد رکھو،
    "وہ مہلت دیتا ہے… مگر نظر انداز نہیں کرتا۔”